جمعرات, فروری 22, 2018

رب نال گلاں ، ویڈیو


ہفتہ, فروری 10, 2018

آٹو درائیو کاریں ۔

آٹو ڈرائیو  کاریں ۔
جاپان کے وزیر اعظم جناب آبے نے عندیہ دیا ہے کہ دوہزار بیس تک کاریں آٹو ڈارئیو پر ہو جائیں اور دوہزار تیس تک سڑکوں پر بھی دوڑنے لگیں ،۔
پہلے پہل لوکل اور ابادیوں کی سڑکوں پر چلائی جائیں اور اور اگلے مرحلے میں ہائی ویز پر ،۔
آٹو ڈرئیو کی کاروں  اور ٹرکوں کو آٹو ڈرائیو پر  منتقل کر کے گاڑی میں سوار لوگوں کی ایکٹویٹی پر پرزینٹشنز ویڈیو بنا کر دیکھائے جا رہے ہیں ،۔
کہ کیسے گاڑی آٹو ڈائیو پر چل رہی ہے اور گاڑی میں سوال لوگ سیٹو کے منہہ ایک دسرے کی طرف کر کے میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں ۔
یا کہ لمبی مسافتوں کے مال بردار ٹرک کے ڈرائیور ، ٹرک کو آٹو پر کرکے کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں یا کہ سمارٹ ڈیوئیس پر ویڈیو ، گانے  یا کہ اپنے معاملے کے لئے روابط کر کے وقت کو استعمال کر رہے ہیں ،۔
یہ کوئی خواب و خیال کی گپیں نہیں ہیں  گاڑیاں ، ورکشاپوں میں تیار ہو رہی ہیں ، دوہزار بیس بس دو سال بعد ہی آنے والا ہے ،۔
 اور بارہ سال بعد  دوہزار تیس ، ہم سے کئی لوگ زندہ ہوں گے اور کئی میچور ہو چکے ہوں گے ،۔

پلٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
والی تصویر بنتی جا رہی ہے کہ
اکیسویں صدی کی یہ آٹو ڈرائیو گاڑیاں ، ہند کے گاؤں دیہات میں چلنے والی بیل گاڑیوں ، گھوڑے کے  ٹانگے کی طرح ہوں گی ،۔
بیل گاڑیوں پر مال لادھے ہوئے شہر کی طرف منہ کئے گڈھے کا ڈائیور  مال سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوتا تھا ،۔
علاقائی زبان کی کوئی منظوم لوک کہانی ، ماہئے یا کہ گیت گا رہا ہوتا تھا ،۔
بیل خود سے چلتے جاتے تھے ،سامنے سے آنے والی چیزوں ، انسانوں مکانوں سے بچ کر نکل جانے میں ڈائیو ر کو ٹینشن نہیں لینی پڑتی تھی ،۔
ٹانگے کا کوچوان باگیں ڈھیلی کئے ، پائیدان پر پیر ٹکائے بانس پر تشریف رکھے ہوئے ، تماشاہائے اہل کرم دیکھ رہا ہوتا تھا ،۔
پھر انجن والی گاڑیاں آ گئیں ، سٹئیرنگ تھامے ہوئے ڈارئیور کی انکھ جھپک گئی یا دھیان بٹ گیا تو ؟
کئی جانئں  ،جان سے گئیں ،۔
لمبی مسافتوں کے ڈارئیور لوگوں کے اعصاب تنے رہ رہ کر چٹخ جاتے تھے ،۔ آنکھیں پتھرا کر رہ جاتی تھیں ، ،۔
میوزک ،جو کہ امیروں کی عیاشی ہوا کرتی تھی آڈیو کے انے سے ڈرائیور کو ایک یہی عیاشی میسر تھی کہ کیسٹ بدلو اور گانے سنو،۔
لیکن دھیان نہ بٹ جائے کہ جان سے جاؤ گے اور گھر پر بیوی بچے انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے ،۔
آٹو ڈارئیو کے انے سے بیلوں کی نکیل ، گھوڑے کی لگام ڈھیلی چھوڑ کر وقت کو انجوئے کرنے والے گاڑی بان یا کوچوان کی طرح اب ڈرئیور بھی  ٹرک کو آٹو ڈرائیو کر کے وقت کی بچت کر لیا کریں
 گے ،۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ وقت کی بچت ؟ پیسے کی طرح وقت کو بچا کر رکھ لیا جانا ناممکن ہے ۔
اگر کوئی کسی کو وقت کی بچت کا طریقہ بتا رہا ہو تو ؟
یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اس پر پھر کبھی سہی ،۔
ابھی اپ اپنے تصور میں آٹو ڈرائیو والے ٹرک اور بیل والے گڈھے کا تقابل کر کے انجوائے کریں ،۔

پیر, جنوری 15, 2018

بے تال لوگوں کا منتر

ہمالیہ کی ترائیوں سے بحر ہند کے پانیوں  تک کی سرزمین ہند میں  ،۔
ہندو لوگوں کا ایک قبیلہ ، جس کو “ بے تالے “ کہتے ہیں بکھرا پڑا ہے ،۔
کہیں یہ بے تال کہلواتے ہیں کہیں بے تالے ، کہیں بٹالے اور کہیں بٹ لالے ،۔
بے تال کے معنی ہوتے ہیں ، کھسکا ہوا یا کہ بے عقل یا کہ جس کی سوچ کے تال میل نہ کھاتے ہوں ،۔
لیکن
ان لوگوں میں بڑے بڑے کاروباری ، دانش وار اور مفکر لوگ پیدا ہوتے ہیں ،۔
ان لوگوں میں ایک روایت پائی جاتی ہے کہ کئی سال قبل مسیح میں راجہ بکرم اجیت کے دور میں ، راجہ بکرم اجیت کے رتن نے ان کے بڑے بزرگ کو بتایا تھا کہ
تم ایک بے تال ہو ، تم میں عقل نہیں ہے ،۔
اور تمہاری انے والی نسلوں میں بھی کوئی عقل مند  پیدا نہیں ہو گا ،اس لئے تم کو میں ایک منتر بتاتا ہوں
جو کہ تم نے اپنے بیٹوں اور بیٹوں کو بتانا ہے اور ان کو کہنا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بھی یہ بتاتے رہیں ،۔
تمہاری نسل میں جو جو یہ منتر یاد رکھے گا ، اس کو ہر زمانے میں عزت ،دولت اور وقار ملے گا ،۔ جو جو یہ منتر بھول جائے گا  وہ وہ زمانے میں رسوا ہو گا ،۔
میرے سے اور میری نسل میں کبھی کوئی عقل مند پیدا نہیں ہو گا ،  میرے بالکو ! ،۔
اس باتکا  تمہارے پڑسیوں کو علم نہیں ہونا چاہئے  ، اس بات کو راز رکھنے اور چھپانے کے لئے ، تم نے کوشش کر کے اور بڑی تندہی سے  جنتر (اسٹرونومی اور ہندسوں کا علم) اور منتر (تحریر کا علم)سیکھنا ہے ،۔
تم میں سے جو جنتر اور منتر نہ سیکھ سکے وہ انت کی مشقت کر کے اور اپنا منہ بند رکھ کے اس راز کی حٖفاظت کرئے گا ،۔
میرے بالکو ! یاد رکھنا تم نے کبھی بھی کسی بھی زمانے میں بھیک اور سود نہیں کھانا ،۔

بے تالوں کے خاندان میں یہ منتر پڑھا جاتا ہے اور بے تالے لوگ ہر زمانے میں سرتال (ردھم) کے ساتھ کامیاب لوگ رہے ہیں ،۔

منگل, جنوری 2, 2018

برف پر پھسلنا


سکیئینگ اور سکیٹنگ ،انگریزی کے دو الفاط ہیں جن کے اردو میں  معنی “ برف پر پھسلنا “ پڑھائے جاتے ہیں ،۔
حقیقت میں یہ دونں کھیل ، گیم یا کہ سہورٹس کہہ لیں بلکل دو مختلف چیزیں ہیں ،۔ ان کے اصول اور قوانین ، سے لے کر استعمال کے اوزار کپڑے اور ماحول تک میں بہت فرق ہے ،۔
اسکیٹنگ ، جمی ہوئی برف جس کو انگریزی میں  آئس کہتے ہیں اس پر پھسلنے کو کہتے ہیں ،۔
اور سکئینگ ؟ برسنے والی برف ، یعنی  سنو پر پھسلنے کو کہتے ہیں ،۔
میں نے ایک دو دفعہ اسکیٹنگ کی کوشش کی ہے لیکن مجھے اس میں مزہ نہیں آیا یا کہ کہہ لیں میں اس کو صحیح طریقے سے کر ہی نہیں سکا ،۔
لیکن سنو پر پھسلنے والی  یعنی اسکیئینگ  انیس سو نوے سے کر رہا ہوں ،۔
کراٹے کے استادوں کی مہربانی جنہوں نے مجھے برف پر پھسلنا ، بریک لگانا موڑ کاٹنا اور رکنا سکھایا ،۔

یکم جنوری  2018ء کے دن توچیگی کے پہاڑوں پر سکیئینگ کے لئے گیا تھا ،  ، چار تاریخ کو پھر جانے کا پروگرام ہے ،۔
اس سے پہلے کئی سال سکئینگ کے لئے نہیں جا سکتا تھا ،۔

جمعرات, دسمبر 28, 2017

ماخوذ

توہین مذہب کے ڈر سے ،ہندوانہ رنگ میں پیش کرتے ہیں ،۔
کہ
جوان لڑکی بھگوان سے پراتھنا کرتی  ہے ،۔
پربو ! میں  بیاھ نہیں چاہتی ، میں  ودیا ، گیان کے ساتھ ساتھ آتما کی شانتی خودانحصاری چاہتی ہوں ، مجھے خصم نہیں چاہئے ،۔
اے بھگوان میری سن لے مجھے خصم سے بچا لے  ،۔
بھگوان کی آواز آتی ہے ،۔
ناری ! میں نے تمہیں بہت سندر اور بھرم بھری بنایا ہے ، بڑے ہی گن رکھے ہیں تم میں لیکن تم سارے کا م نہں کر سکتی جب جب تم غلطی کرو گی تمہیں الزام دینے کے لئے ایک خاوند کی ضرورت ہو گی ،۔
صرف اپنی غلطیوں کو الزام دینے کے لئے ایک خاوند ،۔
گاما بھی مندر میں ہی تھا ، بھگوان کی آواز سن کر گاما تلملا کر رہ گیا اور بات کئے بغیر نہ رہ سکا
اور بھگوان سے پوچھتا ہے
تو میں کیا کروں ؟ میں کس کو الزام دوں ؟؟
آواز آتی ہے ،۔
پترا ! تمہارے لئے بہت وسعت کے   میدانوں میں  ۔
تم حکومت کو الزام دے سکتے ہو ، نظام تعلیم کو الزام دے سکتے ہو ، ماحول کو الزام دے سکتے ہو ، اکنامک کی سست گروتھ کو اور تیز گروتھ کو بھی الزام دے سکتے ہو ،۔
تم مذہب کو الزام دے سکتے ہو بیوروکریسی کو الزام دے سکتے ہو ،۔
سیاستدانوں کی بہن کی سری کر سکتے ہو
اور تو اور تم مجھے ، یعنی بھگوان کو الزام دے سکتے ہو ،۔
بس ایک بات یاد رکھنا  بیوی اور فوج کو الزام نہیں دینا
اور
اور
 اور
عمران خان کو بھی الزام نہیں دینا ورنہ پی ٹی آئی والے بڑی گندیاں گالاں کڈدے نی !!،۔
ماخوذ

منگل, دسمبر 19, 2017

محاورے کی کہانی،۔

محاورے کی کہانی،۔
پرانے زمانے میں کہیں کسی ملک میں کسی بادشاھ نے  مگر مچھ پالے ہوئے تھے ،۔
ایک دن بادشاھ نے اپنے امراء اور وزراء کو  بمع ان کے بیوی بچوں کے اکٹھا کیا اور ان کو مگر مچھوں والے تالاب کے پاس لے گیا ،۔

یہاں تالاب کے پاس  بادشاھ نے اعلان کیا کہ
جو بہادر مرد اس تالاب میں تیر کر دوسرے کنارے تک جائے گا  ، اگر وہ کامیاب ہوا تو اس کو پانچ کلو سونا اور دس گاؤں کی جاگیر عطا کی جائے گی ،۔
اور اگر  چیلنج قبول کرنے والا   مرد ،مگر مچھوں کا شکار ہو کر مارا گیا تو ؟
اس کے پسماندگان کو  دو کلو سونا اور پانچ گاؤں کی جاگیر عطا کی جائے گی ، تاکہ مرنے والے کے بیوی بچے خجل ہو کر نہ رہ جائیں ،۔
سب لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ، ایک سناٹا سا چھا گیا ۔
مردوں کے چہرے کا رنگ اڑا ہواتھا کہ
ایک بندہ ، کپڑوں سمیت تالاب میں کود گیا ، پھراس  نے پلٹ کر نہیں دیکھا ، مگر مچھوں نے اس کا تعاقب کیا لیکن مرد بچے کی سپیڈ تھی کہ مگر مچھ رجے ہوئے تھے ،۔
کودنے والا مرد  کامیاب ٹھہرا ،۔
بادشاھ نے اعلان کیا کہ وعدے کے مطابق اس کو پانچ کلو سونا اور دس گاؤں کی جاگیر عطا کی جاتی ہے ،۔
کہ
ایک بچہ  چیخ کر کہتا ہے ۔
اس کو اس کی بیوی نے تالاب میں دھکا دیا تھا ،۔
بادشاھ کہتا ہے جو بھی ہوا  ، اب یہ بندہ کامیاب ہوا !!،۔
اس دن سے محاورہ بنا ہے کہ ہر کامیاب بندے کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے ،۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی
کیونکہ محاورہ نامکمل ہے ۔
کامیاب شخص نے جاگیر حاصل کر دولت اور نوکر چاکر بھی آ گئے ، کہ اس کو اپنی بیوی جو کہ اب موٹی ہو کر دولیٹر والی کوکے کوکے کی بوتل بن چکی تھی بری لگنے لگی ،۔
کامیاب شخص نے بہت سی باندیاں خرید کر  اپنا حرم بنا لیا ،۔
ایک سال میں اس کے پاس کوئی پچاس باندیاں تھیں اور بیوی صرف ایک ہی تھی ،۔ جس کو ایک علیحدہ محل بنا کر اس میں منتقل کردیا تھا ،۔
کہ اگلے سال  پھر اسی تالاب کے کنارے اسی بادشاھ نے اعلان کیا کہ
پچھلے سال کی طرح کامیاب بندے کو پانچ کلو سونا اور دس گاؤں کی جاگیر دی جائے گی
اور مرنے والے کے پس ماندگان کو  اس کے ادھے سونے اور جاگیر سے اشک شوئی کی جائے گی ،۔
لیکن اس سال ایک نئی شرط یہ ہو گی
کہ
جو شخص تالاب میں چھلانگ نہیں لگائے گا ! اس کی زر خرید باندیوں میں سے ادھی نفری بحق بادشاھ ضبط کر کے بادشاھ کے حرم میں داخل کر لی جائے گی ،۔
باندیوں اور کنیزوں کا بادشاہی حرم میں داخلے کا شوق تھا کہ اپنے مالک کو بچانے کی خواہش  ، سب مردوں کی باندیاں فوراً ان کے پیچھے آن کر کھڑی ہو گئی تاکہ کسی کی بیوی اس کو دھکا نہ دے سکے ،۔
اس سال کوئی بھی شخص تالاب میں نہ کود سکا ،۔
سب کی باندیوں کی ادھی نفری بحق بادشاھ ضبط کر لی گئی ،۔
کسی کی تین گئیں کسی کی پانچ سب سے زیادہ نقصان پچھلے سال کے کامیاب شخص کا ہوا کہ اس کی پچیس نفر بانیاں بادشاھ کے حرم میں داخل کر لی گئی ،۔
اس سال کا سب سے ناکام شخص بھی وہی ٹھہرا ،۔
اس طرح محاور بنا کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے اور ہر ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتیں ہوتی ہیں ،۔

شیشہ

جاپان میں ٹوٹ جانے پر خود کو جوڑ لینے والے شیشے کی دریافت ،۔
جاپان کی لوک کہانیوں میں ایک کہانی ہے جس میں
کہ
ایک کنیز اپنے مالک کی محبت کو ازمانے کے لئے ایک شیشے کی پلیٹ ٹوڑ دیتی ہے ،۔
محبت کا ٹیسٹ ناکام ہو جاتا ہے اور مالک اس کنیز کو قتل کروا کر اندھیرے کنوئیں میں پھینکوا دیتا ہے ،۔
کنیز ایک چڑیل بن کر آ جاتی ہے اور ہر رات باقی کی بچی ہوئی پلیٹوں کو گنتی رہتی ہے ،  پلیٹیں گن گن کر کنیز کی روح مالک کی مت مار دیتی ہے کہ مالک کو بھی خود کشی کرنی پڑ جاتی ہے ،۔
ہائے ، کاش  !!۔
کہ
ٹوکیو یونیورسٹی ، خود کو جوڑ سکنے والا شیشہ اس زمانےمیں دریافت کر لیتی تو ، یہ دونوں کریزی بچے مرنے سے بچ جاتے بلکہ تھوڑی سی کوشش سے پنشن  بھی پاتے  اور ہو سکتا ہے کہ انشورینس کا کوئی اچھا سا پلان لے کر بہت سے بچے جنم دے کر چھوڑ جاتے ،۔
لیکن  ایسا نہیں ہوا تھا
اب اکیسویں صدی میں ٹوکیو یونیورسٹی نے ایک ایسا شیشہ دریافت کیا ہے جو کہ ٹوٹ جانے کی صورت میں  انسانی ہاتھوں سے اگر ٹوٹی ہوئی جگہوں پر جوڑ دیا جائے تو چند سیکنڈ میں جڑ جاتا ہے، ۔
اور اگر اس کو چند گھنٹے  آرام دیا جائے تو شیشہ اپنی اصلی اور پرانی شکل میں مضبوطی سے جڑ جاتا ہے ،۔
تصور کریں کہ اپ ہاکی یا کرکٹ کا میچ دیکھ رہے ہیں ، کرپٹ پاک انتظامی کی سلیکٹیڈ ٹیم کو ہارتے دیکھ کر  کوئی چیز اٹھا کر دیوار میں دے مارتے ہیں تو ؟
بیوی کی چخ چخ اور پیسے کے نقصان کا اندیشہ اب ختم ہو جائے گا ،۔
ہماری زبان میں جو شیشے اور دل میں تریڑ پڑنے والے محاورے ہیں وہ بھی بدل جائیں گے کہ
دلوں کی میل کو دور کرنے والی دوائی (خلوص) توصدیوں پہلے دریافت ہو چکی ہے لیکن کوئی استعمال ہی نہیں کرتا ،۔
اور اب شیشے کی تریڑ والی بات بھی کہانیوں کی بات رہ جائے گی ،۔
پروفیسر آئیدا اور ان کے طلبہ ٹیم سے یہ دریافت بھی دیگر بڑی بڑی دریافات کی طرح بلکل حادثاتی طور پر ہو گئی ہے ،۔
ورنہ پروفسر صاحب ایک قسم کی شریش (جوڑنے والی چیز) کو بنانے کی کوشش میں تھے ،۔

اتوار, نومبر 19, 2017

پاپی مذہب ، پیٹ

یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ “ پیٹ “ سب سے بڑا مذہب ہے ،۔
اس  مذہب کا مرتد ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ انتیں چٹخنے لگتی ہیں ، بھوک بندے کو بدحال کر دیتی ہے ۔
ہند کے ایک گاؤں میں  زمین دار سکھ ہوتا ہے اور اس کا کمہار مسلمان ہو تو لوہار ہندو بھی ہو سکتا ہے ۔
کھیت جب “ وتر “ پر آتا ہے تو کسان کھیت میں ہل اتارنے سے پہلے واہے گرو سے ہندو لوہار کی خیر مانگتا ہے کہ اگر لوہار کے کسی بچے کو بھی بخار ہو گیا تو ہل کا پھالا نہیں بنے گا اور فصل نہیں اٹھے  گی ،۔
کنویں کو لگائی جانے والی مٹی کی ٹنڈیں  بنانے والے کمہار کو ٹنڈوں کو سکھانے اور پکانے کے لئے دھوپ اور آگ کی ضرورت ہوتی ہے م،۔
لیکن  زمینوں میں جب وتر کی ضروت ہوتی ہے تو مسلمان کمہار ،سکھ زمین دار کی زمینوں کی زرخیزی کے لئے بارش کی دعا اپنے اللہ سے کرتا ہے ،۔
کہ
ان سب کو سکھ مسلمان اور ہندو کو بلکہ گاؤں کی “ سیپ “ عسائی کو بھی اپنے اپنے  رب ، اللہ ، بھگوان اور گاڈ کو خوش کرنے کے لئے ، اپنے اپنے بھائی ، مولوی ، پنڈت اور پادری کو دانے دینے ہوتے ہیں جو کہ کھیت سے ہی اٹھ کر آتے ہیں ،۔
پڑولے میں پڑے ہوے دانوں کی مقدار پر  بندے کا روحانی سکون منحصر ہوتا ہے ،۔


وقاص کورائے نے اپنی فیس بک کی وال پر ایک سلسلہ شروع کیا کہ
اس نے یورپ میں سٹے حاصل کرنے کے لئے کئے گئے جنسی اقدام کی تفصیل لکھنی شروع کر دی ،۔
کیسے کیسے ہم جنسوں کی شادی  کو ویزے کا جواز بنایا گیا ، مسلک کی تبدیلی ، مذہب کی تبدیلی ، بیویوں کی ادالا بدلی  ، بہنوں  کا استعمال  وغیرہ وغیرہ ،۔
گورایہ صاحب کے موضوع کو چننے پر اعتراض کیا جا سکتا ہے لیکن اس موضوع کے  موقف سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ہے  ،۔
کہ
میں نے بھی دنیا گھوم کر دیکھی ہے ، یورپ امریکہ سے مشرق بعید کے ممالک  میں ایمگریشن لینے کے لئے لوگ کیسے کیسے بہانے اور نامعقول کام کرتے ہیں ،۔
ہاں کچھ لوگ ہیں جو کاروباری ویزے پر جاپان میں آئے ، کچھ ورکر کے ویزے پر جاپان آ کر کمپنیوں کے مال بن گئے ، یہ لوگ شادی والوں کو نیچ سمجھتے ہیں ،۔
ان کو حق حاصل ہے کہ ایسا سمجھیں ، کیونکہ شادی والوں نے سیکس کو استعمال کر کے ویزہ لیا ہے اس لئے ناں ،۔
یہ علیحدہ موضوع ہے کہ خود انکی گھر والیاں وہاں پاک ملک میں گاؤں چھوڑ کر شہر کی کوٹھیوں میں کیا کھیل کھیلتی ہیں ،۔
اس بات کو چھڈو پراں !!،۔
کہ گورایہ صاحب نے بھی یورپ کے لوگوں کا گند لکھا ہے اور میں جاپان میں مقیم اپنی بے عزتی کر رہا ہوں
لیکن وہاں عربوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے والے مزدوروں کا نوحہ کوئی نہیں لکھے گا کہ
وہ بے چارے  وہ لوگ ہیں جو لکھنے پڑھنے کے بھی قابل نہ ہو سکے م،۔


میں بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس پاپی پیٹ کے لئے لوگ کیا کیا نہیں کرتے ؟
یہ محب لوطنی کا چورن ؟
پاکستان سے بھاگنے والے لوگ صرف اور صرف پیٹ کے لئے ،اپنے جسم کی سہولت کے لئے بھاگ رہے ہیں ،۔
یہ ساری ہجرتیں ، یہ ساری ذہانتیں ، یہ سارے چکر سب اس لئے ہیں کہ کسی طرح پاکستان کے جہنم سے باہر کہیں پاؤں ٹکانے کا آسرا مل جائے ،۔
تو
اپ خود تصور کر لو
کہ
انڈیا کو  جاپان اٹھارہ ایٹمی پلانٹ لگا کر دے رہا ہے ،۔
بلٹ ٹرین کی بٹریاں بچھنی شروع ہو چکی ہیں ،۔
جمہوریت کے سائے میں عدالتی نظام بہتری کی طرف رواں ہے ،۔
امریکہ کی کوشش ہے کہ انڈیا کو چین کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے ،۔
تو ؟
اگر امرتسر میں مزدور کی تنخواہ پانچ سو ڈالر تک پہنچ گئی تو ؟
شکرگڑھ کا بندہ ڈھائی سو ڈالر کی تنخواھ کے لئے دبئی کی نسبت امرتسر کو ترجیح دے گا کہ نہیں ؟؟

اتوار, اکتوبر 29, 2017

ایک اور خواب

میں نے ایک پلان دیا تھا
کہ اس طرح کرتے ہیں
کہ
کتابیں چھاپتے ہیں ،۔
کیڑے مکوڑوں کی تصاویر اور ان کے دیسی نام ، پرندوں کے نام ،جڑی بوٹیوں کے نام اور پہچان ،۔
کیونکہ میں نے یہان جاپان میں دیکھا تھا کہ   یہاں بچوں کو اپنی زمین پر اگنے والے پودوں درختوں اور پرندوں کے علاوہ  بھی بہت سی باتوں کا علم ہوتا ہے  ،۔
میں نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا کہ
جانور کے پاؤں کے نشان دیکھ کر ، مینگیناں اور پھوس دیکھ کر ہمارے بزرگ لوگ  جان جایا کرتے تھے کہ کون سا جانور یہاں سے گزرا ہے ،۔
یہان جاپان میں دیکھا کہ تیسرے جماعت کے بچے کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس میں جانوروں کے پاخانے کی تصاویر دے بتایا گیا ہے کہ کون سا جانور کیا کھاتا ہے اور کیا ہگتا ہے م،۔
مختصر یہ کہ
میں نے پلان یہ دیا تھا کہ
سارے پیسے میں دیتا ہوں ، ایک کتاب چھاپتے ہیں ،۔
جو کہ نہیں بکتی !!،۔
میں دوسری کتاب کے پیسے دیتا ہوں
کتاب چھاپتے ہیں ،۔
وہ بھی نہیں بکتی
لیکن مارکیٹ میں پڑی رہنے دیتے ہیں اور میں تیسری کتاب کے بھی پیسے دیتا ہوں ،۔
اسی طرح دس کتابوں کی کوشش کرتے ہیں ،۔
ان میں سے کوئی تو بکے گی ،؟
کتاب کی فروخت سے ہونے والی کمائی کو ایک اکاؤنٹ میں رکھ لیتے ہیں
اور میں گیارویں کتاب کے لئے مدد کرتا ہوں کہ پچھلی  فروخت ہوئی کتابوں کی کمائی سے اور میری رقم سے نئی کتاب شائع کی جائے م،۔
مجھے امید واثق تھی کہ اتنی کتابوں میں سے کوئی نہ کوئی کتاب تو  کمائی دے گی ہی ناں جی ،۔
اس کمائی  کو میں ہم اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ پاکستان میں کتاب پر کام کرنے والے لوگوں کو معقول سی اجرت دے کر باقی کے پیسے دوبارہ کتابوں پر ہی انوسٹ کر دئے جائیں ،۔
مجھے میری رقم واپس نہیں چاہئے بس ایک سلسلہ بن جائے ، ایک ٹرسٹ نما ہو ، ایک کمپنی سی ہو جو کہ کتابیں چھاپنے کے کام کو جاری رکھ سکے ،۔
وقت کے ساتھ چلنے کے لئے کتاب کو ای بک کی شکل بھی دی جا سکتی ہے انٹرنیٹ پر بھی فروخت کی جا سکتی ہے ،۔
اس کام کو خلوص نیت سے کیا جائے تو یہ کمپنی ، ٹرسٹ ، یا کہ کام صدیوں تک بھی چل سکتا ہے ،۔
میری بد قسمتی کہ
میں نے غلط لوگوں کے سامنے یہ پلان رکھ کر اس پلان کی بنیادوں میں ہی بربادی رکھ دی تھی ،۔
اب میں دوبارہ نئے لوگوں کو ساتھ لے کر چلوں گا ،امید ہے کہ رب سائیں  مدد فرمائیں گے ،۔

ہفتہ, اکتوبر 21, 2017

گاما اور بیوی

گامے کی بیوی کی برتھ ڈے پر گاما مجبور کردیا گیا
 کہ
 بیوی کو کوئی نیا سوٹ دلائے  ،۔
گاما بیوی کے ساتھ آرائیناں والی گلی میں گیا ، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ، گوجرانوالہ کی گلیاں  کیچڑ میں لوگ بھالے پانچئے اٹھائے چل رہے تھے ۔
گامے کی بیوی ایک سے دوسری دوکان میں داخل ہوتی ہے ، تیسری سے چوتھی سے پھر پہلی دوکان میں ، کوئی پانچ سو سوٹ نکلوا کر دیکھتی ہے ،۔
جن میں سے سو کے قریب پر کنفیوز ہو کر اخر میں کوئی پچیس  جوڑے منتخب کرتی ہے ،۔
یہاں وہ گامے کو بلا کر ان پچیس میں سے کوئی پانچ  علیحدہ کرنے کی تجویز مانگ کر  خود ہی علیحدہ کر کے تاثر دیتی ہے کہ گامے نے علیحدہ کئے ہیں ، فائینلی  کوئی پانچ گھنٹے کی  خجل خواری کے بعد ایک سوٹ منتخب کر کے  دیتی ہے
گاما رقم کی ادائیگی کرتا ہے ،۔
دوکان سے باہر نکل کر پرانے جی ٹی ایس کے اڈے پر بنی مفت کی کار پارکنگ میں سے کار نکالتے ہوئے  بیوی کو کہتا ہے ،۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ حضرت آدم بھی کیا لکی مرد تھے کہ ان کے زمانے میں پتوں سے تن ڈھانپتے تھے ،۔
ان کو اماں حوّا کے لباس کے لئے میری طرح خجل خوار نہیں ہوتا پڑتا ہو گا ،۔
گامے کی بیوی اس کو بتاتی ہے کہ
تمہیں کیا معلوم کی جنگل میں کئی طرح کے کئی قسم کے درخت ہوتے ہیں ،۔ پتہ نہیں  بابے آدم کو کتنے درختوں پر چڑھ چڑھ کر کتنے پتے آماں حّوا کو دیکھانے پڑتے ہوں گے ،۔
درختوں پر چڑھتے اترتے بابا  جی ہلاکان ہو جاتے ہوں گے ،۔
ان کے مقابلے میں تم نے کیا کیا ؟
وہاں گلی میں کھڑے ، پانچئے اٹھائے ہوئی عورتوں کی پنڈلیاں تاڑ رہے تھے ،۔
ہیں ؟
گاما لاجواب ہو کر بیوی کا منہ ہی تکتا رہ گیا م،۔
شیرانوالہ باغ سےمڑ کر  پھاٹک پار کر کے ڈنگروں کے ہسپتال کے سامنے تھے جب گامے کی بیوی اس سے پوچھتی ہے ،۔
تمہاری سالگرہ بھی تو آ رہی ہے تم اپنی برتھ ڈے پر  مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟؟
گامے نے ٹھنڈی آھ بھری اور  کراھ کر کہتا ہے ،۔
ایک دفعہ بس ایک دفعہ ، صرف سالگرہ پر نہیں کسی بھی دن بس ایک دفعہ میں کسی بحث میں تم سے جیتنا چاہتا  ہوں م،۔

Popular Posts