پیر، 11 مارچ، 2019

MH370کی گمشدگی کے پانچ سال بعد


ہمارے دنوں کی ہماری عمر کی  دور کی ہسٹری ، جو ہم دیھ رہے ہیں جو ہم سن رہے ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں ،۔
یہ سب انے والے زمانوں کے لئے ہسٹری ہو گا ،۔
ہمارا لکھا ہوا معتبر ہو کہ نہ ہو ،لیکن ہو گا یہی ہسٹری ،۔
کہ ہمارے دیکھتے دیکھتے ملائیشیا کا ایک ہوائی جہاز کہیں فضاؤں میں گم ہو گیا ،۔
آٹھ مارچ 2014ء کے روز ، کُل عالم پور کےائیر پورٹ سے اڑنے والے اس جہاز کی گمشدکی کے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں  کی گئیں ، کچھ معتبر اور کچھ غیر معتبر ،۔
لیکن سوال اب تک وہیں ہے کہ طیارہ گیا کہا؟
ایوایشن کی دنیا کا بہت بڑا اسرار ، کہ کبھی حل ہو گا کہ نہیں ،۔ْ
کل عالم پور سے بیجنگ جانے والے اس طیارے کی پراسرار گمشدگی کے متعلق ہمارے زمانے میں پانچ بڑی تھیوریز تھیں جن کا چرچا رہا کہ
پہلی تھیوری تھی
کہ
یہ طیارہ مکینیکل فیلر یعنی پرزوں کی خرابی کی وجہ سے کچھ ایسا ہوا کہ جہاز میں دھواں پھیلنے یا کہ کسی وجہ سے سارے مسافر اور پائلٹ بے ہوش ہو گئے تھے ، جہاز آٹو پائئلٹ پر چلتا رہا اور کہیں بہرالکاہل کی مہیب اور خاموش گہیرائیوں میں گم ہو گیا ،۔

دوسری تھوری تھی کہ 

جہاز کا پائیلٹ ذہنی بیمار تھا ، اس نے خود کشی کر لی یعنی کہ جہاز سمیت کہیں بہرالکاہل میں  جہاز کی ڈبکی لگوا دی 
کہ پھر جہاز کبھی سطح سمند پر آ ہی نہیں سکا ،۔

اس تھیوری کے متعلق  پائلٹ کے کچھ ویڈیو بھی سرکولیٹ کرتے رہے کہ پائلٹ اپنی پرایئویٹ زندگی میں کچھ ابنارمل کرتا رہا تھا ،۔

تیسری تھیوری تھی کہ 
جہاز کو دہشت گردوں نے اغوا کر کے پاکستان میں کہیں چھپا دیا ہے ،۔
اوساما بن لادن جو کہ 2011ء میں پاکستان میں مارا گیا تھا اس کے گروھ کے لوگوں نے جہاز کو ہائی جیک کر کے کہیں پاکستان میں چھپا دیا ہے اور دہشت گرد لوگ اس جہاز کو ایک اڑتے بم کی طرح استعمال کر سکتے ہیں جیسا کہ انہوں نے 2001 ء میں نیو یارک میں کیا تھا ،۔

چوتھی تھیوری یہ تھی کہ 
جہاز کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے ہائی جیک کر کے کہیں چھپا دیا گیا ہے ،۔
استھیوری کے پیچھے  آئیڈیا یہ تھا کہ جہاز بنانے والی کمپنی بوئینگ نے 2006ء میں ایک تکنیک پینٹ کروای تھی جس کے ذریعے کسی بھی اڑتے ہوئے جہاز کو پائلٹ اور کریو کے کنٹرول سے نکال کر جہاز کا کنٹرول سنبھالا جا سکتا ہے ،۔
ملائیشیا کے مہاتیر محمد نے انتخابات سے پہلے اسٹریلیا کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ 
ایسی ٹکنالوجی کے ہوتے ہوئے اس کو استعمال کرنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا سکتا ،۔

پانچویں تھیوری تھی کہ
جو کہ کمزور ترین تھیوری ہے 
نیویارک کے ایک میگزین میں ایویایشن کے ایک ماہر  جیف وائزنے لکھا تھا کہ
اس  کے خیال میں ایم ایچ تین سو ستر کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اغوا کروا کر قازکستان میں رکھا ہے ،۔
روسی صدر مغربی طاقتوں  سے یوکراین کے متعلق کچھ شرائط منوانے کے لئے 
اس جہاز میں لوڈ کسی چیز یا کہ کسی شخصیت کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے م،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ساری باتیں اپنی جگہ 
لیکن سوال وہیں ہے کہ طیارہ گیا کہاں ،۔
شائد ہماری زندگی میں اس سوال کا جواب مل جائے ، یا کہ ہو سکتا ہے ہمارے مرنے کے بعد اس سوال کا جواب ملے ؟
یا کہ 
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ 
اس طیارے کی کمشدگی کا معلمہ کبھی بھی حل نہ ہو ،۔
اور اس میں سوار سینکڑوں لوگون کی زندگی اور موت  کے متعلق نہ جان سکنے والے لواحقین پر انتظار کا کر کرب کبھی بھی ختم نہ ہو م،۔

جمعرات، 7 مارچ، 2019

رب کی چکی ، دوسری کہانی


چیمے جاٹوں کے گاؤں دیہات میںجوگیلوگ بھی ہوتے ہیں ،۔
پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب چیمے مسلمان نہیں ہوئے تھے یا کہ جو مسلمان نہیں ہیں ، انکی شادی کی رسومات جوگی لوگ کیا کرتے ہیں ،۔
جوگی لوگ  عام دنوں میں سارنگی لے کر نکلا کرتے تھے  ، سارنگی پر مخصوص دھنیں بجاتے اور لوک گیت گاتے  جوگی لوگوں کو برصغیر کی رسم کے مطابق اناج دانے ، آٹا دیا کرتے تھے ،۔
وہ بھی چیمے جاٹوں کا ایک گاؤں تھا ،۔
اس گاؤں کے جوگیوں نے بھیک مانگنی چھوڑ دی تھی اور سائکلوں کی مرمت یا کہ دیگر کام کر کے کمانے لگے تھے ،۔
وہ   بھیک چھوڑ کر  کام کمانے والے جوگیوں کی دوسری نسل سے تھا ،۔
اسنے بس پر کلینڈری اختیار کی تھی ، وہ بس ان کے اپنے گاؤں سے بھی گزرتی تھی ،۔
ایک دن ایسا ہوا کہ اسکے والی بس سے پہلی بس کو سٹوڈنٹ لوگوں نے اسکے گاؤں میں روک کر ڈرائیور کلینڈر سے جھگڑا شروع کر دیا ، جھگڑا لمبا ہو گیا کہ اسکے والی بس بھی وہاں پہنچ گئی ، ۔
ڈرائیور کلینڈر اور سٹوڈنٹوں کے جھگڑے میں جاٹ چیموں کا ایک جوان  پہلے ہی بیچ بچاؤ کروانے لگا ہوا تھا کہ 
وہ بھی بڑے مان سے جاٹ چیمے کو اپنے گاؤں کا اور اپنا سمجھ کر پاء جی پاء جی کہتا ہوا بیچ بچاؤ کروانے میں شامل ہو گیا ،۔
چیمے جوان کو پتہ نہیں کیا بات ناگوار گزری کہ اس نے جوگی منڈے کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا ،۔
جوگی منڈے کو اپنے حلقہ احباب میں بڑی سبکی محسوس ہوئی ، جوگی پاؤں پٹختا ہوا وہاں سے اپنے گھر کی طرف چل دیا ،۔ 
اس کو مان تھا کہ 
چیمہ اس سے معافی مانگے گا ،۔
کچھ لوگوں نے چیمہ جوان کا منہ دیکھا کہ ، وہ اپنے گھر سے مدد لینے گیا ہے ، اب تم کیا کرو گے ؟
مجھے یاد ہے ، چیمے جوان نے کہا کہ لے آئے جو کلاشن کوف لانی ہے اس نے گھر سے ،۔
کچھ دیر بعد وہ جوگی منڈا اپنی ماں کے ساتھ آتا ہے ،۔
اسکی ماں بڑے مان سے چیمے جوان کا منہ دیکھ کر پوچھتی ہے ،۔
چوہدری صاحب ، میرے منڈے کو کیوں مارا ہے ؟
چیمہ صاحب ، بڑے ہتک امیز لہجے میں جوگی کی ماں کو دھتکار دیتے ہیں ۔
جوگی منڈا اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں ،۔
جوگی منڈا اپنی ساری شرمنگی کے ساتھ بس پر چڑھ کر چلا جاتا ہے ،۔
اور اسکی ماں  بے جان سی ٹانگوں پر چلتی اپنے گھر کو چلی جاتی ہے ،۔
مجھے جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے ،۔
بڑا افسوس ہوتا ہے کہ 
کاش میں اس پوزیشن میں ہوتا کہ چیمہ صاحب سے معافی منگوا سکتا ،۔
وہ جوگی منڈا پھر کبھی گاؤں میں نظر نہیں آیا ، اس نے گاؤں چھوڑ دیا ،۔
آج اس واقعے کے چالیس سال بعد مجھے یاد آیا کہ 
ان چیمہ صاحب کی شادی ہو چکی ہے ، اولاد میں ایک ہی بیٹا ،اور وہ بیٹا اپنی جوانی میں قتل ہو چکا ہے م،۔
اور  چیمہ صاحب کو میں نے سڑک پر بلکل اسی طرح جس طرح کہ جوگی منڈے کی ماں کو دیکھا تھا ، بے جان ٹانگوں سے چلتا دیکھ سوچ رہا تھا ،۔

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا 

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں 

رب کی چکی کا پیسا ہوا بڑا باریک ہوتا ہے ،۔


 مجھے وہ منظر آج بھی یاد ہے ،۔
چوہدری صاحب  نے ایک تھپڑ لگایا تھا ، اور وہ ہاتھ لٹکائے کھڑا تھا ، دوسرا تھپڑ بائیں ہاتھ کا تھا ، اور تیسرا پھر دائیں کا ،۔
وہ پھر بھی ہاتھ لٹکائے کھڑا تھا ،۔
پھر اسکی بوڑھی ماں وہاں آ گئی ، اسکی ماں نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا اور پھر چوہدری صاحب کا  چہرہ دیکھا تو چوہدری صاحب نے چوتھا تھپڑ جڑ دیا ، یہ دیکھ کر اسکی ماں غش کھا کر گر گئی تھی ،۔
چوہدری صاحب بہت طاقتور تھے ،بہت ہی طاقتور ، ،۔
وہ اپنی  بےہوش ماں کو بانہوں میں اٹھا کر جب میرے پاس سے گزرا تو ، اپنئ بے ہوش ماں کا منہ چوم کر کہہ رہا تھا میرئے مائیں ، توں نہ مریں نئیں تے میں مرجاؤں گا ۔ْ
مجھے وہ منظر آج بھی یاد ہے ،۔
اور پھر میں نے دیکھا
کہ
اج سالیس سال بعد  ، اس گاؤں میں   اج چویدریوں کی کوئی زمین کوئی مکان نہیں ہے ان کی اولاد میں سے بھی کوئی نہیں ہے ،۔
میں نے دیکھا ہے 
کہ
جو طاقتور ، ہاتھ لٹکائے تھپڑ کھا جانے والے مجبور سے بجائےمعافی مانگنے کے ، دوسرا تھپڑ جڑ دے ۔
وہ بہت برا کر رہا ہوتا ہے ،۔
بلکہ بہت ہی برا ،۔
تھپڑ کھا جانے والے مجبور کے پیچھے  وہ طاقت کھڑی ہو جاتی ہے ، جس کو رب کہتے ہیں ،۔
اور بڑے بزرگ بتاتے ہیں 
کہ
رب کی چکی بڑا آہستہ پیستی ہے لیکن بڑا باریک پیستی ہے ،۔

ہندی ادب سے ایک شعر
مت ستائے غریب کو بری غریب کی آہ 
موئے بکرے کی کھال سے لوہا بھسم ہو جاہ

یہ ایک سچی بات ہے ، کردار کے نام اس لئے نہیں لکھے کہ
اسکی سبکی نہ ہو ،۔
وہ ابھی زندہ ہے اور اس کی اولادیں اُسی گاؤں میں ہی پنپ رہی ہیں ،۔

جمعرات، 14 فروری، 2019

جرگہ اور نامعقول سکھ


یہاں جاپان میں جرگے کا ایک معاملہ ہوا تھا 
جس میں پشتو بولنے والے جرگے  کے مقابلے میں ایک انڈیا کا سکھ تھا ،۔
سکھ نے جرگے کی ایک نہیں مانی تھی ، بلکہ کافر سکھ ، پٹھانوں اور ان کے جرگے کا مذاق اڑانے لگا تھا ،۔
معاملہ یہ ہوا تھا کہ 
سکھ کے پاس  ایک لافٹر کرین کھڑی تھی ، بیس ٹن والی لافٹر کرین،۔
یہ کرین سکھ بندہ چالیس ملین میں بیچنا چاہتا تھا ، جس کی اوکشن  میں پینتیس ملین تک بولی لگ چکی تھی ،۔
ایک پٹھان اس کے پاس آیا کہ  مجھے اس کرین میں دلچسپی ہے ،۔
کیا میں اس کرین کی تصاویر لے لوں ؟
سکھ نے اسکو چابی دے دی کہ کیبن کے اندر سے میٹر کی تصاویر بھی بنا کو کہ 
یہ کرین کتنے گھنٹے چلی ہے ،۔
پٹھان نے اس کرین کہ تصاویر  دبئی میں کسی بائیر کو بھیج کر  ، یہ کرین  تیس ملین کی فروخت کر دی ، دس ملین کی رقم بنک ٹرانزٹ میں  منگوا لی اور باقی کی رقم کرین کی حوالگی پر نقد  لے کر کاغذات وغیرہ دینے کا وعدہ کر لیا ،۔
دبئی والا بائیر ، جاپان پہنچ گیا ، جاپان والے پٹھان نے اس کو ویلکم کہا ، کھانے کی دعوتیں کیں ، دو دن بعد اس کو کرین کے پاس لے کر گیا کہ یہ ہے اپ کی کرین ،۔
پیسے دو !۔
دبئی والے  بائیر کے پاس صرف دس ملین تھی باقی کے اس نے دبئی سے منگوا کر دینے تھے ،۔ 
دبئی والے بائیر نے دس ملین مذید ادا کر دے دئے ۔
بیس ملین  کی رقم وصول کر کے جاپان والے پٹھان نے فون بند کر دیا ، ٹکٹ کٹوا کر پاکستان چلا گیا ،۔
اور دبئی والا پٹھان ، سکھ کے یارڈ پر دس ملین لے کر پہنچ گیا اور لگا تقاضا کرنے کہ 
میرا کرین کا چابی دو ، کاغی زو دو !،۔
سکھ کو بات کی سمجھ نہیں لگ رہی کہ یہ بندہ کیا بات کر رہا ہے ،۔
زیادہ زور دینے پر  سکھ غصہ کر گیا  اور اس نے دھکے دے کر پٹھان کو اپنے یارڈ سے نکال دیا ،۔
دبئی والے پٹھان نے اپنے دینی بھائیوں کو بلا کر جرگہ تیار کیا اور سکھ کے پاس پہنچ گئے  ،۔
اب سکھ  سیدھا سیدھا مکر گیا کہ میں نے کوئی پیسے نہیں لئے ،۔
اور نہ ہی میں نے دبئی میں کسی کو فوٹو بھیجی ہیں ،۔
اب یہاں جاپان میں جرگے والے اپنی سی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح  سکھ سے کرین نکلوا کر  پٹھان بھائی کو دلا دی جائے ،۔
لیکن 
سکھ ہے کہ مان ہی نہیں رہا 
جاپان میں جرگہ ، سکھ کے ساتھ زور زبردستی بھی نہیں کر سکتا ، اور نہ ہی سکھ کو مسلمان بھائی بھائی والا منتر بول کر رام  کر سکتا ہے ،۔
تو
مجبوراً جرگے والوں نے  سکھ کو آخری آپشن یہ دیا تھا 
کہ
ماڑا ، دبئی والا غریب آدمی ہے ،۔ اس کا بہت نقصان ہوا ہے ، تمہاری کرین کی وجہ سے ،۔ اس غریب کو کوئی  تین لاکھ ین اشک شوئی کے لئے  ادا کر دو !!!،۔
سکھ کافر نے اشک شوئی کی رقم بھی نہیں دی تھی 
بلکہ 
انڈین سکھ  ، پاکستان کے پنجابیوں کو اس آپشن کا بتا بتا کر کہا کرتا  تھا
ہے ناں ، نامعقول بات ،۔
میرا کی قصور جے پائی جی ؟
اس بات کا فیصلہ اپ کریں کہ نامعقول کون ہے ،۔
فراد کرنے والا پٹھان ؟
جرگہ ؟
یاکہ کافر  سکھ ؟

ہفتہ، 2 فروری، 2019

کہاوت کی کہانی

ہندی کی ایک کہاوت ہے ،۔
سِیکھ تاء کو دیجیو ، جاء کو سِیکھ سبھہائے ،۔
سِیکھ نہ دیجیو باندراں ، بھیجڑے کا گھر ڈھائے
روایت ہے کہ
کہیں کسی جنگل میں کسی بھیجڑے (پیلے رنگ کی ایک چڑیا جو سرکنڈ کے لٹکتے گھونسلے بنا کر رہتی ہے)نے کسی بندر کو بارش میں بھیگے ٹھٹھرتے دیکھا ،۔
بھہیا چڑیا کو اس پر بڑا ترس آیا کہ اس باندر کو سیکھ دینے کے لئے اس کے پاس آتی ہے
کہ
دیکھو باندر صاحب ، اپ بھی میری طرح اگر محنت کر کے سمجھ بوجھ کے ساتھ ایک مضبوط گھر بنا لو تو ، موسم کی سختیوں اور قباحتوں سے بچ کر کچھ سُکھ لے سکتے ہو ،۔
بندر کو بھہیا کی بات سن کر بڑا برا محسوس ہوا کہ ایک کم ذات چھوٹی سی چڑیا ، پھرتیلے اور چاک چوبند بندر کو کم عقل سمجھ کر بات کررہی ہے ،۔
چہ پدی ؟ چہ پدی کا شوربہ ؟
بندر نے چھلانگ لگائی درخت پر چڑھ کر بھہیے کا گھر ڈھا کر تنکا تنکا کر دیا ، اور بھہیے کو بتا دیا کہ
یہ رہا تمہارا گھر جس پر فخر کر کے تم مجھے جیسے مہان بندر کو سمجھانے چلی ہے ،۔
حاصل مطالعہ
کہ اپ بھی کسی کو مشورہ دیتے ہوئے احتیاط کریں کہ
کوئی کاروبار کر لو ، کوئی دوکان کر لو کا سن کر کوئی باندر اپ سے دشمنی پر اتر اپ کے بنائے ہوئے سیٹ اپ کو تباھ کرنے پر بھی تل سکتا ہے ،۔

بہادر اور دلیر لوگ جن کے پاس دانش ہوتی ہے ، مواقع پیدا کر لیتے ہیں ،۔
خام دانش کے والے لوگ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یا تو نشے کی اوٹ لیتے ہیں
یا پھر مذہب کی ۔
نشے میں مبتلا لوگ خود اذیتی کرتے ہیں اور مذہب میں مبتلا لوگ ، معاشرے کو اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں ،۔



جمعہ، 25 جنوری، 2019

افغان اور پنجابی

سر جی جی اگر ان افغانوں کی ٹانگیں سلامت ہوتی ناں ؟
تو اب تک گریٹر پختونستان کی آر میں میری قوم کی ٹانگیں اڑ چکی ہوتیں ،۔
ایک افغانی اپنی جبلت میں خود کو ہند کی اقوام سے گریٹ سمجھ کر ہند کی بیٹاں اور بیٹے غلام بنانا اپنا فرض سمجھتا ہے اور ہند کی دولت کو لوٹنے کا نام اسلام کی تبلیغ ہونے کا ایمان رکھتا ہے ،۔
سردار داؤد نے جس دن گریٹر پختونستان کی فنڈنگ اور ناظم شاھ کو ہٹا کر پاکستان پر حملے کا منصوبه بنایا تھا ،۔
اس کا خیال تھا کہ پنجاب میں راجہ رنجیت کے بعد کوئی کانا پیدا ہی نہیں ہو گا ،۔
لیکن جنرل ضیاں صاحب اگر چہ کہ بھینگے تھے یکن راجہ رنجیت سنگھ کے صحیح جانشین ثابت ہوئے ،۔
اور افغانستان کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ پاکستان پر حملہ کر سکے ،۔
پاکستان میں انگریز کے پنجاب پر قبضہ کرنے سے پہلے کی پنجاب کی تاریخ کو پڑھایا ہی نہیں جاتا ، بتایا ہی نہیں جاتا ،۔
کہ
گوجرانوالہ کے مردخیز خطے عظیم سپوت راجہ رنجیت سنگھ نے طورخم تک حکومت کی تھی اور قندھار جلال اباد تک حملے کئے تھے م،۔
ان کے لباس تک تبدیل کروا دئے تھے ، کہ اپ اج بھی دیکھ سکتے ہو ، سکھ عورتوں کا لباس شلوار قمیض اس علاقے کے مرد پہنتے ہیں اور مردوں کا لباس فراک نما پختون عورتیں پہنتی ہیں ،۔
دیورنڈر لائین ، وہ سرحد ہے جہان تک راجہ رنجیت سنگھ کی علمبرداری تھی ، جس پر انگریز نے قبضہ کیا اور چھوڑ کر جانے سے پہلے پاکستان کو بتایا کہ اس لائین کے اگے افغانستان شروع ہوتا ہے ،۔
اپ ذرا لاہور کے شاہی قلعے کے دروازے تک جاؤ اور دیکھو کہ مغلوں کی شاہی مسجد سے نکل کر مینار پاکستان تک پہنچنے کے لئے راجہ رنجیت کی مڑھی آتی ہے ،۔ جو اس بات کی نشانی ہے کہ مغلوں کی اسلامی حکومت سے لے کر اسلام کا قلعہ بننے تک یہ علاقہ پنجابیوں کی علمداری تھا ،۔
افغانستان ایک دشمن ملک ہے ،۔
بلکہ ظالم اور کینہ پرور اور کمینہ دشمن ہے ،۔
اور افغانستان کی حمایت کرنے والے پاکستانی پٹھان سادہ دل لوگ ہیں ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے ،۔

جمعہ، 18 جنوری، 2019

پچھلی حکومت کے قصور کی ہسٹری


اے بنو گالیاں پی ٹی آئی والو !!،۔
یہ ہیں وہ باتیں جن کی وجہ سے  اہل عقل خرد عمران  کو ہلکا لیتے تھے 
اور تم لوگ کہا کرتے تھے ،۔
اک وار وزیر اعظم بنا کے تے ویکھو ،۔

فرانسیسی لوگ ایک طنز استعمال کرتے ہیں 
جوان  خرگوش بچہ ،۔
یعنی کہ جس کو گرم سرد کا کچھ علم نہیں ہوتا ،۔
خرگوش کی ماں ہر ماھ بچے جنم دیتے ہے ،۔
چھ ماھ کے خرگوش کے درجنوں بہن بھائی ہوتے ہیں  ایک سال کے خرگون کے بیٹے بیٹیاں  اور دوسال کے خرگوش کی تیسری نسل چل رہے ہوتی ہے ،۔
دادا جی خرگوش نے ابھی تین سال ہی دیکھتے ہوتے ہیں ،۔
میری قوم کی اکثریت بھی ایسی ہی ہے ،۔
جن کا حافظہ بہت کمزور ہے ،۔
یا کہ جو کم عمر ہیں ،۔
اٹھاسی میں جب سرمے والی سرکار ضیاں صاحب کو اللہ میاں نے بلا لیا تھا تو  جمہوری حکومت سے لوگوں نے وہی امیدیں لگائی تھیں جو   پی ٹی آئی کے نانالغون نے عمران سے لگائی تھیں ،۔
بھٹو کی بیٹی کی حکومت میں  جب یہ بتایا گیا کہ پچھلی حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے معاملات بہت بگڑ چکے ہیں تو ؟
مجھے یات آیا کہ ضیاء صاحب نے بھی حکومت سنبھال کر یہی کہا تھا ،۔
کہ پچھلی حکومت “ !!،۔
ہھر نواز شریف کے انے پر بھی وہی امیدیں کہ جو پی ٹی آئی کو عمران سے تھیں ،۔
لیکن نواز شرہیف نت بھی یہی بتایا کہ  پچھلی حکومت “ !!،۔
پھر بے نظیر  پھر نواز شریف پھر مشرف  ہر کوئی آتا رہا اور قوم کو یہی بتاتا رہا کہ  پچھلی حکومت بری تھی ،۔
اب عمران لایا گیا ہے تو اس نے بھی یہی بتانا شروع کر دیا ہے  کہ پچھلی حکومت خزانہ خالی کر گئی ہے م،۔

اے قوم بنو گالیا ،۔
بے شک تم لوگ ایک جوان خرگوش ہو  ،۔

بدھ، 16 جنوری، 2019

سیاسی وابستگی


کہیں کسی امیر علاقے کے گھروں کے نوکر مل بیٹھے اور لگے اپنے اپنے مالکوں کی تعریفیں کرنے ،۔
میرے مالکوں کا کچن اتنا بڑا ہے کہ 
ہم کھانا پتیلوں ، دیچکوں میں نہیں ، دیگوں میں پکاتے ہیں دیگوں میں !!،۔
ہاں !!!!!!۔
دوسرا کہاں کم تھا کہ بتانے لگا ،۔
کچن کی وسعت تو ہمارے مالکوں کی ہے ،۔
صاحب جب کھانا چیک کرنے آتے ہیں تو کچن میں گاڑی  پر گھومتے ہیں ، ٹیوٹا کرولا پر ، ہاں !!!!!۔
کرولا پر !،۔
تیسرا ہمم کر کے منہ پھیر لیتا ہے ،۔
سب حیران ہو کر اس کا منہ دیکھتے ہیں کہ تم ہی کچھ بتاؤ کی ہمارے صاحبوں کے کچنوں میں کیا کمی ہے ؟
تو تیسرا گویا ہوتا ہے ،۔
یارو ! میرے مالکوں کے کچن کی وسعت کا اندازہ بس ایک مثال سے لے لو کہ 
جب ہم آلو ابلنے رکھتے ہیں  تو ؟
ان کو چیک کرنے کے لئے کہ ترم ہوئے ہیں کہ نہیں ، ہم آبدوز استعمال کر تے ہیں ،۔
آبدوز ،یعنی سب میرین !!!،۔
 مجھے یہ لطیفہ اس لئے یاد آیا کہ 
سیاسی کارکناں اپنے اپنے مالکوں کی تعریفوں مں کچھ اس طرح رطب السان ہیں ،۔
سادگی  کی ایسی مثالیں ہیں کہ 
ایک ناقابل تحریر لطیفہ 
اپنے خادم حسین اور گنڈہ سنگھ والا یاد آ جاتا ہے ،۔
خاور کھوکھر

پیر، 17 دسمبر، 2018

جاپانی لوگ



اصل میں جاپان کے کلچر میں "ہارا کیری " کی رسم پائی جاتی ہے ،۔
ہار جانے پر ، جھوٹ پکڑے جانے پر جاپانی لوگ غیرت سے خود کشی کر لیتے ہیں ،۔
اس کلچر میں جاپان کی پولیس کی ذمہ داری ہے کہ غلطی کرنے والے کو گرفتار کر کے عدالت میں زندہ اور مکمل پیش کرئے ،۔
اس لئے جاپان کی پولیس کی تربیت کی جاتی ہے اور اس طرح کے انتظامات دئے جاتے ہیں کہ بندہ خود کشی نہ کر سکے،۔
مجھے یاد ہے ایک جاپانی کا کیس ہوا تھا ، 1985ء میں لاس اینجلس میں ایک ڈاکے کی واردات میں اس کی بیوی قتل ہو گئی تھی ، میورو نامی اس جاپانی پر امریکہ پولیس کو شبہ تھا کہ اس نے یہ قتل خود کروایا ہے ،۔ 
میورا ضمانت کروا کر جاپان واپس آ گیا تھا ،۔
لیکن پھر کبھی امریکہ واپس نہیں گیا ،۔
امریکی عدالت نے اس کو اشتہاری قرار دے کر اس کے گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے تھے ،۔
دو ہزار سات میں میورا میکرونیشین جزائیر کے ایک جزیرے گوام کی سیر کو گیا تو اس کو گرفتا کر لیا گیا تھا ،۔
میورا کو علم نہیں تھا کہ میکرونیشن جزائر امریکہ کی علمداری میں آتے ہیں ،۔
جس کا کہ اس نے بڑے تاسف سے اظہار بھی کیا تھا ،۔
ریمانڈ کے بعد جب اس کو گوام سے لاس اینجلس منتقل کرنے کے لئے لے کر جانے لگے تو اس نے دعوا کیا تھا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہو گا ،۔
امریکی پولیس اس پر ہنس رہی تھی اور جاپانی میڈیا بڑی سنجیدگی سے بتا رہا تھا کہ
میورا ساچو نے کہا ہے کہ وہ امریکی عدالت میں پیش نہیں ہو گا ،۔
امریکی پولیس جاپانی کلچر اور روایات سے نابلد تھی ،۔
میورا ساچو کو ہتھ کڑی لگا کر لاس اینجلس کی پرواز میں سوار کر لیا تھا ،۔
تیرہ گھنٹےکی اس پرواز میں میورا نے اپنی زبان کو دانتوں میں لے کر اپنی تھوڑی پر اپنے ہی گھٹنے سے زبردست وار کیا ، جس سے اس کی زبان کٹ گئی ، کٹی ہوئی زبان کو میورا نگل گیا تھا اور سار اخون اندر گرنے کی وجہ سے مر گیا تھا ،۔
امریکی پولیس میورا ساچو کو امریکی عدالت میں پیش نہیں کر سکی تھی ،۔
یہ سن دو ہزار سات کا واقعہ ہے ،۔

نمبر ون


ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔
کہ  کسی ملک میں کوئی حاضر سروس فوجی افسر ایک جاپانی کو بتا رہا تھا کہ 
پاکستان کی فوج دنیا کی نمبر ون فوج ہے ،۔
جاپانی ، مسکرا کر طرح دے گیا 
لیکن افسر صاحب برا منا گئے کہ اس نے میری بات کو سنی ان سنی کیوں کر دیا ہے ،۔
افسر صاحب کہنے لگے اپ دنیا کی کسی بھی فوج سے کسی بھی لحاظ سے تقابل کر کے دیکھ لیں ۔
اپ کو پاک فوج سے بہتر کوئی فوج نہیں ملے گی ،۔
بہادری شجاعت  دلیری ، نظم ضبط کیا کیا کوالٹیاں ہیں جو پاک فوج میں ہیں ،۔
جاپانی  ، دھیمی آواز میں گویا ہوا،۔
دوسری جنگ عظیم میں ای وو جیما کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ لڑتے ہوئے جاپان کی فوج کے سارے ہی فوجیوں نے جان دے دی تھی ،۔
اس جنگ میں مر جانے والے جاپانیوں کی نسبت  مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد جاپانیوں سے کہیں زیادہ تھی ،۔
کوئی ایک جاپانی فوجی بھی نہیں بچا تھا ،۔
سب نے اپنے ملک کے لئے قوم کے لئے جان دے دی تھی ،۔
لیکن جاپان جنگ ہار گیا تھا اس لئے ان شہیدوں کا ذکر کم ہی ہوتا ہے ،۔
اس کے مقابلے میں ، میں پاک فوج کو جانتا ہوں 
اکہتر میں نوئے ہزار زندہ ہی قیدی بنا لئے گئے تھے ،۔
جاپانی فوج کے تو جن سپاہیں تک جنگ کے اختتام کی اطلاع نہیں پہینچی تھی 
وہ فلپائین اور گوام میں اسّی کی دہائی تک لڑتے رہے ہیں ،۔
آپ نے تو ہتھیار ڈال دئے تھے ،۔

حاصل مطالعہ 
ایک نمبر ہونے اور ایک نمبر کہلوانے میں بہت فرق ہوتا ہے ،۔
سر جی !!!،۔
بندے کو بات کرتے ہوئے تھوڑا خیال کر لینا چاہئے کہ بات کس سے کر رہا ہے ۔

Popular Posts