بدھ، 16 جنوری، 2019

سیاسی وابستگی


کہیں کسی امیر علاقے کے گھروں کے نوکر مل بیٹھے اور لگے اپنے اپنے مالکوں کی تعریفیں کرنے ،۔
میرے مالکوں کا کچن اتنا بڑا ہے کہ 
ہم کھانا پتیلوں ، دیچکوں میں نہیں ، دیگوں میں پکاتے ہیں دیگوں میں !!،۔
ہاں !!!!!!۔
دوسرا کہاں کم تھا کہ بتانے لگا ،۔
کچن کی وسعت تو ہمارے مالکوں کی ہے ،۔
صاحب جب کھانا چیک کرنے آتے ہیں تو کچن میں گاڑی  پر گھومتے ہیں ، ٹیوٹا کرولا پر ، ہاں !!!!!۔
کرولا پر !،۔
تیسرا ہمم کر کے منہ پھیر لیتا ہے ،۔
سب حیران ہو کر اس کا منہ دیکھتے ہیں کہ تم ہی کچھ بتاؤ کی ہمارے صاحبوں کے کچنوں میں کیا کمی ہے ؟
تو تیسرا گویا ہوتا ہے ،۔
یارو ! میرے مالکوں کے کچن کی وسعت کا اندازہ بس ایک مثال سے لے لو کہ 
جب ہم آلو ابلنے رکھتے ہیں  تو ؟
ان کو چیک کرنے کے لئے کہ ترم ہوئے ہیں کہ نہیں ، ہم آبدوز استعمال کر تے ہیں ،۔
آبدوز ،یعنی سب میرین !!!،۔
 مجھے یہ لطیفہ اس لئے یاد آیا کہ 
سیاسی کارکناں اپنے اپنے مالکوں کی تعریفوں مں کچھ اس طرح رطب السان ہیں ،۔
سادگی  کی ایسی مثالیں ہیں کہ 
ایک ناقابل تحریر لطیفہ 
اپنے خادم حسین اور گنڈہ سنگھ والا یاد آ جاتا ہے ،۔
خاور کھوکھر

پیر، 17 دسمبر، 2018

جاپانی لوگ



اصل میں جاپان کے کلچر میں "ہارا کیری " کی رسم پائی جاتی ہے ،۔
ہار جانے پر ، جھوٹ پکڑے جانے پر جاپانی لوگ غیرت سے خود کشی کر لیتے ہیں ،۔
اس کلچر میں جاپان کی پولیس کی ذمہ داری ہے کہ غلطی کرنے والے کو گرفتار کر کے عدالت میں زندہ اور مکمل پیش کرئے ،۔
اس لئے جاپان کی پولیس کی تربیت کی جاتی ہے اور اس طرح کے انتظامات دئے جاتے ہیں کہ بندہ خود کشی نہ کر سکے،۔
مجھے یاد ہے ایک جاپانی کا کیس ہوا تھا ، 1985ء میں لاس اینجلس میں ایک ڈاکے کی واردات میں اس کی بیوی قتل ہو گئی تھی ، میورو نامی اس جاپانی پر امریکہ پولیس کو شبہ تھا کہ اس نے یہ قتل خود کروایا ہے ،۔ 
میورا ضمانت کروا کر جاپان واپس آ گیا تھا ،۔
لیکن پھر کبھی امریکہ واپس نہیں گیا ،۔
امریکی عدالت نے اس کو اشتہاری قرار دے کر اس کے گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے تھے ،۔
دو ہزار سات میں میورا میکرونیشین جزائیر کے ایک جزیرے گوام کی سیر کو گیا تو اس کو گرفتا کر لیا گیا تھا ،۔
میورا کو علم نہیں تھا کہ میکرونیشن جزائر امریکہ کی علمداری میں آتے ہیں ،۔
جس کا کہ اس نے بڑے تاسف سے اظہار بھی کیا تھا ،۔
ریمانڈ کے بعد جب اس کو گوام سے لاس اینجلس منتقل کرنے کے لئے لے کر جانے لگے تو اس نے دعوا کیا تھا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہو گا ،۔
امریکی پولیس اس پر ہنس رہی تھی اور جاپانی میڈیا بڑی سنجیدگی سے بتا رہا تھا کہ
میورا ساچو نے کہا ہے کہ وہ امریکی عدالت میں پیش نہیں ہو گا ،۔
امریکی پولیس جاپانی کلچر اور روایات سے نابلد تھی ،۔
میورا ساچو کو ہتھ کڑی لگا کر لاس اینجلس کی پرواز میں سوار کر لیا تھا ،۔
تیرہ گھنٹےکی اس پرواز میں میورا نے اپنی زبان کو دانتوں میں لے کر اپنی تھوڑی پر اپنے ہی گھٹنے سے زبردست وار کیا ، جس سے اس کی زبان کٹ گئی ، کٹی ہوئی زبان کو میورا نگل گیا تھا اور سار اخون اندر گرنے کی وجہ سے مر گیا تھا ،۔
امریکی پولیس میورا ساچو کو امریکی عدالت میں پیش نہیں کر سکی تھی ،۔
یہ سن دو ہزار سات کا واقعہ ہے ،۔

نمبر ون


ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔
کہ  کسی ملک میں کوئی حاضر سروس فوجی افسر ایک جاپانی کو بتا رہا تھا کہ 
پاکستان کی فوج دنیا کی نمبر ون فوج ہے ،۔
جاپانی ، مسکرا کر طرح دے گیا 
لیکن افسر صاحب برا منا گئے کہ اس نے میری بات کو سنی ان سنی کیوں کر دیا ہے ،۔
افسر صاحب کہنے لگے اپ دنیا کی کسی بھی فوج سے کسی بھی لحاظ سے تقابل کر کے دیکھ لیں ۔
اپ کو پاک فوج سے بہتر کوئی فوج نہیں ملے گی ،۔
بہادری شجاعت  دلیری ، نظم ضبط کیا کیا کوالٹیاں ہیں جو پاک فوج میں ہیں ،۔
جاپانی  ، دھیمی آواز میں گویا ہوا،۔
دوسری جنگ عظیم میں ای وو جیما کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ لڑتے ہوئے جاپان کی فوج کے سارے ہی فوجیوں نے جان دے دی تھی ،۔
اس جنگ میں مر جانے والے جاپانیوں کی نسبت  مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد جاپانیوں سے کہیں زیادہ تھی ،۔
کوئی ایک جاپانی فوجی بھی نہیں بچا تھا ،۔
سب نے اپنے ملک کے لئے قوم کے لئے جان دے دی تھی ،۔
لیکن جاپان جنگ ہار گیا تھا اس لئے ان شہیدوں کا ذکر کم ہی ہوتا ہے ،۔
اس کے مقابلے میں ، میں پاک فوج کو جانتا ہوں 
اکہتر میں نوئے ہزار زندہ ہی قیدی بنا لئے گئے تھے ،۔
جاپانی فوج کے تو جن سپاہیں تک جنگ کے اختتام کی اطلاع نہیں پہینچی تھی 
وہ فلپائین اور گوام میں اسّی کی دہائی تک لڑتے رہے ہیں ،۔
آپ نے تو ہتھیار ڈال دئے تھے ،۔

حاصل مطالعہ 
ایک نمبر ہونے اور ایک نمبر کہلوانے میں بہت فرق ہوتا ہے ،۔
سر جی !!!،۔
بندے کو بات کرتے ہوئے تھوڑا خیال کر لینا چاہئے کہ بات کس سے کر رہا ہے ۔

جمعہ، 7 دسمبر، 2018

قدرت کے اسرار اور اقوام


خدا کے نظام پر جتنا غور کریں اتنے ہی اسرار عیاں ہوتے ہیں ،۔
مثلاً ، اس وقت زمین پر دوائیں بنانے والی تین اقوام ہیں ، جو تحقیق اور تکنیک میں ٹاپ پر ہیں ،۔
اور ان تینوں اقوام کو تین مختلف  امراض سے نوازا گیا ہے 
تاکہ ان کی تیار کی ہوئی دوائیں کم علم اور نکمی اقوام کے کام آ سکیں ،۔
امریکی
جرمن 
اور جاپانی!،۔
اوّل الذکر امریکہ کو بسیار خوری سے ہونے والی امراض یعنی میٹابولٹکس ، شوگر ، بلڈ پریشر جیسے بیماریاں دی گئیں ہیں ،۔


قدرت بڑی فیاض ہے ، صدیوں سے انسان بھوک سے لڑتا آیا ہے ، اس بھوک کی لڑائی پر بڑا ادب لکھا گیا بڑی کہانیاں اور
 کرب لکھے گئے ،۔
لیکن پھر کھاد کی دریافت ہوئی ، فارمنگ کو منظم کر دیا گیا ، تو ؟
کھاد کی دریافت کے جرم کی سزا کہہ لیں کہ کچھ اور خوراک کی بہتات کی قباحتیں بھی رب نے امریکہ کودی ہیں ،۔
اور امریکہ اس متعلق داوئیں بنا بنا کر دنیا بھر کے کام چور اور سست الوجود لوگوں کی زندگیاں بڑھا رہا ہے ،۔


خوراک کی بہتات ہوتی چلی گئی ، ادھ صدی پہلے جو انسان بڑھتی ہوئی انسانی ابادی سے خوف زدہ تھا ، ، اج انسانی ابادی کو بڑھانے پر زور دے رہا ہے ،۔

آدھ صدی پہلے تک فیملی پلاننگ اور برتھ کنٹرول کی داوئیں بنانے والے ڈچ لوگوں کو رب نے آبادی کی کمی کی قباحت میں مبتلا کر دیا ہوا ہے ،۔

اور جرمن لوگ سپرم کی صحت ، زچہ بچہ کی زندگیاں بچانے والی دواؤں پر تحقیق کر کرکے نسل انسانی کی بقا کا کام کر رہے ہیں ،۔
 اس کے بعد آتے ہیں جاپانی ،جو نہ تو بسیار خور ہیں اور نہ ہی کام چور ، اس لئے ان کی عمریں لمبی ہوتی جا رہی ہیں ،۔
قصص الانبیاء میں لکھا ہے کہ جب ذوالقرنین بادشاھ، آب حیات کے چشمے پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ وہاں اپنے ہی فضلے میں لتھڑے ہڈیوں ڈھانچے بنے ضعف کے عذاب میں مبتلا موت کی دعائیں کر رہے ہیں ،۔
انہوں نے آب حیات تو پی لیا تھا
لیکن اس بات سے لاعلم تھے
کہ لمبی عمر بھی اپنی جگہ ایک کرب ہے ،۔
جاپانی لوگ اس کرب کو کم کرنے والی دوائیں بنا رہے ہیں ،۔
بڑھاپے سے جسم میں اٹھنے والی دردیں ، خلیوں میں انے والے بے ترتیبی ، کے علاوہ ایسے زیر جامے بھی بنا رہے ہیں  جو ضعیف لوگوں کے کام آتے ہیں ،
کہ
ضعف سے اپنا پیشاب بھی ضبط کرنے کی طاقت نہیں رہتی ،۔

مجھے اج یہ باتیں اس لئے بھی یاد آئیں کہ
نکمی اقوام میں جب قدرت نے اس قوم کے معذور یا مجبور لوگوں کے لئے کام کروانا ہوتا ہے تو ؟
یا تو ترقی یافتہ اقوام کے دل میں رحم ڈال دیتا ہے 
یا پھر اس نکمی قوم کے اہل اقتدار کو اس مجبوری یا بیماری میں مبتلا کردیتا ہے ،۔
پاکستان میں معذور لوگوں کی سہولت کے لئے وہیل چئیر کے لئے راستے بنانے کا کام اور اس کام کے اصول اور قانون ،اللہ سائیں نے اپنے جرنل ضیاں صاحب سرمے والی سرکار سے کروائے تھے ، ان کو ایک معذور بیٹی عطا کر کے ،۔
اس بات میں بڑی نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے ، سوچ رکھنے والوں کے لئے ،۔
افغان جہاد کے نام پر شروع کی گئی جنگ سے میرے وطن میں نشے در کر آئے ، نشئی لوگوں کی بہتات ہو گئی ،۔
نالیوں میں لڑھکے ہوئے جسم ،گند میں لتھڑے ہوئے لوگ ، بہتات میں ہو گئے ۔
تو ؟
رب نے 
میرے وطن کو 
ایک نشئی حکمران دے دیا ہے ، جو اج نشئی لوگوں کے لئے شیلٹر ہاؤس بنا رہا ہے ،۔
نشئی لوگوں کے تحفظ اور تیمارداری کا کام کر رہا ہے ،۔
بے شک یہ حکمران بھی اللہ کی دین ہے کہ اس معاشرے کے ان مجبور لوگوں کی مدد کے لئے لایا گیا ہے ، جو اپنی لمحوں کی لرزش سے اپنی عمریں خراب کر چکے ہیں ،۔
اب اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو کوئی ایسا حکمران بھی دے جس کا اپنا سکّا بیٹا مسنگ پرسن ہو چکا ہو کہ اس کو مسنگ پرسنز کے لواحقین کے درد کا احساس ہو اور مسنگ پرسن کا بھی کوئی پرسانِ حال نکل آئے ،۔
آمین !۔
خاور کھوکر


ہفتہ، 3 نومبر، 2018

کتاب چور لڑکی


یہاں جاپان میں ایک لڑکی کتابیں چوری کرتی ہوئی پکڑی گئی ہے ،۔
ہائی سکول کی سٹوڈنٹ یہ لڑکی اسٹیشن کے سامنے والی بک شاپ  میں داخل ہوتی ہے ،۔
گھوم پھر کر چلی جاتی ہے ، چند گھنٹے بعد دوبارہ آتی ہے ،۔
سٹور میں گھومتی پھرتی ہے ، سٹور کیپر  اس لڑکی کا بیگ چیک کرتا ہے تو اس میں دس بارہ کتابیں ہوتی ہیں جن کی قیمت ادا نہیں کی گئی ہوتی ہے ،۔
سٹور کیپر  پولیس بلا لیتا ہے ، پولیس کے سوال کرنے پر لڑکی بتاتی ہے کہ اس سے پہلے والے پھیرے میں بھی اس نے کوئی دس کتابیں چوری کی ہیں ،۔
حالانکہ کہ لڑکی نابالغ ہے لیکن اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،۔
کیونکہ مال مسروقہ کی مالیت کوئی چھتیس ہزار  ین بنتی ہے جو کہ  پولیس کیس تیار کرنے کے لئے جاپانی سماج میں خاصی بڑی رقم سمجھی جاتی ہے ،۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لڑکی ان کتابوں کا کرتی کیا ہے ؟
جیسا کہ پچھلے سال اسی شہر میں ایک کیس ہوا تھا کہ ایک مڈل سکول کی طالبہ پکڑی گئی تھی جو مانگا اور کامک بکس چوری کر کے ان کتابوں کو پرانی کتابیں خریدنے والی دوکان پر بیچ کر جیب خرچ نکالتی تھی ،۔

لیکن اس کیس میں ایسا نہیں ہے ،۔
ہائی سکول کی طالبہ نے جو کتابیں چوری کی ہیں ان میں سے ایک کتاب کا نام ہے 
لوگ گریتھم کو سمجھنے کے اسان اور دلچسپ طریقے ،۔
باقی کی  ساری کتابیں بھی  خشک اور تحقیقی مواد سے بھری ہوئی ہیں ، جو کہ پرانی کتابوں کی دوکان پر  ناقابل فروخت ہیں ۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کتابیں اپنے پڑھنے کے لئے چوری کی ہیں ،۔
اس کیس میں لگتا ہے کہ لڑکی کو اپنی تعلیم کے لئے جس تحقیق کی ضرورت تھی ، وہ کتابیں اس کو سکول کی لائیبریری یا کہ بلدیہ کی لائیبریریوں میں میسر نہیں تھیں ، اس لئے اس نے یہ کتابیں چوری کی ہیں ،۔
اب دیکھیں کہ جاپانی سوسائیٹی  اس کیس کا کیا حل نکالتی ہے ،۔
ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکی اپنے شہر کی لائیبریری میں بھی جانی پہچانی شخصیت ہو ،۔
اور شہر کی انتظامیہ کو اپنی لائیبریری میں  ایسی کتابیں نہ رکھنے پر شرمندگی اٹھانی پڑے کہ جوان محقیقن کو چوری کیوں کرنا پڑی ؟
لڑکی کے والدین کو بلا  کر بھی شرمندگ دلائی جائے گی کہ ایسا کیوں ہوا ؟


جمعرات، 27 ستمبر، 2018

بابا رحما



بابا رحمت ، علاقے کا چوہدری تھا ، بابا رحمت بہت اچھا انسان  تھا ، اور اپنے گاؤں میں اس کو اپنی ریپوٹیشن کا بھی بہت خیال تھا ، ۔
مظلوموں کی داد رسی ، چوری کے مال کی برامدگی سے لے کر میاں بیوی کے جھگڑوں کو نپٹانے والے کاموں کے علاوہ  مسکینوں کی دانے غلے سے بھی مدد کرتا رہتا تھا ،۔
بابے کو علم تھا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کے لئے ایک مثال ہے ، اس لئے کسی غلط کام کو کرنے سے پرہیز کرتا تھا ،۔
ایک شام تھکا ہوا بابا رحمت لاٹھی ٹیکتا پیدل گاؤں میں داخل ہوتا ہے ، تو  چاچی رسولاں کو اس کی حالت پر ترس آتا ہے ،۔ 
بچپن سے بابے کی ساری رمزوں سے واقف چاچی پوچھتی ہے ، کوئی  شربت بناؤں ؟ ایک گلاس پیتے جاؤ ، تسکین ہو جائے گی ؟
بابے کی کراہ امیز آواز نکلتی ہے ،۔
نئیں نئیں ، شربت نئیں ، مجھے گھر پہنچنے کی جلدی ہے ،۔
چاچی پوچھتی ہے ۔
تو پھر گرم چائے بنا لیتی ہوں گیس کا چولہا ہے پانچ منٹ میں تیار ہو جائے گی ،۔
بابے کے منہ سے پھر وہی کراہ امیز  منمناہٹ ، نئیں  نئیں ، چاء وی نئیں  ! میں بس گھر چلتا ہوں  ،۔
چاچی قریب آ کر سرگوشی میں کہتی ہے ،۔
اچھو دبئی سے لایا تھا ، ولایتی کی بوتل  ایک کلاس پیتے جاؤ میں ابھی برف اور پانی ڈال کر لاتی ہوں ،۔
بابا رحمت چونک کر پرجوش سرگوشی میں کہتا ہے ،۔
نئیں نئیں ، پانی اور برف بھی نہیں ،  بس جلدی کرو  !،۔
حاصل مطالعہ 
کہ جی 
انسان کو انسان سمجھو ، کسی کے ذاتی فعلوں پر اس کو کافر نہ بنا دو ،۔
خاور کھوکر ۔

پیر، 17 ستمبر، 2018

جاپان کی آفات



جاپان زلزلوں اور طوفانوں کی سر زمین رہی ہے ،۔
یہاں یورپ یا کہ ہند کی طرح صدیوں پرانی عمارات  بہت کم ہیں کیونکہ زلزلوں کی وجہ سے عمارتیں گر جاتی ہیں ،۔
 جاپان صدیوں سے زلزلوں کے خلاف مدافعت کی تکنیک کی تعلیم حاصل کر رہا ہے ،۔
لیکن ابھی تک زلزلے کی پشینگوئی کرنا ناممکن ہے ،۔
دوسری بڑی آفت جس کا جاپان کو سامنا رہا ہے وہ ہیں تائیفون، طوفانِ باد وباراں ۔
ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ 
جب چنگیز خان کے بھیجے ہوئے لشکر کوریا کے  پانیوں سے داخل ہو کر جاپان پر حملہ آور ہوئے تو ان کو  بھی انہی طوفانوں نے تباھ کر دیا تھا ،۔
جاپانی لوگ ان ہواؤں کو کامی کازے کہتے ہیں ،۔
صدیوں سے جاپان اور کوریا کے درمیان حائل سمندر (جنوب مغرب) سے بن کر اٹھنے والے طوفانوں کی ایک حیرت انگیز بات نوٹ کی گئی ہے کہ پچھلے سال سے یہ طوفان جاپان کے جنوب مشرق سے اٹھ رہے ہیں ،۔
اج کے جاپان کو  چند سال سے دو نئی آفات کا سامنا ہے ،۔
 تاتسو ماکی اور  گے ری را گوس ، ،۔
تاتسو ماکی اور گے ریرا گوس کیا ہیں ؟
تاتسو ماکی ،  جس کو اردو میں بگولہ کہتے ہیں ، تاتسو ماکی  ایک بہت بڑا بگولہ  ہوتا ہے جو اپنے مرکز کے گرد سو میٹر تک  کا گھیر رکھتا ہے ،۔ تیز رفتار اور دیو قامت بگولا اچانک اٹھتا ہے اور دو چار سو میٹر سے لے کر ایک کلو میٹر کے علاقے میں تباہی مچا کر ختم ہو جاتا ہے م،۔
اس بگولے کی زد میں آئے ہوئے مکان ، گاڑیاں یا کہ دیگر چیزیں کاغذوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگتی ہیں ،۔
تاتسو ماکی کے گزرنے کے بعد اس طرح نظر آتا ہے جیسے کوئی مہیب دیو غصے میں یہاں سے گزرا ہو  ،۔
جس کے پنجے مارنے سے مکانوں کی چھتیں اکھڑ چکی ہوتی ہیں درخت اکھڑ کر بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، گاڑیاں اور ٹرک کھلونوں کی طرح بکھرے پڑے ہوتے ہیں ،۔

گے ریرا گوس ، یہ لفظ گوریلا جنگجو  سے لیا گیا ہوا لگتا ہے ،۔
کہ بارش کا طوفان گوریلا جنگجو کی طرح اچانک  حملہ آور ہوتا ہے اور نقصان کر کے چلتا بنتا ہے ،۔
کسی بھی علاقے میں اچانک بادل چھا جاتے ہیں ، جو بجلی کی کڑک چمک کے ساتھ اتنی شدت سے برستے ہیں کہ لگتا ہے کسی نے پانی کی بالٹی الٹ دی ہو ،  ایک دو کلو میٹر کے ایریا میں آسمانی بجلی کے گرنے سے  درخت جل جاتے ہیں انٹینا پر بجلی کرنے سے گھروں میں استعمال کرنے والی چیزیں جل جاتی ہیں ،۔
یک دم پانی کی پہتات سے نالیاں ابل پڑتی ہیں ، سڑکوں پر اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ گاڑیاں کھڑی ہو جاتی ہیں ،۔
پہاڑوں میں یک دم  پانی کی بہتات سے کچے پہاڑ پھسل کر نزدیکی مکانوں کو دفن کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی جانوں کا بھی زیاں ہوتا ہے ،۔
ہر دو افات یعنی گے ریرا گوس اور تاتسو ماکی کی پشینگوئی ممکن ہے ، لیکن بہت کم وقت پہلے ہی بتایا جا سکتا ہے کہ  انے والے چند گھنٹوں میں کسی علاقے میں یہ آفت آنے والی ہے ،۔

جمعرات، 13 ستمبر، 2018

انداز بیاں

پرائمری کلاسز کا ایک بچہ جو صبح عربی کی تعلیم کے لئے مدرسے بھی جاتا ہے ،۔
ایک دن اپنی ماں کو بتاتا ہے کہ اج مولوی صاحب نے موسی اور فرعون کا قصہ سنایا ہے ۔
ماں بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے دلچسپی سے پوچھتی ہے
مجھے بھی بتاؤ کیا قصہ سنایا ہے ؟
بچہ بتاتا ہے کہ موسی علیہ سلام یہودیوں کو لے کر فرعون کے حملہ آوروں سے بچا کر فرار ہو رہے تھے
کہ
آگے دریا آ گیا ،۔
یہودیوں نے وہاں فوجی سٹائل میں فوراً بننے والا پل بنا کر دریا پاس کیا ہی تھا کہ فرعون کی فوج بھی پل تک پہنچ گئی
تو موسی علیہ سلام اور ان کے ساتھوں نے پل کو ڈاینامائٹ سے اڑا کر تباھ کر دیا
جس سے فرعون کی فوج دریا میں غرق ہو کر مر گئی ۔
ماں حیران ہو کر بچے سے پوچھتی ہے
کیا مولوی صاحب نے یہ قصہ اسی طرح سنایا تھا
جس طرح تم مجھے سنا رہے ہو ؟
بچہ مصعومیت سے جواب دیتا ہے ۔
نہیں ! جس طرح مولوی صاحب نے سنایا تھا
اس طرح اگر میں آپ کو بتاؤں تو ، آپ کو یقین نہیں آئے گا !!!،۔

اتوار، 9 ستمبر، 2018

معاشی ترقی کی تکنیک


مندرجہ ذیل پوسٹ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ تبدیلی  بھیک مانگنے سے نہیں دینے سے آتی ہے ،۔
میرے ذہن  وہ ویڈیو گھوم رہی تھی جس میں مذہبی لیڈر خادم حسین رضوی صاحب ملکی معیشت کو بھیک  سے چلانے کا آئیڈیا دے رہے تھے ،۔
میرا خیال تھا کہ عمران کے ذہن میں جاپانی یا امریکی معاشی ماہرین کا کوئی آئیدیا ہو گا  لیکن عمران صاحب کے ذہن میں بھی خادم حسین رضوی صاحب والا کمپیوٹر سیٹ کر کے لانچ کیا گیا ہے ،۔

سن 2008ء کے اگست میں جاپان میں بہت بڑا مالی بحران آیا تھا ، امریکہ میں لیہمین بنک کے دیوالیہ ہوتے ہی ایسا لگا کہ جیسے جاپان میں کرنسی نامی چیز ہی غائب ہو گئی ہے م،۔
لوہے کے سکریپ کا ریٹ 60 ین فی کلو سے گر کر 3 روپے ہو گیا تھا ،۔
منڈی میں جو ٹرک ڈھائی ملین کا بک رہا تھا ، اس کو کوئی ڈھائی لاکھ میں بھی لینے کو تیار نہیں تھا ،۔
جاپان میں لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی حکومت تھی ، ایک سال بعد الیکشن تھے ، لبرلز معیشت کو سنبھالا نہیں دے سکے ،۔
 1955ء سے اپنے قیام سے مسلسل اقتدار میں موجود پارٹی کو 2009ء کے الیکشن میں شکست ہوئی تھی کیونکہ  اپوزیشن پارٹی ڈیموکریٹ پارٹی جاپان نے معیشت کو سنبھالا دینے کا وعدہ کیا تھا ،۔
ڈیموکریٹ پارٹی  نے اقتدار سنبھالتے ہیں معیشت کے ماہرین سے مشورہ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ  ملکی معیشت کی تیزی کا انحصار حکومتی خرچوں پر منحصر ہوتا ہے ، حکومت جو خرچ کرتی ہے ، یا کہ اسان سود اور شرائط پر جو قرضے دیتی ہے  ملک کی معیشت اس سے تیزی پکڑتی ہے ،۔
جس کے لئےدیموکریٹک پارٹی نے تعمیرات  کے ٹھیکوں کی شکل میں ٹریلین ین کی رقم  ملکی کمپنیوں  میں بانٹی ، بڑی کمپنیوں نے ذیلی کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر اس رقم کو اگے پھیلایا ،۔ 
اس کے علاوہ  بنکوں سے اسان شرائط پر قرضے دئیے گئے 
لیکن معیشت پر طاری سستی دور نہ ہو سکی ،۔
اس حکومت کے وزیر اعظم ہاتو یاما پر ان دنوں الزام لگا کہ  ان کو ہونے والی ماہانہ ایک کروڑ چالیس لاکھ کی امدن  پر ٹیکس نہیں دیا جا رہا ،۔
جس پر ہاتو یاما صاحب نے قوم کو بتایا کہ یہ رقم ان کی امدن نہیں ہے بلکہ ان کو اپنی ماں کی طرف سے ملنے والا جیب خرچ ہے ،۔
ایک کروڑ چالیس لاکھ ، جو کہ ان دنوں کوئی دو لاکھ امریکی ڈالر بنتے تھے ، ۔
جاپانی میڈیا نے اس بات کا بہت مذاق اڑایا کہ  ایک کروڑ چالیس لاکھ  ین ماہانہ جیب خرچ ؟؟
میڈیا اینکر جب ہاتو یاما صاحب کی ماں سے یہ پوچھنے کے لئے گئے کہ کیا اپ واقعی اتنی بڑی رقم جو کہ جاپان کے تنخواھ دار کی  اوسط سالانہ رقم سے بھی تین گنا زیادہ ہے اتنی رقم ماہانہ جیب خرچ کے لئے دیتی ہیں ؟
تو یاتو یاما کہ ماں نے بتایا کہ ہاں میں اتنی رقم اپنے بیٹے کو  جیب خرچ دیتی ہوں ،۔
جس پر جاپانی میڈیا نے قوم کو اگاھ کیا کہ وزیراعظم ہاتو یاما صاحب کی ماں بریج سٹون ٹائر بنانے والی کمپنی کے مالک کی بیٹی ہے ، اور اس کو بھی اپنے باپ سے جیب خرچ ملتا ہے ،۔
ہاتو یاما صاحب کے جیب خرچ والی بات ایسے ہی باتوں سے بات نکل آئی ہے اور اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں کہ قانونی طور پر اپنی انکم کو بانٹ کر انکم ٹیکس  کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے ، جس سے ملک کو بھی نقصان نہیں اور ٹیکس گزاروں کو بھی تسلی رہتی ہے ،۔
اب ہوا یہ کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی چار سال کی حکومت میں معیشت سنبھل نہ سکی ،۔

لبرل ڈیموکریٹکس نے معیشت کو سنبھالا دینے کا نعرہ لگایا،۔
قوم نے  الیکشن میں دوبارہ  لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو منتخب کر لیا ۔،
نئے وزیر اعظم شینزو آبے صاحب نے معاشی ماہرین سے  مشورہ کیا ،۔
ماہرین نے بتایا کہ  
معیش میں تیزی لانے کا فارمولا  بس حکومتی خرچوں کو بڑھانے میں ہی ہے ،۔
جب ماہرین سے پوچھا گیا کہ ڈیموکریٹکس کی حکومت  تین ٹریلن ین کی رقم مارکیٹ میں پھینک چکی ہے ، اس کا نتیجہ کیوں نہیں نکلا ؟
تو ماہرین نے بتایا کہ معاشی بحران سے قوم میں عدم تحفظ کا احساس  بن گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ خرچ کرنے کی بجائے رقم کو سنبھال کر بیٹھ گئے ہیں ، قوم کا یہ احساس ختم کرنے یا کم کرنے کے لئے مذید رقم مارکیٹ میں لانی ہو گی ، تاکہ عام عوام کے بٹوے تک رقم پہنچے اور عام اپنے بٹوے خرچ کے لئے کھولنے پر امادہ ہو جائے ،۔
وزیر اعظم شینزو آبے صاحب نے اپنے دور اقتدار میں تین دفعہ بڑی بڑی رقوم مارکیٹ میں پھینکی ہیں ،۔
بنکوں کو قرضے دینے پر مجبور کیا ہے ،۔
بلکہ جاپان نے بنکنگ کی تاریخ میں پہلی بار  مائینس سود کا فارمولا متعارف کروایا ہے ،۔
ماینس سود کے فارمولے والی بات یہ ہے کہ 
ملکی بنک  اپنے کھاتا داروں کی رقوم ، طلب گاروں کو سودی قرضے پر دیتے ہیں ،۔
زاید رقوم سٹیٹ بنک میں رکھتے ہیں ، جہان سٹیٹ بنک ان کو سود ادا کرتا ہے ،۔
جاپان نے یہ رول متعارف کروایا کہ بنکوں کی سٹیٹ بنک میں رکھی رقوم پر  سود ادا کرنے کی بجائے وصول کیا جائے گا ، اگر بنک یہ سود ادا نہیں کرنا چاہتے تو اپنی رقوم کو شہریوں کو قرضے دینے میں استعمال کریں ،۔
جاپان ے ملک کے اندر معاشی ٹیکٹ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ  خارجی محاذ پر تجارت کے لئے نئے معاہدے کئے ، نئی شرائط طے کیں جن کی تفصیل آج کا موضوع نہیں ہے م،۔
ابھی تک جاپان کی معیشت میں روانی نہیں آئی ہے لیکن حالات بہتری کی طرف رواں ضرور ہیں ،۔


پاکستانیو ، عقل نوں ہتھ مارو ،۔
جاپان کی نقل ہی کر لو ،۔

اتوار، 2 ستمبر، 2018

امریکہ ، چین اور زراعت



امریکہ نے دنیا کو جو کچھ دیا ہے ، یعنی تکنیک کی ریسرچ اور اس ریسرچ تک سب کو اپروچ ، انسانی حقوق اور برابری ، یہ چیزیں معلوم تاریخ میں کوئی بھی مذہب ، معاشرہ یا کہ قوم کسی دوسرے کو ڈیلیور کرنا تو دور کی بات ہے خود اپنے لوگوں کو بھی کوئی ڈلیور نہیں کر سکا ،۔
جہاں تک بات ہے چین کی ؟ تو چین اخلاقی طور پر کبھی بھی اتنا اعلی نہیں رہا جتنا کہ امریکہ ہے ،۔
اس وقت کے چین میں بھی خود چینی لوگوں میں برابری اور انسانی حقوق میں فرق موجود ہے ،۔
چین میں چینی شہریوں کے ڈومیسائل دو قسم کے ہیں ، دیہاتی اور شہری !،۔
ہر دو کی حدود اور حقوق میں بھی فرق ہے اور ان کی دونون کی معاشی تعلیمی حالت کا بھی فرق ہے تو جبلت کا میں فرق ہے ،۔
جس طرح کہ ہندو دنیا کی پرانی ترین معاشرت ہونے کے باوجود  اپنے اندر کے طبقاتی نظام کی وجہ سے دنیا کو کچھ ڈلیور نہیں کر سکا ، بلکل اس طرح چین بھی کبھی بھی امریکہ کا متبادل نہیں بن سکتا ،۔

امریکہ میں ایک فقرہ بولا جاتا ہے ، لینڈ آف ایمگرینٹس ،۔
لیکن 
امریکہ ایمگرینص کا نہیں سیٹلر کا بسایا ہوا ملک ہے ، ان لوگوں کا جو یہاں سیٹل ہونے کے لئے آئے تھے ،۔
 امریکہ واقعی سیٹلر کا بنایا ہوا ہے ،ایمگرینٹ صرف ڈالر کی تلاش میں ہوتے ہیں ،۔
میں نے باہر دنیا گھوم کر دیکھی ہے ، پاکستانی لوگ جہان بھی گئے ہیں اس ذہن کے ساتھ گئے ہیں کہ 
کچھ کما کر واپس آنا ہے ، اس لئے اپ دیکھیں گے کہ پاکستانی دنیا بھر میں اپنی جوانی پیسے کے لئے خجل خوار ہو جاتے ہیں ، ادھیڑ عمری میں سیٹل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور بہتر زندگی گزارنے لگتے ہیں م،۔
اگر یہی ذہن یعنی سیٹل ہونے کا ذہن پہلے دن کا بنا ہوا ہو تو ؟
امریکہ ، کناڈا اسٹریلیا یورپ میں جتنا سکوپ اور پیشہ زراعت میں ہے اتنا پیسہ کسی بھی اور پیشے میں نہیں ، میرا مطلب ہے جو پیشے ہم پاکستانیوں کو میسر ہو سکتے ہیں ،۔
 مجھے یاد ابھی جب کہ میں خود ناتجربہ کار تھا ، میری ملاقات ایک پنجابی سکھ فیملی سے ہوئی تھی ، جو کہ کوریا گھومنے پھرنے کے لئے آئے ہوئے تھے ،۔
ان کا کناڈا میں زرعی فارم تھا ، خاندان کا سربراھ اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں تھا ، جب میں نے سنا کہ کناڈا میں زراعت کرتے ہیں تو ؟
میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ فارمنگ میں اتنی کمائی ہے کہ بندہ ، کوریا گھومنے پھرنے کا ٹور کر سکے ؟؟
تو سردار جی بڑے مہربان تھے انہون نے طنز تو نہیں کیا 
لیکن کہا کہ یار جی ایک یہی تو پیشہ ہے جو اتم ہے، اس سے بڑھ کر کمائی کس میں ہو گی ،۔
مزے کی بات کہ یہاں جاپان میں اگر بندہ زرعت میں انے جوگا ہو تو ؟ 
زمین بہت سستی ملکی ہے بلکہ کئی گاؤں تو مفت زمین کی بھی آفر کرتے ہیں ،۔


Popular Posts