بدھ, فروری 28, 2007

گوگا لوہار

اگر آپ امریکه اور یورپ ميں رہنے والے پاکستانیوں کی تعداد کو جاپان میں رہنے والے پاکستانیوں سے کامپیئیر کریں تو یہاں پاکستانیوں کی تعداد بہت هی کم هے ـ یعنی ایک اندازےکے مطابق تقریباً دس ہزار ـ پچهلی صدی کے آٹهویں عشرے میں پاکستانیوں نے جاپان آنا شروع کیا تها ـ
شروع میں آنے والے یہاں بهیک مانگا کرتے تهے ـ
کچھ اس طرح کرتے تهے که ایک کاغذ پر جاپانی تحریر میں ایک مضمون لکها هوتا تها جیسا که گونکے اور بہرے مانگنے کے لیے لکھ لیا کرتے هیں ـ
که میں ایک سٹوڈنٹ ہوں اور اس ملک کی مہنگائی کا مقبله نہیں کر سکتا مہربانی کر کے مجھ سے پنسلیں سینریاں یا کچھ اسی قبیل کی جیز ہوتی تهی وه خرید لیں ـ
اور جاپانی ترس کها کر ان کو پیسے دے دیا کرتے تهے ـ
اس کو بعد کچھ لوگوں نے فیکٹریوں ميں کام لگوانے کا کام پیسے لے کر کرنا شروع کیا ـ
ان لوگوں کو ایجنٹ کہا کرتے تهے ـ
میں خود ایک ایجنٹ کو پانچ سو ڈالر دے کر کام پر لگا تها ـ
منیر نام کا یه ایجنٹ گوجرانواله شہر کے محلے وحدت کالونی کا رہنے والا تها ـ
میں نے جلد هی زبان سیکھ لی تهی اور لوگون کو کام پر مفت لگوانا شروع کردیا تهاـ لیکن مجهے ایجینٹوں سے ڈر بهی لگتا تها اس لئے میں جس کو کام پر لگواتا تها اس کی منت بهی کرتا تها که کسی کو بتانا نہیں ـمگر بات تو نکل هی جاتی هے ـ منیر کو پته چل گیا تها اور منیر لوگ مجهے مارے کے لئے بهی آئے تهے لیکن میری حمایت میں کچھ لوگ اُٹھ کهڑے هوئے کیونکه اس وقت تک میری کی نیکیان اُگ چکی تهیں اس بات نے مجهے بہت حوصله دیا اور میں نے کهل کر فیکٹیوں کے مالکان سے پوچهنا شروع کردیا که اگر ان کو بندے کی ضرورت هو تو مجهے بتائیں اور لوگوں کو کام پر لگوانے کاکام جاری رکهاـ
اس وقت میں کہا کرتا تها که کسی بهی ملک نسل اور رنگ کا بنده ہمارے گهر پر آکر مدد کے لیے کہے میں اس کی مدد کروں گا ـ
لیکن بعد میں کچھ اس طرح کے حالات بنے که میں اس اس ماٹو کو بدلنے پر مجبور ہو گیا ـ
اس کے بعدمیرا ماٹو ہو گیا تها که سوائے تلونڈی کے جاٹ چیموں کے دنیا کےکسی بهی ملک نسل اور رنگ کا بنده ہمارے گهر پر آکر مدد کے لیے کہے میں اس کی مدد کروں گا ـ
عبدالرحمن
غالباً انیس سو اکانوے کی بات ہے که ہمارے دوستوں ميں ایک حافظ صاحب هوا کرتے تهے ـ یه حافظ صاحب گوجرانواله کے سنیارے تهے ـ
ایک دن حافظ صاحب ایک جوان لڑکے کو لے کر آکئے که یه لڑکا نیا آیا هے اور اس کا جاننے والا کوئی نہیں هے ـ
اس لئے اس کو کام پر لگوائیں اور ہر ضروری مدد کریں ـ
یه لڑکا تها عبدالرحمن اور اس تعلق ہے کوٹله ارب علی خان سے عبدالرحمن کی طبیت بہت هی ملنسار تهی اس ليے یه ہم میں کچھ ذیاده هی گهل مل گیا ـ
عبدلرحمان کے کام کا جہاں انتظام ہوا وه جگه ہمارے گهر سے سینکڑں کلومیٹر دور تهی مگر عبدلرحمان ہر چُھٹی پر آ جایا کرتا تهاـ
آج جب میں باره سال گے بعد اس ملک میں رہنے کے لیے آیا هوں تو عبدلرحمان اور شہزاد احمد گوگا اس پوزیشن میں ہے که میری اس سے زیاده مدد کرسکے جتنی که ہم کیا کرتے تهے ـ
اور عبدلرحمان کر بهی رہا هے ـ
گوگا
اصل میں عبدلرحمان رہتا هے گوگے لوہار کے ساتھ
شہزاد احمد بهٹی عرف گوگا لوہار تلونڈی کا ہے اور ہمارا پڑوسی بهی هے ـ ہمارے گهر اور ان کے گهرکی دیوار بهی ساتھ جُڑی هوتی اگر درمیان میں مرزائیوں کی مسجد نه هوتی ـ
پچهلی تین نسلوں سے گوکے اور ہمارے خاندان کے تعلقات کچھ اس طرح سے اچهے هیں که ہم ایک هی برادری کے لگتے هیں ـ
گوگا بهی ہمارا آپناهونے کی وجه سے ہمارے پاس هی اباراکی والے گهر میں جاپان آیا تهاـ
میں نے جاپان میں رہنا تو چهوڑ دیا تها مگر آنا جانا لگا رہتا تها ـ
جب تک گوگا اباراکی میں رها ملاقات هوتی رہی پهر بعد میں گوگے نے اباراکی کو چهوڑ کر ائی چی کیں کے شہر ناگویا میں رہائیش لے لی ـ
جو که اباراکی کے شہر کوگا سے چار سو کلومیٹر دور ہے ـ
میں گوکے اور عبدلرحمان کو ملنے کے لئے ناگویا آیا هوا هوں ـ
عامر گورایه
یہیں عامر گورایا سے بهی ملاقات هو گئی عامر گورایا کے ننهیال ہمارے گاؤں میں هیں ـ
یه سب صاحبان جاپان میں اپنے اپنے کاروبار کر رہے هیں ـ
اقتصادی طور پر مضبوط هیں اور خود اعتماد بهی ـ

2 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

خوش قسمت ہیں آپ جو آپ کی نیکیاں کام آرہی ہیں اور آپ کے پرانے دوست اب بھی آپ کو پہچان رہے ہیں وگرنہ پردیس میں تو لوگوں کو لمحہ لمحہ بدلتے دیکھا ہے ہم نے۔

legalrightsforum کہا...

zabardast from Safi

Popular Posts