منگل، 20 فروری، 2007

حالات کی باتیں

معاملات کچھ زیاده هی سلو موشن میں چل رہے هیں ـ وه ناامیدی کی کیفیت نہیں ہے جو که فرانس میں طاری هو جایا کرتی تهی ـ حالانکه مجهے فرانس میں اس ملک کے شہریوں جیسے حقوق حاصل تهے ـ
چهیناجهپٹی اور نفسا نسی كا عالم تو یہاں جاپان كے میں رہنے والے پاكستانیوں میں بهی پایا جاتا هے مگر فرانس كی نسبت كچھ بہتر هےـ
اعلی ترین اخلاقی اصول وں کو یہاں اتنا بهی بیوقوف نہیں بنایا جاتا آدمی کا اخلاقیات سے اعتبار هی اٹھ جائے ـ
یہاں سڑکوں کی پوزیشن ہمارے پنجاب کی دیہاتی کچی سڑکوں جن کو پنجابی میں پہـ یا پہیا کہتے هیں کی رح هے مگر ہمارے پہـ کچے هوتے مگر اِن کے پہـ کولتار سے بنے هوئے هوتے هیں ـ
سڑکوں کی تقسیم میں پہلی قسم اتی هے ''کک دور'' وفاقی حکومت کی بنائی هوئی سڑک جن میں موٹر وے اور وه سڑکیں شامل هیں جو کتنے هی '' کینوں '' یعنی پرفیکچروں میں سے گزرتی هیں ـ
یه سڑکیں بڑی اور کهلی ہوتیں هیں ـ
اس کے بعد هوتی هیں ''کین دور '' یعنی فرفیکچر کی بنائی هوئی ـ
یه بهی بڑی اور کهلی هوتی هیں اور اس فرفیکچر کی حدوں تک هی هوتی هیں ـ
اس کے بعد آتی هیں شہری سڑکیں اور اس کے بعد دیہاتی سڑکیں میں نے آپنی پچهلی پوسٹ میں جو سڑکوں کے تنگ هونے کا لکها تها وه ان دیہاتی سڑکوں کے متعلق تها ـ
کیونکه اب میں نے جہاں رہائیش اختیار کی هے یه ایک دیہاتی علاقه هے ـ
پینڈو تو ہم پاکستان میں بهی تهے اور یہاں بهی پینڈو بن گئے هیں میری فرانس میں ناکامی کی وجه بهی شائد یہی تهی که مجهے بڑے شہروں مں رہنا نہیں آیا ـ
قدیر احمد رانا صاحب نے پوچها تها
که می یو کی کون هے ـ
می یو کی میری بیوی هے ہم تقریباً پندره سال سے اکٹهے هیں ـ فرانس میں بهی هم 99 سے 2001 کے آخر تک فرانس میں رہائیش پذیر تهے که مجهے جیل هوگئی اور می یو کی کو میں نے میکے بهیج دیا تها ـ
مییوکی کا دولتمند باپ میرے خلاف هے اس نے مییوکی کو تقریباً ایک ملین ڈالر کے کیپیٹل کی کمپنی بنا دی که اس طرح مییوکی کو احساس ذمه داری جاپان سے باہر نہیں جانے دے گا ـ
اس کا اندازه ٹهیک هے یا نہیں اس بات سے قطع نظر ہم نے فیصله کیا که جاپان میں رهائیش هی ہمارے لیے بہتر هے ـ
آگر آپ میرے بلاگ کے پرانے پڑهنے والے هیں تو آپ کو میری پرانی پوسٹوں میں کہیں کہیں می یو کی کا ذکر ملے گا ـ
یہاں اباراکی کین میں ایک شہر هي کوگا کچھ سال بہلے اس شہر کے قریبی دیہات سُووا ماچی اور سانوا ماچی کو بهی اس شہر میں شامل کر کے ان کا نام بهی کوگا شہر رکھ دیا گیا هے ـ

کوگا کے سووا ماچی والے علاقے میں ظہیر بٹ کا حلال فوڈ سٹور هے ـ
ظہیر بٹ کا بڑا بهائی مطیع اللّه بٹ ، میرے پہلے جاپان والے دور میں میرا دوست هوا کرتا تها ـ
اس لئے ظہیر کے بڑے بهائی کی دوستی کی وجه سے میں ظهیر کے حلال فوڈ سٹور پرتقریباً روزانه هی جاتا هوں اور یہیں سے انٹر نیٹ کا ایکسیس بهی مل جاتا هے ـ
مختلف لوگوں سے ملاقاتیں بهی هو جاتی هیں اور مستقبل کے کاروبار کرنے کے آییڈیا بهی ـ
دفعتاً فوقتاً اس حلال فوڈ پر ملنے والے اصحاب کا ذکر بهی هوتا رہے گا اور ان کے نظریات کا بهی ـ
مسٹر بدتمیز کے سوال جس میں انہوں نے پوچها تها که پانی کو جذب کرنے والی جاپانی سڑکوں کی تکنیک کیا هے کا جواب ابهی مجهے بهی حاصل نهیں هوا ـ
کسی پروفیشنل سے ملنے کے بعد اس پر بهی تفصیل سے لکهوں گا ـ
انشاء اللّه ـ

5 تبصرے:

شعیب صفدر کہا...

لو تو وہ آپ کی شریک حیات ہیں!!!! بھابی کا ،سلمانی نام کیا ہے؟

شعیب صفدر کہا...

مسلمانی

اجمل کہا...

بہت پرانی بات ہے کسی خاتون نے آپ کھ بٹانے کی کوشش میں لکھا تھا کہ آپ کے بیوی بچے پاکستان میں ہوتے ہیں ۔ تو گویا ان کی بات صحیح نہ تھی

میرا پاکستان کہا...

جاپان کی زبانی کلامی سیر کیساتھ اگر کبھی موقع ملے تو تصویریں بھی چپکادیا کریں اس طرح جاپان کو دیکھنے میں آسانی رہے گی۔
ہمارا تجربہ یہ ھے کہ وہی کاروبار کرنا چاہیے جس کا تجربہ ہو اور اگر تجربہ نہیں ہے تو پہلے تجربہ حاصل کریں پھر سرمایہ لگائیں۔

badtameez کہا...

salam
mai bhe heran tha k janab ko japani language ati hai laiken french seekhnay say guraiz kia. to yeh waja hai japani mai git mit kernay ke :D

Popular Posts