منگل، 21 مئی، 2019

پاء منّو


آج مجھے  اسّی کی دہائی کا گوجرانوالہ کا ایک کردار یاد آ گیا ،۔
کیا دلچسپ انسان تھا  ،۔
پاء منّو !،۔
اصلی نام مجھے یاد نہیں ، اس کی بسیں چلتی تھی  گجرات سے لاہور ،۔
گوجرانوالہ کے لاری اڈے پر سارا دن سفید کپڑے پہنے مختلف مکینکوں کے پاس پھرتا رہتا تھا ،۔
پہس مکھ ، یار باش  اور حاضر جواب ،۔
 پا منّو نے گوجرانوالہ کے ریجنٹ سیمنا میں منور ظریف کی فلم چکر باز لگا لی ،۔
سارے لاری اڈے پر مشہور ہو گیا کہ پاء منّو نے فلم لگائی ہے اور اج کل پاء منو سیمنا میں ہی ہوتا ہے ،۔
گوجرانوالہ کے لاری اڈے  کے مکینکوں کے سارے شاگرد لوگ  پاء منو کے پاس فلم دیکھنے کے لئے گئے ، کئی تو کئی کئی دفعہ گئے ،۔
ہر دفعہ مفت فلم اور  کھانا کھا کر واپس آتے تھے ،۔
مجھے خود تو جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔
لیکن آس پاس کے سارے منڈے پا منو سے کھانا کھا کر آئے تھے ،۔
تین ہفتے بعد جب فلم اتری تو پاء منو  پھر لاری اڈے پر نظر آیا ،۔
مجھے پوچھتا ہے ،۔
اوئے توں نئیں آیا فلم ویکھن ؟
تو میں نے اس سے پوچھا 
پاء منو فلم لگانے پر کمائی تو بہت ہوتی ہو گی ؟
کتنے پیسے کمائے ہیں تین ہفتے میں ؟
پاء منو نے  بڑے فخر سے بتایا : پچہتر روپے (تقریباً دس امریکی ڈالر)!،۔
میں نے بڑی حیرانی سے پوچھا صرف پچہتر روپے ؟ کیا یہ بہت کم نہیں ہیں ؟
پاء منو نے تاریخی جواب دیا ، ان الفاظ کی بازکشت اج بھی میرے ذہن میں  گھونجتی ہے ،۔
لے ، سارے شہر دے یار خوش کر کے فیر وی کجھ پیسے بچ گئے نے ، تینوں اے تھوڑے لغدے نے پئے !!،۔
یعنی سارے شہر کے دوستوں کو خوشیاں دے کر پیسے بھی بچ گئے ہیں یہ تھوڑی بات ہے م۔
اس سوچ کے اس بندے سے وابستہ کچھ اور یادیں بھی ہیں کہ
لاری اڈے پر برقعہ پہنے بچہ اٹھائے بھیک مانگنے والی جب آتی تھیں تو سب کو بھائی کہہ کر پکارتی تھیں ،۔
تاش کھیلتے ہوئے  پاء منو کو جب ایک بی بی نے بھائی کہہ کر مخاطب کر بھیک کا سوال کیا تو پاء منو بدک گیا 
اور اس بی بی کو کہتا ہے ،۔
بیٹھ جا پہن میری ، اور بتا کہاں ہے میرا بہنوئی  پئین چ۰۰ !، کیا کرتا ہے وہ کتی کا ب۰ ۰، جس نے میری بہن کو بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ رکھا ہے،۔
ابھی بتا یا پھر مجھے ساتھ لے کر چل کہیں اس کو نوکری دیتا ہوں ، اگر معذور ہے تو اس کا علاج کرواتا ہوں ۔
مجھے اس عورت کا جان چھڑا کر بھاگنا اب تک یاد ہے ،۔
اُس زمانے میں سفید پوش بھکاری ہوتے تھے جو ٹولے میں ہوتے تھے ایک عورت ایک بزرگ اور ایک جوان کے ساتھ ایک بچہ !،۔
ان کا کہنا ہوتا تھا کہ فیصل آباد سے آئے ہیں 
یہان گوجرانوالہ میں جیب کٹ گئی ہے ،۔
واپسی کا کرایہ نہیں ہے ،۔
مستعار پیسوں کے نام پر بھیک نما کام کرتے تھے ،۔
ان لوگون کا کہنا ہوتا تھا کہ اپ ہمیں مستعار پیسے دیں ہم گھر پہنچ کر آپ کے پیسے اپ کو منی آڈر کر دیں گے ،۔
ایک دن  پاء منو اس خاندان کو ٹانگے پر بٹھا کر لاری اڈے لے آیا 
اور فیصل آباد جانے والی  بس کے پاس جا کر کنڈکٹر اور ڈائیور سے پوچھتا ہے کیا تم مجھے جانتے ہو ؟
ڈائیور اور کلینڈر نے بیک زبان کہا  ، ہاں پاء منو  کیوں نہیں !،۔
تو پھر یہ میرے عزیز ہیں ان کو فیصل آباد تک لے کر جانا ہے ،۔
اور خبردار اگر ان سے کرایہ لیا یا کہ ان کو فیصل آباد سے پہلے کہیں اترنے دیا ،۔
اب پتہ نہیں کہ اس خاندان پر کیا بیتی لیکن پاء منو نے ان کو فیصل آباد روانہ کر دیا تھا ،۔
اور مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ یہیں کہیں گوجرانوالہ کے نوحی گاؤں کے تھے 
اور بس کے عملے نے بڑی ذمہ داری سے ان کو فیصل آباد پہنچا دیا ہو گا ،۔
اب واپسی کا کرایہ فصل آبادیوں سے مانگیں گے ،۔

پاء منو کا ایک بہنوئی بھی تھا حاجی بشیر ،۔
یہ بندہ بھی اپنی  جگہ ایک کریکٹر تھا ،۔
اس پر پھر کبھی لکھوں گا ،۔
بس اتنا سمجھ لیں کہ حاجی بشیر پاء منو کے بچوں کا پھپھڑ تھا ،۔

منگل، 30 اپریل، 2019

بزدل لوگ



وہ بندہ جو فوراً کسی کی بھی مدد کرنے کو تیار ہو جائے ، ہر کسی کی مدد کرئے  یا کہ خود سے لوگوں کو تعاون کی  مدد کی پیشکش کرئے !!،۔
ایسے بندے کے متعلق سائیکی کے ماہرین بتاتے ہیں کہ
ایسا بندہ بزدل ہوتا ہے !!،۔
اس کے ذہن میں یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر میں کہیں کمزور پڑ گیا تو ؟ لوگ میری بھی مدد کریں گے !،۔
سائیکی کے ماہرین کا یہ تجزیہ سن کر جب میں نے اپنے اندر جھانکا ، تو ؟
مجھے بڑی شدّت سے احسا ہوا کہ
ہاں میں ایک بزدل ہوں !!،۔
مجھے اپنے بزدل ہونے کا علم بڑی دیر بعد ہوا  تھا ، ورنہ  میرے اردگرد کے لوگ تو بہت پہلے سے جانتے تھے ،۔

اب یہاں مزے کی بات یہ کہ 
ایسے بزدل لوگوں کے ساتھ زندگی ایک بڑا دلچسپ مذاق کر جاتی ہے ،۔
وہ مذاق کیا ہے ؟
اس کا تب لکھوں گا جب لوگ تقاضا کریں گے ،۔
کومنٹ کریں ، اگر اپ جاننا چاہتے ہیں ،۔

خاور کھوکھر


گزشتہ سے پیوستہ 

سائیکی کے ماہرین کے مطابق جو بزدل بندہ فوراً دوسروں کی مدد کرتا ہے ،۔
اس کے ساتھ زندگی ایک دلچسپ مذاق کرتی ہے ،۔
ہوتا یہ ہے کہ اپنی کمزروی کے احساس سے بندہ دوسروں کی مدد کرتا ہے ، زندگی کی تگ ودو میں پورا زور لگا لگا کر کوشش کرتا رہتا ہے ،۔
تو مذاق یہ ہو جاتا ہے 
کہ
اس بندے کو کبھی دوسروں کی مدد کی ضرورت ہی پڑتی ،۔

اپ نے شائد دیکھا ہو کہ  جب چڑیا اپنے بچوں کے لئے  چوگا لے کر آتی ہے تو ؟
وہ سب سے  پہلے چوگا اس بچے کے منہ میں ڈالتی ہے جس نے زیادہ منہ کھولا ہو ۔
جس کے منہ کے والی پیلی لکیر گہری ہو ،۔
کوئے جیسے چالاک جانور کے ساتھ بھی کوئل  ہینڈ کر جاتی ہے کہ اپنے انڈے اس کے گھونسلے میں دے جاتی ہے ،۔
کوئل کے بچوں کے منہ پر  باچھوں کی پیلی لکیر ، جو کہ ہر پرندے کے بچوں کے منہ پر ہوتی ہے ،۔
اس کا رنگ کوئے کے بچوں  کی نسبت گہرا ہوتا ہے ،۔
کوئل کے بچے کا منہ کوئے کی اپنے بچوں کے منہ سے بڑا نظر آتا ہے 
اور کوّی بی بی کوئل کے بچوں کو زیادہ چوگا  دیتی ہے ،۔
اور کوئے کو رب نے لمبی عمر اور اولاد میں وسعت دی ہے ،۔ کوئل کے مقابلے میں!،۔

بڑا سا منہ کھولے مدد کے طلب گار یا کہ ہاتھ پھلائے مانگنے والے  جس بندے کے پاس جتنے زیادہ آتے ہیں ،۔
وہ بندہ اتنی ہی زیادہ تگ و دو کر کے زیادہ کماتا ہے زیادہ اوزار ، استعمال کی چیزیں بناتا ہے 
کہ 
پتہ نئیں کب کون آئے اور کون سی چیز مستعار مانگ لے !،۔
اخری عمر میں جا کر جب ایسا بندہ پلٹ کر دیکھتا ہے ، تو  ؟
اس کا ہاسا نکل جاتا ہے کہ 
یہ زندگی کیا مذاق کر گئی ،۔
مال کے ، دولت کے ڈھیر لگے ہیں ،۔
رزق کی فراوانی ہے ، مشقت کر کرکے صحت بھی ٹحیک ٹھاک ہے ،۔
اور مدد مانگتے  کمزور لوگ   کچھ مر کھپ گئے کچھ اب  بھی سسکٹی سانسیں جی رہے ہیں م،۔
اور  زندگی کے دلچسپ مذاق سے لطف لینے والے ایسے  لوگ ایک اور بیاھ کھڑکا کر  زندگی کے اور بھی مزے لیتے ہیں ،۔
میں اپنے گاؤں میں چار گھروں  کی تاریخ کا شاہد ہوں ،۔
دو گھورں کے پانچ پانچ بیٹے  تھے اور ایک گھر کے ساتھ بیٹے ،۔
چوتھا گھر 
کہ
جس کے بڑے بیٹے پر پانچ بہنوں کا بوجھ تھا ، اور چھوٹے بھائیوں کا بھی ،۔
مندرجہ بالا تین گھروں کے ٹوٹل پندرہ  مردوں کی ٹوٹل کمائی  اور بنائے ہوئے  مکانات زمییں  اور اثر رسوخ ، پانچ بہنوں کے  بھائی  کی کمائی کا تین فیصد بھی نہیں بنتا ہے ،۔
ہاں جی !۔
یہ بات ہے بڑی باریک  اور سمجھ رکھنے والی 
کہ 
برکت اور خدا کے فضل کو انجوائے کرتے ہیں وہ لوگ ، جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں ،۔
ہاں کچھ ایسے کم قسمت لوگ بھی ہوتے ہیں ، جن پر ان کے اپنے ، آکاس بیل کی طرح چڑھ کر ان کی ساری توانائیاں چوس کر رکھ دیتے ہیں ،۔
لیکن 
فرق ہے انسان اور درخت کا کہ 
آکاس بیلوں جیسے لوگوں کے نچوڑے ہوئے انسان بوڑھے وقت میں بڑے چمک دار چہرے اور مسکراہٹ سے سرفراز ہوتے ہیں ،۔
حاصل مطالعہ 
کہ جس کنوئیں سے لوگ پانی نکالتے رہیں وہ خشک نہیں ہوتے اور جو انسان برتے جاتے ہیں استعمال ہو جاتے ہیں ،
 انکو رب سائیں  کچھ اور ہی لذتوں سے سرفراز کرتا ہے ،۔
bz

پیر، 29 اپریل، 2019

ہے سے ، آریگاتو


شکریہ ہے سے ،۔ 
ہے سے آریگاتو گوزائماشتا!،۔
平成、ありがとうございました。
مہربانی ہے سے !،۔
جاپان کا ایک دور مکمل ہوا ،۔ اس دور کی مہربانیاں ہیں جن کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے ،۔
پرانے زمانے میں پاکستان میں  ایک بندہ تھا جس کا نام تھا  عالم چنا ،۔
لمبے قد کے اس انسان کو اس وقت دنیا کا طویل ترین  انسان مانا جاتا تھا ،۔
عالم چنا جاپان آیا تھا اور اس کی ملاقات اس دور کے جاپانی شہنشاھ  ہیرو ہیٹو صاحؓ سے ہوئی تھی ،۔
میں خود ہیرو ہیٹو صاحب کو ایک طرح سے ہیرو سمجھتا ہوں ا، اس ملاقات سے بہت ایکسائیٹڈ ہوا تھا کہ
کاش میں بھی ہیرو ہیٹو صاحب سے مل سکوں ،۔
شائد اسی بات  نے مجھے جاپان آنے پر بھی اکسایا تھا ،۔
کچھ اپنے گھر کی غریبی تھی  ، جو دور کرنی تھی ،۔
اس لئے بھی پاکستان سے باہر جانا  ہی میرا مقدر تھا ،۔
میں ہیرو ہیٹو صاحب کی زندگی میں ہی جاہان میں داخل ہو چکا تھا ، اور بغیر ویزے کے جاپان میں کام پر لگ چکا تھا ،۔
میں سن اٹھاسی کے ستمبر میں جاپان میں داخل ہوا 
اور اگلے سال کی جنوری میں ہیرو ہیٹو صاحب انتقال کر گئے ،۔
یعنی چند ہی ماھ بعد  جاپان ہے سے کے دور یعنی شہنشاھ اکی ہیٹو کے دور میں داخل ہو گیا ،۔
انسان ایک تو اپنی جنم بھامی سے جڑی یادوں سے ساری زندگی جان نہیں چھڑا سکتا  اور دوسرا اس پر وہ ماحول بہت اثر انداز ہوتا ہے جب وہ پہلی بار اپنی جنم بھومی سے باہر دور دیس کو نکلتا ہے ،۔
بس یہی کچھ میرے ساتھ ہوا کہ
اپنی عمر کی دوسری دہائی کے شروع میں جاپان میں بس چکا تھا ،۔
اس دور کے جاپان میں دولت کی ریل پیل تھی ،۔
میں اپنے ابا جی کی قرض اتارے ،۔
اپنے گھر کے لئے کمائی کر کرے پاکستان بھیجی ،۔
اسی ہے سے کے دور میں جاپان سے ڈی پورٹ ہوا تو  رب نے اس طرح کا کام بنا دیا کہ میں دنیا کی سیاحت کے لئے نکل پڑا ،۔
دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی گیا ، جاپانیون سے تعلق رہا ، جاپان سے تعلق رہا  اور پھر دوہزار سات میں جاپان آ گیا ،۔
اسی ہے سے  کے دور میں جاپان آ کر دوبارہ سے اپنی زندگی شروع کی ،۔
ہے سے کے دور جوانی اور جونی سے بھر پور جوانی اور پھر اب ادھیڑ عمری کے تھکن بھرے مزے چکھ رہا ہوں ،۔
انسان ہمیشہ اپنے دکھوں کا ہی رونا روتا ہے ،۔
دکھ بھی ملے ، بلکہ بہت دکھ ملے 
لیکن سُکھ بھی ملے اور ڈھیر سارے سُکھ ملے ،۔
پاکستان کا وہ گھر ، جس کو بنانے کے لئے جس کی ترقی کے لئے ، جس کی غربت دور کرنے کے لئے نکلے تھے ،۔
اس گھر میں اب جا کر بسنا ناممکن ہو چکا ہے ،۔
ہم زمانے میں کچھ ایسے بھٹکے 
اب تو ان کی بھی گلی یاد نہیں 
ہے سے آریگاتو !،۔
کہنا اس لئے بھی بنتا ہے کہ
اس دور کے اخری سالوں میں ہی سہی ،۔
جب مجھے اس بات کا احساس ہو گیا کہ میں پاکستان والے گھر کی غربت ختم کر ہی نہیں سکتا 
تو کیوں نہ یہیں جاپان میں کچھ بنا لوں تو؟
ہے سے کے دور میں میں نے جاپان میں اپنا نیا گھر تعمیر کر لیا ،۔
تین یارڈ بنا لئے 
جن میں سے دو گمناں کین میں اور ایک  توچیگی کین میں سانو فُجی اوکا والے ہائی وے کے پاس ہے ،۔
ایک گھر سائتاما کین میں تعمیر کیا تو دوسرا گھر بنا بنایا گنماں کین بھی بھی خرید لیا ،۔
کائی تائی  یعنی گاڑیاں کاٹے کے پرمیشن کے ساتھ ایک یارڈ پر میں کام کر رہا ہوں اور دوسرا تیاری کے اخری مراحل میں ہے ،۔
جو کہ انے والے دور رے وا میں مکمل ہو گا ،۔
اس لئے میں کہہ سکتا ہوں ،۔
ہے سے آریگاتو 
اور ، رے وا   اونے گایشیماس !!،۔
令和大願いします。

جمعہ، 26 اپریل، 2019

لبنانی نژاد فرانسیسی کارلوس گوسن ،۔



ایک دن ایک ٹی وی اینکر اس ریسٹورینٹ میں چلا گیا گیا جہان گوسن اکثر کھانا کھانے کے لئے چلا جایا کرتا تھا ،۔
سوال تھا 
کہ
اخر اتنی ذیادہ دولت  کا شوقین  بندہ کھاتا کیا ہے ؟
ریسٹورینٹ والے نے بتایا 
کہ
گوسن اکثر اپنی بیوی کے ساتھ  آتا تھا ، کبھی کبھی اس کی اولاد میں سے بھی کوئی اس کے ساتھ ہوا کرتا تھا ،۔
اینکر پوچھتا ہے کہ کھاتا کیا تھا ؟
ریسٹورینٹ والا ، سی فوڈ کی ایک دو ڈش کے نام بتاتا ہے 
اور کہتا ہے کہ
ہمارے ریسٹورنٹ کا سلاد ،گوسن صاحب کو بہت پسند تھا  ،۔
گوسن صاحب سلاد ضرور منگواتے تھے ،۔
اینکر پوچھتا ہے 
فی کس کھانے کا بل کتنا بن جاتا تھا ،۔
ریسٹورینٹ والا بتایا ہے کہ
آٹھ سو ین سے  تیرہ سو ین تک کا بل بنا کرتا ہے ،۔
یعنی کہ پاکستانی روپے میں ایک وقت کا کھانا ،اپنی پسند کے ریسٹورنٹ میں جا کر کھانے کا بل آٹھ سو روپے سے تیرہ سو روپے !!،۔
یہ ہے بندے کی اوقات ، جو وہ کھا کر  زندہ رہتا ہے ،۔

گوسن !۔
کیا آپ گوسن کو جانتے ہیں  ؟
ایک بہت ہی امیر لبنانی  جو کہ کل جاپانی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوا ہے ،۔
اس کی تنخواہ کروڑوں میں تھی ،اس کو نسان کی چئیرمین بنایا گیا ،۔
فرانسیسی کار میکر کمپنی رینالٹ کا بھی چئیرمین تھا،۔

لیکن اس نے پیسے کی کرپشن کی  اربوں کے گھپلے کئے ، بیوی کے نام پر کمپنیان بنائیں ، بیٹوں ، دامادوں  اور کئی رشتہ داروں کے نام پر پیسے کی ہیرا پھری کی  ،۔
پکڑا گیا ، ضمانت ہوئی ، پھر پکڑا گیا ، دوبارہ ضمانت ہوئی ہے ،۔
جاپانی سسٹم اس کو عدالت میں لے کر جائے گا اور قرار واقعی سزا بھی ملے گی ،۔
باقی کا تو مجھے پتہ نہیں 
لیکن جاپانی عزت دار لوگ ہیں ، اس لئے کسی مجرم کو سخت شرمندہ کرنا بھی ایک سزا ہی سمجھتے ہیں ،۔

کسی گیت میں سنا ہوا ایک شعر ذہن میں اٹک گیا ۔
کھانے پینے کے لئے ، کتنا پیسہ چاہئے آخر جینے کے لئے ؟؟؟
خاور کھوکھر

بدھ، 24 اپریل، 2019

پُراسرار بدھو


بچپن میں ایک کہانی پڑہی تھی کہ 
کسی گاؤں میں ایک لڑکا تھا جس کا اصلی نام سارے بھول چکے تھے اور اس کو بدھو کے نام سے پکارا کرتے تھے ،۔
ایک دن اس نے سوچا کہ اگر میں اپنا گاؤں چھوڑ کر چلا جاؤں تو ۔ شائد دوسرے گاؤں کے لوگ مجھے میرے اصلی نام عمران سے پکارنے لگیں گے 
اور اجنبی گاأں میں کسی کو کون بتانے والا ہو گا کہ ، عمران کو لوگ بدھو کہہ کر بلایا کرتے تھے ،۔
دور دراز کے کسی گاؤں میں جا کر اس نے ایک گھر میں ملازمت کر لیں ،۔
گھر کی مالکن نے اس کو بچہ کھلانے کے لئے دیا تو ؟
عمران بچے کو لے کر ایک درخت کے نیچے لیٹا کر سوچنے لگا کہ یہاں سے کمائی کر کے کیسے اپنے گاؤں والوں کو کچھ بن کر دیکھا دے گا 
کہ
بچے کے رونے اور چیخنے کی آوازیں سن کر اس کی ماں دوڑی ہوئی آتی ہے تو بچے کے جسم پر چینٹیوں کا لشکر چڑھا ہوتا ہے ،۔
بچے کی ماں عمران کو سخت سست کہہ کر اس کو بتاتی ہے کہ بچے کو اپنی کمر پر ڈال کر رکھو ، بلکہ ایک پٹکے کو اپنی کمر سے باندھ لو جس سے بچہ تمہاری کمر پر اٹکا رہے ،۔
اور جا کر کنوئیں سے پانی بھر کر لاؤ !،۔
عمران کنوئیں سے پانی بھر نے کے لئے جاتا ہے ،۔ 
ڈول کو کنوئیں میں پھینک کر ڈول کو کھینچنے والی چرخی کو گما گما کر ڈول کو اوپر کھینچتا ہے ،۔
بچہ اس کی پشت پر ہوتا ہے ،۔
جب ڈول اس بلندی پر پہنچتا ہے کہ اس کو کھینچ کر کنوئیں کی رینج سے نکال کر پانی کو مٹکے میں ڈالا جا سکے
تو 
عمران چرخی چھوڑ کر ڈول کی طرف لپکتا ہے ،۔
ڈول کوئیں میں گرتا ہے ، گروم کی آواز آتی ہے ،۔
عمران لپک کر کنوئیں میں جھانکتا ہے 
کہ
پشت پر رکھا انسانی بچہ کنوئیں میں گر جاتا ہے ،۔
پاس کام کرتے دیہاتی مدد کو پہنچتے ہیں اور بچے کو باہر نکالتے ہیں ،۔
بچے کی ماں بھی وہیں پہنچ جاتی ہے بدحواس ماں !!،۔
عمران کا منہ دیکھ کر کہتے ہے ۔
تم تو بدھو ہو ، بلکل بدھو !!م،۔
عمران بدک کر اس عورت کا منہ دیکھتا ہے 
اور غصے سے چیخ چیخ کر کہتا ہے ،۔
یہ ضرور کسی شریک کام ہے جس نے تمہیں میرا چڑ والا نام بتایا ہے ،۔
ضرور تم میرے گاؤں کے کسی بندے سے تعلق رکھتی ہو ، جس نے تمہیں میرا نام بدھو بتایا ہے ،۔
عورت اپنی پریشانی میں ہوتی ہے ،۔اس کو کام سے نکال دیتی ہے ،۔
لیکن یہ راز کبھی بھی نہیں بتاتی کہ اس کو عمران کا نام بدھو کس نے بتایا تھا ،۔
کیا اپ اس کہانی سے واقف ہیں ؟
کیا اپ جانتے ہیں کہ اس عورت کو کس نے بتایا تھا کہ اس لڑکے کا نام بدھو ہے ؟

منگل، 23 اپریل، 2019

جاپان کے روشنی کے منارے




اس تصویر میں پھولوں کے ساتھ دو ٹانگوں پر کھڑی محراب کو جاپانی میں " تورو " کہتے ہیں ،۔
دوٹانگوں پر سر انسانی سر کی طرح رکھا ہوا مینارہ  جن میں کھڑکیاں بنی ہوئی ہیں اس کو  " ہی بوکورو " یعنی کہ آتش دان کہتے ہیں ،۔
جاپان میں اپ کو اس طرح کے تورو کئی جگہ رکھے ہوئے مل جائیں گے ،۔
لیکن اپ اس بات کو عام سا نہ لیں 
کہ
ہر تورو اپنی اپنی جگہ ایک تاریخ رکھتا ہے ،۔
ہر تورو کے جب قریب جائیں تو اس کے نیچے پتھر کو کرید کر لکھا ہوتا ہے کہ یہ تورو کس نے بنایا ، اور کس نے کس کو گفٹ کیا ، یعنی کہ پتھر پر لکیر تحریر ہوتی ہے ،۔

ہر ہر تورو اپنی اپنی ساخت میں یونیک چیز ہوتا ہے ،۔
پرانے زمانے میں ہزاروں سال پہلے جب ابھی لوہے کے اوزار کم استعمال ہوتے تھے اس وقت پتھر کو پتھر سے توڑ کر گھڑ کر تورو بنائے جاتے تھے ،۔.
پھر لوہے کی چھینیوں سے گھڑے جانے لگے ،۔
پرانے زمانے میں جب یہ تورو سورماؤں یعنی بشی سامرائے لوگوں کی طرف سے شاہی خاندان کے لوگوں کو تحفتہ دئے جاتے تھے ،۔
سامروائے لوگ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے تھے ،۔
ان تحائف کے پیچھے اس بات کا اظہار پنہاں ہوتا تھا کہ 
ہمارے علاقے کے کاریگر لوگ کتنے ہنر مند اور نفیس ہیں یا کہ کتنی مہارت رکھتے ہیں ،۔
اور سامرائے جاگیر دار یہ تورو اپنی جاگیر میں رکھتے تھے ، جن میں اوپر آتش دان میں رات کو آگ جلائی جاتی تھی تاکہ اندہیرے میں چلتے ہوئے راہوں کا تعین کیا جا سکے ،۔
اپ اس کی مثال سمندر کے کناروں پر لگے ہوئے روشنی کی میناروں جیسی سمجھ لیں ،۔
یہ یہ تورو زمین پر جاگیر میں یا کہ آبادیوں کے درران میں روشنی کے میناروں کی طرح ہوا کرتے تھے ،۔
اس تصویر میں نظر آنے والا تورو ، ٹوکیو میں پاکستان کی ایمبیسی کے قریب والے قریب والے پارک میں رکھا ہوا ہے ،۔
میں نزدیک جا کر اس کی تاریخ وغیرہ کا مطالعہ نہیں کر سکتا ،۔
لیکن جیسے ہی میں نے یہ تصویر  فیس بک پر اپ لوڈ کی تو میرے ایک جاپانی محسن کا فون آیا کہ 
یہ تورو کہاں رکھا ہوا ہے ؟
اس قسم کے ایک تورو سے میں بھی واقف ہوں جو کہ یوکوما کے علاقے میں رکھا ہوا ہے 
اور مجھے علم نہیں تھا کہ اس ساخت کا کوئی دوسرا بھی ہو گا ،۔
اس جاپانی دوست کے فون کی وجہ سے تورو کے متعلق  یہ پوسٹ لکھنے کا خیال ہوا کہ
جاپان متعلق آگاہی کی ایک پوسٹ تورو پر بھی ہونی چاہئے ،۔

جمعرات، 18 اپریل، 2019

جاپان کی ابابیلیں




پاکستان میں اور شائد ہند میں بھی ابابیل کو سردیوں کا پرندہ سمجھا جاتا ہے ،۔
سردیوں میں ٹھٹھرتے ہوئے ابابیل بجلی کی تاروں پر غول کے غول نظر آتے ہیں ،۔
ابابیل ایک مہاجر  پرندہ ہے جو موسموں کے ساتھ  وطن تبدیل کرتا رہتا ہے ،۔
ہم پچپن میں سمجھتے تھے کہ سردیون کا یہ پرندہ  جب پنجاب میں سردی ہوتی ہے تو آتا ہے اور جب کسی اور علاقے میں سردی ہوتی ہے تو وہاں چلا جاتا ہے ،۔

لیکن 
یہاں جاپان میں ابابیل کو  گرمیون کا مہاجر پرندہ سمجھا جاتا ہے ،۔
یہاں جاپان میں ابابیل گرمیون میں آتا ہے 
اور یہاں انڈے بچے پیدا کرتا ہے م،۔
یعنی کہ جاپان اس پرندے کا اصل وطن  بھی کہا جا سکتا ہے ،۔
جاپان کے دیہاتی گھروں  اور گوداموں میں گھونسلے بنا کر انڈے بچے پیدا کرنے والے  اس پرندے  کو جاپانی لوگ محفوظ ماحال دیتے ہیں ،۔
اگر کہیں کسی کے گودام میں ابابیل گھونسلا بنا لے تو ؟
گودام کا  مالک گھونسلے کے نزدیک کی چیزوں کو اس وقت تل نہیں چھیڑتا جب تک کہ ابابیل کے بچے جوان ہو کر اڑ نہیں جاتے ،۔
اج صبح  میں جب دودہ لینے کے لئے ایک سٹور پر رکا !،۔
تو میں نے دیکھا کہ راستے میں ایک ٹوکری رکھ کر اس پر لکھا ہوا ہے ،۔
اوپر ابابیل کا گھونسلا ہے ، بیٹوں سے بچ کر چلیں ،۔
اوپر دیکھا تو چھت کے ساتھ لگے پائپ کے اوپر ابایل کا گھونسلا ہے اور سٹور کی انتظامیہ نے انسانوں   کو ابابیل کی بیٹ سے بچانے کے لئے ایک چھتری الٹی لٹکا دی ہوئی ہے م،۔
کہ
بیٹں اس چھتری میں گریں لوگوں کے کپڑے خراب نہ کریں ،۔
مجھے یہ دیکھ کر بڑی شدت سے احساس ہوا کہ میرے کسی بھی گھر میں یا کہ زمینوں میں ابابیل نے کبھی گھونسلا نہیں بنایا ،۔
مدت ہوئی انسانوں نے بھی مدد مانگنے کے لئے میرے پاس آنا چھوڑ دیا ہوا ہے ،۔
شائد اسی لئے میری چوریاں زیادہ ہوتی تھیں  ،۔
اج میں ایک بریڈ صرف پرندوں کے لئے خرید کر لایا ہوں اور کل سے چاول بکھیرا کروں گا ،۔

بدھ، 17 اپریل، 2019

جاپان کے اوّلین دن


سن اٹھاسی میں جب جاپان آئے تو اس وقت کے پاکستانی کم ہی لوگ خوش لباس ہوا کرتے تھے ،۔
سب نے ایک ہی جیسی لیدر کی  اصلی یا نقل جیکٹ پہنی ہوتی  تھی ، تنگ پانچئے والی جین جس کی جیبوں کے پاس تعریز بنے ہوتے تھے ،۔

چھٹی والے دن کچھ خوش لباس لوگ  انٹری والا سوٹ پہن کر نکلتے تھے ،۔
پاکستان سے منگوائی ہوئی بنیانیں اور انڈر وئیر کسی  بھی اپارٹ کے سامنے دھو کر لٹاکائے ہوتے تھے اور کئی کئی دن لٹکے رہتے تھے م،۔
تولئے کو دھونے کا رواج کم ہی تھا ، جب تولیے پر میل نظر آنے لگتی تھی تولیہ اس وقت ہی مشین میں ڈالا  جاتا تھا ،۔
ورنہ تولئے کو دھونے کی کیا ضرورت ؟ دھلے ہوئے جسم کو پونچنے والا تولیہ بھہ کہیں گندا ہوتا ہے !،۔
جوگر جوتے ایسے پاپولر تھے کہ سوٹ زیب تن کر کے بھی جوگر پہنے ہوتے تھے ،۔
پھر جی زمانہ بدلا 
میں تو یہاں جاپان میں تھا نہیں 
لیکن 1996ء  سے لے کر 2006ء تک جاپان میں اتنی کمائی ہوئی کہ خدا کی پناھ ، سوائے ان لوگون کے جو جھوٹ بولتے ہیں ، جوا کھیلتے ہیں ، سبھی لوگ دولت مند ہو گئے ،۔
یاد رہے میں اس دوڑ میں شامل ہی نہیں تھا 
میں سیاحت کے لئے نکلا ہوا تھا ، دنیامیں خجل ہو رہا تھا ،۔
اگر میں بھی جاپان میں رہتا تو ؟
شائد اج میں بھی دولت مند ہوتا 
لیکن پھر میں ے انسان نہیں رہنا تھا ،۔
بے تحاشا دولت نے  مجھے اس بات کا شدت سے احساس دلا دینا تھا کہ
میرا ڈی این اے  دیگر لوگوں سے مختلف ہے ،۔
جیسا کہ اج میں دیکھ رہا ہوں ،۔
ہمارے ساتھ آئے لوگ 
بلکہ میرے پیسے لے کر بھاگ گئے لوگ میرے کام پر لگوائے ہوئے لوگ اور جن کو مکانوں  کا انتظام کر کے دیا تھا ،۔
وہ سارے لوگ عظیم لوگ بن چکے ہیں ،۔
اللہ تعالی ان کی عزت میں اضافہ فرمائے اور مجھے بھی رب دولت صحت  اور خوشیوں سے مالا مال کرئے 
آمین!،۔
جب جاپان مقیم پاکستانی لوگ دولت کی دوڑ میں بھاگ رہے تھے میں اس وقت 
دنیا کے مشاہدے ، مذاہب کے تقابل اور علاقائی اور غیر علاقائی روایات  کی سٹڈی کر رہا تھا ،۔
میرے  ساتھ اس دوڑ میں شمال لوگوں میں سے کوئی بھی جاپان میں نہیں ہے ،۔
جو لوگ اس دوڑ میں شامل ہیں ہو سب میرے لئے صاحب عزت ہیں اور ان کے ساتھ دوڑنے کا مزہ بھی آتا ہے ،۔

جمعرات، 28 مارچ، 2019

جاپان کا کینگو



جاپان میں 1989ء سے ہے سے نام کا گینگو (شہنشاھ سے منصوب دور کا نام) چل رہا تھا جوکہ 2019ء سے تبدیل ہو جائے گا ،۔
نئے دور کے نام کے لئے اعلی سرکاری لوگوں کیا ایک کمیٹی کام کر رہی ہے ، جن کے فون بند ہیں اور نئے دور کے نام کو جب تک کہ سرکاری طور پر اعلان نہ ہو جائے لیک ہونے سے روکا جارہا ہے ،۔
یکم اپریل کو نیا گینگو اعلان ہونا متوقع ہے ۔

جاپان میں ، شہنشاھ سے منسوب دور کا نام ماھ سال کی گنتی کے علاوہ بھی بہت گہرے مفہوم رکھتا ہے ،۔
کسی بھی دور کا نام قوم  کے ذہنوں پر حاوی ہوتا ہے ،۔
انگریزی کلینڈر سے ماھ سال تو گنے جا سکتے ہیں لیکن  گینگو (شہنشاھ سے منصوب دور کا نام) سے ہسٹری  بنتی ہے سوچی جاتی ہے ،۔
انگریزی میں اس کی مثال اسطرح دی جا سکتی ہے جیسا کہ انگریز لوگ ویکٹورین دور یا کہایڈورڈیندور کے عدالتی فیصلوں جنگوں یا کہ معاشرتی تبدیلوں کے لئے استعمال کرتے ہیں اسی طرح 
جاپان میں  ہے سے کے دور کو  اکنامک کے ببل  اور ببل کے پھوٹ جانے سے یاد کیا جائے گا ،۔
 جس میں ملک کی اکنامک میں غفلت اور استحکام  کا اداراک ہوا ،۔
ہے سے کے دور میں ہی  بینالقوامی اکنامک میں جاپان نے اپنا سکہ منوایا ،۔

مشرقی ایشا میں ساؤتھ کوریا اور چین کی ترقی  اور ان اقوام کا جاپان کے مدمقابل ہونا ،۔
اندورونی طور پر 1995ء کا کوبے والا زلالہ اور 2011ء والی فوکوشیما والی تسونامی اور اس کی وجہ سے ہونے والی ایٹمی تابکاری والی افات کی وجہ سے بھی  ہے سے  کے دور کو یاد رکھا جائے گا ،۔
ہے سے کے تیس سال کے دور میں  جاپان نے امن دیکھا ہے ،۔
مکمل امن اندرونی اور بیرونی طور پر یہ دور امن کے دور کے طور پر مثالی دور گزرا ہے ،۔
ہے سے کے دور میں ہی جاپان نے جنگ میں مقابل اقوام چین اور انڈیا سے اقتصادی تعاون بڑھا کر جنگ کی تلخیوں سے مبرا ماحول بنایا ہے ۔

ہے سے ، سے پہلے کا دور جس کو شووا ہو دور کہا جاتا ہے ،۔

64 سالہ شوا دور، جو 1989 تک جاری رہا،  دو عالمی جنگوں کے بعد دہائیوں میں جاپان کے بحالی اور عالمی طور پر جاپان کی حثیت کے استحکام کا نام ہے .

جاپان کے بڑے بزرگ جنہون نے جنگ دیکھی ہے ، وہ  بزرگ امن کے اس دور کی طرح انے والے گینگو میں بھی امن کی امید سے ہیں ،۔

جاپان میں سرکاری فائلوں میں گیگوری کلینڈر  کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے 
بلکہ 
گینگو یعنی شہنشاھ کے دور کا نام ستعمال کیا جاتا ہے ،۔
اس وقت جاپان  کی کمپنیوں اور سرکاری دفاتر کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ گینگو کا اعلان ہوتے ہیں کیسے اور کتنی جلدی کمپیوٹر کے سسٹم اور پروگرامز اور اپلیکیشن میں گیگو تبدیل کرنا ہے ،۔
نیا دور یکم مئی 2019ء کے دن سے شروع ہو گا ،۔
گینگو کا اعلان یکم اپریل کو متوقع ہے ،۔
امید کی جا رہی ہے کہ ایک مہینے کا عرصہ  گینگو کی تبدیلی کے لئے کافی ہے ،۔
راقم کا مشاہدہ ہے کہ بادشاہوں کے بدلنے سے زمین پر تبدیلیاں آتی ہیں ،۔
ماحال کے رنگ اور ڈیزائین کی تبدیلی  سے لے کر اقوام کی عادات تک میں تبدیلی آتی ہے ،۔
جاپان میں مقیم وہ غیر ملکی جو شوا کے دور سے جاپان میں ، اگر ان کا مشاہدہ ہے تو 
ان کو احساس ہو گا کہ  شوا کے دور میں سائین بورڈ  افقی ہوا کرتے تھے جو کہ ہے سے کے دور میں عمودی ہو گئے ،۔
یہ ایک صرف مثال ہے ،۔
مشاہدھ رکھنے والوں کو ہزاروں تبدیلیاں نظر آتی ہے ،۔
تحریر خاور کھوکھر

منگل، 19 مارچ، 2019

پٹھان کی گنتی اور کاسٹک سوڈا


مجھے یاد ہے انیس سو اناسی میں  ہمارے ہائی سکول میں  لیبارٹرئیر  رانا ادریس تھا اور سائینس ٹیچر ماسٹر منور صاحب ،۔
ماسٹر صاحب اردو  میں بات کیا کرتے تھے ،۔
ایک دن  لیبارٹری کے پاس سے گزرتے ہوئے انہوں نے مجھے کھڑا کر لیا اور 
پوچھنے لگے 
کہ
کیا کاسٹک سوڈا پانی میں حل پذیر ہوتا ہے ؟
میں نے جواب دیا ، جی ہاں  ، بلکل حل پذیر ہوتا ہے ،۔
انہوں نے کہا کہ اپ کا لیبارٹرئیر کہہ رہا ہے کہ کاسٹک سوڈا پانی میں حل پذیر نہیں ہوتا ،۔
اور ادریس کو آواز لگائی ، ادریس صاحب ذرا یہاں تشریف لائیں ،۔
 اور اس بچے کو بھی  بتائیں کہ کاسٹک سوڈا پانی میں حل پذیر ہوتا ہے کہ نہیں؟
ادریس صاحب کہنے لگہ کہ کاسٹک سوڈا پانی میں حل پذیر نہیں ہوتا ،۔
میں نے ادریس صاحب سے پوچھا
کہ
صابن بنانے والا کاسٹک جس کو پنجابی میں کاسٹر کہتے ہیں کیا وہ پانی میں ڈالیں تو پگلتا ہے کہ نہیں ؟
ادریس صاحب کا جواب تھا پگل جاتا ہے ،۔
تو اسی کو کاسٹک سوڈا کہتے ہیں ،۔
ماسٹر جی اردو میں پوچھ رہے تھے 
اور میں نے پنجابی میں پوچھا تھا ،۔
یہ ہوتا ہے فرق مادری زبان میں تعلیم کا ،۔

دوسرا واقعہ ہے 
یہاں میرے پاس ایک پٹھان کام کرتا تھا
جو کبھی کبھی سیکنڈ  ہینڈ پُلر لے آتا تھا 
جو کہ کنٹینر کی لوڈنگ میں کام آتے ہیں ،۔
ایک پلر ایک ہزار کا ہوتا تھا ،۔
وہ تعداد بتا دیتا تھا اور میں ناگرہ کو اس کی ادائیگی کا کہہ دیتا تھا ،۔
ناگرہ ہر دفعہ  پُلر گِن کر پیسے دیتا تھا ،۔
کئی دفعہ پٹھان کی بتائی ہوئی تعداد ٹھیک نہیں ہوتی تھی ،۔
ایک دفعہ پٹھان نے  ساٹھ پُلر بتائے تھے لیکن ناگرہ کے گنتی کرنے پر اٹھاون نکلے تھے ،۔
میں نے پٹھان کو کہا کہ وہ پلر کم ہیں ،۔
ناگرہ گن کر گیا ہے ،۔
پٹھان نے مجھے پاس کھڑا کیا اور میرے سامنے گننے لگا ،۔
پٹھان اردو میں گن رہا تھا ، پُلر ساٹھ بن رہے تھے 
لیکن مجھے پتہ چل گیا کہ بات کہاں غلط ہے ،۔
میں نے اس کو کہا کہ میرے سمجھنے ناں سمجھے کو چھوڑو 
ایک دفعہ پشتو میں گنتی کر کے دیکھو 
پشتو میں گنتی کرتے ہی وہ خود کہتا ہے ہاں یہ تو اٹھاون ہی ہیں ،۔
کیونکہ 
اردو میں گنتی کرتے ہوئے اسکے منہ سے چھبیس کے بعد اٹھائیس نکل جاتا تھا اور چھتیس کے بعد اٹھتیس ،۔
یہ ہوتاہے فرق مادری بولی اور غیر بولی کا !!،۔

تحریر خاور کھوکھر

Popular Posts