بدھ، 22 ستمبر، 2010

آپنی آپنی ڈیفینیشنز

اچھے خاصے سیانے سے لگنے والے لوگوں کو بھی جب مسلمانوں کی کوئی بات بتائیں تو ان کو مسلمان نظر هی نہیں آتے
جب ان کو انعمت علیه کا بتائیں تو ان کو نظر هی نہیں آتے
ان کو اسلام کا بتائیں تو ان کو اسلام نظر هی نہیں آتا
اوئے بھلیو لوکو
مسلمان وھ هے جس کے کام اچھے هیں
جو علم رکھتا ہے
جو نظام رکھتا ہے
جو ضابطہ حیات رکھتا ہے
اگر چه که اپ کو اس کے ضابطہ حیات میں صرف استنجے کے ضابطوں سے اختلاف هی کیوں ناں هو
انعام یافتہ لوگ وھ هیں جن پر انعام هو رهے هیں
جن کی دنیا جنت نما هے
جس کے گھروں میں سہولتیں هیں
جن کے معذوروں کو ان کے صحت مند سنبھال لیتے هیں
جن کے بے گھروں کو بھی علاج کی سہولت ملتی هے
جن کے شہروں کی فضا صاف ہے
جن کے پینے کے پانی صاف اور شفاف هیں
جن کے بے کار هو جانے والوں کو ان کے کار کرنے والے بانٹ دیتے هیں
اور سر جی
اسلام اسلام هی ہے
اگر چه که اپ نے اس کی ڈیفینیشنز کچھ اپنی هی طرح کی بنا رکھ هیں
اسلام والے لوگ سلامتی سے گھروں میں رہتے هیں

اسی زمین بر ایک علاقہ ایسا بھی هے
جہان کے لوگ
مسلمان صرف اسی کو سمجھتے هیں
جو
ایک منتر
پڑھتا هو
اس منتر کو وھ لوگ کلمہ کہتے هیں، اور ان کے نزدیک صرف اس منتر کے پڑھنے سے هی بندھ مسلمان هوتا ہے ، اگر چہ که اس کے کام کتنے برے کیوں ناں هوں
ان لوگون کے نزدیک انعام یافته وھ لوگ هیں
جن کی ساری زندگی بھیک مانگتے گزر گئی اور اب ان کی اولادیں ان کی قبریں کی بنیاد پر بھیک مانگتی هیں
اور اسلام
ان کے نزدیک صرف عربی زبان میں هی هوتا ہے
اس لیے یه لوگ اپنے بچوں کے نام عربی میں هی رکھتے هیں چاهے اس نام کا مطلب
ادرک
هی کیوں ناں هو

16 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اچھے خاصے سیانے!!!!۔
وہ ابو جاہل تھوڑا سیانا تھا جی؟
فرقا فرقا مسلمان فردن فردن مفتی کا کیا ضابطہ حیات جی۔
ویسے غیر عربی نام بھی ہیں جی اپنے پاکستان میں۔
دل خان
چوہدری خوشاب خان
بادام بٹ
ادرک بٹ
lol

جاویداقبال کہا...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
خاوربھائی، مسلمان بننےکےلئےکلمہ ضروری ہےلیکن بات وہی ہےکہ ہم نےتووہ بھی نہیں پڑھاکیونکہ ہم توجدی پشتی مسلمان ہےوہ بھی نام کے۔ہمارےکام توغیرمسلموں سےبھی گئےگزرےہیں دراصل ہم نےنام تومسلمان والارکھاہےتودوسرےلوگ دھوکاکھاجاتےہیں لیکن ہم نےعملی طورپراسلام کواپنےاوپرلاگوجونہیں کیامالاتومسلمان ہونےکی جپتےرہےلیکن عملی طورپرغیرمسلموں کےطورطریقےآزماتےرہےجبکہ بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے
یوں تم سیدبھی مرزابھی ہوافغان بھی ہو
بتاؤ توصحیح تم مسلمان بھی ہو

والسلام
جاویداقبال

عثمان کہا...

اے گل ہوئی نا!!
پاء جی۔۔۔۔مذہب پرستوں کو یہ باتاں سمجھ نہیں آنی۔
ان کے نزدیک یہ "مسلمان" تے باقی دنیا کافر۔
انہیں تو کافر کا مفہوم بھی نہیں معلوم۔

sarah کہا...

غالباً آپ کی پچھلی پوسٹ لوگوں کی سمجھ نہیں آئی اس لئے آپ نے اور وضاحت کی ہے ۔۔ مسلمان اس بات پر فخر کر کے ہی خوش رہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو جنت میں ضرور جائیں گے ۔۔کافر جتنا بھی اچھا ہو جنت میں نہیں جا سکتا ۔۔

کامران کہا...

ہماری بدقسمتی کہ ہم نے اسلام کو پک اينڈ چوز بنا ليا ہے۔ جو برائياں ہم ميں ہوتی ہيں انہيں صحيح ثابت کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے بہت سی جھوٹی دليليں گھڑ ليتے ہيں اور دوسروں کی برائيوں کو اچھالنے کی کوشش ميں لگے رہتے ہيں۔ اصل ميں جو کرنے کی ضرورت ہے اس سے نظريں چراتے ہيں۔

میرا پاکستان کہا...

بس کیا ہے جناب غریبوں کو دنیا میں سختیاں جھیلنے کے بدلے جنت کے محلات کا وعدہ کیا جاتا ہے اور غریب بس اسی بات پر خوش ہو جاتے ہیں۔

Anwer کہا...

خاور صاحب ، پچھلی پوسٹ میں آپ نے رب کی وحدانیت پر اپنے یقین کا بڑا ’فخریہ’ اظہار کیا تھا ۔ اور آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے بھی اقرار کیا تھا ۔ تو یہ سب کیا ہے ۔ یہ وہی تو منتر ہے جو مسلمان ہونے کی پہلی شرط ہے ۔ ایک طرف آپ منتر کی تضحیک کرتے ہیں ، دوسری جانب اسی منتر پر عمل کے لئے خود پر فخر کرتے ہیں ۔
یقیناً مومن بننے کی بہت سی شرائط ہیں ۔ لیکن پہلی لازمی شرط تو یہی منتر ہے ۔ آپ اپنے وحدانیت پرست ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں ، اور قبر پرستی کرنے والوں کو معتوب کرتے ہیں ۔ یقیناً ٹھیک کرتے ہیں ۔
لیکن دوسری جانب قبر پرست اقوام کو مسلمان بھی قرار دیتے ہیں ۔ ؟؟؟؟؟
یقیناً جاپانیوں کے ہاں (سو فیصد نہیں لیکن) بنیادی طور پر انصاف ہے ، نظام معاشرت ہے ، قانون ہے ، اخلاق ہے ، ٹیکنالوجی ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن ہیں تو یہ بھی مشرک ۔ شجر پرست ، حجر پرست اور قبر پرست ۔ تو کیا یہ دنیاوی کامیابیوں کے باعث مومن یا مسلمان ہو گئے ۔ اس طرح تو قبروں کے مجاور بھی (جن کو آپ لتاڑتے رہتے ہیں) کافی خوشحال ہوتے ہیں ۔ آپ ٹیکنالوجی کی تعریف کرتے ہیں ۔ لیکن جب کوئی مجاور یا پیر ، اپنی دکانداری کے لئے ای میل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے تو آپ اسے لتاڑنا شروع کردیتے ہیں ۔
ویسے آپ کو جلد یا بدیر دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ یا تو کلمہ طیبہ کے منتر سے انکار ۔ یا پھر اس کے تقاضوں کا ادراک ، جو وحداینت کے اقرار اور منافق ہونے سے انکار کے بعد اعمال صالحہ کو بھی ضروری قرار دیتا ہے ، اور بدی سے اجتناب کو بھی ۔
واللہ و اعلم و بالصواب ۔ یہ تبصرہ آپ کے لئے بھی ، اور خود اپنی یاددہانی کے لئے بھی ۔

Anwer کہا...

کیا خوشحالی ایمان کی علامت ہے ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ کون دے رہے تھے ۔ کئی سالوں تک تو صرف چند کنگلے اور غلام ۔ عثمان غنی جیسے مالدار اور ابو جہل جیسے سردار تو کافر تھے ۔ تو کیا محمد کے ساتھی ناکام تھے یا مومن نہیں تھے (نعوذ باللہ) ؟ یا کیا وہ سرداران قریش اور مالدار تاجر ، خوشحال زمیندار ، وہ سب کامیاب تھے (استغفراللہ) ؟ اور ان سے پہلے حضرت موسٰی کے ساتھ بھی غریب غرباء تھے ۔ لیکن ان کے مخالف فرعون اور اہل مصر ، خوشحال بھی تھے اور اپنے وقت کی بہترین ٹیکنالوجی کے حامل بھی ۔ تو کیا وہ راہ راست پر تھے ؟
ہمارے لئے نمونہ عمل کون ہیں ؟ ایمان کے حامل وہ غریب ، کنگلے اور غلام ؟ یا خوشحالی ، سرداری اور ٹیکنالوجی کے حامل مشرکین ؟ فیصلہ اپنا اپنا ہے ، کیونکہ ڈیفینیشن بھی اپنی اپنی ہے ۔

عنیقہ ناز کہا...

کیونکہ ہمیشہ اسلام کو اس سارے پس منظر سے الگ ہو کر دیکھا جاتا ہے جہاں وہ نازل ہوا اس لئے آخر میں صرف منتر پہ بھروسہ رہ جاتا ہے۔ اب کچھ سوالوں کو سوچنا چاہئیے۔
آخر اسلام ہندوستان میں کیوں نہیں آیا۔ یہاں تو وہاں سے زیادہ بت پرست موجود تھے۔ اگر ہندءووں کی تمام مذہبی شخصیات گڑھی ہوئ ہیں تو یہاں کبھی کوئ پیغمبر نہِں رہا۔ اسی طرح اسلام نے یوروپ یا افریقہ میں یا امریکہ یا آسٹریلیا میں کیوں جنم نہیں لیا۔ چین کی تاریخ میں کسی پیغمبر کی داستان نہیں ملتی۔ محض بت پرستی یا شرک اسکی وجہ نہیں ہو سکتی۔

Abdullah کہا...

گندھی ہوئی مٹی سے برتن بنانا آسان ہوتا ہے بنسبت بنے برتنوں کو توڑ کر نئے برتن تشکیل دینے کے اور حددرجہ بسیار یہ کام کر بھی لیاجائے تو پھر بھی وہ بےساختگی نہیں آتی جو فطرت کا خاصہ ہوتی ہے!!!!!!

Abdullah کہا...

ویسے اللہ ایسا بے انصاف نہیں ہوسکتا کہ دنیا میں اور کہیں پیغمبر ہی نہ بھیجے ہوں،میرا خیال تو یہ ہے دنیا کہ جس حصے میں بھی ظلم اور نا انصافی حد سے بڑھا وہاں پیغمبر ضرورآئے ہوں گے اور بعد میں انہی کو لوگوں نے دیوتا اور اوتار کی شکل دے دی ہاں اس میں کچھ شیطان کے چیلے بھی شامل ہوسکتے ہیں جواپنے شیطانی چیلوں کی وجہ سے دیوتا کی شکل اختیار کر گئے!!!!!

عادل بھیا کہا...

اگر صرف منتر پڑھنا ہوتا تو ابوجہل ضرور مسلمان ہو جاتا۔ اُسکو عربی زبان پر عبور حاصل تھا۔ لیکن وہ یہ جانتا تھا کہ اس کلمے کو پڑھ لینے سے اُسے اپنی پوری زندگی اللہ اور اُسکے رسول کے احکامات کے مطابق گزارنا پڑے گی۔

Abdullah کہا...

یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابو جہل کافر ضرور تھا مگر منافق نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
تو پھر ہم جو کلمہ پڑھ کر بھی عمل نہیں کرتے کیا ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟
منافق +کافر

Abdullah کہا...

کسی خبیث ہیکر نے فرحان کا بلاگ ہیک کرلیا ہے اور یہ کون ہوسکتا ہے ماجد چوہدری یا اسکا کوئی چیلا کیونکہ حال ہی میں اس کی اس بلاگ پر عزت افزائی ہوئی تھی اور اسے اس کی اوقات بتائی گئی تھی!!!!!!!

Abdullah کہا...

اور ہیکر نے اس کے بلاگ پر اپنی تصویر بھی لگادی ہے!!!!

خرم کہا...

سرجی باتیں تو آپ کی کچھ ٹھیک ہیں۔ اگر آپ کے یہاں سلامتی نہیں تو اسلام بھی نہیں۔ کلمہ کو منتر خوب کہا کہ مجھ سمیت اکثر لوگ اسے منتر سمجھ کر ہی پڑھتے ہیں۔ اگر دل سے اللہ اور رسولﷺ کا کلمہ سمجھ کر پڑھیں تو پھر تو ہزار سجدوں سے نجات نہ مل جائے؟

Popular Posts