جمعہ, اگست 16, 2013

چودہ، پندرہ آگست

پندرہ آگست!۔ جاپان میں  شہیدوں کو یاد کرنے کا دن ہے ۔
دوسری جنگ عظیم کے شہیدوں کو فوجی اور غیر فوجی شہیدوں کو یاد  کرتے ہیں ، ۔
جاپان کے شہیدوں کو شہید لکھنے پر  ، اگر کسی " شدید " قسم کے مسلمان کو اعتراض بھی ہو تو ، میں جنگ عظیم دوم میں جان دینے والوں کو شہید ہی لکھوں گا
کہ
جاپانی شہیدوں کی جنگ میں دی  جانے والی جانیں رائگاں نہیں گئیں ۔
یاد رہے کہ جاپان ، دوسری جنگ عظیم میں " جنگ " تو  ہارا تھا "لڑائی " نہیں یارا تھا۔
بہادر جاپانی ہر محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے  ۔
جنگ میں جانیں دینے والوں کو ، یاد کرنے ان کی تربتوں پر اگربتیاں جلانے   جاتے ہیں ، زندہ اقوام اپنے شہیدوں کے مرنے کی وجوہات بھی جانتی ہیں اور شہیدوں کے مقاصد کو بھی یاد رکھتی ہیں ۔
سائبیریا کے جنگی قیدی !۔
وہ جاپانی فوجی جو کہ جنگ ہارنے پر سائبیریا میں روس کے جنگی قیدی  بنے ۔
ان میں سے بہت سے وہ بھی تھے جو زندہ گرفتار ہوئے لیکن کبھی بھی وطن واپس نہیں پہنچ سکے ۔
جو زندہ تھے ان کو وطن واپسی کی لگن تھی ۔
اور جو وطن میں ان کا انتظار کر رہے تھے
وہ
وہ ملک کو اس قابل بنانے میں لگے تھے کہ ملک کے لئے خدمات ادا کرنے کی کوشش میں اذیت میں مبتلا ، جب واپس  آئیں تو ان کو مایوسی ناں ہو ۔
اور جنگ کے خاتمے کے دس سال بعد جاپان ، دنیا کے درجنوں ممالک  کے مقابلے میں ایک پر آسائش اور محفوظ ملک تھا
اور جنگی قیدیوں کے واپس پہنچنے کے بعد کے دس سال میں جاپان ، دنیا میں ایک نام تھا ، معیار کا اعتماد کا نظم  ضبط کا ۔
تقسیم ہند کے دن کو پاکستان میں چودہ آگست اور ہند میں پندرہ آگست کے روز منایا جاتا ہے۔
لیکن اس تقسیم میں شہید ہونے والوں کو کس طرح یاد  کرتے ہیں ؟
ہم لوگ!!!۔
جشن منا کر!!!۔
جن کے لئے پاکستان کا قیام رقبوں پر ، پلاٹوں پر قبضے کرنے کی آزادی کا نام تھا
ان کا جشن منانا بنتا ہے
لیکن
جن کے "لوگ" مارے گئے، جن کی عصمتیں تارتار ہوئیں ، جن کے پیارے بچھڑ گئے؟
ان سے رقبوں اور پلاٹوں والے "سیانوں " نے عقل بھی چھین لی ، علم کے نام پر ان کو مغالطے اور مبالغے پکڑا دئے ۔
ناں نظم ہے اور ناں نظام ناں ہی بجلی ہے اور ناں ہی صاف پانی بنیادی ضروریات زندگی  صرف ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤنوں میں ملتی ہیں ۔
اور جشن مناتے ہیں وھ لوگ جن کے ہاتھوں میں محب وطنی کا " چھنکنا" پکڑا دیا گیا ہے ۔
محب وطنی کے دعوے دار ان لوگوں کے گھروں کی یہ حالت ہے کہ
ان کے گھروں میں  کھانا باہر کے ممالک کی کمائی کا بنتا ہے ، ان کے روٹی کپڑا اور مکان باہر کی کمائی سے ہیں ۔
ان کے جوان باہر کے ویزوں کے لئے ہلکان ہیں ۔
سرحدیں پار کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں ۔
عربوں کے ممالک میں اپنی انا کا اپنی خود داری کا خون کرکے ، خون کے انسو روتے ہیں
اور
دعوے کرتے ہیں محب وطنی کے۔
میرے اپنے لوگ ہیں یہ لوگ جو مغالطے میں مارے جارہے ہیں ۔
اور میں بھی ان میں سے ہوں
لیکن صرف مغالطے میں نہیں ہوں ۔
جاپان میں پناھ گزین "محب وطن پاکستانی "  میں سے کتنے ہیں جو وطن کی محبت میں جاپان کی بے وطنی چھوڑ کر "وطن" میں بسنے چلے جائیں ؟؟
امریکہ میں کتنےپناھ گزین "محب وطن پاکستانی "  میں سے کتنے ہیں جو وطن کی محبت میں امریکہ کی بے وطنی چھوڑ کر "وطن" میں بسنے چلے جائیں ؟؟

دعوے ہیں محب وطنی کے اور مزے کی بات ہے کہ ان کو وطن کی محبت کے معنی بھی نہیں معلوم ہوں گے۔
میرے لئے یہ دن ان شہیدوں کو یاد کرنے کا دن ہے جو ایک سراب کے پیچھے جان دے بیٹھے ،۔
آزادی کے سراب کے پیچھے!!۔
بقول شخصے
منزل ان کو ملی جو شریک سفر ناں تھے ۔
وہ جانیں جو ضائع ہوئیں
وہ قربانیان جو رائگاں گئیں
وہ عصمتیں جو تار ہوئیں ۔
وہ پیارے جو بچھڑ گئے
لاکھوں کے خون رائگاں گئے
وہ سب سراب نکلا ۔
آزادی ، آزادی نہیں غلامی ہی رہی
آقا بدل گئے ۔
امرتا پریتم نے نوحہ لکھا تھا
اج اکھاں وارث شاھ نوں
کتوں قبراں دے وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی نواں ورقا کھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی
توں لخ لخ مارے ویں
اج لکھا دہیاں روندیاں
تینوں وارث شاھ نوں کہن ۔
میرے اندر بھی بھت بڑا دکھ کا ایک پہاڑ ہے
جو اس دن اکیلے میں پانی بن کر انکھون کے راستے
انسو بن کر بہ نکلتا ہے

پھر کہیں کوئی بستی اجڑی
لوگ کیوں جشن منانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

5 تبصرے:

گمنام کہا...

احمر

بہت خوب

ذرا یہ تو بتاییں کہ جب جرمن اس جنگ پر ہمیشہ معذرت خواہانہ رویی اختیار کرتے ہیں تو ان کے مقابلے میں جاپانی اس جنگ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں

رضوان خان کہا...

احمر صاحب کے پوچھے گئے سوال کا جواب میں بھی جاننا چاہوں گا۔

خاور کھوکھر کہا...
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
خاور کھوکھر کہا...


جاپانی لوگوں کا دوسری جنگ عظیم کے متعلق رویہ؟

بڑا مشکل سا سوال ہے
کہ جاپانی لوگ اپنے جذبات چھپانے والے لوگ ہیں ۔
جبکہ جرمن یورپی اقوام میں پھنسے ہوئے لوگ ۔
جاپانی جب بھی جنگ کی بات کرتے ہیں تو
جنگ کے مسائب کا ہی تذکرہ کرتے ہیں
اپنی بہاردی یا مہمات کا تذکرہ کہیں نہیں ہوتا۔
جو ہوا وہ ہوا
اور جو ہوا وہ اس دور کی مجبوری تھی کہ ضرورت ؟ اس بات کا جو بھی فیصلہ اس دور کے بزرگوں نے کیا تھا وہ ان کی مہ داری تھی ۔
اب اس دور میں جو ذمہ داریاں معاشرے نے مجھ پر لگائی ہیں میں ان کو پورا کرتا ہوں ۔
مختصر یہ کہ جاپانی لوگوں کا رویہ معذرت خوانہ یا فخر کرنے والا دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہوتا ۔

shanwari کہا...

خاور بھیا السلام علیکم۔
آپ کی تھریروں کا میں بھی شیدای ہوں اس لیے تبصرہ "فرما" رہا ہوں امید ھے اپنی تلواروں سے مامون رکھیں گے۔
گزارش اتنی ھے کہ شہید صرف مسلمان کہلایا جاتا ہے غیر مسلم اس لفظ کا حقدار نہیں ہو سکتا آمید یے اسے آپ تنگ نظری پر محمول نہ فرماہیں گے۔والسلام۔

Popular Posts