ہفتہ، 11 ستمبر، 2010

انسان اور مجبوریاں

‎کیونکہ میں ایک انسان ہوں
‎اس لیے
‎میں خواب پالتا ہوں
‎اور پھر امید رکھتا ہوں
‎لیکن
‎میرے ساتھ مجبوریاں بھی لگی ہوئی ہیں
‎کبھی ، میں ڈیری جونز ہوں
‎میں نے مشہور ہونے کا خواب پالا
‎میڈیا کی ترقی اور انٹرنیٹ پر ویڈیوں چلانے کی تکنیک نے مجھے ، عظیم لوگوں کی توہین کر کے مشہور ہونے کی  امید دی
‎لیکن
‎مجھے تحفظ دینے والے نظام اور حکومت کی مجبوریوں مجھے مجبور کردیا !!۔

‎میں ایک مسلمان ہوں
‎خلد بریں کا خواب رکھتا ہوں

‎اور الله کی رحمت مجھے امید دیتی ہے
‎لیکن
‎قران کے علاوہ کی کتابوں کو ماننے کی مجبوری نے میری دنیا
‎جہنم بنا رکھی ہے ۔
‎عالم اسلام کے عروج کے خواب ہیں
‎مغربی ممالک کی تباہی کی امیدیں
‎اور
‎اپنے حکمرانوں کے بیوقوف ہونے کی مجبوریاں !!!۔

3 تبصرے:

منیر عباسی کہا...

ایک تلخ حقیقت۔ پتہ نہیں کب اس کا ادراک کر کے ہم اپنی کمزوریوں کو ختم کر سکیں گے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آہ ۔۔۔۔۔تلخ حقیقت۔۔
روزانہ دیکھتے ہیں۔ روزانہ جلتے ہیں۔
اور الزام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسروں کے سر ڈال کر بھڑاس نکال لیتے ہیں۔

Anwer کہا...

یہ پوسٹ بھی تو الزام مجبوریوں کے سر ڈال کر نکالی گئی بھڑاس ہے ۔
لیکن انسان کے لئے اس سے مفر بھی نہیں ۔
ہمیں معلوم ہے کہ ؛
تو مسلماں ہے تو تقدیر ہے تدبیر تیرے ۔
لیکن پھر بھی غم جاناں اور غم دوراں سے لڑ کر اپنی تدبیر سے تقدیر بنانا آسان نہیں ۔ چنانچھ ہم سب کہیں نہ کہیں بھڑاس نکالتے ہیں ۔ شاید میرا یہ تبصرہ بھی۔۔۔۔۔۔۔

Popular Posts