منگل، 6 مارچ، 2012

کوریا



شمالی اور جنوبی کوریا
دو ممالک جو کہ حالت جنگ میں ہیں صرف ان کے درمیان فائیر بندی ہوئی ہے ومالی میں تو جانے کا اتفاق نہیں ہوا ہے لیکن
جنوبی میں خاصی آوارہ گردی کی ہوئی ہے
اس ملک میں گھومتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ اس ملک کو جنگ کے لئے تعمیر کیا جارہا ہے
سڑکیں ، گزرگاہیں ایسی بنائی گئی ہیں کہ پوری طاقت کی جنگ کے دوران بھی عوامی زندگی پر کم سے کم اثر پڑے
دہیہاتی علاقوں ی سڑکیں اس طرح سے بنائی گئی ہیں کہ درمیان میں دیوار کھڑی کرنے کی بجائے صرف لکیر لگائی گئی ہے
موڑوں اور چوکوں میں سڑک سے ملحقہ جگہیں ،لکیریں لگا کر اس طرح سے تیار کی گئیں ہیں کہ ٹینک اور
دوسری فوجی گاڑیاں ٹریفک کے نظام میں خلل ڈالے بغیر کھڑی جاسکی
چوڑی سڑکوں کے درمیان صرف لکیر لگا کر اس
طرح سے تیار کی گئیں ہیں کہ جنگی جہاز کی لینڈنگ اور اڑان کو ممکن بنایا جاسکے
جگہ جگہ زمین دوز گزراہیں ہیں جو کہ پیدل چلنے والوں کو جہاں اس بات کی اسانی فراہم کرتی ہیں کہ بڑی اور رش بھری سڑکوں کو اسنی سے پار کرسکیں
وہیں جنگ کے دنوں میں فضائی حملے سے بھی بچاوٗ ہو سکے
ہوسکا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ ایٹمی حملے میں بھلا یہ پناہ گاہیں کیا کام آئیں گی!!-
زندہ قومیں اس بات کو بھی دہیان میں رکھتی ہیں کہ ، ایک پڑوسی ملک اگر ایٹمی حملہ کرتا ہے تو اس کے اس حملہ آور ملک پر کیا اثرات ہوں گے
سیول شہر میں ریل کا زمین دوز نظام
جہاں تک میں نے دنیا میں سفر کیا ہے ، سستتا ترین اور منظم نظام ہے
پیرس کے زمین دوز ریل کے نظام کو دنیا کا منظم تین اور بہترین نظام مانا جاتا ہے
لیکن سیئول کے نظام کو مین نے سستا ترین کہا ہے
یہان ریل کے اوپر والی منزل کو پیدل گزرگاہ بنا دیا گیا ہے
کہین کہیں پیدل چلنے والی یہ راہداریاں بند بھی ہیں
لیکن تقریبا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں
جن میں کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے ، ٹوائیلٹ ، بنک کی اے ٹی ایم مشینیں اور طرح طرح کی سہولتیں میسر ہیں
ان راہداریوں میں اگر آگ لگ جائے تو کیا ہو؟؟
پنجابی کا ایک محاورہ ہے
جہڑے ستھناں پاوندے نے
اونہان ہگن لئے راہ رکھے ہوندے نے


یہ کچھ تصویریں اور ایک ویڈیو لگا رہا ہوں ، یہ فوٹو میں نے خود بنائے ہیں اور
ویڈیو سیول اسٹیشن کے پیلٹ فارم پر لگے ایک ٹیلی فون بوتھ پر چلنے والی سکرین سے بنایا ہے
یہ الماریاں رکھی ہیں جن میں گیس ماسک اور آگ بجانے کے الات رکھے ہیں، اور ان کو استعمال کے طریقے اسکولوں میں بھی بتایے جاتے ہیں اور یہاں بھی
جی ہاں سکولوں میں، یاد رہے کہ کوریا کی اس ترقی کے پیجھے دیڑہ سو سال کی تعلیم کا ہاتھ ہے۔
تعلیم !!جس کے خلاف ہمارے ھکمران صدیوں سے پڑے ہیں کہ
قوم پڑہ ناں جایے




ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts