سوموار، 23 ستمبر، 2013

دانش علم اور عقل

جاپان میں ایک سیاسی جماعت کے عہدے دار ہیں جی اعجاز رفیق صاحب ۔
ایک دن انہوں نے سوال جڑ دیا کہ
خاور صاحب دانش ور ، اور ادیب میں کیا فرق ہے؟
اعجاز رفیق کو تو میں نے اس جواب پر ٹرخا دیا کہ
دانش ور وہ ہوتا ہے  ، جس کے پاس دانش ہو
اور ادیب وہ ہوتا ہے ہے جو ادب لکھے۔
لیکن اج بات کرتے ہیں کچھ
دانش پر ، عقل پر اور علم پر
کہ
عقل مند وہ ہوتا ہے جو
موجود اور رائج کی سمجھ رکھتا ہو اور اس علم سمجھ سے فائدے اٹھاتا ہو ۔
 عقل مند اپنی زندگی کو مطمعن بناتا ہے ، موجود اور رائج  کاروباری معاملات معاشرتی معاملات کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرکے۔

دانش ور وہ ہوتا ہے 
جو موجود اور رائج کی کی سمجھ بھی رکھتا ہو اور اس موجود اور رائج سے مطعمن بھی نہ ہو۔
دانش ور کی سوچ میں ایک اضطراب ہوتا ہے ۔
دانش ور کا یہ اضطراب اس کو مسلسل ، موجود اور رائج چیزوں میں بہتری لانے پر مضطرب رکھتا ہے!۔
حتی کہ دانش مند ایک عقل مند کی عقل کو بھی بدلنا چاہتا ہے۔
عالم علم رکھتا ہے
اس کی مثال اس طرح دیتے ہیں کہ
عالم علم رکھتا ہے کہ
سچ ، معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے ایک ضروری چیز ہے
اور جھوٹ ، معاشرے کے لئے زہر ہے۔
عالم صرف اس چیز کا علم رکھتا ہے
لیکن عقل مند اس چیز کو سمجھتا ہے اور سچ کو اپنا لیتا ہے
اور جھوٹ کو چھوڑ دیتا ہے
لیکن دانش ور
اس بات کا بھی ادراک رکھتا ہے کہ  سچ اور جھوٹ کی سرحدیں کہاں ملتی ہیں ۔
سچ کہاں تک سچ ہے اور اس سچ اس سے بھی زیادہ کیسے خالص کیا جائے کہ سچ کا  امرت معاشرے کی جڑوں تک اتر جائے کہ سچ کا ثمر نسلوں تک جائے
اور جھوٹ کے زہر کو کیا کیا جائے کہ جھوٹ کو کونے میں لگا دیا جائے۔
جھوٹ سے نفرت پیدا کی جائے کہ جھوٹ کے نقصانات سے اگاہی ؟
اسی اضطراب کا نام ہے دانش!!۔
زندگی کی حقیقتوں اور صداقتوں کے ساتھ ساتھ زندگی کی قباحتوں اور کراہتوں کی سمجھ رکھنا ہی عقل مندی  نہیں ، بلکہ ان چیزوں کو اور اپنی ضرورتوں کو سمجھ کر، مفید کو اپنانا اور مضر کو چھوڑنا عقل مندی ہے۔
لیکن دانش ان سے بھی اوپر کی چیز ہے کہ مضر سے اجتناب تو کرتی ہی ہے لیکن مفید سے بھی اضطراب مں مبتلا ہوتی ہے کہ ، مفید کو مفید تر کیسے بنایا جائے ۔
عقل اور آگاہی زندگانی کے بند دروازے کھولتی ہے
اور عقل ؟
مال بنانے اور املاک پر قبضہ کرنے کو تنہائی کا علاج بتاتی ہے یا پھر دوسروں سے تعلق کو !۔
لیکن لوگوں کی صحبت ایک حد کے بعد ناقابل اعتبار ہو جاتی ہے اس لئے لوگ مال اور جائیداتوں کی صحبت میں جا بیٹھتے ہیں ،
یا پھر کتابوں کی دوستی میں غرق ہو جاتے ہیں
اور کچھ ناقص عقل والے میکدے کا رخ کرتے ہیں  ۔
لیکن دانش
زندگانی کے وہ راگ بھی سناتی ہے کہ جو عقل کی پرواز سے بہت وراء ہوتے ہیں ۔
دھوپ کی تپش میں سورج کا دیپک راگ، محسوس کرتے ہیں توپھولوں کی مہک اور رنگوں میں درختوں کو ملہار گاتے دیکھتے ہیں ۔
چٹانوں کے چٹکنے اور بجنے میں تلنک راگ اور جھیل کی لہروں میں کیدار کو سنتے بھی ہیں ، پہاڑوں کا پہاڑی راگ سننے دیکھنے اور محسوس کرنےکو دانش درکار ہوتی ہے
اور دانش ، آتی ہے اضطراب سے!!!۔
کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ ترے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

2 تبصرے:

گمنام کہا...

Pakistan bans Ahmadi’s circumcision
http://rorolia.wordpress.com/2013/09/23/pakistan-setup-watchdog-to-look-for-ahmadis-circumcision/

azeemaj کہا...

دانش ، آتی ہے اضطراب سے!!!

خوب

Popular Posts