جمعہ، 3 اپریل، 2020

پلان ابھی جاری ہے ۔

یہ جو ٹائیگر فورس بن رہی ہے ناں ؟

یہ  بھیک کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے کے پروجیکٹ کا ہی ایک حصہ ہے ،۔

گراس روٹ لیول ، یعنی کہ گھاس کی جڑوں تک دھرتی میں پہنچانا ،۔


اپنے دیسی دانش کے فلاسفر جناب چان نکّیہ صاحب سے ایک روایت منسوب ہے کہ ایک دن کسی کانٹوں والی جھاڑی کی جڑوں کو گڑ کا شربت پلا رہے تھے ،۔

کسی نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟

تو ہند کے عظیم ترین عقل مند نے بتایا کہ اس جھاری نے مجھے زخمی کیا ہے ،۔

میں اس کی جڑوں میں میٹھا ڈال کر اس کی جڑوں کو کیڑوں کے لئے مرغوب بنا کر اس جھاری کی نسل ہی نابود کر دوں گا م،۔

بس کچھ اس طرح کی وارادت قوم کے ساتھ ستر کی دہائی میں خاکی والوں نے جماعت کی مدد سے شروع کی تھی ،۔

بھیک سے مسجد بنائی جائے گی ، مجاہدین کو جنت کا لالچ دے کر یہان تربیت دی جائے گی ، مجاہدین کے کھانے کا انتظام بھیک سے کیا جائے گا ،۔

بھیک سے مجاہدین کو افغانستان تک لاجسٹ سپوٹ کی جائے گی ،۔

اور کبھی کبھی بھیک سے ہی درس قران کا لنگر بھی دیا جائے گا ،۔


بھیک کو پاکستان میں ایک عظیم کام بنا کر پیش کر دیا گیا ،۔

لیکن اس سارے پلان کے پیچھے سازش یہی ہے کہ 

اس قوم کی جڑوں میں بھیک کا میٹھا گڑ ڈال کر اس قوم سے جدوجہد ، محنت ، تحقیق اور روادی کی خو مارنی ہے ،۔


بس یہ ٹائگر فورس بھی اسی پلان کا حصہ ہے ،۔

اور پلان ابھی جاری ہے ،۔


جنگل کے بادشاھ نے بھیڑوں کا اکٹھا کر کے کہا 

سردیاں آنے والی ہیں ، مجھے تم لوگون کی صحت کا خیال ہے ، میں تم سب کے لئے اون کی چادریں بنوا کر دوں دا ،۔

ایک بھیڑ نے پوچھا : اون کہاں سے آئے گی ؟

بادشاھ نے بھیڑون کی عقل پر تاسف کرتے ہوئے انکو بتایا کہ اون بھی تم ہی پیدا کرو گی ،۔

بس یہی حال کچھ بھیک سے ملک چلانے والوں کے منصوبوں کا ہوتا ہے ،۔


بدھ، 1 اپریل، 2020

ٹیلنٹ

ہیرا منڈی کا پروان چڑھا ، ماما مودا ،امریکہ میں وال مارٹ پر جاب کی تلاش کے لئے گیا ،۔

تو مینجر نے مامے مودے سے اس کی کوالٹی پوچھی ،۔

مامے مودے نے  مینجر کو بتایا کہ میں بندے کی چال دیکھ کر بندہ پہچان  لیتا ہوں ،۔

مینجر ، مامے مودے کو پرکھنے کے لئے سٹور کے دروازے پر کھڑا ہو گیا ، 

ایک مرد کو دیکھتے ہیں ماما مودا مینجر کو بتاتا ہے کہ یہ بندہ گاڑی ٹھیک کرنے لے لئے سمان لینے آیا ہے ،۔

مینجر بڑے اعتماد سے مرد گاہک کو کہتا ہے ،۔

موبل آئیل اور پلگ وغیرہ ریک نمر پندرہ پر ہیں ،۔

گاہک بڑا حیران ہو کر پوچھتا ہے ، تمہیں کیسے علم ہوا ؟

مینجر بڑے فخر سے مامے مودے کا ٹیلنٹ کیش کرتے ہوئے کہتا ہے ،۔

میرا کام ہی یہی ہے ،۔

دوسرے مرد کو دیکھتے ہیں ماما مودا بتاتا ہے ،۔

یہ بندہ سپورٹس کی کوئی چیز لینے آیا ہے ،۔

مینجر پھر بڑے اعتماد سے گاہک کو مخاطب کر کے کہتا ہے ،۔

سر، سپورٹ کا سامان پچیسویں ریک پر ہے ،۔

گاہک حیران رہ جاتا ہے ، مینجر سے پوچھتا ہے تمہیں کیسے علم ہوا ،۔

مینجر مامے مودے کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے ،۔

ہمارا نیا پاکستانی ٹیلنٹ !،۔

ایک عورت کو سٹور کے دروازے کی طرف بڑھتے دیکھ کر  ماما مودا کہتا ہے 

یہ عورت نیپکن لینے آئی ہے ،۔

مینجر  خاتون کو مخاطب کرکے کہتا ہے ،۔

محترمہ سٹور میں  تانپون  ریک نمر پانچ پر رکھے ہیں  ،۔

عورت حیران ہو کر مینجر کا منہ دیکھتی ہے اور کہتی ہے ،۔

لیکن میں تو بواسیر کی دوائی لینی آئی ہوں !،۔

ماما مودا ہاتھ جوڑ کر مینجر کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے ،۔

مولا خوش رکھے تے بھاگ لگے رہن ، مراثی ایک انچ کے فرق کے اندازے کی غلطی کی معافی چاہتا ہے ،۔


خاور کھوکر

ہفتہ، 14 مارچ، 2020

بابے رحمے کی پریشانی ،۔


بابے رحمے کی پریشانی ،۔
بابا رحما  کوئی ایک سو دس سال کا ہو گیا تھا ، اب بابے کے پوتوں کے بھی پوتے پیدا ہوگئے تھے ،۔
اپنا گاؤں تو کیا  آس پاس کے گاؤں میں بھی اس سے بزرگ کوئی بابا نہیں تھا ،۔
خوش باش ، سدا کا زندہ دل بابا رحما  کچھ دن سے بہت پریشان رہنے لگا تھا ،۔
مسجد میں بھی پیچھے گم سم سا بیٹھا رہتا تھا ، کوئی تین چار دن تو  مولوی صاحب دیکھتے  رہے ایک دن نماز کے بعد مولوی صاحب اس کے پاس جا بیٹھے کہ  آخر بابا رحما سارے گاؤں کا بزرگ تھا ،۔
مولوی صاحب بابے رحمے سے پوچھتے ہیں   بابا  کس چیز کی پریشانی ہے ؟
کیا پوتے پوتیاں تنگ کرتے ہیں ،۔
بابا : نہیں تو !،۔
بہوئیں کھانا نہیں دیتی ؟
بابا : نہیں تو !،۔
کہیں جسم میں کوئی درد ہے ؟
نہیں تو !،۔
شادی کرنے کو جی چاہتا ہے ؟
بابا پھٹ پڑا 
نئیں اوئے نئیں ۔
مولوی صاحب بھی تلخ ہو کر پوچھتے ہیں تو پھر پریشانی کیا ہے ؟ یہ منہ بنائے کیوں بیٹھے ہو !،۔
بابا ، روہنسا ہو کر شروع ہو جاتا ہے ،۔
اوئے چراغ دین وی مر گیا !،۔
مولوی : اس بات کو تو پچیس سال ہو گئے ہیں !،۔
وہ اللہ دتہ بھی مر گیا  !،۔
مولوی اس کو بیس سال ہو گئے ہیں !،۔
اوئے وہ رکھا مہر بھی مر گیا !،۔
مولوی : سالوں ہو گئے ہیں  اسکو مرئے ہوئے بھی  اب کیوں انکی باتیں کرتے ہو ؟
اوئے وہ ماسٹر فضل دین بھی مر گیا ، وہ چوہدری رب نواز بھی مر گیا ، اوئے سارے مر گئے نے ،۔
مولوی : ہاں اپنی آئی پہ سب مر گئے ،   اب یہ سب تمہیں کیوں یاد آ رہے ہیں ،۔

مجھے کئی دن سے نیند نہیں آ رہی کہ یہ سارے جنت میں بیٹھے ہوں گے ، اور اپس میں باتیں کر رہے ہوں گے کہ 
رحما کمہار کہاں رہ  گیا ہے ؟
سارے سڑیل لوگ وہاں جنت میں بیٹھے کہیں یہ ناں سوچ رہے ہوں کہ رحما کمہار جہنم میں چلا گیا ہے ،۔
اس بات کو سوچ سوچ کر کئی دن سے نیند نہیں رہی ،۔
اور مجے پتہ نئیں کہ کتنے سال اور لگ جانے ہیں وہاں پہنچ کر ان سب کا منہ بند کرنے میں ؟

مولوی صاحب یہ سن کر اٹھ کر چل دئے  اور منہ میں بڑابڑا رہے تھے ،۔
جنے وڈے سر اونہیاں وڈیاں پیڑاں !،۔

ہفتہ، 25 جنوری، 2020

چینی کلینڈر کہانی


چینی کلینڈر کی کہانی

سوشل میڈیا پر آج کل چین کے قمری نئے سال کا بہت چرچا ہے
چینی کلنڈر کا یہ سال چوہے کا سال ہو گا ،۔
جاوروں سے منسوب سالوں کے اس کلینڈر کے لئے مشرق بعد میں ایک دلچسپ کہانی روایت کی جاتی ہے ۔ْ
اردو کے قارئین کے لئے  اس کہانی کا ترجمعہ 
پیش خدمت  ہے ،۔

ایک دن ، مہاتما بودھا نے تمام جانوروں کو ایک اجلاس کے لئے بلایا۔
 اس نےاعلان کروایا کہ اس نے 13 انتہائی قابل اعتماد جانوروں کو چننے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اور اس اجلاس میں ہر کسی کے نام کا ایک سال نام کیا جائے گا،۔

یہ  یہ اعلان سنتے ہی جانوروں نے آپس میں بحث مباحثہ کرنا شروع کردیا کہ پہلے سال ، دوسرے ، تیسرے ، اور اس جیسے اعزاز کس کو ملنا چاہئے۔
جانوروں کے اس سوشل میڈیائی  مباحثوں کی وجہ سے 
مہاتما بدھ نے جانوروں میں دریا کو تیر کر پار کرنے کا مقابلہ کروا کر  اس جھگڑے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔

 اس نے 13 جانوروں کو ندی نالے کے کنارے جمع ہونے کا کہا اور بتایا کہ انہیں لازمی طور پر دوسری طرف سے تیر کر پانی کو پار کرنا ہو گا۔

 سب سے پہلے پہنچنے والے کو پہلے سال کا اعزاز حاصل ہو گا ، اور دوسرے آنے والے کو دوسرے سال کا اعزاز حاصل ہو گا ، اور اس طرح ، تمام سالوں کی ترتیب کا فیصلہ کر کے رائج کیا جائے گا۔

مقابلہ سے ایک رات قبل ، چوہا اپنی بہترین دوست بلی سے ریس پر گفتگو کرنے گیا۔ وہ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ مقابلہ ان کے ساتھ غیر منصفانہ تھا ، کیونکہ دونوں کو پانی سے نفرت تھی ، اور نہ ہی تیرنا جانتے ہیں ۔

تو یہ جوڑا بیل سے ملنے  کے لئے گیا جو بہت بڑا اور ایک مضبوط تیراک تھا۔

 ان دونوں نے بیل سے مدد کی اپیل کی  ، اور بیل چوہے اور بلی کو اپنی پیٹھ پر سوار کر کےلے جانے پر راضی ہوگیا۔

اگلی صبح ،مقابلے میں شامل  جانور دریا کے کنارے اکٹھے ہو گئے ،۔
بیل نے دیکھا کہ بلی اور چوہا نظر نہیں آ رہے ، جن سے اس نے اپنی پیٹھ پر سوار کر کے پانی پار کروانے کا وعدہ کیا تھا ،۔
لیکن چالاک جانور بلی اور چوہا وہاں سرکنڈوں میں چھپے ہوئے تھے ، جیسے ہی بیل نے پانی میں چھلانگ لگائی  ہر دو جانور بلی اور چوہا ان کی پیٹھ پر سوار ہو گئے  ،۔
بیل جو کہ ایک مضبوط جسیم اور اچھا تیراک تھا جیسے ہی کنارے کے قریب پہنچتا ہے تو چوہا دیکھتا ہے کہ بلی اپنی دم کھڑی کئے ، بیل سے پہلے چھلانگ لگا کر کنارے پر اترنے کو تیار ہے  ، تو ؟
چوہا اس کی ٹانگوں کے نیچے سے نکل کر بیل کے سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے ، بلی بدک کر اپنا توازن کھو بیٹتی ہے اور دریا میں گر جاتی ہے ،۔

بیل کے سینگوں کے درمیان بیٹھا ہوا چوہا  چھلانگ لگا کر بیل سے پہلے خشکی پر اترتا ہے 
اس لئے پہلا سال چوہے کے نام  کا ہو جاتا ہے ،۔
ٹھیک اس کے بعد بیل اترتا ہے اور دوسرا سال بیل کے نام کا ہوتا ہے  ،۔

 ٹائیگر ایک بڑی بلی کی طرح ، اور پانی کو ناپسند بھی نہیں کرتا ہے ، اس کے پاس طاقتور مسل اور بڑا جسم ہوتا ہے  اس لئے ٹائگر  تیسرے نمبر پر آنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔
تیسرا سال ٹائگر کا سال قرار پاتا ہے ،۔

 ان کے پیچھے خرگوش جو کہ تیرنا نہیں جانتا تھا وہ ڈریگون پر سوار دریا پار کرتا ہے لیکن ڈریگون کو اپنے منہ سے نکلنے والی آگ  کا خیال ہوتا ہے ، اور ڈریگون آگ لگا کر مہاتما بدہ کی نظر میں گرنا نہیں چاہتا تھا اس لئے اپنا منہ پانی میں ڈال کر ٹھنڈا کرتا ہے
اسی اثنا میں  چوتھا نمبر خرگوش کو حاصل کرتا ہے اور چوتھا سال خرگوش کا سال کہلواتا ہے ،۔
اس کے بعد پانچواں ڈریگون کا سال قرار پاتا ہے ،۔

گھوڑا چھٹے نمبر پر آنے والا تھا ، لیکن اس سامنے سانپ آ گیا رحم دل گھوڑے نے سانپ کو بچانے کے لئے پنترا بدلا ،  اس پینترا بدلنے میں گھوڑا سانپ سے پیچھے رہ گیا 
اور چھٹا سال سانپ کا اور ساتواں سال گھوڑے کا قرار پایا ،۔

اس کے بعد بھیڑ ، بندر اور مرغ لکڑی کی بڑی لٹھ پر سوار آتے ہیں  جن کے نام آٹھواں نواں دسواں سال قرار پاتے ہیں ۔

کافی دیر بعد ، کتا کنارے پر پہنچتا ہے اور اپنی جسم کو جھٹک کر پانی جھاڑتا ہے ، بڑی مشکل سے ابھی خود کو خشک کئے بیٹھے سارے جانوروں کو بھگو دیتا ہے ، گیارواں سال کتے کا قرار پاتا ہے ۔

آخر کار ، بہت دیر بعد  ، سور پہنچتا ہے جو کہ کہیں سو گیا تھا اور آنکھ کھلنے پر پانی میں تیرتا ہوا جب پہنچتا ہے تو چینی کلینڈر میں بارہواں سال سور کا قرار پاتا ہے  ۔

اور بلی کا کیا بن گیا؟ 
بھنور میں پھنسی ہوئی بلی جب نکلتی ہے تو واپس دریا کے اسی کنارے پر پہنچ جاتی ہے 
جہان سے ریس شروع ہوئی تھی ،۔
اس لئے بلی کے نام  کا کوئی سال نہیں ہے ،۔
ناں کوئی تیرہواں کوئی جانور ہوتا ہے اس لئے چینی کلینڈر میں بارہ سال  قرار پاتے ہیں ،۔

بلی کے سال کے کلینڈر میں نہ ہونے کے متعلق جاپان میں دوسری بات روایت کی جاتی ہے ،۔
جاپان میں روایت کیا جاتا ہے کہ  چوہا اور بلی جو کہ دوست ہوتے ہیں  ہیں لیکن ہر دو اپنے دل میں چالاکی بھی رکھتے ہیں ، اس لئے چوہے نے جھوٹ بول کر بلی بتایا تھا کہ مقابلہ پرسوں ہو گا ، اور خود بیل کے سینگوں پر سوار پھدک کر بیل سے بھی آگے پہلا نمبر لے جاتا ہے ،۔
اگلے دن جب بلی دریا کنارے پہنچتے ہے تو اس کو بتایا جاتا ہے کہ مقابل گزرے کل ہو چکا ہے اور تم کہجن بھی شامل نہیں ہو 
اس لئے بلی کے نام کا کوئی سال نہیں ہے 
اور بلی چوہے کی نفرت کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی ہے ،۔
خاور کھوکھر




جمعرات، 16 جنوری، 2020

ناگویا کوچین ،۔


ناگویا  کوچین !،۔
ناگویا کوچین  مرغ کی ایک مخصوص نسل ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے ،۔
ککڑ کڑاہیاں  ، اور مرغے کے پکوان  کی لگژری ؟
جو ہماری زبان میں بولی جاتی تھی وہ ساری لگژری فارمی مرغ کے آنے سے ہوا ہو چکی ہے ،۔
جہان جہاں فارمی مرغی کا گوشت بہتات میں ہے ، لیکن یہاں بھی خوش ذوق لوگ دیسی  مرغ کا گوشت پسند کرتے ہیں ،۔
دیسی مرغی یعنی وہ پرندہ جو کم از کم سو دن میں کھانے کے قابل ہوتا ہے ،۔
فارمی مرغی  اپنئ پیدائش سے بیس دن کے اندر  ذبح ہو کر اپ کی ہانڈی میں  پہنچ چکی ہوتی ہے ،،۔
کہاں کسی مہمان کے انے پر مہینوں میں تیار ہوا مرغا جو ہز روز انکھون کے سامنے  جوان ہوا ہو  ذبح کر کے کسی  ہانڈی بنانا اور کہاں 
چند سو روپے سے فارمی مرغی کا گوشے لے آنا ،۔

ہمارے گھر میں  ماں کو گوشت کھانے کا شوق تھا ، لیکن ہم غریب لوگ تھے اس لئے  اس زمانے میں یعنی ستر اور اسی کی دہائی میں  سری پائے ، کلیجی ،اور پھیپھڑے سستے مل جاتے تھے ،۔
اج جب یہ چیزیں لگژری بن چکی ہیں ، ہم اپنے پچپن میں یہ کھایا کرتے تھے ،۔
پکھی واس (خانہ بدوشوں کی ایک شاخ ) لوگ   پرندون کا شکار کر کے لایا کرتے تھے ،  ان بے چاروں کا شکار گاؤں میں گھوم گھوم کر آوازیں لگانے سے بھی بہت کم بکا کرتا تھا ،۔
میری ماں ان سے شکار کئے پرندے خرید لیا کرتی تھی ،۔
گندم کے پودوں  پر آنے والی بڑی چڑی ، شارق ، تلئیر ، بٹیرے ، تیتر ،فاختہ 
اور بہت ہی کم  بلکہ شائد ایک کہ دو دفعہ ہی کھایا ہے ،۔
ایک پرندہ ہوتا تھا  جس کو ہریل کہا کرتے تھے ، طوطے کے رنگ کی فاختہ کہہ لیں  ، فاختہ سے تھوڑے جسامت میں بڑے اس پرندے کا گوشت بہت ہی لذیذ ہوا کرتا تھا ،۔
گوشت کھانے والے جانتے ہیں کہ گوشت میں ایک ریشہ ہوتا ہے جو دانتوں میں پھنس جاتا ہے ،۔
فاختہ کے سینے کے گوشت میں یہ ریشہ بہت کم ہوتا ہے ،۔
اور ہریل کے گوشت میں تو بلکل بھی نہیں ہوا کرتا تھا ، 
اب شاید پاکستان میں نئی نسل نے ہریل  کا نام بھی نہ سنا ہوا ۔
گھر کی مرغی دال برابر ؟
 یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا 
کہ گھر کی پلی ہوئی مرغیاں یا مرغے  دال سے بھی سستے ہوتے تھے ،۔
یا پھر گوشت کے لئے ہمارے گھر میں بطخیں پالی جاتی تھیں ،۔
بطخ کا انڈہ بھی بڑا ہوتا ہے اور مرغی کی نسبت گوشت بھی زیادہ ہوتا ہے ،۔
یہ علحیدہ بات ہے کہ 
میرا چھوٹا بھائی  بطخ کا گوشت نہیں کھاتا تھا 
اس کے کہیں بطخ کو بول براز کھاتے دیکھ لیا تھا ،۔
اس لئے ہم نے بطخیں پالنی بھی چھوڑ دی تھیں ،۔
شائد سن  اکیاسی کی بات ہے ،۔
ماں نے کہیں سے فارمی مرغی کا سنا تھا ؟
مجھے پیسے دے کر شہر بھیجا کہ فارمی مرغی کا گوشت لے کر آؤں ،۔
ان دنوں  پونڈاں والے اڈے(گوجرانوالہ) پر تانبے کی دیگیں اور دیچکیاں کوٹ کوٹ کر بنانے والے  سڑک کے جنوبی طرف ہوتے تھے اور شمالی طرف دیس مرغوں کو پنجرے میں لئے مرغی کا گوشت بیچنے والوں کی دو تین دوکانیں تھیں ،۔
میں ان سے فارمی مرغی کا پوچھا تو انہوں نے مجھے ایک ریڑہی والے کی طرف اشارہ کیا تھا ، جہاں سے میں کوئی ادھ کلو گوشت لے کر آیا تھا ،۔
اس چکن کو ماں نے  روسٹ کر دیا تھا ،۔
مجھے تو ذائقہ یاد نہیں لیکن ، مان کے الفاظ یاد ہیں ،۔
نہ مزھ نہ سواد ! ایہہ کی اے ؟
ان الفاظ کی معونیت صرف وہی جانتا ہے جس نے دیسی مرغ کھایا ہو،۔

تو جی بات ہو رہی تھی جاپان میں ملنے والے  مرغی کے گوشت  ناگویا کوچین کی !،۔
جاپان کا  ناگویا کوچین ، بلکل اپنے یہاں کے دیسی مرغ کی طرح کا پرندہ ہوتا ہے ، جس کی کلغی لال ہوتی ہے اور نر بڑا رنگین پرندہ ہوتا ہے ،۔
یہاں ایتا کورا میں ایک دوست ہے جس کا تعلق لاؤس سے ہے اور اس نے جاپان میں شادی کی ہوئی ہے اس کی بیوی کے میکے مرغیان پالا کرتے تھے اس لئے اس سسر کے مرغون کی پرورش اور انڈوں کی رسد کا کام چھوڑ دینے کے بعد بھی ، کچھ مرغیاں پالی ہوئی ہیں ،۔
لاوؤ کا یہ دوست خود بھی خوش ذوق بندہ ہے اور میرے ذوق سے بھی واقف ہے تو اس نے کل تین پرندے ، دو مرغ اور ایک مرغی لا کر دی ہے ۔
میں  آج ان پرندوں کو حلال کر کے گوشت بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں ،۔
جاپان میں ناگویا کوچین ایک برانڈ کا نام ہے ، ۔
دیسی مرغ کا گوشت یہان جاپان میں میں دفعتاً فوقتاً کھاتا رہتا ہون ،۔
لیکن ناگویا  کوچین  کھانے کا اتفاق پہلی بار ہو گا ،۔

بدھ، 4 ستمبر، 2019

مملکت خدا داد

ایک کسان نئی زمین آباد کر رہا تھا کہ وہاں سے کسی پادری کا گزر ہوا ، پادری نے پوچھا کیا کر رہے ہو ؟
زمین کی جھاڑ جنگاڑ اور بنجر نکال کر آباد کر رہا ہوں ،۔
پادری نے دعا دی ،۔
رب تمہاری مدد کرئے !،۔
کچھ سال بعد جب پادری کا وہاں سے گزر ہوا تو کسان کا بہترین گھر ، گھر کے سامنے کارپٹ گھاس کا لان ، پھلوں کے درخت لگے تھے اور کھیتوں میں فصلیں لہلہا رہی تھیں ،۔
کسان نے پادری کو سلام کیا ،۔
پادری نے فرمایا ، تم نے اپنے رب کی مدد سے اس زمین کو بہت خوبصورت بنا لیا ہے ، مبارک ہو !،۔
تو کسان نے کہاں
ہاں فادر دیکھ لیں ، جب میں نے رب کی مدد کی تو نتیجہ آپکے سامنے ہے ، جب تک رب اکیلا لگا تھا اس وقت کے حالات بھی تو آپ نے دیکھے ہی ہوئے ہیں ،۔
کیا جھاڑ جھنگاڑ تھی ؟؟

وہ کہنا یہ تھا کہ
پاکستان کو بس اللہ ہی چلا رہا ہے ،۔
کیونکہ یہ مملکت خدا داد ہے !،۔

جمعہ، 12 جولائی، 2019

آؤ حمد کریں



یہ گولا جس کو زمین کہتے ہیں پل صراط ہے ، بال سے باریک اور تلوار سے تیز ،خوارک ہی پر منحصر نہیں ہر چیز انتہائی توازن کا تقاضا کرتی ہے ،۔

ایک ٹھیک توازن سے زہر بھی دوائی ہوتا ہے اور غیر متوازن گلوکوز بھی زہر بن جاتا ہے ،۔
موسم ہوں کہ کہ رشتہ داریاں  ہر چیز ایک پل صراط ہے ،۔
انسان اس سیارے پر اجنبی ہے ،۔
 اس کو کسی سزا کے طور پر یہاں اتارا گیا ہے ،۔
انسان ایک بڑے جسم کی بنیادی اکائی کی طرح ہے جس کے جین کوڈ میں ڈالا گیا ہے کہ 
چلو ، اور چلتے چلو اس چلنے میں ویڈیو گیم کی طرح بلائیں ہوں گی جن سے نپٹنا ہو گا ، یا مر جانا ہو گا ،۔
ساتھ ساتھ جنسی ملاپ سے اپنے جسم کے اگلی نسل پیدا کرتے جاؤ ۔
اور اگر اگر نہ چلو گے تو ؟ سستی کی اخیر بھی موت ہی ہے ،۔ 
ایسے یا وہسے تمہیں اپنے حصے کے کرب جھیل کر اپنی اگلی نسل پیدا کر کے مر جانا ہے ،۔
کسی مردہ جسم پر گلتے ہوئے گوشت میں کلبلاتے کیڑے ، ہر کیڑا اپنی اپنی جگہ حرکت میں ہوتا ہے ، ان کے اپنی دنیا ہے ،۔
چند ساعتوں سے لے کر چند دن کی زندگی میں ہر ہر کیڑا اپنے اندر ایک پورا جنم  جی کر مرتا ہے ،۔
انسان اس سیارے پر اجنبی ہے ،۔
اپنی سزا بھگت کر ایک دن مکت ہو جاے گا ،  جب سارا جسم اپنی ایک ایک روئیں ایک ایک اکائی پورے کرب اور دکھوں کو بھوگ کر اس پل صراط سے گزر جائے گا تو ، اس کے بعد وہ گمگشدہ جنت ہے ،۔ 
جس سے انسان کو نکال پھینکا گیا تھا ،۔
بے شک بہے مہان ہے وہ طاقت ، جس نے یہ سارا کھیل بنایا ہے ،۔
جو بہت عقل والا ہے جو بہت بڑا ہے ، جو جانتا ہے ، دیکھتا ہے ، اور سنتا ہے ،۔
منت ترلا کرنے سے کرب اور دکھ کم کرتا ہے ،۔
بے وہ بہت مہربان ہے ،۔
بابا جی نانک سرکار اس کو  نام کہا کرتے تھے ، یہودی اس کو اہورا کہتے ہیں ، ہندو اس کو بگھوان اور عیسائی اس کو  خداوند خدا کہتے ہیں ،۔
میں اسکو  اللہ کے پاک نام سے پکارتا ہوں ،۔
بے شک میرا رب بہت ہی اعلی اور طاقتور ہے ،۔
بہت مہان ہے ، بہت مہربان ہے ،۔
اک تو کہ صدیوں سے میرے ہمراھ بھی ہم راز بھی 
اک میں ترے نام سے ناآشنا ہائے بے چارگی 
آؤ حمد کریں ، اس پاک ذات کی  جس کے بہت نام ہے ،۔
کہ حمد  دعا ہے ، ذہن میں بننے والی دکھ ، کرب ، اور پریشانیوں بیماریون کی ،۔
آؤ حمد کریں ، ،۔
خاور کھوکھر

جمعہ، 28 جون، 2019

اللہ خیر کرئے


میرے حالات  بھی بہت ٹائٹ چل رہے ہیں ، پیسے کی آمد نہیں ہے اور خرچے منہ کھولے کھڑے ، سیکوڑتی پر ہونے والے خرچوں  اور ٹینسن نے حالات بہت خراب کر دئے ہیں ،۔


میرا بھی ایک امریکہ تھا ، بلکہ ہے ، جس کی مدد سے میں نے یارڈ بنائے ، کاروبار میں کمائی کے ذرائع بنائے ،۔
میں اپنے امریکہ کی آواز پر اس کے کام کرنے جایا کرتا تھا ، کبھی کہیں کسی یارڈ کی صفائی ، کبھی کسی مکان کے پودوں کی جھاڑ جھانٹ  ،اور میرا امریکہ مجھے کئ طرح سے امداد دیا کرتا تھا ، کبھی کسی گاری کی فروخت کے منافع سے کچھ دے دیتا تھا کبھی لوہے وغیره کی صورت میں منافع کمانے کا موقع مل جاتا تھا ،۔ 
مال کی خرید فروخت کے لئے کئی ملین نقدی کا قرض بھی دیا ، جو کہ سالہا سال سے میں اس کو واپس نہیں کر سکا ، میرا امریکہ ہلکا ہلکا تقاضا کرتا رہتا ہے ،۔
میں بھی واپس کرنے کے وعدے پر اس کو ٹرخاتا رہا ہوں ،۔
میرے امریکہ کے ساتھ بھی ایک کیری لوگر بل ہو گا 
کہ ایک حاقانی ٹاپب بندہ  میرے امریکہ کے قریب ہوتا چلا گیا جس نے میرے امریکہ کو پٹیاں پڑھانی شروع کر دیں کہ  خاور بہت کمائی کر رہا ہے ، خاور کی بڑی اڑان ہے ، اس کی مدد کرنا تو اپنے کو بیوقوف سا محسوس کرنا ہے 
وغیرہ وغیرہ
اس دوران میرے امریکہ جس کو میں ساچو کہتا ہوں اس کی کچھ چیزیں میرے پاس پڑی ہوئی تھیں وہ چوری ہو گئیں ،۔
اصل میں کچھ افغانی مدد مانگنے کے لئے آئے ہوئے تھے جن کی مدد کرتا تھا لیکن وہ افغانی چور تھے  جنہوں نے میری چیزیں چوری کرنا شروع کر دیں ،۔
ہر چوری کے بعد میں سیکورٹی پر خرچ شروع کر دیتا تھا ۔
کبھی دیواریں اونچی کر رہا ہوں تو کہیں دیواروں کی تعمیر  کر رہا ہوں جس پر خرچے آ رہے ہیں اور چوری ہونے والے مال کی وجہ سے سرمایہ بھی سرکتا چلا جا رہا ہے ،۔
ایک یارڈ کے پڑوسیون نے حد بندی کا مسئلہ کھڑا کردیا ہوا ہے ،۔
ان کی طرف سے پاس پڑوس (عالمی برادری) کو یہ پٹیاں پڑھائی جا رہی ہیں کہ 
یہ بندہ ہمارے پڑوس میں ہے تو کچرا وغیرہ چھوڑ کر بھاگ جائے گا ،۔
اس کے کاروبار سے رسنے والے تیل سے ہماری فصلیں اور زیر زمیں پانی خراب ہو جائے گا ،۔
جس کے لئے مجھے اپنی پروپگینڈا مشنری بھی بنانی پڑی ہے اور کچھ لوگوں کو پانی صفائی وغیری کے لئے وضحتوں کے لئے بھی ٹائم نکالنا پڑتا ہے م،
اب یہ حال ہے کہ سیکورٹی کمپنیوں کے ماہانہ بل ہیں ،۔
رات کو سونے سے پہلے قیمتی چیزوں کے سامنے روکاوٹیں گھڑی کرنے کی ٹینشن اور وقت کا ضیاں ہے ۔
سیکورٹی کی ٹینشن میں منافع بخش کام پسِ پشت چلے گئے ہیں اور سیکورٹی بڑی ٹائٹ ہو چکی ،۔
اور ساچو نے امداد بلکل بند کر دی ہوئی ہے 
اب مال خریدنے کے لئے بھی پیشے نہیں ہیں ،۔
سیکورٹی کو میں کم نہیں کر سکتا 
کہ پھر چوری ہو جائے گی ،۔
لیکن آہستہ آہستہ حال یہ ہونے کو ہے کہ 
چوری کے قابل مال فروخت کر کرکے سیکورٹی کے بل  تو بھر لوں گا 
لیکن 
جب یہ مال بھی ختم ہو گیا تو ؟
سیکورٹی کس چیز کی ؟
لیکن بل تو پھر بھی دینے ہون گے کہ سیکوڑتی کمپنیوں معاہدے کو پانچ سال سے پہلے ختم کرنے پر ہرجانے کا معاہدہ بھی لکھوایا ہوا ہے ،۔
اس لئے میں تو سنجیدگی سے کچھ ہارڈ یا کہ زمینیں بیچنے پر غور کر رہا ہوں ،۔
تاکہ نہ ہو گا مال 
نہ ہو گی سیکورٹی 
جیسا کہ ماضی قریب کی ہسٹری میں سویت یونین نے کیا تھا ،۔
سیکورٹی کی ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لئے کچھ ممالک چھوڑ دئے تھے ،۔
میری تحریر پر یہ نہ کہہ دینا 
کہ ذات دی کوڑہ کرلی تے چھتیراں نوں جپھے ،۔
اپنے چھوٹے سے کاروبار کو ملکوں کی سیاست سے  مثالیں دے کر بتا رہا ہے ،۔
بس جی دعا کرو 
اللہ خیر کرئے اور میرے کاروبار میں منافع آئے ، یا کہ چکھ اچانک کہیں سے بڑی کرنسی مل جائے مفت میں !،۔
ورنہ حالات بہت تنگ ہیں ،۔
میں بھی ہوں تو کم عقل ہی 
لیکن
کیری لوگر بل اور سیکورٹی کے خرچوں کی وجوح زیادہ بڑی ہیں  ،۔

Popular Posts