جمعہ, فروری 27, 2009

تبدیلیاں

اج ایک عجیب کا احساس جاگا که ایک کسک تھی که ایک حیرانی تھی یاکه کچھ اور که چرخ گردوں نے نے بھی پھیرا لینا تھا
یا که میرے اندر کہیں یه خواهش چھپی هوئی هے که لوگ علمی طور پر بھی بڑے هوں ــ
آج میاں عاصم نے مجھے کہا که ہم آپ کی خبریں خریدنے میں دلچسپی رکھتے هیں
وه خبریں جو میں جاپان کی لوکل خبریں جی ایم خاور ڈاٹ نیٹ پر لگاتا هوں ـ
آج برفی باری تھی هلکی سی جو که جمعے کی نماز پڑھنے تک کافی هو گئی تھی
میں نے بھی جو سکریپ ٹرک پر لادھ کر لایا تھا اس کو سکریپ یارڈ میں چھوڑ کر کام کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
اس لیے جین اور جیکٹ میں هی نکلا تھا
اپنے شاھ جی کو بھی فون کرکے ان کے ساتھ هی ان کی گاڑی میں کالی کافی پی اور پھر تھوڑی اوارھ گردی کی جس ميں عامر سکریپ والی کے یارڈ میں اس سے ملنا بھی شامل تھا
عامر جاپان ميں پاکستانیوں میں تعلیم یافته اور حلیم طبیت کاروباری بندھ ہے اس لیے اس سے گفتگو کا مزھ آتا هے
اس کے بعد اباراکی کین کی یوکی شهر والی مسجد میں نماز کے لیے گئے
یه مسجد تین منزله بلڈنگ هے جو که ساری مسجد هی کی ملکیت ہے
اس کی دوسری مسجد هلال فوڈ سٹور اور ڈھابه ٹائپ ریسٹوریٹ بھی ہے اور تیسری منزل پر نماز کی ادائیگی هوتی ہے
مٹن پلاؤ پکا تھا جی میں نے اور شاھ جی نے بھی کھایا اور روایت کے مطابق بل کی ادائیگی شاھ جی نے کی ـ
جی هاں بھولے شاھ صاحب کو ساتھ جب بھی ریسٹوریٹ جائیں بل شاھ جی هی دیتے هیں
تو جی وهاں ماں عاصم نے خبروں کی تجارت پر بات کی تھی تو میں خوش هوا که علمی طور پر اب جاپان میں میں بھی یه ماحول بن گیا هے که تحاریر کی باتیں هوتی هیں یا ان کی قیمت کا احساس پیدا هوا ہے
لاهور میں کہیں علمی لوگوں کی محفلوں میں ایسی باتیں هوتی هوں گی ـ
یا کهیں کسی پبلشر کی بیٹھک (دفتر) میں هوتی هوں گی
جاپان کا ماحول کبھی بھی عملی نهیں رها هے
که اس کی مثال دی جا سکے
اب اس کا مطلب یه بھی نهیں ہے که کم علمی ایسی هو که جیسے میں نے کسی سے پوچھا تھا که جی
اپنا اسم شریف تے دسو
تو اس بندے نے بڑی شرمندگی سی سے کہا تھا
جی اسم شریف تے نہیں آتا درود شریف یاد هے
وهاں فرانس میں ایک سکھ سے پوچھا تھا
که
جی تہاڈا اسم شریف ؟؟
تو اس کا جواب تھا
جی میں لدھیانے دا واں ـ
لیکن یه بات یاد ہے که جب نئے نئے آئے تھے تو جس گھر میں رهتے تھے ان میں سے کچھ دوستوں نے کهیں سے یه محاورھ سن آئے تھے
دریا کو کوزے میں بند کرنے والا
تو جی انهوں نے گھر اتے هی مجھے پوچھا که تم بڑی علمی باتیں کرتے هو اج ذرا بتاؤ ناں جی که دریا کو کوزے میں بند کرنا کسی کو کهتے هیں ؟
جب میں نے ان کو بتایا که کسی بڑی گہری بات کو جس میں کتنے هی معنی نکلتے هوں اس بات کو مختصر کرکے بتا جانے کو دریا کو کوزے میں بندکرنا کہتے هیں تو جی وھ حیران هو گئے که یار تم پیبڈو هو کر بھی ساری باتیں جاتے هو حلانکه وهاں جب ایک بندے نے یه سوال کیا تھا تو بیس بندوں میں سے کسی کو بھی اس کا جواب نهیں ایا تھا
لیکن یارو اب بندھ ان سے پوچھے که ایک محامورے کو جاننے سے خاور کی بات بڑی کیسے هو گئی
ایک اور بات جو میں نهیں بھول سکتا
که ایک لڑکا هوا کرتا تھا ناصر نام کا وهاں گوجرانواله میں ایک وحدت کالونی هے وهاں کا
تو جی ایک دن
ناصر کسی کو فون کررها تھا
که کاٹنے سے پہلے اس کو کہتا ہے
اگر ہمارے لائق کوئی خدمت کو تو ضرور '' عرض '' کرنا
میں نے کہا که یار جی دوسرے بندے کو حکم کرنےکا کہتے هیں ناں که عرض کرنے کا
اپنے عرض کرنے کی بات هو تی کسی کی خدمت میں
تو ناصر اکڑ گیا که جی نهیں همارے گاؤں میں ایسا هی هوتا ہے اور هم ایسے هی کہتے هیں
حالانکه ناصر بڑا چنگا بندھ مشهور تھا جی ان دنوں لوکاں میں ـ

3 تبصرے:

Billu کہا...

کیا بات ہے

jafar کہا...

خاور صاحب۔۔ پہلی بار آپ کے بلاگ پر حاضری دے رہا ہوں۔ میں‌بھی آپ کی طرح پردیسی ہوں۔ اور ‌ اس تحریر میں جو home sickness ہے اس کو محسوس کر سکتا ہوں۔ پردیس میں سب سے مشکل وقت سونے سے پہلے کا ہوتا ہے اگر تو آپ کی قسمت اچھی ہے تو نیند جلدی آجاتی ہے ورنہ جو یادوں کی فلم چلتی ہے تو ساری ساری رات گزر جاتی ہے۔۔

ڈفرستان کہا...

مجھ سے اس شریف والا سوال ہوتا تو میں کہتا کہ"کسی نام چیز اور جگہ" کو اسم کہتے ہیں
اور اگر شریف ساتھ لگا ہوا ہہے تو یہ نام چیز جگہ نواز شریف، ٹنڈ اور رایے ونڈ کو کہتے ہیں

Popular Posts