سوموار، 6 اگست، 2007

چوھدری امریک سنگھ

آج چھ آگست ہے
جی ہاں چھ اگست جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹمی حملے کا دن ـ
ہزاروں هی لوگ اگهٹے هوتے هیں اس دن ہیروشیما میں اور اج صبح آٹھ بج کر پندره منٹ پر گڑیال کهڑکایا گیا ـ
امریکه کی بربریت کا دن ـ
کم ترین وقت میں زیاده ترین بندے قتل کرنے کا ریکارڈ بنایا تها جی ،امریک سنگھ نے ـ
تاریخ میں ایسا کبهی بهی نہیں هوا تها که اتنے کم وقت میں اتنے زیاده بندے مارے هوں کسی نے ـ
حرارت کی زیادتی سے کسی شہر کو جہنم بنانے کا ریکارڈ بهی امریکه کے هی پاس ہے
ہیروشیما اس وقت ایک جہنم بن گیا تها گرمی کی زیادتی سے گهبرا کر لوگوں نے دریا میں چهلانگیں لگائی تهیں مگر دریا بهی اُبل رها تها اور لوگ اس ابلتے پانی میں بوائل هوگئے تهے ـ
انیس سو ستانوے میں صومالیه میں ایک هی دن میں سات ہزار مسلمانوں کے قتل کا ریکارڈ بهی ہیروشیما والے ریکارڈ کے مقابلے میں کچھ نهیں ہے ـ
اج جاپان میں اس کے متعلق باتیں هورهیں هیں
مگر بہادر جاپانی قوم کو رونے کی عادت نہیں هے میڈیا اور لوگ بس اس بات کو یاد کررهے هیں
که ایسا بهی هوا تها
تاکه شہیدوں کا پیغام انے والی نسلوں کو یاد رہے

ہمارا بهی خون شامل ہے گلشن کی آبیاری میں
ہمیں بهی یاد کر لینا گلشن میں جب بہار آئے

جاپانی لوگ مجرم سے بهی اس بات کی توقع کرتے هیں که مجرم اپنے جرم پر شرمنده هو
شرمندگی محسوس نه کرنے والے مجرم كو عدالتیں بهی زیاده سزا سناتیں هیں ـ
امریکه نے چھ اگست کے اس حملے کے بعد بهی آٹھ اگست کو ناگاساکی پر بهی ایٹم بم پهینکا تها ـ
لیکن امریکه کا موقف کیا ہےـ
جنگ کو ختم کرنے کا اس کے سوا کوئی حل نهیں تها !!!ـ
امریکه کی نفسیات کو سمجهنے کے لیے امریکه میں پڑهی جانے والی ایک کہانی یاد دلواتا هوں ـ
امریکه کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے بچپن کی بات ہے که واشنگٹن کے باپ نے ان کو ایک کلہاڑا لے کر دیا تها
که واشنگٹن نے اس کلہاڑے کی دهار دیکهنے کے لیے درخت کاٹ دیا تها
مگر جب واشنگٹن نے اپنے باپ کو بتایا تها که میں نے یه درخت صرف اس لیے کاٹ دیا ہے که دیکهوں میرا کلہاڑا کیسا چلتا ہے ـ
تو اس کے باپ نے اس کو شاباش دی تهی ـ
اس لیے امریکه جب بهی کوئی نیا ہتهیار بناتے هیں تو اس کی دهار دیکهنے کے لیے کسی ہدف کی ضرورت هوتی هے یه ہدف ہیروشیما بهی هو سکتا ہے یا ناگاساکی بهی
یه ہدف ویت نام بهی هوسکتا ہے یا صومالیه
یه هدف افغانستان بهی هو سکتا ہے یا عراق
یه ہدف باجوڑ بهی هوسکتا ہے یا وزیرستان
ہر ظالمانه حملے اور قتال کو امریکه لوگ امن کے لیے ضروری کہتے هیں اور آگر کوئی مزاحمت کرئے تو وه میڈیا کے مطابق ظالم هوتا ہے ـ
امریکه کو اس بات پر کوئی شرمندگی نہیں ہے که ہیروشیما میں کتنے لوگ هلاک هوئے اور کتنے معذور
ناگاساکی کے متاثرین کے لیے امریکه کے دل میں کوئی درد نهیں ہے ـ

ایک بات
جہاں تک مجهے یاد پڑتا ہے ہمارے سکول کے دنوں میں پاکستان میں ہر سال چھ اگست کو جاپان کے ایٹممی حملے کی یاد میں ایک دن چهٹی هوتی تهی
جو که اب نہیں ہے
مجهے کہیں مغالطه تو نہیں لگ رها ؟؟
اگر کسی اور صاحب کو یاد هو تو ضرور لکهیں ـ

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts