اتوار، 29 ستمبر، 2013

الفاظ کی ساخت

اگر بات کریں سکول میں گزارے تعلیی سالوں کی تو؟ اس وقت اردو میں بلاگ لکھنے والوں میں سب سے کم سال میں نے سکول میں گزارے هیں ـ
یه نہیں که میں بڑا ذهین تھا اور ایک ایک سال میں پٹوسیاں مارتا دو دو جماعتیں پاس کرتا گیا تھا۔ اس لئے کم سالوں میں زیادہ جماعتیں پاس کر لیں۔

 حقیقت یہ ہے که تکینک کی ترقی نے مجھے بھی اھل قلم میں شامل کر هی دیا ہے
کمپیوٹر کی تکنیک نے انٹر نیٹ کی تکنیک نے!۔
ورنہ میرے لکھے کو کس نے شائع کرنا تھا؟

اھل قلم جو زمانے کو الفاظ دیتے هیں ، الفاط رائج کرتے هیں
منو بھائی نے اپنے ایک ڈرامےسونا چاندی میں ایک لفظ دیا تھا '' بے فضول '' منو بھائی کا مقصد ایک لطیفه تھا
لطیفه نکلا ہے لطیف سے ، لطیف سی هوا
که نظر نهیں آتا اور دل کو چھو کرگزر جاتا ہے
یا کثیف سمجھ والوں کا نهیں لطیف سمجھ والوں کا کام ہے لطیفے کو سمجھنا
بے فضول جو که فضول ناں هو
اردو میں یه لفظ هی نهیں بنتا
لیکن بعد میں کسی انٹرویو میں منو بھائی نے اس تاسف کا اظہار کیا تھا که انہوں نے تو ایک لطیف سا مذاق کیاتھا لیکن معاشرے میں یه لفظ رائج هو گیا ہے
اردو مين بلاگ لکھنے والے یا وکی پیڈیا پر علمی کام کرنے والے لوگ بھی اب اس پوزیشن میں هیں که الفاظ کو رائج کرسکیں
لیکن سب سے پہلے تو ان لکھنے والوں کو احساس هونا چاھیے که یه کر کیا رہے هیں
ایک بلاگ لکھنے والے کا مقصد کومنٹ کا انتظار نهیں هونا چاھیے
بلکه یه سوج هونی چاھیے که انے والے زمانوں کے لوگ اپ کی تحریر پڑھ کر کیا سوچیں گے
جیسے که یه لوگ کیا کھاتے تھے کیا پہنتے تھے
ان کے عمرانی رویے کیا ھے
کن چیزوں پر ھنستےتھے اور کن پر مذمت یا پھر کڑتے تھے
وغیرھ وغیرھ
اگر کومنٹ کا حصول هی هو تو متنازعه موضوعات پر لکھيں
بدنام جو هوں گے تو کیا نام ناں هو گا
بد بن کے نام پیدا کرنا اسانی پسند لوگوںکا کام ہے اور مزے کی بات ہے که ان کو جب اس بات کا احساس هوتا ہے که یه راھ تو کانٹوں بھری ہے تو اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا هوتا ہے
میںاس دفعه جب دوبارھ جاپان ایا هوں تو دیکھا که لوگوں نے اکروں کو سکریپ کرنے کے کارخانے لگا لیے هیں جس کو سب لوگ کھائیتائی کہتے هیں کیونکه جاپانی میں یه لفظ رائج هے
اور یا پھر یارڈ کا لفظ رائج ہے
اور جو لوگ صرف گاڑیوں کی خرید فروخت کرتے هیں وه اپنی جگه کے لیے لفظ استعمال کرتے هیں پارکنگ
جاپان میں پاکستانی لوگ امیر تو هیں لیکن اھل علم نهیں هیں
لیکن زیادھ تر خود کو عقل کل سمجھتے هیں
سمجھیں بھی کیوں ناں جی که ایک بندھ ڈکریاں لے کر سالهاسال سکول جا کر ایم بی اے کرکے بزنس میں آتاهے اور یہان جاپان میں میری طرح کا ایک بندھ انڈر میٹرک گاڑیوں کے کام میں آتا ہے
نوے کی دھائی میں گاڑی مفت مل جاتی تھی جو که افریقه یا لاطینی امریکه جا کر دس هزار ڈالر کی هوتی تھی
هر مہنیے پندرھ بیس گاڑیاں ایکسپوٹ کرنے والا
اور کچھ هی سالوں میں انٹرنیشنل لیول کا بزنس میں بن جاتا هے تو جی
ایسا بندھ هوا ناں جی عقل کل ؟
اب ایسا بندھ ایم بی اے کیے هوئے ڈگری هولڈر کو ملازم رکھ سکتا ہے
تو ایسے عقل کل لوگوں کو ڈیل کرنا بھی بڑا مشکل ہے
خاص طور پر اگر آپ امیر نهیں هیں تو
پچھلے سال میں نے بھی کوئی ادھا ایکڑ زمین کرائے پر لے کر اس میں ورکشاپ سی بنائی اور جس نے بھی پوچھا که کیا کررهے هیں تو میں نے بتایا که ورکشاپ بنا رهاهوں
تو ایک دفعه تو اس نے چونک کر دیکھا اور بہت سے نے دھرایا
ورک شاپ
ان دنوں میں کتنے هی لوگوں سے اپنی اپنی جگه کھائی تائی هو که یارڈ کو ورکشاپ کہنے کا سن رها هوں
بارپی کیو کو هماری بولی میں تکه پارٹی کہا کرتے تھي لیکن میرو جاپان کے پچھلے زمانے میں کیونکه همیں بھی انگریزی کا شوق تھا اس لیے تکه پارٹی کو باربی کیو هی کہا اور یه لفظ کیونکه جاپانی زبان میں بھی رائیج تھا اس لیے سب نے اس کو باربی کیو هی کها
اس دفعه جاپان انے کے بعد بہت سے لوگوں کو تکه پارٹی کرتے دیکھا
اور میں نے تکه پارٹی کا لفظ بولا تو پہلے پہلے تو لوگوں کو اجنبی لگا لیکن اب کچھ دوست باربیکیو کو تکه پارٹی کہنے لگے هیں
جاپان زبان میں بھی کئی الفاط هیں که ان کو پنجابی میں مثال دے کر لوکوں کو اکر بتایا تو وهی ان کی زبان پر چڑھ گیا
میں ان الفاظ کی تفصیل نهیں لکھوں گا کیوں که جاپانی ناں جاننے والوں کے لیے ایسی بات بے مقصد سی هو جائے گي
اس تحریر کا مقصد یه نہیں ہے که میں بہت سیانا هوں بلکه اس کا مقصد یه بتانا ہے که هماری قوم کا اپنی زبانوں کا زخیرھ الفاظ بھی کم هوتا جارها ہے
اکر کوئی شخص خوش قسمتی سے ایسے ماحول میں پلا بڑھا ہے که جہاں پشتو پنجابی ،سندھی سرائیکی یا بلوچی کے الفاظکو سمجھنے کا موقع ملا ہے تو ایسے بندے کو باھر نکل کر احساس هوتا ہے که پاکستان کے لوگوں کا زخیرھ الفاظ گھٹتا جارها هے

4 تبصرے:

جوانی پِٹّا کہا...

مفت کی گاڑی جنوبی امریکہ اور افریقہ میں دس ہزار کی!
کیا بات ہے۔

اب سمجھ آئی کہ جاپان جانے والے کیسے راتوں رات امیر ھوئے ھیں۔ پورا شہر سمجھا کرتا تھا کہ شائد پوڈر کا کام کرتے ھیں۔

Arshad کہا...

بہت سے نابغے مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے اپنے فن اور صلاحیت کے باوجود بے نامی کی زندگی گزار کر گمنامی کی موت مر جاتے ہیں۔

Muhammad Shakir Aziz کہا...

ذخیرہ الفاط گھٹتا نہیں ذخیرہ الفاظ بدلتا جا رہا ہے۔
ذخیرہ الفاظ گھٹتا اس وقت ہے جب کانسپٹ، تصورات، خیالات کم پڑ جاتے ہیں جن کو نام دینا ہو۔ تب لفظوں کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ زبان بدلنے کی بڑی وجہ بدلتا زمانہ بھی ہوتا ہے۔

محمد سعد کہا...

میں نے تو کچھ ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں کہ جن کا ذخیرۂ الفاظ بدلا نہیں بلکہ واقعی کم ہے۔ نہ ان کو اپنی زبان اچھی طرح آتی ہے، نہ پرائی۔
O_O

Popular Posts