اتوار، 19 نومبر، 2017

پاپی مذہب ، پیٹ

یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ “ پیٹ “ سب سے بڑا مذہب ہے ،۔
اس  مذہب کا مرتد ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ انتیں چٹخنے لگتی ہیں ، بھوک بندے کو بدحال کر دیتی ہے ۔
ہند کے ایک گاؤں میں  زمین دار سکھ ہوتا ہے اور اس کا کمہار مسلمان ہو تو لوہار ہندو بھی ہو سکتا ہے ۔
کھیت جب “ وتر “ پر آتا ہے تو کسان کھیت میں ہل اتارنے سے پہلے واہے گرو سے ہندو لوہار کی خیر مانگتا ہے کہ اگر لوہار کے کسی بچے کو بھی بخار ہو گیا تو ہل کا پھالا نہیں بنے گا اور فصل نہیں اٹھے  گی ،۔
کنویں کو لگائی جانے والی مٹی کی ٹنڈیں  بنانے والے کمہار کو ٹنڈوں کو سکھانے اور پکانے کے لئے دھوپ اور آگ کی ضرورت ہوتی ہے م،۔
لیکن  زمینوں میں جب وتر کی ضروت ہوتی ہے تو مسلمان کمہار ،سکھ زمین دار کی زمینوں کی زرخیزی کے لئے بارش کی دعا اپنے اللہ سے کرتا ہے ،۔
کہ
ان سب کو سکھ مسلمان اور ہندو کو بلکہ گاؤں کی “ سیپ “ عسائی کو بھی اپنے اپنے  رب ، اللہ ، بھگوان اور گاڈ کو خوش کرنے کے لئے ، اپنے اپنے بھائی ، مولوی ، پنڈت اور پادری کو دانے دینے ہوتے ہیں جو کہ کھیت سے ہی اٹھ کر آتے ہیں ،۔
پڑولے میں پڑے ہوے دانوں کی مقدار پر  بندے کا روحانی سکون منحصر ہوتا ہے ،۔


وقاص کورائے نے اپنی فیس بک کی وال پر ایک سلسلہ شروع کیا کہ
اس نے یورپ میں سٹے حاصل کرنے کے لئے کئے گئے جنسی اقدام کی تفصیل لکھنی شروع کر دی ،۔
کیسے کیسے ہم جنسوں کی شادی  کو ویزے کا جواز بنایا گیا ، مسلک کی تبدیلی ، مذہب کی تبدیلی ، بیویوں کی ادالا بدلی  ، بہنوں  کا استعمال  وغیرہ وغیرہ ،۔
گورایہ صاحب کے موضوع کو چننے پر اعتراض کیا جا سکتا ہے لیکن اس موضوع کے  موقف سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ہے  ،۔
کہ
میں نے بھی دنیا گھوم کر دیکھی ہے ، یورپ امریکہ سے مشرق بعید کے ممالک  میں ایمگریشن لینے کے لئے لوگ کیسے کیسے بہانے اور نامعقول کام کرتے ہیں ،۔
ہاں کچھ لوگ ہیں جو کاروباری ویزے پر جاپان میں آئے ، کچھ ورکر کے ویزے پر جاپان آ کر کمپنیوں کے مال بن گئے ، یہ لوگ شادی والوں کو نیچ سمجھتے ہیں ،۔
ان کو حق حاصل ہے کہ ایسا سمجھیں ، کیونکہ شادی والوں نے سیکس کو استعمال کر کے ویزہ لیا ہے اس لئے ناں ،۔
یہ علیحدہ موضوع ہے کہ خود انکی گھر والیاں وہاں پاک ملک میں گاؤں چھوڑ کر شہر کی کوٹھیوں میں کیا کھیل کھیلتی ہیں ،۔
اس بات کو چھڈو پراں !!،۔
کہ گورایہ صاحب نے بھی یورپ کے لوگوں کا گند لکھا ہے اور میں جاپان میں مقیم اپنی بے عزتی کر رہا ہوں
لیکن وہاں عربوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے والے مزدوروں کا نوحہ کوئی نہیں لکھے گا کہ
وہ بے چارے  وہ لوگ ہیں جو لکھنے پڑھنے کے بھی قابل نہ ہو سکے م،۔


میں بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس پاپی پیٹ کے لئے لوگ کیا کیا نہیں کرتے ؟
یہ محب لوطنی کا چورن ؟
پاکستان سے بھاگنے والے لوگ صرف اور صرف پیٹ کے لئے ،اپنے جسم کی سہولت کے لئے بھاگ رہے ہیں ،۔
یہ ساری ہجرتیں ، یہ ساری ذہانتیں ، یہ سارے چکر سب اس لئے ہیں کہ کسی طرح پاکستان کے جہنم سے باہر کہیں پاؤں ٹکانے کا آسرا مل جائے ،۔
تو
اپ خود تصور کر لو
کہ
انڈیا کو  جاپان اٹھارہ ایٹمی پلانٹ لگا کر دے رہا ہے ،۔
بلٹ ٹرین کی بٹریاں بچھنی شروع ہو چکی ہیں ،۔
جمہوریت کے سائے میں عدالتی نظام بہتری کی طرف رواں ہے ،۔
امریکہ کی کوشش ہے کہ انڈیا کو چین کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے ،۔
تو ؟
اگر امرتسر میں مزدور کی تنخواہ پانچ سو ڈالر تک پہنچ گئی تو ؟
شکرگڑھ کا بندہ ڈھائی سو ڈالر کی تنخواھ کے لئے دبئی کی نسبت امرتسر کو ترجیح دے گا کہ نہیں ؟؟

اتوار، 29 اکتوبر، 2017

ایک اور خواب

میں نے ایک پلان دیا تھا
کہ اس طرح کرتے ہیں
کہ
کتابیں چھاپتے ہیں ،۔
کیڑے مکوڑوں کی تصاویر اور ان کے دیسی نام ، پرندوں کے نام ،جڑی بوٹیوں کے نام اور پہچان ،۔
کیونکہ میں نے یہان جاپان میں دیکھا تھا کہ   یہاں بچوں کو اپنی زمین پر اگنے والے پودوں درختوں اور پرندوں کے علاوہ  بھی بہت سی باتوں کا علم ہوتا ہے  ،۔
میں نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا کہ
جانور کے پاؤں کے نشان دیکھ کر ، مینگیناں اور پھوس دیکھ کر ہمارے بزرگ لوگ  جان جایا کرتے تھے کہ کون سا جانور یہاں سے گزرا ہے ،۔
یہان جاپان میں دیکھا کہ تیسرے جماعت کے بچے کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس میں جانوروں کے پاخانے کی تصاویر دے بتایا گیا ہے کہ کون سا جانور کیا کھاتا ہے اور کیا ہگتا ہے م،۔
مختصر یہ کہ
میں نے پلان یہ دیا تھا کہ
سارے پیسے میں دیتا ہوں ، ایک کتاب چھاپتے ہیں ،۔
جو کہ نہیں بکتی !!،۔
میں دوسری کتاب کے پیسے دیتا ہوں
کتاب چھاپتے ہیں ،۔
وہ بھی نہیں بکتی
لیکن مارکیٹ میں پڑی رہنے دیتے ہیں اور میں تیسری کتاب کے بھی پیسے دیتا ہوں ،۔
اسی طرح دس کتابوں کی کوشش کرتے ہیں ،۔
ان میں سے کوئی تو بکے گی ،؟
کتاب کی فروخت سے ہونے والی کمائی کو ایک اکاؤنٹ میں رکھ لیتے ہیں
اور میں گیارویں کتاب کے لئے مدد کرتا ہوں کہ پچھلی  فروخت ہوئی کتابوں کی کمائی سے اور میری رقم سے نئی کتاب شائع کی جائے م،۔
مجھے امید واثق تھی کہ اتنی کتابوں میں سے کوئی نہ کوئی کتاب تو  کمائی دے گی ہی ناں جی ،۔
اس کمائی  کو میں ہم اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ پاکستان میں کتاب پر کام کرنے والے لوگوں کو معقول سی اجرت دے کر باقی کے پیسے دوبارہ کتابوں پر ہی انوسٹ کر دئے جائیں ،۔
مجھے میری رقم واپس نہیں چاہئے بس ایک سلسلہ بن جائے ، ایک ٹرسٹ نما ہو ، ایک کمپنی سی ہو جو کہ کتابیں چھاپنے کے کام کو جاری رکھ سکے ،۔
وقت کے ساتھ چلنے کے لئے کتاب کو ای بک کی شکل بھی دی جا سکتی ہے انٹرنیٹ پر بھی فروخت کی جا سکتی ہے ،۔
اس کام کو خلوص نیت سے کیا جائے تو یہ کمپنی ، ٹرسٹ ، یا کہ کام صدیوں تک بھی چل سکتا ہے ،۔
میری بد قسمتی کہ
میں نے غلط لوگوں کے سامنے یہ پلان رکھ کر اس پلان کی بنیادوں میں ہی بربادی رکھ دی تھی ،۔
اب میں دوبارہ نئے لوگوں کو ساتھ لے کر چلوں گا ،امید ہے کہ رب سائیں  مدد فرمائیں گے ،۔

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017

گاما اور بیوی

گامے کی بیوی کی برتھ ڈے پر گاما مجبور کردیا گیا
 کہ
 بیوی کو کوئی نیا سوٹ دلائے  ،۔
گاما بیوی کے ساتھ آرائیناں والی گلی میں گیا ، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ، گوجرانوالہ کی گلیاں  کیچڑ میں لوگ بھالے پانچئے اٹھائے چل رہے تھے ۔
گامے کی بیوی ایک سے دوسری دوکان میں داخل ہوتی ہے ، تیسری سے چوتھی سے پھر پہلی دوکان میں ، کوئی پانچ سو سوٹ نکلوا کر دیکھتی ہے ،۔
جن میں سے سو کے قریب پر کنفیوز ہو کر اخر میں کوئی پچیس  جوڑے منتخب کرتی ہے ،۔
یہاں وہ گامے کو بلا کر ان پچیس میں سے کوئی پانچ  علیحدہ کرنے کی تجویز مانگ کر  خود ہی علیحدہ کر کے تاثر دیتی ہے کہ گامے نے علیحدہ کئے ہیں ، فائینلی  کوئی پانچ گھنٹے کی  خجل خواری کے بعد ایک سوٹ منتخب کر کے  دیتی ہے
گاما رقم کی ادائیگی کرتا ہے ،۔
دوکان سے باہر نکل کر پرانے جی ٹی ایس کے اڈے پر بنی مفت کی کار پارکنگ میں سے کار نکالتے ہوئے  بیوی کو کہتا ہے ،۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ حضرت آدم بھی کیا لکی مرد تھے کہ ان کے زمانے میں پتوں سے تن ڈھانپتے تھے ،۔
ان کو اماں حوّا کے لباس کے لئے میری طرح خجل خوار نہیں ہوتا پڑتا ہو گا ،۔
گامے کی بیوی اس کو بتاتی ہے کہ
تمہیں کیا معلوم کی جنگل میں کئی طرح کے کئی قسم کے درخت ہوتے ہیں ،۔ پتہ نہیں  بابے آدم کو کتنے درختوں پر چڑھ چڑھ کر کتنے پتے آماں حّوا کو دیکھانے پڑتے ہوں گے ،۔
درختوں پر چڑھتے اترتے بابا  جی ہلاکان ہو جاتے ہوں گے ،۔
ان کے مقابلے میں تم نے کیا کیا ؟
وہاں گلی میں کھڑے ، پانچئے اٹھائے ہوئی عورتوں کی پنڈلیاں تاڑ رہے تھے ،۔
ہیں ؟
گاما لاجواب ہو کر بیوی کا منہ ہی تکتا رہ گیا م،۔
شیرانوالہ باغ سےمڑ کر  پھاٹک پار کر کے ڈنگروں کے ہسپتال کے سامنے تھے جب گامے کی بیوی اس سے پوچھتی ہے ،۔
تمہاری سالگرہ بھی تو آ رہی ہے تم اپنی برتھ ڈے پر  مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟؟
گامے نے ٹھنڈی آھ بھری اور  کراھ کر کہتا ہے ،۔
ایک دفعہ بس ایک دفعہ ، صرف سالگرہ پر نہیں کسی بھی دن بس ایک دفعہ میں کسی بحث میں تم سے جیتنا چاہتا  ہوں م،۔

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2017

تحرکِ ختم نبوت

میرے پاس اس بات کا ثبوت تو نہیں ہے لیکن
میرا تجزیہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد تعلیم یافتہ طبقے کو دو گروہوں میں تقسیم کریں تو ایک اردو سپیک تھے اور دوسرے پنجابی مرزائی،۔
ان دونوں میں ایک مقابلہ یا کہ چپکلش کہہ لیں ، ہر دو پاکستان میں وہ مقام چاہتے تھے جو کہ امریکہ مں یہودیوں کو حاصل ہے ،۔
اس چپکلش میں غیر مرازائی پنجابی بھی اردو سپیک کے ساتھ شامل ہو گئے تھے کہ یہ لوگ خوف زدہ تھے کہ انفرادی طور پر یہ لوگ اکیلے اکیلے تھے اور ان کے مقابل مرزائی ایک مسلک کی لڑی میں پرویا ہوا گروپ تھا ،۔
جب مرزائیوں کو کونے لگانے کے لئے ان کے خلاف تحریک چلائی گئی تو مرزائی اتنے خود اعتماد تھے کہ مرزا ناصر نے غیر مرازئی لوگوں کو کافر تک قرار دے دیا تھا ،۔
مرزائیون کو اقلیت قرار دے دینے سے بھی ان کو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا ، بلکہ انہون نے ایک علیحدہ مضبوط اقلیت بن کر اکثریت پر حکومت کرنی تھی ،۔
حادثہ یہ ہوا کہ بھٹو افغانستان میں سیاسی انتشار پھلا چکا تھا ، اور یہاں پاکستان میں ضیاء صاحب نازل ہو چکتے تھے ، جب افغانستان نے روس کو بلا لیا ، اور روس کو روکنے کے لئے امریکہ کو پاکستان میں "اسلام " کی ضرورت تھی ،۔ اور یہ ضروت صرف جہادی اسلام پوری کر سکتا تھا اور مرزائی لوگ غیر جہادی ہوتے ہیں ،۔
اس لئے بڑی شدت سے نظام مصطفے اور اسلام پاکستان پر نازل ہوا جس میں اقلیت کا معانی ہی کافر بنا دیا گیا ،۔

******************
تحریک حتم بنوت کے مجاہدین سے التماس کہ
میں قادیانی یا کہ مرازائی نہیں ہوں ،۔
پھر بھی اپ کو گلیاں زور سے آئی ہوں تو ؟
تہاڈی مرضی ۔ میں کی کر سکنا واں ۔ْ

اتوار، 17 ستمبر، 2017

خوش قسمت زمانہ


ابھی کل کی بات ہے کہ لکھنے والے ادب میں دو وقت کی روٹی کی دعائیں کرتے ہیں ، نان شبینہ کے میسر ہونے پر شکر کرتے ہیں ۔
عام عوام میں جس کو دو وقت کی دو روٹیاں نصیب ہوتی تھیں وہ تونگر گنے جاتے تھے ،۔
پنجاب میں وڈانک گندم ہوتی تھے  قد آدم اس گندم سے جانوروں کے لئے توڑی زیادہ اور انسانوں کے لئے اناج کم نکلتا تھا ،۔
اگر برصغیر میں آلو ، ٹماٹر ، اور تمباکو کا تصور نہیں تھا تو باقی دنیا میں تو دالیں ، مسالے ،  گڑ اور کپاس کے لئے بھی ہند  پر نظریں ہوتی تھیں ،۔
انسانوں کی معلوم تاریخ میں  بھوک کا ادب بہت لکھا گیا ،۔
کسی خطے کا ادب دیکھ لیں ، لکھنے والے بھوک کا لکھتے رہے ہیں
کہ
انسان نے بہت بھوک دیکھی ہے ،۔
پیٹ کی بھوک ، اس بھوک کو مٹانے کے لئے انکھوں میں بھوک اتر آئی ، کبھی مذہب کے نام پر کبھی نسل کے نام پر کبھی کسی بہانے کبھی کسی بہانے دوسروں سے زمین ، گوشت اور اناج چھیننے کے لئے جنگیں لڑی گئیں ،۔
جنگیں تو اج بھی ہیں ، لوٹ مار اج بھی ہے ، انسانیت کے نام پر معدنیات کی لوٹ مار کی جنگیں ہیں ،۔
لیکن
پیٹ کی بھوک اب صرف کتابوں میں رہ گئی ہے یا پھر ناہموار معاشروں میں رزق کی غلط تقسیم میں ،۔
کہ
امریکہ کی دریافت کے بعد پرتگالیوں نے آلو ، ٹماٹر ، تمباکو کو دنیا میں متعارف کروایا ،۔
امریکہ کے قیام سے بنی نوع انسان نے تکنیک کی ترقی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں کہ جن کی نظیر نہیں ملتی ،۔امریکہ میں کھاد کی دریافت نے  کھیتوں میں وہ انقلاب برپا کیا ہے کہ اج دنیا میں چاول ، اور گندم مکئی کی کوئی کمی نہیں ہے ،۔
اور  کھاد کی تکینک کی انتہا ہے کہ گوشت کو بھی کھاد لگا دی ہے ،۔
بھیڑ ہو کہ گائے ، مرغی ہو کہ مرغابی ان کو گوشت کی عمر تک پہنچے کے لئے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے ،۔
ایک سور تھا جو کسی بھی دوسرے جانور سے زیادہ پیدا ہو کر جلدی گوشت تک پہنچ جاتا تھا ۔
لیکن
برائلر چکن کی دریافت کہ سور کے گوشت سے بھی جلدی تیار ہو جانے والے اس کوشت کو پیدا ہو کر دسترخوان تک پہنچے میں صرف دو ہفتے لگتے ہیں ،۔
اج انسان کے دسترخون پر ٹیبل پر خوراک کی بہتات ہے ،۔
جو کہ تاریخ میں کبھی بھی کسی بھی علاقے کے لوگوں کو مسیر نہ ہو سکی ،۔
اج کا انسان تاریخ کے خوش قسمت ترین دور میں رہ رہا ہے م،۔

بدھ، 6 ستمبر، 2017

میناماتا کی بیماری اور پاکستان

پارہ ، جس کو انگریزی میں مرکری کہتے ہیں ،۔
پاکستان جیسے پس ماندہ ممالک میں پارہ کے نقصانات کا عام عوام کو کوئی ادراک نہیں ہے اور ایسے ممالک میں لکھاری  لوگ بھی ایسی باتوں کا علم نہیں رکھتے ،۔
پاکستان میں اناج کو کیڑوں سے بچاؤ کے لئے بھی پارہ، ریت میں ملا کر اناج کے ڈھیروں یا کہ پڑولوں میں ڈال دیا جاتا ہے جس کی ریکوری کے لئے کچھ بھی انتظام نہیں ہے ،۔
 یہ پارہ زمین میں مل کر زیر زمین پانی کو بھی زہر الود کر دیتا ہے م،۔
تھرما میٹر  یا کہ بلڈ پریشر چیک کرنے والے میڈیکل آلات میں استعمال ہونے والا  پارہ اور  صنعتی استعمال میں ہونے والے پارے کی ایک  بڑی مقدار معاشرے میں گردش کر رہی ہے ،۔
مہذب دنیا کو پارے کے نقصانات کا احساس جاپان سے ظاہر ہونے والی ایک بیماری  میناماتا کی بیماری کی وجہ سے ہوا ،۔
مینماتا بیماری کیا ہے ؟
میناماتا بیماری ، جاپان کے کوماموتو پرفیکچر کے شہر میناماتا میں  ڈیسکور کی گئی تھی ،۔
اس بیماری میں  مریض نیروجیکل سینڈروم میں مبتلا ہو جاتا ہے ،۔
ہاتھ اور پاؤں  کو کپکپاہٹ شروع ہو جاتی ہے ،۔
نظر  کو پریفیرل وژن کی بیماری ، جس میں مریض کا ویو سکڑ کر رہ جاتا ہے ،۔
قوت سماعت ختم ہو جاتی ہے ، قوت گویائی بھی ختم ہو جاتی ہے م،۔
 اس مرض میں مبتلا مریض وقت گزرنے پر کومے میں چلا جاتا ہے اور موت واقع ہو جاتی ہے ،۔
جاپان میں کوماموتو پرفیکچر کے شہر میناماتا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد اس بیماری کے بہت سے مریض پائے گئے ،۔
اس بیماری مینماتا کو 1956ء میں پہچانا گیا ،۔
اس کی وجہ میناماتا میں کیمیکل فیکٹری چیسو کارپوریشن  جو کہ پارہ استعال کرتی تھی  کو پایا گیا ،۔
سن  1932ء سے 1968ء تک کی اس کمپنی کا صنعتی فضلہ جو کہ  پانی میں بہہ کر دریا اور سمندر میں چلا جاتا تھااس کی وجہ سے  مچھلیوں میں پارہ کی مقدار زیادہ ہو گئی ، ان مچھلیوں کو غذا کے طور پر استعمال کرنے والےاور زمینی پانی پینے والوں کی ایک بڑی ابادی اس مرض میں مبتلا ہو گئی تھی ،۔
اس لئے اس  بیماری کو چیسو میناماتا بیماری بھی کہا جاتا ہے ،۔
جاپان میں اس بیماری کے مبتلا مریضوں کے چیسو کمپنی کے خلاف اجتجاج کی ایک تاریخ ہے ،۔
اس پر لکھنا اج کا موضوع نہیں ہے ،۔
مارچ 2001ء تک سرکاری طور پر  میناماتا بیماری کے مریضوں کی نفری 2265 تھی  جن میں سے 1784 افراد موت کا شکار ہو چکے تھے ،۔
اور 10000 سے زیادہ لوگ چیسو کمپنی سے ہرجانہ وصول کر چکے ہیں ،۔ سن 2004ء تک چیسو کمپنی  کوئی 86 کروڑ ڈالر ادا کر چکی ہے ،۔
جاپان میں میناماتا کی بیماری کی وجہ سے پارے کو استعمال کرنے ، پارے کو سنبھالنے پارے کو ری سائکل کرنے کی تعلیم شروع ہو ئی اور اس  کے لئے اصول وضع کئے گئے م،۔
اج جاپان اس پوزیشن میں ہے کہ جاپان کی وزارت ماحولیات نے ترقی پزیر ممالک میں پارے کو ری کور کرنے کے طریقہ کار کی تعلیم  دینے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے ،۔
پہلے پہلے ایشا میں جنوب مشرقی ایشائی ممالک میں اس کی تعلیم دی جائے گی ،۔
تھرما میٹر اور بلڈ پریشر کی مشین میں استعمال ہونے والے پارے کی مقدار جو کہ جاپان میں استعمال ہو رہی ہے اس کے متعلق انداز ہے کہ یہ کوئی  59 ٹن کے قریب ہے ،۔
جس میں 21 ٹن ہسپتالوں میں 7 ٹن سکولوں میں اور 18 سے 21 ٹن گھروں میں تھرما میٹروں اور بلڈپریشر ماپنے کی مشنیوں میں پڑا ہے م،۔
اسی نظرئے کے تحت جاپان کی وزارت ماحولیات کے ماہر  جنوب مشرقی ممالک میں ڈاکٹروں اور فارمسٹوں کو آگاہی دیں گے ،۔
مستقبل میں اس پروجیکٹ کو افریقہ کے ترقی پذیر ممالک تک وسیح کرنے کا پروگرام ہے م،۔
مندرجہ بالا تحریر سے اپ خود اندازہ کر لیں کہ پارے کے متعلق یا کہ اس سے پیدا ہونے والے ماحول دشمن  حالات سے نپٹنے کے لئے  پاکستان جیسے ملک میں کیا کام ہو رہا ہے یا کہ پاکستانی قوم کو اس معاملے کتنی آگاہی ہے ،۔
تحریر خاور کھوکھر

جمعہ، 1 ستمبر، 2017

اندر کے جانور

اج عید گاھ گیا ، عید کی نماز پڑھنے بہت سے ایسے چہرے بھی تھے جو کئی سال بعد نظر آتے ہیں اور ہر سال والے بھی ،۔
یہ میرا احساس تھا کہ غلط فہمی  مجھے ہر عمر ڈھلتے ساتھی کے چہرے پر اس کے اندر کے جانور کی شباہت نظر آ رہی تھی ،۔
بہت سے مرغی کی طرح لگتے تھے ، کہ کڑ کڑ کہیں اور انڈے کہیں ،۔
وہ جو مالکوں کے لئے انڈے دینے والے ،۔
ان کے ساتھ ساتھ ککڑ کی طرح نظر انے والے بھی تھے  بہت چوکنے ، ادھر ادھر ہر چیز پر نظر لیکن صرف ایفیشنسیاں ، پروگریس کوئی نئیں ،۔
یہاں طرح طرح کی بکریاں بھی تھیں ، جو کبھی کسی کے کام نہپیں  آتے اگر اتے بھی ہیں تو ؟ جب بھی دوددہ دیتی ہیں مینگنیاں  ڈال کر ہی دیتی ،۔
ان کے ساتھ ساتھ بکرے بھی تھے ، “ بو بکرے “  جو ہر وقت کسی بولی ہوئی بکری کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کس کو لگا دیں ،۔
یہاں طرح طرح کے کتے بھی تھے ، بل ڈاک ، ہاؤنڈز ، نسلی کتے بھی تھے  اور اوارہ کتے ،۔ ہر بندے کے چہرے پر اس کے اندر کے کتے کی شباہت نظر آ رہی تھی ،۔
یہاں وہ بھی تھے جو اپنا بخار تک کسی کو ادھار نہ دیں ،  جو پیسا کمانے اور سنبھالنے کے ماہر  گول گول چہرے ، گول گول پشت ، گول گول پیٹ  والے ، ان کے چہرے اور باتیں کرنے میں اس جانور کی شباہت نظر آ رہی تھی جس کا نام لینے میں زبان پلید ہو جاتئ ہے ،۔
ان کے ساتھ  گلہری کی طرح کے بھی تھے جن صرف کچھ گھٹلاں اکٹھی مل گئی ،ان کوسنبھال سنبھال کر رکھنے کو دولت مندی کے خمار میں مبتلا گلہریاں ،۔
یہاں وہ چاہا نما بھی تھے  جو تھوڑے سے مال پر پنساری بن  کر بیٹھے لگتے تھے ،۔
یہاں گائے بھی تھیں  جو کسی کے لئے کام کرتی سست سست دودہ دینے والی   اور ان کے ساتھ ساتھ بیل بھی نظر آ رہے تھے  ناراض ناراض سے طاقت کے نشے میں چور  لیکن چھری سے بے خبر ،۔

یہاں نئے نئے جوان وہ بھی نظر آ رہے تھے جن میں طاقتور گھوڑے کی شباہت تھی ، لمبی منزلوں کے لئے نکلے ہوئے ،۔
یہاں کچھ لومڑی  کی شباہت کے بھی تھے ،۔
اور بندر کی شباہت والے بھی ،۔
الو کی طرح دیدہ در بھی تھے تو کبوتر کی طرح کے بد اندیش بھی ،۔
یہ سب دیکھ کر میں باہر نکلا ، گاڑی سٹارٹ کی
اور بیک مرر میں دیکھ مجھے بہت شاک لگا
کہ
یہاں
مجھے ایک تھکا ہوا گھوڑا نظر آرہا تھا ،۔
تھکے ہوئے گھوڑے کا یہ چہرہ کسی اور کا نہیں خود میرا تھا ،۔
دوسروں کی سواری ، دوسروں کا دوست ، جس کی پیٹھ پر رکھی کاٹھی پر جس جس کا بھی داء لگا اس نے سواری کی ،۔

جمعرات، 31 اگست، 2017

اکنامک کہانی کی اگلی بات


اپ نے میری تحریر کردہ وہ کہانی تو پڑھی ہو گی ؟؟
بہت کاپی ہوئی ہے وہ کہانی فیس بک پر کہ انٹرنیٹ پر ،۔

قربانی ہو یا کہ کوئی بھی رسم جس میں خرچ ہوتا ہے ، اس سے معاشرے کو فائدہ ہوتا ہے
پاکستان جیسے ملک ، جس میں پہلے ہی سرمائے کی حرکت بہت سست ہے ایسے ملک میں عید قربان ، جشن آزادی ، شب برات وغیرہ سے بہت سے لوگوں کا مال فروخت ہوتا ہے جس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے ،۔
ہر خرچ پر یہ کہنے والے کہ یہ پیسا کسی غریب کو دے دینا تھا
اصل میں جہاد افغانستان کے لئے تیار کئے مذہبی دانشوروں کے ترتیب دئے گئے کلچر جس میں بھیک کو گراس روت لیول تک لے جایا جا چکا ہے اس کے پروردہ ہوتے ہیں ،۔
بھیک کی امید رکھنے والوں کو دوسروں کی کمائی بری لگتی ہے ،۔
ایک کسان جو چند بیل پال کر عید پر فروخت کرتا ہے ،۔
ایک بیوپاری جو یہ بیل منڈی تک لاتا ہے ،۔ منڈی میں چارہ بیچنے والا ۔
بیل ، چارہ منڈی تک لانے اور یہاں سے خریدار کے گھر تک پہنچانے والے ٹرانسپوٹڑ کا کاروبار ۔
بسنت پر پتنگ بنانے والے ، ڈور تیار کرنے والے ، پتنگ بیچنے والے دوکان دار ، ان دوکانداروں پر ڈپینڈ کرنے والے کاروبار
شب برات پر آتش بازی بنانے والے ، ،۔ کھیر کے لئے مٹی کے برتن بنانے والے لوگ ،ان سب کے کاروبار تہواروں پر خرچ کرنے کی رسم سے ہی چلتے ہیں ،۔
پاکستان ، جہاں بھیک مانگنے کو عظمت کی نشانی بنا کر رکھ دیا گیا ہے ،۔
بھیک مانگ کر اپ جتنا بھی شوخ کام کر لیں ، اس سے نظام نہیں چلا کرتے ،۔
یاد رکھیں ترقی یافتہ اقوام نے اپنی ابادیوں کے پانی کے نکاس کے بعد جو سب سے بڑا کام کیا ہے وہ ہے ۔
پیسے کو حرکت دے کر پیسے کے فوائد  گھر گھر پہنچانے کا کام کیا ہے ،۔
ایک دوسرے کے پیسے ایک دوسرے کے کام آ رہے ہیں ،۔
بھیک مانگنے والو ، تم لوگوں نے خدا اور انسانیت کے نام پر بھیک مانگ مانگ کر خدا اور انسانیت کو بہت خوار کیا ہے ،۔
لوگو! سنو !!!۔
خود داری ، عزت نفس اور غیرت کا مفہوم جانو
اور
آو امداد باہمی (بیمہ) کے نظام پر بات بات کریں ،۔
پیسے کی حرکت میں برکت پر بات کریں ،۔

جمعہ، 25 اگست، 2017

حالات حاضرہ ، امریکہ


امریکہ ، پچھلے سولہ سال میں ، جی ہاں صرف سولہ سال میں  افغانستان میں کوئی  117بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے ،۔
اس سے پہلے سویت کے اندہام میں خرچ ہونے والی رقموں کا ذکر اج کا موضوع نہیں ہے لیکن اپ ان کو بھی ذہن میں رکھیں ،۔
ایک سو سترہ بلین ڈالر کی امریکی  انوسٹمنٹ دنیا کے خطرناک ترین ملک  افغانستان میں ہوئی ہے ،۔
اتنی بڑی رقم کی واپسی کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ افغانستان کی معدنیات  کو نکال کر اس سے وضع کر لی جائے ،۔
افغانستان  میں خام لوہے ، زنک  تانبے کے علاوہ سونے چاندی اور پلاٹنم کے بڑے ذخائیر موجود ہیں ،۔
لیتھنم کے متعلق تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ افغانستان لیتھنیم کا سعودیہ ہے ،۔
لیٹھینم جو کہ سمارٹ فونز اور بیٹری پر چلنے والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
اور تانبے کی کانیں دنیا کے بہترین تانبے کا ذخیرہ رکھتی ہیں ،۔
امرکی ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ معدنیات کوئی ایک ٹریلن ڈالر کی وقعت رکھتی ہیں ،۔
جو کہ افغانستان کو ایک محفوظ ملک بنا کر اور یہاں پر ترقی یافتہ ممالک کے برابر سٹریکچر تیار کرنے اور جمہوریت قایم کرنے کے لئے ایک معقول  رقم ہے ،۔
لندن کے ایک بنکر جو کہ افغانستان میں کان کنی میں ایک بڑے انوسٹر ہیں ان کے مطابق ، افغانسان میں کان کنی  کی یہ حالت ہے کہ یہاں کوئی ایک بھی کان چالو نہیں ہے ،۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کابل سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چینی کمپنی  “ مس عینک” نامی کان سے تانبہ نکال رہی ہے ،۔
افغان حکومت  معدنیات کو نکال کر استعمال میں لانے کے لئے امریکی حکام سے رابطے میں ہے ،۔
اس معاملے میں اس سال جون میں افغانی سفیر  حماد اللہ محب نے امریکی صدر ٹرمپ سے وائیٹ ہاؤس میں ملاقات بھی کی ہے ۔
 ایک امریکی اور افغان حکومت میں معدنیات کے متعلق مشترکہ دلچسپی پائی جاتی ہے  ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق  افغانستان سے سالانہ بیس بلین ڈالر کی معدنیات نکالی جا سکتی ہیں ،۔

اور دوسری طرف  کام کو چالو کرنے سے پہلے اور دوران میں اٹھنے والے مسائل پر بھی غور کیا جا رہا ہے ،۔؛
جن میں سب سے بڑا مسئلہ  خام لوہے ، تانبے اور لتھینم کو افغانستان سے باہر نکال کر امریکہ پہنچانے کا ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہت بری ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہتر کرنے کے بعد امریکی ماہرین کی نظر میں جو راستے ہیں ان میں پاکستان یا انڈیا سے گزر کر سمندر تک پہنچنے کا راستہ ہے ،۔
اور یہ دونوں راستے طالبان کی وجہ سے محفوظ نہیں ہیں ،۔
طالبان جن کو امریکی  ڈیفینشنز میں دہشت گرد کہا جاتا ہے ان کے ٹھکانے  پاکستان کے پہاڑوں میں ہونے کا شک کیا جاتا ہے ،۔
جس کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ سوائے پاکستان کے یہ راستے کوئی اور محفوظ نہیں کروا سکتا ،۔
افغانستان سے نکلنے کے بعد  سی پیک نامی منصوبہ جو کہ پاکستان میں چینی حکومت کے زیر اثر چل رہا ہے اس کو استعمال کرنے میں بھی امریکی حکومت کو کئی تحفظات ہیں  ۔
امریکی حکومت افغانستان میں پچھلی صدی کی اٹھویں دہائی سے لے کر اب تک جو خرچ کر چکی ہے ، کی واپسی کے لئے افغانی معدنیات کے حصول کے سوا اور کوئی راھ نظر نہیں آتی ،۔
لیکن ان معدنیات کو نکال کر امریکہ پہنچانے میں جو قباحتیں ہیں ان کو دور کرنے لے لئے امریکی حکومت دہائیوں سے پاکستان کی امداد کر کے ایک بہت بڑی رقم انوسٹ کر چکی ہے ،۔
اس لئے امریکہ حکومت پاکستان سے اس انوسٹمنٹ کی پروگریس دیکھانے کا مطالبہ کرتی ہے ،۔
دوسری طرف پاکستانی  سیکورٹی حکام ، یہ سمجھتے ہیں کہ کہ معدنیات کی دولت سے ملنے والا حصہ جو کہ ان کو مل رہا ہے یا کہ جس کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ کم ہے ،۔
افغان معدنیات پر امریکی نظر اور ان کو نکال کر امریکہ تک پہنچانے میں جو مسائل ہیں اگر اپ ان کو غور سے دیکھیں تو امریکہ کی بھارت میں دلچسپی  کی وجہ صاف نظر آتی  ہے ،۔
تحریر : خاور کھوکھر

اتوار، 9 جولائی، 2017

**** ٹوٹکا *****

** ٹوٹکا *****
جوانی میں  دیس پردیس کی اوارہ گردی کی لیکن پانی سے پرہیز ہی کیا
کہ جہاں بھی گئے کوکاکولا ہی نوش کیا
اس سے یہ تو ہوا کہ “ پانی لاگ “ نہیں ہوئی ۔
لیکن شوگر ضرور ہو گئی ،۔
جب تک کوکے کولے کی “ تاثیر” کا علم ہوا ، بقول شخصے ، چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں ،۔
 
چار سال پہلے اپنی جنم بھومی کی سیر پر جب پانی لاگ ہوئی تو بڑی شرمندگی ہوئی
کہ لوگ کیا کہیں گے ، “ وڈا انگریز “!!،۔
اقوال بزرگاں سے منسوب،  “جس دیس میں جاؤ وہاں پیاز کھاؤ “ والے احمقانہ  نسخے کو بھی ازما کر دیکھا ۔ْ
کچھ فرق نہں پڑا ،۔
تنزانیہ کے شہر دارسلام میں تھا  جب پانی لاگ کی وجہ سے ہوٹل تک سے باہر نہیں نکل سکتا تھا تو؟
ایک دیسی حکیم کی بتائی ہوئی بات یاد آئی کہ
جس کے معدے میں سبز مرچ کا ایک بھی دانہ موجود ہو اس کو ہیضہ نہیں ہو سکتا!!،۔
صبح ناشتے میں شملہ مرچ اور آلو بھنے ہوئے رکھے تھے ،۔
میں نے وہ کھا لئے ،۔
پیٹ میں بہت در اٹھا ، لیکن دو کھنٹے بعد  شوٹر بند ہو چکے تھے ،۔
اس دن  سے میں نے معمول بنا لیا ہے کہ جہاں بھی جاتا ہوں ،۔
مرچ کی نسل کی سبز مرچ ضرور کھاتا ہوں ،۔
ضروری نہیں کہ مرچ کڑوی ہی ہو ، شملہ مرچ یا کہ دیگر پھوکی مرچ اگر سالن میں سالم پڑی ہے تو  ، میں کھا لیتا ہوں ،۔
چار سال میں کوئی پانچ ممالک کے سو کے قریب شہروں کا سفر کیا ہے
لیکن  ہری مرچ کی مہربانی سے پانی لاگ نہیں ہوئی م،۔
ملک سے باہر میں پانی بہرحال منرل ہی استعمال کرتا ہوں لیکن برف وغیرہ یا کہ دیگر مقامی پانی میں تیار کی گئی چیزوں کو کھانے کے باوجود ڈائیریا سے بچا ہوا ہوں ۔ْ

جمعہ، 12 مئی، 2017

ایک کہانی


جب وہ پیدا ہوا تو اس کا نام شیباشٹن رکھا گیا ،۔
ابھی وہ چند ماھ کا تھا کہ اس کا آئریش باپ اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا ،۔
برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک اور سوشل ویلفئیر کے نظام کی وجہ سے اس کی ماں کو اس کے پالنے میں کوئی زیادہ دقت تو نہیں ہوئی
لیکن پھر بھی ایک اکیلی عورت کو سہارا چاہئے ہوتا ہے م،۔
جو اس کو نواز کھوکھر کی صورت میں مل گیا ،۔
 نواز کھوکھر ایجنٹ کو پیسے دے کر پنجاب کے بہت سے جوانوں کی طرح خوابوں کی سرزمین برطانیہ میں آ تو  گیا تھا لیکن ویزے کی مشکلات  تھیں جن کو حل کرنے کے لے اس کو بھی ایک سہارے کی تلاش تھی ،۔
چرس  کی عادت نواز کھوکھر کو وہاں چکوال کے نواحی گاؤں میں پڑ چکی تھی اور یہاں برطانیہ میں شراب کی بہتات دیکھ کر اس کا جی چاہتا تھا کہ شراب میں ڈبکیاں لگائے ،۔
شیباشٹن کی ماں سے میرج رجسٹر کروا کر ویزے کے لئے اپلائی کر دیا ،
ایک ڈسکو کلب کے باہر گارڈ کی نوکری مل گئی ،۔
 شیباشٹن کی ماں بھری جوانی میں روڈ ایکسڈنٹ  میں شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائی گئی ،۔
ویزے کے انتظار میں  نواز کھوکھر کو اس عورت کی موت  اپنی ڈیپورٹیشن نظر آ رہی تھی ،۔
نواز کھوکھر نے دل کی  گہرائیوں سے شیباشٹن کی ماں کی زندگی کے لئے دعا کی
لیکن جو خدا کو منظور تھا
کہ شیپاشٹن کی عمر اس وقت کوئی تین سال تھی جب اس کی ماں  مر گئی ،۔
لیکن نواز کھوکھر کو ویزہ مل ہی گیا کہ اس نے شیباشٹن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی کرنی تھی ،۔
اپنی دنیا میں مگن نواز کھوکھر جس کو عورت اور شراب ڈسکو کے گارڈ کی نوکری کی وجہ سے وافر مسیر تھیں ،۔
اس کو اب شادی کی بھی ضرورت نہیں تھی کہ
ویزہ بھی مل چکا تھا ،۔
تین سالہ شیباشٹن کی دیکھ بھال اس کو مصیبت نظر آنے لگی ،۔
نواز کھوکھر نے شیباشٹن کو اپنے ماں باپ کے پاس وہاں اپنے گاؤں بھیج دیا ،۔
*********************

گاؤں میں سارے لوگ اسکو ککا کہتے  تھے ، وجہ تسمیہ اس کی یہ تھی کہ نیلی آنکھیں سنہرے بال ، سفد رنگ ، جو کہ اس علاقے میں سو میل کے ایریا میں کسی کا نہ تھا ،۔
ککا اپنے دادی دادے کے ساتھ رہتا تھا ،۔
ککے کا باپ کہیں فارن میں رہتا تھا ،جو کہ ماں باپ کو  کبھی کبھی پیسے بھیج دیتا تھا ،۔
ککے کے باپ کا فون بھی کم ہی آتا تھا
اور خود کبھی واپس آیا ہی نہیں ،
کہ
ککے کو اپنے باپ کی شکل بھی یاد نہیں تھی
کہ ککے نے جب سے ہوش سنبھالی تھی اس کے اپنے باپ کو گھر آئے دیکھا ہی نہیں تھا ،۔
ماں کے متعلق اس کو اس کی دادی نے بتایا تھا
مر کھپ گئی تماری ماں ، میرے سامنے اس کا نام نہیں لینا ،۔
ککے کو دادی سے بہت پیار تھا اس لئے ماں کا کبھی ذکر بھی زبان پر نہیں لایا م۔
دادے کی کچھ زرعی زمین تھی ککے کے لاڈ دیکھنے کو گھر کے دانے اور پیسے بھی تھے،۔

 دادی دادے کا لاڈلا پرائمری سکول تک تو گاؤں کے سکول میں ہی پڑھا،۔

جب مڈل سکول کی باری آئی تو نزدیکی قصبے کے مڈل سکول تک جانے کے لئے دادے نے سائیکل لے دیا ،۔
علاقے کے  سارے لڑکوں کی  باتیں سن سن کا ککے کا بھی ذہن   پڑھائی کی بجائے فارن میں جا کر کامیابی کی طرف ہی لگا رہتا تھا ،۔
مڈل کرنے کے بعد ککا چکوال کے ہائی سکول میں جانے لگا ،۔
چکوال میں کھلی فضا میں ککے کے پر کھلنے لگے تو یاری دوستیاں بھی بن گئیں ،۔
سکول سے بھاگ کر لاری اڈے پر چلے جانا ، کبھی کوئی دوست چائے پلادے تو عیاشی  ورنہ گھومنے پھرنے کی عادت ،۔
دادی دادے سے پیار تھا
اس لئے شام کو بڑے روٹین سے گھر پہنچ جاتا تھا ،۔
نوئیں میں فیل ہونے پر دادے نے ککے کو چکوال میں بجلی کے مکینک کے پاس شاگرد بٹھا دیا ،۔
کہ ہاتھ سیدھے کر لو  کچھ کما کھا لو گے ، ککے کا بھی اس کام میں دل لگ گیا کہ ککے کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے “نکے “ بھی فریج اور ائیر کنڈیشن کی مرمت کا کام اسی لئے سیکھ رہے تھے ، کہ ان دنوں سعودیہ میں  میں اس کام کی بڑی مانگ تھی ،۔
ککے کے ساتھ کام کرنے والا اس کا ایک سینئر  ککے کے دیکھتے ہیں دیکھتے سعودیہ چلا گیا ، اور وہاں سے پیسے بھیجنے لگا ۔
ککے کا بھی بہت جی چاہتا کہ جلدی کام سیکھ کر وہ بھی سعودیہ جائے اور دادے دادی کی اتنی خدمت کرئے گا کہ ان کو لندن گئے بیٹے کا دکھ بھول جائے گا ،۔
وقت گزرتا رہا ، کچھ سال بعد ککا ،اپنے کام میں پختہ ہو گیا ،  واشنگ مشین ، فریج اور ائیرکنڈیشن کا ایسا گاریگر بنا کہ استاد کو کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں ،۔
ایک دن ککے کے استاد نے خود اس سے کہا کہ
کیا خیال ہے تمہارے لئے کسی ایجنٹ سے بات کروں ، سعودیہ جانے کے لئے ؟
سعودیہ جانے کے ان دنوں آزاد ویزے کا ریٹ بھی بیس ہزار روپے تھا ،۔
ککے نے دادے سے بات کی ، دادی نے ککے کے باہر جانے کا سن کر رونا شروع کردیا ،۔
ککے اور دادے نے بڑی مشکل سے دادی کو منایا کہ ککا سعودیہ سے ہر سال ملنے کے لئے آیا کرئے گا، ۔
اور ویزے کا ایگریمنٹ بھی بس پانچ سال کا ہے اس کے بعد یہاں آ کر چکوال میں اپنی ورکشاپ شروع کر لے گا،۔
ککے کے دادے نے ادھر ادھر سے پکڑ کر بیس ہزار کی رقم تیار کی ۔
ککے کے استاد نے ایجنٹ سے بات کہ کہ رقم تیار ہے ، اب بتاؤ کہ کب منڈے کو سعودیہ بھیج سکتے ہو ؟
ایجنٹ سے بتایا کہ پاسپورٹ کا انتظام کرو ، ایک ماھ میں منڈا سعودیہ میں ہو گا ،۔
اس دن پتہ چلا کہ ککے کا تو شناختی کارڈ ہی نہیں ہے ،۔
شناختی کارڈ بنوانے گئے تو
پتہ چلا کہ ککے کا تو کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے ،۔
ککا اور دادا شام کو پریشان بیٹھے تھے کہ
کس کو کہہ کر یہ کام کروائیں
کہ دادی نے پوچھا  کہ معاملہ کیا ہے ،۔
تو ککے نے بتایا کہ ایک کاپی سی ہوتی ہے جس کو پاسپورٹ کہتے ہیں ،۔ وہ ضروری ہوتا ہے جہاز پر بیٹھنے کے لئے ، وہ  بنوانا ہے ،۔
لیکن میرا تو نام ہی کہیں نہیں نکل رہا ،۔
ککے کی دادی گئی اور ایک صندوق سے ایک پرانا سا نیلے رنگ کا پاسپورٹ لے کر آ گئی کہ
بیٹا شہباز پتر ، جب تم اس گھر میں آئے تھے تو جہاز پر بیٹھ کر برطانیہ سے آئے تھے، اس وقت تمہارے پاس یہ کاپی تھی م،۔
ککے نے جب  وہ پاسپورٹ ھاتھ میں لیا تو وہ برٹش پاسپورٹ تھا
جس پر ککے کی  بچپن کی فوٹو لگی ہوئی تھی، جس پر ککے کا نام  شیباشٹن لکھا ہوا تھا،۔
یہ وہی شیباشٹن تھا جس کو نواز کھوکھر نے بوجھ سمجھ کر چکوال بھیج دیا تھا ،۔
اور ککے کے دادا دادی وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے اس کو ساری زندگی احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ تم ہمارا خون ہی نہیں ہو ،۔

بدھ، 10 مئی، 2017

اونٹ کٹارے


اونٹ کٹارے
اونٹ کٹارے ۔
جاپانی زبان کا ایک محاورہ ہے ،۔ جس کے معنی ہیں موٹا کر کے کھاؤ !،۔
جاپان کے وہ تونگر لوگ جو نئے کاروباری کو ، کاریگر کو جوان یا ناتجربہ کار کو سرمایہ مہیا کر دیتے ہیں ، اوزار لے کر دیتے ہیں ،کاروباری حلقوں میں متعارف کروا کر ایک طرح سے اس بندے کو موٹا کر رہے ہوتے ہیں کہ
جب یہ بندہ موٹا ہو جائے گا تو اس بندے سے فوائد حاصل کریں گے ،۔
اب مزے کی بات یہ کہ جو لوگ کسی کو "موٹا " کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں ، وہ خود اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ ان کو کسی کی مدد کی ضروت ہی کم پڑتی ہے ،۔
دوسروں کو اسٹنیڈ کرنے کی خواہش میں ، دوسروں کو دینے کے لئے مال حاصل کرتے کرتے اتنے مال دار اور سورسز کے مال بن چکے ہوتے ہیں کہ
کسی کو موٹا کر کے اس کو ذبح کر کے کھانے کی طلب ہی نہیں رہتی ،۔
اونٹ کٹارے ۔
کہ
یہی محاورہ جب کوئی جاپان میں پناھ گزین بے وطن بندہ سناتا ہے
تو
اس بندے کے ذہن میں "خود ترسی " کی طلب نظر آ رہی ہوتی ہے ،۔
کہ
سر جی آپ کے پاس مال ہے مجھے بھی موٹا کرو ، بعد میں بے شک کھا لینا ،۔
یعنی کہ اگر جاپانی بولے تو یہی محاورہ کچھ اور معنوں میں ہوتا ہے اور
اگر
میرے لوگ بولیں تو متروس کچھ مدد چاہتا ہے ،۔
اونٹ کٹارے ، یہ پھول زعفران جیسا ہے ، زعفران ہے نہیں ،۔

جمعہ، 28 اپریل، 2017

درویش کی بات

پینو کے خصم نے دوسری شادی کر لی ۔
جوان بیوی کے ساتھ مگن پینو کے خاوند کی بے رخی نے پینو کا دل توڑ دیا ،۔
پینو کو سمجھ ہی نہیں لگ رہی تھی کہ جس مرد کے ساتھ لڑکپن سے لے کر جوانی  بیتا دی اب سے کے بغیر پہاڑ سی زنگی کیسے گزرے گی ۔
ہر وقت ٹھنڈی آہیں بھرتی پینو کو دیکھ کر اس کی ایک سہیلی نے اس کو بتایا کہ
وہان پہاڑوں میں ایک درویش رہتا ہے ،۔ اس کے پاس جاؤ شائد تمہاری مایوس زندگی میں کو تبدیلی آ جائے م،۔
پینو ، درویش نے ملنے کے لئے نکل پڑی ،۔ ٹانگے پر  شہر تک وہاں سے لمبے روٹ کی بس ، پہاڑوں کے پاس کی چھکڑا ویکن  اور پتہ نہیں کون کون سے سواریاں بدل کے کئی دن پیدل چل کر  جب پینو درویش کے پاس پہنچتی ہے ،۔
اور درویش کو ساری داستان سناتی ہے ،۔
درویش سر جھکائے ساری بات سنتا رہتا ہے ،۔
آخر پر پاس پڑی مٹی کی گڑوی سے کڑ کی ایک ڈلی نکلا کر پینو کو دیتا ہے ،۔
 پینو بڑے شوق سے گڑ کھا جاتی ہے ،۔
پینو گڑ ختم کرتی ہے تو
درویش پوچھتا ہے
ایک اور چاہئے ؟
پینو بڑے شوق سے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے  کہتی ہے کہ ہاں ایک اور عنایت فرما دیں ،۔
درویش ، پینو کی انھوں میں دیکھتے ہوئے فرماتا ہے ۔
کیا تمہیں مسئلے کی سمجھ لگی ہے ؟
پینو سوچ میں ڈوب جاتی ہے ،۔ سر جھکائے ہوئے آہستگی سے بولتی ہے
ہاں  ،  میرا خیال ہے کہ انسان بنیادی طور پر حریص ہے ،۔
انسان کو ایک چیز ملتی ہے تو دوسری کی حرص کرتا ہے ، ایک نئی چیز کی ایک بڑی  چیز کی ، اور اس حرص کا کبھی اختتام نہیں ہوتا ،۔
مجھے چیزوں کی ناپائیداری کا خیال کرنا چاہئے اور مایوس ہونے سے بچنا چاہئے ،۔
یہاں تک پہنچ کر پینو سر اٹھاتی ہے اور درویش کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے ۔
آپ یہی کہنا چاہتے ہیں ناں ؟
درویش نفی میں سر ہلاتا ہے اور بڑے تاسف بھرے لہجے میں کہتا ہے
نئیں ، میرا کہنے کا مطلب ہے کہ
تم بہت زیادہ  موٹی ہو ۔
تمہیں اپنا کھانا کم کرنا چاہئے !!م،۔

اتوار، 23 اپریل، 2017

قصائیاں دی لڑائی (پنجابی)۔

کالو قصائی دی شادی دی گل اے
کہ
خیر پنڈ وچ ایس گل تو تے سارے ہی واقف  سن کہ قصائیاں دے ویاھ تے لڑائی تے  مسٹ ہونی اے ،۔
جنج نکلن تو پہلوں پھپھڑ تے چاچے منان لئی  ہون والی لڑائی  تے بس ایک ادھ بندے دے کھنے سیکن  تک ای رہی ،۔
پر دوجے دن ولیمے تے جیہڑی لڑائی شروع ہوئی ،ایس وچ سر پاٹے ، کھنے سینکے تے نالے کتنے ای بندے پھٹر ہوئے تے
پنڈ والیاں نے پولیس سد لئی ،۔
پولیس والیاں آ کے سارے قصائیاں نوں نالے پھینٹی لائی تے نالے پھڑ کے لے گئے ،۔
جدوں پولیس پھڑدی  تے صلح سلوک کروان والے وی  چالو ہو جاندے نے ،۔
بہرحال ، گل چوہدریاں دے ڈیرے تک پہنچی ، وڈے چوھدری صاحب ، منجی تے بیٹھے سن تے سارے قصائی ایہاں دے سامنے ای فیر ایک دوجے نال گبھ کسنیں  ہو گئے ،۔
فیر مار کٹ تے کاکو رولا  ہون لگیا جیہڑا قصائی دے ویاہاں دا رواج سی
پر چوہردی صاحب دے ڈیرے تے پولیس والے وی کول ای کھلوتے سن ،۔ پولیس والیاں نے فیر کئی بندیاں لوں  لمیاں پاء کے پھینٹی لائی ،۔
پھینٹی کھا کے قصائیاں دا مچ مریا تے
اپی سارے تھلے زمین تے وچھیاں پھوڑیاں تے بہہ گئے ،۔
کالو دے ویاھ تے جاجو  ایس دا سربالا بنیا سی ،۔
سجے ہتھ دیاں انگلیاں تے  پٹیاں بنیاں ہویاں سن ،۔
جاجو قصائی اگے ہو کے آکھدا اے چوہدری صاحب میں ساری گل سناناں واں
کہ لڑائی کنے شروع کیتی سی، اے سارا قصور کالو دا جے ،۔
ہویا اے کہ
تہانوں پتہ ای اے کہ
ولیمے والے دن ساڈی برادری دا رواج اے کہ نویں وہٹی برادری دے نزدیکی لوکاں دے نال ناچ کردی اے ،۔
تے سب تو پہلوں سربالے دی واری ہوندی اے ،۔
ہن ایس  ویاھ دا سربالا میں ساں
ایس لئی نوئیں وہٹی دے نال میں ڈانس شروع کیتا ، برادری دیاں کڑیاں ڈھولکی وجانیداں  سن ،۔
ڈھولکی دی تاپ تے میں تے کالو دی وہٹی  ڈانس کردے رہے
پر ڈھولکی وجان والیاں  کڑیاں  جوش وچ آ گیاں تے ڈھولکی وجاندیاں ای چلیاں گیاں ،۔
نچ نچ کے
نوں وہٹی نڈھال ہو کے میریاں باہواں وچ ڈھلکی ہو گئی سی
میں ایس نوں اپنی کھبی بانہہ سے سنبھالیا ہویا سی
تے
کالو نے آ کے وہٹی دے چڈیاں وچ جتھے نازک تھاں ہوندی اے اوتھے ،اپنے زور دے نال کک مار دتی دی سی ۔ْ
جاجو دی گل سن کے چوہدری صاحب دے منہ تو نکل گیا
اوئے ، اے تے بڑا ظالماں والا کم کیتا کالو نے ،۔
اتے اگوں جو کجھ جاجو نے آکھیا
ایس نوں سن کے چوہدری صاحب نے جاجو دیاں ٹٹیاں انگلاں تے وی ترس نئیں کھادا تے جاجو نو لمیاں پوا کے ایس دی بنڈ تے سو لتر لوائے سن ،۔
پتہ جاجو نے کی آکھیا سی ؟
جدوں چوہدری صاحب دے منہوں نکلیا
کہ
اوئے ، اے تے بڑا ظالماں والا کم کیتا کالو نے ،۔
تے جاجو آکھدا اے
ظلم جہیا ظلم جی ، نازک تھاں دے اندر میریاں انگلیاں سن ، کالو نے کک مار کے میریاں انگلیاں تروڑ دتیاں نے ،۔

اتوار، 16 اپریل، 2017

طلبہ تنظیموں کو بحال کرو

جس طرح جمہوریت کی کرپشن کا علاج مذید جمہوریت ہے
کہ انتخابات کے تسلسل سے ووٹ کے ذریعے گندے لوگ ٹھکانے لگتے جائیں گے م،۔
جس طرح تفرقے بازی کا علاج مذید اسلامی تعلیم ہے ،۔
اسی طرح یونورسٹیوں میں لڑائی جھگڑے کا علاج بھی مضبوط طلبہ تنظیمیں ہیں ،۔
شروع میں لگتا ے کہ انارکی پھیل رہی ہے
لیکن آہستہ آہستہ پھینٹی کا خوف پھینٹی لگانے سے بھی باز رکھتا ہے م،۔
سب سے ؓری بات یہ کہ آپ کو اس بات کا ادارک ہونا چاہئے کہ سیاستدان کیا ہوتا ہے ؟
سیاستدان ،سوشل ورکر کی ایک اعلی ترین قسم ہوتی ہے م،۔ جس کی جبلت میں معاشرے کے لئے تعمیری کام کرنے شامل ہوتے ہیں ،۔
معاشرہ اس کو ووٹ کی طاقت سے سرکاری مشینری پر نگران (وزیر) بنا کر اس کو اپنی جبلت کی تسکین کا موقع فراہم کرتا ہے ،۔
جس کی وجہ سے امریکہ ، برطانیہ ، جاپان اور یورپ جیسے معاشرے پروان چڑھتے ہیں ،۔
اور یہ سیاستدان پیدا ہوتے ہیں طلبہ تنظیموں سے !!،۔
یاد رہے کہ امریت (فوجی حکومت) اور استعمار (سویلین قابض) ہر دو ، طلبہ تنظیموں کے دشمن ہوتے ہیں ،۔
کیونکہ کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل میں لتنا بڑا لیڈر پیدا ہو جائے جو کہ آمریت اور استعمار کو کچل کر رکھ دے ،۔
اس لئے آمریت اور استعمار طلبہ تنظیموں پر پابندی بلکہ کچلنے کی کوشش کرتے ہیں ،۔
اگر اپ دیکھتے ہیں کہ اج ایک طلبہ تنظیم ڈنڈے کے زور پر جامعات میں اپنے فلسفے اور فرقے کے نام پر گند کر رہی ہے ، تو ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ایک تنظیم کو آمریت کی پشت پناہی حاصل تھی اور اس کے مقابلے میں کوئی تنظیم نہیں تھی جو آمریت کی دست راست اس تنظیم کے کسی بھی عمل پر رد عمل دیکھا سکتی ،۔

ہفتہ، 15 اپریل، 2017

جاپانی گالیاں

جاپانی اور گالیاں
****************
ایک دلچسپ واقعے کا میں گواھ ہوں کہ
ایک بندے نے روزمرہ کی جاپانی سیکھ لی تھی ساتھ کام کرنے والے جاپانی سے کچھ کھندک سے ہوئی تو اس پاکستانی نے جاپانی کو پنجابی کی ایک گالی جاپانی میں ٹرانس لیٹ کر کے دے دی ۔
جس گالی میں جاپانی کی ماں کو “کچھ” کرنے کی خواہش کا اظہار تھا

جاپانی گالی سن کر اس کو جواب دیتا ہے ۔
میری ماں تمہیں نہیں دے گی وہ میرے ابّے کے ساتھ بہت مطمعن ہے م،۔

پاس کھڑے خاور کا ہاسا نکل گیا تھا،۔
کہ
جاپان کی معاشرت بھی عجیب معاشرت ہے
کہ
جاپانی زبان میں گالی نہیں ہے ،۔
ایسی بھی بات نہیں غصے میں جاپانی بھی مد مقابل کو زچ کرنے کے لئے کچھ الفاظ ادا کرتے ہیں اور ان کا اثر بھی ہوتا ہے ،۔
مثلاً “ باکا یارو “ اس کو اردو میں پاگل کار کہہ لیں ، یعنی پاگل پن کے کام کرنے والا ،۔
دوسری مثال ہے “ کونو یارو” جس کو پنجابی میں کہہ لیں “وڈا کارو” ۔ اور موقع محل سے یہ بات سجتی بھی ہے اور سننے والے کو شرمندگی بھی ہوتی ہے ،۔
جاپانی زبان میں دوسرے کی تحقیر کے سارے ہی الفاظ ہیں
دلّا
کام چور ،
نکما
سست
اور جس بندے میں جو نقص ہو اسی نقص کی گالی دی جاتی ہے ،۔
اب اگر اپ کسی بندے کو غصے میں پنجابی سٹائل میں “ دلّا “ کہہ دیتے ہیں ،۔
جس کے لئے جاپانی میں “ ہیمو” کا لفظ بولا جاتا ہے ،۔
تو گالی سننے والا بجائے غصہ کرنے کے حیران ہو کر آپ کو دیکھنے لگے گا
کہ
میں دلّا ہوں ہی نہیں تو مجھے یہ کیوں کہہ رہے ہو؟
کسی عام عام کو اپ کہتے ہیں “ناماکے مونو” یعنی سست !۔ تو وہ بھی اپ کی عقل پر افسوس کر کے اپ کو “ باکا “ کہہ سکتا ہے کہ میں تو سست ہوں ہی نہیں تو تم مجھے پہچان نہ سکنے والے خود پاغل ہو گے ،۔
پاک لوگوں کی غیرت یعنی کہ ماں بہن کی گالی کا یہان تصور ہی نہیں ہے ،۔
اس لئے اگر اپ جاپان کے کسی دیوی دیوتا ، کسی گزر چکے بڑے بزرگ کو ماں بہن کی گالی دیتے ہیں تو ؟
سننے والا جبائے اپنے بزرگ کی توہین محسوس کرنے کے اپ کی عقل پر افسوس کرئے گا کہ
جس کی ماں یا بہن سے تم سیکس کرنے کی خواہش کر رہے ہو اس کو مرئے ہوئے بھی صدیاں گزر گئیں ہیں تو تم اس کو “چودو” گے کیسے ۔
کل کلاں کو اگر جاپان کسی پیغمبر کو ماننے لگتے ہیں ،۔
اور کوئی بد بحت ان کے پیغمبر کو گالی دیتا ہے تو ؟
جاپانی کندھے اچکا کر نکل دیں گے کہ
ہمارے پیغمبر میں یہ نقص تھا ہی نہیں
تم اپنی عقل کا علاج کرواؤ۔
میرا خیال ہے اپ سمجھ تو گئے ہوں گے ؟
کہ
میں کہنا کیا چاہتا ہوں ،۔

جمعرات، 30 مارچ، 2017

مرزا صاحباں


مرزے کی تاریخ پدائش 28 مارچ  1586ء بتائی جاتی ہے اور صاحباں اس سے ایک سال چھوٹی تھی م،۔
مرزا صاحب کے قصے کو حافظ  برخوردار اور دمدھرداس  نے منظوم لکھا ہے ،۔
کچھ اور شاعروں نے اگر لکھا ہوتو میرے علم میں نہیں ہے ،۔
حافظ برخودار کی کہانی  دانا باد کی مہری لانگی نامی خاتون سے شروع ہوتی ہے جو نوشوھ پیر کی خانقاھ پر اپنے بیٹے کی  لمبی زندگی کی دعا مانگتی ہے ،۔
مرزا دانا باد کا کھرل  تھا جو کہ اپنے نانکے کھیوے میں پلا بڑھا تھا ،۔
یہاں اس کی محبت صاحباں سے پروان چڑھتی ہے ، صاحباں کے بھائیوں کو بھنک مل جاتی ہے صاحباں اپنے بھائیوں کی تیور دیکھ کر مرزے کو دانا بادواپس اس کے دادکے بھیج دیتی ہے ،۔
مرزے کی غیر موجودگی میں صاحبان کی شادی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے ،۔
صاحباں  ، کرموں برہمن  کے ہاتھ مرزے کو خط بھیجتی ہے ،۔
مراز خط ملتے ہی اپنی گھوڑی جس کا نام نیلی تھا اس پر سوار دانا باد کا رخ کرتا ہے ،۔
شاعروں نے مرزے کی گھوڑی نیلی کی بہت تعریف کی ہے ، پنجابی کی شاعری میں کسی جانور کی تعریف کی ایک طرز کی بنیاد سی رکھ دی ہے ،۔
مرزے کے کھیوے کی طرف چلنے پر اس کو اس کا باپ ونجھل ، ماں مہری لانگی بہت سمجھاتے ہیں ،۔
ماں بات کے سمجھانے کو منظوم کر کے پنجابی میں محاوروں اور دانش کی بے مثال شاعری کی گئی ہے ،۔
مثلاً
چڑھدے مرزے خان نوں
جٹ ونجھل دینا مت
پٹ رناں دی دوستی
تے گتیں جنہان دی مت
ہس ہس لاندیاں یاریاں
تے رو کے دیون دس ،۔
اسی طرح راستے میں ایک مسافر ملتا ہے جو مزرے کو سمجھاتا ہے ۔

اس پر بھی بہت خوبصورت شاعری کی گئی ہے ،۔

مرزا جب کھیوے پہنچتا ہے تو اس کو اس کی پھوپھی  خطروں سے آگاہ کرتی ہے اور بہت سمجھاتی ہے ،
لیکن مرزا، صاحباں کو کھارے کی رسم کے دوران ہی  گھوڑی پر بٹھا لے اڑتا ہے ،۔
کھیوے سے دانا باد کے راستے میں بیلے میں بیری کے ایک  گھنے درخت کے نیچے جس کی شاخیں جھک کر  سائیبان سا بن چکا تھا اس کے نیچے آرام کرتے ہیں
یہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کو شاعر لوگ  “ عشق کی آخیر “ کا نام دیتے ہیں ،۔
مراز جب سویا ہوا ہوتا ہے تو صاحباں کے دل میں اپنے بھائیوں کا درد جاگ جاتا ہے اس کو خوف پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرزا مقابلے پر اتر آیا تو میرے بھائی مارے جائیں گے اس لئے وہ  مرزے کا ترکش درخت پر ٹانگ دیتی ہے اور اس کی گھوڑی کو “ٹنگا” ڈال دیتی ہے  یعنی اگلی اور پچھلی ایک ایک ٹانگ کو رسے سے جوڑ دیتی ہے ،۔
 صاحباں کا بھائی شمیر سوتے مرزے پر جب ڈانگ کا وار کرتا  ہے تو مرزے کی آنکھ کھلتی ہے
جب مرزا اپنی نیلی کو ٹنگے دیکھتا ہے اور تیر کمان کو درخت پر تو یہاں مرزے کی کیفیت کو شاعروں نے خوب لکھا ہے اور گوئیے لوگوں نے خوب گایا ہے ،۔
عالم لوہار کی آواز میں آپ نے سنا ہو گا
نی توں مندا کیتا صاحباں
میرا ترکش ٹنگیا  جھنڈ
میری گھوڑی چھڈی آ ٹنگ
مینوں باجھ بھرواں ماریا
میری  ننگی ہوگئی کنڈ
مرزے اور صاحباں کو قتل کر  دیا جاتا ہے
مرازے کی گھوڑی خالی جب دانا باد پہنچتی ہے تو  جٹ ونجھل کے بیٹے کی موت پر ترلے اور غم کی کیفیت بھی شاعروں نے خوب لکھی ہے ،۔
دانا باد کے کھرل مرزے کے خون کا بدلہ لینے کے لئے  
کھیوئے پر حملہ کرتے ہیں کھیوے کے جٹوں کے سروں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں
اور ان کے گاؤں کو جلا کر خاک  کر دیتے ہیں م،۔

جمعہ، 17 مارچ، 2017

جاپان اور معدنی دولت

جنگ کے بعد کے جاپان ، یعنی جنگ عظیم دوم کے بعد !،۔
جاپان نے جو معاشرت ترتیب دی ہے اس کی نظیر اقوام عالم کی تاریخ میں نہیں ملتی ،۔
سو سال کی تعلیم کو اس ترقی کی اساس کہوں گا
اور
معدنی دولت  کو اپنی منظم محنت سے ترقی کی معراج بنا دیا ،۔
معدنی دولت   کوئلہ اور سیمنٹ   ،جی ہاں جاپان کوئلہ اور سیمنٹ  کی معدنی دولت سے مالامال ہے ،۔
جنگ کے بعد چالیس اور پچاس کی دھائی  جاپان  آبادی کی اکثریت کان کنی میں مصروف تھی ، اور باقی کی لوہے کو  ڈھالنے میں لگی ہوئی تھی ،۔
زلزلوں کی سرزمین جاپان  میں فلک بوس عمارتیں  لوہے اور سیمنٹ   انبار ہیں ،۔
یہاں گنماں کین کے پہاڑوں میں اتنا سیمنٹ ہے کہ جاپان کی سو فیصد ضرورت کو پورا کرتا ہے ،۔
گنماں کی پہاڑیوں سے زمین دور ٹرینیں سائیتا کین کے کوما گایا شہر تک چلتی ہیں ،۔
کوماگایا  جہاں جاپان  ایک عظیم سیمنٹ فیکٹری کام کر رہی ہے ،۔

پاکستان ، بھی ان دو چیزوں کوئلہ اور سیمنٹ کی دولت سے مالا مال ہے ،۔
لیکن عربوں کی سنت ہے کہ تیل کی دولت مالامال لیکن ریفائنری کی تکنیک میں نا اہل ،۔
پاکستان  بھی عربوں کی سنت پر عمل پیرا نظر آتا ہے
کہ
کوئلے اور سیمنٹ کو استعمال کرنے کی تکنیک سے نااہل،۔
فارن کی کمائی سے لاکھوں ڈالر پاکستان بھیجنے والا ایک محنتی شخص جب دس سال بعد پاکستان گیا تھا
تو اس نے دیکھا کہ اس کی کمائی ساری کی ساری ضائع ہو چکی ہے ،۔
گھر پر وہی  برتن ، وہی چمچ اور وہی رضائیاں تھیں جو وہ چھوڑ کر گیا تھا ،۔
ابا جی نے اس کو بتایا کہ
جو بھی کاروبار کیا اس میں نقصان ہوا 
بس جی میری قسمت ہی خراب تھی ،۔پاس ہی گاما کھڑا تھا
کہنے لگا
چاچا تیری قسمت نئیں ،دماغ خراب اے ،۔
آپ کا کیا خیال ہے ؟
پاکستان کے ارباب اقتدار کی بھی قسمت ہی خراب لگتی ہے ،۔

بدھ، 15 مارچ، 2017

جاپان

دنیا کی پرانی ترین معاشرت ، ہندو  جاپان سے مدد لے کر اپنی معاشرت کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے ،۔
تیل کی دولت سے مالا مال  سعودی عرب کا بادشاھ اج یہاں  جاپان سے مدد مانگنے آیا ہوا ہے کہ
جاپان کا یہ نظام جو کہ نہ  مال غنیمت پر اور نہ ہی تیل کی دولت پر انحصار کرتا ہے ،
یہ نظام ہمیں بھی بنا کر دیں ،۔

جاپانی قوم ایک عظیم قوم ہے ، معلوم تاریخ میں ایسی معاشرت کی مثال نہیں ملتی ،۔
آج کے جاپان کا معیار زندگی  تاریخ میں کسی بھی قوم کو نصیب نہیں ہوا ،۔ معدنی دولت ، جنگوں کی کمائی یا کہ غلاموں کے استعمال کے بغیر صرف اور صرف امداد باہمی سے تعمیر کی کئی معاشرت کو بے مثال اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ
برف کے دوسرے طوفان کو ختم ہوئے کوئی گیارہ ہزار سال ہونے کو ہیں ،۔
جن میں سے صرف چھ ہزار سال کی تاریخ کو معلوم تاریخ کہا جاتا ہے ،۔
جس میں بہت سے ابہام بھی ہیں ،۔
اگر چہ کہ جاپان میں برف کے طوفان کے دوران  کی ایک تہذیب کے بھی ثبوت ملتے ہیں
لیکن جاپان سے باہر کی دنیا میں بلخصوص ایشا میں انسانی تہذیب کے سب سے پرانے نشانات میں حمورابی کے قانون کے
نشان ملتے ہیں ، بادشاھ حمورابی کی معاشرت میں بھی غلاموں سے کام لینے اشارے ملتے ہیں م،۔
میسوپٹومیا ،  چار ہزار سال سے پانچ ہزار سال  پہلے کی تہذیب جس سے ملنے والی تحاریر سے حمورابی کا سراغ ملتا ہے ،۔
جو کہ اندازاً کوئی ایک ہزار سال کے واقعات ہوں گے م،۔
سمیری لوگ خود تاجر پیشہ تھے ، سمندروں میں سفر کرنے کے لئے انہوں نے بھی غلاموں  سے کام لیا ،۔
سمیریوں کو  لوٹنے والے  بادشاھ سارگون کے قبائل کی اسودگی  کی بنیاد سمیریوں سے لوٹی ہوئی دولت تھی ،۔
اس کے بعد مصر میں فرعونوں کی تہذیب ہمارے لئے نشانیاں لئے ہوئے ہے ،۔
یہ تہذیب بھی غلاموں کی محنت سے اپنے وقت میں عروج پر تھی ،۔
مصریوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر
اسودہ معاشرت قائم کی ،۔

 اس سے پہلے یا کہ ساتھ ساتھ موہن جودڑو کے کھنڈرات ہیں ، جس کی تحریر کو پڑھا ہی نہیں جا سکا
ہو سکتا ہے یہاں انسانی برابری کا کوئی معاشرہ ہو
 یا کہ نہیں بھی ہو سکتا ،۔ْ

ادبی ذوق اور فنون لطیفہ  کی لیڈر قوم یونانی،۔
یونانیوں میں دولت کی بہتات  جنگوں سے لوٹ کے مال اور اغوا کئے ہوئے غلاموں  کی وجہ سے تھی ،۔
یہودی  تجارت کے ساتھ ساتھ غلاموں  کی خرید فروخت سے اسودہ زندگی کی ایک تاریخ رکھتے ہیں ،۔
دنیا کی پرانی ترین معاشرت ، ہندو !،۔
ہر دور میں مال اور کھانے کی بہتات لئے اس معاشرت میں طبقاتی اونچ نیچ تھی ،۔
امیر بہت امیر اور غریب بہت غریب  تھے ،۔
ہندو معاشرت جو کہ جاپانیوں کے لئے مذہبی ، روحانی اور معاشرتی طور پر ہمیشہ قابل رشک رہی ہے ،۔
خود اس معاشرت میں ایسی برابری کبھی نہیں رہی جیسی کہ اج کے جاپان میں ہے ،۔
آج کے جاپان میں دولت ہے ، مال ہے ، لیکن یہ معاشرت نہ تو جنگ میں لوٹی ہوئی دولت سے اور نہ ہی زمین سے نکلنے والی دولت  کی طاقت سے بنی ہے ،۔
اور نہ ہی اج کے جاپان میں ،غلامی کا کوئی تصور ہے ۔
یہ معاشرت صرف اور صرف باہمی امداد اور رواداری سے بنی ہے ،۔
امریکہ اور یورپ کی معاشرت کا تقابل  جاپان سے کرنا ہے تو
صرف اس بات تک کہ وہ ساری چیزیں جو جاپانی استعامل کر  رہے ہیں اور ایسی ہی انسانی برابری  یورپ اور امریکہ میں بھی پائی جاتی ہے ،۔
لیکن
یاد رہے
کہ
یورپ کی یہ مال داری افریقہ اور ایشیا کے ممالک سے کالونیوں کے عروج کے دور میں لوٹی ہوئی دولت ہے ،۔
امریکہ کی دولت مندی کے پیچھے جنگ کی فروخت ہے ،۔
جاپان میں نہ کالونیون سے چرائی ہوئی دولت ہے
نہ جنگی مال بیچ کر کمایا ہوا مال
نہ یہاں کوئی سونے کی کانیں ہیں اور نہ ہی مال غنیمت سے بنا ہوا کوئی بیت المال !!،۔
دنیا کی پرانی ترین معاشرت  ہندو ، جاپان سے مدد لے کر اپنی معاشرت کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے ،۔

تیل کی دولت سے مالا مال  سعودی عرب کا بادشاھ اج یہاں  جاپان سے مدد مانگنے آیا ہوا ہے کہ
جاپان کا یہ نظام جو کہ نہ  مال غنیمت پر اور نہ ہی تیل کی دولت پر انحصار کرتا ہے ،
یہ نظام ہمیں بھی بنا کر دیں ،۔

جاپان انڈیا کو گائڈ کر رہا ہے کہ کیسے اپنے مزدوروں سے کام لے کر ملک سے بجلی کی قلت کو ختم کر سکے ، تیز ترین ٹرین کیسے چلا سکتا ہے ، ٹیکسوں اور بیمہ کے معاملات کی تربیت دے رہا ہے ،۔
اسی طرح اج اسلامی دنیا کا ان داتا سعودیہ یہاں جاپان سے “ہدایت “ کی امید لئے آیا ہوا ہے ،۔
 پاکستان کا دشمن  انڈیا سیانا ہے کہ کوالٹی کی قدر جانتا ہے ،۔اسی لئے جاپان سے مدد لے رہا ہے ،۔
پاکستان کا ان داتا سعودیہ بھی کوالٹی کی قدر کی سمجھ رکھتا ہے اسی لئے ، سعودیہ کا بادشاھ شاھ سلیمان  یہاں جاپان سے  تکنیک ، علم ، اور ہنر کی مدد مانگنے آیا ہوا ہے ،۔
پاکستان کو پتہ نہیں کس افلاطون نے مشورہ دیا ہوا ہے کہ وہ چین سے مدد مانگتا ہے
چین خود جس کے اپنے ملک میں برابری نہیں ہے اور جو خود جاپان کی تکینک اور ہنر کی نقل کرتا ہے ،۔
پاکستان کے لئے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
اس ملک پر اللہ کا عذاب ہے
اور اللہ کا کیا ہوتا ہے ؟
اس کو پنجابی دانش میں ایک محاورے میں بیان کر دیا جاتا ہے ،۔
رب نہ مارے ڈانگاں
بس، پٹھی کر دے مت !،۔

جمعرات، 2 مارچ، 2017

کن فیکون

شائد یہ کائینات ناتمام ہے ابھی

آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

فلمی سین ہے ، کالج میں لڑکی کتابیں لے کر چل رہی ہے ، اس سے ایک لڑکا آ کر ٹکرا جاتا ہے ،۔
کتابیں بکھر جاتی ہیں
دونوں بیٹھ کر کتابیں اکٹھی کر نے لگتے ہیں ،۔
دونوں اوپر نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں ،
کن ہو جاتا ہے
اب فیٰکون ہوتا چلا جائے گا ،۔
پنجاب کے کسی گاؤں کا منظر ہے
لڑکا جوان ہو گیا ہے ، فارن بھیجنے کے لئے  ایجنٹ کو پیسے دئیے ہیں ،۔
بس منڈا ایک دفعہ فارن پہنچ جائے ،
تو ؟ کن  ہو جائے گا
اور فیٰکون ہوتا چلا جائے گا ،۔
پڑوسویں کی فارن کی کمائی سے ،اپنے دیس میں کن کی کوشش میں ایک بندے نے بیٹری  سیل بنانے کی فیکٹری بنا لی ہے ،۔
مشہور برانڈ کے لیبل چھپوا لئے ہیں ،۔
کن ہو گیا ہے ۔؎اب فیٰکون ہوتا چلا جائے گا م،۔
جیدا سائیں بھی سوچ رہا ہے کہیں سے بھی کیسے بھی ،رقم کا کن ہو جائے تو شہر میں ایک پلازا بننے کا فیکون اور اس کے بعد ہن برسنے کا فیکون ہوتا ہی چلا جائے گا ،۔
اچھو نے کمیٹیان ڈال  ڈال  کر چاند گاڑی کا کن  کیا لیکن اس  فیکون نہیں ہو سکتا اچھو کو روز  ہر روز چاند گاڑی پر سواریاں ڈھونی  پڑتی ہیں ،۔
مجبوری ہے ،۔
گامے کا زمیندارہ ہے ، زمین پر ہل چلاتا ہے ،۔ کھاد بیج کے لئے شاھ جی (سود خور) سے رقم لے کر چھ مہینے پھوٹک کی تلفی ، کھرپی سے پولائی ، دن رات کی محنت سے فصل اٹھتی ہے ،۔
کن اور فیکون ، شاھ جی (سود خور)  کا ہو ہوتا ہے ،۔ فصل ان کے گھر جاتی ہے ،۔
مجبوری اے ۔
دیوندر سنگھ کی ماں دیوندر کے رشتے کے لئے مراثیوں اور وچولوں کی منتیں کرتی ہے تب جا کر رشتہ ہوتا ہے تھرو پراپر چینل ،۔
اس  کو کن اور فیکون کا علم ہی نہیں ہے م،۔
برائین ، کے ذہن میں بچپن سے ہی ڈال دیا گیا ہے
کہ جو جتنی زیادہ کوشش کرئے گا اس  کی کمائی اتنی ہی زیادہ ہو گی ،،۔
برائین ، سکول  کالج کے بعد یونیورسٹی تک کی تعلیم لے کر ملازمت کرتا ہے ، اس کو ہر روز کام پر جانا پڑتا ہے ،۔
اس کو بھی کن اور فیکون کا نہ علم ہے نہ تصور ،۔
تاناکا  سکول کے بعد ٹیکنیکل کالج سے تعلیم لے کر پرنٹنگ پریس لگا لیتا ہے ،۔
ہر روز نئے نئے ڈیزائین ، نئے رنگ  کی سوچ اور مسلسل محنت اس کا مقدر بن جاتی ہے ،۔
اس کو بھی  کن اور فیکون کے فلسفے کا علم ہی نہیں ہے ،۔

فرق صاف ظاہر ہے
سوچ اپنی اپنی  عمل آپنا آپنا ،۔
میکنتوش والوں کا سلوگن ہوتا تھا ،۔
تھنک ڈیفرینس یعنی کی سوچ ای وکھری اے ،۔

بدھ، 1 مارچ، 2017

پٹھان کی مینگنیاں

دبئی مال بھیج کر میں اپنے جاپانی مہربان کے ساتھ شارجہ کے یارڈوں پر گھوم پھر رہا تھا ،۔
احمد خان  کی مہربانی سے جمال شاھ نامی ایک فرشتہ  مجھے اپنی گاڑی پر بٹھا کر سارا دن میرے ساتھ ہوتا تھا ،۔
ایک یارڈ پر جب ہم لوگ رکے تو  جاپانی دوست نے زمین پر بکھری ہوئی مینگنیوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا
یہ کس جانور کی مینگنیاں ہیں ،۔
وہ جاپانی بھی پینڈو تھا اور میں بھی پینڈو
لیکن ان مینگنیوں کا رنگ اور ساخت دیکھ میں نہیں پہچان سکا کہ یہ کس چیز کی منگنیاں ہیں ،۔
بہت غور کیا
نہ تو بکری کی تھیں  کہ بکری کی منگینیوں سے بڑی تھیں اور کچھ ان کی ساخت  بھی گول نہیں تھی ، سوچا شائد خرگوش ہو
لیکن جاپانی کہنے لگا کہ نئیں سائز مختلف ہے ،۔
مجبور ہو کر جمال شاھ سے پوچھا کہ یہ کس چیز کی مینگنیاں ہیں ،۔
جمال شاھ بڑا زندہ دل پٹھان تھا ،۔
جمال شاھ زیر لب مسکرایا
اور
کہنے لگا یہ پٹھان کی مینگنیاں ہیں ۔
میرے چہرے پر حیرت دیکھ کر جمال شاھ بات جاری رکھتا ہے
اور کہتا ہے
یہ پٹھانوں کا یارڈ ہے ،۔
سب لوگ نسوار کا شوق کرتے ہیں ،
یہ نسوار ہے  ،۔
منہ سے نکال کر ادھر ادھر پھینکی ہوئی ہے ،۔
یہ علیحدہ بات ہے
کہ
اس کے بعد جاپانی دوست کو نسوار کی ساخت ، نسوار کے خواص ، رواج اور دیگر معلومات کی  وضاحت پر کئی دن لگے تھے ،۔

نسوار کے خواص


کہیں کسی جھیل پر کوئی خان صاحب کانٹے سے مچھلیاں پکڑ رہے تھے کی ان کے  کینچوے (گنڈوئے) ختم ہو گئے ،۔
خان صاحب اپنا سامان اٹھا کر کوچ کرنے لگے تھے کہ انہوں نے سرسراہٹ سنی ، اس طرٖف دیکھا تو ایک سانپ نظر آیا جس نے منہ میں ایک مچھلی پکڑی ہوئی تھی ،۔
خان صاحب کے ذہن میں آئیڈیا آیا کہ منہ میں مچھلی پکڑا سانپ کاٹ تو سکے گا نہیں تو کیوں نہ اس سے مچھلی چھین کر  اس مچھلی کو گنڈوئے  کی جگہ  استعمال کر کے شکار جاری رکھا جائے ،۔
خان صاحب سانپ پر جھپٹے ، سانپ کو گردن سے پکڑ لیا ،۔
مچھلی سانپ کے منہ سے گر گئی ،۔
مچھلی کے سانپ کے منہ سے نکلتے ہی خان صاحب کے سامنے پریشانی سر اٹھائے کھڑی ہوئی کہ اب سانپ کو چھوڑیں کیسے ؟
سانپ تو پلٹ کر کاٹے گا !!،۔
خان صاحب کی نایاب عقل میں ایک آئیڈیا آیا ، کاں صاحب نے دوسرا ہاتھ جیب میں ڈال کر نسوار کی ڈبی  نکالی جس میں انہوں نے نسوار کو ٹشو پیپر میں لپیٹ کر پڑیاں بنا کر رکھی تھیں ،۔
خان صاحب نے دو تین نسوار کی پڑیاں سانپ کے منہ میں ڈال دیں ، سانپ کا منہ بند ہو گیا ، خان صاحب نے سانپ کو جھیل میں پھینک دیا م،۔
سانپ کے منہ سے نکلی مچھلی کو ٹکڑے کر کے کانٹے پر لگا کر کانٹا ، پانی میں ڈالے بیٹھے تھے کہ
پھر سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔
جھک کر دیکھا تو؟
وہی سانپ تھا جس کو جھیل میں چھوڑا تھا
وہ سانپ منہ میں دو مچھلیاں دبائے  خان صاحب کا منہ دیکھ رہا تھا
کہ
ماڑا تھوڑی نسوار تو دو !!م،۔
حاصل معالعہ
باہمی بھائی چارے کے لئے نسوار ناگزیر چیز ہے ،۔

اتوار، 26 فروری، 2017

افغانوں کی ہزار سالہ تاریخ کا فخر


پاکستان سے باہر جب بھی کسی افغان سے ملاقات ہوئی ، اس نے اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ کا ذکر ضرور کیا ، جس تاریخ میں افغان ہند کو جہاد کے نام پر لوٹنے آیا کرتے تھے ،۔
افغانوں کو اپنا وہ ماضی بھولتا ہی نہیں ہے کہ پنجاب سندہ اور ہند کی زمینوں پر اگنے والے غلے کو لوٹ کر لے جاتے تھے ساتھ میں ہندی لوگوں کو غلام بنا کر غزنوی اور بخارا کی منڈیوں میں فروخت کرتے تھے م،۔
تاریخ میں پہلی بار رنجیت سنگھ نے ان کو روکا ، اس کے بعد انگریز آ گئے انہوں نے بھی افغانوں کو روک کر رکھا ،۔ پاکستان بنتے ہیں نادر شاھ کے چاچے سردار داؤد نے اپنی اس تاریخ کو دھرانے کے لئے پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنایا ،۔
ان سب باتوں کے تناظر میں دیکھیں کہ افغانوں کے لشکر جب پنجاب میں لوٹ مار کر کے عورتوں کو ریپ کرتے تھے ، غلہ لوٹ کر لے جاتے تھے بچے اغوا کر کے لے جاتے تھے ،۔
اپنے گھروں میں امن سے رہنے والے پنجابیوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی ؟
افغان جب بھی طاقت ور ہو گا ، ظلم کرئے گا
جب بھی کمزور ہو گا ترحم کا طلب گار ہو گا م،۔

ہم نے اپنے لڑکپن میں پنجاب میں پٹھانوں کو دیکھا ہوا ہے ،، گیڈر بھبکی دے کر ڈراتے ہیں ،۔ لیکن بھی میں نے ان پر حملہ کیا ، نیچے بیٹھ کر سر پر ہاتھ رکھ کر منمناتی چیخیں سنی ہیں ،۔
ایک دو نہیں کئی لوگوں سے ایسا ہوا ، سب افغانوں نے ایک ہی جیسی آوازیں نکالی ،۔
اج اگر کوئی افغان پنجابی کے تعصب کی بات کرئے تو ؟ غور سے سنیں کہ وہ پنجابی کے تعصب کی بات نہیں کر رہا ہوتا
بلکہ پنجابی کے رحم اور مدد کا طلب گار ہوتا ہے ،۔
اپنی ہزار سالہ تاریخ میں ہند کو اپنی " دھر " سمجھنے والے افغان اگر امن اور عزت چاہتے ہیں تو ؟
کوشش کر کے اپنا غلہ خود اگانے کی کوشش کریں ،۔
اپنے لالچ پر قابو پائیں اور پنجاب کو لوٹنے کی جبلت کو قابو کریں ،۔
اب وہ زمانہ پھر نہیں آئے گا ،۔
رنجیت سنگھ کے بعد پنجابی اپنے مال کو افغانون سے بچانے کی کچھ کم کچھ زیادہ کوشش میں ہے ،۔
سردار داؤد جیسے لوگ اج بھی وہاں ہیں لیکن ان کا بس نہیں چلتا
ورنہ پاکستان پر حملہ کر کے مسلمان پاکستان کو مذید مسلمان کرنے کے نام پر ضرور حملہ کریں گے ،۔

جمعرات، 23 فروری، 2017

حکومت کون ہے ؟

حکومت ؟ یہ حکومت کیا ہے ؟
قائد اعظم کو خراب ایمبولینس !!!۔
راول پنڈی سازش ،افشاء ہو گئی تھی اس لئے سازش کہلوائی ، کمپنی باغ میں جب واقعی لیاقت علی قتل ہو گئے تو؟
قاتل نامعلوم ،۔
کشمیر میں قبائلی داخل کر کے جونا گڑھ اور حیدر آباد میں انڈیا کی مداخلت کو جواز فراہم کر دیا ،۔
ایوب نے حکومت سنبھال لی ، ملک پر قبضہ ، یہ قبضہ واگزار ہو ہی نہیں سکا اس کے بعد کی ہر حکومت فوج کی حکومت ہے ،۔
الیکشن میں ایوب نے خود کو سلیکٹ کیا
اور مادر ملت فاطمہ جناح ہار گئیں ،۔
سارے ملک میں “جھرلو” پھیر دیا ۔
 الیکشن کے نام پر سلیکشن ،۔

باری باری ،۔
اس دوران کی بات رہ گئی کہ ایوب سے ملک کا قبضہ یحی خان نے لے لیا یعنی فوجی سے فوجی نے ،۔
اس کے دور میں الیکشن کروائے گئے
لیکن مجیب الرحمان کی بجائے سلیکشن بھٹو صاحب کی حکومت بنائی گئی وہ بھٹو ایوب کو ڈیڈی کہتا تھا ،۔
ملک ٹوٹ گیا ، الیکٹ مجیب نے بنگلہ دیش میں حکومت سنبھال لی اور سلیکٹ بھٹو نے  پاکستان کی ،۔
اقتدار فوج کے ہاتھ میں تھا ، اقتدار الیکٹ لوگون کو منتقل نہیں کیا ، ملک ٹوٹ گیا الزام سیاست پر رکھ دیا ،۔
موجودہ پاکستان کی آبادی کی ننانوے فیصد آبادی کو ملک ٹوٹنے کے اسباب کا ہی علم نہیں ہے ،۔

پھر جنرل ضیاء " خود فوجی " آ گئے ،۔ ان کی حکموت کو مذہبی سہارا جماعت نے دیا ، سیاسی سہارے کے لئے شریف پیدا کئے گئے ،۔
سیاست کی نس بندی کر دی گئی ،۔
تعلیمی اداروں میں سایسی سرگرمیاں ختم کر دی گئیں
لیکن

کالج یونورسٹیوں میں قوم کی بیٹویں کی عصمت اور قوم کے بیٹوں کے کردار کے محافظ پیدا کر دئیے گئے جن کے نزدیک مخالف سٹوڈنس کی ٹانگیں تورنا ہی امت مسلمہ کی خدمت قرار پایا ،۔
معاشرے میں سے سیاست  کا بیج ہی ختم کر دیا گیا
سیاسی طور پر خصی قوم میں ستر کی دہائی کے بعد کوئی سیاست دان پیدا نہیں ہوا ،
اگر کوئی سیاست کے نام پر آگے آیا بھی تو وہ جی ایچ کیو کے گملوں میں اگا ہوا بونسائی ہی ایا ۔

پھر مشرف صاحب آ گئے ، انہوں نے چوہدری متعارف کروائے ،۔
مجھے یہ بتائیں کہ حکومت ہے کیا ؟
سب کے سب یا تو خود فوجی ہیں یا فوجیوں کے لائے ہوئے لوگ !،۔
تو حکومت کیا ہوئی ؟
ہم لکھنے والوں کو پہلے اپنا ذہن واضع کرنے کی ضرورت ہے کہ
حکومت ہے کیا ،۔ اداروں کا کردار کیا ہونا چاہئے اور اور کیا ہوا جا رہا ہے ؟
غلط کیا ہے صحیح کیا ہے ،۔
اس بات کا ادراک کرنے کے بعد ہمیں صرف اور صرف اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہو کر پارٹیوں ، اداروں کے معاملے میں انتہائی غیر جانبدار ہو کر لکھنا چاہئے ،۔
روٹی روزی کی مجبوریاں بندے کو مجبور کر دیتی ہیں ،۔
اس کے لئے اپنی یونینز مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،۔
یونییز کی مضبوطی کا مطلب ہے کہ ہمیں ٹیم ورک کی تربیت اور تعلیم کی ضروت ہے
یونین میں ہر بندہ صدر ہی نہیں بنے ، بلکہ مینجر ، ورکر ، اور دیگر کئی عہدے بھی ہیں اور ہار جانے کی صورت میں خود کو سابق صدر کہلوانے میں بھی کوئی ہتک نہیں ہے ،۔

اس کے لئے بھی انے والی نسلوں کا اگر خیال ہو تو ؟
ایسے معاشرے کی تعمیر کے لئے ذہن سازی کی کوشش ہونی چاہئے ، جس میں ادارے اپنا اپنا کردار نیک نیتی سے ادا کریں عدالتوں کو مضبوط کریں تاکہ انے والی نسلیں ہی سہی ، محفوظ ماحول میں اسان زندگی گزار سکیں ۔۔


منگل، 14 فروری، 2017

ویلینٹائین ڈے کی حقیقت

ویلینٹائین ڈے کی حقیقت
*****************
انڈیا پر مغلوں کی حکومت  کا زمانہ تھا ،۔
جب مغربی اقوام دنیا کو اپنی کالونی بنانے  کے لئے نکلی ہوئیں تھیں ،۔
اکبر کے زمانے میں پرتگیزیوں کے چھاپے خانے کی مشین متعارف کروانے سے بھی پہلے کی بات ہے کہ
ابھی برطانیہ کے گورے  ہند میں پاؤں جمانے کی کوشش میں تھے لیکن پرتگیزی لوگ سندہ کی بستیوں کو لوٹ کر سمندر میں غائب ہو جاتے تھے ،۔
سفارتی محاذ پر مغربی اقوام کے سیانے لوگ ، تاجرون کے روپ میں ، مغل بادشاہوں سے تعلق بڑھانے کی کوشش میں تھے ،۔
اکبر کے دربار میں  ملاّ دو پیازہ اور بیربل کی نوک جھونک چلتی رہتی تھی ،۔
مغربی اقوام کی سفیر اور تاجر ، کچھ بیربل کے ذریعے اور کچھ ملا دو پیازہ کے ذریعے  دربار تک رسائی حاصل کرتے تھے ،۔
اس دن چودہ فروری کا دن تھا ،۔
بیربل کی  دریافت پنجابی رقاصہ اس دن دربار میں  رقص کر رہی تھی ،۔
بیربل کے ساتھ پرتگال اور برطانیہ کے کچھ تاجر بھی اکبر بادشاھ کے دربار میں رقص و سرود کی یہ محفل دیکھنے کے لئے موجود تھے ،۔
ملا دو پیازہ بھی یہیں موجود تھا ،۔
بیربل نے رقاصہ کو سیکھایا ہوا تھا کہ
ملا کو تنگ کرنا ہے ،۔
پنجابی رقاصہ اس دن رقص کے ساتھ ساتھ جو گیت گا رہی تھی ۔
اس کا طرح مصرع تھا
مینوں ، ویل تاں دے” ۔
رقص کرتے کرتے رقاصہ ملا کے پاس جاتی ہے اور اپنا گھٹنا فرش پر ٹکا کر کہتی ہے
وے سوہنیا ،  ویل تاں دے ،۔
ملا  اس کے ہر دفعہ یہ کہنے پر اس کو ایک اشرفی عطا کرتا ہے ،۔
ملا کا یہ ایکشن دیکھ کر اکبر بادشاھ  ملا پر موتی نچھاور کرتا ہے ،۔
پنجابی رقاصہ اور بھی ولولے سے گاتی ہے ،۔
وے ظالما ، مینوں ویل تاں دے ،۔
ہائے بالماں ، مینوں ویل تاں دے ۔
وے ہیریاں ، مینوں ویل تاں دے ،۔
جملے کی تکرار سن سن کر مغربی ممالک کے تاجر لوگوں کو یہ الفاظ یاد رہ جاتے ہیں ،۔
وہ تاجر لوگ یورپ واپس جا کر  اس دن کی یاد میں چودہ فروری کو  اپنی اپنی داشتاؤں اور دوستوں کے منہ سے کہلواتے ہیں ،۔
ویل تاں دے !!،۔
یورپی لہجے میں ویل تاں دے  کا تلفظ بگڑ کر  “ ویل تان ڈے “ بن گیا ۔
صدیوں کے گزرنے سے یہاں دیسی لوگوں کو یاد نہیں رہا اور مغربی اقوام ہمیشہ کی طرح  ہماری دیسی روایات کو چوری کر کے اپنی رسم بنا چکی ہیں ،۔
گامے پی ایچ ڈی کا پیغام ہے
کہ
اس پوسٹ کو اتنا شئیر کریں کہ سب دیسی لوگوں تک پہنچ جائے کہ
ویل ٹان ڈے  ،حقیقت میں ویل تاں دے  کا بگڑا ہوا  لفظ ہے اور یہ خالص دیسی اور مغلیہ دوری کی شغلیہ  رسم  ہے ،۔

سوموار، 13 فروری، 2017

اللہ نوں وکیل کرن والے

پاء مصطفٰے کے مشکل دنوں کی بات ہے کہ
اس کے گاؤں کے لڑکے کہنے لگے
کہ
آپ پارٹس کے کنٹینر دبئی بھیج دیا کریں ، ہم اپ کو  مال بیچ کر رقم بھیج دیا کریں گے ،۔
پاء مصطفے نے بڑی مشکل سے رقم وغیرہ کا انتظام کیا اور کنٹینر بھر کا مال دبئی بھیج دیا ،۔
ساتھ ہی اپنے بھائی کو پاکستان سے دبئی جانے کو کہا کہ تھوڑی سیر ہو جائے گی اور مال فروخت کرتے ہوئے ذرا پاس ہونے سے  دبئی کے تارڈ والے کچھ ڈنڈی مارنے میں بھی جھجک محسوس کریں گے ،۔
پہلے کنٹنر کے پیسے بڑے معقول  آگئے تھے ،۔اس کے بعد دبئی والوں نے فیصلہ کر لیا کی پاء  مصطفے کو بس صرف بارہ لاکھ ہی بھیجنا ہے ،۔
ایک کنٹینر کا بارہ لاکھ ، اگلے مرحلے میں پاء مصطفے کے دو کنٹینر ایک ہی دن بھر کر بھیج دئے  اور ساتھ  ہی پاکستان والے بھائی سے کہا کہ دبئی گھوم پھر آؤ ، بھائی اپنا چاول کا کاروبار ہے جس کو وقت نکالنا بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی پاء کا بھائی دبئی پہنچ گیا ۔
مال ابھی بک رہا تھا اور لگتا تھا کہ ابھی تین اور لگ جائیں گے کہ
پاء کے چھوٹے بھائی کو فوراً پاکستان جانا پڑ گیا ،۔
پاء نے اس کو کہا بھی کہ دبئی والا منڈا ٹھیک نہیں ہے اس پر اعتبار نہیں کرو ،۔
دبئی کے یارڈ پر کام کرنے والے ایک ملک صاحب نے بھی پاء کے بھائی کو کہا کہ اپنا مال یہاں کھڑے ہو کر  فروخت کرو ۔
لیکن  پاء کے بھائی کی مجبوری بھی تھی اور کچھ ان اللہ لوک  بھائی میں اللہ پر اعتماد کی بھی انتہا ۔
کہ
پاء مصطفے کا بھائی کہتا ہے
میں اللہ کو وکیل کھڑا کر کے جا رہا ہوں ، بس ، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔
دبئی والے لڑکوں نے اپنی سی ہی کی کہ دو کنٹنیر کا بھی بارہ لاکھ بنا کر بھیج دیا ۔
دو کنٹنیر میں صرف سکریپ ہی پچاس ٹن ہو جاتا ہے جو کہ اگر جاپان میں مارکیٹ میں بھی بیچا جاتا تو   پچیس لاکھ کا مال تھا ،۔
پاء مصطفے  اپنے بھائی کو فون کر کے بتاتا ہے کہ
فیر بارہ لاکھ آیا ہے ،۔
پاء کا بھائی کہتا ہے
فیر پاء جی یہ پیسے ہمارر مقدر میں تھے ہی نہیں ۔ کہ
اللہ  کی یہی مرضی ہو گی ،۔
چلو ٹھیک اے جی ۔
اللہ اللہ تے خیر صلّا !!،۔
چھ ماھ کی مدت میں کوئی پانچ ملین روپے کا نقصان کر کے دونوں بھائی صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے
اللہ جی دی  مرضی !!!،۔

کوئی چھ ماھ اور گزرے کہ پاء مصطفے تنزانیہ جاتے ہوئے  دبئی سے گزر ہوا ، پاء کے دل میں خیال آیا کہ دبئی والوں کے یارڈ پر جا کر دیکھ ہی آئے کہ
اللہ کی مرضی کیا تھی ۔
دبئی والوں کا چھوٹا بھائی یارڈ کے دروازے پر ہی مل گیا
بڑے تپاک سے ملا ، پاء جی اپ نے بتانا تھا میں آپ کو ائیرپورٹ لینے آ جاتا ،۔
پاء مسکرا کر طرح دے گیا
اور پوچھتا ہے ،۔
اوئے ، یارڈ اجے وی قائم جے ؟؟
نئیں پا جی یارڈ تے وک گیا جے ، بس میں ایتھے کاغذاں تے سائین کرن لئی کھلوتا ہویا جے (نہیں بھائی جی یارڈ تو بک چکا ہے ، میں بس یہاں کاغذوں پر سائین کرنے کو کھڑا ہوا ہوں ،۔)۔
پاء  مصطفے نے وہاں سے نکلتا بنا ، دبئی والوں کا چھوٹا بھائی کہتا ہی رہا کوئی پانی شانی کوئی روٹی شوٹی ۔۔
پاء مصطفے اندروں بہت ڈریا ہویا
کہ
اے تے اللہ  دی وکالت وچ پکڑے گئے نئیں ، اینہاں دے کول کھلو کے کلے میں وی لپیٹ وچ نہ آ جاواں
کیوں کہ پاء  مصطفے ، اللہ کولوں بڑا ڈردا اے !!،۔

جمعہ، 10 فروری، 2017

تیسری دفعہ کا ذکر

کہیں کسی جگہ دو سادھؤں کی ملاقات ہوئی ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے ،۔
جس پنتھ کے چیلے ہو ؟
دوسرا جواب دیتا ہے
میں پنتھ وچار کچھ نہیں جانتا
تم  اپنا آٹا دیکھاؤ اور میرا بھی دیکھ لو
کہ
آٹا کس کے پاس زیادہ ہے !!،۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے
کہیں کسی جگہ  دو مولویوں کی ملاقات ہوئی
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے
کس مسلک کے ماننے والے ہیں ،۔
دوسرا جواب دیتا ہے
مسلک شسلک چھوڑو
مجھے اپنا بتاؤ اور میں اپنے بتاتا ہوں کہ
ایجنسیوں میں تعلقات کس کے زیادہ ہیں !!!،۔
اس ملک میں چندا اس کو زیادہ ملتا ہے جو  بدکارِ سرکار کو  کارِ خیر ہونے کا واعظ کرنا جانتا ہے !!م،۔۔

تیسری دفعہ کا ذکر ہے ۔
کہیں کسی جگہ
۔
۔
۔
۔
چھڈو پراں مٹی پاؤ !!،۔
سانوں کی !!۔

اتوار، 5 فروری، 2017

سرطان یعنی کینسر کا علاج اور اوپدیو

جاپان جہان ہر دوسرا شہری سرطان کے خطرے سے دو چار ہے
یہاں ، سرطان کی دوا دریافت ہو چکی ہے ،۔ کوئی ایک فیصد لوگ بلکل شفا یاب ہو جاتے ہیں اور باقی کو بھی خاصی شفا ہوتی ہے ،۔ یہ دوائی ابھی نئی ہے ، مارکیٹ میں دوہزار دس کہ بارہ  میں آئی تھی ، چار سال میں اس کی کوالٹی کا ڈیٹا بن رہا ،۔
انے والے دنوں میں آپ اس کے متعلق سننے لگیں گے
اوپدیو (http://www.opdivo.com/) نامی یہ دوا خاصی زیادہ مہنگی ہے ،۔
کوئی چھتیس لاکھ ین سالانہ کا خرچا ہے۔
جاپان جہاں کہ بیماری کا ستر فیصد خرچا انشورنس کور کرتی ہے ،۔
یہان ڈاکٹر دوائی لکھ کر دیتے ہوئے اس بات کا بلکل بھی خیال نہیں کرتے کہ دوائی کی قیمت کیا ہے
بلکہ ڈاکٹر صاحباں کو دوائی کی قیمت  علم بھی کم ہی ہوتا ہے ،۔
ڈاکٹر کا متمٰنی نظر مریض کا علاج ہوتا ہے نہ کہ مریض کی جیب کی حفاظت ،۔
 جاپان میں دانش ور اس بات پر سوچ بچار کر رہے ہیں کہ  سرطان کی علاج کو کیسے سستا کیا جاسکے ،۔
اوپدیو (opdivo) نامی دوا ایک بہت بڑی دریافت تھی ، اس دوا کی تحقیق پر کوئی 100,000,000,000 ین کی رقم خرچ ہوئی تھی ،۔
دوائی بنانے والی کمپنی کے منافع کے لئے حکومت نے اوپدیو نامی دوا پر 27 فیصد تک کا منافع رکھنے کی اجازت دے دی تھی ،۔
جو کہ رائج اصول کی شرٖح سے دس فئصد زیادہ ہے م،۔
رائج اصول میں منافع کی شرح 17 فیصد ہے ،۔
جاپان جو کہ داوائیوں کی تحقیق اور تکنیک میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر کا ملک ہے ،۔
یہاں سرطان کی دوا اس حد تک مہنگی ہے کہ ، قوت خرید رکھنے والی جاپانی معیشت بھی اس دوا کی مہنگائی سے پریشان ہے ،۔
جاپان سے باہر کے ممالک جو کہ اس دوا کو ایمپورٹ کر کے اپنے شہریوں کے علاج کا پروگرام رکھتے ہیں ،۔
ان کو مہنگی دوا کی قیمت کے علاوہ ٹرانسپوٹ کا کرایہ اور کسٹم ٹیکس اور دیگر ٹیکس ادا کر نے کے بعد یہ دوائی اور بھی مہنگی  کر کے علاج کے لئے مہیا کرنی پڑے گی ۔

سرطان ایک ایسی بیماری ہے کہ جس ہر کوئی دو اثر نہیں کرتی تھی ، ہوتا یہ تھا کہ جیسے ہی  کوئی دوا یا بیکٹریا ، یا کہ کوئی بھی ایسی چیز کو سرطان کے خلاف ہوتی تھی اس کے نزدیک آنے پر سرطان خود کو سمیٹ کر سخت کر لیتا تھا ،۔
اوپدیو میں یہ کوالٹی ہے کہ یہ سرطان کے خلیون میں داخل ہو کر  جسم کے مدافعتی نظام کو سرطان کے خلاف فعال کر دیتی ہے ،۔
اس لئے اب یہ ممکن ہو سکا ہے کہ سرطان پر قابو پایا جا سکے ،۔

جمعرات، 26 جنوری، 2017

ملکہ بلقیس اور ڈی سی تھرٹی

بچہ گھر ، مدرسے سے گھر آتا ہے ۔
تو ماں  پوچھتی ہے ۔
کیا کچھ نیا سیکھا؟
ہاں
بچے نے بتایا کہ مولوی صاحب نے اج  حضرت سلیمان علیہ سلام اور بلقیس کا قصہ سنایا ہے ،۔
ماں اشتیاق سے کہتی ہے : اچھا ؟ مجھے بھی تو سناؤ !،۔
بنی اسرائیل میں کوئی  بادشاھ سلیمان گزارا ہے ،۔
ایک دفعہ
ہوا یہ کہ حضرت سلیمان کو ڈرون  کی جاسوسی سے علم ہوا کہ وہاں یمن میں کوئی خوبصورت  بی بی حکومت کرتی ہے تو ، انہوں نے اس بی بی کو اپنے ملک کی سیر کی دعوت کی
بی بی بلقیس نے جب دعوت قبول کر کے حضرت سلیمان کے ملک کی طرف  سفر شروع کیا تو حضرت سلیمان کو جاسوسوں کے بتانے پر احساس ہوا کہ بی بی بلقیس کا تخت بڑا خوبصورت اور مہنگا ہے ،۔
سلیمان بادشاھ نے  اس تخت کو چوری کر کے بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  پہلے اپنے سامنے دیکھنے کا حکم جاری کر دیا ،۔
جس پر سارے جن اور دیو   اس پروجیکٹ کو قبول کرنے سے گھبرانے لگے ،۔
تو
ان کے ایک جنرل نے جس کی بیگم  ڈی سی تھرٹی پر پھجے کے پاوے منگوانے میں مشہور تھی اس نے اس پروجیکٹ کی ذمہ داری لے کر ، بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  ڈی سی تھرٹی پر وہ تخت منگوا کر حاضر کر دیا تھا ،۔
بچے کی بات سن کر ماں  ہکا بکا رہ گئی ،اور حیرانی سے پوچھتی ہے ،۔
واقعی مولوی صاحب نے یہ قصہ ایسے ہی سنایا ہے ؟؟
بچہ گویا ہوتا ہے ،۔
نہیں ! جس طرح مولوی صاحب نے سیانا تھا
اگر اس طرح میں آپ کو سناتا تو ، آپ کو نہ تو سمجھ آنی تھی اور نہ ہی یقین آنا تھا ،۔

بدھ، 18 جنوری، 2017

قسمت کا ولی


لوڈ شیڈنگ کے تدارک کے لئے جنریٹر کا انتظام کیا تھا
سٹینڈ بائی رکھنے کے لئے میں نے اپنے چچا زاد کو کہا
کہ جا کر پٹرول لے کر آؤ ۔
وہ لے آیا
میں نے جنریٹر میں ڈال کر سٹارٹ کیا چند منٹ بعد جنریٹر بند ہو گیا ،
بہت کک مارے ،سٹارٹ نہیں ہوا ۔
ائیر کلینر کھول کر کاربوریٹر میں انگل دے کر خاص میکنکی نسخہ استعمال کیا تو انجن بے شمار دھواں چھوڑ نے لگا ،۔
میں چاچا زاد سے پوچھا
اوئے یہ کون سا پٹرول لے آئے ہو ؟
پاء جی میں نے اس کو سستے والا پٹرول کہا ۔
جو کہ ڈیزل تھا
چچا زاد ایکسٹرا سیانا بننے کی کوشش میں اس کی عقل میں اتنا ہی فیڈ تھا کہ پیسے کم خرچ ہونے چاہے ، کم خرچی ہی عقل کی نشانی ہے ۔
میں اس کو بہت غصہ ہوا کہ
بات کو سن لیا کرو اور جو کوئی بڑا کہے ویسا ہی کیا کرو
نہ کہ خود سے عقل مند بننا شروع کر دیا کرو ،۔

کچھ دن بعد ٹریکٹر پر کام تھا
میں نے یاسر سے کہا کہ اج ڈیزل لے کر آو
یاسر لے آیا
ڈرائیور نے ٹینکی فل کر دی
کچھ ہی منٹ بعد ٹریکٹر بند ہو گیا،
ڈرائیو پوچھتا ہے
ہن کی کرنا جے پاء جی ؟ ۔
میں نے خالص مکینکی نسخے سے انجکشن پمپ پر سے آٹو مائینر کو جانے والا پائیپ ڈہیلا کر کے سیلف مارا تو اس میں سے پٹرول بہنے لگا ۔
میں ے یاسر سے پوچھا
اوئے یہ کیا لے آئے ہو ؟
پاء جی پچھلی دفعہ آپ نے بہت غصہ کیا تھا اس لئے مجھے یاد تھا کہ پٹرول ہی لے کر آناہے ۔
میں نے اپنا سر پیٹ لیا
اوئے کملیا
میری بد نصیبی ہی یہ ہے کہ میرے سارے بھائی اور کزن ایکسٹرا عقلمند ہیں ،۔
اتنے زیادہ عقلمد کہ
مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں ۔
جو کہ میں ہوں بھی
کہ اگر میں بیوقوف نہ ہوتا تو بار بار ان کو کام کیوں کہتا ؟؟
پنجابی کا وہ محاورہ مجھ پر صحیح فٹ بیٹھتا ہے ۔
واہ او قسمے دیا ولیا !۔
ردی کھیر تے ہو گیا دلیا،۔

جمعہ، 6 جنوری، 2017

عزت اور غیرت


چاچے فرید کی دوکان پر چاچا عنایت مستری اگلے ویہڑے والا یہ بات بتا کر کہتا ہے
کہ
یقین کرو جی ایک بدمعاش کے منہ سے سنی یہ بات کئی دہائیاں بعد بھی میں نہیں بھول سکا
اور ساری زندگی نہیں بھول سکوں گا کہ ایک بدمعاش ہو کر اس نے کیسی دانش کی بات کی،۔
چاچے عنائت کے اس اخری فقرے کی وجہ سے مجھے بدمعاشوں والا یہ واقعہ یاد رہا ہے
کہ آج مجھے یہ بات سنے کوئی چالیس سال ہو گئے ہیں
لیکن اج بھی مجھے چاچے عنائت کا بات کرنے کا وہ دھیما سا انداز اور چہرہ ایسے لگ رہا ہے کہ چند لمحے پہلے کی ہی بات ہو جیسے !!،۔

ذیلدار چوھدری صاحب  کے ڈیرے پر  علاقے کے سارے بستہ بے کے بدمعاشوں کو  ہر مہینے حاضری دینے کا حکم تھا ،۔
یہ حکم تو سرکار برطانیہ کے دور سے تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد بھی  ہم نے اپنے چوہدریوں کے ڈیرے پر بستہ بے کے بدمعاشوں کا جھرمٹ دیکھا ہے ،۔
یہاں پیپل کے نیچے والے کنوئیں کے پاس ہی چوہدری صاحب کی چارپائی ہوتی  تھی اور گاؤں کے  کمی  لوگوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے زمیندار بھی یہیں دریوں پر بیٹھا کرتے تھے
کسی کو چوہدری صاحب کی غیر موجودگی میں بھی منجی پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ،۔
جس دن بدمعاشوں  کی حاضری ہوتی تھی
گاؤں کے لڑکے بھالے تماشہ دیکھنے یہاں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے ،۔
طرح طرح کے حلئے ، تہمند کے لڑ چھوڑے  بڑی بڑی مونچھوں والے اگر ہوتے تھے تو مریل مریل سے بکری نما داڑہی والے بھی ہوتے تھے ۔
عام سے حلئے کے  سر پر صافہ باندھے  تہمند قمیض میں  چہرے پر بے چارگی سجائے بیٹھے ہوئے یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اپنی ایک دہشت رکھتے تھے ،۔
یہاں چوہدریوں کے ڈیرے پر پہنچتے ہی گربہ مسکین کی ایکٹنگ کر رہے ہوتے تھے ،۔
دو بد معاش اپس میں باتیں کر رہے تھے
میں بھی کان لگا کر سننے لگا
جو بات انہوں کی میں یہ بات ساری زندگی نہیں بھول سکتا کہ
ایک بد معاش ایسی دانش کی بات بھی کر سکتا ہے ،۔
لڑکپن کے ان دنوں میں ہمارے ذہن میں یہی ہوتا تھا کہ  ایک بد معاش میں اگر دانش ہوتی تو
وہ کوئی معقول معاش کیوں نہ اختیار کرتا ، بد معاشی کی ہی کیا ضرورت تھی ،۔
لیکن ان بد معاشوں کا یہ مکالمہ میں ساری زنگی نہیں بھول سکتا ،۔
ایک بدمعاش دوسرے سے کہتا ہے
اؤئے تم مجھے اپنی بیوی کچھ دن کے لئے دے دو !،۔
دوسرا اس کی بات کو سن کر نظرانداز کر دیتا ہے ،۔
میں سوچتا ہوں ایسا مطالبہ کوئی کم عقل بدمعاش ہی کر سکتا ہے ،۔
کہ اس بدمعاش نے دوسرے بار اپنی بات کی تکرار کی
تو
 سننے والے بد معاش نے اس کو کہا
اوئے ڈنگرا ، بیوی بندے کی عزت ہوتی ہے ، اور کوئی بھی انسان اپنی عزت دوسروں کو نہیں دیتا ،۔
بہن بیٹی اور ماں بندے کی غیرت ہوتی ہیں ،۔ اپنی غیرت کو لوگ جانتے بوجھتے رشتے بنا کر دوسروں کو دیتے ہیں ،۔
لیکن اپنی عزت کوئی کسی کو نہیں دیتا ،۔
عزت اور غیرت کے فرق کا یہ باریک سا فرق  کم ہی لوگوں کو علم ہوتا ہے ،۔
مجھے تو چاچے عنایت کی اس روایت کے سننے کے بعد ہی  غیرت اور عزت کا مفہوم ملا تھا ،۔

Popular Posts