جمعرات, فروری 12, 2009

منکر حدیث

سب تیرے سوا کافر ،اخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دو انسان کا ایسا خبطِ مذہب کیا
معاملے کے کئی پہلو هوتے هیں جب مسئله بنتا هے یا فائدھ ـ
مشین کچھ سادھ مشینوں کا مجموعه هوتی ہے ناں جی
تو جی مسائیل بھی کچھ منافقتوں کا مجموعه هوتے هیں
یه منافقتیں آپ کی بھی هو سکتی هیں اور اپ کے ارد گرد کے منافقوں کی بھی ـ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے یک دم نہیں هوا کرتے
احادیث کے نام پر اکٹھے کئے گئے اقوال بزرگان پر میرا ایمان نهیں هے
میرا ایمان ہے صرف قران پر اور سنت رسول کے ساتھ اپنی عقل کا استعمال کرتا هوں ـ
میں یه بات کبھی بھی کسی پانچ وقت کے نمازی کونہيں بتایا مگر
ميں تین نمازوں کو فرض سمجھتا هوں اور دوسری دو کو نفلی نمازیں یا سنت که اگر وقت ملے تو پڑھ لیں ورنه نهیں مگر فرض نماز میں ڈیوٹی سمجھ کر ادا کرتا هوں ـ
اب جن لوگوں نے قران کو سمجھنا مولویکا کام سمجھ لیا هے اور اپنا کام دولت کمانا ان کو دولت کی سمجھ تو هوسکتی هے قران کی نهیں
لیکن وه پنجابی میں کہتے هیں ناں جی
جنہاں دے گھر دانے اونھان دے کملے وی سیانے
جن کے گھر اناج ہے ان کے گھر کے بیوقوف بھی سیانے هوتے هیں
تو اب بات یه هے که اگر اپ کے پاس دولت ہے تو آپ جی سیانے تو هیں ناں جی عقل چاهے ناں بھی هو ـ
اپ کے پاس نالج بھی هوگا علم چاھے ناں هو ـ
آپ بڑے چنگے بھی هیں چاھے تمیز آپ میں ناں بھی هو ـ
ادھے گھنٹے کی کفتگو بھی شائستگی سے جاری نهین رکھ سکتے
اور توں ، تم کہـ کر پکارنے لگتے هیں ـ
اور اگر اپ ان کتابوں کو جن کو احادیث کانام دیتے هیں ان میں هی سے میں نمازوں کے تین هونے کا بھی ثابت کروں تو اس کا کیا مطلب هو گا ؟؟
اس کا مطلب هو گا که
هر تفرقے باز کو اپنے اپنے فرقے کے لیے ان کتابوں میں سے مواد مل جاتا هے
کیوں ناں ان کتابوں کو ایمان کے درجے سے نیچے اتار کر قران کو روشنی میں اپنا راسته متیعین کر لیں ـ
تو جی بات اس طرح هے که میرے ساتھ ڈائیلاگ کرلیں ناں که ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں هلکان هوں ـ
لیکن جب بات اتی هے اس حد تک تو جی کہتے هیں همارے پاس علم نهیں هے
هم کسی عالم کو آپ سے ملائیں گے ـ
جن لوگوں کی منافقتوں کا میں گواھ هوں جن کی چالاکیوں کو میں نے دیکھا ہے
وه بے چارے خود کو میرے سامنے بونا محسوس کرتے هیں اور پھر اپنی دولت پر گھڑا هو کر خود کو بڑا سمجھ کر خود کو اطمینان دلا رهے هوتے هیں
مجھے لوگ پاگل بھی کہتے هیں اور بڑبولا بھی لیکن کوئی بھی بندھ جو مجھے جانتا ہے چاهے تیس سال سے یا بیس سال سے کبھی میری منافقت کی بات نہیں کرے گا کبھی کوئی میری دھوکه دھی کی بات نہیں کرے گا مرے قول اور فعل کے تضاد کی بات میرا دشمن بھی نهیں کرے
اس لیے منافق لوگ جتنے بھی دولت مند هو جائیں جب پلٹ کر دیکھتے هیں تو خاور کا قد دیکھ کر احساس کمتری کا شکار هو جاتے هیں
اور کہتے هیں یه بندھ کبھی کامیاب نهیں هو سکتا
جی هاں اکر کامیابی دولت کے حصول کا هی نام ہے تو ـ
دعا کرو جی که اللّه سانوں وی دے

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts