منگل، 18 ستمبر، 2012

خود کلامی

آج 18 آگست ہے
مجھے گھر سے نکلے چوبیس سال ہو گئے
تئیس سال کی عمر تھی
اج میں سنتالیس کا ہوں
کچھ پیسے کما کر واپس اپنے وطن میں کام کروں گا
یہ خواب لے کر نکلا تھا
پھر
ہم زمانے میں کچھ ایسے بھٹکے کہ
ان کی بھی گلی یاد نہیں والی حالت ہے
پنجابی کا شعر
بھلدے بھلدے فریاداں دی عادت اوڑک پنچھی بھل جاندے نیں
سہندے سہندے ہر سختی اخر لوکی سہ جاندے نیں
مونہوں پاویں گل ناں نکلے ہونٹ پھڑک کے رہ جاندے نیں
اینج وی اپنے دل دیاں گلاں ، کہنے والے کہ جاندے نیں

کیا سوچ کر گھر سے نکلے تھے
کہ  کس کے لیئے کیا کریں گے ، کس کو کیا دیں گے
اور کس کو کیا کر کے دیکھائیں گے
لیکن ہوا کیا
کہ
وہ خواب و خیال کی کھیتیاں سب زمین کے شور سے جل گئیں
بھیڑیں پالنے کا پروگرام تھا
کہ  بیٹریاں بنانے کا کارخانہ
کچھ زمین خریدنے کی خواہش تھی کہ آئیس کریم کی فیکٹری
ماں کو سونے کے کنگن لے کے دینے تھے کہ دادا جی کو حج کروانا تھا

خواہش وہ خواہش ہے جو مرنے تک بھی پوری  ہو
جو دل ہی دل میں رہ جائے اسے ارمان کہتے ہیں
کچھ خواہشیں تھی کہ پوری ہوئیں
اور کچھ خواہشیں کہ
بس دل میں ارمان بن کے رہ گئیں ہیں
ایک  کسک سی اٹھتی ہے ، سینے میں
ایک لہر سی اٹھتی ہے خیالوں کی  پھر یہ لہر سونامی بن کے صبر کے بندہن توڑ کر  انسوؤں  کی شکل میں نکلتا ہے
اب تو عمر کے ساتھ انسو پی جانے کے فن میں تاک ہوگیا ہوں
لاگوں کے سامنے اس فن کی فنکاری میں تاک
لیکن تنہائی میں
میں ہوتا ہوں اور میرا رب
میرا رب کہ جو مجھے شرمندگیوں سے بچاتا ہے

ایک پرانا گانا ہوا کرتا تھا
جیدہا دل ٹٹ جائے
جدہی گل مک جائے
جنہوں چوٹ لگے 
او جانے
دکھی دل حال کی جانن لوک  بے گانے!!

بے وطنی کا احساس  ، اجنبیت نے تو ہم زاد کی جگہ لی ہے
تئیس سال کی عمر  میں وطن چھوڑا
بے وطنی کے چوبیس سال  ، وطن سے زیادہ بے وطنی کی زندگی کہ پھر بھی بے وطنی کا احساس!
وہ گیت کانے کے لئے کہ جس گیت کو انسان روز اوّل سے گاتا چلا ایا ہے کہ جس کے گانے سے آدم کو دیس نکالا ملا تھا
گلی گلی دیس بدیس  ، کہیں انترہ میں نے اٹھایا اور لے میں لے ملانے کو ساتھی ملے اور کہیں کسی کے انترے میں میں نے لے ملائی اور امرت دھارے کا وہ ازلی گیت گایا!
ایک اجنبیت تھی کہ ہر ساتھی کے ساتھ رہی ، ایک مانوسیت بھری اجنبیت!
بھیڑ میں اکیلا ، بھرے کمرے میں تنہا!
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا راستہ بھول گیا
کہ اپنی جنم بھومی میں اجنبی کی طرح کا وہ احساس کہ جو وینس کی آبی گزرگاہوں پر تھا کہ اگر ان کو گلیاں کہ سکیں تو یا کہ روم کی سنگی راہیں کہ پیرس کی گلیاں !
لندن ہو کہ زمین کی پشت پر واقع ملک کے شہر ، ہر جگہ جس اجنیت نے دل میں کسک پیدا کی
وہ کسک ایک دن مجھے اپنے گاؤں میں بھی پیدا ہوئی
کہ میں ناں ناں یہاں کا رہا ناں وہاں کا

پیر، 17 ستمبر، 2012

زرا ہٹ کے

ٹرینڈی کہتے هیں جی امریکی اس بات کو
لیکن جب ایک ٹرینڈ بن جائے تو کسی کو تو ایسا قدم اٹھانا هی پڑے گا که لوگ بھالے ٹرینڈ سے نکلیں
پاکستان ميں هونے والے کسی واقعے پر جب اخبار لکھتے هیں تو بلاگر بھی اسی پر لکھنا شروع هو جاتے هیں  حالانکه ان کو معاملے کی تعلیم اتنی هی هوتی ہے جتنی اخبار والوں نے دینی مناسب سمجھی هوتی ہے
تو ایسے وقت ميں کوشش کرتا هوں که اچھو ڈنگر یا گڑتھو چوہڑے کی کوئی بات لکھ کر ٹرینڈ کو کوما یا فل سٹاپ لگا دوں
فلسطین کے غم میں پریشان لوکاں کو کون سمجھائے که میرے اپنے پاکستانی کن دکھوں کے شکار هیں
میرے پاکستانی ریھڑیوں والے ٹانگے چلانے والے (اج کے دور میں چاند گاڑی)دوکان دار مزدور لوگ جن کے خاندان میں ناں کوئی سیاست دان ہےا ور ناں هی کوئی افسر
ان کو تو سپاہی بھی سب سے پہلے پوچھتا ہے
اوئے هوندا قون ایں؟؟

میں موٹر سائیکل پر تھا
پر کیا ! موٹر سائیکل کو گھسیٹ کر ون وے والی سڑک پر فٹ پاتھ کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہا تھا
گوجرانوالہ میں پوسٹ افس کے سامنے
سپاہی نے روک لیا!
اس نے پوچھا هوندا کون ایں
کیوں جائداد بیچنی ہے، یا اپنا مل لگوانا اے ؟؟
اوئے میں موٹر سائیکل بند کردیاں گا
اک ہزار ڈالر  دی اے ، اے موٹر سائیکل ،تے میں اینہوں ایتھے اگ لگا کے گھر چلا جاواں گا
تے دس ہزارڈالر لگا کے تیری انکوائری لگوا دیاں تے ؟
تسی تے غصہ کرگئے اوسر جی هم بھی یہاں صبح سے دھوپ میں کھڑے هیں !!سپاہی کے گھگیانے پر
میں نے پوچھا
سو روپیا کافی اے؟
جی جی!
لیکن اگر میرے پاس جاپان کی کمائی ناں هوتی اور ميں اس کو بتادیتا که کمیار هونا واں ،
تے؟؟
موٹر سائیکل بند تھانے میں ہوتی تشریف  لال اور رشوت بھی دو ہزار اور سفارشی بھی ڈھونڈنا پڑتا جی
اور دولت کے اعتماد نے صرف سو روپے میں کام چلالیا اور سپاهی کے منگتے پن کی بھی تسکین هو گئی
چلو جی یہ  تو کام چل گیا پیسے سے
اور پیسے والوں کے ہی چلتے ہیں پاکستان میں
لیکن عام پاکستانیوں کا کیا بنے گا؟
سندہی  بھی اور بلوچی بھی پنجابی کا شکوہ کرتے ہیں
لیکن پنجابی کا اپنا برا حال ہے
پنجابی سپاہی
پوچھتا ہے ہوتا کون ہے
اور بندے کی مالی کوالٹی کا اندزہ لگا کر تڑی لگاتا ہے
اور غریب کو ماں بہن کی گالی دیتا ہے
اور رشوت لیتا ہے
اور یہی سپاہی ۔
افسر سے گالی کھاتا ہے اور  رشوت میں لی رقم کے تحائف خریدتا ہے
افسر کی بیگم کے لئے
پنجابی رینجر
دہشت کی علامت ہے
کراچی کے اصلی دہشت گردوں کے لئے
لیکن
بے چارہ خودف دہشت کا شکار ہے کہ
پنڈ(گاؤں) میں  ماں کو پیسے بھیجنے ہیں کہ بہن کی شادی کے لئے جہیز تیار کرئے
فوجی ، گولی کھاتا ہے
گالی کھاتا ہے
کسی "اور" کے تمغے اور تلوں کے لئے


بس جی میرا تو پاکستان ہی گواچ (گم ہو) گیا ہے
کیا اپ کا پاکستان گم نہیں ہوا ہے؟
پاکستان اپ کا بھی گم ہو چکا ہے
بس
اپ کو ابھی پتہ نہیں چلا ہے

اتوار، 16 ستمبر، 2012

واٹر کِٹ

بوزنوں کی سر زمین پاکستان میں جس کو بھی قریب جاکر دیکھو ، چھوٹا بندہ نکلے گا!
کسی نے بتایا کہ
پاکستان میں ہر بڑے بندے کو جب قریب سے دیکھو گے تو چھوٹا بندہ نکلے کا
سننے والے نے پوچھا کہ
اور ہر چھوٹا بندہ؟؟
تو جواب ملا کہ
چھوٹا بندہ ہے ہی چھوٹا
دور سے بھی اور قریب سے بھی!!
ڈاکٹر ثمر مبارک!!
جن کی بڑکوں اور واٹر کِٹ امیدوں سے پاک قوم خواب دیکھ رہی ہے اس کی حقیقت کیا ہے

اس خبر کے مطابق فلحال تھر کے کوئلے والے خواب پر مٹی پاؤ کی بات ہے اور بعد میں ماحول تیار کرکے بتایا جائے گا کہ
اس منصوبے سے اب کچھ اور لوگ موج  اڑائیں گے
اور خاور کے علم کے مطابق!!
کچھ اس طرح ہے کہ
تھر کا کوئلہ  ،  تھر کی ریت  سے کوئی تین سو میٹر نیچے ہے
جی ہاں ریت کے نیچے!!
کوئلے کو نکالنے کے لئے سرنگ بنا کر کان کنی کی جاتی ہے!
اور ریت میں سرنگ بن نہیں سکتی!!
اب کوئلہ  نکالنے کے لئے ریت کو ہٹانا پڑے گا۔
جس پر سالوں کا وقت اور اربوں میں ڈالر خرچ ہوں گے
یہ تھر کے کوئلے کا منصوبہ بھی کسی پاک سیانے یا ڈاکٹر ثمر مبارک کا نہیں تھا
اس کو ورڈ بنک نےایک کروڑ ڈالر کے خرچ کے بعد  لوکان کو بتایا تھا
اور ورڈ بنک کے اندازوں کےمطابق ، اس کوئلے کو نکال کر بجلی بنانے تک کوئی دس سال کا عرصہ اور
کوئی بارہ بلین ڈالر کا خرچ ہو گا
اب جی
چلو جی ریت ہٹا دی ۔
تو اس کے بعد کوئلہ نکالنے کے کام میں پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔
تھر اور پانی؟؟
چلو جی دریائے سندہ سے نہر نکال لیں گے
لیکن
دریائے سندہ تھر سے نیچا بہتا ہے
پانی اوپر کیسے چڑہاؤ گے؟
سب سے بڑی بات کہ
پاک قوم
اور
نہر نکال لے!!
انگرزوں کی بنائی نہروں پر پل بنانے ناممکم بنے ہوئے ہیں
اور نئی نہر!!

پاکستان میں ایک بات بڑی مشہور ہے کہ
چین نے گیارہ سنٹ یونٹ کی قیمت پر پاکستان کو بجلی دینے کی آفر کی تھی
لیکن پاکستان  اپنی بد اندیشی کی وجہ سے یہ افر رد کر دی
لیکن اس افواہ کی حقیقت یہ ہے کہ
چین کی ایک کمپنی نے 1997 میں تھر کے کوئلے کو نکال کر اس کو استعمال کرکے اس سے بنائی جانے والی بجلی کو گیارہ سینٹ میں پاکستان کو فروخت کرنے کی بات کی تھی۔
پنجابی میں کہتے ہیں
تہاڈا ای سر تے تہاڈیاں ای جوتیاں
اور اب جب اس منصوبے پر کروڑوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں
اب بھی باز آ کر اسی چینی کمپنی( چینی کمپنی ہے ، چینی حکومت نہیں) ٹھیکہ دے دیتے ہیں تو؟
ڈالر کی قدر میں کمی ، تیل کی قیمت میں اضافہ اور دیگر عوامل کی وجوہ سے
وہ کمپنی بھی اس قیمت پر راضی نہیں ہو گی
اور اس سے زیادہ قیمت کی بجلی پاکستان افورڈ نہیں کرسکتا

اس کو پنجابی میں کہتے ہیں
سو گنڈے وی کھانا تے سو لتر وی!!
کسی  گاؤں میں بندے نے چوری کی
پکڑا گیا !
مال برامد ہو کر مالکوں کو واپس بھی مل گیا
لیکن
پنچایت نے چور کو سزا سنائی کہ
یا تو پیٹھ پر سو لتر کھا لو
یا سو عدد کچے پیاز کھا لو!
چور نے پیاز کھانے کو اسان جانا اور پیاز کھانے کی سزا قبول کر لی
دس عدد کچے پیاز کھانے تک  انکھوں کے انسو اور دیگر کیفیات سے تنگ ٓ کر اس نے کہا کہ
نہیں میں سو لتر کھا لیتا ہوں
دس لتر لگنے تک چور بد حال ہوا اور
پیاز کی سزا کو بھال کرنے کی درخواست کی۔
اسی طرح کرتے کرتے اس چور نے کوئی اسی نوے پیاز اور سو لتر بھی کھا لیے جی!۔

جو میں نے لکھا ہے اس کو دوسروں کی سائینسی سے دیکھنے کی بجائے اپنی عقل سے سوچیں کہ
تین سو میٹر موٹی ریت کی تہ کو کیسےہٹائیں گے اور اس ریت کو کہاں رکھیں گے؟؟
چلو ایک منٹ کے لئے تصور کر لیں کہ اپ ایک کلو میٹر سکوائر سے ریت کو ہٹا لیتے ہیں جس کو دو کلو میڑ کے علاقے میں رکھ لیتے ہیں ، تو اس ریت سے اس دو کلو میں میں ڈیڑہ سو میٹر اونچا ریت کا ٹیلہ بن جائے گا جو کہ اپنی بنیادوں میں ڈھلوان ہو گا جس کی وجہ سے تین کلو میٹر کا ایریا گھیرا جائے گا
اور یہاں سے ریت نکالی ہے وہاں سے ڈھلوان کی وجہ سے ادہ کلو میڑ کے ہی علاقے سے کوئلہ نکالے کا ماحول بنے گا ۔
اب جب یہان سے کوئلہ نکال لیں گے تو اگلے علاقے میں ریت تین سو میٹر پلس ڈیڑہ سو میٹر ساڑھے چار سو میٹر ہے!!!!َ۔
اس ایک سوچ کے بعد بھی تکلیف کریں اور زرا کوئلے کی کان کنی پر کافر لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں پڑہیں کہ کیسے نکالا جاتا ہے ؟
کوئلہ جل اٹھنے والی چیز ہونے ک وجہ سے (اختصار کے ساتھ بتا رہا ہوں )توڑتے ہوئےپانی کی ضرورت ہوتی ہے
بلکہ بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے
وہ پانی تھر تک لانے کے لئے کیا کیا جائے گا
اور کیسے لایا جائے گا؟
باقی اپ خود بھی سوچیں ڈاکٹروں کی سوچ تک ہی ناں رہیں کہ
پاکستان میں جھوٹ اتنا زیادہ ہے کہ
اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

 

ہفتہ، 8 ستمبر، 2012

گم کردہ پاکستان کی تلاش


سکائیپ پر  خاور کنگ کے موڈ میں لکھا ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش !!!
لیکن کم ہی لوگوں کو اس کی سمجھ لگتی ہے
کہ
اللہ عالی شان جو کہ عقل کل ہیں ان کا بھی فرمان ہے کہ
اکثریت سمجھ نہیں رکھتی
اور نشانیوں کا بتاتے ہیں  فکر کرنے والوں کے لئے
سوچ رکھنے والوں کے لیے
غلام ایم یا گاما پی ایچ ڈی!!
بڑا دور اندیش بندہ ہے
کسی خرابی کی جڑوں کا اور اس کے حل کا سوچتا ہے
لیکن اس خرابی کے پیدا کرنے والوں  کی اسی خرابی پر سیاست کا بڑا مخالف ہوتا ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
حجاب کے اج سے پچپن سال پہلے والے اصول اور معاشرے کی واپسی
ریلوے ، عدالت ، محکمہ تعمیرات ، سیاست ، اور بہت سی چیزوں کی واپسی
یعنی
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
یا یہ کہ لیں کہ پاکستان کی تلاش
مشرقی گیا مغربی گیا
باقی رہ گیا جی
لُنڈا پاکستان
جس میں کلمہ پڑہنے والے ہندؤں کی اکثریت رہتی ہے
جن کے معاشرے میں  برہمن(سید) کشتری(فوجی) ویش(عوام ) اور شودر ( اقلیتیں)  ہوتی ہیں ۔
پرستش کے لیے ان کے دیوتا( حضرت  و حضرات) ہوتے ہیں
گم کردہ پاکستان کی تلاش!

لیکن یہ سب ہندو کی ایک بھونڈی نقل کے سوا کچھ نہیں کہ جس طرح یہ مسلمان کہلواتے ہیں لیکن  ہوتے منافق ہیں اسی طرح ہندو کی طرز معاشرت رکھتے ہیں لیکن
ہندو  لفظ سے الرجی رکھتے ہیں !
ہندو ایک طرز معاشرت ہے
جس میں  صدیوں نہیں ! ہزاروں سال پہلے " لنگ جی مہاراج" کی بھی پرستش ہوتی تھی
لنگ جی مہاراج کے مندر ہوا کرتے تھے
کہ نسل انسانی کو بڑھانے میں  "ان " کی کرپا کی ضرورت ہوتی تھی
لنگ جی مہاراج کو خوش کرنے کے لئے  اور ان کی کِرپا کے "انت " کے لیے
کاما سوترا کی عبادات اور عمل ہوا کرتے تھے
مندجہ بالا بات سے اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہیدا ہو کہ خاور اس زمانے کو واپس لانا چہاتا ہے
تو جی ایسا نہیں ہے
یہ صرف اس لئے لکھا ہے کہ معاشرے کیسے اصولوں میں ترامیم کرتے رہتے ہیں

معاشرہ ترقی کرتا گیا
ابادی بڑہی تو
لنگ کی مہاراج کرپا کے جوش کو کم کرنے کے اصول وضع کیے گئے
جن کو پردے کے اصول کہ سکتے ہیں
جن میں عورتوں کو ان کے رشتوں کے مطابق خود کو چھپانے کے اصول بنائے گیے
جن کا میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ذکر کیا تھا

جی ہاں
صدیوں نہیں ! ہزاورں سال پہلے
جو لوگ اس بات کے مغالطے کا شکار ہیں
کہ ہند میں کو کچھ ہوا اسلام کے انے کے بعد ہوا !
تو ان کے لیے
ایک بات کہ
ایک اردو کے بلاگر ہوا کرتے تھے بد تمیز !
ان کا کہنا تھا کہ جاہل کی سب سے بڑی سزا یہ ے کہ اس کو علم کی بات ناں بتائی جائے!!
اس لئے یہ علم کی باتاں اپ کے لئے نہیں ہیں جن کا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے
جن کے خاندانوں کی روزی روٹی کا دارومدار ہی اسلام  کے نام ہر ہے
ان کو علم کی نہیں
بلکہ زیادہ سے زیادہ جہل اور مغالطوں کی ضرورت ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
کہ جو کچھ ہم میں تھا اس کو تباہ کیا گیا اسلام کے نام پر
اور اب اسی تباہ کر دی گئی رسوم کو مشرف اسلام کرکے ان کے دن منا کر
ہمیں بیوقوف بنا رہے ہیں
میں ایک مسلمان ہوں
میں ایک اللہ کو مانتا ہوں
اس لئے مندورں خانقاہوں ، مزاروں اور داروں سے دور رہتا ہوں
میں مسلمان ہوں
انسانوں کی برابری کا یقین رکھتا ہوں
اس لیے پاک برہمنوں (سید) لوگوں کو بھی کسی چوہڑے چمار یا کمہار کی طرح کا انسان ہی سمجھتا ہوں!
اگر کوئی ہندو  کسی سید کو ملیچھ کہے تو اس بھی اتنا ہی برا سمجھتا ہوں جتنا کسی پاک کے کسی ہندو کو پلید کہنے کو!
میں ایک مسلمان ہوں
اس لیے غیر اللہ کے نام پر  نذر نیاز یا بھوجن نہیں دیا کرتا
مجھے اسلام کی تبلیگ کرنے والوں نے احادیث کے نام پر بتایا ہے کہ
علم مومن کی میراث ہے  جہاں سے بھی ملے مومن اس کو اپنا مال سمجھ کر حاصل کرلیتا ہے
اور میں اس حدیث نامی قول سے قطع نظر  علم کی بات لےلیا کرتا ہوں
لیکن
پاکستان کے پاک لوگ
اگر علم کالی چمڑی والے سے ملے تو؟
ان کا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے
جس طرح ہندو کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ہے


اج اتنا ہی سہی
کام پہ بھی جانا ہے!!

بدھ، 5 ستمبر، 2012

حجاب اور ہندو رسوم

حجاب حجاب ہو رہی ہے جی
زرا غیر ملکی زبان کا لفظ ہو ۔ اور غیر ملکی رسوم کی چیز ہو تو پاک لوکاں کے جذبات بڑے عروج کو پہنچتے ہیں
چنری، گھونکھٹ کا نام نہیں لینا ہے
کہ
دیسی سی چیز ہے
اور کوئی اہل علم اس کو پاک مذہب کی بجائے ، ہندو کی رسوم کا ناں بتا دے
قران کے مطابق
عورتوں کو بال کو چھپانے اور جسم کی آرائیش کی جگہوں کو نمایاں ناں کرنے کا حکم دیا ہے جی  اللہ عالی شان صاحب سچے پادشاہ نے !!!
جدید تعلیم سے ناآشنا دیہاتی خواتین کھیوتں میں کام کررہی ہوں یا جانوروں کی دیکھ بھال! ان کا ڈوپٹہ ان کے سر پر  ہی ٹکا رہتا ہے
دیسی ڈوپٹہ اپنی ساخت میں ایسی چیز ہے کہ بالوں کو اور اوپری جسم کو بڑے بہترین طریقے سے ڈھانپتا ہے
لیکن یہ ڈوپٹہ  خالصتاً  دیسی چیز ہے
برصغیر میں مسلمان خواتین اس کا استعال کرتی ہیں
تو ہندو اور سکھ خواتین بھی اس کو استعمال کرتی ہیں
ہندو میں اس ڈوپٹے کے استعمال کےاصول  پاک لوکاں کے اصولوں سے کہیں سخت ہیں
ایک ہندو بی بی کو گھونگھٹ کا پابند ہونا پڑتا ہے
لمبی گھیر دار سکرٹ (گھگرا) پہن کر سارے جسم کو چھپانے کو ساتھ ساتھ
جیٹھ ، دیور ، سسر اور کئی نزدیکی رشتے داروں سے بھی منہ چھپانا ہوتا ہے!
گھر کے کام کاج ۔  چولہا چوکا۔ پوچا پاچی ۔ اور گھر  گرستی کے سارے کام بھی جاری رہتے ہیں اور گھر میں اتے جاتے  جیٹھ سسر یا دوسرے اس عورت کا منہ بھی نہیں دیکھ سکتے
پردے کا یہ طریقہ  میں نے اپنی برادری کی خواتین میں بھی دیکھا ہے
ہم جو کہ مجھ سے شروع کریں تو چودہ نسل  پہلے اسلام میں داخل ہو چکے ہیں
بابا مسو تھا جس نے اسلام قبول کیا میرے اباء میں سے اور اس نے اپنے بیٹے کا نام رحیم رکھا تھا
ہمارے گھورں میں میری چاچیاں اور دادیاں اسی طرح پردہ کیا کرتی تھیں
اور ہم کوئی شاہی نسل کے تو ہیں نہیں کہ جن پر کام کرنا اور کمی کہلوانا گالی کی طرح لگتا ہے
اس لیے ہم کام کرتے ہیں اور ہماری بی بیاں مردوں کے شانہ بشانہ کام بھی کرتی تھیں اور
جن رشتوں سے گھوگھٹ نکالنا ضروری تھا ان سے گھونگھٹ بھی نکالتی تھیں
لیکن کیونکہ ہم مسلمان تھے اس لیے  میری ماں ہو کہ چاچیاں  یا دادیاں ان سب کو داج( جہیز) میں برقعے بھی ملے ہوئے تھے
لیکن  میں نے یہ برقعے اس وقت ہی دیکھے ہیں جب  پیٹیوں )(بکسوں) سے نکال کر ان کو دھوپ لگائی جاتی تھی
ورنہ جی کام کرنے والے خاندان کی عورتوں کو برقعہ پہننے کا موقعہ ہی کب ملتا تھا؟
ناں تو جی ہماری بیبیوں کو شاپنگ پر جانا ہوتا تھا
اور ناں ہی سڑکوں پر سیر کی  فرصت
یہی ہوتا تھا کسی شادی بیاہ پر تو جی
یہی دن ہوتے تھے بی بیوں کے اپنے لباس نمائیش کرنے کے مواقع!!
تو جی لمبے گھونگھٹ والی چادروں کی بہار آئی ہوتی تھی جی شادیوں اور بیاہوں میں !!
جی شادیاں بھی کوئی ایک دن والی تو نہیں ہوتی تھیں ناں جی
دو راتیں تو برات ہی ٹھر جاتی تھی
لیکن کبھی پردے کا مسئلہ نہیں ہوا تھا
لیکن جی پاکستان بنانے کے بعد ہم کو
اپنی علیحدہ شناخت کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے کہ
ہر چیز میں ہماری علیحدہ شناخت ہونی چاہیے
لیکن کیا ہونی چاہیے؟؟
شوقین کوے کی طرح
بس بگلے کا رنگ ہونا چاہئے
اس کو علیحدہ شناخت کا نام دیے لیں گے
اور یہ نقل ہو گی کسی اور معاشرے کی !!
پاکستان بنایا
اور
پھر ہم نے نام بھی دیسی والے چھوڑ دئے
اللہ دتہ ، اللہ رکھا ، چراغ دین ،
اور طفیل ، مالک اور یونس جیسے ناموں سے ترقی کرتے کرتے
ایسے ناموں ہر آ چکے ہیں کہ
عربی میں چاہے سبزیوں کے ہی نام ہوں
ہم اپنے بچوں کے رکھ لیتے ہیں
حجاب کے دن پاک لوک ایک قدم اور بڑہ کر اپنے معاشرے کو عربی کے قریب کرنے کی کوشش میں ہیں
اسلام کے پردے کے مقاصد کیا ہیں ؟
اور یہ مقاصد مقامی رسوم سے کیسے بہتر طور پر حاصل ہو سکتے ہیں ؟
اس بات کی سوچ ہی نہیں ہے
کہ اوریجنل سوچ تک بند کرکے ، سوچ تک عربی کرنے کی کوشش میں ہیں
لیکن عربوں کی کم عقلی پر تو جی ان کی تیل کی دولت نے پردہ ڈالا ہوا ہے
پاک لوکاں کی کم عقلی پر ڈالنے کے لیے پردہ بھی بھیک کی صورت اتا ہے
ڈالروں اور ریالوں میں !
اہل فکر ، ان پردوں کے پیچھے کا بھی جانتے ہیں
پس یہ معلوم ہو کہ
چنری ، چادر ، گھونگھٹ ، جیسی دقیانوسی چیزیں ہندوانہ اور کافر ہیں !!
یا پھر کمی لوگوں کا پہناوا ہیں !!
اس لیے
پاک لوکان کو عربی طرز کا حجاب اور ایرانی اور عربی ڈیزائینوں کے برقعے استعمال کرنے چاہیے

جمعرات، 30 اگست، 2012

منافق اسلام

بہت سے موضوعات ہوا کرتے تھے
گفتگو کے لئے!
کچھ دہایان پہلے تک
ماہئے ، ٹپے ۔ لوک داستانیں ْ لطیفے، دوسروں کے گلے شکوے اور تعریفیں ، موسم کی باتیں ۔ ہجر و فراق کی باتیں ۔
میلوں کی یادیں ۔ سفروں کی باتیں
بہت سے موضوع ہوا کرتے تھے
پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ
ایک ہی موضوع رہ گیا جی پاکستان میں
اسلام!!!!
میرا اسلام ، تیرا اسلام ، اس کا اسلام اور کس کس کا اسلام
دماغ سکڑ کر چھوٹے ہوتے گے
لیکن یار لوگ اس کو اسلام سے وابستگی کا نام دے کر
اپنے اپنے اسلام میں سکڑتے چلے گئے
جب ان دولے شاہ کے چوہوں کو آئینہ دکھائیں مسلمانوں کی حالت زار کا
تو فرماتے ہیں
اس میں اسلام کا کیا قصور یہ تو اسلام کے ماننے والوں کا قصور ہے
تو ؟
گاما پی ایچ ڈی سوال جڑ دیاتا ہے کہ
یعنی کہ اسلام میں یہ نقص ہے کہ اپنے مانے والوں کی اصلاح بھی نہیں کرسکتا؟
یا کہ اس دین میں رہنے والے نقائیص کا شکار ہو کر ہی رہتے ہیں
تو گامے کو کافر اور  بے دین اور اس طرح کے الزامات دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے اور
اپنی ریا کاری اور کم علمی اور کم سمجھی پر پردہ ڈالنے کے لیے
فیس بک پر اسلام تغرے تعزئے لگا لگا کر اسلام کے للکارے مارے جاتے ہیں
اور مزے کی بات ہے کہ
تغرے لگنے والوں کی اکثریت ، ان تغروں کے معانی مطالب سے کم ہی واقف ہوتی ہے
کیونکہ ان کو بھی یہ تغرے ’’ کہیں اور’’ سے ہی آئے ہوتے ہیں!
یہاں جاپان میں میں جن لوگوں کو منافق سمجھ کر
ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا
جن کے ساتھ دسترخان پر نہیں بیٹھتا
وہ لوگ فیس پک پر تغرے لگا لگا کر اسلامی اور مذہبی اور معزز بنے بیٹھے ہیں
ریاکاروں کی محفلوں میں خاور کا تذکرہ ؟
ناں ای پچھو جی!!
بس اتنا سمجھ لیں کہ کچھ اچھا ذکر نہیں ہوتا جی !!!

بدھ، 29 اگست، 2012

ہمارے گاؤں کے مرزائی

جذباتی  لوگوں سے معذرت کے ساتھ کہ
میں مرزائی نہیں ہوں  ، بلکہ مرزائیوں سے سخت نظریاتی اختلاف رکھتا ہوں
ہمارے بچپن میں ، گاؤں میں بہت سے گھر مرزایئوں کے تھے
جو کہ اب بھی ہیں
ان میں سے کچھ گھروں کو مرزائی کہ کر بلایا جاتا تھا
اور یہ لوگ خود کو احمدی کہتے تھے
اور ان کے خط وغیرہ جو آتے تھے ان پر بھی احمدی لکھا ہوتا تھا
ان احمدی لوگوں میں سے کوئی بھی گھر  بے وقعت نہیں تھا
سبھی لوگ ہمارے لیے معتبر اور معزز تھے
ہم لوگ ان کے ساتھ کام ، کاروبار کرتے تھے ، ان لوگوں کے ساتھ دوستیاں تھیں تعلقات تھے
جس طرح گاؤں میں دوسری مساجد تھیں
کمہاراں  والی مسیت ، بیر والی مسیت اونچی مسیت بڑی مسیت
اس طرح مرزایوں کی مسیت تھی ،
لیکن یہ نہیں تھا کہ مرزائی صرف مرزایوں کی ہی مسیت میں جائیں گے
ہوتا یہ تھا کہ ، جس کو جس نماز میں جو مسیت نزدیک پڑے وہ وہیں نماز پڑہ لیتا تھا
ہم سب لوگ مل جل کر رہتے تھے ، دلوں میں پیار تھا
گاؤں کے چوہدری بھی مرزایت کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے،
لیکن اس جھکاؤ کا اظہار ان کے رویے کی وجہ سے نہیں ہوتا تھا
بس یہ کہ برادری میں سے احمدی گھرانوں سے میل ملاپ زیادہ تھا
ہنر مند طبقے کے مفادات ان سے منسلک تھے
ان کی زمینوں پر کام کرنا
ان کے گھروں سے اناج کا حصول  اور دیگر معاشرتی کام کہ احمدیوں میں چیمہ فیملی اور وڑائیچ لوگ معاشرتی طور پر خاصے مضبوط اور معتبر لوگ تھے
پھر لوہاروں کے کچھ گھر تھے
جو اپنی جگہ مضبوط کاروباری  اور انتہائی ملنسار خاندان تھا
چیمہ مرزائی  خاندان افرادی طور ہر مضبوط ہونے کی وجہ سے ، کئی لڑائیوں کی وجہ سے بھی جانا جاتا تھا
لیکن ان میں کوئی لڑائی  ان کے مسلک کی وجہ سے نہیں تھی
زمین کے اختلافات اور دیگر باتیں تھین جن میں اس خاندان کے کئی قتل بھی ہوئے
بابا رحمت مرازئی تھا، ہمارے گاؤں اور اس کے نزدیک کے دیہات تک کے لوگ پٹھا چڑہنے پر یا ہڈی ٹوٹنے پر بابے سے مساج کروانے اتے تھے۔
بابا رحمت ان لوگوں سے اس بات کا کوئی عوضانہ نہیں لیتا تھا
بلکہ بابا ایک جاٹ چیمہ چوہدری ہونے کے ناطے دور سے انے والوں کے کھانے پانی کا بھی ذمہ دار ہوتا تھا
پھوپھی سکینہ تھی !!
ایک انتہائی معزز عورت ۔ میں نے خود کئی دفعہ  دیکھا ہے پھوپھی کی فراخ دلی کہ غریب گھروں کی عورتوں کو گندم دیتے ہوئے،
پھوپھی کے سات بیٹے تھے ، کڑیل جوان ،
جن میں سے دو اکہتر کی جنگ میں شہید ہوئے ، دو گاؤں میں برادری کی لڑیوں میں کام آئے ۔ ایک ٹریکٹر کے حادثے میں فوت ہوا
ایک نے حلیہ بدل لیا ، دنیا چھوڑ دی ، بے کار ہو گیا
اور یہ سب حادثات پھوپھی کی انکھوں کے سامنے ہوئے!
نعیم وڑائیچ ، سلیم وڑائیچ۔ ہمارے بڑے بھایئوں کی طرح تھے ، کہ ان کی عمریں مجھ سے کچھ زیادہ تھیں
آصف ننھا ، میرا بچپن کا دوست جس کے ساتھ میں نے پہلی سے لے کر دسویں تک ایک ہی سیکشن میں تعلیم حاصل کی ہے
کئی دفعہ ایک دوسرے سے اختلاف ہوا
بول چال بند لیکن یہ اختلاف کبھی بھی مذہبی نہیں تھا
پھر ایک دن یہ ہوا کہ جی
حکومت نے اس لوگوں کو اقلیت ڈکلئیر کر دیا
ہر طرف باتیں ہونے لگیں کہ جی مرازئی تو جی اب حکومتی فیصلے میں نیچ قرار دیے گئے ہیں
اب یہ لوگ عسائیوں کی طرح ٹریٹ کیے جائیں گے
لیکن مجھے اس بات کا اعتبار ہی نہیں اتا تھا کہ
ایسا کیسے ہو سکتا ہے
اج کے معتبر اور شریف لوگ کیسے ایک دم سے رذیل ہو جائیں گے؟
لیکن اس وقت یہ خیال نہیں تھا کہ  عیسائی بھی کیوں نیچ ہیں ؟
پھر ہم نے دیکھا کہ ۔ جس کو مخالفت کے لیے کوئی ناں ملا اس نے مرزائیوں سے مخالفت شروع کر دی
جس کو بہادری کا شوق چڑہا اس نے مرزائیوں پر چڑہائی کردی
جس کو اپنے اسلام کی دھاک بٹھانے کی سوجی اس نے مرزائیوں کو اگے رکھ لیا
اور پاکستان میں اس سوچ کو تو قتل ہی کردیا گیا کہ اپنی بھی غلطی ہوسکتی ہے
اس سوچ کی موت ہے کہ اج سبھی لوگ دوسروں کو غلط سمجھ کر سمجھا رہے ہیں
سبھی پاکستانیوں کو دوسروں کا اسلام غلط لگ رہا ہے
اج کے پاکستان میں لوگوں کو پاکستان سے محبت کا دعوی ہے
اور پاکستانیوں سے نفرت !!
پاکستان میں بسنے والے ہندو ، عیسائی، مرزائی یا دیگر لوگ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں ، جتنے کہ
آپ یا میں !!
کیا پاکستان میں وطنیت کا احساس ہی مر گیا ہے ؟
کیا پاکستان میں انسان کی جان کی وقعت ہی نہیں رہی ہے؟
میں مرزائیت کے نظرئے سے صرف اختلاف ہی نہیں رکھتا
بلکہ
ان کے نظریات سے نفرت کرتا ہوں
اور مرزائیت کے بعد بھی اسی نظرئے کی حامل دوسری پارٹیوں سے بھی نفرت کرتا ہوں
لیکن
اس بات پر ان کے پاکستانی ہونے سے ہی انکار نہیں کرسکتا
کسی بحث میں مرزایوں کی شکست پر مجھے بھی دلی خوشی ہوتی ہے
لیکن
کسی بھی پاکستانی کے قتل پر دکھ ہوتا ہے
مقتول پاکستانی کسی بھی رنگ نسل ، مسلک ، یا علاقے کا ہو!!!

منگل، 21 اگست، 2012

دودہ اور مینگنیاں


بکری کے مینگناں بھرے دودہ کی مثال مشہور ہے
پہلے تو دودہ کی مقدار کہ اگر بکری سے حاصل بھی کر لیا جائے
دو سے ڈھائی سو گرام ہو گا
اور دودہ دھونے کے لیے دو بندوں کی کوشش شامل ہوتی ہے
ایک جس نے دودہ دھونا ہے اور دوسرا جس نے اس عمل میں بکری کی پچھلی ٹانگیں پکڑ کر رکھنی ہیں ۔
اور دودہ دھونے کے دوران اپنے اندر کے خوف (بز دلی ، بکری کے حوصلے کو کہتے ہیں)کی وجہ سے بہت کوشش کرتی ہے کہ پکڑنے والے کی گرفت سے نکل جائے
اور اس جہدوجہد میں مینگنیاں بھی نکل جاتی ہیں
اور "کچھ  اور" بھی نکل جاتا ہے
لیکن محاورے میں مائع چیز کا ذکر جان بوجھ کر نہیں کیا جاتا
جو دودہ میں مل کر دودہ کا وہ حال کرتی ہیں کہ کسی نفیس طبیت بندے سے تو پیا ناں جائے
پس یہ محاورہ مخصوص حالات میں بولا جاتا ہے
جو لوگ بکری کے دودہ دھونے کی عمل کی دشواری اور اس سے حاصل ہونے والی"چیز" کی حثیت سے واقف ہوتے ہیں
وہ لوگ محاورے کی معونیت سے لطف لیتے ہیں اور مینگنیوں کے کرب سے دیہان ہٹانے کو کہتے ہیں
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
مندرجہ بالا تحریر  کا پاکستان کی موجودہ حالت یا حکومتی لوگوں کے کاموں سے تعلق پیدا ہو جانا
بلکل  ایک قدرتی عمل ہو گا لیکن
اپ  بجلی کی ترسیل میں لوڈ شیڈنگ کی مینگنیوں
یا سڑکوں کی تعمیر میں گڑھوں کی مینگیناں
یا  ملکی دفاع میں ڈورن حملوں کی مینگنیاں
یا عید الفطر کے تہوار پر فون سروس کی بنسش کی مینگیاں
کی تلخیوں کو بھولنے کی کوشش کریں
اور محاورے کی معونیت پر غور کریں
اور  لطف لیں
اس لڑکے کی طرح
جس نے گاوں میں ایک "کٹا " پکڑ کر کنویں میں پھینک دیا
کٹے کے مالکوں کو علم تو ہو ہی جانا تھا
اس پر اس لڑکے کو پنشمنٹ ہوئی
جو کہ بڑی بے عزتی اور کرب کی بات ہونی چاہیے
لیکن
وہ لڑکا بندہ بڑا حسن ظن کا مالک تھا
جب اس کو کسی نے پوچھا کہ کٹّا کنویں میں پھینکنے پر تم نے اتنی بے عزتی کروائی ہے
تمہیں کیا حاصل ہوا؟؟
تو اس نے جواب دیا تھا
کہ "گروم " کی اواز بھی تو میں نے ہی سنی تھی ناں
اپ بھی میری طرح دل کو تسلی دے لیں کہ
یہ حکومت تو بے چاری خود مجبور ہے
اس حکومت کی علمداری ، تھانوں تک ہی ہے
اور ان کی عیاشی؟
غیر ملکی دوروں تک!!!

اتوار، 19 اگست، 2012

عید مبارک


اج یہاں جاپان میں  عید ہے
اللہ ہمارے لیے اور اپ کے لیے اس عید کو مبارک فرمائیں
اور انے والے دنوں کو بھی مبارک فرمائیں
کہ سب چیزوں کا رجوع اللہ کی طرف ہے
ہم پردیسیوں کی عید ؟
اس حد تک ہوتی ہے کہ رمضان میں عید کا انتظار کرتے ہیں
اور عید کے روز ، عید کی نماز کی تیاری اور عید کی نماز پڑہ کر جاننے والوں سے گلے ملتے ہیں
اور
پھر؟؟
نوکری کی مجبوری والے نوکری پر اور باقی کے بھی طرح طرح کی مجبوریوں میں بندھے
ایک لمبآٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
اُُُُُُُُُُُور
ادآٓٓٓٓٓٓٓٓٓس
عید کا دن گزارتے ہیں
لیکن چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ لیے
اپنے بھرم کی لاش گھسیٹےسارا دن گزارتے ہیں
جن کو پردیس میں اپنےبچپن کے جاننے والے مل جاتے ہیں
ان کا دن کچھ محرومیوں کو اور بھی بڑھا جاتا ہے
اور جن کے بچپن کے جاننے والے کاروباری طور پر کامیاب ہیں
ان کو ان کی اوقات یاد کرا جاتے ہیں
بس جی
عید ہو کہ
ہر دن
اللہ تعالی مبارک فرمائیں
ہم سب کے لیے

بدھ، 15 اگست، 2012

سازشی ذہن


ایک تو جی یہ یہودی لوگ  لگتا ہے کہ کچھ زیادہ ہی" ویلے لوک" ہوتے ہیں
پاکستان کی بربادی کے لیے دن رات کام کرتے رہتے ہیں
پاکستانیوں سے جب بھی بات کریں پاکستان کی ہر خرابی کی جڑ امریکہ اور یہودی کو بتاتے ہیں
کچھ کچھ ہندو کا بھی قصور ہوتا ہے لیکن
بلکل ہی پڑوس میں ہونے کی  وجہ سے ہندو اتنا بھی سیانا نہیں لگتا
اس لیے سارا الزام یہودی اور امریکہ پر اتا ہے
یہودی بہت سیانا ہے
اس نے دنیا کو توحید کا تصور دیا
اور پھر اس پر عسائیت اور اسلام نامی مذاہب بھی  دنیا نے استعمال کیے
هو سکتا ہے که کوئی اس سے متفق ناں هو
لیکن یه حقیقت ہے که اسلام اور عسائیت  یہودیت کی هی بدلی هوئی شکلیں ہیں
جس طرح که ہمارے علاقے کی پیدائش ،هر دھرم ہندو دھرم کی بدلی هوئی شکل هوا کرتا هے
پہلے بده  اور سکھ دھرم کا نام لیتے ہیں پھر
بریلوی دھرم کا نام آتا ہے
دنیا کو بہت زیاده متاثر کرنے والے  مذاہب !۔ ان یهودیوں کے ہی بنائے هوئے هیں جی۔

لیکن اسلام نے خود کو دین هونے کا دعوی کیا
جی هاں دین
یعنی سسٹم
لیکن یه سسٹم  جیسا بھی ہے ۔ اس باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں ۔
لیکن

اب جو زمانہ جا رها هے
یه زمانہ هے جی
نئے دھرم کا
جس کو اپ کیپٹل ازم یا  سرمایہ دار نظام کہہ لیں یا
اج کا دین بھی کہہ سکتے ہیں ۔
یه دین ایک مکمل ترین ضابطه حیات ہے
اس ميں زندگی گزارنے کے سارے اصول پائے جاتے ہیں
سڑکوں کی تعمیر سے لے کر سڑکوں پر چلنے تک کے ضوابط موجود ہیں ، تو
رقم کے لین دین سے لے کر خرچ کرنے تک کا نظام ہے ۔
بنکنگ کے نظام اور مال کی ، دنیا بھر ميں ترسیل کا نظام بھی بہت منظم اور موجود  ہے
انصاف کا نظام هو که ، فوج کا نظام !۔ اس وقت دنیا میں اسی دین ( کیپٹل ازم ) کے نظام ہی چل رهے هیں
اس دین کو پورا پورا اپنانے والے سارے ممالک خوشحال ہیں ۔
اور ان ممالک کا معاشره جنت نظیر بنا ہوا  هے
لیکن جو ممالک اج بھی انارکی اور بدحالی کا شکار ہیں
ان کی اس بدحالی کی وجہ منافقت ہے۔
یه لوگ اج کے دین ( کیپٹل ازم ) میں پورے پورے داخل نہیں ہیں ۔
یه لوگ عدالت کا نظام
سڑکوں کا نظام
بنکنگ کا نظام
یا جو جو بھی نظام  دین ( کیپٹل ازم )  ميں پائے جاتے ہیں ان کو اپناتے بھی ہیں اور
اور ان کو برا بھی کہتے ہیں
اور اس ساری منافقت کے پيچھے یهودی کی سازش ہے
که یهودی نے
کچھ ایسا چکر چلایا ہے که
کسی بھی مسلمان ملک میں کوئی طاقتور بنک بننے میں رکاوٹ  دالنے کے لیے۔
 یهودی نے سازش کر کے مسلمان ملکوں کے باشندوں کو بے ایمان کردیا هے۔
 که یه لوگ امانت میں خیانت کرنے والے بن چکے ہیں ، اس لیے خود مسلمان لوگ بھی ، اسلامی بنکوں ميں اپنی دولت کو محفوظ نهیں سمجھتے
اسی طرح یهودی نے مسلمانوں ميں جھوٹ بولنے کی عادت ڈال دی ہے ۔
اب تو یه یه عادت کچھ ممالک میں ، اتنی پختہ ہو گئی ہے ۔
که لوگ خود سے بھی جھوٹ بول رہے هوتے ہیں
پھر کام چوری کی عادت بھی یهودی کی سازش ہے
اسی طرح کی کئی بری عادات هیں جو یهودی کی سازش سے مسلمانوں ميں شامل هو چکی ہیں
لیکن یه ہوا کیسے؟؟
اس بات کا مجھے بھی علم نہیں ہے
کیونکه میں بھی مسمان هوں ،اور یهودی کی سازش کی وجہ سے میں بھی اتنی سوچ کا مال نهیں رها هوں که یهودی کی اس سازش  کی تفصیل سمجھ سکوں ۔
کہ
مسلمانوں میں اخلاقی بد حالی کس طرح سے داخل کی گئی ۔

مجھے تو سمجھ نہیں لیکن
گاما پی ایچ ڈی جو که مسلمان بھی کم ہی هے
کافر بھی نہیں ہے
گامے کی پی ایچ ڈی کی ڈیفینیشنز ناں پوچھیں تو اچھا ہے
پرزه ہیوی ڈیوٹی جیسا کوئی فقره کہتا ہے ۔
جس میں پرزے کی جگه انگریزی کا لفظ استعمال کرتا ہے
گاما یہودیوں کو گالیاں دیتا هے اور یہودیوں کی سازش کی بات کو مانتا ہی نهیں هے
سازش کے رشتے ملانے لگتا هے اسلامی لوکاں کے  اور خواتین کے
اور مجھے اور اسلامی لوکاں کو بیوقوف اور احمق اور بہت کچھ کہتا هے
نئیں پتہ لگتا که گاما یهودی کے خلاف ہے که اسلام کے خلاف
نمازں ساریاں پڑھتا ہے ۔
اور اسلام کو مانتا ہی نهیں
پاسپورٹ پاکستانی ہے
اور پاکستان کو آزاد ملک ہی نہیں  سمجھتا
بس جی پاگل هے ۔
گاما بھی یهودیوں کی سازش کا شکار ہو چکا ہے اور اس کو بھی علم نهیں هے

لیکن میں بھی کبھی کبھی سوچتا هوں که
یهودی اینے ای ویلے نیں  تے فیر امیر کیوں نیں ؟؟

Popular Posts