پیر، 5 اکتوبر، 2009

بالغ باتیں

نابالغ معاشرھ کیا ہے نابالغ وھ ہے جو بس بچپن میں هی پھنسا رهے ـ
بہت سے کام هیں جو اگر چودھ پندرھ سال کی عمر سے پہلے کر لیں تو جسمانی اور ذہنی کجی کا باعث بنتے هیں اور اگر اس کے بعد بھی ان کا علم ناں هو تو بھی جسمانی اور ذہنی کجی کا هی باعث بنتے هیں ـ
اور اگر کچھ کام بچپن میں ناں کیے جائیں تو بھی جسمانی اور ذھنی نشونما نهیں هوتی هے جیسے که کھانا کھانا ، پاکستان کے نابالغ معاشرے میں بچے کو کہا جاتا ہے کھاؤ پتر کھاؤ اور جی پتر کھانا شروع کردیتا ہے اور کھائے هی چلے جاتا ہے لیکن اس نابالغ پرورش کو کون بالغ کرے گا که جی پینتیس کی عمر پر جا کر کھانے کو کوانٹیٹی سے زیادھ کوالٹی پر غور کرنا هے اور چالیس کے بعد کھانا کم کھانا ہے ـ
ورنه پھر یا شوگر هو گی کسٹرول هو گا
وھ جی همارے معاشرتی محاورےبھی تو کهتے هیں ناں جی که پہلے بندھ کھانا کھاتا ہے پھر کھانا بندے کو کھاتا ہے
وھ پنجابی کا ایک محاورھ ہو جو که نابالغ معاشرے میں تو فحاشی میں آئے گا لیکن آپ کی معونیت پر غور کریں که کیسے لوگوں کو میٹھے کی نقصانات بتائے جارهے هیں
حلوائی دا ان تے کتے دا ـ ـ
وڑدے سوکھے تے نکلدے اوکھے نیں ـ "ان " پنجابی میں کھانے کو کہتے هیں ، آپ نے دیکھا هی هو گا که حلوائی کا کھانا کیسے اسانی سے حلق کے راستے اندر جا رها هوتا ہو اور پھر جب شوگر بن کے ، کیسٹرول بن کے دل کی بیماریوں کا باعت بنتا هے تو اس کا نکلنا پھر جی کتّے کی پرزے سے بھی مشکل هو تا هے ـ
اسی طرح سیکس کی تعلیم کا بھی هے که اگر بچے کو چودھ سے پہلے کچھ باتوں کا علم هو جائے تو اس کے لیے نقصان دھ ہے لیکن اگر اس کو اس کے بعد بھی معلوم نهیں هو گا تو جی پھر انڈر شیو کے لیے بلیڈ سے پچھ لگا لگا کر وھ هم عمروں میں نہر کے کنارے بٹیرے لڑانے لگتا ہے
تو اس کا مجرم کو هے ؟؟
پاکستان میں اگر لکھاریوں نے لکھا بھی ہے تو
هی اینڈ شی کے معاملات کا هی لکھا ہے
کسی نے هی اینڈ هی کا اور شی اینڈ شی کا نهيں لکھا ہے
اور می اینڈ می کا تو جی کچھ لوگ مذاق میں لکھ هی جاتے هیں ـ
اور یه می اینڈ می والی گیم دونوں جنسیں هی کھیلتی هیں ، هی بھی اور شی بھی ـ
اب جی ، جب لوگ باتوں کو فحاشی کا الزام دیتے هیں تو بچپن سے جنس پر بات کرنے کو جرم جان کر پروان چڑھے لوگ بھی اس کی تائید هی کرتے هیں که ان کو بتایا هی یه گيا هے
پاکستان ميں پروان چڑھے جوانوں کی یه حالت ہے که نوے فیصد نارمل مرد هونےکے باوجود شادی کی رات کسی حکیم کے پاس جاتے هیں ، جو چاہے پانی هی دے دے دوائی کے نام پر اس پر مطعمن هو کر اپنا حق ادا کرنے کے قابل هوتے هیں ـ
میں ان کو کہا کرتا هوں که ایک پاک صاف لڑکی جس کی زندگی کے تم هی پہلے اور اخری مرد هو گے اس کو اپنی طاقت کا مظاھرھ دیکھانے کی بجائے جو تم هو ایسے هی کام کرو ، وھ بیچاری اسی کو طاقت کی انتہا سمجھتی رهے گی ـ
بچه ناں هونے کی وجه سیکس کی تعلیم کی کمی ہے
اور الزام هوتا هے جو عورت پر جو دم کروانے جاتی هے سائیں برکت کمیار سے جو انگلی کی پوروں سے اسکے ننگے پیٹ پر گدگدی نما عمل کرتا ہے جس سے جو ردعمل هوتاهے اس سے پھر سائیں برکت کا بچه وھ خاوند اپنا جان کر پالتا رهتا ہے
باقی فیر سہی

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts