منگل، 20 مارچ، 2007

یورپ

ملکوں کے حالات پر بهی منحصر هوتا ہے که پناه گیر لوگ کیسا محسوس کرتے هیں ـ
یورپ میں بهی برطانیه کے حالات کچھ اچهے هی هیں که دیسی پناه گیروں کو کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ـ
پٹے والے کتّے اور آزاد کتے کی لڑائی والی بات هوتی هے کیا آپ نے کبهی دیکها ہے که یه ایک دوسرے پر بہت بهونکتے هیں ـ
بغیر کاغذوں کے پناه گیر کی زندگی یورپ میں کتے سے بدتر ہے میرے خیال میں اگر پاکستان کی یورپ میں فری انٹری کر دی جائے که کوئی بهی پاکستانی تین مہینوں کے لیے یورپ آ سکتا ہے ـ
صرف ٹکٹ خرید کر لیکن کام کی اجازت نه هو جیسے که اب بهی نہیں هے ـ
تو لاہور گوجرانوالہ فیصل آباد سیالکوٹ کراچی کے لوگوں میں سے پچانوے پرسنٹ واپس چلے جائیں ـ
لیکن جب یہی لوگ ایجنٹ کو دس لاکھ روپے دے کر یورپ اتے هیں تو ان پر اس قرضے کو واپس کرنے کا بهی پریشر هوتا ہے اور واپسی پر ناکام آدمی کا داغ لگنے کا بهی ڈر هوتا ہو تا ہے ـ
ان باتوں کا پریشر مشکل حالات میں بهی اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور کر دیتی هے ـ
سب سے پہلے تو کام کی تلاش ایک مسئله هوتا ہے اور اس کے دوران احساس هوتا ہے
که میرے پاس تو کاغذ بهی نہیں هیں ـ
مجهے تو زبان بهی نہیں آتی ـ
میں نے تو کوئی ہنر بهی نہیں سیکها ـ
میری تو تعلیم بهی کافی نهیں ہے ـ
رہائش کا کیا بنے گا ـ
کهانا کون بنائے گا ـ
برتن کون دهوئے گا ـ
کپڑےکیسے دهونے هیں ـ
اور کہاں دهونے هیں ـ
پاکستان میں ذہنی معذور اور جسمانی محتاج میری کمائی کا انتظار کر رهے هیں ـ
ان سارے مسائل کا حل کاغذوں کے بننے میں نظر آتا ہے ـ
اور کاغذ کیسے بنیں گے ؟
اور اس کا ایک هی حل نظر آتا ہے که کسی عورت کو پهنسا لیں چاہے ماں کی هی عمر کی کیوں نه هوـ
یورپ میں سیکس فری کا بهی سنا هوتا ہے اور خود کو ہینڈ سم بهی سمجهتے هیں مگر لڑکیا ں هیں که بی حاجن بنی هوتی هیں پهنستی هی نهیں هیں ـ
انگریزی کی سوجھ آ جانے سے خود کو عقلمند بهی سمجهنے لگتے هیں مگر یورپ میں انگلش کو کوئی جانتا هی نہیں ہے ـ
اور جو تعلیم یافته یورپین انگلش جانتے هیں وه ان پناه گیروں کو منه بهی نہیں لگانا چاهتے ـ
سیانے لوگ جانتے هیں که
بدمعاش اور عورت سہاروں کی تلاش ميں هوتے هیں ـ
خود سہارے کی تلاش میں سرگرداں یورپی عورت ، سہارے کے متلاشی پناه گیر کو منه نہیں لگاتی ـ
اور کچھ پناه گیروںکو بهی نه تو کپڑے پہننے کا پته هوتا ہے اور نه کهانے پینے کا ڈسکو میں جا کر کولہے مٹکانے کا تو کوئی بهی نہیں جانتا ـ
اخلاقی زوال کی انتہا که پاکستان میں موجود ابا جی بهی پُتّر کو ڈهکے چهپے لفظوں میں اور کبهی کبهی واضع طور پر لڑکی پهنسانے کہـ رہے هوتے هیں ـ

جرمنی میں بہت سے لڑکوں کو میں نے فخر سے یه کہتا سنا ہو که

ایک گانڈو بابے سے رات لگا کر میں آپنا خرچا نکال هی لیتا هوں ـ

ایسے لڑکوں كے اباجی لوگ پاکستان میں کیا کررہے هیں ؟؟
اور اگر کوئی لڑکی پهنس بهی جائے تو سیکس میں بهی اس کی کچھ ڈیمانڈ هوتی هیں
اور اباجی کے خدمت گزار لڑکے اماں جی کی عمر کی اس لڑکی کی ساری ڈیمانڈ پوری کرتے هیں ـ
اور
محفلوں میں بیٹھ کر آپنے ایسا نه کرنے کی وضاحتیں کر رہے هوتے هیں ـ
اور بات افریقی کالوں کے اہلِ جیبھ (اهلِ زبان )هونے تک پہنچتی هےـ
زبان اور جِِیبھ کا فرق پنجابی بولنے والے هی سمجهتےهیں ـ
اور جو لڑکی پهنسا لیتا ہو وه اس پر فخر کرتا ہے اگر پاکستان میں هوتا تو لتر پڑتے اور ابا جی کا غصه دیکهنے والا هوتا ـ

باقی فیر سہی

3 تبصرے:

بدتمیز کہا...

ہاہاہاہا
یہ مزے کی پوسٹ تھی۔ اس قسم کی پوسٹس کو ایک کیٹگری کی شکل میں اکٹھا کر دیں تاکہ اگر کبھی مجھے کسی کم عقل کو سمجھانا پڑے تو مین صرف کیٹگری لنک دے سکوں۔
بہت شکریہ۔
وسلام

اجمل کہا...

آپ کی تحریر پڑھتے پڑھتے کئی گذرے مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم گئے اور میں نے ایک لمبی آہ بھری ۔ مجھے ایک آدھ والد صاحب بھی یاد آئے جو اپنے ہونہار بیٹے کیلئے شریف خاندان کی خوبصورت لڑکی تلاش کرتے ہیں ۔ اتفاق سے ایک لڑکی کے کوئی عزیز جانتے تھے کہ میں یورپ میں رہ چکا ہوں چنانچہ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا میں نے کسی طرح پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ ہونہار نے ایک اماں برابر سے شادی کے کاغذات بنوائے ہوئے ہیں اور اسے ہر ہفتے کچھ معاوضہ دیتے ہیں ۔ اس پر ہونہار کے والد نے کمال ڈھیٹائی کے ساتھ فرمایا کہ دیکھیں نا ۔ وہاں رہنے کیلئے ایسا تو کرنا ہی پڑتا ہے نا ۔ شادی ہو جائے گی تو اسے چھوڑ دے گا ۔ خیر ۔ جن جن لڑکیوں کے گھر وہ گئے تھے سب کو اطلاع دے دی گئی ۔ وہ بزرگوار شاید اب تک مجھے بد دعائیں دیتے ہوں گے ۔

گمنام کہا...

yeh aap beti thi ya jag beeti!!!
bahar haal jo bhi thi,thi talkh magar sach,
Abdullah,

Popular Posts