سوموار، 17 ستمبر، 2012

زرا ہٹ کے

ٹرینڈی کہتے هیں جی امریکی اس بات کو
لیکن جب ایک ٹرینڈ بن جائے تو کسی کو تو ایسا قدم اٹھانا هی پڑے گا که لوگ بھالے ٹرینڈ سے نکلیں
پاکستان ميں هونے والے کسی واقعے پر جب اخبار لکھتے هیں تو بلاگر بھی اسی پر لکھنا شروع هو جاتے هیں  حالانکه ان کو معاملے کی تعلیم اتنی هی هوتی ہے جتنی اخبار والوں نے دینی مناسب سمجھی هوتی ہے
تو ایسے وقت ميں کوشش کرتا هوں که اچھو ڈنگر یا گڑتھو چوہڑے کی کوئی بات لکھ کر ٹرینڈ کو کوما یا فل سٹاپ لگا دوں
فلسطین کے غم میں پریشان لوکاں کو کون سمجھائے که میرے اپنے پاکستانی کن دکھوں کے شکار هیں
میرے پاکستانی ریھڑیوں والے ٹانگے چلانے والے (اج کے دور میں چاند گاڑی)دوکان دار مزدور لوگ جن کے خاندان میں ناں کوئی سیاست دان ہےا ور ناں هی کوئی افسر
ان کو تو سپاہی بھی سب سے پہلے پوچھتا ہے
اوئے هوندا قون ایں؟؟

میں موٹر سائیکل پر تھا
پر کیا ! موٹر سائیکل کو گھسیٹ کر ون وے والی سڑک پر فٹ پاتھ کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہا تھا
گوجرانوالہ میں پوسٹ افس کے سامنے
سپاہی نے روک لیا!
اس نے پوچھا هوندا کون ایں
کیوں جائداد بیچنی ہے، یا اپنا مل لگوانا اے ؟؟
اوئے میں موٹر سائیکل بند کردیاں گا
اک ہزار ڈالر  دی اے ، اے موٹر سائیکل ،تے میں اینہوں ایتھے اگ لگا کے گھر چلا جاواں گا
تے دس ہزارڈالر لگا کے تیری انکوائری لگوا دیاں تے ؟
تسی تے غصہ کرگئے اوسر جی هم بھی یہاں صبح سے دھوپ میں کھڑے هیں !!سپاہی کے گھگیانے پر
میں نے پوچھا
سو روپیا کافی اے؟
جی جی!
لیکن اگر میرے پاس جاپان کی کمائی ناں هوتی اور ميں اس کو بتادیتا که کمیار هونا واں ،
تے؟؟
موٹر سائیکل بند تھانے میں ہوتی تشریف  لال اور رشوت بھی دو ہزار اور سفارشی بھی ڈھونڈنا پڑتا جی
اور دولت کے اعتماد نے صرف سو روپے میں کام چلالیا اور سپاهی کے منگتے پن کی بھی تسکین هو گئی
چلو جی یہ  تو کام چل گیا پیسے سے
اور پیسے والوں کے ہی چلتے ہیں پاکستان میں
لیکن عام پاکستانیوں کا کیا بنے گا؟
سندہی  بھی اور بلوچی بھی پنجابی کا شکوہ کرتے ہیں
لیکن پنجابی کا اپنا برا حال ہے
پنجابی سپاہی
پوچھتا ہے ہوتا کون ہے
اور بندے کی مالی کوالٹی کا اندزہ لگا کر تڑی لگاتا ہے
اور غریب کو ماں بہن کی گالی دیتا ہے
اور رشوت لیتا ہے
اور یہی سپاہی ۔
افسر سے گالی کھاتا ہے اور  رشوت میں لی رقم کے تحائف خریدتا ہے
افسر کی بیگم کے لئے
پنجابی رینجر
دہشت کی علامت ہے
کراچی کے اصلی دہشت گردوں کے لئے
لیکن
بے چارہ خودف دہشت کا شکار ہے کہ
پنڈ(گاؤں) میں  ماں کو پیسے بھیجنے ہیں کہ بہن کی شادی کے لئے جہیز تیار کرئے
فوجی ، گولی کھاتا ہے
گالی کھاتا ہے
کسی "اور" کے تمغے اور تلوں کے لئے


بس جی میرا تو پاکستان ہی گواچ (گم ہو) گیا ہے
کیا اپ کا پاکستان گم نہیں ہوا ہے؟
پاکستان اپ کا بھی گم ہو چکا ہے
بس
اپ کو ابھی پتہ نہیں چلا ہے

2 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

جندے لئیے اسی گوآچے ساں۔ ہن لغدا اے، اور آپ گواچی جاندا اے۔
اے دلاں دے دکھڑے نیں۔ کنوں دسیے؟۔
جس (پاکستان محبت کی وجہ سے) کے ہم گُم ہوئے ۔ محسوس یہ ہوتا ہے وہ (پاکستان) خود گم ہوتا جارہا ہے۔ یہ دلوں کے دکھ ہیں ۔ کسے بتائیں؟

Dohra Hai کہا...

گُم ہونے کا پتہ چلے گا تو سب شور کریں گے شور کریں گے تو ہمسائے جاگ جائیں گے ہمسائے جاگ گئے تو نیا سیاپہ پے جائےگا۔ ابھی پُرانے سیاپے تھوڑے ہیں مُکانے کو کیا؟ سانوں کی جو گُم ہو گیا ہے آپے لبدا لباندہ واپس آجائے گا سانوں کی۔

Popular Posts