جمعرات، 27 ستمبر، 2018

بابا رحما



بابا رحمت ، علاقے کا چوہدری تھا ، بابا رحمت بہت اچھا انسان  تھا ، اور اپنے گاؤں میں اس کو اپنی ریپوٹیشن کا بھی بہت خیال تھا ، ۔
مظلوموں کی داد رسی ، چوری کے مال کی برامدگی سے لے کر میاں بیوی کے جھگڑوں کو نپٹانے والے کاموں کے علاوہ  مسکینوں کی دانے غلے سے بھی مدد کرتا رہتا تھا ،۔
بابے کو علم تھا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کے لئے ایک مثال ہے ، اس لئے کسی غلط کام کو کرنے سے پرہیز کرتا تھا ،۔
ایک شام تھکا ہوا بابا رحمت لاٹھی ٹیکتا پیدل گاؤں میں داخل ہوتا ہے ، تو  چاچی رسولاں کو اس کی حالت پر ترس آتا ہے ،۔ 
بچپن سے بابے کی ساری رمزوں سے واقف چاچی پوچھتی ہے ، کوئی  شربت بناؤں ؟ ایک گلاس پیتے جاؤ ، تسکین ہو جائے گی ؟
بابے کی کراہ امیز آواز نکلتی ہے ،۔
نئیں نئیں ، شربت نئیں ، مجھے گھر پہنچنے کی جلدی ہے ،۔
چاچی پوچھتی ہے ۔
تو پھر گرم چائے بنا لیتی ہوں گیس کا چولہا ہے پانچ منٹ میں تیار ہو جائے گی ،۔
بابے کے منہ سے پھر وہی کراہ امیز  منمناہٹ ، نئیں  نئیں ، چاء وی نئیں  ! میں بس گھر چلتا ہوں  ،۔
چاچی قریب آ کر سرگوشی میں کہتی ہے ،۔
اچھو دبئی سے لایا تھا ، ولایتی کی بوتل  ایک کلاس پیتے جاؤ میں ابھی برف اور پانی ڈال کر لاتی ہوں ،۔
بابا رحمت چونک کر پرجوش سرگوشی میں کہتا ہے ،۔
نئیں نئیں ، پانی اور برف بھی نہیں ،  بس جلدی کرو  !،۔
حاصل مطالعہ 
کہ جی 
انسان کو انسان سمجھو ، کسی کے ذاتی فعلوں پر اس کو کافر نہ بنا دو ،۔
خاور کھوکر ۔

پیر، 17 ستمبر، 2018

جاپان کی آفات



جاپان زلزلوں اور طوفانوں کی سر زمین رہی ہے ،۔
یہاں یورپ یا کہ ہند کی طرح صدیوں پرانی عمارات  بہت کم ہیں کیونکہ زلزلوں کی وجہ سے عمارتیں گر جاتی ہیں ،۔
 جاپان صدیوں سے زلزلوں کے خلاف مدافعت کی تکنیک کی تعلیم حاصل کر رہا ہے ،۔
لیکن ابھی تک زلزلے کی پشینگوئی کرنا ناممکن ہے ،۔
دوسری بڑی آفت جس کا جاپان کو سامنا رہا ہے وہ ہیں تائیفون، طوفانِ باد وباراں ۔
ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ 
جب چنگیز خان کے بھیجے ہوئے لشکر کوریا کے  پانیوں سے داخل ہو کر جاپان پر حملہ آور ہوئے تو ان کو  بھی انہی طوفانوں نے تباھ کر دیا تھا ،۔
جاپانی لوگ ان ہواؤں کو کامی کازے کہتے ہیں ،۔
صدیوں سے جاپان اور کوریا کے درمیان حائل سمندر (جنوب مغرب) سے بن کر اٹھنے والے طوفانوں کی ایک حیرت انگیز بات نوٹ کی گئی ہے کہ پچھلے سال سے یہ طوفان جاپان کے جنوب مشرق سے اٹھ رہے ہیں ،۔
اج کے جاپان کو  چند سال سے دو نئی آفات کا سامنا ہے ،۔
 تاتسو ماکی اور  گے ری را گوس ، ،۔
تاتسو ماکی اور گے ریرا گوس کیا ہیں ؟
تاتسو ماکی ،  جس کو اردو میں بگولہ کہتے ہیں ، تاتسو ماکی  ایک بہت بڑا بگولہ  ہوتا ہے جو اپنے مرکز کے گرد سو میٹر تک  کا گھیر رکھتا ہے ،۔ تیز رفتار اور دیو قامت بگولا اچانک اٹھتا ہے اور دو چار سو میٹر سے لے کر ایک کلو میٹر کے علاقے میں تباہی مچا کر ختم ہو جاتا ہے م،۔
اس بگولے کی زد میں آئے ہوئے مکان ، گاڑیاں یا کہ دیگر چیزیں کاغذوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگتی ہیں ،۔
تاتسو ماکی کے گزرنے کے بعد اس طرح نظر آتا ہے جیسے کوئی مہیب دیو غصے میں یہاں سے گزرا ہو  ،۔
جس کے پنجے مارنے سے مکانوں کی چھتیں اکھڑ چکی ہوتی ہیں درخت اکھڑ کر بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، گاڑیاں اور ٹرک کھلونوں کی طرح بکھرے پڑے ہوتے ہیں ،۔

گے ریرا گوس ، یہ لفظ گوریلا جنگجو  سے لیا گیا ہوا لگتا ہے ،۔
کہ بارش کا طوفان گوریلا جنگجو کی طرح اچانک  حملہ آور ہوتا ہے اور نقصان کر کے چلتا بنتا ہے ،۔
کسی بھی علاقے میں اچانک بادل چھا جاتے ہیں ، جو بجلی کی کڑک چمک کے ساتھ اتنی شدت سے برستے ہیں کہ لگتا ہے کسی نے پانی کی بالٹی الٹ دی ہو ،  ایک دو کلو میٹر کے ایریا میں آسمانی بجلی کے گرنے سے  درخت جل جاتے ہیں انٹینا پر بجلی کرنے سے گھروں میں استعمال کرنے والی چیزیں جل جاتی ہیں ،۔
یک دم پانی کی پہتات سے نالیاں ابل پڑتی ہیں ، سڑکوں پر اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ گاڑیاں کھڑی ہو جاتی ہیں ،۔
پہاڑوں میں یک دم  پانی کی بہتات سے کچے پہاڑ پھسل کر نزدیکی مکانوں کو دفن کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی جانوں کا بھی زیاں ہوتا ہے ،۔
ہر دو افات یعنی گے ریرا گوس اور تاتسو ماکی کی پشینگوئی ممکن ہے ، لیکن بہت کم وقت پہلے ہی بتایا جا سکتا ہے کہ  انے والے چند گھنٹوں میں کسی علاقے میں یہ آفت آنے والی ہے ،۔

جمعرات، 13 ستمبر، 2018

انداز بیاں

پرائمری کلاسز کا ایک بچہ جو صبح عربی کی تعلیم کے لئے مدرسے بھی جاتا ہے ،۔
ایک دن اپنی ماں کو بتاتا ہے کہ اج مولوی صاحب نے موسی اور فرعون کا قصہ سنایا ہے ۔
ماں بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے دلچسپی سے پوچھتی ہے
مجھے بھی بتاؤ کیا قصہ سنایا ہے ؟
بچہ بتاتا ہے کہ موسی علیہ سلام یہودیوں کو لے کر فرعون کے حملہ آوروں سے بچا کر فرار ہو رہے تھے
کہ
آگے دریا آ گیا ،۔
یہودیوں نے وہاں فوجی سٹائل میں فوراً بننے والا پل بنا کر دریا پاس کیا ہی تھا کہ فرعون کی فوج بھی پل تک پہنچ گئی
تو موسی علیہ سلام اور ان کے ساتھوں نے پل کو ڈاینامائٹ سے اڑا کر تباھ کر دیا
جس سے فرعون کی فوج دریا میں غرق ہو کر مر گئی ۔
ماں حیران ہو کر بچے سے پوچھتی ہے
کیا مولوی صاحب نے یہ قصہ اسی طرح سنایا تھا
جس طرح تم مجھے سنا رہے ہو ؟
بچہ مصعومیت سے جواب دیتا ہے ۔
نہیں ! جس طرح مولوی صاحب نے سنایا تھا
اس طرح اگر میں آپ کو بتاؤں تو ، آپ کو یقین نہیں آئے گا !!!،۔

اتوار، 9 ستمبر، 2018

معاشی ترقی کی تکنیک


مندرجہ ذیل پوسٹ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ تبدیلی  بھیک مانگنے سے نہیں دینے سے آتی ہے ،۔
میرے ذہن  وہ ویڈیو گھوم رہی تھی جس میں مذہبی لیڈر خادم حسین رضوی صاحب ملکی معیشت کو بھیک  سے چلانے کا آئیڈیا دے رہے تھے ،۔
میرا خیال تھا کہ عمران کے ذہن میں جاپانی یا امریکی معاشی ماہرین کا کوئی آئیدیا ہو گا  لیکن عمران صاحب کے ذہن میں بھی خادم حسین رضوی صاحب والا کمپیوٹر سیٹ کر کے لانچ کیا گیا ہے ،۔

سن 2008ء کے اگست میں جاپان میں بہت بڑا مالی بحران آیا تھا ، امریکہ میں لیہمین بنک کے دیوالیہ ہوتے ہی ایسا لگا کہ جیسے جاپان میں کرنسی نامی چیز ہی غائب ہو گئی ہے م،۔
لوہے کے سکریپ کا ریٹ 60 ین فی کلو سے گر کر 3 روپے ہو گیا تھا ،۔
منڈی میں جو ٹرک ڈھائی ملین کا بک رہا تھا ، اس کو کوئی ڈھائی لاکھ میں بھی لینے کو تیار نہیں تھا ،۔
جاپان میں لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی حکومت تھی ، ایک سال بعد الیکشن تھے ، لبرلز معیشت کو سنبھالا نہیں دے سکے ،۔
 1955ء سے اپنے قیام سے مسلسل اقتدار میں موجود پارٹی کو 2009ء کے الیکشن میں شکست ہوئی تھی کیونکہ  اپوزیشن پارٹی ڈیموکریٹ پارٹی جاپان نے معیشت کو سنبھالا دینے کا وعدہ کیا تھا ،۔
ڈیموکریٹ پارٹی  نے اقتدار سنبھالتے ہیں معیشت کے ماہرین سے مشورہ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ  ملکی معیشت کی تیزی کا انحصار حکومتی خرچوں پر منحصر ہوتا ہے ، حکومت جو خرچ کرتی ہے ، یا کہ اسان سود اور شرائط پر جو قرضے دیتی ہے  ملک کی معیشت اس سے تیزی پکڑتی ہے ،۔
جس کے لئےدیموکریٹک پارٹی نے تعمیرات  کے ٹھیکوں کی شکل میں ٹریلین ین کی رقم  ملکی کمپنیوں  میں بانٹی ، بڑی کمپنیوں نے ذیلی کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر اس رقم کو اگے پھیلایا ،۔ 
اس کے علاوہ  بنکوں سے اسان شرائط پر قرضے دئیے گئے 
لیکن معیشت پر طاری سستی دور نہ ہو سکی ،۔
اس حکومت کے وزیر اعظم ہاتو یاما پر ان دنوں الزام لگا کہ  ان کو ہونے والی ماہانہ ایک کروڑ چالیس لاکھ کی امدن  پر ٹیکس نہیں دیا جا رہا ،۔
جس پر ہاتو یاما صاحب نے قوم کو بتایا کہ یہ رقم ان کی امدن نہیں ہے بلکہ ان کو اپنی ماں کی طرف سے ملنے والا جیب خرچ ہے ،۔
ایک کروڑ چالیس لاکھ ، جو کہ ان دنوں کوئی دو لاکھ امریکی ڈالر بنتے تھے ، ۔
جاپانی میڈیا نے اس بات کا بہت مذاق اڑایا کہ  ایک کروڑ چالیس لاکھ  ین ماہانہ جیب خرچ ؟؟
میڈیا اینکر جب ہاتو یاما صاحب کی ماں سے یہ پوچھنے کے لئے گئے کہ کیا اپ واقعی اتنی بڑی رقم جو کہ جاپان کے تنخواھ دار کی  اوسط سالانہ رقم سے بھی تین گنا زیادہ ہے اتنی رقم ماہانہ جیب خرچ کے لئے دیتی ہیں ؟
تو یاتو یاما کہ ماں نے بتایا کہ ہاں میں اتنی رقم اپنے بیٹے کو  جیب خرچ دیتی ہوں ،۔
جس پر جاپانی میڈیا نے قوم کو اگاھ کیا کہ وزیراعظم ہاتو یاما صاحب کی ماں بریج سٹون ٹائر بنانے والی کمپنی کے مالک کی بیٹی ہے ، اور اس کو بھی اپنے باپ سے جیب خرچ ملتا ہے ،۔
ہاتو یاما صاحب کے جیب خرچ والی بات ایسے ہی باتوں سے بات نکل آئی ہے اور اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں کہ قانونی طور پر اپنی انکم کو بانٹ کر انکم ٹیکس  کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے ، جس سے ملک کو بھی نقصان نہیں اور ٹیکس گزاروں کو بھی تسلی رہتی ہے ،۔
اب ہوا یہ کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی چار سال کی حکومت میں معیشت سنبھل نہ سکی ،۔

لبرل ڈیموکریٹکس نے معیشت کو سنبھالا دینے کا نعرہ لگایا،۔
قوم نے  الیکشن میں دوبارہ  لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو منتخب کر لیا ۔،
نئے وزیر اعظم شینزو آبے صاحب نے معاشی ماہرین سے  مشورہ کیا ،۔
ماہرین نے بتایا کہ  
معیش میں تیزی لانے کا فارمولا  بس حکومتی خرچوں کو بڑھانے میں ہی ہے ،۔
جب ماہرین سے پوچھا گیا کہ ڈیموکریٹکس کی حکومت  تین ٹریلن ین کی رقم مارکیٹ میں پھینک چکی ہے ، اس کا نتیجہ کیوں نہیں نکلا ؟
تو ماہرین نے بتایا کہ معاشی بحران سے قوم میں عدم تحفظ کا احساس  بن گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ خرچ کرنے کی بجائے رقم کو سنبھال کر بیٹھ گئے ہیں ، قوم کا یہ احساس ختم کرنے یا کم کرنے کے لئے مذید رقم مارکیٹ میں لانی ہو گی ، تاکہ عام عوام کے بٹوے تک رقم پہنچے اور عام اپنے بٹوے خرچ کے لئے کھولنے پر امادہ ہو جائے ،۔
وزیر اعظم شینزو آبے صاحب نے اپنے دور اقتدار میں تین دفعہ بڑی بڑی رقوم مارکیٹ میں پھینکی ہیں ،۔
بنکوں کو قرضے دینے پر مجبور کیا ہے ،۔
بلکہ جاپان نے بنکنگ کی تاریخ میں پہلی بار  مائینس سود کا فارمولا متعارف کروایا ہے ،۔
ماینس سود کے فارمولے والی بات یہ ہے کہ 
ملکی بنک  اپنے کھاتا داروں کی رقوم ، طلب گاروں کو سودی قرضے پر دیتے ہیں ،۔
زاید رقوم سٹیٹ بنک میں رکھتے ہیں ، جہان سٹیٹ بنک ان کو سود ادا کرتا ہے ،۔
جاپان نے یہ رول متعارف کروایا کہ بنکوں کی سٹیٹ بنک میں رکھی رقوم پر  سود ادا کرنے کی بجائے وصول کیا جائے گا ، اگر بنک یہ سود ادا نہیں کرنا چاہتے تو اپنی رقوم کو شہریوں کو قرضے دینے میں استعمال کریں ،۔
جاپان ے ملک کے اندر معاشی ٹیکٹ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ  خارجی محاذ پر تجارت کے لئے نئے معاہدے کئے ، نئی شرائط طے کیں جن کی تفصیل آج کا موضوع نہیں ہے م،۔
ابھی تک جاپان کی معیشت میں روانی نہیں آئی ہے لیکن حالات بہتری کی طرف رواں ضرور ہیں ،۔


پاکستانیو ، عقل نوں ہتھ مارو ،۔
جاپان کی نقل ہی کر لو ،۔

اتوار، 2 ستمبر، 2018

امریکہ ، چین اور زراعت



امریکہ نے دنیا کو جو کچھ دیا ہے ، یعنی تکنیک کی ریسرچ اور اس ریسرچ تک سب کو اپروچ ، انسانی حقوق اور برابری ، یہ چیزیں معلوم تاریخ میں کوئی بھی مذہب ، معاشرہ یا کہ قوم کسی دوسرے کو ڈیلیور کرنا تو دور کی بات ہے خود اپنے لوگوں کو بھی کوئی ڈلیور نہیں کر سکا ،۔
جہاں تک بات ہے چین کی ؟ تو چین اخلاقی طور پر کبھی بھی اتنا اعلی نہیں رہا جتنا کہ امریکہ ہے ،۔
اس وقت کے چین میں بھی خود چینی لوگوں میں برابری اور انسانی حقوق میں فرق موجود ہے ،۔
چین میں چینی شہریوں کے ڈومیسائل دو قسم کے ہیں ، دیہاتی اور شہری !،۔
ہر دو کی حدود اور حقوق میں بھی فرق ہے اور ان کی دونون کی معاشی تعلیمی حالت کا بھی فرق ہے تو جبلت کا میں فرق ہے ،۔
جس طرح کہ ہندو دنیا کی پرانی ترین معاشرت ہونے کے باوجود  اپنے اندر کے طبقاتی نظام کی وجہ سے دنیا کو کچھ ڈلیور نہیں کر سکا ، بلکل اس طرح چین بھی کبھی بھی امریکہ کا متبادل نہیں بن سکتا ،۔

امریکہ میں ایک فقرہ بولا جاتا ہے ، لینڈ آف ایمگرینٹس ،۔
لیکن 
امریکہ ایمگرینص کا نہیں سیٹلر کا بسایا ہوا ملک ہے ، ان لوگوں کا جو یہاں سیٹل ہونے کے لئے آئے تھے ،۔
 امریکہ واقعی سیٹلر کا بنایا ہوا ہے ،ایمگرینٹ صرف ڈالر کی تلاش میں ہوتے ہیں ،۔
میں نے باہر دنیا گھوم کر دیکھی ہے ، پاکستانی لوگ جہان بھی گئے ہیں اس ذہن کے ساتھ گئے ہیں کہ 
کچھ کما کر واپس آنا ہے ، اس لئے اپ دیکھیں گے کہ پاکستانی دنیا بھر میں اپنی جوانی پیسے کے لئے خجل خوار ہو جاتے ہیں ، ادھیڑ عمری میں سیٹل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور بہتر زندگی گزارنے لگتے ہیں م،۔
اگر یہی ذہن یعنی سیٹل ہونے کا ذہن پہلے دن کا بنا ہوا ہو تو ؟
امریکہ ، کناڈا اسٹریلیا یورپ میں جتنا سکوپ اور پیشہ زراعت میں ہے اتنا پیسہ کسی بھی اور پیشے میں نہیں ، میرا مطلب ہے جو پیشے ہم پاکستانیوں کو میسر ہو سکتے ہیں ،۔
 مجھے یاد ابھی جب کہ میں خود ناتجربہ کار تھا ، میری ملاقات ایک پنجابی سکھ فیملی سے ہوئی تھی ، جو کہ کوریا گھومنے پھرنے کے لئے آئے ہوئے تھے ،۔
ان کا کناڈا میں زرعی فارم تھا ، خاندان کا سربراھ اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں تھا ، جب میں نے سنا کہ کناڈا میں زراعت کرتے ہیں تو ؟
میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ فارمنگ میں اتنی کمائی ہے کہ بندہ ، کوریا گھومنے پھرنے کا ٹور کر سکے ؟؟
تو سردار جی بڑے مہربان تھے انہون نے طنز تو نہیں کیا 
لیکن کہا کہ یار جی ایک یہی تو پیشہ ہے جو اتم ہے، اس سے بڑھ کر کمائی کس میں ہو گی ،۔
مزے کی بات کہ یہاں جاپان میں اگر بندہ زرعت میں انے جوگا ہو تو ؟ 
زمین بہت سستی ملکی ہے بلکہ کئی گاؤں تو مفت زمین کی بھی آفر کرتے ہیں ،۔


ہفتہ، 25 اگست، 2018

زمانوں کی باتیں



بادشاہوں کی تبدیلی سے زمین پر بڑی بڑی تبدیلیاں ضرور ہوتی ہیں ،۔
یہاں بادشاھ سے مراد بادشاھ ہی ہیں ، وزراء  عظیم و ذلیل  یا کہ صدور  مغرور و معذور  مراد نہیں ہے ،۔
انٹرنیشل قانون ہے کہ دنیا کی کوئی عدالت  کسی بادشاھ کو عدالت میں طلب نہیں کر سکتی اگر چہ کہ بادشاھ نے بھیس بدل کر کسی اور نام سے ہی جرم بھی کیوں نہ کیا ہو ،۔

یہاں جاپان میں بادشاھ کی تبدیلی کا عمل ہونے والے ہے ،۔ بلکہ فیصلہ ہو  چکا ہے کہ 2019ء کے مئی سے نئے بادشاھ کا دور ہوگا ابھی اس دور کے نام کا اعلان نہیں ہوا ہے ،۔
بادشاھ کے بدلنے کے اعلان کے ساتھ  ہی ایک بہت بڑی تبدیلی جو میں نے محسوس کی ہے وہ ہے گرمیوں میں آنے والے طوفانوں کے رخ میں تبدیلی ،۔
یاد رہے جاپان میں جون جولائی اور اگست ستمبر میں طوفان باد و باراں ایک تسلسل کے ساتھ آتے ہیں ،۔
عرصہ تیس سال سے جو میں نے اپنی انکھوں سے دیکھا ہے کہ طوفان کی پیدائش جاپان کے جنوب مغربی جرائیر کے قریب ہوتی  تھی اور طوفان جونب سے شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے جاپان کے مرکزی جزیرے تک پہنچ کر ختم ہو جایا کرتا تھا ،۔
یہ طوفان کبھی بھی جاپان کے شمالی جزیرے، ہوکائیدو تک نہیں پہنچا کرتے تھے ،۔
تاریخ میں پہلی بار پچھلی گرمیوں میں شاہی دور کی تبدلی کے اعلان کے ساتھ ہی  طوفان جاپان کے مشرق سے اٹھا اور اپنی شدت  کے ساتھ جاپان کے درمیان سے زمین پر بارش برساتا ہوا شمالی جزیرے ہوکائیدو تک پہنچا تھا ،۔
طوفانون سے ناآشنا زمین  ہوکائیدو پر اس طوفان نے بہت تباہی مچائی تھی کہ  آلو اور سبزیوں کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں ،۔
اور اس سال مسلسل سارے طوفان  مشرق سے اٹھ رہے ہیں اور ہوکائیدو تک مار کر رہے ہیں ،۔
اج 25 آگست 2018ء  کے دن 20واں طوفان گزرا ہے ،۔
جو کہ عمومی راستے سے ہٹا ہوا جاپان کے مشرق سے  پیدا ہو کر ایک کمان کی شکل میں جاپان  کے اوپر سے گزر کر شمالی کوریا اور چین کی زمین سے گزرتا ہوا روس میں جا کر ختم ہوا ہے ،۔

جاپان میں ہے سے کا دور چل رہا ہے ، اگست کا مہینہ ہے ، موسم بہت گرم ہے حبس اور پسینے کی بہتات ہے ،۔
اور یہ گرمیاں  ہے سے کے زمانے کی آخری گرمیاں ہیں ،۔
مجھے ہے سے کے دور کی پہلی گرمیاں بھی یاد ہیں  ،۔
میں ، شووا کے دور میں اخری مہینوں میں جاپان میں داخل ہوا تھا ،۔
فوراً ہی سردی شروع ہو  گئی تھی ہڈیوں میں اتر جانے والی سردی جس کا پنجاب میں تصور بھی نہیں کیا تھا ،۔
اپنی غریبی کے احساس  کی وجہ سے ایک سستی سے جیکٹ لی تھی  جو جسم کو گرم تو نہیں کرتی تھی ، بس سردی کی شدت کو کم کر دیتی تھی ،۔
فیکٹری میں ساتھ کر کرنے والی ایک خاتون نے کچھ ٹی شرٹس تحفتاً دی تھیں ، جن کو پہننے کا شوق تھا کہ گرمیوں کا انتظار بہت شدت سے تھا 
لیکن مارچ اپریل تو کجا مئی میں بھی سردی تھی کہ ادھے بازو والی شرٹس نہیں پہنی جا سکتیں تھیں ،۔
مجھے ہے سے کے زمانے کی پہلی گرمیاں اس وجہ سے یاد ہیں کہ پھر جب گرمیاں آئیں تو جوانی تھی  جسم متناسب تھا آدھے بازو والی شڑٹس اور جین بہت پھبتی تھی ،۔
جاپانیوں کے نرم روئے ، رواداری اور غیرملکیوں کو بچوں کی طرح ٹریٹ کرنے کا زمانہ تھا ،۔
معاشرے نے ہمیں زبان سکھانے میں اداب سیکھانے میں  بالغانہ رویہ رکھا ، غیر جاپانیوں کا رویہ بھی بچوں والا ہو گیا ہوا ہے ۔ْ
لیکن مجھے انے والے زمانے میں نظر آ رہا ہے کہ جاپانیوں کا رویہ بدل رہا ہے ،۔
اب معاشرہ غیر ملکیوں سے ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے ،۔
بہت ہو چکا بچوں والا رویہ ، اب بندے بنو اور اپنے غلطیوں کی معافی کے ساتھ ساتھ تلافی کا بھی  تقاضا زور پکڑے گا ،۔
ہو سکتا ہے غیر  جاپانی لوگ اس کو غیر ملکیوں کے ساتھ تعصب کا نام دیں 
لیکن میں ، اس کو تعصب کا نام نہیں دوں گا ، ۔


ہاں تو بات ہو رہی تھی  بادشاہوں کی تبدیلی سے  زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کی ،۔
اگر بات کریں اپنے خطے کی تو  جارج ششم  1936ء سے 1952 ء  کے دور میں برصغیر کی تقسیم کی تحریک اٹھی اور بارشاھ کی زیر نگرانی ملک کو تقسیم کر کے بادشاھ کے نمائیندے گورنرجنرل بٹھا دئے گئے ،۔
کوئین کی تاجپوشی 1952ء کے ساتھ ہی پاکستان کو آرمی کے حوالے کر کے انڈیا کو عوام کے حوالے کر دیا گیا ،۔
کوئین کے دور میں زمین کے اس حصے میں کچرے کا عذاب نازل ہوا ، جو کہ سارے برصغیر پر جاری ہے ، ،۔
وہاں برطانیہ کے زیر اثر پاکستان میں مجھے نظر آ رہا ہے کہ ملکہ محترمہ نے جس فوج کو ملک سونپا تھا ، ملکہ کی ضعیفی کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے رعب اور دبدبے میں بھی ضعف جھلک رہا ہے ،۔
کنگ ولیم کے دور میں اس علاقے کا نام بھی بدل سکتا ہے اور طاقت کا ڈنڈا کسی اور کے ہاتھ میں بھی دیا جا سکتا ہے ،۔
بادشاہوں کے بدلنے سے زمین کے حالات بدلتے ضرور ہیں 
لیکن بدلنے والی ذات  صرف ایک ہی ہے ، جس کو میں اپنا رب مانتا ہوں اور اس ذات کو اللہ کے نام سے پکارتا ہوں  ،۔
اس ذات کو  کوئی خدا کہے کہ خداوند ، بھگوان کہے کہ  پرمیشور ، رب کہے کہ مولا ،  مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ،۔

بدھ، 8 اگست، 2018

مانےکی نےکو

جاپانی رسومات سے آگاہی کے سلسلے کی ایک تحریر ،۔

مانے کی نیکو ،جاپان میں اپ نے دوکانوں گھروں سٹوروں پر شراب خانوں پر ایک بلی کا مجسمہ پڑا دیکھا ہو گا ؟
اس کو مانے کی نیکو کہتے ہیں ،۔
جاپانی کلچر میں اس مجسمے کو خوش قسمتی کو مدعو کرنے والی بلی کے طور پر جانا جاتا ہے ،۔
بلی نے ایک ہاتھ اٹھایا ہوا ہوتا ہے ،۔
کہیں پہ دایاں اور کہیں پہ بایاں پنجا اٹھائے ہوئے کاؤنٹر پر شیلف پر بیٹی نظر آتی ہے  ،۔
بہت کم یہ ہوتا ہے کہ بلی نے دونوں پنجے اٹھائے ہوتے ہیں اور خوشی سے اچھلنے والی کیفیت میں ہوتی ہے ،۔
بائیں پنجے کو اٹھائے ہوئی بلی کے مجسمے کاروباری  جگہوں پر رکھے جاتے ہیں اور دائیں پنجے کو اٹھائے ہوئے گھروں پر رکھے جاتے ہیں ،۔
لیکن یہ کوئی فارمولا نہیں ہے ،۔ کہیں کہیں اس اصول کے خلاف بھی دیکھا جا سکتا ہے ،۔
جاپانی لوگوں کا یقین ہے کہ بلی سُکھوں کو خوشیوں کو اشارے سے بلا رہی ہے ، جیساکہ کہیں آپ کو کئی جگہوں پر بلی اپنا پنجا اٹھائے موٹر کی طاقت سے پنجہ ہلاتی ہوئی بھی نظر آتی ہے م،۔
بلی نے جھولی میں سونے کی اشرفی سنبھالی ہوئی ہوتی ہے ،۔
جاپان میں جیت کی خوشی میں یا کہ زندہ باد کے کے لئے دونوں بازو اٹھائے جاتے ہیں ، دونوں پنجے اٹھائے ہوئی مانے کی نےکو جیت کی نشاندہی کر رہی ہوتی ہے ،۔
لاٹری کے ٹکٹ بیچنے والے سٹالوں کے باہر برقی طاقت سے پنجہ ہلاتی ہوئی بلی آپ کو ضرور نظر آتی ہے ،۔
بلی کا اٹھا ہوا پنجا عام طور پر بلی کے کان تک ہوتا ہے 
لیکن کچھ لوگ خاص آڈر پر کان سے اوپر اٹھے ہوئے پنجے والی بلی بھی رکھتے ہیں ،۔
اس کے پیچھے یہ سوچ ہوتی ہے کہ بلی ہاتھ لمبا کر کر کے خوشیوں کو بلا رہی ہے ،۔

جاپان میں اس بلی کو خوش قسمتی کی چینی بلی بھی کہا جاتا ہے ۔ جاپان میں یہ بلی چین کے راستے ایدو دور میں داخل ہوئی تھی ایدو کا دور سترویں صدی کے زمانے کو کہا جاتا ہے ،۔

جمعہ، 20 جولائی، 2018

دلائی لامہ اور لطیفہ


تبت کے دلائی لامہ کے خیالات پڑھ رہا تھا ،۔
دلائی لامہ صاحب بتا رہے تھے 
کہ
ہمارا دنیا کو دیکھنے کی نظر ہی ترچھی تھی ، جہاں میں پروان چڑھا وہاں لوگ دوسری دنیا کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے تھے ،۔
 قدرت کے مظاہر پر فکر کرنا ہی علم تھا ،۔
میرے لوگ فزکس ، کمسٹری بائیالوجی کے متعلق کچھ بھی نہیں جاتے تھے ،۔
دوسری دنیا کے مذاہب کی روایات عبادات کا کچھ علم نہیں تھا 
میرے لوگون کا علم گوتم کے بعد کانگ یور  اور تنگ یور کی شخصیات تک تھا اور جغرافیہ میں ہم لوگ یہی جانتے تھے کہ زمین ایک تکونی پلیٹ ہے جو کہ سمندر میں تیر رہی ہے ،۔ 
چاند سورج اور ستارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں جن کو کچھ نیکی کی قوتیں اور کچھ بدی کی قوتیں چلا رہی ہیں ،۔

مجھے یہ پڑھ کر ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا ،۔

کہیں کسی گاؤں میں کوئی جنازہ جا رہا تھا ، مرنے والے کی رشتے دار خاتون ، دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی 
وے تو اوتھے چلیا ، جتھے نی دیوا نہ بتی ، وے جتھے نہ بوھا نہ باری ،۔
مراثی اپنے بیٹے کے ساتھ گزر رہا تھا 
مراثی کا بیٹا عورت کے ہاڑے سن کر کہتا ہے ،۔
ابا ! اینج لگدا اے ، اے بندھ ساڈے گھر چلیا ہے ،۔
باقی تسی وی سیانے او 
تمثیلاں دے کر بات کرنا تو اللہ کی سنت ہے ، ہے ناں ؟

جمعہ، 6 جولائی، 2018

جاپان میں ایک مذہب کے بانی کا انجام


آخر کار ،وہ اپنے انجام کو پہنچا ۔
آسا ہارا شوکو  ، کا اصلی نام تھا ماتسوموتو چینزو ،۔
جاپان میں اس نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی ،  اس مذہب کا نام تھا اوم ۔ 
آساہارا  کو جمعے کے روز  آکر کار پھانسی پر ٹانگ دیا گیا ،  جاپان ، جہاں سزائے موت کا قانون ہے اور سزائے موت دینے کا ان کا ایک طریقہ کار ہے ،۔
کہ جس میں سزائے موت پانے والے کے لواحقین کو آخر تک اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ مجرم کس کس دن موت سے ہمکنار کیا جائے گا ،۔
بس ایک دن رابطہ کرنے والے رابطہ کرتے ہیں کہ اپنے بندے کی لاش آ کر لے جاؤ !!،۔
بس اللہ اللہ تے خیر صلا!،۔
بس اسی طرح آسا ہار  کو بھی ٹھکانے لگا دیا گیا ہے ،۔
آساہار ، جو کہ جوانی میں انڈیا گیا تھا جہاں اس نے یوگا کی تعلیم لی تھی ہندو یوگیوں کی زندگی کو قریب سے دیکھا تھا ، پرانوں کی روایات  اور علوم  کو سننے کا موقع ملا تھا ،۔
یہیں اس کو ایک نیا مذہب بنا کر وشنو کا اوتار بننے کا خیال آیا  ہو گا،۔
انیس سو چوراسی میں  اساہارا نے ایک یوگا سکول شروع کیا تھا اس کے فوراً ہی بعد اپنے نئے مذہب کا پرچار بھی شروع کر دیا،۔
دس سال کے عرصے میں اس کے ماننے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی ،۔
یوگا سکولوں کے ساتھ ساتھ سائینسی تحقیات کے لئے لبارٹریاں بھی بنا چکا تھا ،۔
انیس سو نوے کے الیکشن میں  اسارا نے ہاؤس آف  ریپریزنٹیو کے الیکشن میں  کئی کینڈیٹ کھڑے کئے تھا تاکہ ریاستی طاقت حاصل کر سکے ،۔
آسار کے کھڑے کئے ہوئے سارے امیدوار ناکام ہو گئے تھے ،۔
اس کے بعد آسا ہار نے لوگون کو قتل کر کے طاقت حاصل کرنے کے لئے  اپنی لیبارٹی کی تیار کی گئی گیس سے لوگون کو قتل کرنا شروع کردیا تھا ،۔
جون انیس سو چورانوے میں  ناگانو پرفیکچر کے شہر  ماتسموتو میں اگیس چھوڑ کر آٹھ افراد کی جان لے لی تھی اور اس واقعے میں کوئی ایک سو افراد گیس سے شدید متاثر ہو کر سخت مجروح ہوئے تھے ،۔
انیس سو پچانوے میں  ٹوکیو  میں ٹرین میں گیس چھوڑ کر دی تھی ، جس میں ترہ افراد موت کا شکار ہوئے اور ڈیڑھ ہزار سے زیادہ لوگ مفلوج ہو کر رہ گئے تھے ،۔
اساہار  انیس سو چھیانوے میں گرفتار ہوا تھا ، گرفتاری سے لے کر سزائے موت پر عملدامد تک عرصہ بائیس  لگا ہے ،۔
آخر کار ۔
اساہار  ، اوم شینریکیو کا بانی موت سے ہمکنار کیا گیا ،۔
بائیس سال کا عرصہ سخت مصائب اور حکومتی نگرانی 
کے باوجود اج بھی اس کے بنائے ہوئے مذہب کے ماننے والون کی تعداد  دو ہزار افراد سے زیادہ ہے ،۔
ان میں سے سولہ سو پچاس لوگ جاپان میں ہیں اور چار سو بیس لوگ رشیا میں مقیم ہیں ،۔اور اس مذہب کے  اثاثوں کی مالیت کوئی نوے لاکھ امریکی ڈالر کے برابر ہے ،۔
سن 1989ء میں ایک وکیل  سکاموتو تسوتسمی اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ قتل ہو گیا تھا ،۔
یہ وکیل آساہار  سے متاثر جوان بچوں کے والدین  کی مدد کر رہا تھا تاکہ بچوں کا آساہار کے  اثر سے نکالا جا سکے ،۔
انیس سو اناسی میں ہونے والے اس قتل کا معمعہ  آج تک حل نہیں ہو سکا کہ اس کو کس نے قتل کیا تھا ،۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قتل بھی آسا ہار کے کہنے ہر کیا گیا ہو گا ،۔

جمعہ، 15 جون، 2018

آپ کی سوچ


ایک دفعہ کا ذکر برطانیہ کے کسی شہر میں پاکستانیوں کے ایک گھر میں باربی کیو پارٹی میں بیٹھا ہوا تھا ۔
گوشت کے کام سے برطانیہ میں اتنی کمائی ہوتی ہے کہ وہاں برطانیہ میں کہا جاتا ہے ، قصائی سناروں سے امیر ہوتے ہیں ،۔
پارٹی میں  کئی بیگمات بھی شامل تھیں ، کھلے ڈھلے ماحول میں باتیں ہو رہی تھیں ،۔
بات چل نکلی  لاٹری کی  کہ ابھی کسی گورے کا جیک پاٹ لگا ہے  ،۔
سب اس کی قسمت پر رشک کرنے لگے کہ 
ایک بیگم صاحبہ مجھے مخاطب کر کے پوچھتی ہیں ،۔
وے خاور ! جے توں جیک پاٹ لاٹڑی ون کر جائیں تے ؟ اینی وڈی رقم دا کی کرئیں گا ،۔
یعنی کہ خاور اگر تمہاری ایک کروڑ پونڈ کی لاٹڑی نکل آئے تو کیا کرو گے ،۔
میرے ذہن میں جو  میری خواہش تھی وہ میرے لبوں پر آ گئی 
کہ
میں گوجرانوالہ میں ایک بڑی لائیبریری بنا دوں گا جس لائیبریری میں غیر ملکی زبانوں کی ترجمعے کا کام بھی ہو گا اور اپنا چھاپا خانہ بھی ہو گا ،۔ایک ایسی لائیبریری کہ صدیوں تک لوگ فیض پائیں گے ،۔
ان بیگم صاحبہ نے میری بات سن کر منہ سے چخ چخ کی تاسف بھری آواز نکالی اور بڑی ہی مایوسی سے فرماتی ہے ،۔
اللہ دی شان ، چھوٹی سوچ  ، لائیبریری ! میرا تو خیال تھا تم اتنے اچھے انسان ہو  کوئی مسجد بنانے کی بات کرو گے ،۔
آئے ہائے صرف لائیبریری ، چھوٹی سوچ ،۔
میں یہ بات سن کر بس خوموش ہی ہو گیا 
کہ واقعی  میری اس بات کو سمجھنے کے لئے بھی ادبی ذوق کی ضرورت ہے ، اور جس میں ادبی ذوق نہیں ہو گا اس کی نظر میں واقعی یہ چھوٹی سوچ والی بات ہو  گی ،۔
لیکن جو لوگ ادبی اور علمی ذوق رکھتے ہیں وہ ، ہاں صرف وہی لوگ جانتے ہیں کہ  ایک لائیبریری  جس کا اپنا پریس ہو اور ترجمعے کا نظام ہو ، یہ کتنا عظیم کام ہے ،۔
تو اب میں دوسری بات کہوں گا 
جس کو پڑھ کر 
شائد اپ بھی اسی برٹش بیگم صاحبہ کی طرح تاسف کا اظہار کریں کہ چھوٹی سوچ !!،۔
لیکن یہ بات ہے بڑی باریک اور سوچ کرنے والی ، لیکن صرف اعلٰی دماغوں کے لئے ،۔
کہ
پاکستان کے معاشرے میں ہر ہر گاؤں اور دیہہ کو ایک ایک یا کہ دو دو یا کہ تین تین چھپڑ (جوہڑ) کی ضرورت ہے ، اور ان چھپڑوں (جوہڑوں) تک گندے پانی کو پہنچانے کے لئے نالیوں کی ضروت ہے م،۔

کیا خیال ہے اپ کا میرے اس ادراک کے متعلق ؟
کیا خیال ہے میری اس سوچ کے متعلق؟

Popular Posts