سوموار، 13 فروری، 2017

اللہ نوں وکیل کرن والے

پاء مصطفٰے کے مشکل دنوں کی بات ہے کہ
اس کے گاؤں کے لڑکے کہنے لگے
کہ
آپ پارٹس کے کنٹینر دبئی بھیج دیا کریں ، ہم اپ کو  مال بیچ کر رقم بھیج دیا کریں گے ،۔
پاء مصطفے نے بڑی مشکل سے رقم وغیرہ کا انتظام کیا اور کنٹینر بھر کا مال دبئی بھیج دیا ،۔
ساتھ ہی اپنے بھائی کو پاکستان سے دبئی جانے کو کہا کہ تھوڑی سیر ہو جائے گی اور مال فروخت کرتے ہوئے ذرا پاس ہونے سے  دبئی کے تارڈ والے کچھ ڈنڈی مارنے میں بھی جھجک محسوس کریں گے ،۔
پہلے کنٹنر کے پیسے بڑے معقول  آگئے تھے ،۔اس کے بعد دبئی والوں نے فیصلہ کر لیا کی پاء  مصطفے کو بس صرف بارہ لاکھ ہی بھیجنا ہے ،۔
ایک کنٹینر کا بارہ لاکھ ، اگلے مرحلے میں پاء مصطفے کے دو کنٹینر ایک ہی دن بھر کر بھیج دئے  اور ساتھ  ہی پاکستان والے بھائی سے کہا کہ دبئی گھوم پھر آؤ ، بھائی اپنا چاول کا کاروبار ہے جس کو وقت نکالنا بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی پاء کا بھائی دبئی پہنچ گیا ۔
مال ابھی بک رہا تھا اور لگتا تھا کہ ابھی تین اور لگ جائیں گے کہ
پاء کے چھوٹے بھائی کو فوراً پاکستان جانا پڑ گیا ،۔
پاء نے اس کو کہا بھی کہ دبئی والا منڈا ٹھیک نہیں ہے اس پر اعتبار نہیں کرو ،۔
دبئی کے یارڈ پر کام کرنے والے ایک ملک صاحب نے بھی پاء کے بھائی کو کہا کہ اپنا مال یہاں کھڑے ہو کر  فروخت کرو ۔
لیکن  پاء کے بھائی کی مجبوری بھی تھی اور کچھ ان اللہ لوک  بھائی میں اللہ پر اعتماد کی بھی انتہا ۔
کہ
پاء مصطفے کا بھائی کہتا ہے
میں اللہ کو وکیل کھڑا کر کے جا رہا ہوں ، بس ، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔
دبئی والے لڑکوں نے اپنی سی ہی کی کہ دو کنٹنیر کا بھی بارہ لاکھ بنا کر بھیج دیا ۔
دو کنٹنیر میں صرف سکریپ ہی پچاس ٹن ہو جاتا ہے جو کہ اگر جاپان میں مارکیٹ میں بھی بیچا جاتا تو   پچیس لاکھ کا مال تھا ،۔
پاء مصطفے  اپنے بھائی کو فون کر کے بتاتا ہے کہ
فیر بارہ لاکھ آیا ہے ،۔
پاء کا بھائی کہتا ہے
فیر پاء جی یہ پیسے ہمارر مقدر میں تھے ہی نہیں ۔ کہ
اللہ  کی یہی مرضی ہو گی ،۔
چلو ٹھیک اے جی ۔
اللہ اللہ تے خیر صلّا !!،۔
چھ ماھ کی مدت میں کوئی پانچ ملین روپے کا نقصان کر کے دونوں بھائی صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے
اللہ جی دی  مرضی !!!،۔

کوئی چھ ماھ اور گزرے کہ پاء مصطفے تنزانیہ جاتے ہوئے  دبئی سے گزر ہوا ، پاء کے دل میں خیال آیا کہ دبئی والوں کے یارڈ پر جا کر دیکھ ہی آئے کہ
اللہ کی مرضی کیا تھی ۔
دبئی والوں کا چھوٹا بھائی یارڈ کے دروازے پر ہی مل گیا
بڑے تپاک سے ملا ، پاء جی اپ نے بتانا تھا میں آپ کو ائیرپورٹ لینے آ جاتا ،۔
پاء مسکرا کر طرح دے گیا
اور پوچھتا ہے ،۔
اوئے ، یارڈ اجے وی قائم جے ؟؟
نئیں پا جی یارڈ تے وک گیا جے ، بس میں ایتھے کاغذاں تے سائین کرن لئی کھلوتا ہویا جے (نہیں بھائی جی یارڈ تو بک چکا ہے ، میں بس یہاں کاغذوں پر سائین کرنے کو کھڑا ہوا ہوں ،۔)۔
پاء  مصطفے نے وہاں سے نکلتا بنا ، دبئی والوں کا چھوٹا بھائی کہتا ہی رہا کوئی پانی شانی کوئی روٹی شوٹی ۔۔
پاء مصطفے اندروں بہت ڈریا ہویا
کہ
اے تے اللہ  دی وکالت وچ پکڑے گئے نئیں ، اینہاں دے کول کھلو کے کلے میں وی لپیٹ وچ نہ آ جاواں
کیوں کہ پاء  مصطفے ، اللہ کولوں بڑا ڈردا اے !!،۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts