بدھ، 20 نومبر، 2013

جبلتیں

ایک محاورہ ہوا کرتا تھا
سفید پوش ، سیاہ کار!۔
اپ نے کبھی سنا ہے ؟
یا کہ ایسے بندے دیکھے ہیں ؟
خوبصورت اور اجلے لباسوں میں ، منافق؟
۔
۔
سوہنے بابے اور بڈہیاں بھی دیکھی ہوں گی؟
حسن صرف جوانی سے ہی نہیں ، بندے کے خوبصورت خیالات سے بھی بنتا ہے ۔
عموماً خوبصورت خیالات ،اپنے رکھنے والے بندے کے چہرے اور بدن کو بھی خوبصورت بنائے رکھتے ہیں ۔
۔
۔
۔ کتے ہو عموماً اور کئی دوسرے جانوروں میں ، ایک جبلت پائی جاتی ہے
کہ
چیزوں کو اکھٹا کرتے جاتے ہیں ، اور کتے کو تو یہ بھی یاد نہیں رکھتا کہ اس نے ، ہڈی دبائی کہاں کہاں ہے زمین میں !!۔
انسان جس میں طرح طرح کی جبلتیں پائی جاتی ہیں ۔ اگر کسی ادمی میں جانوروں کی مال کو اکھٹا کرنے کی جبلت اوج کر آئے تو
عموماً ایسا ادمی خود کو ہی انسان سمجھ لینے اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور مغالطہ بھی ایسا کہ
خالص انسانوں والی جبلت جو کہ کسی بھی جانور میں نہیں پائی جاتی ، اس جبلت کے انسانوں کو تو بہت ہی حقیر جاننے لگتا ہے ۔
یعنی کہ "لکھنے "والوں کو بھی حقیر سمجھتا ہے ۔

4 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

بہت خوبصورتی سے آپ نے پتے کی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

محترم ۔ نیک عمل والے لوگ صرف صفائی کا خیال رکھتے ہیں ۔ اُن کے چہروں پر خوبصورتی اُن کا عمل لاتا ہے

گمنام کہا...

انسان ہو تو کرتا ہے انسان کی قدر
مفتی گدھے ہوں تو کتا ہے شہید

azeemaj کہا...

ايك دم صحيح . . . . Ur tag line or blog header touches the heart.

Popular Posts