جمعرات، 30 اگست، 2012

منافق اسلام

بہت سے موضوعات ہوا کرتے تھے
گفتگو کے لئے!
کچھ دہایان پہلے تک
ماہئے ، ٹپے ۔ لوک داستانیں ْ لطیفے، دوسروں کے گلے شکوے اور تعریفیں ، موسم کی باتیں ۔ ہجر و فراق کی باتیں ۔
میلوں کی یادیں ۔ سفروں کی باتیں
بہت سے موضوع ہوا کرتے تھے
پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ
ایک ہی موضوع رہ گیا جی پاکستان میں
اسلام!!!!
میرا اسلام ، تیرا اسلام ، اس کا اسلام اور کس کس کا اسلام
دماغ سکڑ کر چھوٹے ہوتے گے
لیکن یار لوگ اس کو اسلام سے وابستگی کا نام دے کر
اپنے اپنے اسلام میں سکڑتے چلے گئے
جب ان دولے شاہ کے چوہوں کو آئینہ دکھائیں مسلمانوں کی حالت زار کا
تو فرماتے ہیں
اس میں اسلام کا کیا قصور یہ تو اسلام کے ماننے والوں کا قصور ہے
تو ؟
گاما پی ایچ ڈی سوال جڑ دیاتا ہے کہ
یعنی کہ اسلام میں یہ نقص ہے کہ اپنے مانے والوں کی اصلاح بھی نہیں کرسکتا؟
یا کہ اس دین میں رہنے والے نقائیص کا شکار ہو کر ہی رہتے ہیں
تو گامے کو کافر اور  بے دین اور اس طرح کے الزامات دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے اور
اپنی ریا کاری اور کم علمی اور کم سمجھی پر پردہ ڈالنے کے لیے
فیس بک پر اسلام تغرے تعزئے لگا لگا کر اسلام کے للکارے مارے جاتے ہیں
اور مزے کی بات ہے کہ
تغرے لگنے والوں کی اکثریت ، ان تغروں کے معانی مطالب سے کم ہی واقف ہوتی ہے
کیونکہ ان کو بھی یہ تغرے ’’ کہیں اور’’ سے ہی آئے ہوتے ہیں!
یہاں جاپان میں میں جن لوگوں کو منافق سمجھ کر
ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا
جن کے ساتھ دسترخان پر نہیں بیٹھتا
وہ لوگ فیس پک پر تغرے لگا لگا کر اسلامی اور مذہبی اور معزز بنے بیٹھے ہیں
ریاکاروں کی محفلوں میں خاور کا تذکرہ ؟
ناں ای پچھو جی!!
بس اتنا سمجھ لیں کہ کچھ اچھا ذکر نہیں ہوتا جی !!!

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts