ہفتہ، 4 ستمبر، 2010

اردو بلاکنگ کی دنیا کا مسئلہ

بلاگنگ؟
بلاگنگ کی دنیا سے تعلق کو ایک عرصہ هوا ہے
کئی طرح کے رنگ دیکھے ، بعض جگه پر غیرجانبداری کا رویہ رکھا اور جہاں اپنا ذہن صاف هوا وهاں کسی منافقت سے کام نهیں لیا اور جس کو ٹھیک جانا اس کی حمایت کی اور جس کو غلط جانا اس کی مخالفت کی ،
جهاں کسی کے نظریے کو خام پایا وهاں اپنا موقف ضرور لکھا چاهے کسی کو تلخ لگے که شیریں،
لیکن وھ دنیا هی کیا جہان کچھ نئے مسائل پیدا ناں هوں
اور ہر نیا مسئله هی نئے اصولوں کا موجب بنتا ہے
دنیا کا کوئی بھی مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے
بس ، ایک تو اجتماعی زندگی گزارنے کا شعور هونا چاهیے اور دوسرا نیک نیتی یعنی خلوص نیت اور دوسروں کے خلوص پر اعتماد
مسئلہ هے چوہا صفت لوگوں کا دوسروں کے نام استعمال کرکے تبصرے کرنا
چوہا صفت میں نے اس لیے لکھا ہو که چوہا چھپ کر زندگی گزارتا ہے
آہٹ سن کر بھاگ جاتا ہے
اندھیرے کو تحفظ سمجھتا ہے
وهاں پیرس میں زیر زمین ایک دنیا بسی ہے ، سرنگوں کا ایک جال ہے ، شہر کے نیچے ایک شہر هے
لیکن حکومت نے اس کو چھپا رکھا ہے ، اس کا کجھ حصہ دیکھا جاسکتا ہے ، وهاں ڈینفر روشر نام کے آر ای آر بی کے اسٹیشن کے نزدیک داخل هونے کی جگه ہے
یا پھر اگر اپ کو پیرس کے انڈر گروؤنڈ میں سفر کا اتفاق هو تو اپ اگر غور کریں تو ٹرین کے باهر کئی جگہوں پر اپ کو دروازے نظر آئیں گے ، آہنی طاقوں سے بند اور تالے لگے هوئے
ان کے دوسری طرف وھ گلیاں هیں جهاں اس شہر کو بنانے والے راج مزدور گزار کرتے تھے
اینٹوں گارے اور پتھروں کو اگے پیچھے کرنے کے لیے بنائی گئی راہداریاں،
کچھ سال پہلے یهاں ان راہداریوں میں کچھ لوگوں نے شراب خانے اور دوسرے شغل میلے کے کام سجا لیے تھے
جب پولیس نے یهاں چھاپا مارا تو سب لوگ غائب تھے
پولیس نے ان کا تعاقب نهین کیا تو میڈیا والوں نے پوچھا که پولیس ان لوگوں کو سنجیدگی سے کیوں نهیں لیتی تو پولیس کا جواب تھا که یه لوگ نقصان دھ نهیں هیں
چوہے کی طرح کے ڈرپوک لوگ هیں ،بس ان کو کبھی کبھی ششکار دینا هی کافی هے
لیکن یارو
یه اردو بلاگنگ کی دنیا کے چوها صفت لوگ دوسروں کو ریپوٹیشن پر دانت چلانے لگے هیں
اس کا کیا حل هونا چاهیے؟؟؟
ان همیں تو معلوم نہیں هے که اس طرح کا مسئله دوسری زبانوں کی بلاگنگ کے ساتھ بھی بنا ہے یا بناتھا که نهیں اور اس کیا حل کیا گیا تھا
ورڈ پریس ، جوملہ اور درپل کے استعمال کرنے والوں کے پاس تو اس کا حل موجود هے که بس کومنٹس کی ایڈیٹ میں جائیں اور لکھ دیں که یه کسی چوها صفت نے ٹٹی اوجھل گند پھلانے کی کوشش ميں کومنٹ کی هے
اس لیے اس کومنٹ کو مسٹر ماؤس کے نام سے پڑھا جائے
لیکن بلوگر کے ساتھ مسئله هے یا که مجھے معلوم هوتا ہے که
اپ کومنٹس کو ڈیلیٹ تو کرسکتے هیں
ایڈیٹ نهیں
اور میں کومنٹس کو ڈیلیٹ کرنے کے حق میں نهیں هوں
لیکن
کسی کے نام سے گند کو بھی اس کے نام کی بدنامی بننے کے حق میں نہیں هوں
اس بات کیا کا حل ہے که
کیا کیا جائے؟؟
دوستوں کی آراءکا انتظار رهے گا
میں خود بھی اس پوسٹ کی کومٹس میں کومنٹ لکھ کر کومنٹس پر رائے دیتا رهوں گا
آئیں مل کر کوئی ایسا لائحه عمل بنا لیں که
بھلے مانس لوگوں کے نام استعمال نه هوں اور اگر هو بھی جائیں تو سب کو معلوم هو جائے اور سو سال بعد بھی اس پوسٹ کو پڑھنے والے کو معلوم هو که تبصرھ نمبر تین پانچ اور دس
جن لوگوں کے نام سے کئے گئے هیں انهوں نے کیے نهیں تھے
بلکہ
کہیں اور سے آ گئے تھے

15 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

مسءلہ بڑا گھمبیر ہے اور حل انہی لوگوں کے پاس ہے جو اس طرح کی نیچ حرکت کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں کمپیوٹر سائنس کا بندہ ہی بہتر حل پیش کر سکے گا۔

خاور کھوکھر کہا...

مجھے یاد نهیں رها ورنہ میں ایک اپیل بھی لکھنا چاہوں گا ان لوگوں کے سامنے جو ایسا کام کرتے هیں
که مہربانی کرکے اپ ایسا کام ناں کریں
ایسا بھی تو هو سکتا ہے که اپ اپنا نام کوئی قلمی نام رکھ لیں
مثلاً
حق پرست
مومن
نمازی
روزے دار
سچا مسلمان
مجاهد
اک قاری
وغیرھ وغیرھ
دوسرا حل یه ہے که بلاگر کو جیسے هی معلوم هو که کون کون سے تبصرے اصلی بندے نے نهیں کیے
جو که اصل نام والے میل کرکے یا تبصرے میں هی لکھ بھی دیتے هیں
ان تبصروں کے نمبر اسی پوسٹ کو ایڈیٹ کرکے لکھ دے که تبصرھ نمبر فلاں فلاں
اصلی نام سے نهیں هے
تبصرے کے وقت اور وزٹروں کے میپ کو دیکھ کر اندازھ لگایا جاسکتا ہے که اس وقت کون سے ملک سے تبصرھ هوا تھا

ابن سعید کہا...

بلاگر میں تبصرے مدون کرنے کی کوئی تدبیر میرے علم میں نہیں لیکن ورڈ پریس میں پلگ انز کے ذریعہ ایسا ممکن ہے۔

اس کے علاوہ اگر یہ پورے اردو بلاگر قوم کے لئے مسئلہ ہو تو اجتماعی طور پر فیصلہ لیا جا سکتا ہے کہ تبصرے کو پبلک نہ رکھا جائے بلکہ اوپن آئی ڈی، ڈسکس، فیس بک یا ٹوئٹر آتھینٹیکیشن کے بعد تبصروں کی اجازت دی جائے۔ اس قسم کے اقدامات بلاگر اور ورڈ پریس دونوں میں کیئے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ترکیب ای میل ویلیڈیشن کی بھی ہے جس میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے بعد مبصر کو اس کی آی میل آئی ڈی پر ایک عدد ایکٹیویشن لنک بھیجا جاتا ہے۔ اور اس پر کلک کیئے جانے کے بعد ہی وہ تبصرہ اپروو ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ورڈ پریس تبصروں میں اوتار دکھانے کے لئے گریویٹار کی خدمات استعمال کرتا ہے جو کہ ای میل آئی ڈی پر منحصر ہوتا ہے۔

Abdullah کہا...

در حقیقت یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے کہ کسی اور کے نام سے تبصرے کیئے جائیں اور میں بھی اس پر احتجاج کرتا ہوں،جو بھی ٹیکنیکل حل اس مسئلے کا ممکن ہو ضرور کیا جائے!!!!

Jafar کہا...

میرے خیال میں تو ایسے تبصروں کے بعد ایک تبصرہ صاحب بلاگ کا ہونا چاہیے جس میں بتایا جائے کہ یہ فلاں نمبر تبصرہ جناب چوہا صاحب کا ہے۔
کھیچل تو ضرور ہوگی
لیکن شاید چوہا صاحب کو کبھی نہ کبھی شرم آہی جائے۔

بدتمیز کہا...

میرے خیال سے ان ذہنی مریضوں کا علاج ان کا تبصرہ ڈیلیٹ کرنا ہی ہے۔ تا کہ یہ لوگ جان سکیں کہ جب تک یہ کوئی مستقل والد صاحب نہیں ڈھونڈ لیتے ان کی نہیں دلنے معاف کیجئے گا گلنے والی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میرے خیال سے ان ذہنی مریضوں کا علاج ان کا تبصرہ ڈیلیٹ کرنا ہی ہے۔ تا کہ یہ لوگ جان سکیں کہ جب تک یہ کوئی مستقل والد صاحب نہیں ڈھونڈ لیتے ان کی نہیں دلنے معاف کیجئے گا گلنے والی۔


بالکل یہی میرے خیالات ہیں۔

کوئی عقلی بات یہ کرتے نہیں۔
سینہ کوبی کرتے آ جاتے ہیں جیسے آجکل پاکستان میں کرائے کے سینہ کوبی کرنے والے ملتے ہیں۔

نصیر ہزاروی کہا...

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

بالکل یہی میرے خیالات ہیں۔

کوئی عقلی بات یہ کرتے نہیں۔
سینہ کوبی کرتے آ جاتے ہیں جیسے آجکل پاکستان میں کرائے کے سینہ کوبی کرنے والے ملتے ہیں۔


دُر فٹے مونہہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر ہزاروی کہا...

دُر فٹے مونہہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمران جاٹ کہا...

یار اسی گھٹیا نیچ حرکت کمینوں کے سردار بد ہضمی ( بدتمیز) اور اس کے اُس کے اُ ستاد کا کام ھے

خاور کھوکھر کہا...

خیالات سب گو اپنی اپنی جگہ هیں ان پر بھی تبصروں کی ضرورت ہے
لیکن یهاں اگر اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے که کیا طریقه کا اختایار کیا جائے اچھا رہے گا
جناب عمران جاٹ صاحب اپ کا مجھے علم ہے که اپ کون هیں
اپنا نام عمران کی بجائے کچھ اور کرلیتے تو شائد پہچاننا مشکل هوتا
اپ بھی اس طرح کریں که اپنے اصلی نام سے کوئی تکنیکی مشورھ دیں
که اپ بھی ایک قدیم بلاگر هیں
اور تکنیک کو بھی سمجھتے هیں
میں اس پوسٹ پر تبصروں میں تبادله خیال کرکے کوئی لائحه عمل اختیار کرنا چاھتا هوں
جعفر کا مشورھ میرے خیالات کے نزدیک هے میں چاهتا تھا که پوسٹ کو بعد میں ایڈیٹ کرکے اس کے اخر میں ایک نوٹ لکھا جائے جس میں بزدل صاحب یا صاحبہ کے تبصروں کی نشاندہي کردی جائے
جعفر کا خیال هے که ایسا تبصرے میں کیا جائے

Jafar کہا...

سانوں کئ لوڑ اے،،،

لاہیا نقاب چہرے، کئی داغدار نکلے۔
چوراں دے ناں پڑھے، سبھ پہریدار نکلے۔
اسیں سوچیا سی سانوں دسن گے روگ بارے،
افسوس! سبھ مسیحے، خود ہی بیمار نکلے۔

ایک قاری کہا...

جان جگر۔ میں خاور کا بلاگ صرف اور صرف اس کی ایک اعلی روایت کی کی وجہ سے پڑھتا ھوں اور کبھی کبھی اس پر کچھ تبصرہ بھی کر گزرتا ھوں کیوںکہ وہ کسی تبصرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا چاھے کوئی اسے گا لی ہی کیوں نہ دے یہ اس بلا گر کی اعلی ظرفی ھے جو میں نے کسی اور بلاگر میں نہیں دیکھی۔ اور میرے خیال میں اس روایت کو دوسرے بھی اپنا لیں تو اچھی بات ھے۔باقی جو کوئی دوسرے کا نام سے تبصرہ کرتا ھے تو یہ صرف وہی اس تبصرے کی تائید یاتردید کر سکتا ھے جس کا نام استعمال ھوا ھے کیونکہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ کوئی اور اس کی تائید یاتردید کر سکے خاور صاحب آپ جیسے ھیں ویسے ھی رہیں ایسے کام سے آپکااپنا وقار مجروح ھونے کا خطرہ ھے۔ آپ اپنی پہچانکو کیوں داغ دار کرنے پرتل گۓ ھیں جو کوئی لکھتا ھے اسے لکھنے دیں برتن میں جو ھوتا ھے وہی باھر آتا ھے اسے آنے دیں ایک دن ایسا ضرور آۓ گا کہ وہ برتن خالی ھو جاۓ گا اور وھی دن اچھی سو چ والوں کا دن ھو گا

Jafar کہا...

یہ میرے نام سے جو دوسرا تبصرہ ہوا ہے
یہ چوہے بھائی جان کا کارنامہ ہے

Anwer کہا...

خاور کی تبصروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی عادت اچھی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود میرا خیال ہے کہ دوسروں کے نام استعمال کئے گئے جعلی تبصروں کو ڈیلیٹ کردینا چاہئے ۔
البتہ اس میں ایک تکنیکی مسئلہ آ سکتا ہے ۔ کیا کسی تبصرے کے بارے میں سو فیصد یقین سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تبصرہ جعلی ہے ؟ اگر ایسا ممکن ہے تو یقین وہ تبصرہ مٹا دیا جانا چاہئے ۔ لیکن ایک فیصد بھی غلطی کی گنجائش ہو تو پھر مٹانے کا رسک لینے کی بجائے ایسے ہی چھوڑدینا بہتر ہوگا ۔

Popular Posts