جمعرات، 14 فروری، 2019

جرگہ اور نامعقول سکھ


یہاں جاپان میں جرگے کا ایک معاملہ ہوا تھا 
جس میں پشتو بولنے والے جرگے  کے مقابلے میں ایک انڈیا کا سکھ تھا ،۔
سکھ نے جرگے کی ایک نہیں مانی تھی ، بلکہ کافر سکھ ، پٹھانوں اور ان کے جرگے کا مذاق اڑانے لگا تھا ،۔
معاملہ یہ ہوا تھا کہ 
سکھ کے پاس  ایک لافٹر کرین کھڑی تھی ، بیس ٹن والی لافٹر کرین،۔
یہ کرین سکھ بندہ چالیس ملین میں بیچنا چاہتا تھا ، جس کی اوکشن  میں پینتیس ملین تک بولی لگ چکی تھی ،۔
ایک پٹھان اس کے پاس آیا کہ  مجھے اس کرین میں دلچسپی ہے ،۔
کیا میں اس کرین کی تصاویر لے لوں ؟
سکھ نے اسکو چابی دے دی کہ کیبن کے اندر سے میٹر کی تصاویر بھی بنا کو کہ 
یہ کرین کتنے گھنٹے چلی ہے ،۔
پٹھان نے اس کرین کہ تصاویر  دبئی میں کسی بائیر کو بھیج کر  ، یہ کرین  تیس ملین کی فروخت کر دی ، دس ملین کی رقم بنک ٹرانزٹ میں  منگوا لی اور باقی کی رقم کرین کی حوالگی پر نقد  لے کر کاغذات وغیرہ دینے کا وعدہ کر لیا ،۔
دبئی والا بائیر ، جاپان پہنچ گیا ، جاپان والے پٹھان نے اس کو ویلکم کہا ، کھانے کی دعوتیں کیں ، دو دن بعد اس کو کرین کے پاس لے کر گیا کہ یہ ہے اپ کی کرین ،۔
پیسے دو !۔
دبئی والے  بائیر کے پاس صرف دس ملین تھی باقی کے اس نے دبئی سے منگوا کر دینے تھے ،۔ 
دبئی والے بائیر نے دس ملین مذید ادا کر دے دئے ۔
بیس ملین  کی رقم وصول کر کے جاپان والے پٹھان نے فون بند کر دیا ، ٹکٹ کٹوا کر پاکستان چلا گیا ،۔
اور دبئی والا پٹھان ، سکھ کے یارڈ پر دس ملین لے کر پہنچ گیا اور لگا تقاضا کرنے کہ 
میرا کرین کا چابی دو ، کاغی زو دو !،۔
سکھ کو بات کی سمجھ نہیں لگ رہی کہ یہ بندہ کیا بات کر رہا ہے ،۔
زیادہ زور دینے پر  سکھ غصہ کر گیا  اور اس نے دھکے دے کر پٹھان کو اپنے یارڈ سے نکال دیا ،۔
دبئی والے پٹھان نے اپنے دینی بھائیوں کو بلا کر جرگہ تیار کیا اور سکھ کے پاس پہنچ گئے  ،۔
اب سکھ  سیدھا سیدھا مکر گیا کہ میں نے کوئی پیسے نہیں لئے ،۔
اور نہ ہی میں نے دبئی میں کسی کو فوٹو بھیجی ہیں ،۔
اب یہاں جاپان میں جرگے والے اپنی سی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح  سکھ سے کرین نکلوا کر  پٹھان بھائی کو دلا دی جائے ،۔
لیکن 
سکھ ہے کہ مان ہی نہیں رہا 
جاپان میں جرگہ ، سکھ کے ساتھ زور زبردستی بھی نہیں کر سکتا ، اور نہ ہی سکھ کو مسلمان بھائی بھائی والا منتر بول کر رام  کر سکتا ہے ،۔
تو
مجبوراً جرگے والوں نے  سکھ کو آخری آپشن یہ دیا تھا 
کہ
ماڑا ، دبئی والا غریب آدمی ہے ،۔ اس کا بہت نقصان ہوا ہے ، تمہاری کرین کی وجہ سے ،۔ اس غریب کو کوئی  تین لاکھ ین اشک شوئی کے لئے  ادا کر دو !!!،۔
سکھ کافر نے اشک شوئی کی رقم بھی نہیں دی تھی 
بلکہ 
انڈین سکھ  ، پاکستان کے پنجابیوں کو اس آپشن کا بتا بتا کر کہا کرتا  تھا
ہے ناں ، نامعقول بات ،۔
میرا کی قصور جے پائی جی ؟
اس بات کا فیصلہ اپ کریں کہ نامعقول کون ہے ،۔
فراد کرنے والا پٹھان ؟
جرگہ ؟
یاکہ کافر  سکھ ؟

ہفتہ، 2 فروری، 2019

کہاوت کی کہانی

ہندی کی ایک کہاوت ہے ،۔
سِیکھ تاء کو دیجیو ، جاء کو سِیکھ سبھہائے ،۔
سِیکھ نہ دیجیو باندراں ، بھیجڑے کا گھر ڈھائے
روایت ہے کہ
کہیں کسی جنگل میں کسی بھیجڑے (پیلے رنگ کی ایک چڑیا جو سرکنڈ کے لٹکتے گھونسلے بنا کر رہتی ہے)نے کسی بندر کو بارش میں بھیگے ٹھٹھرتے دیکھا ،۔
بھہیا چڑیا کو اس پر بڑا ترس آیا کہ اس باندر کو سیکھ دینے کے لئے اس کے پاس آتی ہے
کہ
دیکھو باندر صاحب ، اپ بھی میری طرح اگر محنت کر کے سمجھ بوجھ کے ساتھ ایک مضبوط گھر بنا لو تو ، موسم کی سختیوں اور قباحتوں سے بچ کر کچھ سُکھ لے سکتے ہو ،۔
بندر کو بھہیا کی بات سن کر بڑا برا محسوس ہوا کہ ایک کم ذات چھوٹی سی چڑیا ، پھرتیلے اور چاک چوبند بندر کو کم عقل سمجھ کر بات کررہی ہے ،۔
چہ پدی ؟ چہ پدی کا شوربہ ؟
بندر نے چھلانگ لگائی درخت پر چڑھ کر بھہیے کا گھر ڈھا کر تنکا تنکا کر دیا ، اور بھہیے کو بتا دیا کہ
یہ رہا تمہارا گھر جس پر فخر کر کے تم مجھے جیسے مہان بندر کو سمجھانے چلی ہے ،۔
حاصل مطالعہ
کہ اپ بھی کسی کو مشورہ دیتے ہوئے احتیاط کریں کہ
کوئی کاروبار کر لو ، کوئی دوکان کر لو کا سن کر کوئی باندر اپ سے دشمنی پر اتر اپ کے بنائے ہوئے سیٹ اپ کو تباھ کرنے پر بھی تل سکتا ہے ،۔

بہادر اور دلیر لوگ جن کے پاس دانش ہوتی ہے ، مواقع پیدا کر لیتے ہیں ،۔
خام دانش کے والے لوگ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یا تو نشے کی اوٹ لیتے ہیں
یا پھر مذہب کی ۔
نشے میں مبتلا لوگ خود اذیتی کرتے ہیں اور مذہب میں مبتلا لوگ ، معاشرے کو اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں ،۔



Popular Posts