ہفتہ، 7 اکتوبر، 2017

تحرکِ ختم نبوت

میرے پاس اس بات کا ثبوت تو نہیں ہے لیکن
میرا تجزیہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد تعلیم یافتہ طبقے کو دو گروہوں میں تقسیم کریں تو ایک اردو سپیک تھے اور دوسرے پنجابی مرزائی،۔
ان دونوں میں ایک مقابلہ یا کہ چپکلش کہہ لیں ، ہر دو پاکستان میں وہ مقام چاہتے تھے جو کہ امریکہ مں یہودیوں کو حاصل ہے ،۔
اس چپکلش میں غیر مرازائی پنجابی بھی اردو سپیک کے ساتھ شامل ہو گئے تھے کہ یہ لوگ خوف زدہ تھے کہ انفرادی طور پر یہ لوگ اکیلے اکیلے تھے اور ان کے مقابل مرزائی ایک مسلک کی لڑی میں پرویا ہوا گروپ تھا ،۔
جب مرزائیوں کو کونے لگانے کے لئے ان کے خلاف تحریک چلائی گئی تو مرزائی اتنے خود اعتماد تھے کہ مرزا ناصر نے غیر مرازئی لوگوں کو کافر تک قرار دے دیا تھا ،۔
مرزائیون کو اقلیت قرار دے دینے سے بھی ان کو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا ، بلکہ انہون نے ایک علیحدہ مضبوط اقلیت بن کر اکثریت پر حکومت کرنی تھی ،۔
حادثہ یہ ہوا کہ بھٹو افغانستان میں سیاسی انتشار پھلا چکا تھا ، اور یہاں پاکستان میں ضیاء صاحب نازل ہو چکتے تھے ، جب افغانستان نے روس کو بلا لیا ، اور روس کو روکنے کے لئے امریکہ کو پاکستان میں "اسلام " کی ضرورت تھی ،۔ اور یہ ضروت صرف جہادی اسلام پوری کر سکتا تھا اور مرزائی لوگ غیر جہادی ہوتے ہیں ،۔
اس لئے بڑی شدت سے نظام مصطفے اور اسلام پاکستان پر نازل ہوا جس میں اقلیت کا معانی ہی کافر بنا دیا گیا ،۔

******************
تحریک حتم بنوت کے مجاہدین سے التماس کہ
میں قادیانی یا کہ مرازائی نہیں ہوں ،۔
پھر بھی اپ کو گلیاں زور سے آئی ہوں تو ؟
تہاڈی مرضی ۔ میں کی کر سکنا واں ۔ْ

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts