ہفتہ، 8 ستمبر، 2012

گم کردہ پاکستان کی تلاش


سکائیپ پر  خاور کنگ کے موڈ میں لکھا ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش !!!
لیکن کم ہی لوگوں کو اس کی سمجھ لگتی ہے
کہ
اللہ عالی شان جو کہ عقل کل ہیں ان کا بھی فرمان ہے کہ
اکثریت سمجھ نہیں رکھتی
اور نشانیوں کا بتاتے ہیں  فکر کرنے والوں کے لئے
سوچ رکھنے والوں کے لیے
غلام ایم یا گاما پی ایچ ڈی!!
بڑا دور اندیش بندہ ہے
کسی خرابی کی جڑوں کا اور اس کے حل کا سوچتا ہے
لیکن اس خرابی کے پیدا کرنے والوں  کی اسی خرابی پر سیاست کا بڑا مخالف ہوتا ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
حجاب کے اج سے پچپن سال پہلے والے اصول اور معاشرے کی واپسی
ریلوے ، عدالت ، محکمہ تعمیرات ، سیاست ، اور بہت سی چیزوں کی واپسی
یعنی
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
یا یہ کہ لیں کہ پاکستان کی تلاش
مشرقی گیا مغربی گیا
باقی رہ گیا جی
لُنڈا پاکستان
جس میں کلمہ پڑہنے والے ہندؤں کی اکثریت رہتی ہے
جن کے معاشرے میں  برہمن(سید) کشتری(فوجی) ویش(عوام ) اور شودر ( اقلیتیں)  ہوتی ہیں ۔
پرستش کے لیے ان کے دیوتا( حضرت  و حضرات) ہوتے ہیں
گم کردہ پاکستان کی تلاش!

لیکن یہ سب ہندو کی ایک بھونڈی نقل کے سوا کچھ نہیں کہ جس طرح یہ مسلمان کہلواتے ہیں لیکن  ہوتے منافق ہیں اسی طرح ہندو کی طرز معاشرت رکھتے ہیں لیکن
ہندو  لفظ سے الرجی رکھتے ہیں !
ہندو ایک طرز معاشرت ہے
جس میں  صدیوں نہیں ! ہزاروں سال پہلے " لنگ جی مہاراج" کی بھی پرستش ہوتی تھی
لنگ جی مہاراج کے مندر ہوا کرتے تھے
کہ نسل انسانی کو بڑھانے میں  "ان " کی کرپا کی ضرورت ہوتی تھی
لنگ جی مہاراج کو خوش کرنے کے لئے  اور ان کی کِرپا کے "انت " کے لیے
کاما سوترا کی عبادات اور عمل ہوا کرتے تھے
مندجہ بالا بات سے اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہیدا ہو کہ خاور اس زمانے کو واپس لانا چہاتا ہے
تو جی ایسا نہیں ہے
یہ صرف اس لئے لکھا ہے کہ معاشرے کیسے اصولوں میں ترامیم کرتے رہتے ہیں

معاشرہ ترقی کرتا گیا
ابادی بڑہی تو
لنگ کی مہاراج کرپا کے جوش کو کم کرنے کے اصول وضع کیے گئے
جن کو پردے کے اصول کہ سکتے ہیں
جن میں عورتوں کو ان کے رشتوں کے مطابق خود کو چھپانے کے اصول بنائے گیے
جن کا میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ذکر کیا تھا

جی ہاں
صدیوں نہیں ! ہزاورں سال پہلے
جو لوگ اس بات کے مغالطے کا شکار ہیں
کہ ہند میں کو کچھ ہوا اسلام کے انے کے بعد ہوا !
تو ان کے لیے
ایک بات کہ
ایک اردو کے بلاگر ہوا کرتے تھے بد تمیز !
ان کا کہنا تھا کہ جاہل کی سب سے بڑی سزا یہ ے کہ اس کو علم کی بات ناں بتائی جائے!!
اس لئے یہ علم کی باتاں اپ کے لئے نہیں ہیں جن کا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے
جن کے خاندانوں کی روزی روٹی کا دارومدار ہی اسلام  کے نام ہر ہے
ان کو علم کی نہیں
بلکہ زیادہ سے زیادہ جہل اور مغالطوں کی ضرورت ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
کہ جو کچھ ہم میں تھا اس کو تباہ کیا گیا اسلام کے نام پر
اور اب اسی تباہ کر دی گئی رسوم کو مشرف اسلام کرکے ان کے دن منا کر
ہمیں بیوقوف بنا رہے ہیں
میں ایک مسلمان ہوں
میں ایک اللہ کو مانتا ہوں
اس لئے مندورں خانقاہوں ، مزاروں اور داروں سے دور رہتا ہوں
میں مسلمان ہوں
انسانوں کی برابری کا یقین رکھتا ہوں
اس لیے پاک برہمنوں (سید) لوگوں کو بھی کسی چوہڑے چمار یا کمہار کی طرح کا انسان ہی سمجھتا ہوں!
اگر کوئی ہندو  کسی سید کو ملیچھ کہے تو اس بھی اتنا ہی برا سمجھتا ہوں جتنا کسی پاک کے کسی ہندو کو پلید کہنے کو!
میں ایک مسلمان ہوں
اس لیے غیر اللہ کے نام پر  نذر نیاز یا بھوجن نہیں دیا کرتا
مجھے اسلام کی تبلیگ کرنے والوں نے احادیث کے نام پر بتایا ہے کہ
علم مومن کی میراث ہے  جہاں سے بھی ملے مومن اس کو اپنا مال سمجھ کر حاصل کرلیتا ہے
اور میں اس حدیث نامی قول سے قطع نظر  علم کی بات لےلیا کرتا ہوں
لیکن
پاکستان کے پاک لوگ
اگر علم کالی چمڑی والے سے ملے تو؟
ان کا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے
جس طرح ہندو کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ہے


اج اتنا ہی سہی
کام پہ بھی جانا ہے!!

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts