پیر, مارچ 5, 2007

دهاتوں کی بهوک

جاپان هم اردو پڑهنے والے لوگوں کے لیے ایک اجنبی سا ملک ہے ـ کیونکه اردو میں جاپان کے متعلق کم هی لکها جاتا هے ـ
اردو پر هی کیا منحصر انگریزی میں بهی کم هی لکها جاتا هے ـ
بی بی سی جو که انٹرنیشل معاملات کو اجاگر کرنے میں ایک لیڈر اداره هے جاپان کے معاملے میں بی بی سی بهی کم هی لکهتا هے ـ
شاهی خاندان کے متعلق کبهی کبهی یا پهر سالانه تہوار تو کبهی نه کبهی میڈیا ميں آ هی جاتے هیں ـ
میں کوشش کروں گا که جاپان میں ہونے والے عام سـے واقعات کو لکهوں ـ
قارئین کے تبصروں اور تنقید کا انتطار رہے گا ـ
اج کل یہاں جاپان میں دهاتوں کی چوری کی وارداتیں بہت هو رهی هیں ـ
پیتل تانبا سٹیل لیس سٹیل خاص طور پر سٹیل لیس سٹیل کی چوری ـ
کچھ سال پہلے تک لوہا اِدهر اُدهر بکهرا هوا هوتا تها جس طرح که ستر کی دهائی کے شروع میں پاکستان میں هوتا تها ـ
اس دفعه جب میں جاپان ایا تو پته چلا که لوها بهی بکنے لگا هے ـ
جاپان میں کباڑیوں سے تعلقات رہے هیں ـ میری جاپان میں گارنٹی بننے والے صاحب هی کباڑی تهے ـ
وه صاحب لوہا مفت بهی نہیں لیا کرتے تهے که جگه گهیرنے کا باعث بنتا ہے ـ مگر اب لوہے کی بهی ایک قیمت ہے ـ پچیس ين کلو کے یعنی تیره روپے پاکستانی ایک کلو لوہے کے ـ
بات کرنا چاهتا هوں دهاتوں کی چوری کی پچهلے دنوں میں نے ٹوٹنیوں کی چوری کا لکها تها اس کے بعد ایک تسلسل سے ٹی وی پر دهاتوں کی چوری کی خبریں آ رهی هیں ـ میرے گهر سے دوسرا اسٹیشن هے کُوری هاشی ، کوری هاشی میں پارک سے بچوں کے کهیلنے والی ایک قسم کی سیڑهی جس پر پهسلا جاتا هے کی سٹیل لیس سٹیل کی بنی هوئی پهسلن چوری هو گئی هے ـ
اردو میں اس پهسلن کو کیا کہتے هیں مجهے معلوم نہیں مگر پنجابی میں هم اس کو کِیسی کہتے هیں ـ ایک قسم کی سیڑهی جس پر چڑه کر دوسری طرف پیٹھ کے بل پهسلتے هوئے نیچے اترتے هیں ـ
اس سیڑهی کی پهسلنے والی جگه جاپان میں سٹیل لیس سٹیل کی بنی هوتی هے ـ
اور کری هاشی میں دو پارکوں سے چوری هو کئی هیں ـاس کے علاوه اباراکی اور سائتاما کین کے باهر کی کینوں سے بهی اسی طرح کی خبریں آرهی هیں ـ
سڑکوں کے کنارے لگے هوئے روکاوٹ کے پائپ بلکه ایک جگه سے قبرستان سے دیے اور پهول رکهنے والی سٹیل کی ٹرے کی چوری کی بهی خبر آئی هے ـ
بجلی کی تاروں کی چوری کی خبریں بهی هیں بجلی کے کهنبے پر چڑھ کر بجلی کاٹ کر تاروں کی چوری ـجاپان میں ابهی بهی بجلی کی ترسیل کے لیے تانبے کی تاریں استعمال کی جاتی هیں ـ
دهاتوں کی چوری کی ان وارداتوں کے ڈانڈے ملائے جارہے هیں اگلے سال چین میں ہونے والے بیجنگ اولمپک سے ـ
جی هاں بیجنگ اولمپک اور چین ـ که چین کو ان دنوں اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکهنے کے لیے دهاتوں کی ضرورت ہے ـ
اس لیے جاپان میں میں لوہے جیسی بے قدر جنس بهی بکنے لگی هے ـ میرے فرانس سے نکلنے تک فرانس میں لوهے کا سکریپ بے قیمت تها کچھ هی دن پہلے مجهے ایک سائٹ پر لوهے کی وائر ملی تهیں جو که میں کباڑی کو پاس لے کر گیا تها تو اس نے کہا که ویسے تو ہم لوہا پهینکنے کے خواهش مندوں سے پیسے لیتے هیں لیکن کیونکه تم تانبا لانے والے مستقل کلائنٹ هو اس لیے تم اسے مفت میں پهینک جاؤـ
چائنا کی دهاتوں کی یه بهوک کیا دنیا بهر میں دهاتوں کی قدر بڑها دے گی یا صرف ایشیا کے بر آعظم تک محدود رہے گي؟؟
اسٹریلیا لوہا ایکسپورٹ کرنے والا ملک هے اور چین سے دور بهی نہیں کیا اسٹریلیا کا لوها چین کو ری سائیکل کیے هوئے سے مہنگا پڑتا ہے ؟
جاپان میں کچھ سال پہلے تک اسٹریلیا کا لوہا ریسائیکل کے لوہے سے سستا پڑتا تها میرے خیال میں جاپان کی مہنگی مزدوری اس کا باعث هے اور چین کی سستی لیبر کے باعث لوها ایمپورٹ کرنے کی بجائے ری سائیکل کرنے کو ترجیح دیتی هے ـ
بہرحال ان دنوں جاپان مین دهاتیں چوری هو رهی هیں اور جاپانیوں کے خیال میں یه دهاتیں چین جارهی هیں ـ چین کی دهاتوں کی بهوک جاپان میں جرائم شرح برهارهی هے ـکچھ سال پہلے تک جاپان کے مسائل میں سے ایک مسئله یه بهی تها که کچرا کیسے ٹهکانے لگایا جائے مگر اج کچرے کے علاوه بهی چیزیں ٹکانے لگ رهی هیں ـ

4 تبصرے:

منیراحمدطاہر کہا...

بہت خوب! ہم تو سمجھتے تھے کہ ایسی حرکتیں صرف پاکستان میں ہی عام ہیں ، خیر سے جاپان بھی اب ہماری ہم سری پر تل گیا ہے۔
یہ سارا میڈیا کا ہی جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے، جاپان کا میڈیا ایسی خبریں اوپر نہیں آنے دیتا جبکہ ہمارا میڈیا ماشاءاللہ بات کا بتنگڑ بنانے میں خاصی مہارت رکھتا ہے۔

آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرنا جوئے شیر کے مترادف ہے۔ آپ سے ایک درخواست کی تھی کہ میرے بلاگ ‘اپنا ڈیرہ‘ کا ایڈریس تبدیل ہو گیا ہے برائے مہربانی ‘اردو کے رنگ‘ میں نیا ایڈریس فیڈ کر دیں نوازش ہو گی۔
ایڈریس یہ ہے۔ http://apnadera.isgreat.org/
ویسے اس سلسلے میں آپ کو میل بھی کر چلا ہوں۔

Afzal کہا...

اس کا یہ مطلب ہے کہ جاپانی اب اتنے غریب ہو رہے ہیں کہ وہ لوہے کی چوری کرنے لگے ہیں۔ ذرا یہ بھی معلوم کرکے بتایئے گا کہ چون کس قسم کے ہیں۔

خاور کھوکھر کہا...

جناب منیر احمد طاہر صاحب
میں نے آپ کے بلاگ کی فیڈ منیر احمد طاہر کے نام سے اسی وقت هی شامل کر دی تهی جب آپ نے مجهے میل کیا تها ـ
اس ٹیمپلة مين شائد کو'یی نقص ہے که خود میرا بلاگ بهی اس پر ظاہر نہیں هو رها ـ
اگر کو'یی صاحب اس تکنیکی معاملے کو سمجهتے هوں تو مجهے پلیز گائڈ فرنما دیں ـ
مہربانی ہو گي ـ

بدتمیز کہا...

سلام

منیر احمد طاہر کی پوسٹ اردو کے رنگ میں شامل کرنے کے لءے اس لنک کو استعمال کر کے دیکھیں

http://apnadera.isgreat.org/?feed=rss2

اپنے بلاگ کے لئے اس لنک کو استعمال کر کے دیکھیں اور مطلع کریں کہ کام ہوا یا نہیں

http://khawarking.blogspot.com/atom.xml

Popular Posts