جمعرات، 26 دسمبر، 2013

ہند کی ذاتیں اور پاک قوم

اگرچہ کہ پرانوں میں لکھا ہے
کہ وہ بندہ جو دھرم بھاؤ والا ہو ، جس کے کھانے پینے اور پہننے میں اصول اور ضوابط ہوں ، جو پربو ( خدا) کی عبادت میں مگن رہتا ہو ،
اس کو معاشرے کا معزز ترین بندہ تسلیم کیا جانا چاہئے ۔
اس کو برہمن کا نام دیا گیا ۔
وہ جو اپنے جان کی بازی لگا کر وطن کی ،دھرتی ماں کی حفاظت کرتا ہے ،
اگرچہ کہ اس کے قول  میں کبھی جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور کھانے میں نشے  کی بھی احتیاط نہیں کرتا ، اس کو معاشرے میں دوسرا درجہ دیا جائے گا ۔
اور اس کو کشھتری کہیں گے۔

اسی طرح دوسری  جاتیوں کا  کا انتطام ہے کہ ان کی بھی ڈیفینیشنز بنائی گئیں ۔
تیسری کاسٹ “ویش “ کی ڈیفینیشنز ہیں
کہ وہ لوگ جو سیکھے ہوئے کام کرتے ہیں اور اپنے اولادوں کو بھی سکھاتے ہیں  ۔ یعنی کہ سیکھے اور سکھائے ہوئے کام کرنے والے لوگ ۔
کمہار ، جولاہے ، ترکھان لہار وغیرہ ، ۔
 لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسا کہ مذاہب کے ساتھ ہوتا ہے ان کی تعلیمات  میں بدعدتیں اتی جاتی ہیں  ، اسی طرح یہ ہوا کہ
برہمن کا بیٹا برہمن ہی کی طرح ٹریٹ کیا گیا ، چاہے کہ اس کی عادات نیچوں جیسی ہی کیوں نہ ہوئیں ،۔
پے در پے بیرونی حملوں نے ہند کے کشھتریوں کو اہم سے اہم درجات پر بلند کر دیا ۔
پہاڑوں سے اتر کر انے والے  اجڈ اور وحشیوں کے حملوں سے تحفظ یہی کشھتری کیا کرتے تھے  ۔
پھر بیرونی حملہ آوروں نے “ اسلام “ متعارف کروایا ، جس میں پہلی بار ہند کے لوگوں کو انسانوں کی برابری کا علم ہوا۔
ہند میں برابری کے نام پر اسلام لانے والوں نے چند ہی صدیوں میں ہند کے ذات پات کے اصولوں اور روایات کو مشرف اسلام کرلیا ۔
برہمن کی جگہ ، اسلام نے سید کو متعارف کروایا ۔ ہند کے زیادہ تر علاقوں میں  سود خور مہاجن کو “شاھ جی” کے نام سے پکارا کرتے تھے ، بادشاہ کی طرح کا بندہ جو کہ دولت مند ہوتا تھا ، اس کو شاھ جی کہتے تھے ، جب برہمن کا اسلامی ایڈیشن نکلا تو ہند کے سیانوں نے ان کو بھی شاھ جی کا نام دے دیا ، اس نام کو دینے کے پیچھے کیا رمزیں تھیں ان پر اپ خود سوچ بچار کریں کہ یہ ناقابل تحریر ہیں ،

لیکن جو بھی دھرم ہوا کہ مذہب ،اس نے ہند کے ذات پات اور چھوت چھات کو برقرار رکھا۔ پھر انگریز آ گیا ، جس نے برابری کا نظام متعارف کروایا ، بلکہ  اپنے ملک میں تو اس کو رائج کرکے دے دیا ،
انگریز کو برابری کا یہ  نظام دینے کی وجہ سے قدرت نے جو عروج دیا ہوا ہے اس کی  نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی ۔
لیکن اس انگریز کے گماشتوں نے بھی  ہند میں ہندو کو اسی ذات پات میں مبتلا رکھا اور مسلمان نے پیری مریدی کے نظام میں مبتلا کرکے اسی ذات پات کے نظام کو برقرار رکھا ۔
لیکن انگریز کے سو سالہ نظام کی وجہ سے کچھ تعلیم اور روشنی تھی کہ قدرت کا نظام کہ
تیسری جاتی (ویش) کے لوگوں کو اپنی وقعت کا احساس ہونے لگا۔
کہ ہم بھی انسان ہیں ۔
اور کچھ یہ ہوا کہ ہند کی تقسیم ہو گئی
اور کمیوں ، کسانوں اور کاریگروں کو پاکستان مل گیا ۔
یہاں اب ان لوگوں نے اپنی صدیوں کی بے وقعتی احساس مٹانے کی کوششیں شروع کر دیں ۔
پیشے ، شرمناک چیز بن کے رہ گئے ،ہر کسی کو اپنے دادے کے پیشے پہ شرمندگی ہونے لگی ۔
اکثریت کی سوچ کہ ،پیشے کو چھپانے کی کوشش میں کیا کیا جائے کہ لوگ مجھے نیچ نہ سمجھیں ؟
لیکن اس بات کا احساس نہ ہوا کہ کون نیچ اور کون اٗچار؟
جب میں کمہار ہوں تو پڑوسی جولاہا نہ ہوا تو لوہار ہو گا۔
ہر حال میں خود کو چھپانے کی کوشش کی گئی ۔ جن کے داوں کی آئل ملیں تھیں ان کو تیلی کی بجائے ملک کہلوانے میں پناھ ملی ۔
سرامک انڈسٹری والوں کی اولادیں کمہار کہلوانے کی بجائے “رحمانی” کہلوانے لگیں  ۔
http://khawarking.blogspot.jp/2006/10/blog-post_26.html
لیکن ہر کسی کے اپنے نام کے لاحقے یا سابقے میں اس بات کا خیال رکھا کہ
میں ایک بے پیشہ بندہ ہوں ،۔
ملک صاحب ، شیخ صاحب ، سید صاحب  ، چوہدری صاحب  ، ان کے نام سن کر بندہ کسی پیشے کا اندازہ نہیں لگا سکتا ۔
وہ لوگ جو اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتے تھے ، انہوں نے اپنے نام کے ساتھ اپنی گوت کا اضافہ کرکے ، اپنے پیشے کو چھپانے کی کوشش کی ۔ جیسا کہ کھوکھر ، بھٹی ، رانا وغیرہ ۔
کچھ یہ بھی ہوا کہ زمانے کی ہوائیں بدلنے لگیں ، پیشوں میں بھی ایک تنوع پیدا ہوا ،۔
اب باٹا والوں کو موچی تو کہنے سے رہے ۔ یا کہ فونڈری کے کام والے کو لوہار !!۔
حالانکہ مسواکیں بیچنے والا بھی تو ایک قسم کا ٹمبر مرچنٹ ہی ہوتا ہے ۔
یہ ساری چیزیں دیکھ کر مجھے
جاپان کے شہنشاہ میجی ، ( 1852to  1912) کا ایک تاریخی کام یاد آ گیا
کہ
شہنشاہ نے اپنے دور میں ایک حکم کے ذریعے سب لوگوں کو ایک خاندانی نام چننے کا کہا،۔
اس حکم کے تحت ہر جاپانی کا ایک نام ہو گا  اور ایک اس کا خاندانی نام ہو گا ۔
یعنی ہر بندے کا نام کے دو حصے ہوں گے،
نام ، اور فیملی نام !۔
فیملی نام نسل در نسل چلے گا
اور نام وہ ہو گا جو والدین کسی بھی بچے کا رکھیں گے ۔
اور یہ خاندانی نام چننے کا حق لوگوں کو دے دیا گیا ، یا یہ کہہ لیں کہ ان لوگوں کو جس نام چیز سے یا بات سے ان کے قریبی لگ پہچانتے تھے ، وہ الفاظ ان کا خاندانی نام ہوں گے۔
حکومتی اہلکارا، سارے ملک میں پھیل گئے ۔
اس کام کے لئے کہ مردم شماری اور لوگوں کے نام رجسٹر میں چڑھانے کے لئے۔
لوگوں  کا فیمل نام چننے کا طریقہ کچھ اس طرح تھا کہ
اپنے گاؤں محلے میں جو خاندان پہلے ہی کسی نام سے پہچناے جاتے تھے ، ان کا فیملی نام بھی وہی لکھ دیا گیا ۔
جس کی مثال اگر میں پنجاب کے دیہاتی ماحول سے دوں تو کچھ اس طرخ کی بنتی ہے ۔
ٹاہلی والئے ، بیری والئے ، سارنگی، وغیرہ۔
شہنشاہ کے اہلکار جب کسی دیہات میں پہنچتے تو  ایسا بھی ہوا کہ
ایک گاؤں کے مشرق کے لووں کو “مشرقی” مغرب کی طرف کے لوگوں کو “مغربی” اور اسی طرح شمال اور جنوب والے  کا نام دے دیا ، اور گاؤں کے درمیان والوں کو “ وچکارلے “ کا نام دے دیا۔

بہت سے دیہاتی علاقوں میں اس حکم کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایک وقتی ابال ہے جو کہ جلدی  ہی بیٹھ جائے گا اور معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے جیس کہ اب تک چل رہے تھے ۔
اس لئے جب کچھ دیہات میں حکومتی اہلکار پہنچے تو ، لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے ۔
جب ان سے اپنے نام چننے کا کہا گیا تو ، جس کے ہاتھ میں مولی تھی اس نے کہا کہ چلو میرا نام مولی رکھ دو، ستم  ظریف اہلکاروں نے اسی طرح سے ان کے نام رجسٹر کر دئے ۔
بہت کم ہی سہی لیکن اج بھی ایسے جاپانی مل جائیں گے جن کے نام مولی ، بینگن بھی ہوسکتے ہیں ،
بہت ہی عام ناموں میں کی مصال اگر پنجابی میں دیں تو کچھ اس طرح بنتے ہیں ،۔
چھوٹا کھیت ، بڑا کھیت ، درمیانہ کھیت ، کالی لکڑی ، درخت کے نیچے ، لکڑی کا گاؤں  ، مغربی گاؤں  ، کنکر ، پتھریلا کنواں ، چھوٹا ٹیلا ، بڑا ٹیلا، ۔
تو اب پھر موضوع کی طرف پلٹتے ہیں کہ
پاکستان ، میں بھی لوگون کو اپنے اپنے پیشے سے سے اتنی الرجی ہے کہ کسی اور نے کسی ہنر مند کو نیچ کیا سمجھنا ہے ،
یہ لوگ خود ہی خود کو نیچ جان کر خود کو چھپاتے پھر رہے ہیں ۔
تو کیوں نہ جی پاکستانی قوم کو بھی اس شرمندگی سے بچانے کے لئے ، شہنشاہ میجی کا طریقہ اپنایا جائے
اور لوگوں کو اپنے اپنے پسندیدہ نام چن لئے جانے دئے جائیں ۔
لیکن جو میں دیکھ رہا ہوں تو
اج کے پاکستان میں تعلیم کی کمی اور جھوٹ کی پرورش سے یہ حال ہو چکا ہے کہ “لوغ” انسانوں کی بجائے جانور بننے کو ترجیع دیں گے۔کمہار کہلوانے کی نسبت ایک جانور “شیر” کہلوانا پسند کریں گے ۔ جولاہا کہلوانے کی نسبت “باز” کہلوانا پسند کریں گے ۔
اپ کا کیا خیال ہے ؟ اپ اپنا نام کیا رکھنا پسند کریں گے ؟
یاد رہے کہ یہ نام اپ کی نسلوں کو اپنانا پڑے گا ، صدیوں پر محیط اور نسلوں کی امانت ، کیا اپ ایسا نام رکھنا پسند کریں گے جو کہ اپ کے جذباتی فیصلے کا نتیجہ ہو
اور اپنانا پڑے انے والی نسلوں کو ۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

پاک مودودی ستان



پاکستان کو بنانے والوں نے اپنے علاقے کو علیحدہ کرکے اس کا نام بنگلا دیش رکھا لیا۔
اور بنے بنائے پاکستان کے نام سے محبت کرنے والوں کو منافقوں کی طرح ٹریٹ کرکے ذلیل کرکے رکھ دیا ۔
جس کی سب سے بڑی مثال بنگال کے بہاریوں کی ہے اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کی
کہ جس جماعت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور پھر بنگال دیش کی بھی مخالفت کی تھی۔
اور اپنی ان سب مخالفتوں کانام “اسلام “ رکھ کردیا ہے
تو
جماعت اسلامی کو بھی شہید مبارک ہوں ۔
پاکستان کے معماروں کو اکہتر میں شہیدوں کی لاشیں اتنی وافر ملی تھیں کہ ان کو بھولتی ہی نہیں ہیں ۔
عمرانیات کے ماہر کہتے ہں کہ انسانوں کی ایک نسل پندرہ سال میں تیار ہوتی ہے ۔
سن انیس سو چہتر میں سرمے والی سرکار جرنل ضیاع  کے دور میں جس اسلام کا “نزول” شروع ہوا تھا ۔
وہ مودودی صاحب کی تفہیم القران نامی کتاب سے شروع ہوا تھا۔
لاہور کے شاہی قلعے میں جن “ منکرین “ کو ڈالا جاتا تھا ان کے ہاتھ میں تفہیم القران پکڑا دی جاتی تھی ۔
اور میڈیا پر اسلام اسلام کا پرچار تھا
نہی ان المنکر اور امر بالمعروف کا بتایا گیا
یعنی کہ دوسروں کو نیکی کی تلقین اور دوسروں کو بدی سے منع کرنے کی تعلیم
لیکن خود کو بدی سے باز رہنے یا نیکی کرنے کی بات کو ایسی بری طرح پیچھے ڈالا گیا کہ
پاکستان کی دو نسلیں اس تعلیم سے تیار ہو چکی ہیں
اور ہر بندہ دوسرے کو نیکی کی تلقین کر رہا ہے اور بزور بازو ہر دوسرے کو بدی سے روک رہا ہے
لیکن اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں ہے کہ نیکی کیا ہوتی ہے اور بدی کی کیا تعریف ہے ۔
اج کا پاکستان ، جو کہ انتہائی اسلامی روجحان کا ملک ہے
اس ملک میں جو حالات اج سے تین دہائیاں پہلے تھے
کیا وہ اچھے تھے یا کہ اج کے حالات ؟
یقیناً ہر ذی الشعور تین دہایاں پہلے کے حالات کو  ہی بہتر کہے گا ۔
بنگالی جو کہ سیاسی طور پر برصغیر کی باشعور ترین قوم ہیں
انہوں نے سب سے پہلے اس بات کا اندازہ لگا لیا کہ مودودی صاحب کی تعلیمات  معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتی ہیں ۔
جرنل ضیاع  کے دور میں اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کو پاکستان میں “اپنا اسلام “ پھلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
اگر کوئی تھی تو ؟ کوئی مجھے بھی بتائے؟
اور اس دور میں یعنی چھتیس سال  میں جو حال اسلام کا پاکستان میں ہے ۔ کیا یہ کوئی قابل رشک حال ہے ؟
اس لئے اب اگر پاکستان والے “اسلامی” ماحول سے بچنے کی کوشش میں کوئی مودودی کی کتابوں پر پابندی لگاتا ہے تو؟
میں تو اسے دور اندیش کہوں گا۔
بنگالی لوگ ، مودودی صاحب کی تعلیمات اور  معلم حضرات کے ساتھ جو بھی کر رہے ہیں
میرے خیال میں اپنے ملک اور قوم کے لئے ٹھیک کررہے ہیں ۔
اگر چہ کہ یہ کام جماعت اسلامی کے لئے غلط ہو !!۔
جماعت کا کیا ہے
ان کے نزدیک تو پاکستان کا اسلام بھی غلط تھا
جس کو ٹھیک کرتے کرتے انہوں نے پاکستان کا یہ حال کر دیا ہے کہ
جس کے جواب میں جماعت کا کوئی جماتیا کہہ سکتا ہے کہ
کیا ہوا ہے پاکستان کو ؟
کچھ بھی تو نہیں ہوا
بس
 پاکستان بہت ہی پاک ہو گیا ہے کہ
لوگ یہاں سے بھاگنے کے لئے ویزوں کے لئے دھکے کھا رہے ہیں ۔
مودودی صاحب کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، مجھے اس خبر کی سرخی ابھی تک یاد ہے
اور پھر؟
پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ سزا کینسل ہو گئی تھی۔
اس کے بعد مودودی صاحب کی تعلیمات کے اسلام والا پاکستان ہے
جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ
میرا تو جی پاکستان ہی “گواچ” گیا ۔
کہ میں گم کردہ پاکستان کی تلاش میں ہوں ۔
پاکستان کو بنانے والے اصلی لوگ بنگالی ھے
اکہتر میں اگر بنگالی اس بات کا دعوہ کردیتے کہ
ہمارا ملک پاکستان ہے
اور
تم لوگ اپنے ملک کا کوئی اور نام رکھ لو
تو؟
تو یہ بھی کوئی غلط مطالبہ نہ ہوتا ۔
اج کے پاکستانیوں کو ، پاکستان بنا کر دینے والے بنگالیوں نے مودودی صاحب کی تعلمات کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔
اب دیکھیں بات کہاں تک جاتی ہے
کاش کہ میرے وطن تک آ جائے ۔ کہ جو اسلام پچھلے پینتیس سال سے مودودی صاحب کے ماننے والے ، فوج کے تعاون سے میری قوم کی “بغل “ میں دئے جا رہے ہیں ، ۔
اس کی وحشت سے میرے اپنوں کو نجات ملے ۔

جمعرات، 5 دسمبر، 2013

پانی کی شرمندگی

پانی!۔
پانی جو حیات افرین ہے ، حیات کی نشانی  ہے حیات بخش ہے ۔
جہاں پانی ہو گا وہاں زندگی ہو گی ۔ دنیا کی سبھی قدیم تہذیبیں  پانی کے کناروں پر پروان چڑھیں ۔
سائینس دان لوگوں کا یقین ہے کہ اگر کسی سیارے پر پانی مل جائے تو وہاں زندگی بھی ہو گی ، وہاں زندگی پنپ  سکے گی وہاں زندگی گزاری جاسکے گی ۔
پانی ہے تو حیات ہے ، پانی جہان زندگی کو بقا عطاکرتا ہے وہیں ، حیات کو پاکیزگی بھی عطا کرتا ہے ۔
یہ پانی ہی ہے جو ہر پلیدی کو خود میں سمو کر ، پلید کو پاک کرتا ہے ۔
پلید کو پاک کرکے ، اس کی پلیدی کو لے کر جب پانی چلتا ہے تو ، پانی بھی اس پلیدی سے شرمندہ ہوتا ہے ۔
شرمندہ غیرت مند منہ چھپاتے ہیں ، اندہیرے میں راہ ڈھوبڈتے ہیں ، کہیں نکل جانے کی راہ ، کہیں خود کو پاء لینے کی جاہ کہ  خود کو پاک کر لینے کی جگہ!!۔
پانی جو کہ سب پلیدوں کو پاک کرتا ہے
اگر خود پلید ہو جائے تو اس کو کون پاک کرے گا ؟؟
اس کو دھرتی ماں  ، مٹی پاک کرتی ہے ۔
پانی جب بندے کی  غلاظتیں ، میل ، اور داغ دھو کر “ گندا” ہو جاتا ہے تو؟ منہ چھپا کر نکل جانا چاہتا ہے ، دھرتی ماں کی اغوش میں چھپ جانے کے لئے ، ماں کی کھوکھ سے دوبارہ جنم لینے کے لئے ، اپنی پلیدیوں کو طہارتوں میں بدلنے کے لئے ۔
شرمسار پانی کو گزرنے کے لئے ایک تاریک راہ چاہئے ہوتی ہے ، ایک راستہ چاہیے ہوتا ہے ، جو اس کو پلید کرنے والی ابادیوں سے اس کو باہر لے جائے ، ابادیوں سے باہر جا کر ہی پانی ماں کی اغوش میں گم ہوتا ہے یا پھر دھرتی کی حدّت کی ملامت اس کو بھاپ بنا کر ہواؤں میں بکھیر دیتی ہے۔
 کہ  بارش بن کر ایک بار پھر اپنی ماں دھرتی ماں کی آغوش میں اتر کر جذب ہو جائے  ۔
پانی کا یہی مقدر ہے  ، اور قدرت کا دستور بھی کہ اسی میں پانی کی حیات  ہے ۔
حیات بخشنے والے رب کا فرمان ہے کہ اس نے پانی کی ایک مقرر مقدار زمین پر نازل کی ہے !!۔
اور پھر عقل والوں نے دیکھا کہ اس مقرر مقدار کی حیات کا ایک دائرہ بنا کر دیا ،
 کہ پانی انسانوں اور جانوروں کی حیات کا ضامن ہو گا اور ان کی طہارت کا بھی ذمہ دار ہو گا۔
پانی بھاپ بن کر اڑے کا ، پہاڑوں  اور میدانوں میں سمندروں میں برسے گا ۔ میدانوں کی بارش ، زمین اور زمین کے باسیوں کی فوری زندگی بنے گی ، پہاڑوں  پر پانی برف کی شکل میں قیام کرئے گا ، اور اہستہ آہستہ پگھل کر دریاوں میں بہتا ہوا بہت سی زندگیوں کو سہارا دیتا چلتا رہے گا ۔
لیکن!۔
اور جو قومیں ، جانور اور لوگ پانی کو پلید کر کےے اس کو بے عزت کر دیں گے
پلید کر کے اس شرمندہ پانی کو نکلنے کے راستے دینے کی بجائے  اس کے راستے بند کرئیں گے ۔
جن لوگوں کو اپنی زندگیوں میں شرمندگی کا ہی علم نہ ہو  وہ کسی غیرت مند شرمندہ کی کیفیت کو سمجھنے کی بجائے ، اس کو اور بھی پلید کرکے بے عزت کر کے گھر سے نکال کر دروازہ بند کر لیں
تو؟؟
بجائے اس کے کہ شرمندہ پانی کو ڈھکی ہوئی تاریک نالیاں  کی صورت  “نکل جانے “ کا راستہ دیں ،
اس کو گلیوں میں ٹھوکروں میں رکھ لیں ، اس شرمندہ غیرت مند کو روندھتے  ہوئے چلیں ۔
اور اس کو طعنے بھی دیں ، “گندا پانی” ، غلیظ ، کیچڑ ۔
تو بے چارہ پھر کیا کرئے ؟
پھر پانی وہ کرے گا
جو
 وہ
پاکستان میں کر رہا ہے ۔
پانی غصہ کرئے گا
اور بے غیرت ہو جائے گا
اور غلیظ حیاتوں کی پرورش کرئے گا
یہ غلیظ حیاتیں ، گندگیاں ، پلٹ کر پانی کو پلید کر کے پانی کی بے عزتی کرنے والے  لوگوں کے گھروں میں بیماریاں بن کر داخل ہو کر!۔
ان لوگوں کو بیماریوں میں مبتلا کرکے رکھ دیں گی ۔
زمین کو حیات بخشنے والا پانی  ، ان لوگوں کی حیات کو عذاب بنا کر دکھ دے گا۔
عذاب ، بیماریوں سے ، غربت سے کرب سے !۔
یہ دستور ہے فظرت کا  اور فطرت کے آئین میں ترامیم نہیں ہوا کرتی ۔

بدھ، 20 نومبر، 2013

جبلتیں

ایک محاورہ ہوا کرتا تھا
سفید پوش ، سیاہ کار!۔
اپ نے کبھی سنا ہے ؟
یا کہ ایسے بندے دیکھے ہیں ؟
خوبصورت اور اجلے لباسوں میں ، منافق؟
۔
۔
سوہنے بابے اور بڈہیاں بھی دیکھی ہوں گی؟
حسن صرف جوانی سے ہی نہیں ، بندے کے خوبصورت خیالات سے بھی بنتا ہے ۔
عموماً خوبصورت خیالات ،اپنے رکھنے والے بندے کے چہرے اور بدن کو بھی خوبصورت بنائے رکھتے ہیں ۔
۔
۔
۔ کتے ہو عموماً اور کئی دوسرے جانوروں میں ، ایک جبلت پائی جاتی ہے
کہ
چیزوں کو اکھٹا کرتے جاتے ہیں ، اور کتے کو تو یہ بھی یاد نہیں رکھتا کہ اس نے ، ہڈی دبائی کہاں کہاں ہے زمین میں !!۔
انسان جس میں طرح طرح کی جبلتیں پائی جاتی ہیں ۔ اگر کسی ادمی میں جانوروں کی مال کو اکھٹا کرنے کی جبلت اوج کر آئے تو
عموماً ایسا ادمی خود کو ہی انسان سمجھ لینے اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور مغالطہ بھی ایسا کہ
خالص انسانوں والی جبلت جو کہ کسی بھی جانور میں نہیں پائی جاتی ، اس جبلت کے انسانوں کو تو بہت ہی حقیر جاننے لگتا ہے ۔
یعنی کہ "لکھنے "والوں کو بھی حقیر سمجھتا ہے ۔

ہفتہ، 16 نومبر، 2013

ایک الف تینوں درکار

 بابے بلھے نے کہا تھا
اک الف تینوں درکار۔
پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے ، ہر طرف ، ہرجگہ ، بلکہ ہر دل میں ۔
کم علمی کی بٹھی میں جلنے والے اس آگ کا نام ہے ، مذہب !!۔ اور اس کا ایندھن ہے ، مغالطے اور مبالغے۔
وہاں امریکہ میں ، ہر الیکشن میں تین "جی" استعمال ہوتے ہیں ۔
 جی فار "گاڈ" جی فار "گن" اور جی فار " گے" ( ہم جنس پرست) ۔
پاکستان میں الیکشن ہو یاکہ سلیکشن ! جرگہ ہو کہ پنچایت ، مسجد ہو کہ دارا یہان ایک ہی لفظ  جو کہ الف سے شروع ہوتا ہے ۔
ب پ ت ٹ  کے حروف بھی ہیں اور ان کا استعمال بھی ہوتا ہی رہا ہوگا ، لیکن ہم نے ایک ہی لفظ دیکھا ہے الف  اسلام !!۔
اسلام کا الف ، ساری قوم کی بغل میں گیا ہوا ہے  ۔ ساری قوم نے ہاتھوں میں پکڑ رکھا ہے ، دوسروں کی بغل میں دینے کے لئے ۔
اپنا اپنا الف ہے سب کا ہر بندہ اپنے الف کی باتیں کر رہا ہے ،
ایک ہاتھ سے اپنا الف دوسرے کی بغل میں گھسیٹنے کی کوشش ہے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی بغل میں “کسی اور” کے الف  کی زیادتی کا ظلم کا واویلا ہے ۔
ایک الف اسلام کی ہاتھوں ملک کا یہ حال ہے کہ
سڑکیں ،عمارتیں ، ابادیاں تو بد حال ہیں ہی ۔
کسی کو اپنے حقوق کا یا فرائض کا گمان تک نہیں ہے ۔
کوئی کسی سے پیسے چھین لے ، اس کے پیسے واپس لینے میں مدد کا کوئی انتظام نہیں ہے
ہاں اس کوئی یہ بتانے والا آ جائے گا ، اسلام تو ایسا نہیں بتاتا ! ، فیر الف اسلام۔
کوئ کسی کی بغل میں تیر دے کر چلا جائے ، اس کو بھی کوئی باتنے والا آ جائے گا کہ ، بغل میں تیر دینا انتہائی غیر اسلامی ہے ، فیر الف اسلام ۔
کسی کے گھر چوری ہو جائے ، اس کے مال کی واپسی  کی کوئی دادا فریاد نہیں
لیکن اس بھی کوئی بتانے والا آ جائے کا کہ اگر یہاں اسلام ہوتا نہ  ، تو ! ۔
فیر الف اسلام ۔
اور اگر کوئی بندہ ان الف اسلام والوں کی بغل سے الف نکانے کو کوشش کرئے تو ؟
اس ہاتھ پکڑ لیں گے کہ اسے نہ نکالو، اس میں اسلام کا کیا قصور ہے ؟
یار تم تکلیف میں ہو ! اس لئے میں تمہارا الف نکالنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
تو اس کو کہتے ہیں ۔
اس میں اسلام کا کیا قصور ؟ کوئی اسلام پر عمل تو کرئے !!!۔
تو بندہ ان احمقوں سے پوچھے کہ
کیا
چودہ سو سال میں نافذ نہ ہو سکا
کیا
خدا کا آئین بھی “عبوری “ ہے کیا ؟؟

ایک ہمالیہ سے بڑا سوال
پاکستانی قوم سے
تمہارے تعلیم یافتہ لوگوں مں سے بھی کتنے فیصد کو علم ہے کہ

حضور نبی پاک ﷺ نے مکے میں جن لوگوں کو تبلیغ کرکے تکلیفیں اٹھائی تھیں ۔
ان لوگوں کا مذہب کیا تھا؟
کس یقین کی طاقت تھی کہ جس نے وقت کے نبی ﷺ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
یاد رکھو جب تم لوگوں کو “ان “ کے مذہب کا علم ہو جائے گا
تو؟
تم لوگوں کی “بغل” سے اسلام کا .الف” نکل جائے گا
اور تم لوگ دنیا کی اقوام میں اپنا ایک مقام رکھو گے ۔

دوسری بات
اگر انگریزی اتی ہوتو
یہ الفاظ سرچ انجن میں ڈالکر
The Campaign to Stop Killer Robots

دیکھو کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اگر اسلحہ بنانے کی تکنیک میں ایڈوانس ہیں تو
اخلاقیات میں بھی کم نہیں ہیں ۔
Killer Robots
میں ڈرون بھی شامل ہیں ۔
چلو جی غیروں کی کوشش سے ہی سہی ، اگر ڈرون سے ہونے والی پاکستانیوں کی موتیں کچھ کم ہو جائیں تو دل کے دکھ کچھ کم ہو جائیں گے
ورنہ
پاکستان کے “محافظوں “ نے جو کام کئے ہیں ڈرون کے حملوں میں ، وہ انے والے زمانوں کا تاریخ دان جب لکھے گا
تو
پڑھنے والے حیران ہوا کریں گے کہ
اس زمانے کے لوگ اتنے ہی احمق تھے کہ ان کو محافظوں کے کردار کا علم ہی نہیں ہو سکا تھا ۔
لیکن کچھ لکنھے والے یہ بھی لکھیں گے کہ
محافظوں نے اس دور کے لوگوں کے ہاتھوں میں اسلام کا “ الف “ پکڑا دیا تھا  ، جس کو ایک دوسرے کی بغل میں دینے کی کوشش میں ان لوگون کو محافظوں کے کردار پر سوچنے کی فرصت ہی نہیں تھی ۔

اتوار، 3 نومبر، 2013

جاپان ایک رائے

جاپان، چڑھتے سورج کی سرزمین کے لوگوں کے متعلق کسی رائے کی تشکیل کے لئے میں دس الفاظ کا انتخاب کروں گا۔

شائستگی!۔
شائیستگی یا کہ جس کو انگریزی میں پولائٹ کہتے ہیں ۔
اس کو جاپانی زبان میں “رییگی تاداشی” کہتے ہیں ۔ جاپان کے متعلق اپ نے پڑھا سنا ہی ہوگا کہ جاپانی لوگ ایک دوسرے کو جھک کر سلام کرتے ہیں ۔
اب جب کہ اس زمانے میں جاپان میں مغربی لوگوں اور دیگر غیر جاپانیوں کو عام دیکھ سکتے ہیں ، مصاحفے کا بھی رواج ہے ،
لیکن صرف غیر جاپانیوں کے ساتھ ہی ایسا کیا جاتا ہے ۔
جھک کر سلام کرنے کو جاپانی زبان میں “اوجیکی” کہتے ہیں ، اوجیکی ، ہاتھ ملانے کی نسبت کہیں زیادہ شائستہ محسوس ہوتی ہے ۔
وقت کی پابندی!۔
جاپانی لوگ وقت کی پابندی کے معاملے میں اتنے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ اپ ان کو انتہا پسندی کا الزام بھی دے سکتے ہیں ۔
جاپان کا ریلوے کا سسٹم اتنا زیادہ منظم ہے کہ اس میں ایک منٹ کی لیٹ کا بھی تصور نہیں ہے ۔
جے آر ( جاپان ریلوے) اور اس سے منسلک دوسرے ریلوے نیٹ ورک ، بسوں ، بحری اور ہوائی جہازوں کا ظان اتنا منظم ہے کہ
کسی ایک لائین پر ٹرین کی ایک منٹ کی لیٹ ، کسی کے سارے ہفتے یا مہینے کا ٹائم ٹیبل درہم برہم کر کے رکھ دے۔
اس لئے ٹوکیو میں کسی نیٹ ورک پر ٹرین کے ایک یا چند منٹ لیٹ ہوجانے پر ریلوے والے مسافروں کو وضاحتی ٹکٹ جاری کرتے ہیں تاکہ مسافر اپنے کام والی جگہ پر دیکھا کر اپنے لیٹ ہونے کا جواز فراہم کر سکے ۔
کام پر لیٹ پہنچنا یا کہ کسی وعدے پر لیٹ پہنچنا جاپان میں اپ کی ریپوٹیشن کو بہت نقصان پہنچاتا ہے ۔
روادری!۔
روادری ، جس کو انگریزی میں “کائنڈ” کہہ سکتے ہیں ، اس کو جاپانی میں “یاساشی” کہتے ہیں ۔
دوسرا لفظ جو عام بولا جاتا ہے وہ ہے “ اوموئی یاری” جس کا اردو میں معنی بنیں گے “دوسروں کے فائدے کی سوچ رکھنے والا”۔
یہاں جاپان میں کسی دوست کو ملنے کے لئے جاتے ہوئے کوئی کھانے کی چیز لے کر جانا ایک عام سی بات ہے ۔
جیسا کہ ہمارے ہاں بھی رشتے داروں کے گھر جاتے ہوئے کھانے کی چیزیں لے کر جانے کا رواج پرانوں سے پایا جاتا ہے ۔
 محنتی!۔
جاپانی لوگ بہت محنتی ہوتے ہیں ۔ محنتی کے لئے جاپانی میں لفظ استعمال ہوتا ہے “ ہاتاراکی مونو” جس کو انگریزی میں یارڈ ورکر کہیں گے ۔ لیکن جاپانیوں کی محنت صرف ان کے کام تک ہی نہیں ہے ، جاپانی اپنی گھریلو زندگی میں بھی بہت محنتی لوگ ہیں ۔
اگر اپ جاپان میں کنٹریکٹ ورکر نہیں ہیں ، بلکہ کل وقتی ملازم ہیں تو اپ کو ایکسٹرا کام پر اوّر ٹائم کی اجرت نہیں ملے گی ۔
ان دنوں جاپان میں ایک لفظ “کارواوشی “ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں کہ کام کی مشقت سے موت!۔
یہ موت کوئی محاوراتی موت نہیں بلکہ حقیقت میں کئی لوگ کام کی مشقت سے مر جاتے ہیں ۔

باہمی احترام!۔
جاپان میں باہمی احترام کا ایک ایسا کلچر پایا جاتا ہے کہ جس کا ذات پات اور طبقاتی فرق والے معاشروں میں تصور بھی محال ہے ۔
یہاں ہر شخص کو “سان” کے لاحقے کے ساتھ پکارا جاتا ہے ۔ “ میں “ ایک قابل احترام شخص ہوں ، اسی طرح معاشرے کے سبھی لوگ محترم ہیں ۔
یہاں جاپان میں بڑی عمر کے لوگ بھی اپنے سے چھوٹی عمر کے لوگون کو عزت سے پکارتے ہیں ۔ اور کم عمر لوگ بڑی عمر کے لوگوں کو احترام سے پکارتے ہیں ۔
اپنے سے بڑی عمر کے بزرگوں کو عامیانہ زبان سے پکارنے یا بات کرنے کو یہاں بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
جاپانی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ “ شتاشی ناکا نی مو رئیگی آری” یعنی کہ بے تکلفی میں بھی اخلاق ہونا چاہئے!!۔
یہاں بے تکلف دوست بھی انتہائی بے تکلفی میں بھی دوست کی عزت نفس پر حرف نہیں انے دیتے ۔
 اکلمیت پسندی!۔
جس کو بعض اوقات گیر جاپانی لوگ جاپانیوں کی جھجک یا شرم سمجھتے ہیں یہ بات ان کی اکلمیت پسندی ہوتی ہے
کہ
اگر اپ کو کوئی جاپانی جاپان سے باہر مل جاتا ہے اور بہت کم بات کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مکمل ترین انگریزی نہین بول سکتا اس لئے کم بات کر رہا ہے ۔
حالنکہ اس کو اچھی خاصی انگریزی کی سمجھ ہو گی لیکن اکلمیت پسندی کی وجہ سے کم بات کر رہا ہوگا ۔
جاانی مصنوعات میں بھی ان کی اکلمیت پسندی نظر اتی ہے ۔ جاپانی جب بھی کو چیز تیار کرتے ہیں تو اس کی وضاحت یہ ہوتی ہے کہ اس دور میں اس سے بہتر چیز بنانی ممکن نہیں تھی ۔ اور انے والے دور میں اس چیز سے بہتر چیز بنانے کی کوشش ہی ہوتی ہے  جس نے جاپان کو اج اس مقام پر کھڑا کیا ہوا ہے کہ
کوئی جھوٹ میں بھی “ میڈ ان جاپان “ کا لیبل لگا دے مال بک جاتا ہے ْ۔
 دور اندیشی!۔
جاپانی لوگ بہت دور اندیش ہوتے ہیں ، ان کو انے والے کل ہی کی نہیں بلکہ اس سے اگے کے انے والے کلوں کی بھی فکر اور سوچ ہوتی ہے ۔
جاپانی زبان میں دور اندیش کے لئے لفظ بولا جاتا ہے “ کھش کوئی” جس کے متبادل انگریزی کا لفظ انٹیلیجنٹ ہو گا ،۔ انگریزی کے لفظ سمارٹ کو یہاں جاپان میں “ سماتو” بولا جاتا ہے اور اس کو کسی کی اچھی جسمانی فگر کے لئے بولا جاتا ہے۔
یعنی کہ جاپان میں اگر اپ کسی کو سمارٹ کہتے ہیں تو اس کا مطلب اپ اس کی ذہانت کی بجائے اس کی جسمانی ساخت کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں ۔
جاپان کا باہمی امداد کے لئے بیمہ کا نظام ، سونامی ، زلزلوں اور دیگر اسمانی افات سے بچاؤ اور اگاہی کا نظام ان کی دور اندیشی کی بہترین مثالیں ہیں ۔
اجتماعی زندگی کا شعور۔
جاپان کی اس کوالٹی کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہونا چاہئے تھا ، کہ جاپان میں اجتاعی زندگی کا شعور بہت ہی میچور ہے ۔
ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا بنیادی ستون اجتماعی زندگی کا شعور ہی ہوتا ہے۔
لیکن جاپان ان ترقی یافتہ اقوام میں سے بھی اس بات میں اعلی ترین مقام پر ہے
غیر ملکی سیاحت کے لئے نکلے ہوئے جاپانی سیاحوں کے گروپ ، جاپان کی اجتماعی زندگی کی ایک عملی مثال ہے۔
ملک کر کام کرنا ، ایک دوسرے سے مشاورت کرنا معاملات میں ایک دوسرے کی معاونت کرنا جاپان کے لوگوں کی رسم سے زیادہ ان لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔

صفائی!۔
کیا اپ یقین کریں گے کہ جاپان کے سکولوں میں صفائی والے چپراسی کا تصور بھی نہیں ہے؟
جاپان میں طالب علم خود سکول کی صفائی کرتے ہیں ۔
ہر روز گیلے کپڑے سے تیس منٹ !۔ کسی بھی عمارت کو بترین صاف رکھنے کے لئے کافی ہے ۔
اپ نے شائد انٹر نیٹ پر یو ٹیوب وغیرہ میں دیکھا ہو کہ  کیسے جاپانی لوگ اپنا کوڑا بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔
جی ہاں جب جاپانی کسی کام کو نکلتے ہیں اور کرنے واکی چیزوں کی لسٹ میں “ صفائی “ بھی شامل ہوتی ہے ۔
جاپان میں دوکان دار اپنی دوکان کے سامنے کی گلی یا سڑک کو بھی اتنا ہی صاف رکھتے ہیں جتنی کہ ان کی دوکان ۔
ان کے خیال میں یہ کام بھی ان کے کاروبار کی ضرورت ہے ۔
عمومیت!!۔
ہمارے یہاں عامیانہ پن ، ایک گالی سی بن کر رہ گئی ہے ۔ کیونکہ عمومیت کے معنوں سے لاعلمی ہے
ورنہ جاپان میں یہ ساری باتیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ، عام سی چیز بن کر رہ گئی ہیں
بلکہ اس چیزوں کو ہی عمومیت جانا جاتا ہے۔
سکول کی تعلیم کے بعد سپوٹس کی کی گھنٹوں کی روزانہ مشقت طالب علموں کے لئے عام سی بات ہے ۔
کام پر سونپی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا عام سی بات ہے ۔
اپنے معاشرتی فرائض کی ادائیگی عام سے بات ہے۔
خوش اخلاقی ، روادری ، خندہ پیشانی ، یہ سب “ خاص” باتیں یہاں جاپان میں عام سی باتیں ہیں ۔
اس لئے اپ جاپان کو عمومیت پسند بھی کہ سکتے ہیں ۔
جاپانیوں کے ساتھ زندگی گزار کر لگتا  ہے کہ
زندگی جاپانیوں کے نزدیک ایک مشن ہے ۔ زندگی کو کوالٹی کے ساتھ گزارنے کا مشن !!۔ اور سبھی لوگ اس مشن میں جتے ہوئے ہیں ۔

اتوار، 27 اکتوبر، 2013

فیس بک کے سٹیٹس

فیس بک پر مختصر باتوں کو شئیر کرتا رہتا ہوں ۔ اج ان میں سے کچھ کو یہاں بلاگ پر جمع کرکے پوسٹ کر رہا ہوں ۔
فیس بک پر میرے فرینڈز اور فالور ، پہلے ہی ان پوسٹوں  کو پڑھ چکے ہیں  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بک ، کچھ زیادہ ہی مسلمان ہے ۔

جن کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ، جھوٹے ہیں ۔
وہ سچ کا پرچار کرتے ہیں ۔
منافق ،اصولوں کی بات کرتے ہیں ، اور مشرک ! مورتوں کو شئیر کرتے چلے جا رہے ہیں ۔
میں کہوں گا
کہ
مجھے مسلمان کرنے کی بجائے ، تسی ، آپی مسلمان بنو!!۔
تے
نئیں بن سکدے تے ؟ بندے دے پتر ای بنو!۔
خود سے جھوٹ نہ بولو!۔

پنج رکن اسلام دے ، تے چھیواں دساں ، روٹیاں !!۔
ٹڈ ناں پئیاں روٹیاں تے ، سبھے گلاں کھوٹیاں !!۔

اسلام کے پانچ رکن ہیں لیکن میں اپ کو بتاؤں کہ چھٹا رکن رزق کی تلاش بھی ہے
اگر پیٹ میں کچھ نہیں ہے تو پانچ رکن پورے کرنے بھی محال ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندو، سکھ ، پارسی اپنی جگہ!۔
لیکن
یہودی ، عیسائی اور مسلمان اپنی اپنی جگہ بڑی "کراری . قسم کی جنت کی ٹکٹ جیب میں لئے پھرتے ہیں ۔

………….


میں اپنے جاننے والوں میں ، گھسنے کی  کوشش نہیں کیا کرتا۔
ان کے دلوں میں ، معاملات ، یا گھروں میں !!!۔
لیکن
جو لوگ مجھے جاننے لگتے ہیں ۔
وہ لوگ کوشش کرکے ،میرے لئے اپنے دلوں میں جگہ نکال کر ہی لیتے ہیں ۔
خاور کھو کر

…………….

بھکی کے بھٹیوں کی بے بے ، نے گامے سے پوچھا
کہ
گامیا! یہ تو بتا کہ وہ کون سی چیز کے جو " مج" (بھنس) کے پاس چار کی تعداد میں اور میرے پاس دو ہیں ؟؟
گاما : ٹانگیں !!۔
اچھا اب بتا کہ وہ کیا چیز ہے جو تیری شلوار میں تو ہے لیکن میری شلوار میں نہیں ہے ؟؟
گاما: جیب!!!۔
بھٹیوں کی بے بے کچھ اور بھی بے تکلف ہوکر پوچھتی ہے
وے گامیا! وہ کیا چیز ہے جو لوگ ، دن میں کرنے کی بجائے رات کو کرتے ہیں اور بستر پر کرتے ہیں ؟؟
گاما: نیند پوری کرتے ہیں ۔
اچھا اب اخری سوال کہ
وہ کیا ہے جو ایک لڑکی زندگی میں پہلی دفعہ کرواتے ہوئے درد کی زیادتی کی وجہ سے روتی ہے ۔
گاما: کانوں میں بالیوں کے چھید کرواتے ہوئے !!!۔

حاصل مطالعہ
آپ بھی اپنے خیالات اور نیت کو گامے کی طرح نیک رکھیں !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی سب سے بہترین دوا
ہے
پیار اور محبت !!۔
 کسی نے پوچھا کہ اگر اثر نہ کرئے تو؟۔
 بتایا گیا کہ"
پھر ! " ڈوز" بڑھا دو!!!۔

خاور کھوکھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سّور ( خنزیر) ، گینس بک اف ریکارڈ کے دفتر گیا
یہ دیکھنے کے لئے
کہ
دنیا کی پلید ترین چیز ہونے کا ریکاڈ اب بھی میرے پاس ہی ہے کہ نہیں ۔
جب وہ  باہر نکلا تو بہت غصے میں تھا
اور بڑبڑا رہا تھا
یہ سالا ساقا ب ۔ ۔ ۔  کون ہے اوئے ؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تار پر چھ پرندے بیٹھے تھے
ایک شکاری نے ان پر غلیلہ چلایا۔
نشانہ خطا گیا
پانچ پرندے اڑ گئے
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
 ایک پرندہ بیٹھا رہا !۔
کیوں؟؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔ بس ! ایسے ہی ، نخرے !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سرکاری دفتر میں بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا
براہ مہربانی یہاں شور نہ کریں
کسی ستم ظریف نے نیچے لکھ دیا
کہ ، ہمارے افسران کی نیند خراب ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیدو ڈنگر جیولری کی دوکان پر
اردو بولنے کی کوشش میں مار کھا بیٹھا۔
حالکہ جیدو ، واقعی  زیور خریدنے گیا تھا
جیدو ڈنگر کے شوکیس میں سجے زیور دیکھے اور سیلز گرل کی طرف پر شوق نگاہوں سے دیکھ کر کہنے لگا
بی بی جی ! آپ کا ایک ایک ائٹم غضب کا ہے ، بس اب آپ یہ بتائیں کہ سونے کا کیا ریٹ لگے گا؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنس کے مضمون میں جیدو ڈنگر نے سب کو حیران کر دیا
اس وقت جب سوال تھا کہ
وہ کون سا مائع ہے جو حرارت سے سخت ہوجاتا ہے ؟؟
جیدو کا جواب تھا
بیسن کے پکوڑے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب لفظ ختم ہو جائیں
تو
انکھیں بولتی ہیں ۔
جب انکھوں کی بولتی بند ہوتی ہے تو
دل بولتا ہے۔
لیکن یارو
جب
دل بولنا چھوڑتا ہے
تو
پھر ؟

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
 پھر کچھ نہیں بولتا
لوگ ناک میں روئی دے کر دفن کرنے کو لے چلتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا اپ کو لڑکیاں بہت ہی پسند ہیں ؟
کیا اپ لڑکیوں ہی کی باتیں سننا چاہتے ہیں ؟
کیا اپ پر وقت لڑکیوں میں گھرا رہنا چاہتے ہیں ؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
تو
فیس بک کی مشکوک شنانہ ائی ڈیز پر وقت ضائع کرنے کی 
بجائے
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
گول گّپے کا ٹھیلا لگا تو !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامیابی کا راز کیا ہے؟؟
صحیع اور بروقت فیصلہ!!!۔
لیکن
صحیع فیصلے کے لئے قوّت فیصلہ کیسے حاصل ہوتی ہے؟
تلخ تجربات کے ساتھ!!۔
اور
تلح تجربات کیسے حاصل ہوتے ہیں ؟؟
غلط اور بے وقت فیصلوں سے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پچھلی صدی ( نوے کی دہائی ) کی لڑکی ۔
اگر تم مل جاؤ ، زمانہ چھوڑ دیں گے ہم!۔
اکیسویں صدی کی لڑکی۔
اگر تم مل جاؤ ، "پرانا" چھوڑ دیں گے ہم!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مکالمہ
 میں تمہارے پیار میں  ، برباد ہو گئی ، لٹ گئی ،میری دنیا رسوا ہو گئی ۔
۔
تو میں کون سا پڑھ پڑھ کر بنک مینجر لگ کیا ہوں  ؟ بد بختے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیسی فیملی ، یورپ منتقل ہوئی ۔
ایک دن ماں ، اپنے بچے سکول سے لے کر گھر آ رہی تھی کہ انہوں نے جوان جوڑے کو  " بوس کنار" کرتے دیکھا۔
ماں نے نے نظر چرانے کی بہت کوشش کی لیکن
بچے کی نظر ان پر  ، پڑ ہی گئی
اور چلا کر اپنی ماں سے بولا
اماں دیکھو یہ لوگ ایک دوسرے سے " چیونگم " کی چھینا جھپٹی کر رہے ہیں  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اپ یہ سمجھتے ہو کہ
اپ کا باس ( ساچو) بیوقوف ہے ۔
تو  ، اپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ
اگر اپ کا باس سیانا ہوتا تو ؟
آپ  جیسے کو ملازم ہی کیوں رکھتا ؟
 خاور کھوکھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی بیویوں سے وفادار  " مرد " سیدھے جنت میں جائیں گے!!!۔
۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
اور بے وفا مرد؟؟
۔
۔
۔
۔
۔وہ اس دنیا کو ہی جنت بنائے بیٹھے ہیں  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں منگنی اور شادی کے دوران لمبا عرسہ حائل ہو جائے؟
وہاں ،  فائدہ کون اٹھاتا ہے ؟؟؟؟۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔لڑکا؟

نہیں !!۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔۔
لڑکی ؟
نہیں !!!۔
۔
۔
۔
۔

۔
موبائیل فون کمپنی!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا کی جنگ  میں ہم ، جیت تو گئےلیکن
پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندے دی وڈیائی دا آخر، قبر! تے فیدا کیہہ؟
پچھے، دو سطراں دی خبر! تے فیدا کیہہ؟
اس لئے میں کہوں گا
کہ
دنیا دے وچ بندیا، ر کھ ایسا بہن کھلون
کول ہون تے ہسن لوکی ، مرجاویں تے رون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ تر نسلی لوگوں کو اس بات کا تو علم ہوتا ہے کہ
سینکڑوں سال پہلے ان کے اباء  و اجداد کس علاقے میں ، کیا کارنامے انجام دے رہے تھے۔
لیکن
اس بات کا ان لوگوں کو کم ہی علم ہوتا ہے کہ
ان کی اولاد گزری رات کو کس کے ساتھ کیا کارنامے انجام دے رہی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاما ، ٹرین میں چڑہنے لگا کہ
اس کے کانوں میں آواز آئی ، یہ ٹرین پٹری سے اتر جائے گی، کاما ٹرین میں سوار نہیں ہوا اور وقعی ٹرین پٹریسے اتر گئی۔
گاما بس میں بیٹھنے لگا کہ اواز آئی یہ بس کھائی میں گر جائے گی، اور ایسا ہی ہوا۔
گاما جہاز میں بیٹھنے لگا کہ
اس کے کانوں میں اواز آئی کہ یہ جہاز کریش ہو جائے گا!!۔
۔
۔
۔
۔
گامے نے پوچھا تم کون ہو ؟
آواز آئی ۔ تمہارے مقدر کا فرشتہ!!!۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔گامے کی کراہ نکل گئی ہو پوچھنے لگا،
جس دن میری شادی تھی
اور میں سہرا باندہ کر گھوڑی پر چڑھنے لگا تھا!۔
تو
کیا

تمہارا گلا بیٹھ گیا ؟؟بد بختا!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میجر نے گھر فون کیا کہ
 میں تو چھٹی پر نکلنے ہی والا تھا کہ
بیرکوں میں
کچھ گندے میگزین ملے ہیں !، جس کے ذمہ دار سپاہیوں کو ڈسپلن سکھانے کی سزا دے کر ہی گھر آ سکوں گا۔
بیوی نے بڑے تاسف سے کہا کہ
اب کیا سجیلے جوانوں پر تصویریں دیکھنے کی بھی پابندی ہے کیا؟؟
میجر نے بیوی سے بھی زیادہ تاسف سے کہا
بھلیے لوکے
میں رائفلوں کے میگزین کی بات کر رہا ہوں ، جن کی صفائی کی ذمہ داری تھی ،سپاہیوں پر!!ْ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن ، جنت میں سائینس دانوں کی ایک ٹیم نے "خدا" سے کہا کہ
حضور اپ اپ کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے
اپ اب رٹائیر منٹ لے لیں!!۔
اچھا؟ وہ کیوں ؟ زرا اپنا موقف تفصیل سے بیان کرو!۔
ٹیم نے خدا کو بتایا کہ
ہم نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ انسان بنا کر اس میں جان ڈال سکیں ، جیسا کہ اپ نے اس دنیا کی ابتدا میں کیا تھا!۔
اچھا؟ زرا کر رکے دیکھاؤ!۔
سائینس دانوں نے مٹی کو کمہاروں کی طرح گوندہ کر جب اس کا پتلا بنانا ہی شروع کیا تھا
تو
خدا نے
ان کو کہا
نہیں نہیں ، پہلے مٹی بنا کر دیکھاؤ !!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا!۔
دنیا میں کچھ ملے نہ ملے
دو چیزیں کبھی نہ چھوڑنا۔
ایک ۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
سموسے کے ساتھ ایکسٹرا"چٹنی" اور
دوسرا
گول گپّے کھانے کے بعد اس کا پانی!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھو ، بڑا ایکسائٹیڈ ہو کر اپنے ابے سے کہتا ہے
ابا جی ، مجھے بلیک بیری یا پھر ایپل لے کر دو!!۔
او کاکا ! انگلش میڈیم
میں سنگھاڑے لے کر ایا ہوں ، گھر جا کر پہلے وہ ختم کرو
،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماسٹر جی انگریزی کے پیریڈ میں پڑھا رہے تھے
اے فار ، ایپل
بی فار ، بڑا ایپل
سی فار ، چھوٹا ایپل
ڈی فار ، دوسرا ایپل
ای فار ، ایک اور ایپل
ایف فار ، فیر ایک ایپل
ہیارے بچو اب تم بتاؤ کہ
جی فار ، کیا ہوگا؟؟
گامے نے جو جواب دیا تھا وہ قابل تحریر نہیں ہے
میسج کر کے مجھ سے پوچھ لیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی اور گرل فرینڈ میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟؟
یہی کوئی
پنتالیس کلو گرام وزن کا !!!!۔

اتوار، 29 ستمبر، 2013

الفاظ کی ساخت

اگر بات کریں سکول میں گزارے تعلیی سالوں کی تو؟ اس وقت اردو میں بلاگ لکھنے والوں میں سب سے کم سال میں نے سکول میں گزارے هیں ـ
یه نہیں که میں بڑا ذهین تھا اور ایک ایک سال میں پٹوسیاں مارتا دو دو جماعتیں پاس کرتا گیا تھا۔ اس لئے کم سالوں میں زیادہ جماعتیں پاس کر لیں۔

 حقیقت یہ ہے که تکینک کی ترقی نے مجھے بھی اھل قلم میں شامل کر هی دیا ہے
کمپیوٹر کی تکنیک نے انٹر نیٹ کی تکنیک نے!۔
ورنہ میرے لکھے کو کس نے شائع کرنا تھا؟

اھل قلم جو زمانے کو الفاظ دیتے هیں ، الفاط رائج کرتے هیں
منو بھائی نے اپنے ایک ڈرامےسونا چاندی میں ایک لفظ دیا تھا '' بے فضول '' منو بھائی کا مقصد ایک لطیفه تھا
لطیفه نکلا ہے لطیف سے ، لطیف سی هوا
که نظر نهیں آتا اور دل کو چھو کرگزر جاتا ہے
یا کثیف سمجھ والوں کا نهیں لطیف سمجھ والوں کا کام ہے لطیفے کو سمجھنا
بے فضول جو که فضول ناں هو
اردو میں یه لفظ هی نهیں بنتا
لیکن بعد میں کسی انٹرویو میں منو بھائی نے اس تاسف کا اظہار کیا تھا که انہوں نے تو ایک لطیف سا مذاق کیاتھا لیکن معاشرے میں یه لفظ رائج هو گیا ہے
اردو مين بلاگ لکھنے والے یا وکی پیڈیا پر علمی کام کرنے والے لوگ بھی اب اس پوزیشن میں هیں که الفاظ کو رائج کرسکیں
لیکن سب سے پہلے تو ان لکھنے والوں کو احساس هونا چاھیے که یه کر کیا رہے هیں
ایک بلاگ لکھنے والے کا مقصد کومنٹ کا انتظار نهیں هونا چاھیے
بلکه یه سوج هونی چاھیے که انے والے زمانوں کے لوگ اپ کی تحریر پڑھ کر کیا سوچیں گے
جیسے که یه لوگ کیا کھاتے تھے کیا پہنتے تھے
ان کے عمرانی رویے کیا ھے
کن چیزوں پر ھنستےتھے اور کن پر مذمت یا پھر کڑتے تھے
وغیرھ وغیرھ
اگر کومنٹ کا حصول هی هو تو متنازعه موضوعات پر لکھيں
بدنام جو هوں گے تو کیا نام ناں هو گا
بد بن کے نام پیدا کرنا اسانی پسند لوگوںکا کام ہے اور مزے کی بات ہے که ان کو جب اس بات کا احساس هوتا ہے که یه راھ تو کانٹوں بھری ہے تو اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا هوتا ہے
میںاس دفعه جب دوبارھ جاپان ایا هوں تو دیکھا که لوگوں نے اکروں کو سکریپ کرنے کے کارخانے لگا لیے هیں جس کو سب لوگ کھائیتائی کہتے هیں کیونکه جاپانی میں یه لفظ رائج هے
اور یا پھر یارڈ کا لفظ رائج ہے
اور جو لوگ صرف گاڑیوں کی خرید فروخت کرتے هیں وه اپنی جگه کے لیے لفظ استعمال کرتے هیں پارکنگ
جاپان میں پاکستانی لوگ امیر تو هیں لیکن اھل علم نهیں هیں
لیکن زیادھ تر خود کو عقل کل سمجھتے هیں
سمجھیں بھی کیوں ناں جی که ایک بندھ ڈکریاں لے کر سالهاسال سکول جا کر ایم بی اے کرکے بزنس میں آتاهے اور یہان جاپان میں میری طرح کا ایک بندھ انڈر میٹرک گاڑیوں کے کام میں آتا ہے
نوے کی دھائی میں گاڑی مفت مل جاتی تھی جو که افریقه یا لاطینی امریکه جا کر دس هزار ڈالر کی هوتی تھی
هر مہنیے پندرھ بیس گاڑیاں ایکسپوٹ کرنے والا
اور کچھ هی سالوں میں انٹرنیشنل لیول کا بزنس میں بن جاتا هے تو جی
ایسا بندھ هوا ناں جی عقل کل ؟
اب ایسا بندھ ایم بی اے کیے هوئے ڈگری هولڈر کو ملازم رکھ سکتا ہے
تو ایسے عقل کل لوگوں کو ڈیل کرنا بھی بڑا مشکل ہے
خاص طور پر اگر آپ امیر نهیں هیں تو
پچھلے سال میں نے بھی کوئی ادھا ایکڑ زمین کرائے پر لے کر اس میں ورکشاپ سی بنائی اور جس نے بھی پوچھا که کیا کررهے هیں تو میں نے بتایا که ورکشاپ بنا رهاهوں
تو ایک دفعه تو اس نے چونک کر دیکھا اور بہت سے نے دھرایا
ورک شاپ
ان دنوں میں کتنے هی لوگوں سے اپنی اپنی جگه کھائی تائی هو که یارڈ کو ورکشاپ کہنے کا سن رها هوں
بارپی کیو کو هماری بولی میں تکه پارٹی کہا کرتے تھي لیکن میرو جاپان کے پچھلے زمانے میں کیونکه همیں بھی انگریزی کا شوق تھا اس لیے تکه پارٹی کو باربی کیو هی کہا اور یه لفظ کیونکه جاپانی زبان میں بھی رائیج تھا اس لیے سب نے اس کو باربی کیو هی کها
اس دفعه جاپان انے کے بعد بہت سے لوگوں کو تکه پارٹی کرتے دیکھا
اور میں نے تکه پارٹی کا لفظ بولا تو پہلے پہلے تو لوگوں کو اجنبی لگا لیکن اب کچھ دوست باربیکیو کو تکه پارٹی کہنے لگے هیں
جاپان زبان میں بھی کئی الفاط هیں که ان کو پنجابی میں مثال دے کر لوکوں کو اکر بتایا تو وهی ان کی زبان پر چڑھ گیا
میں ان الفاظ کی تفصیل نهیں لکھوں گا کیوں که جاپانی ناں جاننے والوں کے لیے ایسی بات بے مقصد سی هو جائے گي
اس تحریر کا مقصد یه نہیں ہے که میں بہت سیانا هوں بلکه اس کا مقصد یه بتانا ہے که هماری قوم کا اپنی زبانوں کا زخیرھ الفاظ بھی کم هوتا جارها ہے
اکر کوئی شخص خوش قسمتی سے ایسے ماحول میں پلا بڑھا ہے که جہاں پشتو پنجابی ،سندھی سرائیکی یا بلوچی کے الفاظکو سمجھنے کا موقع ملا ہے تو ایسے بندے کو باھر نکل کر احساس هوتا ہے که پاکستان کے لوگوں کا زخیرھ الفاظ گھٹتا جارها هے

ہفتہ، 28 ستمبر، 2013

میرے ہم جنس


کند ہم جنس باہم جنس پرواز ۔ چڑی بہ چڑی باز بہ باز۔
فارسی کے اس مقولہ کا سوا ستیاناس کیا ہے جی
ورنہ دوسرا حصہ ہے
کبوتر بہ کبوتر ، باز بہ باز
جنس " کا لفظ میں نے پہلی بار اپنے بچپن میں ، اپنے دادا جی کے منہ سے سنا تھا۔"
انہوں نے یہ لفظ گندم کی جنس کے متعلق کہا تھا۔
وڈانک نام کی گندم کی زندگی کے اخری سالوں کی بات ہے جب امریکی گندم نئی نئی پاکستان میں آئی تھی۔
وڈانک کے پودے اتنے بڑے ہوتے تھے کہ کھڑا ہوا آدمی ان میں نظر نہیں اتا تھا
وڈانک سے بھوسا زیادہ اور دانے کم نکلتے تھے۔
اور امریکی گندم کا بوٹا چھوٹے قد کا ہوتا ہے
یعنی کہ بھوسا کم اور دانے زیادہ۔
بھوسا کم ہو ا تو جانوروں کا کھانا کم ہوا اور انسانوں کا کھانا زیادہ ہوا۔
اگر کوئی لائی مخلوق یا عمارے جانور بولنے کے قابل ہو تا ہم انسانوں کو انسانوں کا ہم جنس کہیں گے
کہ جیسا ہم ان جانوروں کو ان کی جس کی وجہ سے ہم جنس کہتے ہیں ،۔
کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز
گندم کی جنسوں کا دادا جی سے بچپن میں سنا ہوا ہے کہ
میں جنس کے لفظ کو کسی چیز کی " قسم" کے طور پر ہی لیتا ہوں۔
جسن کا انگریزی ترجمعہ سیکس ، تو لفظوں  کی معونیت ہی بدل دیتا ہے
ایک لطیفہ
کہ
سکول سے واپس آئی چھ سات سالہ بچی نے ماں سے پوچھا کہ
ماما وٹ از دا سیکس؟
ترقی یافتہ قوم کی ماں نے سوچا کہ بچی سکول جاتی ہے اس کو ان باتوں کا علم ہو ہی جانا ہے اس لئے بچی کو حقیت بتا دینی چاہیے اس لئے ماں نے اس کو بتایا کہ
وہ عمل جو میں نے اور تمہارے پاپا نے کیا تھا تو تمہاری ولادت ہوئی تھی!!!۔
بچی کا منہ بن گیا اور روہنسائی سی ہو کر اس نے ایک فارم ماں کو دیکھایا کہ تیچر نے یہ فل کرکے لانے کا کہا تھا
اس میں ایک چھوٹا سا خانہ سیکس کا بھی ہے
اب اتنی لمبی بات میں اس چھوٹے سے خانے میں کیسے لکھوں گی؟
اس لئے
جسن کے لفظ کو اگر جنس کے ہی معنوں میں لیا جائے تو جی ہو چیز کی کوئی جنس ہوتی ہے
انسان انسان کے ہم جنس ہوتے ہیں تو کبوتر کبوتر کے ہم جنس!!۔
میں جو کہ اردو کا ایک بلاگر ہوں !!!۔
میرے ہم عصر دوسرے اردو بلاگر میرے م جنس بھی ہوئے
اور میں ان سب کو پسند بھی کرتا ہوں ۔
لیکن اس کا مطلب وہ والی ہم جنس پرستی نہیں ہو گا۔
جس کو انگریزی سے ترجمعہ کرتے ہیں ۔
قارئین اگر اپ میرے ہم جنسی کی ڈیفینیشنز کو قبول کر لیں تو؟
خاور بھی ایک ہم جنس پسند بندہ ہے جو کہ اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر رہتا  ہے
اردو کی بلاگنک کیا ہے ؟
کیا اپ کو علم ہے کہ اردو کی انٹر نیٹ کی دنیا میں بہت سے لوگ ایک نیا ادب لکھ رہے ہیں ۔
اور بغیر کسی لالچ کے لکھ رہے ہیں ۔
ان کے لکھے کو اپ اخباروں میں لکھنے والے پیشہ وروں میں سے کسی بھی تقابل کر کے دیکھ لیں
کوئی فرق نظر نہیں ائے گا
اگر کوئی فرق نظر بھی ائے گا تو یہ
کہ
ایک بندہ پیسے لے کر لکھتا ہے اور پیسے کی گرمی سے پر اعتماد ہے اور دوسرا بندہ ( بلاگر) بے لاگ لکھ رہا ہے
اس لئے بلاگر کے لکھے میں ہمکار نہیں ہے
 مندجہ ذیل لنک پر کلک کر کے دیکھیں کہ
http://urdu.gmkhawar.net/
اردو میں بلاگ لکھنے والے کیسا لکھ رہے ہیں ؟
میں فرداً فرداً سب کے نام لکھ کر اپ کا وقت برباد نہیں کروں گا لیکن خود سے دیکھیں کہ اردو کی ایک عجب دنیا بسائی ہوئے ہے انہون نے!!۔
کیا اپ اس دنیا سے واقف ہیں ؟
تو پھر اپ میڈیا کے ذہنی غلام بنتے چلے جائیں گے۔
میڈیا کی ذہنی غلامی سے بچنا ہے تو
ان ازاد لکھنے والوں کو بھی پڑھیں
اپ اردو کے سب رنگ کی لسٹ پر نظر روڑاہیں
اور پھر ساتھ میں اجاگر تحاریر کو پڑہیں ۔
اپ کو ایکٹو بلاگر اور سست بلاگر نظر آئیں گے۔
اپ نے خود اس بات کا اندازہ کرنا ہے کہ کس کے علم سے اپ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
اردو کے سب رنگ کوئی ایک سائیٹ نہیں ہے بلکہ ڈیڑھ سو بلاگروں کے ڈیڑہ سو سائیٹوں کا مجموعہ ہے، جہاں سے اپ ان سب کی سائٹوں ایکسس کرتے ہیں ۔
یہاں اپ کو بلاگ بنانے کی مدد کرنے والے بھی مل جائیں گے اور ان بلاگروں کی محفلیں جمانے والے بھی مل جائیں گے
آئیں
اگر اپ اس بلاگ تک پہنچ ہی گئے ہیں تو
اج سے
اردو کے بلاگورں سے تعارف حاصل کریں ۔
کہ انتر نیٹ صرف چند اخباروں کی سائیٹوں کا ہی نام نہیں ہے
بلکہ
سوشل میڈیا تو ہیں ہی یہ بلاگر!!۔
http://khawarking.blogspot.jp/2012/10/blog-post_21.html
یہ ہے سوشل میڈیا۔

جمعہ، 27 ستمبر، 2013

ہم جنس لوگ اور مذاہب

قدیم یونانیوں میں سے کسی نے لکھا تھا کہ
انسانی جسم کی ساحت اس طرح نہیں تھی جیسی کہ اج ہے
بلکہ انسان ایک گول بیضوی شکل کی کوئی چیز تھے ۔
جو کہ اپنی جگہ  مکمل جنس تھے
دیوتاؤں نے ان کو علیحدہ کر دیا ، جو کی وجہ سے یہ دو جسم  ، عورت اور مرد  بن گئے ۔
لیکن کچھ جسم ایسے بھی تھے جو دو ہو کر بھی جنس مخالف نہیں بلکہ  اپنی ہی جنس میں رہے ۔
کہ  مرد سے مرد اور عورت سے عورت۔
انسان کو جو جنس کی اشتہا ہوتی ہے یہ چیز اصل میں اپنے جسم کے دوسرے حصے کی تلاش ہوتی ہے ۔
کہ وصل کے دوران انسان بار بار اپنی اسی ساخت کی تکرار کرتا ہے جس میں دیوتاؤں  کے علیحدہ کرنے سے پہلے تھا ۔
دوسری قسم کے لوگوں میں بہت زیادہ ذہانت اور فن کاری بھی ذکر ملتا ہے ۔
دنیا کی کسی بھی معاشرت میں ہم جنس پرستی موجود ہوتی ہے جو کہ قدیم یونانیون کی اس  ناقابل ہضم فلسفے سے میل کھاتی ہے۔
لیکن دوسری طرف ،دنیا کے سبھی مذاہب ہم جنس پرستی کی مخالفت کرتے ہیں ۔
کیوں؟
کیونکہ مذاہب ، معاشرت میں سدہار اور استوار چاہتے ہیں ،
موجود انتشار کو جائز طریقے سے استوار کی شکل دیتے ہیں ۔
نسل انسانی کی بقا کی ہم سب کی بقا ہے اور اس بقا کا کوڈ اس بات میں ہے کہ انسان اپنے جیسے انسان پیدا کریں ۔
جو کہ جس مخالف کے ملاپ سے ہی ممکن ہے۔
قدیم مذاہب میں ترک دینا کا رواج پایا جاتا ہے
جو کہ جدید مزہب میں بھی سرایت کرتا چلا گیا
لیکن مجموعی طور پر معاشروں نے ایسے لوگوں جس بھی روپ میں عزت دی اس کے پیچھے جذبہ ترحم ضرور رہا ۔
لیکن ہم جنس پرستی کی کسی بھی مذہب نے تائد نہیں کی۔
لیکن کیا مذاہب کی مخالفت سے یا کہ پاکستان کے زیادہ ہی مذہبی معاشرے میں ہم جنس پرستی نہیں پائی جاتی؟
میرے خیال میں پاکستان میں تعلیم کی ضرورت ہے، تعلیم کی ، نہ کہ تعلیم کے نام پر مغالطوں اور مبالغوں کی!!۔
میں اپنی ایک پرانی پوسٹ کا لنک دیتا ہوں کہ
http://khawarking.blogspot.jp/2009/10/blog-post_05.html
یہاں دیکھیں  کہ چار سال پہلے لکھی اس پوسٹ میں میرا لہجہ کچھ زیادہ ہی تلخ اور اجڈ ہے لیکن امید ہے اپ لوگ پرداشت کرئیں گے

اور سات سال پہلے لکھی گئی یہ تحریر
http://khawarking.blogspot.jp/2006/12/blog-post_15.html

سوموار، 23 ستمبر، 2013

دانش علم اور عقل

جاپان میں ایک سیاسی جماعت کے عہدے دار ہیں جی اعجاز رفیق صاحب ۔
ایک دن انہوں نے سوال جڑ دیا کہ
خاور صاحب دانش ور ، اور ادیب میں کیا فرق ہے؟
اعجاز رفیق کو تو میں نے اس جواب پر ٹرخا دیا کہ
دانش ور وہ ہوتا ہے  ، جس کے پاس دانش ہو
اور ادیب وہ ہوتا ہے ہے جو ادب لکھے۔
لیکن اج بات کرتے ہیں کچھ
دانش پر ، عقل پر اور علم پر
کہ
عقل مند وہ ہوتا ہے جو
موجود اور رائج کی سمجھ رکھتا ہو اور اس علم سمجھ سے فائدے اٹھاتا ہو ۔
 عقل مند اپنی زندگی کو مطمعن بناتا ہے ، موجود اور رائج  کاروباری معاملات معاشرتی معاملات کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرکے۔

دانش ور وہ ہوتا ہے 
جو موجود اور رائج کی کی سمجھ بھی رکھتا ہو اور اس موجود اور رائج سے مطعمن بھی نہ ہو۔
دانش ور کی سوچ میں ایک اضطراب ہوتا ہے ۔
دانش ور کا یہ اضطراب اس کو مسلسل ، موجود اور رائج چیزوں میں بہتری لانے پر مضطرب رکھتا ہے!۔
حتی کہ دانش مند ایک عقل مند کی عقل کو بھی بدلنا چاہتا ہے۔
عالم علم رکھتا ہے
اس کی مثال اس طرح دیتے ہیں کہ
عالم علم رکھتا ہے کہ
سچ ، معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے ایک ضروری چیز ہے
اور جھوٹ ، معاشرے کے لئے زہر ہے۔
عالم صرف اس چیز کا علم رکھتا ہے
لیکن عقل مند اس چیز کو سمجھتا ہے اور سچ کو اپنا لیتا ہے
اور جھوٹ کو چھوڑ دیتا ہے
لیکن دانش ور
اس بات کا بھی ادراک رکھتا ہے کہ  سچ اور جھوٹ کی سرحدیں کہاں ملتی ہیں ۔
سچ کہاں تک سچ ہے اور اس سچ اس سے بھی زیادہ کیسے خالص کیا جائے کہ سچ کا  امرت معاشرے کی جڑوں تک اتر جائے کہ سچ کا ثمر نسلوں تک جائے
اور جھوٹ کے زہر کو کیا کیا جائے کہ جھوٹ کو کونے میں لگا دیا جائے۔
جھوٹ سے نفرت پیدا کی جائے کہ جھوٹ کے نقصانات سے اگاہی ؟
اسی اضطراب کا نام ہے دانش!!۔
زندگی کی حقیقتوں اور صداقتوں کے ساتھ ساتھ زندگی کی قباحتوں اور کراہتوں کی سمجھ رکھنا ہی عقل مندی  نہیں ، بلکہ ان چیزوں کو اور اپنی ضرورتوں کو سمجھ کر، مفید کو اپنانا اور مضر کو چھوڑنا عقل مندی ہے۔
لیکن دانش ان سے بھی اوپر کی چیز ہے کہ مضر سے اجتناب تو کرتی ہی ہے لیکن مفید سے بھی اضطراب مں مبتلا ہوتی ہے کہ ، مفید کو مفید تر کیسے بنایا جائے ۔
عقل اور آگاہی زندگانی کے بند دروازے کھولتی ہے
اور عقل ؟
مال بنانے اور املاک پر قبضہ کرنے کو تنہائی کا علاج بتاتی ہے یا پھر دوسروں سے تعلق کو !۔
لیکن لوگوں کی صحبت ایک حد کے بعد ناقابل اعتبار ہو جاتی ہے اس لئے لوگ مال اور جائیداتوں کی صحبت میں جا بیٹھتے ہیں ،
یا پھر کتابوں کی دوستی میں غرق ہو جاتے ہیں
اور کچھ ناقص عقل والے میکدے کا رخ کرتے ہیں  ۔
لیکن دانش
زندگانی کے وہ راگ بھی سناتی ہے کہ جو عقل کی پرواز سے بہت وراء ہوتے ہیں ۔
دھوپ کی تپش میں سورج کا دیپک راگ، محسوس کرتے ہیں توپھولوں کی مہک اور رنگوں میں درختوں کو ملہار گاتے دیکھتے ہیں ۔
چٹانوں کے چٹکنے اور بجنے میں تلنک راگ اور جھیل کی لہروں میں کیدار کو سنتے بھی ہیں ، پہاڑوں کا پہاڑی راگ سننے دیکھنے اور محسوس کرنےکو دانش درکار ہوتی ہے
اور دانش ، آتی ہے اضطراب سے!!!۔
کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ ترے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

جمعہ، 13 ستمبر، 2013

فیس بک اور خاور کھوکھر

میں فیس بک پر کیوں ہوں ؟؟
اس لئے کہ فیس بک نے میرا اکاؤنٹ بنا کر مجھے میل کرنا شروع کر دیا تھا!!!۔
جب فیس بک نئی نئی آئی تو ، میں اس کو جوائین کرنے سے ہچکچتا رہا
لیکن پھر میلیں انی شروع ہو گئیں کہ فلاں بندہ اپ کا فیس بک پر انتظار کر رہا ہے
فلاں بندہ یہ کر رہا ہے فلاں وہ کر رہا ہے
حالنکہ میں نے فیس بک کا اکاؤنٹ بنایا ہی نہی تھا
اس لئے میں ایسی میلوں کو "سپام" میلیں سمجھتا رہا ۔
اس لئے میں  نے ان میلوں کو اگنور کرتے ہوئے اپنا اکاؤنٹ بنانا چاہا تو؟
فیس بک نے بتایا کہ اپ کے اس ای میل ایڈریس پر اکاؤنٹ بن چکا ہے ۔
"لوسٹ پاسورڈ" پر جا کر  پاسورڈ منگوایا
تو
علم ہوا کہ ای میل سے ملتا جلتا کسی فی میل کا اکاؤنٹ بن چکا ہے
جس کی انفارمیشن کا  کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے میرا نام " مصطفٰے خاور" بن گیا۔
جس کو بدلنے کی کئی کوششیں کی لیکن میں اپنی سی کوشش کے باوجود بھی اس نام کو خاور کھوکھر نہیں کر سکا۔
قصہ مختصر کہ فیس بک کے اکاؤنٹ بنا بنا کر بانٹنے  کی اس ادا نے فیس بک کو گھر گھر پہنچا دیا ہے
ورنہ فیس بک سے پہلے کی کسی بھی سائٹ پر اکاؤنٹ بنانا  ، ایک پروجیکٹ ہوا کرتا تھا، اسان یا مشکل ، لیکن یہ کام خود ہی کرنا پڑتا تھا ۔
اب جب اکاؤنٹ بن ہی گیا تو میں نے بھی پہلے پہلے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ اور اب کھل کر فیس بک  کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بات یہان تک پہنچ چکی ہے کہ
دھڑا دھڑ پیج بن رہے ہیں ، جس بندے کو تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ ہے وہ ایک نیا پیج بنا دیا ہے
لیکن
اس بات کی سمجھ بوجھ والے لوگ کم ہی ہیں کہ
جس پیج کے ممبر ہیں اس پیج پر دوسروں کے ساتھ مل کر چل سکیں ۔
پاکستانی قوم کی سب سے بڑی خامی جو کہ میری نظر میں ہے
وہ ہے
اجتماعی زندگی کا شعور نہ ہونا۔
ہمیں تعلیم ہی یہ دی گئی ہے ، میں اور تو، میرا اور تیرا، میں اور میرے دشمن، اونچ اور نیچ۔
 عمل کے ردعمل کی تعلیم ہے
اور عمل  ہم نہیں دوسرے کرتے ہیں
ہم صرف ردعمل کرتے ہیں ۔
اور پھر ہم اس پیج کو چھوڑ دیتے ہیں اور اسی وقت دوسرار پیج بنا کر اس کے ایڈمن بن جاتے ہیں ۔
لیکن
جس طرح مجھے اجتماعی زندگی کا شعور نہیں ہے اسی طرح میرے اردگرد کے لوگوں کو بھی اجتماعی زندگی کا شعور نہیں
تو
جب میں کسی کے ساتھ مل کر نہیں چل سکا تو " کوئی " میرے ساتھ کیسے چلے گا؟
یہاں جاپان میں ، راشد صمد خان نے  ایک پیج بنایا ہے جس کا نام ہے ۔
Pakistani in Japan.
راشد نے اس پیج میں مجھے بھی شامل کیا۔
میں جو کہ اپنی ہی وال پر لکھتا ہوں ، کمیونٹی میں اپنی پہچان کے لئے اس پیج کی وال پر بھی اپنی لکھی ہوئی چیزوں کو " شئیر" کرنے لگا۔
اپنے بڑے محترم دوست ہیں شاہد رضا چوہدری صاحب !جو کہ ہمارے پریس کلب کے صدر بھی ہیں ، انہوں نے گروپ کو جوائین کیا
اور بقول شخصے اس کو پوسٹوں کے جلاب لگ گئے ۔
راشد نے اس کو گروپ سے بین کر دیا
چوہدری صاحب نے اسی دن دوسرا گروپ بنا  لیا
اور گروپ کا نام بھی وہی رکھ لیا۔
یہ ایک مثال ہے
اسی طرح کے کام دوسرے بھی کریں گے
اور کچھ لوگوں نے سٹارٹ بھی  لے لیا ہے ۔
جہاں تک میرا تعلق ہے
میں اس گروپ کے ساتھ اس وقت تک چلوں گا
جب تک کہ اس گروپ میرے علاوہ کوئی بھی دیگر افراد شامل ہیں ۔
نہ تو مجھے کوئی اور گروپ بنانے کی ضرورت ہے
اور نہ ہی ایسا کرنا ضروری ہے۔
میں نے کمیونٹی کے لئے مثالیں قائم کرنی ہیں ۔
جیسے کہ روز نامہ اخبار جاپان کا قیام ۔
http://gmkhawar.net/
یہاں میں  بغیر اشتہاروں کے لالچ کے ایک مثال قائم کی ہے کہ
اس وقت جاپان سے متعلق خبروں کی اردو زبان میں اس سائٹ سے بڑی سائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں نہیں ہے ۔
دوسری مثال  پاکستانی ان جاپان میں رواداری اور برد باری ، اور غیر جانبداری کے ساتھ باہمی دلچسپی کی باتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش ۔
اس گروپ میں شامل دوست لوگوں کو میں کہوں گا
کہ
اجتماعی زندگی کا شعور حاصل کریں ، ہم جاپان میں ہیں اور جاپانی قوم میں اجتماعی زندگی کا شعور دنیا کی کی بھی قوم سے زیادہ ہے۔
تو کیوں نہ اس قوم سے یہ چیز بھی حاصل کر لیں ، جہاں ہم نے اس قوم سے دولت اور مال حاصل کیا ہے ۔
یاد رکھیں کہ اگر اپ ایک گرپ کو ، انجمن کو ، محفل کو چھوڑکر چلے جاتے ہیں
تو یہ اپ کی ہار ہے
کہ اب آپ " اِن" کے لئے مر چکے ہیں ۔
باقی  جہاں تک بات ہے خود نمائی کرنے والوں کی!۔
تو سر جی اس کا ایک ہی حل ہے
کیا
نرگیست کے ماروں کو نظر انداز کرنا ان کی سب سے بڑی سزا ہوتی ہے۔
ایک لطیفہ سناؤں آپ کو ؟؟
۔
۔
۔
 وال پر نظر رکھیں !۔
لطیفے بہت ، بلکہ میں تو شعر بھی لکھوں  گا۔

جمعہ، 23 اگست، 2013

مامور فرشتے

وہ جو میرے حفاظت پر مامور ہے
وہ
دہشت  گردوں پر صرف نظر رکھتا ہے ۔
وہ جو میری سرحدوں کا محافظ ہے
وہ
ڈورون حملہ آوروں کا سٹریجک پارٹنر ہے ۔
جی ہاں میں اسی کی بات کر رہا ہوں جو
خود نمائی میں یکتا ہے
اور میرے لوگوں کو غائب کر کے ان کو مار دیتا ہے
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130822_karachi_dead_bodies_rh.shtml
وہ جو میری حفاظت پر مامور ہے ۔
دشمن کے حملے میں تباھ ہوجانے والے کسی شہر  کی کسی  گر نہ سکنے والی چمنی پر بیٹھے
اس چیل کی طرح میری حفاظت کا فریضہ انجام دے رہا ہے
جس کی نظر مردار پر ہے کہ
رقبوں اور پلاٹوں پر ؟
وہ جو میری عزتوں کے تحفظ کے دعوے کرتا ہے
وہ
شہوت کی سپلائی میں مصروف ہے۔
ہاں جی ہاں وہ فرشتہ ہے
میں ہی "کملا " ہوئے جا رہا ہوں ۔
وہ جو میری حفاظت پر مامور ہے
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!۔

بدھ، 21 اگست، 2013

میری یادوں اور خوابوں کا پاکستان


میرے خوابوں کا پاکستان ، میں یہ نہیں لکھوں  گا کہ میں نے پاکستان کو کیسا بننے کا خواب دیکھا
میں کون سا علامہ اقبال ہوں کہ مستقبل کے خواب اور وہ بھی پاکستان کے مستقبل کے دیکھوں ۔
میرے خوابوں کا پاکستان  ہے ، میری یادوں کا پاکستان ۔
پاکستان ہمارے پیدائش سے پہلے بن چکا تھا۔
بڑے سہانے دن تھے جب ہم نے ہوش سنبھالا۔
اکہتر کی جنگ کی یادیں اتنی ہیں کہ ایک جہاز آتا تھا اور تڑ تڑ کرتی گولیاں برساتا نکل جاتا تھا۔
گولیاں کدھر جاتی تھیں اس کی سمجھ نہیں لگتی تھی۔
یا کہ اس جہاز پر مشین گن سے ہونے والی فائرنگ کی ٹر تڑ ہوتی تھی۔
لوگ بھالے تماشا دیکھنے کے لئے چھتوں پر چڑہے ہوتے تھے۔
ساتھ کے گاؤں کو جاتی کچی سڑک میں پانی کھڑا ہوا تھا جہاں کہ پانی والی بوٹی اگ آئی تھی۔
اس خشک ہوتی بوٹی پر پاک فوج کی مشین گن لگی تھی جو کہ میں اپنے یار یوسی ( یوسف لوہار) کے ساتھ دیکھنے گیا تھا۔
ہمیشہ کی طرح کاکا بجلی والا بھی ساتھ ہی تھا شامل باجے کی طرح۔
اس زمانے کی ساتھ کے دیہاتوں کو جاتی کچی سڑکیں  ، سڑکیں کم اور خشک کھال سے ہوا کرتے تھے۔
ہمارے گاؤں کے شمال کی طرف کی سڑک جس کو پنجابی میں "پہے یا پیاہ" کہتے ہیں ۔یہ بھی ایک کھال ہی کی طرح کا ہوتا تھا ، جس میں گاؤں کا بارش کا پانی بہ کر آوے(مٹی نکال کر بنے گڑھے) تک جاتا تھا ۔
جنوب کی طرف کا  پیاہ بھی اسی طرح تھا۔
اور ایک پیاہ ہوتا تھا ملک والے والا، ملک والا تھا تو ایک کنویں والا ڈیرہ  لیکن اس کے نام پر اس  پیاہ کو بلایا جاتا تھا ۔
یہ پیاہ بڑا اہم تھا کہ جب بھی اگست کا سیلاب اتا تھا تو گاؤں کے شمال اور شمال مشرق کی طرف سے پانی کے ریلے اتے تھے ،جو کہ کمہاروں کی حویلیوں کو پانی پانی کر جاتے تھے ۔
اور یہ پانی بہتا ہوا ملک والے پیاہ میں سے گزر کر سائفن تک جاتا تھا اور سائفن کو پار کرکے اپنی اگے کی منزلوں کی طرف رخ کرتا تھا۔
پھر ہم نے دیکھا کہ پیاہ ، سڑکیں بننے لگے سڑک بنانے کے لئے پہلے ان پیاہ کو مٹی ڈال کر اونچا کیا گیا۔
جس سے مکان نیچے ہو گئے
مکانوں کے پانی سے سڑک ٹوٹ گئی۔

ملک کی سیاست اور حکمرانوں نے ہم ہر احسان کر کے سڑک دوبارہ بنا دی
لیکن وہ پلیان جو جو پیاہ اور سڑکوں کے نیچے سے پانی کی گزرگاھ کے طور  پر انگریز نے بنا کر دی تھیں وہ ختم کر دی ۔
یا کہ پلیان بنانے جیسے کمتر کام کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔
اور اب یہ حال ہے کہ بقول شخصے جب انڈیا پانی چھوڑتا ہے 
تو
گاؤں کے گاؤں دیہات پانی میں ڈوبے ہوتے ہیں 
اور لوگ بھالے سڑک کر توڑ کر پانی کا راستہ بنا رہے ہوتے ہیں 
اور 
گاؤں میں سے کسی کسی کو یاد بھی ہوتا ہے کہ یہاں ہی تو وہ پلی تھی جس میں سے پانی گزرتا تھا سیلاب کے دنوں میں ۔
اور عام دنوں میں لڑکے کھیلا کرتے تھے ان پلیوں کے نیچے ۔
میری یادوں کے  پاکستان میں لڑکے پلیوں کے نیچے سے گزرنے کا کھیل یا انکھ مچولی میں چھپنے  کا کھیل کھیلا کرتے تھے۔
لیکن 
اب اگر کہیں کوئی پلی ہے تو
لڑکے اس میں بندوقیں لے کر چھپ کر بیٹھے ہوتے ہیں 
اور رات کو شہر سے واپس انے والے مسافروں کی جیبیں  خالی کرواتے ہیں ۔
بھٹی بھنگو سے نندی پور جانے والی پلی ہو کہ میانوالی بنگلا کی نہر کی راجباہوں پر بنی ہوئی پلیاں ہوں ۔
سیلاب کے پانی کے کام تو کم ہی اتی ہیں 
ہاں بہادر لڑکوں کو کارنامے دیکھانے کے مورچے کے طور تو کام اتی ہی ہیں ۔
ہمارے بچپن کا زمانہ تھا کہ کہیں کہیں کسی چور کا سنتے تھے کہ فلاں بندہ جو ہے وہ چور ہے
اور علاقے کے سبھی لوگ اور تھانے والے بھی اس کو جانتے ہوتے تھے۔
گھروں کے درمیاں چھوٹی چھوٹی سی دیواریں ہوتی تھیں۔ جس نے پڑوسی ناں صرف جھانکتے تھے بلکہ پڑوسیوں کی زندگیوں میں دخیل ہوتے تھے۔
لیکن کوئی اس دخل اندازی کو مداخلت نہیں محسوس کرتا تھا۔
پھر دیواریں اونچی ہوتی گئیں ، پرائویسی بڑہتی گئی اور معاشرے سے برداشت کا مادہ ہی ختم ہوتا چلا گیا۔
گرمیوں کی راتوں میں چھت پر سونا یا پھر گلی میں نکل کر چارپائی بچھا لینا عام سی بات تھی ۔
باہر ، تہمند باندھے چارپائی پر سوئے بندےکے ساتھ ایسی واردات ہو جاتی تھی کہ اس کا تہمند کھول کر پائنتی پر ڈال کر کوئی شرارت کر جاتا تھا
تہجد کی نماز کے لئے گزرنے والا کوئی بابا ، اس کو جگا کر " نگیز" ڈھانپنے کا کہتا تھا۔
بڑی شرمندگی ہوتی تھی اس واردات کے "وکٹم" کو کہ فارغ لوگوں کو کوئی کام بھی تو نہیں ہوتا تھا ناں 
ایسی باتوں کو مذاق بنا کر انجوائے کرنے کے علاوہ ۔
شاہراہ عام پر سوئے کسی بندے کو یہ دھڑکا نہیں ہوتا تھا کہ کوئی سوتے میں قتل کر جائے گا یا کہ جیب خالی کر کے لے جائے گا ۔
پھر وہ مشہور زمانہ واردات ہوئیں 
جن کو ہمارے زمانے کے لوگ ہتھوڑا گروپ کی وارداتوں کے نام سے جانتے ہیں ۔
سوتے میں سر پر ہتوڑا مار کر کئی قتل ہوئے ، 
اور چارپائیاں دیواروں کے اندر چلی گئیں۔
گرمیوں کی راتوں میں کھیلتے کھیلتے ساتھ کے گاؤں تک چلے جانا کوئی خاص بات نہیں تھی۔
کسی کو بھی اس بات کا خطرہ نہیں ہوتا تھا کہ  کہیں ڈاکؤں کا " ناکہ" لگا ہو گا ۔
ہاں ڈر ہوتا تھا تو کیڑے مکوڑے کا کہ سانپ گرمیوں ہی میں نکلتے ہیں ۔ 
لیکن رات کو سانپ کے ڈسے کی موت کا میں نے تو اپنے علاقے میں سنا نہیں ۔ 
ہاں لیکن ایسا گر کہیں ہوا بھی ہو تو عجب نہیں ۔
تربوز اور خربوزے کے کھیتوں میں چوری  کرتے لڑکے اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ اتنا ہی مال توڑا جائے کہ جتنا کھا لیں ۔
ناں کہ اجاڑ ڈالیں ۔
اور باڑے کے رکھوالوں کو بھی علم ہوتاتھا کہ کس کس کے بچے اج تربوز یا خربوزے کھا کر گئے ہیں ۔
باڑے کا رکھوالا ، للکارا مارا تھا
کون او تسی!!۔
اور لڑکے بھاگ  جاتے تھے۔
اگلے دن ان لڑکوں کے والدین اطلاع مل جاتی تھی اور " پنشمنٹ " لڑکے کے ابا جی کر لیا کرتے تھے ۔
باڑےکے رکھوالے کو بندوق کے زور پر باندہ کر خربوزے کھانے کا رواج تو بہت بعد میں ایا تھا جی ۔

ہفتہ، 17 اگست، 2013

فوٹواں اور یاداں



یہ فوٹو مجھے ماضی کی یادوں کے ایک سیلاب میں غرق کر گئی ۔ چالیس سال گزر گئے ۔
چہروں پر عمر رفتہ کے ظالم ناخنوں کی خراشیں ہیں ۔ اور سروں میں خواری کی دھول کی سفیدی نظر اتی ہے
اور جس کے بال سفید نہیں ہیں ،
اس کالک میں بدنامیوں کی کالک لگی کالک جھلکتی ہے۔
قبرستان کے ساتھ چوکھنڈیاں بنی ہیں ۔
کسی پیر فیملی کی یاد میں ہاڑ کے مہینے کی آٹھارہ کو میلا بھی لگتا ہے ۔
لیکن یہیں میرا پرائمری سکول بھی ہے ۔
اب شائد سکول محدود ہو گیا ہے
لیکن میرے بچپن میں یہ سکول جہاں چھاؤں دیکھی ، وہیں جماعت بیٹھا دیتے تھے اساتذہ کرام ۔
انیس سو ستر سے انیس سو پچھتر تک میں اسی سکول میں پڑھتا تھا ۔
ماسٹر اقبال صاحب اور ماسٹر لطیف صاحب باورے والے مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہیں اور کچھ اساتذہ کے دھندلے نقوش۔
IMG_0295قبروں کا مجاور ہوتا تھا ، سائیں غفور جو کہ سانپوں سے کھیلتا تھا۔بدھ کے دن یہ سائیں "پھیری" پر نکلتا تھا۔
ہر گھر کے دروازے پر اس نے ایک مخصوص صدا دینی ہوتی تھی۔
جس صدا میں کوئی التجا نہیں ہوتی تھی کوئی بھیک مانگنے کا تاثر نہیں ہوتا تھا ۔
ہر گھر سے سائیں غفور کو کچھ ناں کچھ مل ہی جاتا تھا۔
یہ "کچھ" نقدی کم اور اناج زیادہ ہوتا تھا۔
میرے دوسری جماعت کے دنوں میں اس سائیں غفور نے شادی بنا لی تھی اور ایک فربہ سے خاتون کو کہیں سے لے ایا تھا۔ جو کہ سائیں کے لئے مخصوص کمرے میں مغربی دیوار کے ساتھ کچھ پردے لگا کر رہنے لگی تھی ۔
لیکن چند ماہ ہی ہوئے کہ یہ خاتون فوت ہو گئی تھی ۔
جس کی قبر ہماری جماعت کے بیٹھنے والے پلاٹ کے بلکل ہی ساتھ بنادی گئی اور سائیں غفور نے اس قبر کو پکا بھی کردیا تھا ۔
مجھے یاد ہے کہ ہم لوگ اس قبر کو بنچ کے طور ہر اور کرسی کے طور پر کہ ایک تھڑے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
پہلے پہل تو سائیں غفور منع کرتا تھا لیکن پھر یہ قبر ہم آزادی سے استعمال کرتے تھے ۔
سائیں ٖغفور کے ساتھ ایک اور کردار کا ذکر ناں کرنا تلونڈی کی تاریخ کے ساتھ بے ایمانی ہو گی۔
وہ کردار تھا منشی گولے یاں والا!!۔
کھوئے والے برف کے گولے بنانے والا منشی ، جو کہ باورے سے ہمارے گاؤں تلونڈی ، برف کے گولے بیچنے آتا تھا۔
منشی اپنا سائیکل کوٹھی کی دیوار کے ساتھ کھڑا کرتا تھا۔
ٹھیک اس جگہ جہاں اب "عبدلہ شاہ غازی " نامی ارشد کھوکھرعرف بلے کا سٹور ہے اس کے دروازے کے سامنے۔
سائیں غفور اور منشی گولیاں والے سگے بھائی تھے۔
سائیں غفور درویش ہو گیا اور دوسرا بھائی اپنا سا کاروبار کرتا تھا ۔
یہاں قبرستان میں جہاں سائیں لوک بھنگ چرس وغیرہ کا شغل کرتے اور ان کے پاس ہی پرائمری سکول کی کلاسیں لگتی تھی ۔
لیکن معاشرے میں ایک توازن پایا جاتا تھا ، بچوں اور بھنگیوں کی حدود متعین تھیں ۔
کیسے؟
میں اج اپنی بچپن کی یادوں کے سہارے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں
اس تحریر میں کچھ بزرگوں کے نام آئیں گے ، یہ وہ لوگ تھے جن کی بنائی ہوئی روایات اور رسوم کی وجہ سے تلونڈی میں نشئی لوگ اور معزز لوگ ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔
جن لوگوں میں اج بزرگ لکھ رہا ہوں ، ہمارے بچپن میں سبھی اپنے زمانے کے جوان تھے۔
لیکن نشے کے خلاف تھے ۔
چوہدری مرید حسین تھانیدار ، چوہدری منظور مرزائی ۔بابا سکندر یہ لوگ اور کئی معزز لوگ تھے جو کہ ان سائیں لوگوں کے پاس ہی بیٹھا کرتے تھے۔
اور یہاں " پاشا" کے کھیل کے میچ ہوا کرتے تھے۔
حقہ کشید کرنے کے شوقین بھی کزرتے ہویئ بیٹھ جایا کرتے تھے ۔
لیکن یہ معزز لوگ کسی بچے کو یہاں ٹھرنے نہیں دیا کرتے تھے
اگر کوئی بچہ کھڑا ہو کر سائیں لوگوں کی ایکٹویٹی کو غور سے دیکھنے لگتا تھا تو
بزرگ لوگ اس بچے کو جھڑک کر دور کردیا کرتے تھے۔
یہ وجوہات تھیں میرے گاؤں کے لوگوں کی نشے سے دور رہنے کی ۔
بہت بعد میں غالبآٓ انیس سو پچانوے میں ، میں اور مظہر سنیارا اور تاری مرزائی یہاں گزر رہے تھے کہ سائیں سلوکی کو آگ دھکاتے دیکھا تو اس کو آگ دیکھانے میں مدد کرنے لگے۔
سائیں سلوکی چائے کا قہوہ بنا رہا تھا۔
جب قہوہ تیار ہو گیا تو اس نے اس قہوے کو المونیم کے ٹیڑھے میڑھے "کول" میں ڈال کر چسکیان لینی شروع کیں
اور دعوت کے انداز میں ہم سے پوچھا کہ " پینی اے"؟؟
تاری مرزائی کا جواب اس کے گھر کی اس کی تربیت کا ایک اعلی ثبوت ہے ۔
تاری نے کہا
کہ اس ڈیرے کا تو سونے کا نوالی بھی ہو تو منہ میں نہیں ڈالنا!!!۔

IMG_0296 IMG_0295 IMG_0301 IMG_0300 IMG_0299 IMG_0298 IMG_0297 IMG_0296 IMG_0295 IMG_0294 IMG_0292

جمعہ، 16 اگست، 2013

چودہ، پندرہ آگست

پندرہ آگست!۔ جاپان میں  شہیدوں کو یاد کرنے کا دن ہے ۔
دوسری جنگ عظیم کے شہیدوں کو فوجی اور غیر فوجی شہیدوں کو یاد  کرتے ہیں ، ۔
جاپان کے شہیدوں کو شہید لکھنے پر  ، اگر کسی " شدید " قسم کے مسلمان کو اعتراض بھی ہو تو ، میں جنگ عظیم دوم میں جان دینے والوں کو شہید ہی لکھوں گا
کہ
جاپانی شہیدوں کی جنگ میں دی  جانے والی جانیں رائگاں نہیں گئیں ۔
یاد رہے کہ جاپان ، دوسری جنگ عظیم میں " جنگ " تو  ہارا تھا "لڑائی " نہیں یارا تھا۔
بہادر جاپانی ہر محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے  ۔
جنگ میں جانیں دینے والوں کو ، یاد کرنے ان کی تربتوں پر اگربتیاں جلانے   جاتے ہیں ، زندہ اقوام اپنے شہیدوں کے مرنے کی وجوہات بھی جانتی ہیں اور شہیدوں کے مقاصد کو بھی یاد رکھتی ہیں ۔
سائبیریا کے جنگی قیدی !۔
وہ جاپانی فوجی جو کہ جنگ ہارنے پر سائبیریا میں روس کے جنگی قیدی  بنے ۔
ان میں سے بہت سے وہ بھی تھے جو زندہ گرفتار ہوئے لیکن کبھی بھی وطن واپس نہیں پہنچ سکے ۔
جو زندہ تھے ان کو وطن واپسی کی لگن تھی ۔
اور جو وطن میں ان کا انتظار کر رہے تھے
وہ
وہ ملک کو اس قابل بنانے میں لگے تھے کہ ملک کے لئے خدمات ادا کرنے کی کوشش میں اذیت میں مبتلا ، جب واپس  آئیں تو ان کو مایوسی ناں ہو ۔
اور جنگ کے خاتمے کے دس سال بعد جاپان ، دنیا کے درجنوں ممالک  کے مقابلے میں ایک پر آسائش اور محفوظ ملک تھا
اور جنگی قیدیوں کے واپس پہنچنے کے بعد کے دس سال میں جاپان ، دنیا میں ایک نام تھا ، معیار کا اعتماد کا نظم  ضبط کا ۔
تقسیم ہند کے دن کو پاکستان میں چودہ آگست اور ہند میں پندرہ آگست کے روز منایا جاتا ہے۔
لیکن اس تقسیم میں شہید ہونے والوں کو کس طرح یاد  کرتے ہیں ؟
ہم لوگ!!!۔
جشن منا کر!!!۔
جن کے لئے پاکستان کا قیام رقبوں پر ، پلاٹوں پر قبضے کرنے کی آزادی کا نام تھا
ان کا جشن منانا بنتا ہے
لیکن
جن کے "لوگ" مارے گئے، جن کی عصمتیں تارتار ہوئیں ، جن کے پیارے بچھڑ گئے؟
ان سے رقبوں اور پلاٹوں والے "سیانوں " نے عقل بھی چھین لی ، علم کے نام پر ان کو مغالطے اور مبالغے پکڑا دئے ۔
ناں نظم ہے اور ناں نظام ناں ہی بجلی ہے اور ناں ہی صاف پانی بنیادی ضروریات زندگی  صرف ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤنوں میں ملتی ہیں ۔
اور جشن مناتے ہیں وھ لوگ جن کے ہاتھوں میں محب وطنی کا " چھنکنا" پکڑا دیا گیا ہے ۔
محب وطنی کے دعوے دار ان لوگوں کے گھروں کی یہ حالت ہے کہ
ان کے گھروں میں  کھانا باہر کے ممالک کی کمائی کا بنتا ہے ، ان کے روٹی کپڑا اور مکان باہر کی کمائی سے ہیں ۔
ان کے جوان باہر کے ویزوں کے لئے ہلکان ہیں ۔
سرحدیں پار کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں ۔
عربوں کے ممالک میں اپنی انا کا اپنی خود داری کا خون کرکے ، خون کے انسو روتے ہیں
اور
دعوے کرتے ہیں محب وطنی کے۔
میرے اپنے لوگ ہیں یہ لوگ جو مغالطے میں مارے جارہے ہیں ۔
اور میں بھی ان میں سے ہوں
لیکن صرف مغالطے میں نہیں ہوں ۔
جاپان میں پناھ گزین "محب وطن پاکستانی "  میں سے کتنے ہیں جو وطن کی محبت میں جاپان کی بے وطنی چھوڑ کر "وطن" میں بسنے چلے جائیں ؟؟
امریکہ میں کتنےپناھ گزین "محب وطن پاکستانی "  میں سے کتنے ہیں جو وطن کی محبت میں امریکہ کی بے وطنی چھوڑ کر "وطن" میں بسنے چلے جائیں ؟؟

دعوے ہیں محب وطنی کے اور مزے کی بات ہے کہ ان کو وطن کی محبت کے معنی بھی نہیں معلوم ہوں گے۔
میرے لئے یہ دن ان شہیدوں کو یاد کرنے کا دن ہے جو ایک سراب کے پیچھے جان دے بیٹھے ،۔
آزادی کے سراب کے پیچھے!!۔
بقول شخصے
منزل ان کو ملی جو شریک سفر ناں تھے ۔
وہ جانیں جو ضائع ہوئیں
وہ قربانیان جو رائگاں گئیں
وہ عصمتیں جو تار ہوئیں ۔
وہ پیارے جو بچھڑ گئے
لاکھوں کے خون رائگاں گئے
وہ سب سراب نکلا ۔
آزادی ، آزادی نہیں غلامی ہی رہی
آقا بدل گئے ۔
امرتا پریتم نے نوحہ لکھا تھا
اج اکھاں وارث شاھ نوں
کتوں قبراں دے وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی نواں ورقا کھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی
توں لخ لخ مارے ویں
اج لکھا دہیاں روندیاں
تینوں وارث شاھ نوں کہن ۔
میرے اندر بھی بھت بڑا دکھ کا ایک پہاڑ ہے
جو اس دن اکیلے میں پانی بن کر انکھون کے راستے
انسو بن کر بہ نکلتا ہے

پھر کہیں کوئی بستی اجڑی
لوگ کیوں جشن منانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

ہفتہ، 10 اگست، 2013

پاک اسلام ، منافق اسلام

پاکستان میں اسلام کی یہ حالت ہو چکی ہے ہے کہ ، اسلام کے ٹھیکیدار "پاکی  عالم" اپنے اپنے ماننے والوں  کو سچ اور صداقت ، امن اور صلح کی تعلیم نہیں دے سکتے ۔
ان لوگوں نے مذہب کے نام پر اپنی اپنی دوکان داریاں بنا رکھی ہیں ۔
عالموں کے علم کے طوفان اتھائے جا رہے ہیں ، مذہبی جذبات پر طغیانیاں ہیں  ۔
لیکن اقوال بزرگاں میں لکھا ہے کہ نماز بے حیائی سے روکتی ہے
تو پاکستان کی نماز لوگوں کو بے حیائی سے نہیں روک سکی ۔
رمضان میں اسلام کی وہ رنگ بازیاں دیکھنے میں آئی ہیں کہ
گلی محلے کے رنگ باز  اسلامی رنگ بازوں سے نظر نہیں ملا سکتے ہیں ۔
گلوکاروں اور اداکاروں کے ٹی وی  پر "رنگ" دیکھنے والے تھے ۔
اسلامی دوکانداریوں میں بھی سب سے زیادہ مضبوط دوکان داری ہے
سید لوگوں کی !!۔ بھیک بھی لیتے ہیں اور احسان بھی کرتے ہیں ۔
اس لئے کاروباری مقابلہ بازی کے اس دور میں  "سید پذیر " لوگ بھی بہت ہیں  ۔
طریقہ کار یا دوکان کیسی بھی ہو  مال بنانا مقصود ہے جی ان  لوگوں کا بل واسطہ یا بلا واسطہ یہ لوگ معیشت کے مارے ہوئے ہیں  ۔
پاکستان بنا کر ہم نے ہندو کے منہ پر تھپڑ مارا
اور اب اس اسلام کے نام نہاد قلعے میں ، پاک اسلام  کی تعلیم کا اثر ہے کہ
عید کے روز بھی کوئٹہ اور کراچی میں یا دیگر ابادیوں میں لاشیوں پر لاشیں گر رہی ہیں  ۔
ہندو جو کہ  مسلمان کو کم عقل سمھتا تھا ، اج پاکستان کی حالت پر قہقہے لگا رہا ہے ۔
کیا پاک لوگ اور پاک فوج  ہندو کو شکست دینے کے لئے ، ہندو کو شرمندہ کرنے کے لئے ، ملک میں امن امان قائم کر کے ملک کی معشیت کو مضبوط کر کے دیکھا سکتے ہیں  ؟؟
انسانوں کی برابری  کے دعوی کرنے والے " منافق اسلام " میں ، سید اور سید پزیر   نسلی اور عظیم  لوگ !!!۔
ایک اللہ ہی کی عبادت کی تبلیغ اور مزاروں سے حاجت روائی ۔
پاکستان کا اسلام منافق ہے !!۔
میں بیزار ہوں ایسے مذہب  سے ۔

بدھ، 7 اگست، 2013

مسائل پاکستان ۔



لکھنے والوں کے لئے پاکستان کا ماحول جتنا زرخیز ہے اتنا ترق یافتہ ممالک کے لوگوں کا نہیں ہے ۔

مسائل  کا انبار ہے ،  کہ جس پر لکھنے والے اگر چاہیں تو لکھ لکھ کر کی بورڈ گھسا دیں 
لیکن 
بد نصیبی کی انتہا ہے کہ لکھنے والوں کو جس دانش کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ دانش عنقا ہے پاکستان میں ۔
فوجی آمریت کے خلاف لکھنا موضوع کے لحاظ سے آسان ہے  ،لیکن زمینی حقائق؟ بندہ غائب شائب ہو جاتا ہے۔ لاش بن کے نمودار ہوتا ہے ۔ میت کی ٹوٹی ہڈیوں کی تفصیل ،بوڑھا بات مرنے والے کے دوستوں کے بتاتا تو ہے، لیکن انسو باپ کی انکھوں میں بھی نہیں ہوتے کہ
زبردست مارے بھی اور رونے بھی ناں دے ۔
یہ غائب شائب ہو کر لاش کی صورت نمودار ہونے والے بڑے سازشی لوگ ہوتے ہیں ، دشمن کے ایجنٹ ہوتے ہیں ، فرشتوں کی بدنامی کی کامیاب سازش کر کے مر جاتے ہیں ۔
اور بد نام ہوتی ہیں سیکورٹی ایجینسیاں ۔
حالنکہ ایجیسیوں کا بھلا اس میں کیا قصور ، موت تو خدا کے ھاتھ ہے اور مرنے کا دن بھی مقرر ہے ۔
استعمار کے خلاف لکھنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے والی بات ہے ۔
بندے نے معاشرے میں رہنا بھی ہے۔
لیکن یارو پہلے تعلیم کی بات کریں کہ
یہ استعمار ہوتا کیا ہے؟؟
پاکستان میں استعمار اور کفر دو ایسی چیزیں ہیں جو مخالف پارٹی اور دوسرے مسلک کے لوگ کرتے ہیں ۔
آمریت ہوتی ہے فوج کی حکومت
اور 
استعمار ہوتا ہے ، جو عوام کے نام پر فرعون بن بیٹھے ۔
نام ہو جمہوریت کا 
لیکن پارٹی کے اندرونی الیکشن کا نام لینے والے کو شر پسند ، احمق ، غدار ، بکا ہوا یا بریف کیا ہوا کا لیبل لگا کر دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے ، یا کہ کسی نامعلوم کی گولی سے مر جائے اور پارٹی لیڈر کو نئے نعرے دے کر جائے ۔
پاکستان میں تعلیم ہی اس طرح کی دی گئی ہے کہ
لوگ معجزوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔
پنجابی فلموں کے ہیرو کی طرح کے کردار کا انتظار ہے جی سیاسی اور حقیقی دنیا میں ۔
برستی گولیوں میں ایک گنڈاسے کے ساتھ دشمنوں کی کشتیوں کے پشتے لگا دے۔
مظلوم کی آواز بغیر کسی لاؤڈ سپیکر کے میلوں دور تک سن  لے اور موٹی موٹی زنجیریں توڑ کر 
دنون کا فاصلہ سیکنڈوں میں طے کرتا ہوا آئے اور ظالموں کو سزا بھی دے اور مظلوم کی اشک شوئی بھی ۔
ڈورون حملوں کو روکنے کی بڑکیں ہیں 
لیکن پھر ان داتا امریکہ کی مار کون کھائے گا؟
بجلی کی کمی بس دور ہوئی ہی جاتی ہے
کیسے کہاں سے کون سی مشین سے ؟
بس جی بڑکاں ای بڑکاں تے 
چمچے ای چمچے ۔
کوئی کسی کس چمچہ اور کوئی کسی کا
اور ہیڈ چمچہ ہوگا فرشتوں کا چمچہ
اور فرشتے؟
نازک مقامات بھی آتے ہیں جی سوالوں میں ۔
ایک چمچہ در چمچہ کا کلچر ہے
کہ ہر چمچہ اندر سے خوف زدہ ہے ۔ 
اور اس خوف سے نجات کے لئے اپنے سے طاقت ور کی چمچہ گیری ہے۔

منگل، 6 اگست، 2013

عمومیت اور نرگسیت


پچھلے بدھ کے دن جناب اطہر صدیقی صاحب  ( نوائے ٹوکیو والے) کے اعزاز میں پریس کلب کی طرف سے افطاری کا اہتمام کیا گیا۔
میں بھی شامل تھا
یہان بڑے پیارے پیارے دوست ائے تھے ۔ الطاف غفار سیلانی ، انور میمن ، حسین خان۔
اب میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ جب میں باتیں شروع کرتا ہوں تو احمق لوگوں کو " واویلیاں" سی لگتی ہیں اور 
اہل علم دلچسپی سے سنتے بھی ہیں اور لقمہ بھی دیتے جاتے ہیں یا شگفتہ شگفتہ پھلجھڑیاں چھوڑتے ہیں ۔
سامنے کی کرسی پر حسین حان صاحب تھے اور ان کے ساتھ الطاف غفار سیلای صاحب ، میرے دائیں ہاتھ پر سید کمال حسین رضوی  صاحب بیٹھ گئے ۔
سید کمال صاحب کا حدود اربعہ بس اتنا ہی ہی میں جانتا ہون کہ اپنے چوہدری صاحب ان کی " گڈی" چڑھانے کی کوشش بہت کرتے ہیں ۔
یہاں موضوع بنا گیا قران میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی بات۔
جب میں نے تفصیل سے سورة ھمزة کی روشنی میں تفصیل سے ایٹم اور اگ کی باتیں بتائیں تو
سید کمال حسین رضوی  صاحب بڑے متاثر ہوئے 
اور فرمانے لگے کہ جی کیا بات ہے کبھی کبھی ایک عام سا بندہ بھی کیا کیا  بات کر جاتا ہے۔
میں نے یہ بات سن کر نظر انداز کر دی کہ
چلو  جی سید صاحب ہیں جس سن میں بھی سید بنے کہلواتے تو سید ہی ہیں ناں جی 
لیکن سید کمال حسین رضوی  صاحب نے جب یہی بات تین چار دفعہ تکرار کی تو
میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ
مولانان رومی نے فرمایا تھا کہ
کبھی کبھی اہل علم کی صحبت میں گزارے ہوئے کچھ لمحے 
صدیون کی کتابیں پڑھنے پر بھاری پڑتے ہیں ۔
یہ سن کر سید کمال حسین رضوی  صاحب نے فورآ کها  ها ں هاں ایسا هی کها تھا مولانا رومی نے 
اور بات کرنے کا انداز ایسا تھا کہ مجھے بتا رہے ہوں کہ
ایسی علم کی بات تمہارے بھی علم میں ہے
تب میں نے ان کو بتایا کہ
سر جی
اپ 
اس وقت خاور کے ساتھ بیٹھے ہیں ،اور مولانا رومی نے یہ بات خاور جیسوں کے لئے کہی تھی ۔
میں ویسے ، اس لہجے میں بات کیا نہیں کرتا 
لیکن 
کیا کریں 
نرگیست کے ماروں کا کہ
ہر کسی کو نیچ ہی سمجھتے رہتے ہیں ۔
حالنکہ خاور کے تو بلاگ پر بھی لکھا ہے 
ایک عام سے بندے کی عام سی باتیں ۔

ہفتہ، 3 اگست، 2013

زندگی جو بھی ہے


کہیں کسی ویرانے سے ، ایک پنڈت ،ایک مولوی اور ایک پہلوان گزر رہے تھے۔
کہ 
انہوں نے کالے تیتر کے بولنے کی اواز سنی۔
تیتر کی اواز سن کر پنڈت نے کہا ، کالا تیتر رام نام جپ رہا ہے!۔
مولوی نے کہا: نئیں تم  غلط سمجھے ہو ،تیتر کے الفاظ واضع ہیں 
کہ
سبحان تیری قدرت!!!۔
پہلوان جی نے کہا
اچھا جی!!!۔
سانوں تے اس طرح سمجھ لگے ہے 
کہ کالا تیتر کہتا ہے
کھا گھی ، تے کر کسرت !!!۔
زندگی کو ہر  فلسفی نے تو علیحدہ علیحدہ نام دئے ہی ہیں ۔
عام لوگ بھی اس زندگی کو کئی مختلف رنگوں میں دیکھتے ہیں ۔
دیو جانس کلبی نے نے زندگی کو کتے کی ہڈی سے تشبیہ دی ۔
فرائڈ نے زندگی کو بھوک کہا۔
انبیاء نے معاملات کی درستگی کو اللہ کی خوشی کا نام دے کر اس کو زندگی  ہونے کا پرچار کیا۔
لیکن زندگی کیا ہے؟
ایک گورکھ دھندہ ؟
یا کہ کچھ اور۔
دنیا کے عظیم ترین ،درویش ، گوتم بدہ سے جس کسی نے روح کا پوچھا تو
عظیم بدہ بھی اس بات کا برا منا گیا تھا
کہ 
یہ سوال پوچھنے کا نہیں ۔
اور جب روح کا سوال سردار انبیاء سے کیا گیا تو
اس جواب تھا کہ
وح اللہ کا امر ہے اور اللہ اس کے متعلق بہتر جانتا ہے۔
لیکن زندگی کیا ہے اس پر سوچنے پر کسی نے نہ غصہ کیا ہے اور ناں ہی اس کو سیکریٹ ہونے کا کہا گیا ہے۔

اس لئے اگر اپ زندگی کو پانی کی چشمہ سمجھتے ہیں 
تو
اس میں روانی ہونی چاہئےشفافیت اور پاکیزگی ہونی چاہئے ۔
اگر اپ زندگی کوپھول سمجھتے ہیں 
تو 
اس میں تروتازگی ہونی چاہئے، رنگ ہونے چاہئے، خوشبو سب کا مقدر ناں بھی ہوتو خوش رنگ ہو تو ہو!!۔
اگر اپ زندگی کو ایک کہانی سمجھتے ہیں 
تو
اس میں دلچسپی ہونی چاہئے، سست رو اور ٹانگیں گھسیڑتی ہوئی زندگی کی بجائے تیز ٹیمپو کی دلچسپ اور رواں کہانی ۔
اگر اپ کے نزدیک زندگی پیسہ کمانے کا نام ہے 
تو
اس تکنیک میں کنجر سب سے اوپر ہوتے ہیں ، اب اس بات کا تعین اپ نے کرنا ہے کہ اس مقابلے میں جیتنا کیسے ہے۔
اگر اپ زندگی کو ایک مشقت سمجھتے ہیں 
تو
بس مشقت کئے چلے جاؤ ، تمہاری مشقت میں جفاکشی اور لگن ہونی چاہئے، صحت ، مشقت کی جڑوں بہن ہے اور کامیابی مشقت کی سویتلی بہن ، کبھی روٹھی ہوئی کبھی منی ہوئی !!۔

زندگی کو جو بھی سمجھو 
اس میں زنگی کا حق ادا کرو
بس 
ایسا ناں کرنا کہ 
زندگی کو گندا نالہ ناں سمجھنے لگنا
زندگی کو جھوٹ ناں سمجھنے لگنا
زندگی کو چالاکی نہیں سمجھنا
میرے نزدیک زندگی ایک مشن کا نام ہے
ایک مشن 
اور میں اپنے مشن پر ڈٹا ہوا ہوں ۔

ہفتہ، 27 جولائی، 2013

میرا رمضان

یہاں جاپان میں پہلے دو روزے تو کچھ طرح کی گرمی تھی کہ  لگتا تھا کہ اب کی بار روزے کو رکھنا  بس رکھ کر ہی رہ جانا  سی کیفیت ہو گی ۔
لیکن تیسرے دن سے موسم کچھ کم گرم ہو گیا ۔
میرا گھر اور کام ٹوکیو سے شمال مغرب کی طرف کوئی ساٹھ کلو میٹر  کے فاصلے پر ہے ۔
یہاں ہر سال گرمی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ہمارا علاقہ جاپان کا گرم ترین دن  والا علاقہ بن جاتا ہے۔
سائینسی وجوح کا تو علم نہیں ہے لیکن اس علاقے کے بزرگ جاپانی وغیرہ کہتے ہیں کہ
سمندر سے چلنے والی ہووائیں ، ٹوکیو کے ائیر کنڈیشنوں کی گرم ہوا کو یہاں لے اتی ہیں ۔ اس لئے گنماں ڈویزن کا شہر تاتتے بیاشی ہر سال گرمی کی انتہا دیکھتا ہے۔
تاتے بیاشی میں اسلامک سرکل والوں کی مسجد بھی ہے جہاں میں جمعہ ادا کرنے جاتا ہوں ، پہلے فجر کی نماز اور ہفتے کی رات کے درس قران مں بھی جاتا تھا لیکن پھر کچھ سستی سی ہونے لگی ۔
افطاری کے متعلق میرا رویہ بچپن سے ہی اس طرح کا ہے کہ مسجد میں افطاری سے شرم سی اتی ہے ، اس لئے افطاری گھر پر ہی کرتا ہوں۔
گرم ترین موسم میں جاپان کے میٹھے میٹھے تربوز( ہدوانے) افطاری میں وہ مزہ دیتے ہیں کہ
بس جی  اللہ سائیں کا شکر دل کی اس گہرائی سے نکلتا ہے کہ بس اس کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
وہاں پاکسان میں تو اب جامن کا موسم ختم ہونے کو ہو گا؟
یہان بلو بیری کے نام سے ایک چیز ملتی ہے جس کا ذائقہ کچھ جامن کے نزدیک تو ہوتا ہے لیکن
وہ بات نہی بنتی۔
روزہ کے لگنے کے متعلق ، کہ بھوک کو برداشت کرنا کچھ مشکل نہیں لگتا لیکن پیاس  ناقبل برداشت ہو جاتی ہے اس لئے کوشش کرتا ہون کہ سارا دن پسینے والے کام سے بچ کر رہوں ۔
پاکستان میں لسی پیا کرتے تھے سحری میں اور باہر نکل کر کئی چیزوں کا تجربہ کیا ۔
اخر اکر اس نتیجے ہر پہنچے ہیں کہ
پانی ،ہاں جی سادہ پانی سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے جی ۔
میں سحری کھا کر تقریبآ صبح چار بجے کام پر پہنچ جاتا هوں، اور کوئی نو س بجے تک مشقت والے کام کر کے آرام سے کرنے والے کاموں میں لگا رہتا ہوں یا پھر سو رہتا ہوں۔
میں پاکستان کے روزے بہت " مس" کرتا ہوں۔
سحری کا ماحول اور افطاری کا وہ ماحول جو کہ پردیس کی زندگی میں بن ہی نہیں سکتا ۔
اللہ کرے جی کہ اگلے سال کا رمضان پاکستان میں گزارنے کا موقع ملے ۔

Popular Posts