ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

پاک مودودی ستان



پاکستان کو بنانے والوں نے اپنے علاقے کو علیحدہ کرکے اس کا نام بنگلا دیش رکھا لیا۔
اور بنے بنائے پاکستان کے نام سے محبت کرنے والوں کو منافقوں کی طرح ٹریٹ کرکے ذلیل کرکے رکھ دیا ۔
جس کی سب سے بڑی مثال بنگال کے بہاریوں کی ہے اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کی
کہ جس جماعت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور پھر بنگال دیش کی بھی مخالفت کی تھی۔
اور اپنی ان سب مخالفتوں کانام “اسلام “ رکھ کردیا ہے
تو
جماعت اسلامی کو بھی شہید مبارک ہوں ۔
پاکستان کے معماروں کو اکہتر میں شہیدوں کی لاشیں اتنی وافر ملی تھیں کہ ان کو بھولتی ہی نہیں ہیں ۔
عمرانیات کے ماہر کہتے ہں کہ انسانوں کی ایک نسل پندرہ سال میں تیار ہوتی ہے ۔
سن انیس سو چہتر میں سرمے والی سرکار جرنل ضیاع  کے دور میں جس اسلام کا “نزول” شروع ہوا تھا ۔
وہ مودودی صاحب کی تفہیم القران نامی کتاب سے شروع ہوا تھا۔
لاہور کے شاہی قلعے میں جن “ منکرین “ کو ڈالا جاتا تھا ان کے ہاتھ میں تفہیم القران پکڑا دی جاتی تھی ۔
اور میڈیا پر اسلام اسلام کا پرچار تھا
نہی ان المنکر اور امر بالمعروف کا بتایا گیا
یعنی کہ دوسروں کو نیکی کی تلقین اور دوسروں کو بدی سے منع کرنے کی تعلیم
لیکن خود کو بدی سے باز رہنے یا نیکی کرنے کی بات کو ایسی بری طرح پیچھے ڈالا گیا کہ
پاکستان کی دو نسلیں اس تعلیم سے تیار ہو چکی ہیں
اور ہر بندہ دوسرے کو نیکی کی تلقین کر رہا ہے اور بزور بازو ہر دوسرے کو بدی سے روک رہا ہے
لیکن اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں ہے کہ نیکی کیا ہوتی ہے اور بدی کی کیا تعریف ہے ۔
اج کا پاکستان ، جو کہ انتہائی اسلامی روجحان کا ملک ہے
اس ملک میں جو حالات اج سے تین دہائیاں پہلے تھے
کیا وہ اچھے تھے یا کہ اج کے حالات ؟
یقیناً ہر ذی الشعور تین دہایاں پہلے کے حالات کو  ہی بہتر کہے گا ۔
بنگالی جو کہ سیاسی طور پر برصغیر کی باشعور ترین قوم ہیں
انہوں نے سب سے پہلے اس بات کا اندازہ لگا لیا کہ مودودی صاحب کی تعلیمات  معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتی ہیں ۔
جرنل ضیاع  کے دور میں اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کو پاکستان میں “اپنا اسلام “ پھلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
اگر کوئی تھی تو ؟ کوئی مجھے بھی بتائے؟
اور اس دور میں یعنی چھتیس سال  میں جو حال اسلام کا پاکستان میں ہے ۔ کیا یہ کوئی قابل رشک حال ہے ؟
اس لئے اب اگر پاکستان والے “اسلامی” ماحول سے بچنے کی کوشش میں کوئی مودودی کی کتابوں پر پابندی لگاتا ہے تو؟
میں تو اسے دور اندیش کہوں گا۔
بنگالی لوگ ، مودودی صاحب کی تعلیمات اور  معلم حضرات کے ساتھ جو بھی کر رہے ہیں
میرے خیال میں اپنے ملک اور قوم کے لئے ٹھیک کررہے ہیں ۔
اگر چہ کہ یہ کام جماعت اسلامی کے لئے غلط ہو !!۔
جماعت کا کیا ہے
ان کے نزدیک تو پاکستان کا اسلام بھی غلط تھا
جس کو ٹھیک کرتے کرتے انہوں نے پاکستان کا یہ حال کر دیا ہے کہ
جس کے جواب میں جماعت کا کوئی جماتیا کہہ سکتا ہے کہ
کیا ہوا ہے پاکستان کو ؟
کچھ بھی تو نہیں ہوا
بس
 پاکستان بہت ہی پاک ہو گیا ہے کہ
لوگ یہاں سے بھاگنے کے لئے ویزوں کے لئے دھکے کھا رہے ہیں ۔
مودودی صاحب کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، مجھے اس خبر کی سرخی ابھی تک یاد ہے
اور پھر؟
پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ سزا کینسل ہو گئی تھی۔
اس کے بعد مودودی صاحب کی تعلیمات کے اسلام والا پاکستان ہے
جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ
میرا تو جی پاکستان ہی “گواچ” گیا ۔
کہ میں گم کردہ پاکستان کی تلاش میں ہوں ۔
پاکستان کو بنانے والے اصلی لوگ بنگالی ھے
اکہتر میں اگر بنگالی اس بات کا دعوہ کردیتے کہ
ہمارا ملک پاکستان ہے
اور
تم لوگ اپنے ملک کا کوئی اور نام رکھ لو
تو؟
تو یہ بھی کوئی غلط مطالبہ نہ ہوتا ۔
اج کے پاکستانیوں کو ، پاکستان بنا کر دینے والے بنگالیوں نے مودودی صاحب کی تعلمات کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔
اب دیکھیں بات کہاں تک جاتی ہے
کاش کہ میرے وطن تک آ جائے ۔ کہ جو اسلام پچھلے پینتیس سال سے مودودی صاحب کے ماننے والے ، فوج کے تعاون سے میری قوم کی “بغل “ میں دئے جا رہے ہیں ، ۔
اس کی وحشت سے میرے اپنوں کو نجات ملے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts