منگل، 18 ستمبر، 2012

خود کلامی

آج 18 آگست ہے
مجھے گھر سے نکلے چوبیس سال ہو گئے
تئیس سال کی عمر تھی
اج میں سنتالیس کا ہوں
کچھ پیسے کما کر واپس اپنے وطن میں کام کروں گا
یہ خواب لے کر نکلا تھا
پھر
ہم زمانے میں کچھ ایسے بھٹکے کہ
ان کی بھی گلی یاد نہیں والی حالت ہے
پنجابی کا شعر
بھلدے بھلدے فریاداں دی عادت اوڑک پنچھی بھل جاندے نیں
سہندے سہندے ہر سختی اخر لوکی سہ جاندے نیں
مونہوں پاویں گل ناں نکلے ہونٹ پھڑک کے رہ جاندے نیں
اینج وی اپنے دل دیاں گلاں ، کہنے والے کہ جاندے نیں

کیا سوچ کر گھر سے نکلے تھے
کہ  کس کے لیئے کیا کریں گے ، کس کو کیا دیں گے
اور کس کو کیا کر کے دیکھائیں گے
لیکن ہوا کیا
کہ
وہ خواب و خیال کی کھیتیاں سب زمین کے شور سے جل گئیں
بھیڑیں پالنے کا پروگرام تھا
کہ  بیٹریاں بنانے کا کارخانہ
کچھ زمین خریدنے کی خواہش تھی کہ آئیس کریم کی فیکٹری
ماں کو سونے کے کنگن لے کے دینے تھے کہ دادا جی کو حج کروانا تھا

خواہش وہ خواہش ہے جو مرنے تک بھی پوری  ہو
جو دل ہی دل میں رہ جائے اسے ارمان کہتے ہیں
کچھ خواہشیں تھی کہ پوری ہوئیں
اور کچھ خواہشیں کہ
بس دل میں ارمان بن کے رہ گئیں ہیں
ایک  کسک سی اٹھتی ہے ، سینے میں
ایک لہر سی اٹھتی ہے خیالوں کی  پھر یہ لہر سونامی بن کے صبر کے بندہن توڑ کر  انسوؤں  کی شکل میں نکلتا ہے
اب تو عمر کے ساتھ انسو پی جانے کے فن میں تاک ہوگیا ہوں
لاگوں کے سامنے اس فن کی فنکاری میں تاک
لیکن تنہائی میں
میں ہوتا ہوں اور میرا رب
میرا رب کہ جو مجھے شرمندگیوں سے بچاتا ہے

ایک پرانا گانا ہوا کرتا تھا
جیدہا دل ٹٹ جائے
جدہی گل مک جائے
جنہوں چوٹ لگے 
او جانے
دکھی دل حال کی جانن لوک  بے گانے!!

بے وطنی کا احساس  ، اجنبیت نے تو ہم زاد کی جگہ لی ہے
تئیس سال کی عمر  میں وطن چھوڑا
بے وطنی کے چوبیس سال  ، وطن سے زیادہ بے وطنی کی زندگی کہ پھر بھی بے وطنی کا احساس!
وہ گیت کانے کے لئے کہ جس گیت کو انسان روز اوّل سے گاتا چلا ایا ہے کہ جس کے گانے سے آدم کو دیس نکالا ملا تھا
گلی گلی دیس بدیس  ، کہیں انترہ میں نے اٹھایا اور لے میں لے ملانے کو ساتھی ملے اور کہیں کسی کے انترے میں میں نے لے ملائی اور امرت دھارے کا وہ ازلی گیت گایا!
ایک اجنبیت تھی کہ ہر ساتھی کے ساتھ رہی ، ایک مانوسیت بھری اجنبیت!
بھیڑ میں اکیلا ، بھرے کمرے میں تنہا!
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا راستہ بھول گیا
کہ اپنی جنم بھومی میں اجنبی کی طرح کا وہ احساس کہ جو وینس کی آبی گزرگاہوں پر تھا کہ اگر ان کو گلیاں کہ سکیں تو یا کہ روم کی سنگی راہیں کہ پیرس کی گلیاں !
لندن ہو کہ زمین کی پشت پر واقع ملک کے شہر ، ہر جگہ جس اجنیت نے دل میں کسک پیدا کی
وہ کسک ایک دن مجھے اپنے گاؤں میں بھی پیدا ہوئی
کہ میں ناں ناں یہاں کا رہا ناں وہاں کا

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts