اتوار, ستمبر 16, 2012

واٹر کِٹ

بوزنوں کی سر زمین پاکستان میں جس کو بھی قریب جاکر دیکھو ، چھوٹا بندہ نکلے گا!
کسی نے بتایا کہ
پاکستان میں ہر بڑے بندے کو جب قریب سے دیکھو گے تو چھوٹا بندہ نکلے کا
سننے والے نے پوچھا کہ
اور ہر چھوٹا بندہ؟؟
تو جواب ملا کہ
چھوٹا بندہ ہے ہی چھوٹا
دور سے بھی اور قریب سے بھی!!
ڈاکٹر ثمر مبارک!!
جن کی بڑکوں اور واٹر کِٹ امیدوں سے پاک قوم خواب دیکھ رہی ہے اس کی حقیقت کیا ہے

اس خبر کے مطابق فلحال تھر کے کوئلے والے خواب پر مٹی پاؤ کی بات ہے اور بعد میں ماحول تیار کرکے بتایا جائے گا کہ
اس منصوبے سے اب کچھ اور لوگ موج  اڑائیں گے
اور خاور کے علم کے مطابق!!
کچھ اس طرح ہے کہ
تھر کا کوئلہ  ،  تھر کی ریت  سے کوئی تین سو میٹر نیچے ہے
جی ہاں ریت کے نیچے!!
کوئلے کو نکالنے کے لئے سرنگ بنا کر کان کنی کی جاتی ہے!
اور ریت میں سرنگ بن نہیں سکتی!!
اب کوئلہ  نکالنے کے لئے ریت کو ہٹانا پڑے گا۔
جس پر سالوں کا وقت اور اربوں میں ڈالر خرچ ہوں گے
یہ تھر کے کوئلے کا منصوبہ بھی کسی پاک سیانے یا ڈاکٹر ثمر مبارک کا نہیں تھا
اس کو ورڈ بنک نےایک کروڑ ڈالر کے خرچ کے بعد  لوکان کو بتایا تھا
اور ورڈ بنک کے اندازوں کےمطابق ، اس کوئلے کو نکال کر بجلی بنانے تک کوئی دس سال کا عرصہ اور
کوئی بارہ بلین ڈالر کا خرچ ہو گا
اب جی
چلو جی ریت ہٹا دی ۔
تو اس کے بعد کوئلہ نکالنے کے کام میں پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔
تھر اور پانی؟؟
چلو جی دریائے سندہ سے نہر نکال لیں گے
لیکن
دریائے سندہ تھر سے نیچا بہتا ہے
پانی اوپر کیسے چڑہاؤ گے؟
سب سے بڑی بات کہ
پاک قوم
اور
نہر نکال لے!!
انگرزوں کی بنائی نہروں پر پل بنانے ناممکم بنے ہوئے ہیں
اور نئی نہر!!

پاکستان میں ایک بات بڑی مشہور ہے کہ
چین نے گیارہ سنٹ یونٹ کی قیمت پر پاکستان کو بجلی دینے کی آفر کی تھی
لیکن پاکستان  اپنی بد اندیشی کی وجہ سے یہ افر رد کر دی
لیکن اس افواہ کی حقیقت یہ ہے کہ
چین کی ایک کمپنی نے 1997 میں تھر کے کوئلے کو نکال کر اس کو استعمال کرکے اس سے بنائی جانے والی بجلی کو گیارہ سینٹ میں پاکستان کو فروخت کرنے کی بات کی تھی۔
پنجابی میں کہتے ہیں
تہاڈا ای سر تے تہاڈیاں ای جوتیاں
اور اب جب اس منصوبے پر کروڑوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں
اب بھی باز آ کر اسی چینی کمپنی( چینی کمپنی ہے ، چینی حکومت نہیں) ٹھیکہ دے دیتے ہیں تو؟
ڈالر کی قدر میں کمی ، تیل کی قیمت میں اضافہ اور دیگر عوامل کی وجوہ سے
وہ کمپنی بھی اس قیمت پر راضی نہیں ہو گی
اور اس سے زیادہ قیمت کی بجلی پاکستان افورڈ نہیں کرسکتا

اس کو پنجابی میں کہتے ہیں
سو گنڈے وی کھانا تے سو لتر وی!!
کسی  گاؤں میں بندے نے چوری کی
پکڑا گیا !
مال برامد ہو کر مالکوں کو واپس بھی مل گیا
لیکن
پنچایت نے چور کو سزا سنائی کہ
یا تو پیٹھ پر سو لتر کھا لو
یا سو عدد کچے پیاز کھا لو!
چور نے پیاز کھانے کو اسان جانا اور پیاز کھانے کی سزا قبول کر لی
دس عدد کچے پیاز کھانے تک  انکھوں کے انسو اور دیگر کیفیات سے تنگ ٓ کر اس نے کہا کہ
نہیں میں سو لتر کھا لیتا ہوں
دس لتر لگنے تک چور بد حال ہوا اور
پیاز کی سزا کو بھال کرنے کی درخواست کی۔
اسی طرح کرتے کرتے اس چور نے کوئی اسی نوے پیاز اور سو لتر بھی کھا لیے جی!۔

جو میں نے لکھا ہے اس کو دوسروں کی سائینسی سے دیکھنے کی بجائے اپنی عقل سے سوچیں کہ
تین سو میٹر موٹی ریت کی تہ کو کیسےہٹائیں گے اور اس ریت کو کہاں رکھیں گے؟؟
چلو ایک منٹ کے لئے تصور کر لیں کہ اپ ایک کلو میٹر سکوائر سے ریت کو ہٹا لیتے ہیں جس کو دو کلو میڑ کے علاقے میں رکھ لیتے ہیں ، تو اس ریت سے اس دو کلو میں میں ڈیڑہ سو میٹر اونچا ریت کا ٹیلہ بن جائے گا جو کہ اپنی بنیادوں میں ڈھلوان ہو گا جس کی وجہ سے تین کلو میٹر کا ایریا گھیرا جائے گا
اور یہاں سے ریت نکالی ہے وہاں سے ڈھلوان کی وجہ سے ادہ کلو میڑ کے ہی علاقے سے کوئلہ نکالے کا ماحول بنے گا ۔
اب جب یہان سے کوئلہ نکال لیں گے تو اگلے علاقے میں ریت تین سو میٹر پلس ڈیڑہ سو میٹر ساڑھے چار سو میٹر ہے!!!!َ۔
اس ایک سوچ کے بعد بھی تکلیف کریں اور زرا کوئلے کی کان کنی پر کافر لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں پڑہیں کہ کیسے نکالا جاتا ہے ؟
کوئلہ جل اٹھنے والی چیز ہونے ک وجہ سے (اختصار کے ساتھ بتا رہا ہوں )توڑتے ہوئےپانی کی ضرورت ہوتی ہے
بلکہ بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے
وہ پانی تھر تک لانے کے لئے کیا کیا جائے گا
اور کیسے لایا جائے گا؟
باقی اپ خود بھی سوچیں ڈاکٹروں کی سوچ تک ہی ناں رہیں کہ
پاکستان میں جھوٹ اتنا زیادہ ہے کہ
اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

 

3 تبصرے:

Dohra Hai کہا...

بہت ہی اہم موضوع پر آپ نے قلم اُٹھایا ہے اوربہت اچھی منظر کشی کی ہے۔ ویسے بحیتیت قوم ہم لوگ اب تک سینکڑوں پیاز کھاچُکے ہیں اور چھِتروں کا تو خیر حساب کِتاب رکھنا ہم نے تو چھوڑ ہی دیا ہے کیوں کہ ہمارا گِننے کا عِلم بھی تو محدود ہے نا۔

گمنام کہا...

"سو گنڈے وی کھانا تے سو لتر وی"

ub tu yeah Qaumi taranay main daal dain, buhut sajay ga

مانی کہا...

جو منصوبے جب قابل عمل ہوں ان پر کام تو جاری رہنا چاہئے۔ توانائی کے بحران کا فوری حل بھی ضروری ہے، معیشت کی بتی بُھجنے کے قریب ہے۔

Popular Posts