ہفتہ، 31 مارچ، 2012

بے چارے کم ظرف

بے چارے ، پاک طاقتور
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/03/120329_punjab_question_zardari_rh.shtml
ایک استاد (ماسٹر جی) کی ہلکی سی ادبی اور لطیف دل لگی بھی برداشت نہیں کر سکے
بی بی سی کے مطابق امتحانی پرچے میں کچھ لوگوں کے نام شامل کرنے والے استاد کو
نوکری سے ہی چھٹی کروا دی ہے
متنازع سوال سے متعلق چیئرمین تعلیمی بورڈ ڈی جی خان ڈاکٹر ظفر عالم ظفری نے حافظ اجمل کو بورڈ کی خدمات کے لیے تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے اور بورڈ کوآرڈینیٹر اعجاز بخاری کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔
خاور کا تبصرہ
بے چارے
کم ظرف
اگر کوئی استاد خاور کانام شامل کرے تو
تاریخ میں خود کو زندہ کردینے والے اس کام پر خاور خوش ہو گا
لیکن یہی تو فرق ہے خاور میں اور پاک حکومتی لوگوں میں
ایک دفعہ کسی محفل مین بات چل نکلی تو میں نے اظہار کیا کہ
اگر میں آصف زرداری کی جگہ ہوتا
کہ
پر چیز بنی بنائی مل جاتی
دولت شہرت۔ اور حکومت
تو
میں ایسے کام کرتا کہ نیکیان ہی نیکیاں کرتا چلا جاتا
اتنے تعمیری اور مثبت کام کرتا کہ مرنے بعد لوگ صدیوں یاد کرتے کہ
ایک کمہار کا گزر ہوا تھا یہاں سے
تو ایک دوست نے کہا
یہی تو فرق ہے خاور میں اور زرداری میں

5 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

کم ظرف یعنی چھوٹا پانڈا
میرے خیال میں پرچے کے متعلقہ سوال میں زرداری کی بے عزتی نہیں ہوئی تھی مگر اب ہو گئی ہے کیونکہ ثابت ہو گیا ہے کہ زرداری اور حکومتی کارندے سب چھوٹے پانڈے ہیں
مجھے یاد آیا جب میں انجیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا اور امیر محمد خان کالاباغ والا گورنر تھا ۔ انارکلی میں ایک آدمی مصنوعی موچھیں بیچتے ہوئے آواز لگا رہا تھا "دوانی دی مُچھ تے گورنری مفت"۔ پولسیئے نے پکڑ کے پھنٹی لگا دی ۔ خبر اخبار میں چھپ گئی ۔ گورنر نے خبر پڑھ کر حکم دیا کہ "بندہ حاضر کیا جائے"۔ پولیس نے حاضر کر دیا تو گورنر امیر محمد خان نے ہنس کر اسے تھاپڑا لگایا اور انعام بھی دیا

ماہ وش جاوید کہا...

یہی تو فرق ہے زرداری میں اور انسانوں میں۔۔۔
بہت خوب لکھا جناب۔۔
شکریہ

علی کہا...

سب میڈیا کا کیا دھرا ہے بیچارہ اویں ہی مفت میں پرچے بازی سے گیا میرا مطلب پرچہ بنانے سے

ابراهيم علي کہا...

کهـوكر بهاى  صاحب بعد   سلام آپ كى توجۂ ڈاكٹر غلام سرور صاحب كے متعلق ايك پوسٹ.   
کAdmin کےنام والے بلاگ كى طرفموڑنا چاهتا هون آپ آور اپ کے ساتهى بلاگرذ جو موٹر ٹيكنالوجى سے واقف هين شآيد پانى سے چلنے والى  موٹر ٹيكناوجى سے خود كو اور قوم كوبهت فايدا پهنچا سكتے هين   

عنیقہ ناز کہا...

یہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح آپ لے رہے ہیں۔ یعنی فیس بک کے کسی پیج پہ ہر طبقہ ء فکر کے لوگ بیٹھَ اپنی رائے دے رہے ہوں۔
تعلیم کو مذاق نہیں ہونا چاہئیے۔ ایک طالب علم پورے سال کی محنت کے بعد کمرہ ء امتحان کا منہ دیکھتا ہے اس لئے کہ ممتحن صاحب اس سے مذاق فرمائِں۔ نظام میں ہونے والی غلطیوں ککے احتجاج کے لئے امتحانی پرچہ جات نہیں ہوتے۔
بورڈ کے پرچے کئ افراد سے گذر کر طالب علم تک آتے ہیں۔ یہ مذاق نہیں ہے۔
پھر اس سوال کے جواب ملاحظہ فرمائیں۔ پرچہ اردو کا ہے اور سوال ملکی نظام کے بارے میں ہے جواب میں دین، دنیا، زرداری اور گیلانی سب آجاتے ہیں۔
استاد کا کہنا ہے کہ ذہنی صلاحیت جانچنے کے لئے کیا گیا تھا۔
اول یہ متعلقہ مضمون سے تعلق نہیں رکھتا۔ دوئم سوال کو اصول کے مطابق بالکل واضح ہونا چاہئیے۔ اپنے ملکی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس سوال سے جو تائثر اٹھتا ہے وہ صرف گیلانی یا زرداری تک محدود نہیں بلکہ دنیا کو ٹھکراتے ہوئے ممتحن اپنے تبلیغی رجحان کو سامنے لاتا ہوا لگتا ہے۔ یعنی اللہ کو بھی اس میں شامل کر لیا۔
اب نویں جماعت کا ایک طالب علم کنفیوز ہوگا کہ ہر چیز کو خدا کے تابع ہونا چاہئیے نہ کہ زرداری یا گیلانی کے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم دنیاوی زندگی گذارتے ہیں تو نظام کو چند انسانوں کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ محض اللہ کو حاکم مان کر ریاست نہیں چلائ جاتی۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی میڈیکل کے اسٹوڈنٹ سے سوال کیا جائے کہ اگرحمل کے آخری وقت میں ماں کا بلڈ پریشر بہت بڑھ جائے تو کس سے رابطہ کرنا چاہئیے۔
جوابات
اللہ
شوہر
ڈاکٹر

Popular Posts