بدھ، 21 اگست، 2013

میری یادوں اور خوابوں کا پاکستان


میرے خوابوں کا پاکستان ، میں یہ نہیں لکھوں  گا کہ میں نے پاکستان کو کیسا بننے کا خواب دیکھا
میں کون سا علامہ اقبال ہوں کہ مستقبل کے خواب اور وہ بھی پاکستان کے مستقبل کے دیکھوں ۔
میرے خوابوں کا پاکستان  ہے ، میری یادوں کا پاکستان ۔
پاکستان ہمارے پیدائش سے پہلے بن چکا تھا۔
بڑے سہانے دن تھے جب ہم نے ہوش سنبھالا۔
اکہتر کی جنگ کی یادیں اتنی ہیں کہ ایک جہاز آتا تھا اور تڑ تڑ کرتی گولیاں برساتا نکل جاتا تھا۔
گولیاں کدھر جاتی تھیں اس کی سمجھ نہیں لگتی تھی۔
یا کہ اس جہاز پر مشین گن سے ہونے والی فائرنگ کی ٹر تڑ ہوتی تھی۔
لوگ بھالے تماشا دیکھنے کے لئے چھتوں پر چڑہے ہوتے تھے۔
ساتھ کے گاؤں کو جاتی کچی سڑک میں پانی کھڑا ہوا تھا جہاں کہ پانی والی بوٹی اگ آئی تھی۔
اس خشک ہوتی بوٹی پر پاک فوج کی مشین گن لگی تھی جو کہ میں اپنے یار یوسی ( یوسف لوہار) کے ساتھ دیکھنے گیا تھا۔
ہمیشہ کی طرح کاکا بجلی والا بھی ساتھ ہی تھا شامل باجے کی طرح۔
اس زمانے کی ساتھ کے دیہاتوں کو جاتی کچی سڑکیں  ، سڑکیں کم اور خشک کھال سے ہوا کرتے تھے۔
ہمارے گاؤں کے شمال کی طرف کی سڑک جس کو پنجابی میں "پہے یا پیاہ" کہتے ہیں ۔یہ بھی ایک کھال ہی کی طرح کا ہوتا تھا ، جس میں گاؤں کا بارش کا پانی بہ کر آوے(مٹی نکال کر بنے گڑھے) تک جاتا تھا ۔
جنوب کی طرف کا  پیاہ بھی اسی طرح تھا۔
اور ایک پیاہ ہوتا تھا ملک والے والا، ملک والا تھا تو ایک کنویں والا ڈیرہ  لیکن اس کے نام پر اس  پیاہ کو بلایا جاتا تھا ۔
یہ پیاہ بڑا اہم تھا کہ جب بھی اگست کا سیلاب اتا تھا تو گاؤں کے شمال اور شمال مشرق کی طرف سے پانی کے ریلے اتے تھے ،جو کہ کمہاروں کی حویلیوں کو پانی پانی کر جاتے تھے ۔
اور یہ پانی بہتا ہوا ملک والے پیاہ میں سے گزر کر سائفن تک جاتا تھا اور سائفن کو پار کرکے اپنی اگے کی منزلوں کی طرف رخ کرتا تھا۔
پھر ہم نے دیکھا کہ پیاہ ، سڑکیں بننے لگے سڑک بنانے کے لئے پہلے ان پیاہ کو مٹی ڈال کر اونچا کیا گیا۔
جس سے مکان نیچے ہو گئے
مکانوں کے پانی سے سڑک ٹوٹ گئی۔

ملک کی سیاست اور حکمرانوں نے ہم ہر احسان کر کے سڑک دوبارہ بنا دی
لیکن وہ پلیان جو جو پیاہ اور سڑکوں کے نیچے سے پانی کی گزرگاھ کے طور  پر انگریز نے بنا کر دی تھیں وہ ختم کر دی ۔
یا کہ پلیان بنانے جیسے کمتر کام کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔
اور اب یہ حال ہے کہ بقول شخصے جب انڈیا پانی چھوڑتا ہے 
تو
گاؤں کے گاؤں دیہات پانی میں ڈوبے ہوتے ہیں 
اور لوگ بھالے سڑک کر توڑ کر پانی کا راستہ بنا رہے ہوتے ہیں 
اور 
گاؤں میں سے کسی کسی کو یاد بھی ہوتا ہے کہ یہاں ہی تو وہ پلی تھی جس میں سے پانی گزرتا تھا سیلاب کے دنوں میں ۔
اور عام دنوں میں لڑکے کھیلا کرتے تھے ان پلیوں کے نیچے ۔
میری یادوں کے  پاکستان میں لڑکے پلیوں کے نیچے سے گزرنے کا کھیل یا انکھ مچولی میں چھپنے  کا کھیل کھیلا کرتے تھے۔
لیکن 
اب اگر کہیں کوئی پلی ہے تو
لڑکے اس میں بندوقیں لے کر چھپ کر بیٹھے ہوتے ہیں 
اور رات کو شہر سے واپس انے والے مسافروں کی جیبیں  خالی کرواتے ہیں ۔
بھٹی بھنگو سے نندی پور جانے والی پلی ہو کہ میانوالی بنگلا کی نہر کی راجباہوں پر بنی ہوئی پلیاں ہوں ۔
سیلاب کے پانی کے کام تو کم ہی اتی ہیں 
ہاں بہادر لڑکوں کو کارنامے دیکھانے کے مورچے کے طور تو کام اتی ہی ہیں ۔
ہمارے بچپن کا زمانہ تھا کہ کہیں کہیں کسی چور کا سنتے تھے کہ فلاں بندہ جو ہے وہ چور ہے
اور علاقے کے سبھی لوگ اور تھانے والے بھی اس کو جانتے ہوتے تھے۔
گھروں کے درمیاں چھوٹی چھوٹی سی دیواریں ہوتی تھیں۔ جس نے پڑوسی ناں صرف جھانکتے تھے بلکہ پڑوسیوں کی زندگیوں میں دخیل ہوتے تھے۔
لیکن کوئی اس دخل اندازی کو مداخلت نہیں محسوس کرتا تھا۔
پھر دیواریں اونچی ہوتی گئیں ، پرائویسی بڑہتی گئی اور معاشرے سے برداشت کا مادہ ہی ختم ہوتا چلا گیا۔
گرمیوں کی راتوں میں چھت پر سونا یا پھر گلی میں نکل کر چارپائی بچھا لینا عام سی بات تھی ۔
باہر ، تہمند باندھے چارپائی پر سوئے بندےکے ساتھ ایسی واردات ہو جاتی تھی کہ اس کا تہمند کھول کر پائنتی پر ڈال کر کوئی شرارت کر جاتا تھا
تہجد کی نماز کے لئے گزرنے والا کوئی بابا ، اس کو جگا کر " نگیز" ڈھانپنے کا کہتا تھا۔
بڑی شرمندگی ہوتی تھی اس واردات کے "وکٹم" کو کہ فارغ لوگوں کو کوئی کام بھی تو نہیں ہوتا تھا ناں 
ایسی باتوں کو مذاق بنا کر انجوائے کرنے کے علاوہ ۔
شاہراہ عام پر سوئے کسی بندے کو یہ دھڑکا نہیں ہوتا تھا کہ کوئی سوتے میں قتل کر جائے گا یا کہ جیب خالی کر کے لے جائے گا ۔
پھر وہ مشہور زمانہ واردات ہوئیں 
جن کو ہمارے زمانے کے لوگ ہتھوڑا گروپ کی وارداتوں کے نام سے جانتے ہیں ۔
سوتے میں سر پر ہتوڑا مار کر کئی قتل ہوئے ، 
اور چارپائیاں دیواروں کے اندر چلی گئیں۔
گرمیوں کی راتوں میں کھیلتے کھیلتے ساتھ کے گاؤں تک چلے جانا کوئی خاص بات نہیں تھی۔
کسی کو بھی اس بات کا خطرہ نہیں ہوتا تھا کہ  کہیں ڈاکؤں کا " ناکہ" لگا ہو گا ۔
ہاں ڈر ہوتا تھا تو کیڑے مکوڑے کا کہ سانپ گرمیوں ہی میں نکلتے ہیں ۔ 
لیکن رات کو سانپ کے ڈسے کی موت کا میں نے تو اپنے علاقے میں سنا نہیں ۔ 
ہاں لیکن ایسا گر کہیں ہوا بھی ہو تو عجب نہیں ۔
تربوز اور خربوزے کے کھیتوں میں چوری  کرتے لڑکے اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ اتنا ہی مال توڑا جائے کہ جتنا کھا لیں ۔
ناں کہ اجاڑ ڈالیں ۔
اور باڑے کے رکھوالوں کو بھی علم ہوتاتھا کہ کس کس کے بچے اج تربوز یا خربوزے کھا کر گئے ہیں ۔
باڑے کا رکھوالا ، للکارا مارا تھا
کون او تسی!!۔
اور لڑکے بھاگ  جاتے تھے۔
اگلے دن ان لڑکوں کے والدین اطلاع مل جاتی تھی اور " پنشمنٹ " لڑکے کے ابا جی کر لیا کرتے تھے ۔
باڑےکے رکھوالے کو بندوق کے زور پر باندہ کر خربوزے کھانے کا رواج تو بہت بعد میں ایا تھا جی ۔

2 تبصرے:

رضوان خان آفریدی کہا...

خاور بھائی اپ نے تو بس تہیہ کیا ہوا ہے ہمیں رلانے کا۔ یہ بلاگ پوسٹ گذشتہ پوسٹ کا تسلسل معلوم ہوتی ہے ۔ سچ بتاؤں تو دونوں پوسٹ میں نے دو بار پڑھیں اگرچہ بہت غمگین کر گئی لیکن جس طرح سے آپ نے اپنی یادوں کا نقشہ کھینچا ہے، تخیل کی آنکھ سے اس میں جھانکنا بہت اچھا لگا۔ انسان کے اختیار میں سب کچھ ہے لیکن "وقت" انسان کے اختیار میں نہیں۔ لگتا ہے خاور بھائی آپ نوسٹالجیا کی اسی کیفیت سے گذررہے ہیں جو کبھی کبھی ہم پر بھی طاری ہوجاتی اور ہمیں اداس کردیتی ہے۔ لیکن جو ایک بہت عجیب سی بات ہے وہ یہ کہ اس کیفیت سے نکلنے کے بعد ایک عجیب سی مسرت اور اطمینان کی لہر سی محسوس کرتا ہوں۔ شاید یہ بھی قدرت کا ایک میکنزم ہوں۔ انسان کے تحت الشعور میں مثبت اور خوشگوار یادوں کا احساس گہرا ہوتا ہے بہ نسبت ناگوار یادوں کے۔ کیونکہ یہ قدرت کا ایک احسان عظیم ہے انسان پر کہ انسان کے حافظے میں سے وقت کے ساتھ ساتھ وہ یادیں معدوم ہوجاتی ہیں جن کے ساتھ کچھ المناک یا ناخوشگوار ربط جڑا ہو کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کے لئے اسکی زندگی عذاب اور یہ دنیا جہنم بن جائے۔

Seema Aftab کہا...

دل کو چھو لینے والی تحریر۔

Popular Posts