جمعہ، 11 مارچ، 2016

باتاں ، شگوفے ، چٹکلے ۔

ماں کی دعا اور باپ کا مال ۔
……………..
پاکستان میں ، بسوں ، ٹرک اور رکشوں کے پیچھے  لکھا ہوتا ہے ۔
ماں کی دعا !!،۔
کاروں اور موٹر سائیکلوں کے پیچھے کوئی نہیں لکھتا!!۔
باپ کا مال !!۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
جاپان کے ٹیلی وژن پر آج جو خبر ٹاپ پر چل رہی ہے
وہ یہ ہے کہ
کانسائی کے علاقے میں ایک 99 سالہ خاتون نے پانی میں کود کر خود کشی کر لی ہے  ۔
خود کشی کی وجہ ؟  میں 100سالہ  بوڑہی نہیں کہلوانا چاہتی !!۔
 مرحومہ 99 سال کی تھیں 100 سالہ ہونے میں جند ہی  ہفتے باقی تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
پس ثابت ہوا کہ خاتوں کہیں کی بھی ہوں  عمر رسیدہ کہلوانہ پسند نہیں  کرتی ہیں  ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
فیس بک پر لائق نالائق کا  میرا اصول۔
…………..
فیس پک پر مجھے جو چیز  جیسی لگتی ہے میں اسے ایسے ہی ری ایکٹ کرتا ہوں  ،۔
اس بات سے قطع نظر کہ 
صاحب  پوسٹ نے کبھی میری کسی پوسٹ  کو لائک (👍) کیا ہو یا کہ نہ کیا ہو  ۔
اور میں امید کرتا ہوں کہ  میرے احباب بھی کوئی تکلف نہ کریں
میں  کسی بھی پوسٹ پر وہی ری ایکٹ کریں جو کہ اپ کے دل میں ہو ،۔
اگر اچھی لگے تو لائک (✌️)، مخولیہ لگے تو قہقہ (😝) ،اگر کوئی اختلاف (😚) یا کہ اتفاق (😜) ہو تو بھی ایسا ہی کومنٹ کریں ۔
تاکہ
سند رہے کہ 
ہم ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں
ناں کہ
ملمع ، ریا کاری ، منافقت سے  !!۔
اپ سب کا مخلص

☼☽=====♔♕♔=====☾☼
گانے نے ماسٹر جی سے پوچھا
رب کی محبت اور انسانوں کی محبت  کیا فرق ہے ؟ میرے خیال میں انسان انسان سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔ رب کی انسان سے محبت کے تقابل میں ؟!۔
ماسٹر جی :   پتّر !  رب کی محبت یہ ہے کہ اس نے ہوا میں پرندے بنا چھوڑے ، انسان کی محبت ہے کہ اس نے پنجرے میں بند کر کے اس کو محبت کا نام دیا ۔
رب نے عورت  بنا کر کائینات میں رنگ بھر دیا ،انسان کی محبت کہ اس کو بیوی بنا کر برتن مانجھنے پر لگا دیا ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

پاکستان میں ڈارئیور لوگ ، جنگ پر نکلے ہوئے لگتے ہیں ،۔
دشمن کو پتہ ہی نہیں چلنے دیتے کہ ان کا اگلا پینترا کیا ہو گا
بلکہ
چاند گاڑی والوں نے تو انڈیکیٹر بتی ہی نہیں لگوائی ہوتی۔
 یعنی ننجا فائیٹ !!،۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
وہ درخت جو آسمان کی وسعتوں  کو پاتے ہیں ، ان کو اپنی جڑیں ،اپنی زمین میں بہت گہری جمانی پڑتی ہیں ۔
وطن سے بے وطن  لوگ  ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح  کہیں کسی پیڑ پر اٹک جاتے ہیں ،اور اسی کو آسمان سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا ضائع ہو جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری زمین کھاری ہو چکی اے  ، میریاں جڑاں وچ  جھوٹ دا کلر رچ چکیا اے
میں اپنی زمین وچ اگن جوگا ای نئیں رہیا،۔
میرے نال میرے اپنیاں (ارباب اقتدار) نے بڑا ظلم کیتا اے ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
پنجابی وچ
اچھو ڈنگر روتے ہوئے ۔ مینوفیکچر ہو  گیا ای !!۔
گاما؛ کی مینوفیکچر کیتا ای ؟
اچھو : پاغلا ، مینوں  فیکچر ہو گیا ای !!،۔
گاما : انہی دیا سیدھی طرحاں کہہ ناں
کہ ہڈی ٹٹ گئی  اے ،۔ کاٹھا انگریز ۔

☼☽=====♔♕♔=====☾☼
پرانا لطیفہ
گامے کو بوتل ملتی ہے ، کھولنے پر جن نکلتا ہے ۔
جن گامے کا شکریہ ادا کرتا ہے
اور کوئی حکم پوچھتا ہے ۔
گاما کہتا ہے کہ کچھ ایسا کرو کہ
میری بیوی میری فرمان بردار بن جائے ۔
جن ، دوبارہ بوتل میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے ہوتے للکارا مارتا ہے ۔
چاچا ڈھکن ذرا ٹائیٹ کر کے لائیں!!!۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

میری قوم علم کہ ان بلندیوں پر ہے کہ ان کو  اب  علم کی ضرورت ہی نہیں ،۔
یہ یہ چیز جانتے ہیں ۔
اگر کوئی علمی سوال کریں بھی تو ؟
جواب پہلے ہی ان کے ذہن میں  ہوتا ہے ۔
بس اغلے کو  لاجواب کرنے کی کوشاں۔
 اس قوم کا ایک لطیفہ
 اچھو ڈنگر گامے سے ؛ وہ کون سی چیز ہے جو  چیز سبز رنگ کی ہوتی ہے اور ٹراں ٹراں کرتی ہے ؟
گاما: پاکستان میں ٹیلی فون اور باہر کے ممالک میں مینڈک بھی ہو سکتا ہے  ۔
اچھو ڈنگر: جواب غلط ہے ، اصلی جواب ہے  “کدّو “ !!۔
گاما : لیکن ” گئیا کدّو” تو ٹراں ٹراں نہیں کرتا؟
اچھو ڈنگر : ٹراں ٹراں تو، تمہیں کنفیوز کرنے کے لئے ڈالا تھا ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر" (امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ).
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی نے مجھے بتایا کہ
جب چاچا مستری فوت ہوا تھا تو اس کے جنازے کو اٹھانے کے لئے لوگوں کی کھڑا کر کر کے بتانا پڑا تھا ۔
جنازہ اٹھانے کے لئے چار بندے اور کوئی دیگر دس لوگ اکھٹے ہو ہی گئے تھے ۔
چاچا مستری ساری زندگی لوگوں کی خدمت کرتا رہا تھا
کسی کی سبزی خریدنے جا رہا ہے تو کسی کو تیل صابن  پہنچا رہا ہے ۔
امیر گھروں کے باہر کے سبھی کام چاچا مستری کے ذمہ تھے ، بغیر تنخواھ کے بس روٹی شوٹی پر ۔
جب بھی کسی کو چاچے مستری کی ضرورت ہوتی تھی  چاچا مسجد میں ہی مل جاتا تھا ۔
دوسرا  “وہ “ تھا
جو زمینوں کے قبضے لینے اور لڑائیوں میں فائرنگ کر کے اپنی دھاک بٹھا چکا تھا ۔
علاقے میں کسی کو بھی کھڑا کر کے اس کی جیب خالی کرا لیتا تھا ۔
اسی دن جس دن چاچا مستری فوت ہوا تھا ،اس کو بھی کہیں کسی نے قتل کر کے پھینک دیا تھا ۔
لوگوں نے اس کی لاش کو لاوارث سمجھ کر دفنا دیا تھا ،۔
چھ دن بعد جب “پچھلوں “ کو علم ہوا تو اس کی لاش لائی گئی ، جو کہ بو مار چکی تھی ۔
ہزاروں کی تعداد میں جنازے کے شرکاء نے ناک پر رومال رکھ کر شرکت کی تھی ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

ہماری روایت رہی ہے کہ
مرنے والے کو بعد از مرگ " چنگا " ہی کہنا چاہئے ۔
اور دوسری روایت یہ کہ
کسی کے مر جانے یا مارے جانے پر خوشی کا اظہار نہیں کرنا ہے
اندر چاہے لڈو پھوٹ رہے ہوں ۔
ممتاز قادری کی پھانسی پر مجھے اس بات کی کوئی خوشی نہیں ہوئی کہ ممتاز نامی کوئی قاتل اپنے انجام کو پہنچا
ہاں اس بات کی خوشی ضرور ہوئی ہے کہ
پاکستان میں قانون نے ایک پر وقار کام کیا ہے ۔
ممتاز قادری کو شہید کہنے والے اور سلیمان تاثیر کو معتوب کرنے والے لوگوں سے صرف اس بات کی امید کروں گا کہ
تھوڑا سا عقل سے کام لے کر
یا کہ اگر عقل اور علم نہیں ہے تو  اردگرد میں سے کسی عقل والے سے کہہ کر
ایک دفعہ وہ بیانات ضرور پڑھ اور سن لیں جن کی بنیاد پر سلیمان تاثیر کو کافر بنا کر قتل کردیا گیا تھا ۔
سلیمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کرنے کا سوچا تھا
اگر کسی بھی قانون پر نظر ثانی کا سوچنے والے یا کہ نظر ثانی کرنے والے  “واجب القتل “ ہو جاتے ہیں تو ؟
یقین کریں کہ
اپ عقل کل ہیں اور اپ کو کوئی نہیں سمجھا سکتا ۔
علم دین نے رسول ﷺ کی "سیکس لائف " پر کتاب لکھنے والے کو قتل کیا تھا ، جو کہ ایک کرنے والا کام تھا ۔
جس پر غازی علم دین قابل ستائیش ہے ۔
لیکن
ممتاز قادری نے ایک قانون ساز کو ایک قانون پر اعتراض کرنے پر قتل کردیا تھا 
یہ بعد کوئی کم عقل ہی کرسکتا تھا ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

دنیا گول ہے ،۔
مسٹر اللہ دتہ  اپنے سیکرٹری کو کہتا ہے ، انے والے ہفتے کے دن میں کراچی جا رہا ہوں ، تم میرے ساتھ چلو گی دو دن کا ٹرپ  ہے ۔
سیکریٹری اپنے خصم کو  بتاتی ہے کہ ہفتہ اتوار میں گھر پر نہیں ہوں ، تم کھانے پینے کا انتظام خود ہی کر لینا ۔
اسکا خصم اپنی ایک دوست کو فون کرتا ہے کہ ہفتے کی رات کو گھر پر آ جانا مل کر کھائیں پکائیں گے ۔
خصم کی وہ دوست کسی بچے کو ٹویشن پڑھاتی تھی  اس نے بچے کو فون کیا کہ اس ویک اینڈ پر میں نہیں آ سکوں گی اس لئے ٹویشن سے  “ چھٹی” !!۔
وہ بچہ خوش ہو کر اپنے دادے اللہ دتے کو فون کرتا ہے ۔
دادو ، اس ویک اینڈ پر میں اپ کے ساتھ آ سکتا ہوں ،
اللہ دتہ خوش ہو کر اپنی سیکرٹری کو فون کرتا ہے ، بزنس ٹور کینسل !۔
سیکرٹری اپنے خصم کو فون کرتی ہے ، بزنس ٹور کینسل ۔
خصم اپنی دوست کو فون کرتا ہے ، ویک اینڈ کا کھانا پینا کینسل ۔
خصم کی دوست بچے کو فون کرتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
یعنی کہ
دنیا گول ہی نہیں گول مگول ہے ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

بچے ہمارے دور کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گامے جونئیر کو گاماجھڑک رہا تھا کہ
نماز کے بعد  مصلے کا کونا دوھرا کیوں نہیں کرتا ؟
گاما جونئیر کا موقف تھا کہ
مولوی لوگ انسانوں کو نماز کی  تکرار کئے رکھتے ہیں
تو میں شیطان کو نماز کا موقع فراہم کر  رہا ہوتا ہوں ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
طبقاتی فرق موجود ہے
کچھ الفاظ کا طبقاتی فرق

 لفظ بسکٹ کو
غریب ؛ بی  سکوٹ
امیر؛ بیسکیٹ
ایلیٹ؛ کوکیز
ادا کرتا ہے

رومال کو
غریب؛ رومال
امیر؛ ہان کا چی
ایلیٹ؛ کرچیف
کہتے ہیں

ٹماٹر کو
غریب؛  ٹاماٹر
امیر؛ ٹا مائے ٹو
ایلٹ؛ تھوماتھو
کہتے ہیں ۔

کیچپ کو
غریب ؛ کیچیپ
امیر ؛ سوس
ایلیٹ ؛ ڈریسنگ
کہتے ہیں ۔

ڈاک کے لفافے کو
غریب : لفافا
امیر؛ این وے لوپ
ایلیٹ ؛ اون وہ لوپ
کہتے ہیں

ٹراؤزر کو
غریب؛ پینٹ
امیر ؛ جینز
ایلیٹ ؛ ڈینوم
کہتے ہیں ۔

عینک کو
غریب ؛ عینک
امیر؛ گلاسز
ایلٹ ؛سن  گلاسز
کہتے ہیں  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پاکستان ہے
یہاں پاک لوگ رہتے ہیں ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

میں بہت تعجب کا شکار تھا
کہ
اگر ایک انسان  قران  کو اسمانی کتاب کایقین رکھ کر  قران کو سمجھتا ہو تو
وہ کیسے قبروں کا مجاور یا کہ ہولی مین یا کہ ولی اور سینٹ بن سکتا ہے ۔
لیکن اب مجھے سمجھ لگ گئی ہے ،۔
کہ
یہ لوگ کیسے ایسا  کرسکنے  کو کر سکے ۔
لیکن میں نے اپ نہیں بتانا ،۔
کیونکہ ابھی میرا جینے کو جی چاہتا ہے  ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

پاکستان میں  چالیس سال  پہلے کی نسبت  ، سیکورٹی اداروں کی مہربانی سے  سیکورٹی کے حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ
سیکوٹی اداروں کا وجود ناگزیر ہے  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جات پات کا نظم مستحکم ہو چکا ہے ۔
سیکورٹی ادارے اور  ان کے پروردہ  لوگ   برہمن ، اسلحے کے زرو پرجائیدار اور رقبوں کے انتظام   کرنے والے  کشھتری، چھوٹے کاروباری لوگ  ویش اور باقی کی ساری قوم شودر بن چکی ہے
لیکن
پھر بھی یہ سرزمین
پاک لوگوں کے بسنے کی سرزمین ہے  ۔
بقول شخصے
جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرئے  ۔

☼☽=====♔♕♔=====☾☼

وی آئی پی کلچر ۔
سکول کے گیٹ سے گاڑی سمیت اندر گھس جانے والے  امیر لوگوں کا یہ علاج بھی بہتر ہے ،۔
کہ سکول کے گیٹ پر روکاوٹ بنا دی ہے ۔
اپ کو یہ طریقہ موزوں لگے یا کہ نہ 
لیکن اب اس کے سوا حل بھی کیا ہے ؟؟


☼☽=====♔♕♔=====☾☼

بی بی سی والوں کا میڈیکل سٹور
ڈپٹی کمہار کے گھر کا موڑ مرڑتے ہی  ، یہ بورڈ نظر آتا ہے ،۔
فوٹو بنا کر چھ قدم آگے بڑھا تو سامنے “ پاء بٹّو” کرسی پر بیٹھا تھا ۔
مجھے دیکھ کر   پاء بٹو کہتا ہے
اوئے میں تے پریشان ہی ہوگیا ساں کہ اے عینک والا جن کون اے ، پر اے تے پرانا جن اے !!،۔
بی بی سی میڈیکل سٹو پتہ نئیں کس کا ہے
لیکن تلونڈی کے لوگ تو  پاء بٹو کو ہی بی بی سی  سمجھتے ہیں ،۔


☼☽=====♔♕♔=====☾☼

پیر، 7 مارچ، 2016

مختصر مختصر

مائکرو بلاگنگ ، یعنی کہ مختصر تحاریر کی انٹرنیٹ پر اشاعت ،فیس بک اور ٹوئیٹر پر لکھ گئی باتون کو کہتے ہیں ۔
خاور کھوکھر ،فیس بک پر مصطفے خاور کے نام سے ایکٹو ہے ۔
فیس بک پر لکھی گئی باتیں چٹکلے ، لطیفے ، شکوفے ، یا کہ طنز ار مزاح یہاں بلاگ پر بھی لکھ دیا جاتا ہے  ۔
 ☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

آنت دے مورکھ ہیں او لوک
جیہڑے مڑیاں (قبراں) پوجن  جاندے نئیں
تے
جہناں مورکھاں تے لکشمی  راضی ہو جاندی اے ؟
او پتھر  دی پوجا (عقیدت) ایس طرح کردے نے کہ  “ نگ “ نوں مندری وچ مڑھ کے رکھدے  نے ۔
اوئے کملے لوکو!!۔
جے مڑیاں  والے “کجھ “ ہوندے تے ؟ جیون کیوں ہار جاندے ؟؟
تے جے نگ  وج آگیا (برکت) ہوندی تے او ! ہر روز پاخانہ دھون والے ہتھ وچ کیوں آؤندا؟؟
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
صدر ممنون صاحب بڑے خاموش طبع انسان ہیں ۔
ن لیگ کی حکومت میں میں تو یہ سمجھتا تھا کہ ممنون صاحب کا  کام صرف پھانسی کی رحم کی اپیلیں مسترد کر کے بندوں کو پھاہے لگانا ہی ہے  ۔

مجھے ایک کم گو نمازی کی بات یاد آ گئی
کہ
مسجد میں  ہر نماز باجماعت پڑھنے والا بہت ہی خاموش طبع بندہ تھا ،
ایک دفعہ کوئی عالم دین مسجد میں تشریف لائے ، انہوں نے خطاب کیا اور بعد میں سوال جواب کے سیشن میں 
اس کم گو نمازی صاحب کے بھی پوچھنے لگے کہ کوئی سوال ذہن میں ہو تو پوچھ لو ؟
آس پاس کے نمازیوں کی ہلا شہری اور ہمت دلانے پر بندہ سوال کرنے کی جرات کر ہی بیٹھا
اور عالم صاحب سے پوچھتا ہے
مغرب کی نماز کا صحیح وقت کیا ہے ؟
عالم صاحب نے جواب دیا کہ بہت ہی سادہ جواب ہے کہ جب بھی سورج غروب ہو گا ، مغرب کی نماز ادا کی جائے گی !!،۔
کم گو صاحب نے دوسرا سوال جڑ دیا کہ
اگر کسی دن سورج غروب ہی نہ ہو تو؟؟؟؟
ارد گرد کے نمازیوں نے کہا
کہ جی اپ چپ ہی رہا  کرو اس میں اپ کی زیادہ عزت اور بھرم قائم ہے ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

کیجو کپتی  دی کلپنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مت ای ماری گئی اے لوکاں دی ، رب تے بھل ای گیا اینہاں نوں ۔
کمال دا حوصلہ جے ابن آدم دا!۔
دم دا وساء نئیں جے  تے ساگ ہفتے بھر دا پکا لیندے جے  ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

جان بوجھ کر ، دیسی بولی میں !!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں ادھرمی (کافر) ہوں جو ادھرم ( بے اصولی ) کروں ؟؟
پرائی استری (عورت) ماں برابر اور پرایا دھن  ماٹی برابر نہ جانوں تو مجھے سراپ لگے گا
جس کارن  میرا وشواس (ایمان) اور لکشمی (دنیا) اکارت جائے گی!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو لوگ کہ پرایا(بیگانا) دکھ نہیں سمجھتے  اور غیروں کے جی (افراد) مار مار کر ان کا مال کھاتے ہیں ۔
ان کی اس پرتھوئی (زمین) میں عمر کم ہوتی ہے ۔
اور لولے ، لنگڑے ، کانے ، اندھے ،بونے ، کبڑے ایسے انگ ہوتے ہیں جو ان کی پشتوں سے  جنم لیتے ہیں ،۔
 ☀︎======♖♨︎♖=======☀︎


==سوچاں==
اگر میری روح  ہی  “میں “ ہوں تو ؟
یا کہ میری سوچ ہی  “ میں “ ہوں تو ؟
میرا یہ جسم  ایک لاش سے زیادہ کچھ نہیں ، جسے میں اٹھائے پھرتا ہوں  ۔
مجھے یہ لاش میری پدائش  کے عمل کے ساتھ ملی ، جس  میں  بڑے گن چھپے ہوئے تھے ۔
میں نے اس لاش کو بڑی بے اعتنائی سے پایا اور بڑی بے دردی سے برتا !،۔
جب تک مجھے اس کے گنوں کا  علم ہوا ، جب تک مجھے اس کے برتنے کا سلیقہ آیا
اس وقت تک میں اس لاش کو برباد کر چکا تھا ۔
میرے کرتوتوں کے کارن یہ لاش  بیماریوں کی پوٹ بن چکی تھی  ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
اس بات کا تو مجھے علم ہے کہ
اگر کسی پاکستانی کا وطن چھن جائے تو وہ بڑے فخر سے خود کو " فارن نیشنیلٹی ہولڈر " بتاتا ہے ۔
لیکن اک سوال میرے ذہن میں کلبلاتا ہے
کہ اگر کچھو کومے ( کچھوے ) کا خول چھن جائے تو اس کو کیا کہیں گے ؟؟؟
ننگا ؟
یا کہ
ہوم لیس ؟؟؟
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
اسلام کے قلعے (پاکستان) میں  انسان اتنے ہی محفوظ ہیں
جتنی کہ کسی مسجد میں اتاری گئے “جوتے” محفوظ ہو سکتے ہیں
اس لئے
احتیاط کریں ۔
مسجد میں “اچھی جوتی” پہن کر نہ جائیں ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
ہندو  مذہب اہسنا (برداشت)کی تلقین کرتا ہے
بدہ مذہب صلہ رحمی کا پرچار کرتا ہے ۔
یہودی لوگ  تو اللہ کے بار بار حکم کے باوجود  لڑائی سے بھاگنے لوگ ہیں ۔ بائبل کتاب مقدس اور قران میں بھی لکھا ہے
عیسائی ۔ عیسی علیہ سلام کا وہ قول سناتے ہیں
اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم دوسرا اگے کر دو ۔
سکھ مذہب میں لڑائی کرنا اور  خالصے کی فتح کی امید دلائی جاتی ہے  ۔
اور اسلام میں
مال غنیمت کے لئے، کافروں کو مسلمان کرنے کے لئے ، جنت کے حصول کے لئے جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
جہاد کو کچھ لوگ ، اور کافر لوگ وائیلینس بھی کہتے ہیں
حالانکہ جہاد بلکل مختلف چیز ہے ۔
جہاد میں انسانیت کی فلاح ہے ،۔
قتال فی سبیل اللہ کا حکم صرف اسلام میں ہی ہے ، باقی کے سبھی مذہب لڑائی کی کوئی تلقین یا تربیت نہیں دیتے ۔
اسلام کے عروج کے دور میں ۔ جیسا کہ ہم نے پنجاب ٹکیسٹ بک کی کتابوں میں پڑھا
کافروں کے لئے تین آپشن تھے جن میں سے ایک کو قبول کرنا ہوتا تھا
مسلمان ہو جاؤ ، یا جذیہ دو
اخری اپشن مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

قائد اعظم نے فرمایا
کام کام اور صرف کام
ہی
کسی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے ۔ْ
اور
قوم کی سمجھ کا فرق کہ
انہوں نے “وہ “ کام شروع کر دیا
اور “انہے واھ” شروع کر دیا کہ
آبادی کی بہتات سے  وہ ترقی کی کہ جس کو پنجابی میں کہتے ہیں ترقّی ہوئی شے !!!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
میں اپ کو بتا دوں کہ
یہ لوگ
جن لوگوں نے بعد از مرگ والی جنت کے حصول کے لئے
اس دنیا کو جہنم بنایا ہوا ہے ناں ؟؟
ان لوگوں نے ناں
وہاں جنت میں جا کر بھی
دیکھ لینا کہ شرات سے باز نہیں آنا
انہوں نے وہاں بھی دودہ والی نہر کو “ جاگ “ لگا کر دہی بنا دینا ہے ۔
ہاں
میں بتا رہا ہوں آپ کو!!!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
ایک دوست کی وال پر انگریزی کا لطیفہ تھا
جس کا اردو ترجمعہ کچھ اس طرح بنتا ہے
کہ
کہیں کسی  مسجد کے سامنے سڑک کے دوسری طرف  شراب کا ٹھیکہ  کھل گیا ۔
لوگون کی بھیڑ لگی رہتی تھی ،  مسجد میں اس خرابے کی تباہی کے لئے دعائیں  شروع ہو گئیں ۔
کچھ ہی دن گزرے کہ  “ خرابے “ میں آگ بھڑک اٹھی ، سب کچھ جل کر خاک ہوا ۔
خرابے والوں نے  مسجد کے متولیوں پر عدالت میں کیس کر دیا کہ ان  کی بد دعاؤں کے سبب  ہمارا بہت نقصان ہوا ہے ۔
مسجد کو ہرجانے کا حکم جاری کیا جائے ۔
متولی لوگ عدالت میں جا کر  یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خرابے والوں کا موقف احمقانہ ہے ۔ کبھی  بد دعاؤں سے بھی آگ لگی ہے ؟
سرکاری وکیل کہتا ہے ۔
یہان  اس دنیا میں خرابے والے دعاؤں کی قبولیت کا یقین رکھتے ہیں اور  مذہبی لوگ دعاؤں کے اثر  پر یقین کرنے سے انکاری ہیں ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

 تین لوگوں  !  عالم ، بہادر اور دانش ور کے دن ، گیت اور اپنی اہلیت کے سکھ میں  کٹتے ہیں ۔
لیکن
مورکھ لوگوں کے دن ، کل کل اور نیند میں !!۔
زندگی کی لمبی راھ  ، بہتر ہے کہ اچھی باتوں میں کٹ جائے ۔

 پنجابی بولی کناڈا دی تیجی  وڈی بولی بن گئی اے ،۔
پارلمنٹ وچ انگریزی ، فرانسیسی توں بعد پنجابی اے ۔
پر اجے “ بی سی” کا مطلب بریٹش کولمبیا ای  لکھیا پڑہیا جائے گا۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

ایک جاننے والے کا فون آیا کہ
ان کے پاس کینٹر کا ٹرک ہے جس میں فور ڈی تھرٹی  فائیو کا انجن ہے ۔
چالیس مان (چار لاکھ پاک روپے )میں لے سکتے ہو ؟
ان دنوں یہ ٹرک تنزانیہ جا رہا تھا
اور میرے بائیر یہ ٹرک  ستر مان  سے اسّی مان تک خرید رہے تھے ۔
فون کرنے والے صاحب بڑے نمازی اور پرہیز گار  بلکہ ایک مذہبی تنطیم کے اعلی ترین عہدے دار  اور کئی تنظیموں کے بانی بھی ہیں ۔
میں ان کی بڑی عزت کرتا ہوں
میں نے ان کو جواب دیا ،چالیس مان تو بہت کم ہیں ، کچھ زیادہ کر لیں !۔
نہیں نہیں تم بس چالیس مان دے دو ، کیا یاد کرو گے ، کچھ فائد تم بھی اٹھا لو ۔
میرا دل تشکر سے بھر گیا ، لیکن اندر کا خود دار   برداشت نہیں کر سکا
اس لئے میں نے کہا کہ اپ بے شک چالیس پر راضی ہوں
میں اس کینٹر کے پچاس مان (پانچ لاکھ)دو گا کیونکہ پچاس میں لینے سے بھی مجھے بہت فائدہ وہ رہا ہے  ۔
وہ صاحب ضد پر اتر آئے کہ نہیں چالیس ہی لوں گا ۔
میں نے خیال کیا کہ شائد کوئی ٹیکس وغیرہ بچانے کا چکر ہو گا
اس لئے کہہ رہے ہیں ۔
میں نے تکرار کی کہ  دس مان میں اپ کو بغیر کوئی رسید لئے دے دوں گا ۔
نہیں یار تم بڑے مشکل بندے ہو
جب میں چالیس میں دے رہا ہوں تو کیوں پچاس ہی دینے پر بضد ہو ؟
کیونکہ اس چیز کی مالیت پچاس سے کہیں بڑھ کر ہے اس لئے ۔
قصہ مختصر کہ میں نے یہ سوچ کر کہ کسی اور چیز میں ان کو فائدہ دے کر “واپسی” کر دوں گا، میں نے حامی بھر لی کہ چلو جی جیسا آپ کہتے ہیں ۔
تو فرمانے لگے
تو پھر چالیس مان ابھی بنک میں ٹرانسفر کر دو۔
یہاں میں اٹک گیا ، کیوں کہ مجھے لالچ نہیں تھا ، میں نے کہا کہ مال دیں اور پیسے کیش میں لے لیں ، اگر مال نہہں پہنچا سکتے تو مجھے بتائیں کہ کہان پڑا ہے میں اس کی ٹراسپورٹ کا انتظام کر لیتا ہوں اور اپ کو پیسے پہنچا دیتا ہوں ۔
لو جی اس کے بعد  کئی ماھ گزر گئے نہ وہ ٹرک آیا اور نہ ہی پیسوں کا مطالبہ ۔
حاصل مطالعہ
کہ اگر اغلا بندہ بے اصولی کر بھی رہا ہو تو اپ اپنے اصولوں پر ڈٹ جائیں ۔
کہ نہ کسی کو دھوکا دینا ہے اور نہ کسی کا حق مارنا ہے ، اور نہ ہی بے جا لالچ میں آنا ہے ۔

☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
 پنجابی وچ
انکم ٹیکس دے افسر  گامے دا کھاتا چیک کرن آئے ہوئے سن ۔ باقی تے سب ٹھیک ای سی
پر ایک گل تے آ کے  اک افسر دوجے نوں کہندا اے
آ ویکھو جی “کتے دا راتب  ایک سو پینتیس روپے “ ۔
ٹکیس بچان لئی  اے کمی لوگ  کی کی کمینی حرکاتاں کر جاندے نے ۔
تے فیر اوہو  افسر گامے نوں پچھدا اے
اوؤے توں اے کتے دا راتب لکھیا ہویا اے ؟ کتا کتھے ای ؟؟
گاما “: صاحب جی ہی ہی ہی ہی!!۔
چاء والا منڈا  افسراں لئی چاء تے مٹھائیائی  لے کے آ گیا ۔ افسراں نے چاء پیتی تے مٹھیائی کھادی تے  گامے دی گل نوں نظر انداز کر کے چلے گئے ۔
چاء والا منڈا پیسے منگن لئے آ گیا تے گامے نے اینہوں گلے وچوں پچہتر روئے کڈ کے دے دتے
تے ؟

گامے نے کھاتا کھولیا
تے لکھیا
کتّے دا راتب پچہتر روپے !!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

کبھی کبھی میرا بھی جی چاہتا ہے کہ یاسر خواہ مخواہ کی طرح کام کاج کی فکر سے آزاد ہو کر چھٹی کروں
لیکن
پھر مجھے یاد آ جاتا ہے
کہ
میں غریب پیدا ہوا تھا ،امیر نہیں !!!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

اک خسرے نوں مولوی صاحب کہندے نے ۔
اوے ؟ توں کدی سوچیا اے کہ حشر وچ جدوں حساب ہوا تے، رب نوں کی جواب دیں گا ؟؟
خسرا آکھدا اے
مولوی صاحب تسی رب کولوں پچھ کے دسو ؎
کہ
رب نے مینوں دے کی کلیا سی
جدے کیتے دا میں حساب دیواں ؟؟؟
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
ہم دیسی مسلمانوں کا خلافت سے سخت قسم کا انس اور پیار ہے ،۔
بلکہ جنون ہے ،۔
شاید اس لئے کہ
 خلافت کے ساتھ وہ سچی یا جھوٹی کہانیاں وابستہ ہیں ،
جن کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ تھے تو وہ رات کے وقت گندم کی بوری اپنی کمر پر اٹھاکر بھوکے بچوں کی ایک ماں کو دے کر آئے۔
 ان وقتوں میں مدینہ میں کوئی خیرات لینے والا نہیں ملتا تھا۔
 دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والا کتا بھی حضرت عمر کی ذمہ داری تھا۔
لیکن یہ بات سوچنے سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہے ۔
 کہ
ایک انتہائی غریب ریگستانی علاقے میں ایکدم سے اس قدر خوشحالی کیسے آ گئی؟؟
وہ مال دولت ، وہ لمبی لمبی چاریں جن پر ایک بدو بھی خلیفہ” سے سوال کر سکتا ہے ۔
وہ چادریں آئی کہاں سے ؟؟
میرے لوگوں کو غرض ہے اس تو صرف اس بات سے
 کہ
 بس خلافت آئے جس سے ہمارے زندگی کے تمام مسائل حل ہو جائیں
اور کوئی خلیفہ رات کو  ہمارے گھر پر بھی “بوری “ چھوڑ جایا کرئے ۔
 ☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

اتوار، 7 فروری، 2016

وقت وقت کی بات

پہلی دفعہ کا ذکر ہے ۔

وہ دونوں لڑکپن کے دوست تھے ۔
جوانی میں دونوں اکھٹے جاپان آئے ، چھ سال بعد گاما پکڑا گیا اور ڈی پورٹ کردیا گیا ۔
اچھو  پکڑا نہیں گیا اور  کوشش کر کے کچھ سال بعد لیگل ہو گیا ،۔
بیس سال بعد کہیں مل بیٹھے تو  ، اچھو کی کلائی پر رولیکس کی گھڑی تھی اور اچھو کی کلائی پر ڈیزل کی کلاک نما  گھڑی تھی ۔
گاما کہتا ہے
یار اچھو !تیری گھڑی دس لاکھ کی ہے اور میری گھڑی تیس ہزار کی
لیکن دونوں وقت ایک ہی بتارہی ہیں !!،۔
اچھو جواب دیتا ہے ۔
گامیا! تیری گھڑی “ تیرا وقت “ بتا رہی ہے اور میری گھڑی  “ میرا وقت ” بتا رہی ہے ۔

اچھو کی بات سن کر گاما ایک  سرد آھ بھر کر گویا ہوتا ہے ۔
ہا ! اچھو  یار تیرا وقت  “ میڈ ان جاپان “ ہے  ناں ! اس لئے !!!۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے
جاپان کی کمائی سے  گاؤں میں اچھو نے کوئی ساٹھ ایکڑ زمین بنائی  ہے اور ایک محل نما مکان ۔
مکان خالی پڑا ہے اور زمین  ،گامے کا “ وڈا منڈا” ٹھیکے پر لے کر کاشت کرتا ہے  ۔
اچھو کو  کینسر ہو چکا ہے اور  ڈاکٹروں نے  بتایا ہے کہ بس تین مہینے کی زندگی ہے ۔
اچھو درد کش دوائیوں کا ڈھیر ساتھ لے کر مرنے کے لئے اپنے ابائی گاؤں والے محل میں پہنچ جاتا ہے ۔
اچھو کے بھائی اور ان کی اولادیں امریکہ اور کناڈا میں  بس چکی ہیں ،۔ ماں باپ گزر چلے ہیں ۔
اپنی اولاد ؟ ان کو اچھو کے ابائی ملک یا کہ گاؤں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے ،۔

گامے کا وڈا منڈا  ، اچھو کی تیمارداری کرتا ہے ،۔
گاما بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا کہ
گامے کا وڈا منڈا کاغذ لے کر کمرے میں داخل ہوتا ہے اور چاچے اچھو سے کہتا ہے ۔
چاچا ان کاغذوں پر دستخط کر دے  ، میں زمین اور مکان اپنے نام کروا لوں !!۔
اچھو ،  جاری انسو اور کانپتے ہاتھوں سے دستخط کرتا جاتا ہے۔
گامے کا وڈا منڈا کہتا ہے ، چاچا میں تیرا دسویں کا ختم اتنا بڑا کراں گا کہ زمانہ یاد رکھے گا۔
تیری رولیکس کی گھڑی کی قیمت سے ہی  اتنا کھانا پک جائے گا کہ علاقے کے لوگ مدتوں  یاد رکھیں گے ۔

اچھو ، خالی انکھوں سے جن میں ویرانی بھری ہوئی   ہے ، گامے کے وڈے منڈے کا منہ تکتا رہ جاتا ہے ۔
گاما  سر جھکائے ،اپنی پگ کے پلو سے اپنے انسو پونچھ کر چھپانے کی کوشش (ناکام) کر رہا ہوتا ،۔

 وقت وقت کی بات ہوتی ہے
آج  رولیکس کی دس لاکھی گھڑی ، گامے کے وڈے منڈے کا وقت بتا رہی تھی ،۔

اتوار، 31 جنوری، 2016

خدا کے مدد گار


کہیں کسی گامے نے حکومت سے زمین الاٹ کروائی
جو کہ جھاڑ  جنگھاڑ کا جنگل تھا۔
گامے نے  اس جنگل کی صفائی شروع کی  صبح سے شام تک زمین کو قابل کاشت بنانے کے لئے جتا رہتا تھا۔
ایک دن وہاں سے ایک پادری کا گزار ہوا۔
پادری گامے سے پوچھتا ہے ۔
کیا کر رہے ہو؟
گاما اس پادری کو بتاتا ہے کہ زمین کو قابل کاشت بنانے کے لئے صفائی کر رہا ہوں ۔
پادری گامے کو دعا دیتا ہے
خداوند خدا تمہاری مدد فرمائے ۔ آمین ۔؎
کہہ کر پادری چلا جاتا ہے ۔
کسی سال بعد جب پادری کا دوبارہ وہاں سے گزر ہوتا ہے ۔
تو پادری دیکھتا ہے کہ وہ زمین ایک بہت خوبصورت فارم میں تبدییل ہو چکی ہے ۔
ترتیب سے لگے درخت ، پھولوں کی کیاریاں ، کھیتوں میں اگی سبزیاں اور پھلوں کے درخت ، سب کچھ بہت ہی ترتیب سے حسن کی بہار دیکھا رہا تھا
گاما   بھی وہیں  کام کر رہا تھا
پادری ، گامے کے  سلام کا جواب دے کر  کہتا ہے
تم نے خداوند خدا کی  مدد سے اس زمیں کو بہت  خوب صورت بنا لیا ہے ۔
دل میں تپا ہوا گاما  بڑی ملائمت سے پادری کو جواب دیتا ہے ۔
فادر ! اپ دیکھ لیں کہ
میری مدد سے خدا اس فارم کو کتنا خوبصورت  بنا دیا ہے
ورنہ جب تک خدا اکیلا لگا تھا اس وقت کی حالت بھی تو اپ نے دیکھی تھی ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں تبلیغی جماعت کو جامعات اور دیگر درسگاہوں میں “ تبلیغ” سے منع کر دیا گیا ہے ۔
کینٹ کے علاقوں میں  کوئی دو سال پہلے ہی منع کر دیا گیا تھا ۔
پاکستان اسلام کا قلعہ  قرار دیا گیا اور مولوی کو  اس کی ترتیب کے کام پر لگا دیا گیا ،۔
مولوی نے خدا کی مدد سے اس ملک کو اتنا محفوظ بنا دیا کہ   مسجدوں میں نماز بھی حفاظت  کے ساتھ ادا ک جانے لگی ۔
مولوی کو  خدا کی مدد سے ہٹا کر کسی  ماجھے گامے کو  لگا دو کہ وہ شائد خدا کی مدد سے گامے کی طرح اس ملک کو ایک خوبصورت فارم کی طرح بنا دے ،۔
پاکستان کے ارباب اختیار فرشتو!!۔
یہ جی ایچ کیو کے گملوں میں اگے ہوئے
مولوی ، دانش ور ، سیاستدان ، پچھلے تیس سال میں ایک جنگلی جھاڑ جھنگاڑ بن چکے ہیں ،۔
فرشتوں اب خدا کی مدد کے لئے کوئی گاما چاہئے جو اس جنگل کو  فارم ہاؤس بنا سکے ،۔

جمعرات، 28 جنوری، 2016

نروان


بارسلونا میں ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھا تھا کہ ایک بریلوی مسلک کے دیہاتی بزرگ سے ملاقات ہوئی
مذہبی باتوں میں وہ بابا مجھ سے چڑ گیا کہ تم ہو کیا ؟
تم تو چکڑالوی ہو !!۔
اس دیہاتی بابے نے مجھے بتایا کہ ان کے گاؤں کا ایک بندہ  جو کہ بریلوی گھرانے کا تھا ، وہ گمراھ ہو کر  وہابی ہو گیا تھا
کچھ مدت بعد وہ وہابیت بھی چھوڑ کر تمہاری طرح چکڑالوی ہو گیا تھا ۔
پھر کچھ وقت ایسا بھی آیا کہ لوگ کہنے لگے تھے کہ وہ عیسائی  ہو گیا تھا ۔
لیکن خاور پتر تمہیں مزے کی بات بتاؤں کہ وہ بندہ  پچاس  کے پیٹے میں پہنچتے پہنچتے دوبارہ بریلوی ہو چکا تھا  ۔
آج جبکہ میں اپنی عمر کی پچاسویں دھائی میں ہوں تو مجھے وہ بابا یاد آ رہا ہے
کہ
میں نے ایک سنی بریلوی گھرانے میں جنم لیا ۔
قران کے مطالعے نے مجھے شرک سے نفرت  کا احساس شدت سے ہوا تو میں نے  بریلوی مسلک کو  مشرک سمجھ کر چھوڑ دیا ۔
توحید کا درس دینے والے اہل حدیث  کی باتیں اچھی لگیں لیکن جب غور کیا تو جھوٹ کا پلندہ  کہ لوگ منکر حدیث کہنے لگے  ۔
میں نے قران کے فلسفے پر بڑا غور کیا ور دیگر مذاہب کی کتابیں پڑہیں
کہ لوگ مجھے بھی غیر مسلم سمجھنے لگے
آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ
میں دوبارہ اپنے خاندان  کے ساتھ ان کی رسوم اور عبادات میں شامل ہونا پسند کروں گا
آپ مجھے  واپس پلٹ آیا ہوا کہہ سکتے ہیں ۔
لیکن
یہ سب کیون ہوا ؟
کیسے ہوا ؟
میں نے کن کن کربوں کی خاک چھانی ، کن مغالطوں کے جنگل گھومے ، مبالغوں کے کن اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا ؟
اگر وہ سبب احوال میں نے لکھ دئے تو؟
لوگ مجھے قتل کر دیں گے ۔
شائد اسی کیفیت کے لئے
میاں محمد بخش صاحب نے لکھا تھا
خاصاں دی گل ، عاماں اگے
تے نئیں مناسب کرنی
دودہ دی کھیر پکا محمد
تے کتیّا اگے رکھنی ۔

اتوار، 24 جنوری، 2016

جاپانی لوک کہانیوں کی بات

جاپانی لوک کہانیوں میں ایک دیوتا کا بڑی کثرت سے ذکر ملتا ہے ۔
جسے “بیمبو گامی “ کہتے ہیں ، یعنی کہ غریبی کا دیوتا ،۔
غریبی کا دیوتا بینبو گامی بڑا سست الوجود اور کاہل واقع ہوا ہے  ،۔
بینبو گامی جس گھر میں ڈیرا ڈال لے اس گھر میں غریبی گھر کر جاتی ہے ،۔
بینبو گامی کے ڈیرا کرنے سے گھر کے لوگ بھی سست الوجود اور کاہل ہو جاتے ہیں ،۔
بینبو گامی گھر کے کونے کھدروں میں  کہیں ایسی جگہ ڈیرا کر لیتا ہے جہاں گھر کے افراد کی نظر یا قدم نہ پڑیں ، جیسے کہ 
چھت کے چھتیروں کی اوٹ وغیرہ ،۔
جس گھر میں بینبوگامی کا ڈیرا ہو وہ گھر ترقی نہیں کر سکتا ،  اس گھر کے افراد کا پہناوا گندا ہو کر چھیتڑوں میں تبدیل ہو جاتا ہے ،۔
افراد کے منہ پر رونق نہیں رہتی اور اس گھر کے افراد کے منہ پر حالات کی خرابی کا شکوہ اور دوسروں کی سازشوں اور دوسروں کے حسد  کی تکرار ہوتی ہے ،۔
جیسا کہ دنیا بھر کی لوک کہانیاں ،لوگوں کو دانش دینے کے لئے ہوتی ہیں اسی طرح  جاپان کی بیمبو گامی کی کہانیاں بھی  لوک دانش  سے بھر پور ہوتی ہیں ،۔
ان کہانیوں میں  بینبوگامی کی بسیرے کے حالات کو بتا کر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ   غریبی کا یہ دیوتا  کسی بھی گھر سے کن حالات میں  بھاگ نکلتا ہے ،۔
اور حالات بدل جاتے ہیں ،۔
جاپان کی ان لوک کہانیوں میں  بتایا جاتا ہے کہ
جب بھی کوئلے کی آگ پر لوہا گرم ہو  ،اور بہت زیادہ گرم ہو جائے تو  ؟
اس گرمی ، بو اور ٹرخ سے جو حالات پیدا ہوتے ہیں وہ غریبی کے دیوتا  بینبوگامی کی برداشت سے باہر ہو جاتے ہیں اور غریبی کا دیوتا بینبو گامی بھاگ نکلتا ہے  ،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاصل مطالعہ
لوہے کو ڈھالنے والی فونڈری ہی کسی ملک کی غریبی کا سب سے بہتر حل ہے  ،۔
ماضی قریب  میں برطانیہ نے لوہے کو ڈھال کر ساری دنیا کو ریل کی پٹریاں سپلائی کی اور غیربی بھاگ نکلی ،۔
جاپان میں بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد  ملک کی بڑی بڑی انڈسٹری کوئلے کی کانون سے کوئلہ نکالنا اور اس کوئلے سے لوہا ڈھالنا تھیں ،۔
جرمنی اور روس  کی غریبی  کو بھگانے میں بھی  لوہے کو کوئلے پر گرم کر نے والا  جاپانی لوک کہانیوں والا فارمولا نظر آتا ہے  ،۔

ہفتہ، 2 جنوری، 2016

ڈسکو ڈانس

بابا گاما  گاؤں جانے والی بس کے انتظار میں لاری اڈے پر کھڑا تھا
کہ
پیجو بدمعاش  کا وہاں سے گزر ہوا ۔
پیجو کے دل میں  اپنی دہشت بٹھانے کے لئے بابا گاما ایک اسان شکار نظر آیا ۔
پیجو پستول نکال کر  بابے کے قریب  آتا ہے ۔
سارے اڈے کے لوگوں کا دھیان اس کی طرف ہو جاتا ہے ۔
پیجو ، بابے سے پوچھتا ہے
اوئے بابا ،کدی ڈسکو ڈانس وی کیتا ای ؟
بابا گاما سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر کہتا ہے ، نئیں پتر !!۔
تے لے فیر اج کر کے ویکھ  ، کہہ کر پیجو  بابے کی پاؤں  کی طرف گولیاں چلانے لگتا ہے  ۔
بابا گاما اپنے پیر بچانے کے لئے اچھلنے لگتا ہے ،۔ سارے اڈے  کے لوگ ہنسنے لگتے ہیں ۔
پیجو ساری گولیاں ختم کر کے  پلٹتا ہے اور مجمعے کی طرف  فخر کی ایک نظر ڈال کر دو ہی قدم چلتا ہے کہ
بابا گاما  قمیض کے نیچے بغل سے کٹے ہوئے بٹ والی  دو نالی نکال کر  دو نالی کے دونوں گھوڑے چڑھا لیتا ہے ۔
گھوڑے چڑھنے کی آواز سے سارے مجمعے  کو چپ لگ جاتی ہے ، سارے اڈے پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے
کہ سوئی گرنے کی آواز بھی جس میں سنائی دے  ۔
پیجو کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر سی گزر جاتی ہے
دہشت بھری نظروں سے جب پلٹ کر دیکھتا ہے تو
دونالی  کے بیرل اس کو توپ جیسے نظر آتے ہیں ۔
بابا گاما مسکراتے ہوئے  اس سے پوچھتا ہے ۔
پتر ناں کی اے تیرا ؟؟
پیجو: جی پیجو ، پیجو حرام دا!!!۔
بابا گاما : پتر پیجو  ، کدی چوٹے دے پتالو چم کے ویکھے نے ؟؟
نئیں بابا جی نئیں ، پر میرا دل بہت کردا جے ، میں ہنے ای تہانوں چم کے ویکھانا واں
او ویکھو او کھلوتا ہے گجراں دا چوٹا
پیجو یہ کہتا ہوا چوٹے کی طرف لپکتا ہے
بابا اس کو کہتا ہے اوئے پستول مجھے دے اور ہو جا شروع۔
پیجا بڑے احترام سے خالی پستول بابے کو تھما کر بھینسے کی ٹانگوں کے درمیان لپکتا ہے ۔
حاصل مطالعہ
اک تو پستول کی ساری ہی گولیاں نہیں چلا دینی چاہئے
اور دوسرا  بابے لوگوں کی عزت کرنی چاہئے کہ بابوں نے بھی جوانی دیکھی ہوئی ہوتی ہے ۔

جمعہ، 4 دسمبر، 2015

کوئے اور بلی کا گوشت

کوئے اور بلی کے گوشت کے متعلق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کائی تائی یارڈ پر جب رمضان کام کرتا تھا تو
اس کی مہربان طبیعت کی وجہ سے بلیّاں بہت اکھٹی ہو گئی تھیں ۔
پھر یہ ہوا کہ رمضان کام چھوڑ گیا تو
یارڈ پر عزیز خان کا راج تھا ، اس نے بلیّوں پر پابندی لگا دی کہ  جس طرح مرغیاں انڈہ دیتی ہیں اس طرح اگر ساری بلیاں بھی انڈے دینے لگیں تو ان کو کھانا ملے گا ورنہ نہیں ۔
ان دنوں بلیوں سے جان چھڑانے کے کوشاں تھے
ہیرانو نامی  ایک سادہ دل جاپانی کا آنا جانا تھا ، اس کو کہا کہ کچھ بلیاں تم لے جاؤ!!۔
ہیرانو چٹخ کر کہتا ہے نہیں نہیں بلیاں نہیں چلیں گی
میں نے پوچھا کیوں ؟
ہیرانو کہنے لگا
بلی کے گوشت میں بال ہوتے ہیں ، گوشت کے اندر تک بال ہوتے ہیں ،
کھایا ہی نہیں جاتا
کتنی ہی بلیاں ٹرائی کی ہیں ، سب کے گوشت میں بال تھے اس لئے بلی نہیں چلے ۔ بلکل بھی نہیں چلے گی ۔

کوا کھانا یا کہ کوئے کی بریانی ،جیسی باتیں بس ایک مذاق ہی ہیں ۔
کوئے کا گوشت گلتا ہی نہیں ہے ۔
پریشر ککر میں ایک ایک گھنٹے کی شھک شھک کے بعد بھی کوئے کا گوشت ربڑ کی طرح سخت رہتا ہے ،۔
کبھی تجربہ کر کے دیکھ لینا
یا کہ اگر کوئے پر طبیعت نہ مانے تو سفید رنگ کی ایک مرغی مل جاتی ہے جس کی کلغی کالے رنگ کی ہوتی ہے ۔
یہاں جاپان میں اس مرغی کو لوگ انڈوں کے لئے پالتے ہیں ،۔
ہو سکتا ہے یورپ کے دیہاتی علاقوں میں بھی پالتے ہوں ۔ ورنہ " پٹ شاپ " سے تو ضرور مل جائے گی ۔
اس کالی کلغی والی مرغی یا مرغ کو کوئے کی پیوند کاری سے تیار کیا گیا ہے ۔
اس مرغی کا گوشت گلتا ہی نہیں ہے ۔
اسی طرح کوئے کے گوشت والا بھی مذاق ہی ہے ، کوئے کا گوشت بھی گلتا ہی نہیں ہے ۔

منگل، 10 نومبر، 2015

جان محمد ڈاکیا

میں نے اپنی زندگی میں کسی شخصیت کا انتظار کیا جانا دیکھا ہے تو وہ تھے ۔
باسی والا گاؤں کے جان  محمد ، جان محمد ڈاکیا!!۔
ستر کی دہائی میں  جب عربوں میں  مزدوری کے لئے جانے کا ٹرینڈ نیا نیا چلا تھا ، ان دنوں کی بات ہے کہ  ابھی فون تو تھے نہیں ، تو سب لوگ خط کا انتظار کرتے تھے ،۔
ڈاکخانے میں  گاؤں کے درجنوں لوگ  جان محمد ڈاکئے کا انتظار کر رہے ہوتے تھے اور ہر روز کرتے تھے  ۔
جان محمد ڈاکیا  باسی والا سے ڈاک نکال کر   گاؤں آتا تھا ، جہاں سے تلونڈی کی ڈاک نکال کر  تھیلوں میں بند کر کے  جنڈیالے پہنچتا تھا  ۔
یہاں جنڈیالے باغ والے میں ڈاک کا تبادلہ ہوتا تھا ،۔
جان محمد نے ڈاک کا تھیلا ، جنڈیالہ باغ والا سے اٹھانا ہوتا تھا  ، جہان  ڈاک کا تھیلا لے کر دوسرا ڈاکیا  پہنچتا تھا ،۔
جنڈیالے سے تھیلے لے کر  ایک تھیلا پیرو چک  پہنچا کر  ایک تھیلا گاؤں لانا ہوتا تھا ، اس کے بعد ایک تھیلا لے کر باسی والا پہنچتا تھا  جہاں ان کا گھر تھا ۔
گوجرانوالہ سے ڈال کے کر پہنچنے والے ڈاکیے کی لیٹ  یا کہ جان محمد کے سائیکل میں کوئی مسئلہ بن جانے پر ڈاک لیٹ ہو جاتی تھی  ۔
جس پر گاؤں والوں کی بے تابی دیدنی ہوتی تھی ۔
خاکی وردی پہنے جان محمد جیسا انتظار میں کسی اور ہوتے نہیں دیکھا ۔
بہت سے لوگون کا انتظار ہوتے دیکھا ہے ۔ کسی کا کسی جلسے میں ! لیکن اس جلسے کی حد تک ۔
کسی  دوست کا ، لیکن اس دوست کی حد تک ۔
لیکن جان محمد کا انتظار  ہر روز ہوتا تھا اور بے تابی سے ہوتا تھا  ،۔

بدھ، 4 نومبر، 2015

حاجی رفیق آٹوالیکٹریشن

گوجرانوالہ کے لاری اڈے کے سامنے کی ایک ورکشاپ پر میں آٹو الیکٹریشن کا کام سیکھنے جایا کرتا تھا ۔
گولڈن واٹر پمپ والوں کی بغل میں طارق ترپال ہاؤس کے ساتھ ،حاجی رفیق آٹو الیکٹریشن کی دوکان ہوا کرتی تھی ۔ ورکشاپ پر حاجی رفیق صاحب کا چھوٹا بھائی حاجی یوسف کام کرتا تھا ۔
میں حاجی یوسف صاحب کا شاگرد تھا ۔
 حاجی صاحبان کی بسیں بھی چلتی تھیں ۔
لاہور سے گجرات کے روٹ پر ۔
یہاں میں نے بیٹری ( لیڈ سٹوریج بیٹری) بنانی سیکھی ،۔ سیلف موٹر اور جنریٹر کی مرمت کا کام سیکھا ، گاڑیوں کی وائیرنگ کا کام میں پہلے ہی حاجی سودے سے سیکھ چکا تھا ۔
انیس سو تراسی کی بات ہے ۔
مجھے خرچے کے لئے ہفتے کے دس روپے ملتے تھے ۔  ابھی میرے بھائی بہت چھوٹے تھے گھر میں بہت غریبی تھی ،۔ ابا جی کے قرضے تھے جو اتارنے تھے ۔
کوئی تیرہ ہزار ڈالر کے قریب کی رقم تھی  ، جو کہ ان دنوں پچاسی ہزار روپے بنتی تھی ۔
کسی بھی روٹ پر چلنے والے بس کا عملہ تین افراد پر مشتمل ہوتا ہے ،۔ ڈارئیور ، کلینڈر اور ہیلپر ۔
ڈرائور اور کلینڈر ایک سکیل جاب تھی ، لیکن ہلیپر ، کوئی بھی بس سکتا تھا ۔ ہیلپر سے کلینڈر اور ترقی کرتے کرتے ڈرائیور  بن جاتے تھے ۔
ان دنوں ہیلپر کی دہاڑی پچیس روپے ہوتی تھی ۔
اپنے گھر کی غریبی کے احساس سے میں بھی کمائی کر کے کچھ ابا جی  کی مدد کرنا چاہتا تھا ۔
اس لئے ایک دن میں نے حاجی یوسف صاحب سے کہا کہ
پاء جی ! مجھے کسی بس پر ہیلپر رکھ لیں !!۔؎
حاجی صاحب نے بڑا چونک کر پوچھا کہ کیوں ؟؟
کیونکہ ہیلپر کو پچیس روپے مل جاتے ہیں ۔ مجھے کمائی کی بہت ضرورت ہے ۔
حاجی صاحب نے مجھے سختی سے ٹوک دیا
کہ
نہیں تم ہیلپر نہیں بنو گے !!۔
میرے دل میں خیال آیا کہ حاجی صاحب کو کام کرنے والے مفت کے بندے ی ضرورت ہے اس لئے مجھے روک رہے ہیں ۔
حاجی صاحب کا رویہ مجھے اپنی ترقی میں روکاوٹ لگنے لگا ۔
اس لئے میں نے لاری اڈے پر جاننے والے ایک دو دیگر بسوں کے مالکوں کو اپنی ضروت کا کہا ۔
تو دو ہی دن میں سارے جاننے والوں میں یہ بات پھیل گئی ۔
حاجی صاحب نے مجھے کہا
میں سن رہا ہوں کہ تم ہیلپر بننے کے لئے کوشش کر رہے ہو ، لیکن میں تمہیں بتا دوں کہ پنڈی سے فیصل آباد اور پشاور سے لاہور تک کے روٹ پر ،یا کہ سیالکوٹ سے لاہور  کے روٹ پر
چلنے والی کسی بس میں میں تمہیں ہیلپر نہیں بننے دوں گا ۔
گوجرانوالہ سے گزرنے والی بسوں کے مالکان ہمیں جانتے ہیں ،۔ تم جس بس پر بھی رہو گے میں اس کے مالک کو کہہ کر تمہیں نکلوا دوں گا ۔
میں حاجی صاحب کے روئے سے بہت مایوس ہوا ۔ انہی دنوں میں نے “حاجی شفیع ٹرالی میکر “ والوں کے لڑکے نواز شریف سے بات کر کے آٹوالیکٹریشن کی ورکشاپ کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ۔
کیونکہ مجھے یقین تھا کہ بس پر ڈرائیور تو کجا کلیڈر یا ہیلپر بھی نہیں بن سکتا ۔ اس لئے صرف ایک ہی راستہ رہ گیا تھا کہ میں اپنا ورکشاپ کر لوں ۔
میری کام پر جانے کی روٹین خراب ہو گئی ،۔ ایک دن کام پر جاتا اور دو دن نواز شریف کے ساتھ گھومتا رہتا تھا ۔ استاد یعقوب سے بیٹری چارجر اور آرمیچر ٹیسٹر بنوا لیا ۔
لیکن دوکان کے کرئے کے لئے رقم نہ ہونے کی وجہ سے میں نے گاؤں میں ورکشاپ ڈالنے کا کام شروع کر دیا ۔
میری روٹین کو بگڑے دیکھ کر ایک دن حاجی صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھے پوچھا، ورکشاپ شروع کر رہے ہو ؟
میں نے گول مگول سا جواب دیا کہ کہیں میری ورکشاپ میں بھی کوئی روکاوٹ نہ ڈال دیں ۔
میں نے ورکشاپ شروع کی
لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں ابھی روکشاپ چلانے کے قابل نہیں ہوں ،۔
میں حاجی صاحب کے پاس واپس چلا گیا ۔
کوئی دو تین ہفتے بعد مجھے پوچھتے ہیں ، ورکشاپ کیوں چھوڑ دی ؟
میں نے کہا کہ تجربے کی کمی کی وجہ سے !!۔ تو حاجی صاحب نے مجھے کہا کہ دوبارہ شروع کرو لو میں تمیں اوزار لے کر دیتا ہوں۔
اور اگر کوئی اور بھی مسئلہ بنے تو بتانا ۔
حاجی صاحب نے بیٹریوں میں دھلائی کے لئے کچھ اوزار اور ایک پلاس مجھے دیا ۔
میں نے پوچھا کہ حاجی صاحب آپ نے مجھے ہیلپر کیون نہیں بننے دیا ؟ مجھے نقد کمائی کی ضرورت تھی ؟
تو حاجی صاحب نے کہا کہ ہیلپر بننا ، تماہرے قابل کام نہیں ہے ۔ تم نے بہت ترقی کرنی ہے ۔ اگر ہیلپر بن گئے تو تم ضائع ہو جاؤ گے ۔ْ
آج مجھے اپنے اس دور کے احساسات یاد آتے ہیں تو بڑا عجیب سا لگتا ہے
کہ
مخلص لوگوں کی باتیں اور کام کبھی کبھی سمجھ میں نہیں آتے لیکن ہمارے مستقبل کے لئے کتنے آہم ہوتے ہیں ،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک کہانی ہے مخلص مشورے کی
اور میری کئی کہانیاں ہیں گمراھ کرنے والے مشوروں کی ۔
لیکن لکھنے میں ڈر لگتا ہے کہ خون کے رشتوں سے چپکلش شروع ہو جائے گی ۔

Popular Posts