ہفتہ، 7 فروری، 2009

اصلی ایٹمی پاور

٢٠٠٩ کی جنوری کی ٢١ تاریخ کی ایک خبر تھی
توشیبا کی امریکه کو ایٹمی پلانٹ بنا کر دینے کی خواهش ـ
ذرائیع کے مطابق توشیبا کمپنی این آر جی اینرجی کو کھلنے والے ٹینڈر کو اپنے حق میں کھلنے کو امید وار هے
جس میں امریکه ریاست ٹیکساس میں دو ایٹمی پاور پلانٹ لگانے کا سودا ہے ـ
یه ڈیل توشیبا کو ایسی پہلی جاپانی کمپنی بنادے گی جس نے بغیر کسی بیرونی امداد کے جاپان سے باهر ایٹمی پلانٹ بنایا هو گا
اس پلانٹ کی تعیر سے توشیبا دنیا کی سب سے بڑی نیوکلئیر پلانٹ بنانے والی کمپنی بن جائے گی ـ
واشنگٹن الیکٹرک کمپنی کے تعاون سے توشیبا پہلے هی چین اور امریکه میں ایٹمی پاور پلانٹ لگا چکی هے ـ

اور اس خبر کو جاپانی میڈیا نے کوئی بڑھا چڑھا کر بھی بیش نهیں کیا تھا که جی دیکھو جاپان ایٹمی پاور هے که لوگوں کو بلانٹ بنا کردینے کے بھی قابل
صرف یه خبر کیونکه میری دلچسپی کی تھی اس لیے میں نے اس کا اردو میں سمری ترجمعه کر کے جی ایم خاور ڈاٹ نیٹ پر لگایا تھا
میری دلچسپی یه تھی که اردو کے قارئین کو یه دیکھا سکوں که ایک بم دھماکے پر ساری قوم پر جنون هے که اتر هی نهیں رها اور دوسری طر ف ایٹمی بمباری کا هدف بننے والی قوم اج اس قابل ہے که دھماکه کرنا تو کیا بات ہے یہان ایٹمی پلانٹ بنا کر لوگوں کو دینے کے قابل هیں
پاک قوم ایک برتن بنا کر پھولے نهیں سمارهی
اور کمہاروں کے گھر میں چاک لگا هے جتنے جی چاهے بنا لیں ـ
اگر ایٹم کو گھوڑے سے تشبیه دیں تو جی پاکستان کا پروگرام ایسے هی هے که گھوڑا پیدا کیا اور چھوڑ دیا که دولتیاں مارنا تو اس کو اپنے آپ هی سیکھ جائے گا
اور جب یه گھوڑا دولتیاں مارے گا تو دشمن كے ساتھ ساتھ اپنی بھی مرمت هو جائے گی ـ
ناں رهے گا بانس اور ناں بجےگ بانسری ـ
اور خاندانی کمہار گدھے گھوڑوں کو سدها کر رکھتے هیں
جاپان کي پروگرام کی مثال هے که ایسا گھوڑا جس کو لگام ڈالی هوئی هے اور اس کو دشمن کی ٹھکائی کے خواب میں مگن هو کر بس چھوڑ دیا هے ،
گھوڑے کو اپنی خدمت میں لگایا هوا هے اور ایٹمی گھوڑا دن رات کام پر لگا بجلی بنا رها هے جس سے ساری قوم کو ایک آنند مل رها ہے
چاهئے تو یه تھا که جی ایٹمی سائینسدانوں کو عزت دی جاتی اور تقاضا کیا جاتا، جی اب اس گھوڑے کو لگام ڈالو جی کسی کام بھی آئے پاور پلانٹ بناؤ جی قوم کو بجلی ملے اور کام چلیں
لیکن کام چلنے کی سوچ تو کمّی لوگوں میں هوتی هے ناں جی شاهی لوگ تو جی حکومت کرنے کے لیے پیدا هوتے هیں
اس لیے میں اپنی کمیوں والی سوچ کیسے شاهی لوگوں تک پہنچا سکتا هوں

1 تبصرہ:

ڈفرستان کہا...

درست فرمایا جی
کاور صاحب مجھ ے بھی اپنے جیسا لکھنے والا بنا دیں

Popular Posts