ہفتہ، 28 ستمبر، 2013

میرے ہم جنس


کند ہم جنس باہم جنس پرواز ۔ چڑی بہ چڑی باز بہ باز۔
فارسی کے اس مقولہ کا سوا ستیاناس کیا ہے جی
ورنہ دوسرا حصہ ہے
کبوتر بہ کبوتر ، باز بہ باز
جنس " کا لفظ میں نے پہلی بار اپنے بچپن میں ، اپنے دادا جی کے منہ سے سنا تھا۔"
انہوں نے یہ لفظ گندم کی جنس کے متعلق کہا تھا۔
وڈانک نام کی گندم کی زندگی کے اخری سالوں کی بات ہے جب امریکی گندم نئی نئی پاکستان میں آئی تھی۔
وڈانک کے پودے اتنے بڑے ہوتے تھے کہ کھڑا ہوا آدمی ان میں نظر نہیں اتا تھا
وڈانک سے بھوسا زیادہ اور دانے کم نکلتے تھے۔
اور امریکی گندم کا بوٹا چھوٹے قد کا ہوتا ہے
یعنی کہ بھوسا کم اور دانے زیادہ۔
بھوسا کم ہو ا تو جانوروں کا کھانا کم ہوا اور انسانوں کا کھانا زیادہ ہوا۔
اگر کوئی لائی مخلوق یا عمارے جانور بولنے کے قابل ہو تا ہم انسانوں کو انسانوں کا ہم جنس کہیں گے
کہ جیسا ہم ان جانوروں کو ان کی جس کی وجہ سے ہم جنس کہتے ہیں ،۔
کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز
گندم کی جنسوں کا دادا جی سے بچپن میں سنا ہوا ہے کہ
میں جنس کے لفظ کو کسی چیز کی " قسم" کے طور پر ہی لیتا ہوں۔
جسن کا انگریزی ترجمعہ سیکس ، تو لفظوں  کی معونیت ہی بدل دیتا ہے
ایک لطیفہ
کہ
سکول سے واپس آئی چھ سات سالہ بچی نے ماں سے پوچھا کہ
ماما وٹ از دا سیکس؟
ترقی یافتہ قوم کی ماں نے سوچا کہ بچی سکول جاتی ہے اس کو ان باتوں کا علم ہو ہی جانا ہے اس لئے بچی کو حقیت بتا دینی چاہیے اس لئے ماں نے اس کو بتایا کہ
وہ عمل جو میں نے اور تمہارے پاپا نے کیا تھا تو تمہاری ولادت ہوئی تھی!!!۔
بچی کا منہ بن گیا اور روہنسائی سی ہو کر اس نے ایک فارم ماں کو دیکھایا کہ تیچر نے یہ فل کرکے لانے کا کہا تھا
اس میں ایک چھوٹا سا خانہ سیکس کا بھی ہے
اب اتنی لمبی بات میں اس چھوٹے سے خانے میں کیسے لکھوں گی؟
اس لئے
جسن کے لفظ کو اگر جنس کے ہی معنوں میں لیا جائے تو جی ہو چیز کی کوئی جنس ہوتی ہے
انسان انسان کے ہم جنس ہوتے ہیں تو کبوتر کبوتر کے ہم جنس!!۔
میں جو کہ اردو کا ایک بلاگر ہوں !!!۔
میرے ہم عصر دوسرے اردو بلاگر میرے م جنس بھی ہوئے
اور میں ان سب کو پسند بھی کرتا ہوں ۔
لیکن اس کا مطلب وہ والی ہم جنس پرستی نہیں ہو گا۔
جس کو انگریزی سے ترجمعہ کرتے ہیں ۔
قارئین اگر اپ میرے ہم جنسی کی ڈیفینیشنز کو قبول کر لیں تو؟
خاور بھی ایک ہم جنس پسند بندہ ہے جو کہ اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر رہتا  ہے
اردو کی بلاگنک کیا ہے ؟
کیا اپ کو علم ہے کہ اردو کی انٹر نیٹ کی دنیا میں بہت سے لوگ ایک نیا ادب لکھ رہے ہیں ۔
اور بغیر کسی لالچ کے لکھ رہے ہیں ۔
ان کے لکھے کو اپ اخباروں میں لکھنے والے پیشہ وروں میں سے کسی بھی تقابل کر کے دیکھ لیں
کوئی فرق نظر نہیں ائے گا
اگر کوئی فرق نظر بھی ائے گا تو یہ
کہ
ایک بندہ پیسے لے کر لکھتا ہے اور پیسے کی گرمی سے پر اعتماد ہے اور دوسرا بندہ ( بلاگر) بے لاگ لکھ رہا ہے
اس لئے بلاگر کے لکھے میں ہمکار نہیں ہے
 مندجہ ذیل لنک پر کلک کر کے دیکھیں کہ
http://urdu.gmkhawar.net/
اردو میں بلاگ لکھنے والے کیسا لکھ رہے ہیں ؟
میں فرداً فرداً سب کے نام لکھ کر اپ کا وقت برباد نہیں کروں گا لیکن خود سے دیکھیں کہ اردو کی ایک عجب دنیا بسائی ہوئے ہے انہون نے!!۔
کیا اپ اس دنیا سے واقف ہیں ؟
تو پھر اپ میڈیا کے ذہنی غلام بنتے چلے جائیں گے۔
میڈیا کی ذہنی غلامی سے بچنا ہے تو
ان ازاد لکھنے والوں کو بھی پڑھیں
اپ اردو کے سب رنگ کی لسٹ پر نظر روڑاہیں
اور پھر ساتھ میں اجاگر تحاریر کو پڑہیں ۔
اپ کو ایکٹو بلاگر اور سست بلاگر نظر آئیں گے۔
اپ نے خود اس بات کا اندازہ کرنا ہے کہ کس کے علم سے اپ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
اردو کے سب رنگ کوئی ایک سائیٹ نہیں ہے بلکہ ڈیڑھ سو بلاگروں کے ڈیڑہ سو سائیٹوں کا مجموعہ ہے، جہاں سے اپ ان سب کی سائٹوں ایکسس کرتے ہیں ۔
یہاں اپ کو بلاگ بنانے کی مدد کرنے والے بھی مل جائیں گے اور ان بلاگروں کی محفلیں جمانے والے بھی مل جائیں گے
آئیں
اگر اپ اس بلاگ تک پہنچ ہی گئے ہیں تو
اج سے
اردو کے بلاگورں سے تعارف حاصل کریں ۔
کہ انتر نیٹ صرف چند اخباروں کی سائیٹوں کا ہی نام نہیں ہے
بلکہ
سوشل میڈیا تو ہیں ہی یہ بلاگر!!۔
http://khawarking.blogspot.jp/2012/10/blog-post_21.html
یہ ہے سوشل میڈیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts