ہفتہ، 16 دسمبر، 2006

آزاد عورت




آزاد عورت 
ہم دنیا کی پرانی ترین تہذیب کے بچے ! ۔ 
صدیوں سے بچے بھی پیدا کرتے آئے ھیں اور زندگی بھی گزارتے رہے ھیں ـ  
تاریخ کے ہر دور میں بھوکی قومیں ہمیں لوٹنے بھی آتی رھی ھیں ـ
 ہم قتل بھی ھوتے  رھے ھیں اور لوٹے بھی جاتے رھے ھیں ـ 
اور آج ہمیں بتایا جا رھا ھے کھ ہم بچھ بنانے کے عمل یعنی سیکس سے لا علم ھیں  ـ
 پچھلی پوسٹ میں میں نے آپنے معاشرے کے مہذب رشتے گنوائے تھےـ
 آج غیر مہذب رشتوں کی بات کرتے ھیں ـ
  وھ رشتے ھیں رکھیل ـ داشتہ ـ کنجری ـ اور  رنڈی ـ 
ہمارے معاشرے میں جب عورت کو مشینوں کی وجھ سے کچھ سہولت حاصل ھوئی تو اس کو ہری ہری سوجھنے لگیں ـ
 وھ پہناوھ جس کو دو نسلوں پہلے تک ناچوں اور کنجروں کا پہناوا کہا جاتا تھا وھ چمکیلے اور جسموں سے چپکے چپکے کپڑے ہمارے گھروں میں داخل ھو گئے ۔ 
ہماری عورتوں کو کنجریوں پر رشک آنے لگاـ
 ان کپڑوں کی نمائیش کے لئے شادی بیاھ کی رسموں کو بہانھ بنا کر مجرے کی سی کیفیت بنا دی گئی ـ 
منگنی اور مہدی کی رسم کو کپڑوں اور جسموں کی نمائش بناکر رکھ دیا گیا ھے ـ 
ہم نے پھر بھی عورت کی رسپیکٹ کی اور اس کو یھ سب کرنے کے لئے پیسے اور  آزادی دی  اور اب اس سے زیادھ آزادی کا مطالبھ کیا جانے لگا ھے ـ اس سے زیاھ آزادی اور کیا ھو سکتی ھے ؟
یورپ کی عورتوں کی طرح شادی سے پہلے پانچ چھ مردوں کو بستر پر ٹیسٹ کرنے کی آزادی ؟
یا جب چاہے منھ کا ذائقھ بدلنے کے لئے کوئی جوان مُنڈا چکھنے کی آزادی ؟
جن عقل کے اندھوں کو پاکستان کی عورتیں جبر میں کسی نظر آتی ھیں جو یھ سمجھتے ھیں کھ ھم آپنی عورتوں کو تعلیم سے دور کررہے ھیں ـ 
کیا ان کو تعلیم اور میڈیکل کے شعبے میں اعلی تعلیم یافتھ عورتیں نظر نہیں آتی ؟
 دیسی عورتوں کے شوقین چوھدری جمّی نے مجھے ایک پتے کی بات بتائی تھی کھ 
پاکستان میں جو بھی لڑکی خراب ھوتی ھے وھ آپنے بچپنے کی وجھ سے میٹرک سے پہلے پہلے خراب ھو جاتی ھے ـ 
آگر لڑکی کالج چلی جائے تو تعلیم اور ماحول اس کو بتا دیتے ھیں اور اس کو سمجھ بھی آجاتی ھے 
کہ 
آگر میں آپنی عفّت گنوا بیٹھی تو یہ پھر حاصل نہیں ہو گی، اور ایک ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا ـ
میرے خیال میں عورتوں کے شکاری لوگ تعلیم یافتہ عورتوں میں سے یہ نظریہ نکال پھینکنا چاہتے ھیں، تاکہ ان کو کھل کھیلنے کا موقع ملے ـ
باقی رھی سیکس کے متعلق جان کاری کی تعلیم تو اس کے لئے ہمارے معاشرے میں پرانے زمانے سے کجھ رسوم چلی آتی تھیں جن میں سے کچھ تو متروک ھو چکی ھیں اور کچھ ابھی باقی ھیں ـ 

مثلاَ 
پھیری 
بارات کے جانے کے بعد لڑکے کی ماں آپنے اردگرد کی عورتوں کے ساتھ مل کر جو کچھ کرتی ھے ـ
شادی پر ڈھولک
اور
ترنجن
ایک ختم ھو چکی رسم ہے ۔


لو جی بات کچھ اس طرح کھلی ھے یا مجھے اس طرح سمجھ لگی ھے کھ ـ پاکستانی عورتوں کو سیکس کی جاچ(طریقھ) نہیں ھے  
href="http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/blog/story/2006/11/061103_ss_story1_ms.shtml">پہلی کہانی
بات تو ھو سکتا ھے کھ ٹھیک ھی ھو کھ بی بی سی کے پڑھے لکھے لوگوں نے لکھی ھےـ یھ تو حقیقت ھے کھ ایک پڑھا لکھا شخص معاملات کو بڑی باریکی سے دیکھتا ھے اور سمجھتا ھے ـ مگر اس بات کا کوئی کیسے پتھ چلائے کھ یھ ذہین آدمی کسی چالاکی پھ تو نہیں ھے ؟

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts