سوموار، 19 مارچ، 2012

رسد طلب اور سپلائی

اپاں جی کو سارا پنڈ آپاں جی ہی کہا کرتا تھا
چٹی انپڑہ آپاں جی کو دنیاوی معاملات کی اچھی خاصی سمجھ بوجھ تھی
کردار کی اتنی مضبوط کہ لوگ مثال دیں
لیکن گالیاں مردوں والی دیتی تھیں
بڑی برادری اور اپنے ہی گاوں میں شادی کی وجہ سے کسی کی جرآت بھی کم ہی ہوتی تھی کہ اپاں جی سے کوئی سے چالاکی کرے
اپاں جی کے برادی کے بھائی ہی درجنوں میں تھے
جو اپاں جی کے لیئے جان بھی قربان کرتے تھے
شائید ان بھائیوں کی عزت کے لئے اپاں جی کردار کی مضبوط تھیں اور بھائیوں کی غیرت بھی
گاوں میں فون ایکسچینج بھی تھی اور یہاں فون اپریٹر بھی
میڈم بڑی خوش لباس اور چلتا پرزہ تھی
بڑے بڑے لوگوں سے اس کے تعلقات تھے
میڈم اپاں جی کے گاوں میں فون اپریٹر ہو کر آگئی
میڈم کی خوش لباسی اور لٹک لٹک کر چلنا کہ شوقین لوگ اہیں بھرتے تھے لیکن دور دور سے کہ میڈم کی پہنچ بڑی دور تک تھی
ان دنوں فون کچھ اسطرح کا ہوتا تھا کہ کسی کے گھر سے ڈائیل نہیں ہو سکتا تھا
ہینگر اٹھاو تو فون اپریٹر جواب دیتا تھا اور اس کو کہنا پڑتا تھا کہ نمبر ملا دو
میڈم نے ایک دن اپاں جی کی بیٹی کو فون کردیا کہ
میری سہیلی بن جاو
شہر سیر کے لیے چلیں گے شاپنگ کریں گے
اپاں جی کی بیٹی نے ساری بات اپاں جی کو بتادی
کہ اپ کا کیا مشورہ ہے؟
جہان دیدہ اپاں جی کے تو جیسے آگ لگ گئی
میڈم کو فون کیا اور ادھر اُدھر پھرنے والے سارے ڈنگروں سے اس کی شادی کروانے لگیں
میڈم کی وہ کی کہ بس جی میڈم اگر عام سی عورت ہوتی تو رونے لگتی
اپاں جی کو علم تھا کہ اب جھوٹے مقدمے تھانیدار اور فوج کے افسروں سے چھڑ جائے گی
قانون کے رکھوالے ،کنجریوں کے رکھوالے بن کر آجائیں گے
آپاں جی جانتی تھیں کہ میڈم مال کی سپلائی لائین کی کنجری ہے
اس لئے
ادھ گھنٹے میں اپاں جی کے بھائی کوئی دو درجن مزدورں کے ساتھ ایکسچینج کے سامنے پھنچ گئے
ایک مزدور نے زور زور سے دروازہ کھڑکایا
کہ میڈم کے جہرے پر ہوئیاں تھیں ، دروازہ کھلتے ہی آواز اتی ہے
اوے نکل آئی جے
اور اپاں جی کا بھائی معافی مانگنے آ جاتا ہے
میڈم جی مٹی پاو
ہماری بہن غصے کی بری ہے
اور ہم مجبور ہیں کہ اس بہن کے لیے جان بھی قربان کرسکتے ہیں لیکن اس کو منع نہیں کرسکتے
بس جی میڈم تسی ہم کو معافی دے دیو
اور ساڈی برادی کی لڑکوں کو سہیلی بنانے کا خیال دل سے نکال دو
چوھدریوں کے کان تک بات پہنچی تو ٹھرک جھاڑنے کے لیے چوھردانی آپاں جی کے پاس پہنچ گئی
چوھدرانی سارے گاوں کی بی بی جی تھیں
بی بی جی کو اپاں جی نے بتایا کہ یہ میڈم افسروں کی سپلایہ ایجنٹ ہے
لڑکیوں کی سہیلی بن کر ان کو شہر لے جاتی ہے اور
خراب کروادیتی ہے
لیکن اپ کو کیسے پتہ چلا آپاں جی؟
بی بی جی کے استعفار پر اپاں جی نے بتایا کہ ابھی پچھلے دنوں ہی تو اس نے ساتھ کے گاوں کے چکی والوں کی لڑکی کو خراب کیا ہے
اس کا باپ منہ جھپاتا پھر رہا ہے لڑکی سہیلی کے ساتھ رات گھر سے باہر رہے اور صبح سویرے گھر آئے تو اس کا کیا مطلب ہوتاہے بی بی جی؟ تہانوں وی تے پتہ ہے ناں ۔
اپاں جی فوت پو چکی ہیں
زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے
ویت نام کی جنگ میں امریکی فوجیوں کی سیکس کی طلب کے لیے رسد کا انتظام ہوا کرتا تھا
تھائی لینڈ سے
اور افغانستان کی جنگ میں اسی امریکہ فوج کی سیکس کی طلب کی رسد کہاں سے جاری ہے؟
اپاں جی مر چکیں ہیں ۔ میڈم کا کام جاری ہے
میڈیا سنسنی بیچ رہا ہے
لوگ تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں
معاشرے میں جسم فروشی بڑہ رہی ہے
لیکن کسی کی بھی نظر وہ نہیں دیکھ رہی جو آپاں جی کی نظر دیکھ رہی تھی
جب گیر ملکی سیانے بتائیں گے کہ پاکستان سکیس کی طلب کی رسد دیا کرتا تھا
تب لوگ اس کے متعلق لکھنے لگیں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ
غیرملکی قرارداد سے پہلے کسی کو اس بات کا خیال کیوں ناں ایا؟؟
جیسا کہ بلوچستان کے متعلق کسی کو خیال نہیں ایا تھا
تو کوئی ناں کوئی ان کو بتا ہی دے گا کہ
خاور نے اس کے متعلق بہت پہلے لکھنا شروع کر دیا تھا

3 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

اسد صاحب سے کچھ عرصہ پہلے ملاقات ہوئی۔۔۔ میجر تھے، کورٹ مارشل ہوا، اب نوکری کی تلاش میں دبئی کے چکر لگا رہے ہیں۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ جب میجر تھے تو پشاور کے قریب کسی چیک پوسٹ پر ایک ٹریلر آ کر رکا۔۔۔ اس پر 40 فٹ کا کنٹینر تھا۔۔۔ ڈرائیور نے چھلانگ لگائی اور بھاگ نکلا۔۔۔ جب اسد صاحب نے کنٹینر کھلوایا تو اس میں 30 /40 بچیاں، جن کی عمریں 12 سے 20 سال کی تھیں، بے ہوش پڑیں ہیں۔۔۔ اسد صاحب نے پولیس کمشنر کو اطلاع بھیجی۔۔۔ اسی دوران، ایک بڑے کرنل صاحب بے وقوعہ پر پہنچے۔۔۔ اور اسد صاحب کے کان میں پوچھا کہ پولیس کو اطلاع تو نہیں دی۔۔۔ اور اگر دی ہے تو کس سے پوچھ کر دی ہے۔۔۔ اسد صاحب اکڑ گئے کہ یہ بچیوں کا معاملہ ہے۔۔۔ کرنل صاحب نے کہا کہ آپ کا کام ختم اور ہمارا شروع۔۔۔ اب آپ جا کر آرام کریں۔۔۔ کچھ دیر کے بعد، ڈرائیور کو ڈھونڈھ کر ٹریلر روانہ کر دیا گیا۔۔۔ اور اسد صاحب پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر فوج سے باہر پھینک دیا گیا۔۔۔
یہ سارا قصہ سناتے ہوئے اسد صاحب کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تھے۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میرا ایک دوست کرنل ہے،
اس کے مطابق تو جناب ہیلی کاپٹر اڑ کر جاتے ہیں۔
جل کے اس نے ایک دفعہ کہا تھا۔
سیاستدانوں کی بے غیرتی اور بے حیائی تو سامنے آجاتی ہے۔
اصلی بےغیرت اور بے حیا عوام اور فوج کے کرنل جرنل ہیں۔جو بے غیرتی اور بے حیائی چھپا جاتے ہیں۔
عوام کی بیغرتی اور بے حیائی سڑکوں پہ دیکھو لو اور فوج کی بیغیرتی اور بے حیائی وردی میں۔

گمنام کہا...

خاور نے جس معاملے کی طرف اشارہ کیا وہ عمران اقبال صاحب کے تبصرے سے واضح ہو گیا

لیکن میں اس بات پر حیران ہوں کہ یہ ایک بہت اہم معاملہ ہے اور اب تک کسی غیر ملکی رپورٹر نے اس رپورٹ نہیں کیا، جبکہ وہ یہاں تک تو رپورٹ کر رہے ہیں طالبان یہی کام امداد باہمی کے اصول پر انجام دے رہے ہیں
میرے خیال میں اگر اس رپورٹ میں تھوڑی سی بھی سچای ہوتی تو اب تک سامنے آ چکی ہوتی


فی الحال میں اس بات سے متفق نہیں ہوں، اس کے لیے مزید ٹھوس ثبوت چاہییں

ارسلان

Popular Posts