جمعہ, فروری 27, 2009

تبدیلیاں

اج ایک عجیب کا احساس جاگا که ایک کسک تھی که ایک حیرانی تھی یاکه کچھ اور که چرخ گردوں نے نے بھی پھیرا لینا تھا
یا که میرے اندر کہیں یه خواهش چھپی هوئی هے که لوگ علمی طور پر بھی بڑے هوں ــ
آج میاں عاصم نے مجھے کہا که ہم آپ کی خبریں خریدنے میں دلچسپی رکھتے هیں
وه خبریں جو میں جاپان کی لوکل خبریں جی ایم خاور ڈاٹ نیٹ پر لگاتا هوں ـ
آج برفی باری تھی هلکی سی جو که جمعے کی نماز پڑھنے تک کافی هو گئی تھی
میں نے بھی جو سکریپ ٹرک پر لادھ کر لایا تھا اس کو سکریپ یارڈ میں چھوڑ کر کام کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
اس لیے جین اور جیکٹ میں هی نکلا تھا
اپنے شاھ جی کو بھی فون کرکے ان کے ساتھ هی ان کی گاڑی میں کالی کافی پی اور پھر تھوڑی اوارھ گردی کی جس ميں عامر سکریپ والی کے یارڈ میں اس سے ملنا بھی شامل تھا
عامر جاپان ميں پاکستانیوں میں تعلیم یافته اور حلیم طبیت کاروباری بندھ ہے اس لیے اس سے گفتگو کا مزھ آتا هے
اس کے بعد اباراکی کین کی یوکی شهر والی مسجد میں نماز کے لیے گئے
یه مسجد تین منزله بلڈنگ هے جو که ساری مسجد هی کی ملکیت ہے
اس کی دوسری مسجد هلال فوڈ سٹور اور ڈھابه ٹائپ ریسٹوریٹ بھی ہے اور تیسری منزل پر نماز کی ادائیگی هوتی ہے
مٹن پلاؤ پکا تھا جی میں نے اور شاھ جی نے بھی کھایا اور روایت کے مطابق بل کی ادائیگی شاھ جی نے کی ـ
جی هاں بھولے شاھ صاحب کو ساتھ جب بھی ریسٹوریٹ جائیں بل شاھ جی هی دیتے هیں
تو جی وهاں ماں عاصم نے خبروں کی تجارت پر بات کی تھی تو میں خوش هوا که علمی طور پر اب جاپان میں میں بھی یه ماحول بن گیا هے که تحاریر کی باتیں هوتی هیں یا ان کی قیمت کا احساس پیدا هوا ہے
لاهور میں کہیں علمی لوگوں کی محفلوں میں ایسی باتیں هوتی هوں گی ـ
یا کهیں کسی پبلشر کی بیٹھک (دفتر) میں هوتی هوں گی
جاپان کا ماحول کبھی بھی عملی نهیں رها هے
که اس کی مثال دی جا سکے
اب اس کا مطلب یه بھی نهیں ہے که کم علمی ایسی هو که جیسے میں نے کسی سے پوچھا تھا که جی
اپنا اسم شریف تے دسو
تو اس بندے نے بڑی شرمندگی سی سے کہا تھا
جی اسم شریف تے نہیں آتا درود شریف یاد هے
وهاں فرانس میں ایک سکھ سے پوچھا تھا
که
جی تہاڈا اسم شریف ؟؟
تو اس کا جواب تھا
جی میں لدھیانے دا واں ـ
لیکن یه بات یاد ہے که جب نئے نئے آئے تھے تو جس گھر میں رهتے تھے ان میں سے کچھ دوستوں نے کهیں سے یه محاورھ سن آئے تھے
دریا کو کوزے میں بند کرنے والا
تو جی انهوں نے گھر اتے هی مجھے پوچھا که تم بڑی علمی باتیں کرتے هو اج ذرا بتاؤ ناں جی که دریا کو کوزے میں بند کرنا کسی کو کهتے هیں ؟
جب میں نے ان کو بتایا که کسی بڑی گہری بات کو جس میں کتنے هی معنی نکلتے هوں اس بات کو مختصر کرکے بتا جانے کو دریا کو کوزے میں بندکرنا کہتے هیں تو جی وھ حیران هو گئے که یار تم پیبڈو هو کر بھی ساری باتیں جاتے هو حلانکه وهاں جب ایک بندے نے یه سوال کیا تھا تو بیس بندوں میں سے کسی کو بھی اس کا جواب نهیں ایا تھا
لیکن یارو اب بندھ ان سے پوچھے که ایک محامورے کو جاننے سے خاور کی بات بڑی کیسے هو گئی
ایک اور بات جو میں نهیں بھول سکتا
که ایک لڑکا هوا کرتا تھا ناصر نام کا وهاں گوجرانواله میں ایک وحدت کالونی هے وهاں کا
تو جی ایک دن
ناصر کسی کو فون کررها تھا
که کاٹنے سے پہلے اس کو کہتا ہے
اگر ہمارے لائق کوئی خدمت کو تو ضرور '' عرض '' کرنا
میں نے کہا که یار جی دوسرے بندے کو حکم کرنےکا کہتے هیں ناں که عرض کرنے کا
اپنے عرض کرنے کی بات هو تی کسی کی خدمت میں
تو ناصر اکڑ گیا که جی نهیں همارے گاؤں میں ایسا هی هوتا ہے اور هم ایسے هی کہتے هیں
حالانکه ناصر بڑا چنگا بندھ مشهور تھا جی ان دنوں لوکاں میں ـ

منگل, فروری 24, 2009

زخیرھ الفاظ

کتنی بد قسمتی ہے که جی هم لوگ اپنی زبان بھی پوری طرح نهیں سمجھ سکتے
بلکه هم میں سے جو جتنا زیادھ پڑھ جائے وه اپنی بولیوں سے اتنا هی دور هو جاتا ہے
جو کالج تک بہنچ جاتا ہے اس کو مقامی بولی سندھی پشتو پنجابی بیک ورڈ سی لگنے لگتی هے اور جواس سے زیادھ پڑھ جائے اس کو تو جی اتنی انگریزی چڑھ جاتی هے که کسی شرابی کو شراب بھی کیا چڑھے گی ـ
یہاں جاپان سے نکلنے والی اک خبروں کی سائٹ پر چوری کی واردات کو ڈکیٹی کی واردات کا ٹائیٹل دے کر چھاپا گیا ہے
Daketty
ڈاکو ڈکیٹی کرتے هیں اور چور سرقه لٹیرے لوٹ مار کرتے هیں اور ٹھگ ٹھگیاں (یہاں ٹھگ سے مراد لٹیروں کا وه گروھ نهیں هے جس کو انگریزوں کے دور میں ختم کردیا گیا ) ـ
جی صاحب اردو میں سرقے کی واردات کو ڈکیٹی لکھ کر شائد سنسنی پیدا کرنا جاھتے هیں یا پھر هیں هی لاعلم
ان دنوں اپ نے دیکھا هوا گا که پاکستان میں بھی خبروں میں لفظ '' کافی '' بہت استعمال هوتا ہے
ایک بم دھماکے میں کافی لوگ مارے گئے
دهشت کردوں کی فائرنگ سے کافی لوگ هلاک اور زخمی
یارو مارا جانا تو ایک ادمی کا بھی کافی (اینعف) نهیں هوتا
یه بہت سے لوگوں کو کافی کہـ کر کیا کہنا چاھتے هیں که جی خس کم جہاں پاک ، کافی لوگ مرگئے هیں هم بچ گئے یه کافی ہے ـ

اتوار, فروری 22, 2009

بچے جمہورے

آت مچانا کہتے هیں جی پنجابی میں دھوم مچانے کو برے لفظوں میں ـ
یه لفظ غالباً انت سے نکلا هے جس کے معنی هوتے هیں اخیر کے
میرا مقصد پجابی کو پرموٹ کرنا نهیں هے هو سکتا ہے که یه لفظ آت سندھی اور دوسری علاقائی زبانوں میں بھی
کیونکه هندی میں تو هے
اج اس لفظ کی روشنی میں ہم پاک جمہوریت کا جائزھ لیں گے
غالباً یه لفظ جمہوریت بگڑ ی هوئی شکل ہے جمہوری آت کی
مداری کے بچے جمہورے جب آت مچادیں تو اس کو پاکستان میں جمہوری ات اکهتے هیں
بچه جمہورا تو جانتے هیں ناں جی آپ ؟
بجے جمہورے !ـ
هاں گرو!!ـ
اوئے گرو بڑا که چیلا ؟
چیلا!ـ
اؤے بھیڑ بڑی که لیلا ؟
لیلا!!
اؤے توں بڑا که میں ؟؟
میں!!
بچه جمورھ
جی مداری
بچه جمہورا گھوم جا
گھوم گیا
ذرا جھوم جا
جھوم گیا
ذرا پاکستان کی خبر لا
لے آیا
کیا هو رها ہے
جمهوری ات هو رهی هے
بچه جمہورا ، وه کیا هے
پجه جمہوروں نے ات مجائی هوئی هے مداری ڈوریاں هلا رہے هیں
کچھ اس طرح کا مکالمه هو یا ناں هو که یه حقیقت هے که پاک سیاست هو که پاک عسکر سب بچے جمہورے اکٹھے هوئے هیں
اور مداری کی طرح ایکٹ کر رهے هیں ـ
شریف هوں که زردار لوگ بچے جمہورے ٹائپ مداری هیں اور انهوں نے اپنے اپنے بچے جمهورے پالے هوئی هیں که یا بچے جمهورے خود سے دوڑ دوڑ کر ان کے بچے جمهورے بن بن کر جمهوری آت کو کوششوں میں شامل هیں ـ
انگریزی کے دو لفظ ایلکٹ اور سلیکٹ کے لیے اردو میں ایک هی لفظ بولا جاتا ہے انتخاب ـ
جمہوریت میں لوگ ایلکٹ هو کر لیڈر بن جاتے هیں اور ملک بناتے هیں
اور جمہوری آت میں لوگ سلیکٹ هو کر مداری بن جاتے هیں اور رهتے هیں بچے جمهورے کے جمہورے ـ
لفظوں کے معنی بڑا اثر رکھتے هیں
اپ اگر آئین کو
دستور کہـ کر دیکھیں اور کسی دیهاتی کو بھی کہیں که دستور ميں تبدیلی (ترمیم) کی جائے گی
تو وه بھی چونک جائے گا که پھر یه دستور تو ناں هوا غریب کی جورو هو گئی که جس کا جی چاهے چڑھ جائے ـ
ان سیاسی پارٹیوں کا دستور کیا هے اور اصول کیا هیں ؟
ان میں پارٹی کے اندر کے انتخاب (الیکشن) کی کیا حالت هے ؟
چئیر میں تو هے هی جی ایک روحانی چیز که اس کے انتخاب کی تو بات بھی کفر کے زمرے میں آئے گی
اور اس کے بعد چئیر مین(سجادھ نشین) صاحب اپنے خلیفے چن کر ان کی خلعت عطا فرماتے هیں
که تم هو گے پارٹی کے اورسیز کے معاملات کے سیکرٹری اور معاملا ت یه هوں گے که بیرون مملاک میں جو لوگ بچه جمہورھ بن کر پاک جمہوری ات میں هاتھ بٹانا چاھتے هوں ان کو سلیکٹ(منتخب) کروـ
ترقی یافته ممالک کی وزارت خارجه ان کو لفٹ نهیں کرئے گی که ان ممالک کو معلوم ہے که اس بچے جمہورے کو چلانے والا مداری تو خود همارا بچه جمهورا ہے ـ

کسی کو چیچوکی ملیان كا پارٹی صدر منتخب کیا جارها ہے تو کسی کو ٹوبه ٹیک سنکھ کا ـ
کیا یه سارے بچے جمهورے مل کر اپنے پارٹی کے سجادھ نشین کو یه سمجھا سکتے هیں که جی پارٹی کے اندر انتخاب کروایا کریں اور اور ایک مقرر مدت کے بعد جو نیا ٹیلنٹ اگے ائے اس کو بھی باری دیں كه ترقی یافته ممالک نے اسی کو جمہوریت کہا ہے
اور اس جمہوریت کی مهربانی سے ائے هوئے انقلاب کا پھل اسائیشوں کی شکل میں پا رهے هیں
اور هم لوگ جمهوری آت میں بچه جمہورھ لوگوں ی مچائی هوئی ات کی دھول میں اٹے هوئے هیں که ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر قہقهے لگا رهے هیں که تم دھول میں اٹے هوئے هو اور وه هم پر که یہاں سبھی دھول میں اٹے هیں ـ
پاکستان میں سوائے جماعت اسلامی کے اندورنی انتخاب کا رواج هی نهیں هے
جماعت اسلام میں بھی یه رواج شائید کسی کی سازش کا هی شہکار هو مگر هے تو سہی
لیکن دوسری کسی بھی جماعت میں ایسا نهیں هے
اس اتنی سی بات کے اثرات کتنے گہرے هیں اس کا کسی کو احساس ہے
یا لکھنے والے اپنی قوم کو بتا رهے هیں که اس کا فائدھ اور نقصان کیا هے؟
سبھی بچے جمہورے هیں جی یہاں
اور میں بھی
ایک بچه جمہورھ هو ں اپنے پیٹ کے مداری کا ـ

جمعرات, فروری 19, 2009

هم اور جاپان

لو جی بات هوتی هے اپنی اپنی طبیت کی کوئی کسی بات کو کس رنگ میں لیتا ہے
اور هم تو جی هیں هی کچھ کھسکے هوئے سے
بقول انگریزوں کے کچھ پیچ ڈھیلے هیں
اور جاپانی کہتے هیں که جینئیس اور پاگل میں کاغذ کاسا باریک فرق هوتا ہے
یه بات تو کتنے هی دوست کہـ چکے هیں که ایک دن تم کسی بات پر ایسا رویه دیکھا جاتے هو که لگتا ہے که بڑے هی عقل مند هو اور کبھی ایسا لگتا هے که تم پاگل بن کی حد تک سادے هو
تو میں یه سن کر اس خوش فہمی میں مبتلا هوجاتا هوں که میں جینئس هوں جو پاگل اور عقل مند کی دو انتہاؤں سے هی جانا جاتا هوں مجھے کبھی کسی نے عام سا بندھ نہیں کہا هے
میں هوں کیا ؟
جی تو میں وه هوں جو لوگ مجھے میری غیر موجودگی میں کہتے هیں ـ
اور اس کا آپ کو معلوم هی ہے !!ـ اور آپ مجھے بتائیں گے بھی نهیں ـ
میں اج کل یه کر رها هوں که جاپان کی لوکل خبروں کو اردو میں ترجمعه کرکے ایک سائٹ پر لگا رها هو ایڈریس ہے
http://gmkhawar.net
ان خبروں میں کچھ تو معلومات کی نظر سے دیکھتا هوں مگر بہت سی خبروں کو ترجمعه کرکے میں اپنی پاک قوم کو آئینه دیکھانا چاھتا هوں
ایک خبر تھی جاپان کے کھنسائی کے علاقے میں ڈکیٹیوں کا طوفان
اور ان ڈکیٹیوں کی تعداد تھی صرف تین
اور وه بھی چاقو دیکھا کر اور ان میں سو بھی ایک ڈاکو رنگے ھاتھوں گرفتار
اور اس کاموازنه کریں پاک ملک کی ڈکیٹیوں سے تو ترجمعه کرنے والا خاور پاگل هی لگے گا ناں جی
ایک خبر ہے که جاکسا عام لوگوں کو خلائی سفر کی تربیت دینے کا کیمپ لگا رهی ہے
اپنے پاک ملک میں هم کس چیز کا تقابل کر سکتے هیں جی اس خبر کے ساتھ ؟؟
ایم خبر تھی جی که چاقو کا پھل اگر ساڑھے پانچ سینٹی میٹر هو جائے تو یه جاپان مین قابل دست اندازی پولیس هو جاتا ہے
اپنے پاک معاشرے میں لوگوں کا بس چلے تو ایٹم بم هی نیفے میں اڑس کر چلیں ـ
جاپانی سائینسدانوں نے حسد کی رگ دریافت کر لی ہے اور اپنی پاک فوج نے کچھ اور رقبے اور پلاٹ دریافت کر لیے هیں
پشاور والا افغانی مہاجر کیمپ کی زمین اپنی فوج نے ایک بندے کو پندرھ سال کی لیز پر دے بھی دی هے
جاپان کا نیوکلئر پلانٹ ٥٨ فیصد کام کررها هے اور یه قوم اس کی کارگردگی بڑھانے کے فکروں میں هے اور
اپنا ایٹم بم ؟؟؟؟؟؟

جمعرات, فروری 12, 2009

منکر حدیث

سب تیرے سوا کافر ،اخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دو انسان کا ایسا خبطِ مذہب کیا
معاملے کے کئی پہلو هوتے هیں جب مسئله بنتا هے یا فائدھ ـ
مشین کچھ سادھ مشینوں کا مجموعه هوتی ہے ناں جی
تو جی مسائیل بھی کچھ منافقتوں کا مجموعه هوتے هیں
یه منافقتیں آپ کی بھی هو سکتی هیں اور اپ کے ارد گرد کے منافقوں کی بھی ـ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے یک دم نہیں هوا کرتے
احادیث کے نام پر اکٹھے کئے گئے اقوال بزرگان پر میرا ایمان نهیں هے
میرا ایمان ہے صرف قران پر اور سنت رسول کے ساتھ اپنی عقل کا استعمال کرتا هوں ـ
میں یه بات کبھی بھی کسی پانچ وقت کے نمازی کونہيں بتایا مگر
ميں تین نمازوں کو فرض سمجھتا هوں اور دوسری دو کو نفلی نمازیں یا سنت که اگر وقت ملے تو پڑھ لیں ورنه نهیں مگر فرض نماز میں ڈیوٹی سمجھ کر ادا کرتا هوں ـ
اب جن لوگوں نے قران کو سمجھنا مولویکا کام سمجھ لیا هے اور اپنا کام دولت کمانا ان کو دولت کی سمجھ تو هوسکتی هے قران کی نهیں
لیکن وه پنجابی میں کہتے هیں ناں جی
جنہاں دے گھر دانے اونھان دے کملے وی سیانے
جن کے گھر اناج ہے ان کے گھر کے بیوقوف بھی سیانے هوتے هیں
تو اب بات یه هے که اگر اپ کے پاس دولت ہے تو آپ جی سیانے تو هیں ناں جی عقل چاهے ناں بھی هو ـ
اپ کے پاس نالج بھی هوگا علم چاھے ناں هو ـ
آپ بڑے چنگے بھی هیں چاھے تمیز آپ میں ناں بھی هو ـ
ادھے گھنٹے کی کفتگو بھی شائستگی سے جاری نهین رکھ سکتے
اور توں ، تم کہـ کر پکارنے لگتے هیں ـ
اور اگر اپ ان کتابوں کو جن کو احادیث کانام دیتے هیں ان میں هی سے میں نمازوں کے تین هونے کا بھی ثابت کروں تو اس کا کیا مطلب هو گا ؟؟
اس کا مطلب هو گا که
هر تفرقے باز کو اپنے اپنے فرقے کے لیے ان کتابوں میں سے مواد مل جاتا هے
کیوں ناں ان کتابوں کو ایمان کے درجے سے نیچے اتار کر قران کو روشنی میں اپنا راسته متیعین کر لیں ـ
تو جی بات اس طرح هے که میرے ساتھ ڈائیلاگ کرلیں ناں که ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں هلکان هوں ـ
لیکن جب بات اتی هے اس حد تک تو جی کہتے هیں همارے پاس علم نهیں هے
هم کسی عالم کو آپ سے ملائیں گے ـ
جن لوگوں کی منافقتوں کا میں گواھ هوں جن کی چالاکیوں کو میں نے دیکھا ہے
وه بے چارے خود کو میرے سامنے بونا محسوس کرتے هیں اور پھر اپنی دولت پر گھڑا هو کر خود کو بڑا سمجھ کر خود کو اطمینان دلا رهے هوتے هیں
مجھے لوگ پاگل بھی کہتے هیں اور بڑبولا بھی لیکن کوئی بھی بندھ جو مجھے جانتا ہے چاهے تیس سال سے یا بیس سال سے کبھی میری منافقت کی بات نہیں کرے گا کبھی کوئی میری دھوکه دھی کی بات نہیں کرے گا مرے قول اور فعل کے تضاد کی بات میرا دشمن بھی نهیں کرے
اس لیے منافق لوگ جتنے بھی دولت مند هو جائیں جب پلٹ کر دیکھتے هیں تو خاور کا قد دیکھ کر احساس کمتری کا شکار هو جاتے هیں
اور کہتے هیں یه بندھ کبھی کامیاب نهیں هو سکتا
جی هاں اکر کامیابی دولت کے حصول کا هی نام ہے تو ـ
دعا کرو جی که اللّه سانوں وی دے

اتوار, فروری 8, 2009

ڈاکٹر خان کی آزادی

ڈاکٹر خان کا رویه بتاتا هے که یه شخص اب بھی بہت بڑا خطرھ ہے ـ
مجھے صرف خان کی عمر اور صحت میں کمزوری نظر آرهی ہے هو سکتا ہے که اب یه اور لوگوں كو آگے لے كرآئے ،مغربی طاقتوں اور پاکستان کا اس شخص کو عدالت میں ناں لے جا سکنا ان کی ناکامی هے ، بڑی مچھلی پھسل گئی هے اور اس ایٹمی ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ میں ملوث دوسروں کا خوف بھی ختم هو جائے گا ـ
جی هاں یه خیالات هیں واشنگٹن کے انسٹیٹیوٹ فار سائینس اور انٹرنیشنل سکورٹی کے پرولیفریشن ایکسپرٹ '' داؤد البرائیٹ '' کے ـ

کچھ لوگوں کا خیال ہے که نئی امریکه حکومت اپنے نمبر بنانے کے لیے ڈهیل دیکھا رهی هے که پاک حکومت ڈیل دیکھا رهی هے ـ

میں نے اپنے خان صاحب کی پانبدیوں میں ڈھیل پر ان کو پوسٹ کارڈ بنا کر لوگوں سے لکھوا کر بھیجے تھے اس بلاگ کے مستقل قاری اس بات کو جانتے هیں
مندجه ذیل لنک سے ان کارڈوں کے ڈزائین اور متن کی تفصیل مل جائے گی
http://khawarking.blogspot.com/2008/06/blog-post.html
تو جی بات اس طرح هوئی هے که ڈاکٹر صاحب کی آزادی پر مسلم لیک نوں کے فارن افئیر کے سکیرٹری شیخ قیصر صاحب اس وقت اسلام اباد میں تھے که '' شریف لوگوں '' نے ان کو فوراً ڈاکٹر صاحب کو سلام کے لیے پہنچنے کا کہا ، شیخ صاحب جاپان میں رهتے هیں جب انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا که جی میں جاپان سے ایا هوں تو ڈاکٹر صاحب نے خاور کے پرنٹ کیے گارڈ ان کو دیکھائے که اپ لوکوں کے جذبات جاپان سے مجھ تک پہنچتے رہے هیں ـ
لو جی ائیڈیا تھا اپنے شکاری شکاری کے بلاگکا اور کام کیا جی خاور کھوکھر نے اور شاباش مل رهی ہے جی شیخوں کے منڈے کو ''شریفوں '' کے ساتھ

جی تو جی اب یه تو تھےاپنے جذبات لیکن یارو دنیا میں بستے هیں تو دنیا کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے جب کی دنیا هو بھی امیر اور سیانی بھی اور اپنی نسل کے لوگ هوں بے عقل بھی اور غریب بھی تو جی دنیا کی بھی سن لینی چاهیے که وه کیا سوچ رهی هے
جابان کی ایک بڑی اخبار مائی نیچی نے کیا لکھا ہے اپنے خان صاحب کی آزادی پر !!ـ
اس پوسٹ کا پہلا پیرا اس اخبار سے لیا گيا ہے
اور اب اس کے بعد اخبار کیا لکھتا ہے
اخبار لکھتا ہے که جمعے کے روز جب ڈاکٹر خان سے یه پوچھاگیا که ''آپ کی ریلیز پر بینالاقوامی برادری کے آپ کی رلیز پر کیا احساسات هو سکتے هیں ''
تو ڈاکٹر خان نے جواب دیا
کیا وه همارے رب کے ساتھ خوش هیں ؟ کیا وه همارے رسول کے ساتھ خوش هیں ؟ کیا وه همارے رهنماؤں کے ساتھ خوش هیں ؟
کبھی نہیں !!ـ
مجھے دوسری دنیا کی کوئی پرواھ نهیں هے مجھي پرواھ ہے تو اپنے ملک کی ،
اوباما اپنے امریکه کی پرواھ کرتا ہے یه نہیںکرتا که انڈیا پاکستان اور افغانستان کی پرواھ کرے ـ
اخبار لکھتا ہے که
وائٹ ھاؤس نے كہا ہے صدر اوباما پاکستان سے اس بات کی یقین دھانی چاهتے هیں که ڈاکٹر خان وه کام دوبارھ نہیں کریں کے جن کی پاداش میں ان کو گرفتار کیا گیا تھا ـ
اخبار لکھتا ہے
ایک بندھ جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جس نے ایٹمی راز افشاء کرکے شمالی کوریا ایران اور لیبیا کو دینے کا اعتراف کیا وه شخص باکستانی حکومت کے ساتھ ایک خفیه ڈیل سے اپنی نظر بندی سے رها هوگیا هےـ

ہفتہ, فروری 7, 2009

اصلی ایٹمی پاور

٢٠٠٩ کی جنوری کی ٢١ تاریخ کی ایک خبر تھی
توشیبا کی امریکه کو ایٹمی پلانٹ بنا کر دینے کی خواهش ـ
ذرائیع کے مطابق توشیبا کمپنی این آر جی اینرجی کو کھلنے والے ٹینڈر کو اپنے حق میں کھلنے کو امید وار هے
جس میں امریکه ریاست ٹیکساس میں دو ایٹمی پاور پلانٹ لگانے کا سودا ہے ـ
یه ڈیل توشیبا کو ایسی پہلی جاپانی کمپنی بنادے گی جس نے بغیر کسی بیرونی امداد کے جاپان سے باهر ایٹمی پلانٹ بنایا هو گا
اس پلانٹ کی تعیر سے توشیبا دنیا کی سب سے بڑی نیوکلئیر پلانٹ بنانے والی کمپنی بن جائے گی ـ
واشنگٹن الیکٹرک کمپنی کے تعاون سے توشیبا پہلے هی چین اور امریکه میں ایٹمی پاور پلانٹ لگا چکی هے ـ

اور اس خبر کو جاپانی میڈیا نے کوئی بڑھا چڑھا کر بھی بیش نهیں کیا تھا که جی دیکھو جاپان ایٹمی پاور هے که لوگوں کو بلانٹ بنا کردینے کے بھی قابل
صرف یه خبر کیونکه میری دلچسپی کی تھی اس لیے میں نے اس کا اردو میں سمری ترجمعه کر کے جی ایم خاور ڈاٹ نیٹ پر لگایا تھا
میری دلچسپی یه تھی که اردو کے قارئین کو یه دیکھا سکوں که ایک بم دھماکے پر ساری قوم پر جنون هے که اتر هی نهیں رها اور دوسری طر ف ایٹمی بمباری کا هدف بننے والی قوم اج اس قابل ہے که دھماکه کرنا تو کیا بات ہے یہان ایٹمی پلانٹ بنا کر لوگوں کو دینے کے قابل هیں
پاک قوم ایک برتن بنا کر پھولے نهیں سمارهی
اور کمہاروں کے گھر میں چاک لگا هے جتنے جی چاهے بنا لیں ـ
اگر ایٹم کو گھوڑے سے تشبیه دیں تو جی پاکستان کا پروگرام ایسے هی هے که گھوڑا پیدا کیا اور چھوڑ دیا که دولتیاں مارنا تو اس کو اپنے آپ هی سیکھ جائے گا
اور جب یه گھوڑا دولتیاں مارے گا تو دشمن كے ساتھ ساتھ اپنی بھی مرمت هو جائے گی ـ
ناں رهے گا بانس اور ناں بجےگ بانسری ـ
اور خاندانی کمہار گدھے گھوڑوں کو سدها کر رکھتے هیں
جاپان کي پروگرام کی مثال هے که ایسا گھوڑا جس کو لگام ڈالی هوئی هے اور اس کو دشمن کی ٹھکائی کے خواب میں مگن هو کر بس چھوڑ دیا هے ،
گھوڑے کو اپنی خدمت میں لگایا هوا هے اور ایٹمی گھوڑا دن رات کام پر لگا بجلی بنا رها هے جس سے ساری قوم کو ایک آنند مل رها ہے
چاهئے تو یه تھا که جی ایٹمی سائینسدانوں کو عزت دی جاتی اور تقاضا کیا جاتا، جی اب اس گھوڑے کو لگام ڈالو جی کسی کام بھی آئے پاور پلانٹ بناؤ جی قوم کو بجلی ملے اور کام چلیں
لیکن کام چلنے کی سوچ تو کمّی لوگوں میں هوتی هے ناں جی شاهی لوگ تو جی حکومت کرنے کے لیے پیدا هوتے هیں
اس لیے میں اپنی کمیوں والی سوچ کیسے شاهی لوگوں تک پہنچا سکتا هوں

Popular Posts