بدھ, ستمبر 5, 2012

حجاب اور ہندو رسوم

حجاب حجاب ہو رہی ہے جی
زرا غیر ملکی زبان کا لفظ ہو ۔ اور غیر ملکی رسوم کی چیز ہو تو پاک لوکاں کے جذبات بڑے عروج کو پہنچتے ہیں
چنری، گھونکھٹ کا نام نہیں لینا ہے
کہ
دیسی سی چیز ہے
اور کوئی اہل علم اس کو پاک مذہب کی بجائے ، ہندو کی رسوم کا ناں بتا دے
قران کے مطابق
عورتوں کو بال کو چھپانے اور جسم کی آرائیش کی جگہوں کو نمایاں ناں کرنے کا حکم دیا ہے جی  اللہ عالی شان صاحب سچے پادشاہ نے !!!
جدید تعلیم سے ناآشنا دیہاتی خواتین کھیوتں میں کام کررہی ہوں یا جانوروں کی دیکھ بھال! ان کا ڈوپٹہ ان کے سر پر  ہی ٹکا رہتا ہے
دیسی ڈوپٹہ اپنی ساخت میں ایسی چیز ہے کہ بالوں کو اور اوپری جسم کو بڑے بہترین طریقے سے ڈھانپتا ہے
لیکن یہ ڈوپٹہ  خالصتاً  دیسی چیز ہے
برصغیر میں مسلمان خواتین اس کا استعال کرتی ہیں
تو ہندو اور سکھ خواتین بھی اس کو استعمال کرتی ہیں
ہندو میں اس ڈوپٹے کے استعمال کےاصول  پاک لوکاں کے اصولوں سے کہیں سخت ہیں
ایک ہندو بی بی کو گھونگھٹ کا پابند ہونا پڑتا ہے
لمبی گھیر دار سکرٹ (گھگرا) پہن کر سارے جسم کو چھپانے کو ساتھ ساتھ
جیٹھ ، دیور ، سسر اور کئی نزدیکی رشتے داروں سے بھی منہ چھپانا ہوتا ہے!
گھر کے کام کاج ۔  چولہا چوکا۔ پوچا پاچی ۔ اور گھر  گرستی کے سارے کام بھی جاری رہتے ہیں اور گھر میں اتے جاتے  جیٹھ سسر یا دوسرے اس عورت کا منہ بھی نہیں دیکھ سکتے
پردے کا یہ طریقہ  میں نے اپنی برادری کی خواتین میں بھی دیکھا ہے
ہم جو کہ مجھ سے شروع کریں تو چودہ نسل  پہلے اسلام میں داخل ہو چکے ہیں
بابا مسو تھا جس نے اسلام قبول کیا میرے اباء میں سے اور اس نے اپنے بیٹے کا نام رحیم رکھا تھا
ہمارے گھورں میں میری چاچیاں اور دادیاں اسی طرح پردہ کیا کرتی تھیں
اور ہم کوئی شاہی نسل کے تو ہیں نہیں کہ جن پر کام کرنا اور کمی کہلوانا گالی کی طرح لگتا ہے
اس لیے ہم کام کرتے ہیں اور ہماری بی بیاں مردوں کے شانہ بشانہ کام بھی کرتی تھیں اور
جن رشتوں سے گھوگھٹ نکالنا ضروری تھا ان سے گھونگھٹ بھی نکالتی تھیں
لیکن کیونکہ ہم مسلمان تھے اس لیے  میری ماں ہو کہ چاچیاں  یا دادیاں ان سب کو داج( جہیز) میں برقعے بھی ملے ہوئے تھے
لیکن  میں نے یہ برقعے اس وقت ہی دیکھے ہیں جب  پیٹیوں )(بکسوں) سے نکال کر ان کو دھوپ لگائی جاتی تھی
ورنہ جی کام کرنے والے خاندان کی عورتوں کو برقعہ پہننے کا موقعہ ہی کب ملتا تھا؟
ناں تو جی ہماری بیبیوں کو شاپنگ پر جانا ہوتا تھا
اور ناں ہی سڑکوں پر سیر کی  فرصت
یہی ہوتا تھا کسی شادی بیاہ پر تو جی
یہی دن ہوتے تھے بی بیوں کے اپنے لباس نمائیش کرنے کے مواقع!!
تو جی لمبے گھونگھٹ والی چادروں کی بہار آئی ہوتی تھی جی شادیوں اور بیاہوں میں !!
جی شادیاں بھی کوئی ایک دن والی تو نہیں ہوتی تھیں ناں جی
دو راتیں تو برات ہی ٹھر جاتی تھی
لیکن کبھی پردے کا مسئلہ نہیں ہوا تھا
لیکن جی پاکستان بنانے کے بعد ہم کو
اپنی علیحدہ شناخت کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے کہ
ہر چیز میں ہماری علیحدہ شناخت ہونی چاہیے
لیکن کیا ہونی چاہیے؟؟
شوقین کوے کی طرح
بس بگلے کا رنگ ہونا چاہئے
اس کو علیحدہ شناخت کا نام دیے لیں گے
اور یہ نقل ہو گی کسی اور معاشرے کی !!
پاکستان بنایا
اور
پھر ہم نے نام بھی دیسی والے چھوڑ دئے
اللہ دتہ ، اللہ رکھا ، چراغ دین ،
اور طفیل ، مالک اور یونس جیسے ناموں سے ترقی کرتے کرتے
ایسے ناموں ہر آ چکے ہیں کہ
عربی میں چاہے سبزیوں کے ہی نام ہوں
ہم اپنے بچوں کے رکھ لیتے ہیں
حجاب کے دن پاک لوک ایک قدم اور بڑہ کر اپنے معاشرے کو عربی کے قریب کرنے کی کوشش میں ہیں
اسلام کے پردے کے مقاصد کیا ہیں ؟
اور یہ مقاصد مقامی رسوم سے کیسے بہتر طور پر حاصل ہو سکتے ہیں ؟
اس بات کی سوچ ہی نہیں ہے
کہ اوریجنل سوچ تک بند کرکے ، سوچ تک عربی کرنے کی کوشش میں ہیں
لیکن عربوں کی کم عقلی پر تو جی ان کی تیل کی دولت نے پردہ ڈالا ہوا ہے
پاک لوکاں کی کم عقلی پر ڈالنے کے لیے پردہ بھی بھیک کی صورت اتا ہے
ڈالروں اور ریالوں میں !
اہل فکر ، ان پردوں کے پیچھے کا بھی جانتے ہیں
پس یہ معلوم ہو کہ
چنری ، چادر ، گھونگھٹ ، جیسی دقیانوسی چیزیں ہندوانہ اور کافر ہیں !!
یا پھر کمی لوگوں کا پہناوا ہیں !!
اس لیے
پاک لوکان کو عربی طرز کا حجاب اور ایرانی اور عربی ڈیزائینوں کے برقعے استعمال کرنے چاہیے

2 تبصرے:

عثمان کہا...

خوب تحریر ہے جی۔
عربی ناموں سے یاد آیا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے پاک لوکاں میں کنیت کا بڑا رواج دیکھا ہے۔ پاکستان میں جب تک رہا ، ام کلثوم کے علاوہ شائد ہی کوئی اور کنیت سنی ہو۔

عنیقہ ناز کہا...

ہمارے یہاں کنیت کا تصور نہیں البتہ کنیت کو نام کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ عربی قاعدے پہ ابن، بن یا بنت کا استعمال بھی اب کافی عام ہو چکا ہے۔ بس مردوں میں عربی لباس نجانے کیوں اب تک نہیں آسکا۔ اسکی وجہ کسی کو معلوم ہو تو شیئر کریں بے حد نوازش ہوگی۔

Popular Posts