بدھ, مئی 21, 2014

نالج اور فن

ویت نامی سے سائیکلوں کا سودا کیا تھا  ،سائیکل اٹھانے کے لئے گئے ، یہ سائیکل افریقہ کو بھیجنے ہیں ۔
جب ہم سائیکل ٹرک پر لادھ چکے تو ،اسی وقت دو جیٹل مین لباس میں جاپانی ، سامنے والی لانڈری کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے ویت نامی کے یارڈ پر آ گئے ۔
میں نے ویت نامی کو رقم دی اور اس کو کہا کہ رسید بنا کر بقایا رقم دو۔
دونوں جاپانیوں نے اسی دوران ویت نامی کو گاڑی کے نمبروں کی تصویورں والے کاغذ دیکھا کر ، غیر قانونی پارکنگ کے جرمانے کا تقاضا شروع کر دیا ۔
ویت نامی نے حیرانی کا اظہار کیا کہ مجھے آپ لوگوں نے کوئی خط وغیرہ یا کہ جرمانے کا بل نہیں بھیجا اس لئے میں ادا نہیں کر سکا
لیکن حکومتی لوگوں نے اس کو بتایا کہ ہم ، چھ دفعہ تم کو خط لکھ چکے ہیں ۔
ایک جاپانی ویت نامی کے دفتر میں اس سے رقم وصولنے لگا تو
دوسرے سے میں نے پوچھا کہ
آپ لوگ کس محکمے کے ہو؟
تو اس نے پولیس والی آئی ڈی نکال کر دیکھائی کہ ایک طرح سے میں ہوں تو پولیس والا لیکن میرا شعبہ جرمانے وصول کرنے کا ہے ۔
اس ویت نامی نے وہاں میتو شہر میں ایک جگہ “نو پارکنگ” والی جگہ میں گاڑی کھڑی کی تھی ، ہم اس کے جرمانے کی وصولی کے لئے آئے ہیں ۔

اس نے بتایا کہ جاپان میں پولیس مین ، رقم کے لین دین کا معاملہ نہیں کر سکتا ، ڈیوٹی کے دوران پولیس والے کا رقم کو ہاتھ لگانا غیر قانونی کام ہے ۔
لیکن ایک مخصوص شعبے کے لوگوں کو ہمارے گورنر نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ رقم  کی وصولی کا کام کر سکتے ہیں ، جن میں سے ایک میں بھی ہوں ۔
میں ابھی اس بات پر ہی غور کر رہا تھا کہ جاپانیوں نے کرپشن  سے پاک معاشرے کے لئے کیسی دانشمندی سے اصول وضع کئے ہوئے ہیں ۔
کہ
وصولی والا بندھ وصولی کر کے واپس آ گیا اور وہ دونوں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے ،۔
میرے ساتھ والے افریقیوں نے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ تھا؟
میں نے اپنی سمجھ کے مطابق ان کو بتایا کہ ویت نامی کو نوپارکنگ کا جرمانہ ہوا تھا
لیکن شائد یہ ویت نامی جرمانے سے جان چھڑانے کے لئے ، جرمانے کے خطوط کو نظز انداز کرتا رہا ہے ۔
اور اج “ وہ “ خود ہی وصولی کے لئے آ گئے ہیں ۔
اسی وقت ،ویت نامی بھی وہیں آ گیا !۔
میں نے اس سے پوچھا کہ معاملہ کیا تھا
تو اس نے بتایا کہ وہاں میتو شہر میں ایک جگہ گاڑی کھڑی کرنے پر مجھے جرمانے کی ٹکٹ ملی تھی ۔
اگر میں وہ رقم ادا کر دیتا تو قانون نے میرے ڈارئیونگ لائیسنس کے ڈیڑھ پوائنٹ  کاٹ لینے تھے ۔
اس لئے میں جرمانے کے خطوط کو نظر انداز کر کے ، جرمانے کی وصولی کے لئے “ ان “ لوگوں کا انتظار ہی کر رہا تھا ۔
کیونکہ اس طرح صرف جرمانہ ادا کر کے جان چھوٹ جاتی ہے ۔
میں اپنے لائیسنس  کی ریپوٹیشن خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
میں اور میرے ساتھ موجود افریقی ، ویت نامی کے نالج اور اس نالج سے فائدہ اٹھانے کے فن پر اس کو دل ہی دل میں شاباش دئیے بغیر نہ رہ سکے ۔

منگل, مئی 13, 2014

ڈرین کا نظام

میں نے یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی ہے کہ
ترقی یافتی اقوام نے " ڈرین" کے نظام کو صدیوں پہلے اپنا لیا تھا۔
اور "نکمی" اقوام کو سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کا نام ترقی بتا کر
ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہوا ہے ۔
پیرس کی تعمیر  میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہوا ہے کہ
بارش کے پانی کو بھی دو قسموں میں تقسیم کر کے استعمال کیا جائے گا
عمارتوں کی چھتوں کا پانی پینے کے کام اتا ہے اور سڑکوں کا گندا پانی دریا میں چلا جاتا ہے ۔
واشنگٹن ڈی سی میں ، میں نے دیکھا کہ سڑکوں کے نیچے میٹروں کی گہرائی کی گلیاں بنی ہوئی ہیں ۔
اگر کچھ دن طوفانی بارشیں بھی ہو جائیں تو لاکھون ٹن پانی تو ان گلیوں میں ہی غرق ہو جائے گا۔
لندن کی نالیاں زمین دوز اس طرح کی بنی ہوئی ہیں کہ ان کی انڈرگراؤنڈ ٹرین کے اسٹیشنوں کا پانی تک بھی ٹھکانے لگ جاتا ہے ۔
واشنگٹن چلو نیا شہر ہے (ایک سو کچھ سال) لیکن پیرس اور لندن صدیوں پہلے تعمیر کئے گئے تھے، ڈرین کے فول پروف نظام کے ساتھ!!۔
لیکن
یہاں پاکستان میں کیا ہوتا ہے ؟
سڑکوں کی تعمیر پر حکومتیں نمبر بناتی ہیں ۔
اور لوگوں کے مکان ! سڑک سے نیچے چلے جاتے ہیں ۔
لوگ اپنے مکان اونچے کر تے ہیں ۔
اور
مکانوں کا پانی سڑک پر چڑھ جاتا ہے ۔ کول تار ، ٹھنڈک اور پانی سے سخت ہو جاتی ہے ۔
جس پر چلتی گاڑی کے ٹائیر کی چوٹ لگنے سے سڑک ٹوٹ جاتی ہے ۔
دوسری تیسری گاڑی کے ٹائروں کی چوٹ اس گڑھے کو وسیع کر دیتی ہے
اور ؟
سڑک ٹوٹ جاتی ہے ۔
حکومت پھر اتی ہے اور سڑک کو اونچا کر جاتی ہے ۔
پچھلے کچھ سالوں سے ایک نئی تکنیک جاپانیوں نے پاکستان کو دی ہے کہ
ابادیوں کے اندر سڑک کو کنکریٹ کا بنا دو ۔
پانی سے ٹوٹے گی نہیں ۔
لیکن پانی کے نکاس کے فوائد کا کسی کو علم ہی نہیں ہے ۔
میں نے دنیا کے کتنے ہی غیر ترقی یافتہ ممالک کے افسروں سے بات کر کے دیکھی ہے ۔
ان سب کی سوچ میں سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر ہی ترقی کی معراج ہوتی ہے ۔
اور اس ترقی کے لئے پیسے نہ ہونے کا رونا ہوتا ہے ۔
ابادی کے پانی کا انتظام فول پروف ہو جائے تو؟
کتنی دہایوں تک ۔سڑکوں اور مکانوں کی تعیر پر اٹھنے والی دولت کی بچت کر کے نئی عمارتیں اور سڑکیں بنائی جا سکتی ہیں ۔

Popular Posts