جمعرات، 15 مارچ، 2012

اک دو باتاں

ایک بات یا دآئی که یه نرگسیت کیا هوتی هے
آپ نے سنا یا پڑھا تو هو گا تہذیبی نرگسیت یا نرگسیت کا مارا یا ماری
یا نرگسیت کا شکار!!ـ
قدیم یونانیوں میں ایک دیوی هوا کرتی تھی جس کا نام تھا نرگس
اپنی والی نرگس نهیں جو سٹیج پر ڈانس بڑا کھلا ڈھلا کرتی هے که
مردوں کو بھی چاکا سا انے لگے
وه والی نرگس بڑی خوب رو تھی که اس کو هر وقت آئینه دیکھنے سے هی فرصت نهیں تھی
خود کو دیکھ کر خود کو بہلاتی رهتی تھی کے سہلاتی رهتی تھی که چاهتی رهتی تھی ـ
اب تاریخی کتابیں اس کا کا نهیں بتاتیں که وه می اینڈ می کی گیم کی کھلاڑی تھی که نهیں
بحرحال خود پرست تھی
تو جی ایک دن کسی اور مرد دیوتا کو اس پر غصه آیا اور اس نے اس نرگس نامی دیوی کو بد دعا دے کر بھول میں تبدیل کر دیا
جس کا نام هے نرگس کا پھول ، یه انکھ کی شکل کا هوتا هے
که اب دیکھتی رهو خود کو انکھ بن کر !!ـ
همارے یهان اس پھول کو گوٹے کا بھول کها جاتا هے
همارے پرائیمری سکول ميں بهت لگا جاتا تھا
ستر کی دھائی کی بات کر رها هوں
اب تو جی پاک قوم کچھ زیاده هی مسلمان هو گئی هے
اس لیے ادبی کاموں یا ذوق کی باتوں کی مخالف هو گئی هے
موسیقی حرام ، لطیفے حرام، یه بھی حرام وه بھی حرام
حالانکه قران میں ایویں ای چیزوں کو خود پر حرام کرنے کو بھی برا کها گیا هے
بہر حال جی که اس گوٹے کے پھول کو نرگس کا پھول کهتے هیں
اور یه رنگ برنگ کا هوتا هے
اور خود کو هی بہتر سمجھنے کی بیماری میں مبتلا بندے کو نرگسیت کا مارا کهتے هیں ـ
دوسری بات که جس کا پہلی بات سے کوئی تعلق نهیں هے
اور ناں هی جرڑنے کی کوشش کریں که واقعی یه بات پہلی والی بات سے
عیحده بات ہے
که
اردو کی بلاگنگ
میں جن شخصیات نے خاصا اثرچھوڑا ہے
اچھا یا برا سے قطع نظر
ان ميں عنیقه ناز کا نام بھی اتا هے
که اردو کی بلاگنگ ميں جتنا ان کے خلاف یا ان کی تحاریر کی مخالفت میں لکھا گیا هے
جهان تک مجھے علم ہے
کسی اور کی حمایت یا مخالفت میں اردو کی بلاگنگ کی حد تک اتنا نہیں لکھا گیا
کچھ دن تو اردو کی بلاگنگ ميں رونق هی اس بات پر رهی که عنیقه مخالف یا عنیقه متفق تبصرے اور تحاریر آ رهی تھیں
پھر جی فیس بک آ گئی اور عنیقه ناز کی مخالف سرگرمیاں وهاں کچھ اور هی گرما گرمیان بن گئیں
یه ماحول اچھا تھا که برا ؟اس پر میرے خیالات کو چھوڑیں
لیکن کچھ رونق تو تھی ناں جی ؟؟
کچھ لکھا تو رها تھا نان جی؟
اب کیا هے ؟
یهان تک آ کر خیالات کی رو بند هو گئی هے
باقی تسی لکھو جی !!!ـ

10 تبصرے:

انکل ٹام کہا...

وہ کسی مسئلے پر اپنی سوچ کی بنیاد پر دلائل لاتی ہیں ، اگر انداز ظنزیہ نہ ہو ، اور اصلاحی ہو تو ہمارا بھی جوابی لہجہ اچھا ہو ۔ لیکن جب وہ اسلامی نظریات کو لتاڑیں تو پھر میرے جیسے بدتمیز لہجے والے انکل ٹام لوگ روشن خالی سوچ کو جہالت سے تعبیر دے کر لتاڑیں گے ۔۔۔

نظریات کے خلاف لکھنے میں اور شخصیات کے خلاف لکھنے میں فرق ہوتا ہے ، اکثر نظریات کے خلاف لکھنے میں نظریے کی تشہیر کرنے والے کو مینشن کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے ۔۔۔

گمنام کہا...

در اصل آنٹی نے اپنی بلاگنگ کے جو مقاصد بیان کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے

اردو بلاگنگ دائیں بازو والوں کے قبضے میں ہے۔ اور لبرل تو دور یہاں تو موڈریٹ ویوز کا قحط ہے۔
سوچا "یہاں تو بڑا زلزلہ پیدا کرنے کی گنجائیش ہے اور لکھنا شروع کر دیا"۔

بعد کی تحاریر سے لگتا ہے کہ اور مقاصد تو غالبا ضمنی تھے مگر یہ مقصد اصل مقاصد تھا اور اس مقصد کے حصولیابی کیلئے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھری گئی ہیں
فہد

افتخار اجمل بھوپال کہا...

باقی گلاں چھڈو جی ۔ تُسی مینوں نرگسیت دا مطلب یاد کرا دِتا اے ۔ میں بھُلیا بیٹھا سی

Qumer Mumtaz کہا...

تہذیبی نرگسیت per ker mujhay be kush چاکا سا lag ghaya tha.

عمران اقبال کہا...

بلاگ کا ایک صفحہ ایویں سیاہ کرنے پر مبارکباد وصولیے۔

گمنام کہا...

آپ کی تحریر پڑھ کر کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے جتنی کتے والی اس عورت کے ساتھ ہوئی کسی دوسری کے ساتھ ایسی نہیں ہوئی

ali کہا...

ہم سب ہی نرگسیت کا شکار ہیں کچھ اپنی نرگسیت اور کچھ سٹیج والی نرگسیت کے

ذوالفقار علی کہا...

مجھے شرم آتی ہے ان تنگ نظر مسلمانوں پر جو ذرا ذرا سی بات پر فساد کرنے کو تییار رہتے ہیں. محبّت بانٹنے کے بجاے نفرت کا سودا خوب خوب بیچتے ہیں. ..

عبدالستار جونیجو کہا...

طوطا مینا کی اس کہانی میں آپ نے طوطے کا تو ذکر ہی نہیں کیا۔ارے بھائی وہی اپنا بچہ جمہورا ۔۔۔۔

عنیقہ ناز کہا...

انہیں اب تک پتہ نہیں چلا کہ کتے والی ہوئ کس کے ساتھ۔ اسے کہتے ہیں رسی جل گئ پر بل نہ گیا۔
زلزلہ کمزور عمارتوں کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ زلزلے کے بعد رونق بحال وہی کر پاتے ہیں جن میں کچھ اہلیت ہوتی ہے۔
ہنسی آتی ہے کہ اب بھی کچھ لوگوں کو یہ زعم ہے کہ وہ یہ سب کچھ مذہب کی حفاظت کے لئے کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کو پڑھنے کے بعد جو جو لوگ ایمان پہ اور بالخصوص اسلام پہ قائم رہتے ہیں اسکے لئے خدا روز قیامت انہیں الگ سے کوئ مقام دے گا۔
اگر قرآن کا کوئ نیا ایڈیشن متوقع ہوتا تو یقیناً خدا اس میں یہ اپ ڈیٹ دیتا کہ اب جنت میں ایک مقام دلپذیر صرف ان لوگوں کے لئے ہوگا جو مذہب کی حفاظت کرنے والوں کی دست برد سے اپنےآپکو بچا لائے۔ کیونکہ فی زمانہ ان سے بڑھ کر فتنہ اور کوئ نہیں۔
شاید اسی کو نرگسیت کہتے ہیں۔ یہ تو جناب نرگس نہ ہوئ، نرگسے ہوئے۔ یعنی نر غصے میں۔

Popular Posts