جمعرات, اگست 18, 2016

کٹ پیس


محبت ؟ ہاں محبت آندھی ہوتی ہے ،۔
اس  مرض کا علاج ، شادی ہوتی ہے ،۔
بینائی کی بحالی ہی نہیں ، انکھیں کھول دیتی ہے  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت ؟ اکھدے نے انھی ہوندی اے ،
پر ، شادی ؟ اکھاں کھول دیندی اے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات کو ہنسی میں اڑانے کا طریقہ سیکھو ۔
کہ
اگر کوئی شر پسند ، جنت میں بہنے والی دودہ کی نہر کو دہی سے جاگ لگا جائے تو ؟
بجائے اس کو  سزا دینے کے لئے پاگل ہونے کے ۔
دہی کو ریڑکا لگا کر
مکھن ، اور لسی بنا لو ۔
مولا خوش رکھے ،۔

جذباتی ، پاک مسلمانوں سے معذرت
کہ
جرنل ضیاع والے اسلام سے پاکستان کو واگزار کروانے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔
اپ کے ارمانوں کا قتل ہو رہا ہے ، اپ کے جذبات مجروع ہو رہے ہیں ؟
تو
عقل نوں ہتھ  مارو !،۔
تے سیانے بنو!۔


وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے ،یک دم نہیں ہوا کرتے ۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے وفاقی کابینہ، پارلیمنٹ اور محترمہ فاطمہ جناح کی مذمت کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے تھے
تقریباً نصف صدی بعد ۔
پنجاب میں دریاؤں کا پانی رس رس کر زمین میں فلٹر ہوتا رہتا پے ، جس کو کنوئیں اور پمپوں کے ذریعے نکال کر انسان پیتے ہیں ،۔

راوی دریا ایک نالہ بن چکا ہے ،۔
لاہور ! میں پانی کی سطح گر چکی ہے ،۔
جو پانی نکل رہا ہے اس میں سیسے کی مقدار  انسانی صحت کے لئے خطرناک حد تک  پائی جاتی ہے ،۔
پینے کا پانی لاہور کے لئے مسئلہ بن چکا ہے ،۔ گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی بہتات ہے ،
ریکارڈ نہ رکھنے کی وجہ سے ،اس خطرناک صورت حال کا ادراک مشکل بنا ہوا ہے ۔
اگر راوی میں پانی پہتا رہتا تو؟
لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح  اور کوالٹی برقرار رہتی ،۔
لیکن
کام خراب ہو چکا ہے
اور اس کا کوئی حل نہیں ہے ،۔
کہ سندہ طاس معاہدے کی رو سے  ستلج اور راوی کا پانی انڈیا کو دیا جاچکا ہے ۔
لاہوریو! تہاڈا پانی تے تہاڈی اؤن والی نسلاں دا پانی !۔
جرنل عیوب ویچ کے کھا وی چکیا ہویا جے ۔
تے تہانوں پتہ ای نئیں کہ تہاڈے نال کی “ ہینڈ “ ہو چکیا اے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توحید ؟ توحید دنیاوی زندگی میں بھی کامیابی کی کنجی ہے ، اس کے بہت فائدے ہیں ،۔
لبرل یا کہ بے مذہب ہو کر بھی اگر بندے کو سمجھ ہے تو؟ وہ "ایک خدا " ضرور بنا رکھے گا کہ
یہ بہت گہری بات ہے ۔
لیکن جہاں تک بات ہے پاکستان کے شرک کی تو یہ ایک علاقئی "جینز" میں پائی جانے والی چیز ہے ،۔
بنیادی طور پر یہ ہندو نیچر کہہ لیں یا کہ طریق معاشرت ؟ اس میں مورتوں اور شخصیات کی عقیدت ضرور ہوتی ہے ۔
ہندو طرز معاشرت کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ
اپنے نزدیک آنے والے ہر مذہب کو کھا جاتا ہے ، ۔
ہندو کے نزدیک کا کوئی بھی مذہب ، صدیوں کے سفر میں ہندو ہی بن جاتا ہے ،۔
دلچسپ بات کہ کچھ مذاہب اپنا نام علیحدہ رکھ کر خود کو غیر ہندو ہونے کا یقین دلاتے رہتے ہیں
مگر
ان کی عبادات ، اور عقیدتیں ، ہندو ہی کی طرح کی ہوتی ہیں ،۔
فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ہر نئے مذہب کی عقیدت اور عبادت کے لئے گھڑی گئی شخصیات مختلف ہوتی ہیں ،۔
باقی مذاہب کی مثال بھی دی جا سکتی ہے لیکن ہم یہاں اسلام کی مثال دیتے ہیں ۔
کہ اسلام جس میں توحید کا سبق بڑا اہم ہے ، جس میں انسانوں کے برابر ہونے کا بہت بتایا جاتا ہے ،۔
یہی اسلام جب ہند میں آتاہے تو ۔
ہندو کے جنگی نعرے “بجرنگ بلی “ کے ہم وزن نعرہ “ یا علی “ لے آتا ہے ۔
انسانی برابری کی مثال
یہ کہ برہمن کے مقابلے میں “ سید “ لے آتا ہے ۔
ہر ہندو دیوتا ، بت کے مقابلے میں ایک قبر لے آتا ہے ۔
لیکن پھر بھی خود کو توحید پرست اور مساوات کا داعی کہتا ہے ۔
پاکستان کا اسلام ، پاک اسلام ہے ،۔
اس میں جو جو باتیں شامل ہو چکی ہیں ، وہ اس علاقے کی عادات ہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts