جمعرات, اگست 23, 2007

انجیر

نجیر پر بہار ہے ان دنوں جاپان میں ـ
یه پودا جاپان میں جهاڑیوں کی طرح اُگ آتا ہے ـ لیکن جاپان میں اس کے پهل کو شوق سے نهیں کهایا جاتاـ
پاکستان میں بهی جس علاقے سے میرا تعلق ہے وہاں انجیر میں نے کبهی نہیں دیکها ـ
هاں برگد کے گولر جن کو پنجابی میں گولاں کہتے هیں بلکل انجیر هی کی طرح هوتی هیں بس سائز میں کچھ چهوٹی هوتی هیں ـ



اور ان گولروں کا ذائقه بهی انجیر کے جیسا هوتا ہے رنگ روپ بهی ایک جیسا ـ
گولر جب پک جاتے هیں تو ان میں ایک پروں والاکیڑا داخل هوجاتا ہےجس کو اردو میں معلوم نہیں کیا کہتے هیں ہاں پنجابی میں گُتّی کہتے هیں اور جاپانی میں '' آرینکو'' کہتے هیں ـ
میں نے بچپن میں جب بهی گولاں کهانے کی کوشش کی اس میں گُتّی گهسی هوئی پائی ـ
اصل میں هوتا یه ہے که گولاں یا انجیر کو کچھ کچا پکا هی توڑ لینا چاهیے اگر یه پهل درخت پر لگے هوئے هی پک جائیں تو مٹهاس سے تهوڑے پھٹ جاتے هیں اور ان کی پیٹھ کی طرف سوراخ هو جاتا ہے جس کے راستے اس میں گُتی داخل هوجاتی هے ـ
انجیر کا بهی یہی حال هوتا ہے
برگد کی گولاں کو توڑنے پر بهی ایک دوده سا بہنے لگتا ہے اور انجیر کے توڑنے پر بهی ـ
مجهے اج کل اس دوده کا ذائقه بہت اچها لگ رها ہے

یہاں میرے گهر کے سامنے تین چار جهاڑیاں انجیر کی اُگ آئیں هیں اور ان پر پھل بهی کافی لگا ہے
جیسے جیسے انجیر پکتا ہے اس علاقے كے پرندوں كے ساتھ میرا مقابله ہے که کون اس پهل کو کهاتا ہے اگر مجهے پھل توڑنے میں تهوڑی دیر هوجاتی هے تو پرندے اس پھل کو چونچیں مار مار کر زخمی کر چکے هوتےهیں ـ
انجیر کی تاثیر اور خواص کا تو مجهے معلوم نہیں ہاں پهل کسی حد تک مزیدار ہے ـ
انجیر کا پودا جس کاذکر اسمانی کتابوں میں بهی ملتا ہےـ


کہتے هیں جب آدم اور هوا نے وه میوه چکھ لیا تها جس سے منع کیا گیا ہے تو اس میوے کو چکھنے والے پرزے ننگے هو گئے تهے جن کو آدم اور هوا نے انجیر کے پتوں سے چھپایا تها ـ
پاکستان میں لوگ سمجهتے هیں که وه میوه گندم تها اور یورپ میں اس کو سیب سمجهتے هیں ـ
یه سب نابالغوں کو سمجهانے کے اشارے هیں اصل میں تو وه میوه تها سیکس ـ
جس پر اماں هوا نے آدم کو اُکسایا تها
اس دن کے بعد سے جب بهی اس میوے کو چکھنے کا وقت آتا ہے تو ہوا کی بیٹیاں منع ضرور کرتی هیں
نئیں وے نئیں ناں کر
اور الزام آتا ہے آدم کے بیٹوں پر ورغلانے کا ـ
بہرحال یه انجیر ہے اور آج کل میں انجیر کے پیچھے پڑا هوا هوں

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts