جمعرات، 14 فروری، 2019

جرگہ اور نامعقول سکھ


یہاں جاپان میں جرگے کا ایک معاملہ ہوا تھا 
جس میں پشتو بولنے والے جرگے  کے مقابلے میں ایک انڈیا کا سکھ تھا ،۔
سکھ نے جرگے کی ایک نہیں مانی تھی ، بلکہ کافر سکھ ، پٹھانوں اور ان کے جرگے کا مذاق اڑانے لگا تھا ،۔
معاملہ یہ ہوا تھا کہ 
سکھ کے پاس  ایک لافٹر کرین کھڑی تھی ، بیس ٹن والی لافٹر کرین،۔
یہ کرین سکھ بندہ چالیس ملین میں بیچنا چاہتا تھا ، جس کی اوکشن  میں پینتیس ملین تک بولی لگ چکی تھی ،۔
ایک پٹھان اس کے پاس آیا کہ  مجھے اس کرین میں دلچسپی ہے ،۔
کیا میں اس کرین کی تصاویر لے لوں ؟
سکھ نے اسکو چابی دے دی کہ کیبن کے اندر سے میٹر کی تصاویر بھی بنا کو کہ 
یہ کرین کتنے گھنٹے چلی ہے ،۔
پٹھان نے اس کرین کہ تصاویر  دبئی میں کسی بائیر کو بھیج کر  ، یہ کرین  تیس ملین کی فروخت کر دی ، دس ملین کی رقم بنک ٹرانزٹ میں  منگوا لی اور باقی کی رقم کرین کی حوالگی پر نقد  لے کر کاغذات وغیرہ دینے کا وعدہ کر لیا ،۔
دبئی والا بائیر ، جاپان پہنچ گیا ، جاپان والے پٹھان نے اس کو ویلکم کہا ، کھانے کی دعوتیں کیں ، دو دن بعد اس کو کرین کے پاس لے کر گیا کہ یہ ہے اپ کی کرین ،۔
پیسے دو !۔
دبئی والے  بائیر کے پاس صرف دس ملین تھی باقی کے اس نے دبئی سے منگوا کر دینے تھے ،۔ 
دبئی والے بائیر نے دس ملین مذید ادا کر دے دئے ۔
بیس ملین  کی رقم وصول کر کے جاپان والے پٹھان نے فون بند کر دیا ، ٹکٹ کٹوا کر پاکستان چلا گیا ،۔
اور دبئی والا پٹھان ، سکھ کے یارڈ پر دس ملین لے کر پہنچ گیا اور لگا تقاضا کرنے کہ 
میرا کرین کا چابی دو ، کاغی زو دو !،۔
سکھ کو بات کی سمجھ نہیں لگ رہی کہ یہ بندہ کیا بات کر رہا ہے ،۔
زیادہ زور دینے پر  سکھ غصہ کر گیا  اور اس نے دھکے دے کر پٹھان کو اپنے یارڈ سے نکال دیا ،۔
دبئی والے پٹھان نے اپنے دینی بھائیوں کو بلا کر جرگہ تیار کیا اور سکھ کے پاس پہنچ گئے  ،۔
اب سکھ  سیدھا سیدھا مکر گیا کہ میں نے کوئی پیسے نہیں لئے ،۔
اور نہ ہی میں نے دبئی میں کسی کو فوٹو بھیجی ہیں ،۔
اب یہاں جاپان میں جرگے والے اپنی سی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح  سکھ سے کرین نکلوا کر  پٹھان بھائی کو دلا دی جائے ،۔
لیکن 
سکھ ہے کہ مان ہی نہیں رہا 
جاپان میں جرگہ ، سکھ کے ساتھ زور زبردستی بھی نہیں کر سکتا ، اور نہ ہی سکھ کو مسلمان بھائی بھائی والا منتر بول کر رام  کر سکتا ہے ،۔
تو
مجبوراً جرگے والوں نے  سکھ کو آخری آپشن یہ دیا تھا 
کہ
ماڑا ، دبئی والا غریب آدمی ہے ،۔ اس کا بہت نقصان ہوا ہے ، تمہاری کرین کی وجہ سے ،۔ اس غریب کو کوئی  تین لاکھ ین اشک شوئی کے لئے  ادا کر دو !!!،۔
سکھ کافر نے اشک شوئی کی رقم بھی نہیں دی تھی 
بلکہ 
انڈین سکھ  ، پاکستان کے پنجابیوں کو اس آپشن کا بتا بتا کر کہا کرتا  تھا
ہے ناں ، نامعقول بات ،۔
میرا کی قصور جے پائی جی ؟
اس بات کا فیصلہ اپ کریں کہ نامعقول کون ہے ،۔
فراد کرنے والا پٹھان ؟
جرگہ ؟
یاکہ کافر  سکھ ؟

ہفتہ، 2 فروری، 2019

کہاوت کی کہانی

ہندی کی ایک کہاوت ہے ،۔
سِیکھ تاء کو دیجیو ، جاء کو سِیکھ سبھہائے ،۔
سِیکھ نہ دیجیو باندراں ، بھیجڑے کا گھر ڈھائے
روایت ہے کہ
کہیں کسی جنگل میں کسی بھیجڑے (پیلے رنگ کی ایک چڑیا جو سرکنڈ کے لٹکتے گھونسلے بنا کر رہتی ہے)نے کسی بندر کو بارش میں بھیگے ٹھٹھرتے دیکھا ،۔
بھہیا چڑیا کو اس پر بڑا ترس آیا کہ اس باندر کو سیکھ دینے کے لئے اس کے پاس آتی ہے
کہ
دیکھو باندر صاحب ، اپ بھی میری طرح اگر محنت کر کے سمجھ بوجھ کے ساتھ ایک مضبوط گھر بنا لو تو ، موسم کی سختیوں اور قباحتوں سے بچ کر کچھ سُکھ لے سکتے ہو ،۔
بندر کو بھہیا کی بات سن کر بڑا برا محسوس ہوا کہ ایک کم ذات چھوٹی سی چڑیا ، پھرتیلے اور چاک چوبند بندر کو کم عقل سمجھ کر بات کررہی ہے ،۔
چہ پدی ؟ چہ پدی کا شوربہ ؟
بندر نے چھلانگ لگائی درخت پر چڑھ کر بھہیے کا گھر ڈھا کر تنکا تنکا کر دیا ، اور بھہیے کو بتا دیا کہ
یہ رہا تمہارا گھر جس پر فخر کر کے تم مجھے جیسے مہان بندر کو سمجھانے چلی ہے ،۔
حاصل مطالعہ
کہ اپ بھی کسی کو مشورہ دیتے ہوئے احتیاط کریں کہ
کوئی کاروبار کر لو ، کوئی دوکان کر لو کا سن کر کوئی باندر اپ سے دشمنی پر اتر اپ کے بنائے ہوئے سیٹ اپ کو تباھ کرنے پر بھی تل سکتا ہے ،۔

بہادر اور دلیر لوگ جن کے پاس دانش ہوتی ہے ، مواقع پیدا کر لیتے ہیں ،۔
خام دانش کے والے لوگ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یا تو نشے کی اوٹ لیتے ہیں
یا پھر مذہب کی ۔
نشے میں مبتلا لوگ خود اذیتی کرتے ہیں اور مذہب میں مبتلا لوگ ، معاشرے کو اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں ،۔



جمعہ، 25 جنوری، 2019

افغان اور پنجابی

سر جی جی اگر ان افغانوں کی ٹانگیں سلامت ہوتی ناں ؟
تو اب تک گریٹر پختونستان کی آر میں میری قوم کی ٹانگیں اڑ چکی ہوتیں ،۔
ایک افغانی اپنی جبلت میں خود کو ہند کی اقوام سے گریٹ سمجھ کر ہند کی بیٹاں اور بیٹے غلام بنانا اپنا فرض سمجھتا ہے اور ہند کی دولت کو لوٹنے کا نام اسلام کی تبلیغ ہونے کا ایمان رکھتا ہے ،۔
سردار داؤد نے جس دن گریٹر پختونستان کی فنڈنگ اور ناظم شاھ کو ہٹا کر پاکستان پر حملے کا منصوبه بنایا تھا ،۔
اس کا خیال تھا کہ پنجاب میں راجہ رنجیت کے بعد کوئی کانا پیدا ہی نہیں ہو گا ،۔
لیکن جنرل ضیاں صاحب اگر چہ کہ بھینگے تھے یکن راجہ رنجیت سنگھ کے صحیح جانشین ثابت ہوئے ،۔
اور افغانستان کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ پاکستان پر حملہ کر سکے ،۔
پاکستان میں انگریز کے پنجاب پر قبضہ کرنے سے پہلے کی پنجاب کی تاریخ کو پڑھایا ہی نہیں جاتا ، بتایا ہی نہیں جاتا ،۔
کہ
گوجرانوالہ کے مردخیز خطے عظیم سپوت راجہ رنجیت سنگھ نے طورخم تک حکومت کی تھی اور قندھار جلال اباد تک حملے کئے تھے م،۔
ان کے لباس تک تبدیل کروا دئے تھے ، کہ اپ اج بھی دیکھ سکتے ہو ، سکھ عورتوں کا لباس شلوار قمیض اس علاقے کے مرد پہنتے ہیں اور مردوں کا لباس فراک نما پختون عورتیں پہنتی ہیں ،۔
دیورنڈر لائین ، وہ سرحد ہے جہان تک راجہ رنجیت سنگھ کی علمبرداری تھی ، جس پر انگریز نے قبضہ کیا اور چھوڑ کر جانے سے پہلے پاکستان کو بتایا کہ اس لائین کے اگے افغانستان شروع ہوتا ہے ،۔
اپ ذرا لاہور کے شاہی قلعے کے دروازے تک جاؤ اور دیکھو کہ مغلوں کی شاہی مسجد سے نکل کر مینار پاکستان تک پہنچنے کے لئے راجہ رنجیت کی مڑھی آتی ہے ،۔ جو اس بات کی نشانی ہے کہ مغلوں کی اسلامی حکومت سے لے کر اسلام کا قلعہ بننے تک یہ علاقہ پنجابیوں کی علمداری تھا ،۔
افغانستان ایک دشمن ملک ہے ،۔
بلکہ ظالم اور کینہ پرور اور کمینہ دشمن ہے ،۔
اور افغانستان کی حمایت کرنے والے پاکستانی پٹھان سادہ دل لوگ ہیں ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے ،۔

جمعہ، 18 جنوری، 2019

پچھلی حکومت کے قصور کی ہسٹری


اے بنو گالیاں پی ٹی آئی والو !!،۔
یہ ہیں وہ باتیں جن کی وجہ سے  اہل عقل خرد عمران  کو ہلکا لیتے تھے 
اور تم لوگ کہا کرتے تھے ،۔
اک وار وزیر اعظم بنا کے تے ویکھو ،۔

فرانسیسی لوگ ایک طنز استعمال کرتے ہیں 
جوان  خرگوش بچہ ،۔
یعنی کہ جس کو گرم سرد کا کچھ علم نہیں ہوتا ،۔
خرگوش کی ماں ہر ماھ بچے جنم دیتے ہے ،۔
چھ ماھ کے خرگوش کے درجنوں بہن بھائی ہوتے ہیں  ایک سال کے خرگون کے بیٹے بیٹیاں  اور دوسال کے خرگوش کی تیسری نسل چل رہے ہوتی ہے ،۔
دادا جی خرگوش نے ابھی تین سال ہی دیکھتے ہوتے ہیں ،۔
میری قوم کی اکثریت بھی ایسی ہی ہے ،۔
جن کا حافظہ بہت کمزور ہے ،۔
یا کہ جو کم عمر ہیں ،۔
اٹھاسی میں جب سرمے والی سرکار ضیاں صاحب کو اللہ میاں نے بلا لیا تھا تو  جمہوری حکومت سے لوگوں نے وہی امیدیں لگائی تھیں جو   پی ٹی آئی کے نانالغون نے عمران سے لگائی تھیں ،۔
بھٹو کی بیٹی کی حکومت میں  جب یہ بتایا گیا کہ پچھلی حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے معاملات بہت بگڑ چکے ہیں تو ؟
مجھے یات آیا کہ ضیاء صاحب نے بھی حکومت سنبھال کر یہی کہا تھا ،۔
کہ پچھلی حکومت “ !!،۔
ہھر نواز شریف کے انے پر بھی وہی امیدیں کہ جو پی ٹی آئی کو عمران سے تھیں ،۔
لیکن نواز شرہیف نت بھی یہی بتایا کہ  پچھلی حکومت “ !!،۔
پھر بے نظیر  پھر نواز شریف پھر مشرف  ہر کوئی آتا رہا اور قوم کو یہی بتاتا رہا کہ  پچھلی حکومت بری تھی ،۔
اب عمران لایا گیا ہے تو اس نے بھی یہی بتانا شروع کر دیا ہے  کہ پچھلی حکومت خزانہ خالی کر گئی ہے م،۔

اے قوم بنو گالیا ،۔
بے شک تم لوگ ایک جوان خرگوش ہو  ،۔

بدھ، 16 جنوری، 2019

سیاسی وابستگی


کہیں کسی امیر علاقے کے گھروں کے نوکر مل بیٹھے اور لگے اپنے اپنے مالکوں کی تعریفیں کرنے ،۔
میرے مالکوں کا کچن اتنا بڑا ہے کہ 
ہم کھانا پتیلوں ، دیچکوں میں نہیں ، دیگوں میں پکاتے ہیں دیگوں میں !!،۔
ہاں !!!!!!۔
دوسرا کہاں کم تھا کہ بتانے لگا ،۔
کچن کی وسعت تو ہمارے مالکوں کی ہے ،۔
صاحب جب کھانا چیک کرنے آتے ہیں تو کچن میں گاڑی  پر گھومتے ہیں ، ٹیوٹا کرولا پر ، ہاں !!!!!۔
کرولا پر !،۔
تیسرا ہمم کر کے منہ پھیر لیتا ہے ،۔
سب حیران ہو کر اس کا منہ دیکھتے ہیں کہ تم ہی کچھ بتاؤ کی ہمارے صاحبوں کے کچنوں میں کیا کمی ہے ؟
تو تیسرا گویا ہوتا ہے ،۔
یارو ! میرے مالکوں کے کچن کی وسعت کا اندازہ بس ایک مثال سے لے لو کہ 
جب ہم آلو ابلنے رکھتے ہیں  تو ؟
ان کو چیک کرنے کے لئے کہ ترم ہوئے ہیں کہ نہیں ، ہم آبدوز استعمال کر تے ہیں ،۔
آبدوز ،یعنی سب میرین !!!،۔
 مجھے یہ لطیفہ اس لئے یاد آیا کہ 
سیاسی کارکناں اپنے اپنے مالکوں کی تعریفوں مں کچھ اس طرح رطب السان ہیں ،۔
سادگی  کی ایسی مثالیں ہیں کہ 
ایک ناقابل تحریر لطیفہ 
اپنے خادم حسین اور گنڈہ سنگھ والا یاد آ جاتا ہے ،۔
خاور کھوکھر

پیر، 17 دسمبر، 2018

جاپانی لوگ



اصل میں جاپان کے کلچر میں "ہارا کیری " کی رسم پائی جاتی ہے ،۔
ہار جانے پر ، جھوٹ پکڑے جانے پر جاپانی لوگ غیرت سے خود کشی کر لیتے ہیں ،۔
اس کلچر میں جاپان کی پولیس کی ذمہ داری ہے کہ غلطی کرنے والے کو گرفتار کر کے عدالت میں زندہ اور مکمل پیش کرئے ،۔
اس لئے جاپان کی پولیس کی تربیت کی جاتی ہے اور اس طرح کے انتظامات دئے جاتے ہیں کہ بندہ خود کشی نہ کر سکے،۔
مجھے یاد ہے ایک جاپانی کا کیس ہوا تھا ، 1985ء میں لاس اینجلس میں ایک ڈاکے کی واردات میں اس کی بیوی قتل ہو گئی تھی ، میورو نامی اس جاپانی پر امریکہ پولیس کو شبہ تھا کہ اس نے یہ قتل خود کروایا ہے ،۔ 
میورا ضمانت کروا کر جاپان واپس آ گیا تھا ،۔
لیکن پھر کبھی امریکہ واپس نہیں گیا ،۔
امریکی عدالت نے اس کو اشتہاری قرار دے کر اس کے گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے تھے ،۔
دو ہزار سات میں میورا میکرونیشین جزائیر کے ایک جزیرے گوام کی سیر کو گیا تو اس کو گرفتا کر لیا گیا تھا ،۔
میورا کو علم نہیں تھا کہ میکرونیشن جزائر امریکہ کی علمداری میں آتے ہیں ،۔
جس کا کہ اس نے بڑے تاسف سے اظہار بھی کیا تھا ،۔
ریمانڈ کے بعد جب اس کو گوام سے لاس اینجلس منتقل کرنے کے لئے لے کر جانے لگے تو اس نے دعوا کیا تھا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہو گا ،۔
امریکی پولیس اس پر ہنس رہی تھی اور جاپانی میڈیا بڑی سنجیدگی سے بتا رہا تھا کہ
میورا ساچو نے کہا ہے کہ وہ امریکی عدالت میں پیش نہیں ہو گا ،۔
امریکی پولیس جاپانی کلچر اور روایات سے نابلد تھی ،۔
میورا ساچو کو ہتھ کڑی لگا کر لاس اینجلس کی پرواز میں سوار کر لیا تھا ،۔
تیرہ گھنٹےکی اس پرواز میں میورا نے اپنی زبان کو دانتوں میں لے کر اپنی تھوڑی پر اپنے ہی گھٹنے سے زبردست وار کیا ، جس سے اس کی زبان کٹ گئی ، کٹی ہوئی زبان کو میورا نگل گیا تھا اور سار اخون اندر گرنے کی وجہ سے مر گیا تھا ،۔
امریکی پولیس میورا ساچو کو امریکی عدالت میں پیش نہیں کر سکی تھی ،۔
یہ سن دو ہزار سات کا واقعہ ہے ،۔

نمبر ون


ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔
کہ  کسی ملک میں کوئی حاضر سروس فوجی افسر ایک جاپانی کو بتا رہا تھا کہ 
پاکستان کی فوج دنیا کی نمبر ون فوج ہے ،۔
جاپانی ، مسکرا کر طرح دے گیا 
لیکن افسر صاحب برا منا گئے کہ اس نے میری بات کو سنی ان سنی کیوں کر دیا ہے ،۔
افسر صاحب کہنے لگے اپ دنیا کی کسی بھی فوج سے کسی بھی لحاظ سے تقابل کر کے دیکھ لیں ۔
اپ کو پاک فوج سے بہتر کوئی فوج نہیں ملے گی ،۔
بہادری شجاعت  دلیری ، نظم ضبط کیا کیا کوالٹیاں ہیں جو پاک فوج میں ہیں ،۔
جاپانی  ، دھیمی آواز میں گویا ہوا،۔
دوسری جنگ عظیم میں ای وو جیما کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ لڑتے ہوئے جاپان کی فوج کے سارے ہی فوجیوں نے جان دے دی تھی ،۔
اس جنگ میں مر جانے والے جاپانیوں کی نسبت  مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد جاپانیوں سے کہیں زیادہ تھی ،۔
کوئی ایک جاپانی فوجی بھی نہیں بچا تھا ،۔
سب نے اپنے ملک کے لئے قوم کے لئے جان دے دی تھی ،۔
لیکن جاپان جنگ ہار گیا تھا اس لئے ان شہیدوں کا ذکر کم ہی ہوتا ہے ،۔
اس کے مقابلے میں ، میں پاک فوج کو جانتا ہوں 
اکہتر میں نوئے ہزار زندہ ہی قیدی بنا لئے گئے تھے ،۔
جاپانی فوج کے تو جن سپاہیں تک جنگ کے اختتام کی اطلاع نہیں پہینچی تھی 
وہ فلپائین اور گوام میں اسّی کی دہائی تک لڑتے رہے ہیں ،۔
آپ نے تو ہتھیار ڈال دئے تھے ،۔

حاصل مطالعہ 
ایک نمبر ہونے اور ایک نمبر کہلوانے میں بہت فرق ہوتا ہے ،۔
سر جی !!!،۔
بندے کو بات کرتے ہوئے تھوڑا خیال کر لینا چاہئے کہ بات کس سے کر رہا ہے ۔

جمعہ، 7 دسمبر، 2018

قدرت کے اسرار اور اقوام


خدا کے نظام پر جتنا غور کریں اتنے ہی اسرار عیاں ہوتے ہیں ،۔
مثلاً ، اس وقت زمین پر دوائیں بنانے والی تین اقوام ہیں ، جو تحقیق اور تکنیک میں ٹاپ پر ہیں ،۔
اور ان تینوں اقوام کو تین مختلف  امراض سے نوازا گیا ہے 
تاکہ ان کی تیار کی ہوئی دوائیں کم علم اور نکمی اقوام کے کام آ سکیں ،۔
امریکی
جرمن 
اور جاپانی!،۔
اوّل الذکر امریکہ کو بسیار خوری سے ہونے والی امراض یعنی میٹابولٹکس ، شوگر ، بلڈ پریشر جیسے بیماریاں دی گئیں ہیں ،۔


قدرت بڑی فیاض ہے ، صدیوں سے انسان بھوک سے لڑتا آیا ہے ، اس بھوک کی لڑائی پر بڑا ادب لکھا گیا بڑی کہانیاں اور
 کرب لکھے گئے ،۔
لیکن پھر کھاد کی دریافت ہوئی ، فارمنگ کو منظم کر دیا گیا ، تو ؟
کھاد کی دریافت کے جرم کی سزا کہہ لیں کہ کچھ اور خوراک کی بہتات کی قباحتیں بھی رب نے امریکہ کودی ہیں ،۔
اور امریکہ اس متعلق داوئیں بنا بنا کر دنیا بھر کے کام چور اور سست الوجود لوگوں کی زندگیاں بڑھا رہا ہے ،۔


خوراک کی بہتات ہوتی چلی گئی ، ادھ صدی پہلے جو انسان بڑھتی ہوئی انسانی ابادی سے خوف زدہ تھا ، ، اج انسانی ابادی کو بڑھانے پر زور دے رہا ہے ،۔

آدھ صدی پہلے تک فیملی پلاننگ اور برتھ کنٹرول کی داوئیں بنانے والے ڈچ لوگوں کو رب نے آبادی کی کمی کی قباحت میں مبتلا کر دیا ہوا ہے ،۔

اور جرمن لوگ سپرم کی صحت ، زچہ بچہ کی زندگیاں بچانے والی دواؤں پر تحقیق کر کرکے نسل انسانی کی بقا کا کام کر رہے ہیں ،۔
 اس کے بعد آتے ہیں جاپانی ،جو نہ تو بسیار خور ہیں اور نہ ہی کام چور ، اس لئے ان کی عمریں لمبی ہوتی جا رہی ہیں ،۔
قصص الانبیاء میں لکھا ہے کہ جب ذوالقرنین بادشاھ، آب حیات کے چشمے پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ وہاں اپنے ہی فضلے میں لتھڑے ہڈیوں ڈھانچے بنے ضعف کے عذاب میں مبتلا موت کی دعائیں کر رہے ہیں ،۔
انہوں نے آب حیات تو پی لیا تھا
لیکن اس بات سے لاعلم تھے
کہ لمبی عمر بھی اپنی جگہ ایک کرب ہے ،۔
جاپانی لوگ اس کرب کو کم کرنے والی دوائیں بنا رہے ہیں ،۔
بڑھاپے سے جسم میں اٹھنے والی دردیں ، خلیوں میں انے والے بے ترتیبی ، کے علاوہ ایسے زیر جامے بھی بنا رہے ہیں  جو ضعیف لوگوں کے کام آتے ہیں ،
کہ
ضعف سے اپنا پیشاب بھی ضبط کرنے کی طاقت نہیں رہتی ،۔

مجھے اج یہ باتیں اس لئے بھی یاد آئیں کہ
نکمی اقوام میں جب قدرت نے اس قوم کے معذور یا مجبور لوگوں کے لئے کام کروانا ہوتا ہے تو ؟
یا تو ترقی یافتہ اقوام کے دل میں رحم ڈال دیتا ہے 
یا پھر اس نکمی قوم کے اہل اقتدار کو اس مجبوری یا بیماری میں مبتلا کردیتا ہے ،۔
پاکستان میں معذور لوگوں کی سہولت کے لئے وہیل چئیر کے لئے راستے بنانے کا کام اور اس کام کے اصول اور قانون ،اللہ سائیں نے اپنے جرنل ضیاں صاحب سرمے والی سرکار سے کروائے تھے ، ان کو ایک معذور بیٹی عطا کر کے ،۔
اس بات میں بڑی نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے ، سوچ رکھنے والوں کے لئے ،۔
افغان جہاد کے نام پر شروع کی گئی جنگ سے میرے وطن میں نشے در کر آئے ، نشئی لوگوں کی بہتات ہو گئی ،۔
نالیوں میں لڑھکے ہوئے جسم ،گند میں لتھڑے ہوئے لوگ ، بہتات میں ہو گئے ۔
تو ؟
رب نے 
میرے وطن کو 
ایک نشئی حکمران دے دیا ہے ، جو اج نشئی لوگوں کے لئے شیلٹر ہاؤس بنا رہا ہے ،۔
نشئی لوگوں کے تحفظ اور تیمارداری کا کام کر رہا ہے ،۔
بے شک یہ حکمران بھی اللہ کی دین ہے کہ اس معاشرے کے ان مجبور لوگوں کی مدد کے لئے لایا گیا ہے ، جو اپنی لمحوں کی لرزش سے اپنی عمریں خراب کر چکے ہیں ،۔
اب اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو کوئی ایسا حکمران بھی دے جس کا اپنا سکّا بیٹا مسنگ پرسن ہو چکا ہو کہ اس کو مسنگ پرسنز کے لواحقین کے درد کا احساس ہو اور مسنگ پرسن کا بھی کوئی پرسانِ حال نکل آئے ،۔
آمین !۔
خاور کھوکر


ہفتہ، 3 نومبر، 2018

کتاب چور لڑکی


یہاں جاپان میں ایک لڑکی کتابیں چوری کرتی ہوئی پکڑی گئی ہے ،۔
ہائی سکول کی سٹوڈنٹ یہ لڑکی اسٹیشن کے سامنے والی بک شاپ  میں داخل ہوتی ہے ،۔
گھوم پھر کر چلی جاتی ہے ، چند گھنٹے بعد دوبارہ آتی ہے ،۔
سٹور میں گھومتی پھرتی ہے ، سٹور کیپر  اس لڑکی کا بیگ چیک کرتا ہے تو اس میں دس بارہ کتابیں ہوتی ہیں جن کی قیمت ادا نہیں کی گئی ہوتی ہے ،۔
سٹور کیپر  پولیس بلا لیتا ہے ، پولیس کے سوال کرنے پر لڑکی بتاتی ہے کہ اس سے پہلے والے پھیرے میں بھی اس نے کوئی دس کتابیں چوری کی ہیں ،۔
حالانکہ کہ لڑکی نابالغ ہے لیکن اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،۔
کیونکہ مال مسروقہ کی مالیت کوئی چھتیس ہزار  ین بنتی ہے جو کہ  پولیس کیس تیار کرنے کے لئے جاپانی سماج میں خاصی بڑی رقم سمجھی جاتی ہے ،۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لڑکی ان کتابوں کا کرتی کیا ہے ؟
جیسا کہ پچھلے سال اسی شہر میں ایک کیس ہوا تھا کہ ایک مڈل سکول کی طالبہ پکڑی گئی تھی جو مانگا اور کامک بکس چوری کر کے ان کتابوں کو پرانی کتابیں خریدنے والی دوکان پر بیچ کر جیب خرچ نکالتی تھی ،۔

لیکن اس کیس میں ایسا نہیں ہے ،۔
ہائی سکول کی طالبہ نے جو کتابیں چوری کی ہیں ان میں سے ایک کتاب کا نام ہے 
لوگ گریتھم کو سمجھنے کے اسان اور دلچسپ طریقے ،۔
باقی کی  ساری کتابیں بھی  خشک اور تحقیقی مواد سے بھری ہوئی ہیں ، جو کہ پرانی کتابوں کی دوکان پر  ناقابل فروخت ہیں ۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کتابیں اپنے پڑھنے کے لئے چوری کی ہیں ،۔
اس کیس میں لگتا ہے کہ لڑکی کو اپنی تعلیم کے لئے جس تحقیق کی ضرورت تھی ، وہ کتابیں اس کو سکول کی لائیبریری یا کہ بلدیہ کی لائیبریریوں میں میسر نہیں تھیں ، اس لئے اس نے یہ کتابیں چوری کی ہیں ،۔
اب دیکھیں کہ جاپانی سوسائیٹی  اس کیس کا کیا حل نکالتی ہے ،۔
ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکی اپنے شہر کی لائیبریری میں بھی جانی پہچانی شخصیت ہو ،۔
اور شہر کی انتظامیہ کو اپنی لائیبریری میں  ایسی کتابیں نہ رکھنے پر شرمندگی اٹھانی پڑے کہ جوان محقیقن کو چوری کیوں کرنا پڑی ؟
لڑکی کے والدین کو بلا  کر بھی شرمندگ دلائی جائے گی کہ ایسا کیوں ہوا ؟


جمعرات، 27 ستمبر، 2018

بابا رحما



بابا رحمت ، علاقے کا چوہدری تھا ، بابا رحمت بہت اچھا انسان  تھا ، اور اپنے گاؤں میں اس کو اپنی ریپوٹیشن کا بھی بہت خیال تھا ، ۔
مظلوموں کی داد رسی ، چوری کے مال کی برامدگی سے لے کر میاں بیوی کے جھگڑوں کو نپٹانے والے کاموں کے علاوہ  مسکینوں کی دانے غلے سے بھی مدد کرتا رہتا تھا ،۔
بابے کو علم تھا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کے لئے ایک مثال ہے ، اس لئے کسی غلط کام کو کرنے سے پرہیز کرتا تھا ،۔
ایک شام تھکا ہوا بابا رحمت لاٹھی ٹیکتا پیدل گاؤں میں داخل ہوتا ہے ، تو  چاچی رسولاں کو اس کی حالت پر ترس آتا ہے ،۔ 
بچپن سے بابے کی ساری رمزوں سے واقف چاچی پوچھتی ہے ، کوئی  شربت بناؤں ؟ ایک گلاس پیتے جاؤ ، تسکین ہو جائے گی ؟
بابے کی کراہ امیز آواز نکلتی ہے ،۔
نئیں نئیں ، شربت نئیں ، مجھے گھر پہنچنے کی جلدی ہے ،۔
چاچی پوچھتی ہے ۔
تو پھر گرم چائے بنا لیتی ہوں گیس کا چولہا ہے پانچ منٹ میں تیار ہو جائے گی ،۔
بابے کے منہ سے پھر وہی کراہ امیز  منمناہٹ ، نئیں  نئیں ، چاء وی نئیں  ! میں بس گھر چلتا ہوں  ،۔
چاچی قریب آ کر سرگوشی میں کہتی ہے ،۔
اچھو دبئی سے لایا تھا ، ولایتی کی بوتل  ایک کلاس پیتے جاؤ میں ابھی برف اور پانی ڈال کر لاتی ہوں ،۔
بابا رحمت چونک کر پرجوش سرگوشی میں کہتا ہے ،۔
نئیں نئیں ، پانی اور برف بھی نہیں ،  بس جلدی کرو  !،۔
حاصل مطالعہ 
کہ جی 
انسان کو انسان سمجھو ، کسی کے ذاتی فعلوں پر اس کو کافر نہ بنا دو ،۔
خاور کھوکر ۔

Popular Posts