اتوار, نومبر 19, 2017

پاپی مذہب ، پیٹ

یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ “ پیٹ “ سب سے بڑا مذہب ہے ،۔
اس  مذہب کا مرتد ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ انتیں چٹخنے لگتی ہیں ، بھوک بندے کو بدحال کر دیتی ہے ۔
ہند کے ایک گاؤں میں  زمین دار سکھ ہوتا ہے اور اس کا کمہار مسلمان ہو تو لوہار ہندو بھی ہو سکتا ہے ۔
کھیت جب “ وتر “ پر آتا ہے تو کسان کھیت میں ہل اتارنے سے پہلے واہے گرو سے ہندو لوہار کی خیر مانگتا ہے کہ اگر لوہار کے کسی بچے کو بھی بخار ہو گیا تو ہل کا پھالا نہیں بنے گا اور فصل نہیں اٹھے  گی ،۔
کنویں کو لگائی جانے والی مٹی کی ٹنڈیں  بنانے والے کمہار کو ٹنڈوں کو سکھانے اور پکانے کے لئے دھوپ اور آگ کی ضرورت ہوتی ہے م،۔
لیکن  زمینوں میں جب وتر کی ضروت ہوتی ہے تو مسلمان کمہار ،سکھ زمین دار کی زمینوں کی زرخیزی کے لئے بارش کی دعا اپنے اللہ سے کرتا ہے ،۔
کہ
ان سب کو سکھ مسلمان اور ہندو کو بلکہ گاؤں کی “ سیپ “ عسائی کو بھی اپنے اپنے  رب ، اللہ ، بھگوان اور گاڈ کو خوش کرنے کے لئے ، اپنے اپنے بھائی ، مولوی ، پنڈت اور پادری کو دانے دینے ہوتے ہیں جو کہ کھیت سے ہی اٹھ کر آتے ہیں ،۔
پڑولے میں پڑے ہوے دانوں کی مقدار پر  بندے کا روحانی سکون منحصر ہوتا ہے ،۔


وقاص کورائے نے اپنی فیس بک کی وال پر ایک سلسلہ شروع کیا کہ
اس نے یورپ میں سٹے حاصل کرنے کے لئے کئے گئے جنسی اقدام کی تفصیل لکھنی شروع کر دی ،۔
کیسے کیسے ہم جنسوں کی شادی  کو ویزے کا جواز بنایا گیا ، مسلک کی تبدیلی ، مذہب کی تبدیلی ، بیویوں کی ادالا بدلی  ، بہنوں  کا استعمال  وغیرہ وغیرہ ،۔
گورایہ صاحب کے موضوع کو چننے پر اعتراض کیا جا سکتا ہے لیکن اس موضوع کے  موقف سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ہے  ،۔
کہ
میں نے بھی دنیا گھوم کر دیکھی ہے ، یورپ امریکہ سے مشرق بعید کے ممالک  میں ایمگریشن لینے کے لئے لوگ کیسے کیسے بہانے اور نامعقول کام کرتے ہیں ،۔
ہاں کچھ لوگ ہیں جو کاروباری ویزے پر جاپان میں آئے ، کچھ ورکر کے ویزے پر جاپان آ کر کمپنیوں کے مال بن گئے ، یہ لوگ شادی والوں کو نیچ سمجھتے ہیں ،۔
ان کو حق حاصل ہے کہ ایسا سمجھیں ، کیونکہ شادی والوں نے سیکس کو استعمال کر کے ویزہ لیا ہے اس لئے ناں ،۔
یہ علیحدہ موضوع ہے کہ خود انکی گھر والیاں وہاں پاک ملک میں گاؤں چھوڑ کر شہر کی کوٹھیوں میں کیا کھیل کھیلتی ہیں ،۔
اس بات کو چھڈو پراں !!،۔
کہ گورایہ صاحب نے بھی یورپ کے لوگوں کا گند لکھا ہے اور میں جاپان میں مقیم اپنی بے عزتی کر رہا ہوں
لیکن وہاں عربوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے والے مزدوروں کا نوحہ کوئی نہیں لکھے گا کہ
وہ بے چارے  وہ لوگ ہیں جو لکھنے پڑھنے کے بھی قابل نہ ہو سکے م،۔


میں بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس پاپی پیٹ کے لئے لوگ کیا کیا نہیں کرتے ؟
یہ محب لوطنی کا چورن ؟
پاکستان سے بھاگنے والے لوگ صرف اور صرف پیٹ کے لئے ،اپنے جسم کی سہولت کے لئے بھاگ رہے ہیں ،۔
یہ ساری ہجرتیں ، یہ ساری ذہانتیں ، یہ سارے چکر سب اس لئے ہیں کہ کسی طرح پاکستان کے جہنم سے باہر کہیں پاؤں ٹکانے کا آسرا مل جائے ،۔
تو
اپ خود تصور کر لو
کہ
انڈیا کو  جاپان اٹھارہ ایٹمی پلانٹ لگا کر دے رہا ہے ،۔
بلٹ ٹرین کی بٹریاں بچھنی شروع ہو چکی ہیں ،۔
جمہوریت کے سائے میں عدالتی نظام بہتری کی طرف رواں ہے ،۔
امریکہ کی کوشش ہے کہ انڈیا کو چین کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے ،۔
تو ؟
اگر امرتسر میں مزدور کی تنخواہ پانچ سو ڈالر تک پہنچ گئی تو ؟
شکرگڑھ کا بندہ ڈھائی سو ڈالر کی تنخواھ کے لئے دبئی کی نسبت امرتسر کو ترجیح دے گا کہ نہیں ؟؟

اتوار, اکتوبر 29, 2017

ایک اور خواب

میں نے ایک پلان دیا تھا
کہ اس طرح کرتے ہیں
کہ
کتابیں چھاپتے ہیں ،۔
کیڑے مکوڑوں کی تصاویر اور ان کے دیسی نام ، پرندوں کے نام ،جڑی بوٹیوں کے نام اور پہچان ،۔
کیونکہ میں نے یہان جاپان میں دیکھا تھا کہ   یہاں بچوں کو اپنی زمین پر اگنے والے پودوں درختوں اور پرندوں کے علاوہ  بھی بہت سی باتوں کا علم ہوتا ہے  ،۔
میں نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا کہ
جانور کے پاؤں کے نشان دیکھ کر ، مینگیناں اور پھوس دیکھ کر ہمارے بزرگ لوگ  جان جایا کرتے تھے کہ کون سا جانور یہاں سے گزرا ہے ،۔
یہان جاپان میں دیکھا کہ تیسرے جماعت کے بچے کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس میں جانوروں کے پاخانے کی تصاویر دے بتایا گیا ہے کہ کون سا جانور کیا کھاتا ہے اور کیا ہگتا ہے م،۔
مختصر یہ کہ
میں نے پلان یہ دیا تھا کہ
سارے پیسے میں دیتا ہوں ، ایک کتاب چھاپتے ہیں ،۔
جو کہ نہیں بکتی !!،۔
میں دوسری کتاب کے پیسے دیتا ہوں
کتاب چھاپتے ہیں ،۔
وہ بھی نہیں بکتی
لیکن مارکیٹ میں پڑی رہنے دیتے ہیں اور میں تیسری کتاب کے بھی پیسے دیتا ہوں ،۔
اسی طرح دس کتابوں کی کوشش کرتے ہیں ،۔
ان میں سے کوئی تو بکے گی ،؟
کتاب کی فروخت سے ہونے والی کمائی کو ایک اکاؤنٹ میں رکھ لیتے ہیں
اور میں گیارویں کتاب کے لئے مدد کرتا ہوں کہ پچھلی  فروخت ہوئی کتابوں کی کمائی سے اور میری رقم سے نئی کتاب شائع کی جائے م،۔
مجھے امید واثق تھی کہ اتنی کتابوں میں سے کوئی نہ کوئی کتاب تو  کمائی دے گی ہی ناں جی ،۔
اس کمائی  کو میں ہم اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ پاکستان میں کتاب پر کام کرنے والے لوگوں کو معقول سی اجرت دے کر باقی کے پیسے دوبارہ کتابوں پر ہی انوسٹ کر دئے جائیں ،۔
مجھے میری رقم واپس نہیں چاہئے بس ایک سلسلہ بن جائے ، ایک ٹرسٹ نما ہو ، ایک کمپنی سی ہو جو کہ کتابیں چھاپنے کے کام کو جاری رکھ سکے ،۔
وقت کے ساتھ چلنے کے لئے کتاب کو ای بک کی شکل بھی دی جا سکتی ہے انٹرنیٹ پر بھی فروخت کی جا سکتی ہے ،۔
اس کام کو خلوص نیت سے کیا جائے تو یہ کمپنی ، ٹرسٹ ، یا کہ کام صدیوں تک بھی چل سکتا ہے ،۔
میری بد قسمتی کہ
میں نے غلط لوگوں کے سامنے یہ پلان رکھ کر اس پلان کی بنیادوں میں ہی بربادی رکھ دی تھی ،۔
اب میں دوبارہ نئے لوگوں کو ساتھ لے کر چلوں گا ،امید ہے کہ رب سائیں  مدد فرمائیں گے ،۔

ہفتہ, اکتوبر 21, 2017

گاما اور بیوی

گامے کی بیوی کی برتھ ڈے پر گاما مجبور کردیا گیا
 کہ
 بیوی کو کوئی نیا سوٹ دلائے  ،۔
گاما بیوی کے ساتھ آرائیناں والی گلی میں گیا ، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ، گوجرانوالہ کی گلیاں  کیچڑ میں لوگ بھالے پانچئے اٹھائے چل رہے تھے ۔
گامے کی بیوی ایک سے دوسری دوکان میں داخل ہوتی ہے ، تیسری سے چوتھی سے پھر پہلی دوکان میں ، کوئی پانچ سو سوٹ نکلوا کر دیکھتی ہے ،۔
جن میں سے سو کے قریب پر کنفیوز ہو کر اخر میں کوئی پچیس  جوڑے منتخب کرتی ہے ،۔
یہاں وہ گامے کو بلا کر ان پچیس میں سے کوئی پانچ  علیحدہ کرنے کی تجویز مانگ کر  خود ہی علیحدہ کر کے تاثر دیتی ہے کہ گامے نے علیحدہ کئے ہیں ، فائینلی  کوئی پانچ گھنٹے کی  خجل خواری کے بعد ایک سوٹ منتخب کر کے  دیتی ہے
گاما رقم کی ادائیگی کرتا ہے ،۔
دوکان سے باہر نکل کر پرانے جی ٹی ایس کے اڈے پر بنی مفت کی کار پارکنگ میں سے کار نکالتے ہوئے  بیوی کو کہتا ہے ،۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ حضرت آدم بھی کیا لکی مرد تھے کہ ان کے زمانے میں پتوں سے تن ڈھانپتے تھے ،۔
ان کو اماں حوّا کے لباس کے لئے میری طرح خجل خوار نہیں ہوتا پڑتا ہو گا ،۔
گامے کی بیوی اس کو بتاتی ہے کہ
تمہیں کیا معلوم کی جنگل میں کئی طرح کے کئی قسم کے درخت ہوتے ہیں ،۔ پتہ نہیں  بابے آدم کو کتنے درختوں پر چڑھ چڑھ کر کتنے پتے آماں حّوا کو دیکھانے پڑتے ہوں گے ،۔
درختوں پر چڑھتے اترتے بابا  جی ہلاکان ہو جاتے ہوں گے ،۔
ان کے مقابلے میں تم نے کیا کیا ؟
وہاں گلی میں کھڑے ، پانچئے اٹھائے ہوئی عورتوں کی پنڈلیاں تاڑ رہے تھے ،۔
ہیں ؟
گاما لاجواب ہو کر بیوی کا منہ ہی تکتا رہ گیا م،۔
شیرانوالہ باغ سےمڑ کر  پھاٹک پار کر کے ڈنگروں کے ہسپتال کے سامنے تھے جب گامے کی بیوی اس سے پوچھتی ہے ،۔
تمہاری سالگرہ بھی تو آ رہی ہے تم اپنی برتھ ڈے پر  مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟؟
گامے نے ٹھنڈی آھ بھری اور  کراھ کر کہتا ہے ،۔
ایک دفعہ بس ایک دفعہ ، صرف سالگرہ پر نہیں کسی بھی دن بس ایک دفعہ میں کسی بحث میں تم سے جیتنا چاہتا  ہوں م،۔

ہفتہ, اکتوبر 7, 2017

تحرکِ ختم نبوت

میرے پاس اس بات کا ثبوت تو نہیں ہے لیکن
میرا تجزیہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد تعلیم یافتہ طبقے کو دو گروہوں میں تقسیم کریں تو ایک اردو سپیک تھے اور دوسرے پنجابی مرزائی،۔
ان دونوں میں ایک مقابلہ یا کہ چپکلش کہہ لیں ، ہر دو پاکستان میں وہ مقام چاہتے تھے جو کہ امریکہ مں یہودیوں کو حاصل ہے ،۔
اس چپکلش میں غیر مرازائی پنجابی بھی اردو سپیک کے ساتھ شامل ہو گئے تھے کہ یہ لوگ خوف زدہ تھے کہ انفرادی طور پر یہ لوگ اکیلے اکیلے تھے اور ان کے مقابل مرزائی ایک مسلک کی لڑی میں پرویا ہوا گروپ تھا ،۔
جب مرزائیوں کو کونے لگانے کے لئے ان کے خلاف تحریک چلائی گئی تو مرزائی اتنے خود اعتماد تھے کہ مرزا ناصر نے غیر مرازئی لوگوں کو کافر تک قرار دے دیا تھا ،۔
مرزائیون کو اقلیت قرار دے دینے سے بھی ان کو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا ، بلکہ انہون نے ایک علیحدہ مضبوط اقلیت بن کر اکثریت پر حکومت کرنی تھی ،۔
حادثہ یہ ہوا کہ بھٹو افغانستان میں سیاسی انتشار پھلا چکا تھا ، اور یہاں پاکستان میں ضیاء صاحب نازل ہو چکتے تھے ، جب افغانستان نے روس کو بلا لیا ، اور روس کو روکنے کے لئے امریکہ کو پاکستان میں "اسلام " کی ضرورت تھی ،۔ اور یہ ضروت صرف جہادی اسلام پوری کر سکتا تھا اور مرزائی لوگ غیر جہادی ہوتے ہیں ،۔
اس لئے بڑی شدت سے نظام مصطفے اور اسلام پاکستان پر نازل ہوا جس میں اقلیت کا معانی ہی کافر بنا دیا گیا ،۔

******************
تحریک حتم بنوت کے مجاہدین سے التماس کہ
میں قادیانی یا کہ مرازائی نہیں ہوں ،۔
پھر بھی اپ کو گلیاں زور سے آئی ہوں تو ؟
تہاڈی مرضی ۔ میں کی کر سکنا واں ۔ْ

اتوار, ستمبر 17, 2017

خوش قسمت زمانہ


ابھی کل کی بات ہے کہ لکھنے والے ادب میں دو وقت کی روٹی کی دعائیں کرتے ہیں ، نان شبینہ کے میسر ہونے پر شکر کرتے ہیں ۔
عام عوام میں جس کو دو وقت کی دو روٹیاں نصیب ہوتی تھیں وہ تونگر گنے جاتے تھے ،۔
پنجاب میں وڈانک گندم ہوتی تھے  قد آدم اس گندم سے جانوروں کے لئے توڑی زیادہ اور انسانوں کے لئے اناج کم نکلتا تھا ،۔
اگر برصغیر میں آلو ، ٹماٹر ، اور تمباکو کا تصور نہیں تھا تو باقی دنیا میں تو دالیں ، مسالے ،  گڑ اور کپاس کے لئے بھی ہند  پر نظریں ہوتی تھیں ،۔
انسانوں کی معلوم تاریخ میں  بھوک کا ادب بہت لکھا گیا ،۔
کسی خطے کا ادب دیکھ لیں ، لکھنے والے بھوک کا لکھتے رہے ہیں
کہ
انسان نے بہت بھوک دیکھی ہے ،۔
پیٹ کی بھوک ، اس بھوک کو مٹانے کے لئے انکھوں میں بھوک اتر آئی ، کبھی مذہب کے نام پر کبھی نسل کے نام پر کبھی کسی بہانے کبھی کسی بہانے دوسروں سے زمین ، گوشت اور اناج چھیننے کے لئے جنگیں لڑی گئیں ،۔
جنگیں تو اج بھی ہیں ، لوٹ مار اج بھی ہے ، انسانیت کے نام پر معدنیات کی لوٹ مار کی جنگیں ہیں ،۔
لیکن
پیٹ کی بھوک اب صرف کتابوں میں رہ گئی ہے یا پھر ناہموار معاشروں میں رزق کی غلط تقسیم میں ،۔
کہ
امریکہ کی دریافت کے بعد پرتگالیوں نے آلو ، ٹماٹر ، تمباکو کو دنیا میں متعارف کروایا ،۔
امریکہ کے قیام سے بنی نوع انسان نے تکنیک کی ترقی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں کہ جن کی نظیر نہیں ملتی ،۔امریکہ میں کھاد کی دریافت نے  کھیتوں میں وہ انقلاب برپا کیا ہے کہ اج دنیا میں چاول ، اور گندم مکئی کی کوئی کمی نہیں ہے ،۔
اور  کھاد کی تکینک کی انتہا ہے کہ گوشت کو بھی کھاد لگا دی ہے ،۔
بھیڑ ہو کہ گائے ، مرغی ہو کہ مرغابی ان کو گوشت کی عمر تک پہنچے کے لئے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے ،۔
ایک سور تھا جو کسی بھی دوسرے جانور سے زیادہ پیدا ہو کر جلدی گوشت تک پہنچ جاتا تھا ۔
لیکن
برائلر چکن کی دریافت کہ سور کے گوشت سے بھی جلدی تیار ہو جانے والے اس کوشت کو پیدا ہو کر دسترخوان تک پہنچے میں صرف دو ہفتے لگتے ہیں ،۔
اج انسان کے دسترخون پر ٹیبل پر خوراک کی بہتات ہے ،۔
جو کہ تاریخ میں کبھی بھی کسی بھی علاقے کے لوگوں کو مسیر نہ ہو سکی ،۔
اج کا انسان تاریخ کے خوش قسمت ترین دور میں رہ رہا ہے م،۔

بدھ, ستمبر 6, 2017

میناماتا کی بیماری اور پاکستان

پارہ ، جس کو انگریزی میں مرکری کہتے ہیں ،۔
پاکستان جیسے پس ماندہ ممالک میں پارہ کے نقصانات کا عام عوام کو کوئی ادراک نہیں ہے اور ایسے ممالک میں لکھاری  لوگ بھی ایسی باتوں کا علم نہیں رکھتے ،۔
پاکستان میں اناج کو کیڑوں سے بچاؤ کے لئے بھی پارہ، ریت میں ملا کر اناج کے ڈھیروں یا کہ پڑولوں میں ڈال دیا جاتا ہے جس کی ریکوری کے لئے کچھ بھی انتظام نہیں ہے ،۔
 یہ پارہ زمین میں مل کر زیر زمین پانی کو بھی زہر الود کر دیتا ہے م،۔
تھرما میٹر  یا کہ بلڈ پریشر چیک کرنے والے میڈیکل آلات میں استعمال ہونے والا  پارہ اور  صنعتی استعمال میں ہونے والے پارے کی ایک  بڑی مقدار معاشرے میں گردش کر رہی ہے ،۔
مہذب دنیا کو پارے کے نقصانات کا احساس جاپان سے ظاہر ہونے والی ایک بیماری  میناماتا کی بیماری کی وجہ سے ہوا ،۔
مینماتا بیماری کیا ہے ؟
میناماتا بیماری ، جاپان کے کوماموتو پرفیکچر کے شہر میناماتا میں  ڈیسکور کی گئی تھی ،۔
اس بیماری میں  مریض نیروجیکل سینڈروم میں مبتلا ہو جاتا ہے ،۔
ہاتھ اور پاؤں  کو کپکپاہٹ شروع ہو جاتی ہے ،۔
نظر  کو پریفیرل وژن کی بیماری ، جس میں مریض کا ویو سکڑ کر رہ جاتا ہے ،۔
قوت سماعت ختم ہو جاتی ہے ، قوت گویائی بھی ختم ہو جاتی ہے م،۔
 اس مرض میں مبتلا مریض وقت گزرنے پر کومے میں چلا جاتا ہے اور موت واقع ہو جاتی ہے ،۔
جاپان میں کوماموتو پرفیکچر کے شہر میناماتا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد اس بیماری کے بہت سے مریض پائے گئے ،۔
اس بیماری مینماتا کو 1956ء میں پہچانا گیا ،۔
اس کی وجہ میناماتا میں کیمیکل فیکٹری چیسو کارپوریشن  جو کہ پارہ استعال کرتی تھی  کو پایا گیا ،۔
سن  1932ء سے 1968ء تک کی اس کمپنی کا صنعتی فضلہ جو کہ  پانی میں بہہ کر دریا اور سمندر میں چلا جاتا تھااس کی وجہ سے  مچھلیوں میں پارہ کی مقدار زیادہ ہو گئی ، ان مچھلیوں کو غذا کے طور پر استعمال کرنے والےاور زمینی پانی پینے والوں کی ایک بڑی ابادی اس مرض میں مبتلا ہو گئی تھی ،۔
اس لئے اس  بیماری کو چیسو میناماتا بیماری بھی کہا جاتا ہے ،۔
جاپان میں اس بیماری کے مبتلا مریضوں کے چیسو کمپنی کے خلاف اجتجاج کی ایک تاریخ ہے ،۔
اس پر لکھنا اج کا موضوع نہیں ہے ،۔
مارچ 2001ء تک سرکاری طور پر  میناماتا بیماری کے مریضوں کی نفری 2265 تھی  جن میں سے 1784 افراد موت کا شکار ہو چکے تھے ،۔
اور 10000 سے زیادہ لوگ چیسو کمپنی سے ہرجانہ وصول کر چکے ہیں ،۔ سن 2004ء تک چیسو کمپنی  کوئی 86 کروڑ ڈالر ادا کر چکی ہے ،۔
جاپان میں میناماتا کی بیماری کی وجہ سے پارے کو استعمال کرنے ، پارے کو سنبھالنے پارے کو ری سائکل کرنے کی تعلیم شروع ہو ئی اور اس  کے لئے اصول وضع کئے گئے م،۔
اج جاپان اس پوزیشن میں ہے کہ جاپان کی وزارت ماحولیات نے ترقی پزیر ممالک میں پارے کو ری کور کرنے کے طریقہ کار کی تعلیم  دینے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے ،۔
پہلے پہلے ایشا میں جنوب مشرقی ایشائی ممالک میں اس کی تعلیم دی جائے گی ،۔
تھرما میٹر اور بلڈ پریشر کی مشین میں استعمال ہونے والے پارے کی مقدار جو کہ جاپان میں استعمال ہو رہی ہے اس کے متعلق انداز ہے کہ یہ کوئی  59 ٹن کے قریب ہے ،۔
جس میں 21 ٹن ہسپتالوں میں 7 ٹن سکولوں میں اور 18 سے 21 ٹن گھروں میں تھرما میٹروں اور بلڈپریشر ماپنے کی مشنیوں میں پڑا ہے م،۔
اسی نظرئے کے تحت جاپان کی وزارت ماحولیات کے ماہر  جنوب مشرقی ممالک میں ڈاکٹروں اور فارمسٹوں کو آگاہی دیں گے ،۔
مستقبل میں اس پروجیکٹ کو افریقہ کے ترقی پذیر ممالک تک وسیح کرنے کا پروگرام ہے م،۔
مندرجہ بالا تحریر سے اپ خود اندازہ کر لیں کہ پارے کے متعلق یا کہ اس سے پیدا ہونے والے ماحول دشمن  حالات سے نپٹنے کے لئے  پاکستان جیسے ملک میں کیا کام ہو رہا ہے یا کہ پاکستانی قوم کو اس معاملے کتنی آگاہی ہے ،۔
تحریر خاور کھوکھر

جمعہ, ستمبر 1, 2017

اندر کے جانور

اج عید گاھ گیا ، عید کی نماز پڑھنے بہت سے ایسے چہرے بھی تھے جو کئی سال بعد نظر آتے ہیں اور ہر سال والے بھی ،۔
یہ میرا احساس تھا کہ غلط فہمی  مجھے ہر عمر ڈھلتے ساتھی کے چہرے پر اس کے اندر کے جانور کی شباہت نظر آ رہی تھی ،۔
بہت سے مرغی کی طرح لگتے تھے ، کہ کڑ کڑ کہیں اور انڈے کہیں ،۔
وہ جو مالکوں کے لئے انڈے دینے والے ،۔
ان کے ساتھ ساتھ ککڑ کی طرح نظر انے والے بھی تھے  بہت چوکنے ، ادھر ادھر ہر چیز پر نظر لیکن صرف ایفیشنسیاں ، پروگریس کوئی نئیں ،۔
یہاں طرح طرح کی بکریاں بھی تھیں ، جو کبھی کسی کے کام نہپیں  آتے اگر اتے بھی ہیں تو ؟ جب بھی دوددہ دیتی ہیں مینگنیاں  ڈال کر ہی دیتی ،۔
ان کے ساتھ ساتھ بکرے بھی تھے ، “ بو بکرے “  جو ہر وقت کسی بولی ہوئی بکری کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کس کو لگا دیں ،۔
یہاں طرح طرح کے کتے بھی تھے ، بل ڈاک ، ہاؤنڈز ، نسلی کتے بھی تھے  اور اوارہ کتے ،۔ ہر بندے کے چہرے پر اس کے اندر کے کتے کی شباہت نظر آ رہی تھی ،۔
یہاں وہ بھی تھے جو اپنا بخار تک کسی کو ادھار نہ دیں ،  جو پیسا کمانے اور سنبھالنے کے ماہر  گول گول چہرے ، گول گول پشت ، گول گول پیٹ  والے ، ان کے چہرے اور باتیں کرنے میں اس جانور کی شباہت نظر آ رہی تھی جس کا نام لینے میں زبان پلید ہو جاتئ ہے ،۔
ان کے ساتھ  گلہری کی طرح کے بھی تھے جن صرف کچھ گھٹلاں اکٹھی مل گئی ،ان کوسنبھال سنبھال کر رکھنے کو دولت مندی کے خمار میں مبتلا گلہریاں ،۔
یہاں وہ چاہا نما بھی تھے  جو تھوڑے سے مال پر پنساری بن  کر بیٹھے لگتے تھے ،۔
یہاں گائے بھی تھیں  جو کسی کے لئے کام کرتی سست سست دودہ دینے والی   اور ان کے ساتھ ساتھ بیل بھی نظر آ رہے تھے  ناراض ناراض سے طاقت کے نشے میں چور  لیکن چھری سے بے خبر ،۔

یہاں نئے نئے جوان وہ بھی نظر آ رہے تھے جن میں طاقتور گھوڑے کی شباہت تھی ، لمبی منزلوں کے لئے نکلے ہوئے ،۔
یہاں کچھ لومڑی  کی شباہت کے بھی تھے ،۔
اور بندر کی شباہت والے بھی ،۔
الو کی طرح دیدہ در بھی تھے تو کبوتر کی طرح کے بد اندیش بھی ،۔
یہ سب دیکھ کر میں باہر نکلا ، گاڑی سٹارٹ کی
اور بیک مرر میں دیکھ مجھے بہت شاک لگا
کہ
یہاں
مجھے ایک تھکا ہوا گھوڑا نظر آرہا تھا ،۔
تھکے ہوئے گھوڑے کا یہ چہرہ کسی اور کا نہیں خود میرا تھا ،۔
دوسروں کی سواری ، دوسروں کا دوست ، جس کی پیٹھ پر رکھی کاٹھی پر جس جس کا بھی داء لگا اس نے سواری کی ،۔

جمعرات, اگست 31, 2017

اکنامک کہانی کی اگلی بات


اپ نے میری تحریر کردہ وہ کہانی تو پڑھی ہو گی ؟؟
بہت کاپی ہوئی ہے وہ کہانی فیس بک پر کہ انٹرنیٹ پر ،۔

قربانی ہو یا کہ کوئی بھی رسم جس میں خرچ ہوتا ہے ، اس سے معاشرے کو فائدہ ہوتا ہے
پاکستان جیسے ملک ، جس میں پہلے ہی سرمائے کی حرکت بہت سست ہے ایسے ملک میں عید قربان ، جشن آزادی ، شب برات وغیرہ سے بہت سے لوگوں کا مال فروخت ہوتا ہے جس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے ،۔
ہر خرچ پر یہ کہنے والے کہ یہ پیسا کسی غریب کو دے دینا تھا
اصل میں جہاد افغانستان کے لئے تیار کئے مذہبی دانشوروں کے ترتیب دئے گئے کلچر جس میں بھیک کو گراس روت لیول تک لے جایا جا چکا ہے اس کے پروردہ ہوتے ہیں ،۔
بھیک کی امید رکھنے والوں کو دوسروں کی کمائی بری لگتی ہے ،۔
ایک کسان جو چند بیل پال کر عید پر فروخت کرتا ہے ،۔
ایک بیوپاری جو یہ بیل منڈی تک لاتا ہے ،۔ منڈی میں چارہ بیچنے والا ۔
بیل ، چارہ منڈی تک لانے اور یہاں سے خریدار کے گھر تک پہنچانے والے ٹرانسپوٹڑ کا کاروبار ۔
بسنت پر پتنگ بنانے والے ، ڈور تیار کرنے والے ، پتنگ بیچنے والے دوکان دار ، ان دوکانداروں پر ڈپینڈ کرنے والے کاروبار
شب برات پر آتش بازی بنانے والے ، ،۔ کھیر کے لئے مٹی کے برتن بنانے والے لوگ ،ان سب کے کاروبار تہواروں پر خرچ کرنے کی رسم سے ہی چلتے ہیں ،۔
پاکستان ، جہاں بھیک مانگنے کو عظمت کی نشانی بنا کر رکھ دیا گیا ہے ،۔
بھیک مانگ کر اپ جتنا بھی شوخ کام کر لیں ، اس سے نظام نہیں چلا کرتے ،۔
یاد رکھیں ترقی یافتہ اقوام نے اپنی ابادیوں کے پانی کے نکاس کے بعد جو سب سے بڑا کام کیا ہے وہ ہے ۔
پیسے کو حرکت دے کر پیسے کے فوائد  گھر گھر پہنچانے کا کام کیا ہے ،۔
ایک دوسرے کے پیسے ایک دوسرے کے کام آ رہے ہیں ،۔
بھیک مانگنے والو ، تم لوگوں نے خدا اور انسانیت کے نام پر بھیک مانگ مانگ کر خدا اور انسانیت کو بہت خوار کیا ہے ،۔
لوگو! سنو !!!۔
خود داری ، عزت نفس اور غیرت کا مفہوم جانو
اور
آو امداد باہمی (بیمہ) کے نظام پر بات بات کریں ،۔
پیسے کی حرکت میں برکت پر بات کریں ،۔

جمعہ, اگست 25, 2017

حالات حاضرہ ، امریکہ


امریکہ ، پچھلے سولہ سال میں ، جی ہاں صرف سولہ سال میں  افغانستان میں کوئی  117بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے ،۔
اس سے پہلے سویت کے اندہام میں خرچ ہونے والی رقموں کا ذکر اج کا موضوع نہیں ہے لیکن اپ ان کو بھی ذہن میں رکھیں ،۔
ایک سو سترہ بلین ڈالر کی امریکی  انوسٹمنٹ دنیا کے خطرناک ترین ملک  افغانستان میں ہوئی ہے ،۔
اتنی بڑی رقم کی واپسی کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ افغانستان کی معدنیات  کو نکال کر اس سے وضع کر لی جائے ،۔
افغانستان  میں خام لوہے ، زنک  تانبے کے علاوہ سونے چاندی اور پلاٹنم کے بڑے ذخائیر موجود ہیں ،۔
لیتھنم کے متعلق تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ افغانستان لیتھنیم کا سعودیہ ہے ،۔
لیٹھینم جو کہ سمارٹ فونز اور بیٹری پر چلنے والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
اور تانبے کی کانیں دنیا کے بہترین تانبے کا ذخیرہ رکھتی ہیں ،۔
امرکی ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ معدنیات کوئی ایک ٹریلن ڈالر کی وقعت رکھتی ہیں ،۔
جو کہ افغانستان کو ایک محفوظ ملک بنا کر اور یہاں پر ترقی یافتہ ممالک کے برابر سٹریکچر تیار کرنے اور جمہوریت قایم کرنے کے لئے ایک معقول  رقم ہے ،۔
لندن کے ایک بنکر جو کہ افغانستان میں کان کنی میں ایک بڑے انوسٹر ہیں ان کے مطابق ، افغانسان میں کان کنی  کی یہ حالت ہے کہ یہاں کوئی ایک بھی کان چالو نہیں ہے ،۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کابل سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چینی کمپنی  “ مس عینک” نامی کان سے تانبہ نکال رہی ہے ،۔
افغان حکومت  معدنیات کو نکال کر استعمال میں لانے کے لئے امریکی حکام سے رابطے میں ہے ،۔
اس معاملے میں اس سال جون میں افغانی سفیر  حماد اللہ محب نے امریکی صدر ٹرمپ سے وائیٹ ہاؤس میں ملاقات بھی کی ہے ۔
 ایک امریکی اور افغان حکومت میں معدنیات کے متعلق مشترکہ دلچسپی پائی جاتی ہے  ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق  افغانستان سے سالانہ بیس بلین ڈالر کی معدنیات نکالی جا سکتی ہیں ،۔

اور دوسری طرف  کام کو چالو کرنے سے پہلے اور دوران میں اٹھنے والے مسائل پر بھی غور کیا جا رہا ہے ،۔؛
جن میں سب سے بڑا مسئلہ  خام لوہے ، تانبے اور لتھینم کو افغانستان سے باہر نکال کر امریکہ پہنچانے کا ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہت بری ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہتر کرنے کے بعد امریکی ماہرین کی نظر میں جو راستے ہیں ان میں پاکستان یا انڈیا سے گزر کر سمندر تک پہنچنے کا راستہ ہے ،۔
اور یہ دونوں راستے طالبان کی وجہ سے محفوظ نہیں ہیں ،۔
طالبان جن کو امریکی  ڈیفینشنز میں دہشت گرد کہا جاتا ہے ان کے ٹھکانے  پاکستان کے پہاڑوں میں ہونے کا شک کیا جاتا ہے ،۔
جس کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ سوائے پاکستان کے یہ راستے کوئی اور محفوظ نہیں کروا سکتا ،۔
افغانستان سے نکلنے کے بعد  سی پیک نامی منصوبہ جو کہ پاکستان میں چینی حکومت کے زیر اثر چل رہا ہے اس کو استعمال کرنے میں بھی امریکی حکومت کو کئی تحفظات ہیں  ۔
امریکی حکومت افغانستان میں پچھلی صدی کی اٹھویں دہائی سے لے کر اب تک جو خرچ کر چکی ہے ، کی واپسی کے لئے افغانی معدنیات کے حصول کے سوا اور کوئی راھ نظر نہیں آتی ،۔
لیکن ان معدنیات کو نکال کر امریکہ پہنچانے میں جو قباحتیں ہیں ان کو دور کرنے لے لئے امریکی حکومت دہائیوں سے پاکستان کی امداد کر کے ایک بہت بڑی رقم انوسٹ کر چکی ہے ،۔
اس لئے امریکہ حکومت پاکستان سے اس انوسٹمنٹ کی پروگریس دیکھانے کا مطالبہ کرتی ہے ،۔
دوسری طرف پاکستانی  سیکورٹی حکام ، یہ سمجھتے ہیں کہ کہ معدنیات کی دولت سے ملنے والا حصہ جو کہ ان کو مل رہا ہے یا کہ جس کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ کم ہے ،۔
افغان معدنیات پر امریکی نظر اور ان کو نکال کر امریکہ تک پہنچانے میں جو مسائل ہیں اگر اپ ان کو غور سے دیکھیں تو امریکہ کی بھارت میں دلچسپی  کی وجہ صاف نظر آتی  ہے ،۔
تحریر : خاور کھوکھر

اتوار, جولائی 9, 2017

**** ٹوٹکا *****

** ٹوٹکا *****
جوانی میں  دیس پردیس کی اوارہ گردی کی لیکن پانی سے پرہیز ہی کیا
کہ جہاں بھی گئے کوکاکولا ہی نوش کیا
اس سے یہ تو ہوا کہ “ پانی لاگ “ نہیں ہوئی ۔
لیکن شوگر ضرور ہو گئی ،۔
جب تک کوکے کولے کی “ تاثیر” کا علم ہوا ، بقول شخصے ، چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں ،۔
 
چار سال پہلے اپنی جنم بھومی کی سیر پر جب پانی لاگ ہوئی تو بڑی شرمندگی ہوئی
کہ لوگ کیا کہیں گے ، “ وڈا انگریز “!!،۔
اقوال بزرگاں سے منسوب،  “جس دیس میں جاؤ وہاں پیاز کھاؤ “ والے احمقانہ  نسخے کو بھی ازما کر دیکھا ۔ْ
کچھ فرق نہں پڑا ،۔
تنزانیہ کے شہر دارسلام میں تھا  جب پانی لاگ کی وجہ سے ہوٹل تک سے باہر نہیں نکل سکتا تھا تو؟
ایک دیسی حکیم کی بتائی ہوئی بات یاد آئی کہ
جس کے معدے میں سبز مرچ کا ایک بھی دانہ موجود ہو اس کو ہیضہ نہیں ہو سکتا!!،۔
صبح ناشتے میں شملہ مرچ اور آلو بھنے ہوئے رکھے تھے ،۔
میں نے وہ کھا لئے ،۔
پیٹ میں بہت در اٹھا ، لیکن دو کھنٹے بعد  شوٹر بند ہو چکے تھے ،۔
اس دن  سے میں نے معمول بنا لیا ہے کہ جہاں بھی جاتا ہوں ،۔
مرچ کی نسل کی سبز مرچ ضرور کھاتا ہوں ،۔
ضروری نہیں کہ مرچ کڑوی ہی ہو ، شملہ مرچ یا کہ دیگر پھوکی مرچ اگر سالن میں سالم پڑی ہے تو  ، میں کھا لیتا ہوں ،۔
چار سال میں کوئی پانچ ممالک کے سو کے قریب شہروں کا سفر کیا ہے
لیکن  ہری مرچ کی مہربانی سے پانی لاگ نہیں ہوئی م،۔
ملک سے باہر میں پانی بہرحال منرل ہی استعمال کرتا ہوں لیکن برف وغیرہ یا کہ دیگر مقامی پانی میں تیار کی گئی چیزوں کو کھانے کے باوجود ڈائیریا سے بچا ہوا ہوں ۔ْ

Popular Posts