بدھ، 4 نومبر، 2015

حاجی رفیق آٹوالیکٹریشن

گوجرانوالہ کے لاری اڈے کے سامنے کی ایک ورکشاپ پر میں آٹو الیکٹریشن کا کام سیکھنے جایا کرتا تھا ۔
گولڈن واٹر پمپ والوں کی بغل میں طارق ترپال ہاؤس کے ساتھ ،حاجی رفیق آٹو الیکٹریشن کی دوکان ہوا کرتی تھی ۔ ورکشاپ پر حاجی رفیق صاحب کا چھوٹا بھائی حاجی یوسف کام کرتا تھا ۔
میں حاجی یوسف صاحب کا شاگرد تھا ۔
 حاجی صاحبان کی بسیں بھی چلتی تھیں ۔
لاہور سے گجرات کے روٹ پر ۔
یہاں میں نے بیٹری ( لیڈ سٹوریج بیٹری) بنانی سیکھی ،۔ سیلف موٹر اور جنریٹر کی مرمت کا کام سیکھا ، گاڑیوں کی وائیرنگ کا کام میں پہلے ہی حاجی سودے سے سیکھ چکا تھا ۔
انیس سو تراسی کی بات ہے ۔
مجھے خرچے کے لئے ہفتے کے دس روپے ملتے تھے ۔  ابھی میرے بھائی بہت چھوٹے تھے گھر میں بہت غریبی تھی ،۔ ابا جی کے قرضے تھے جو اتارنے تھے ۔
کوئی تیرہ ہزار ڈالر کے قریب کی رقم تھی  ، جو کہ ان دنوں پچاسی ہزار روپے بنتی تھی ۔
کسی بھی روٹ پر چلنے والے بس کا عملہ تین افراد پر مشتمل ہوتا ہے ،۔ ڈارئیور ، کلینڈر اور ہیلپر ۔
ڈرائور اور کلینڈر ایک سکیل جاب تھی ، لیکن ہلیپر ، کوئی بھی بس سکتا تھا ۔ ہیلپر سے کلینڈر اور ترقی کرتے کرتے ڈرائیور  بن جاتے تھے ۔
ان دنوں ہیلپر کی دہاڑی پچیس روپے ہوتی تھی ۔
اپنے گھر کی غریبی کے احساس سے میں بھی کمائی کر کے کچھ ابا جی  کی مدد کرنا چاہتا تھا ۔
اس لئے ایک دن میں نے حاجی یوسف صاحب سے کہا کہ
پاء جی ! مجھے کسی بس پر ہیلپر رکھ لیں !!۔؎
حاجی صاحب نے بڑا چونک کر پوچھا کہ کیوں ؟؟
کیونکہ ہیلپر کو پچیس روپے مل جاتے ہیں ۔ مجھے کمائی کی بہت ضرورت ہے ۔
حاجی صاحب نے مجھے سختی سے ٹوک دیا
کہ
نہیں تم ہیلپر نہیں بنو گے !!۔
میرے دل میں خیال آیا کہ حاجی صاحب کو کام کرنے والے مفت کے بندے ی ضرورت ہے اس لئے مجھے روک رہے ہیں ۔
حاجی صاحب کا رویہ مجھے اپنی ترقی میں روکاوٹ لگنے لگا ۔
اس لئے میں نے لاری اڈے پر جاننے والے ایک دو دیگر بسوں کے مالکوں کو اپنی ضروت کا کہا ۔
تو دو ہی دن میں سارے جاننے والوں میں یہ بات پھیل گئی ۔
حاجی صاحب نے مجھے کہا
میں سن رہا ہوں کہ تم ہیلپر بننے کے لئے کوشش کر رہے ہو ، لیکن میں تمہیں بتا دوں کہ پنڈی سے فیصل آباد اور پشاور سے لاہور تک کے روٹ پر ،یا کہ سیالکوٹ سے لاہور  کے روٹ پر
چلنے والی کسی بس میں میں تمہیں ہیلپر نہیں بننے دوں گا ۔
گوجرانوالہ سے گزرنے والی بسوں کے مالکان ہمیں جانتے ہیں ،۔ تم جس بس پر بھی رہو گے میں اس کے مالک کو کہہ کر تمہیں نکلوا دوں گا ۔
میں حاجی صاحب کے روئے سے بہت مایوس ہوا ۔ انہی دنوں میں نے “حاجی شفیع ٹرالی میکر “ والوں کے لڑکے نواز شریف سے بات کر کے آٹوالیکٹریشن کی ورکشاپ کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ۔
کیونکہ مجھے یقین تھا کہ بس پر ڈرائیور تو کجا کلیڈر یا ہیلپر بھی نہیں بن سکتا ۔ اس لئے صرف ایک ہی راستہ رہ گیا تھا کہ میں اپنا ورکشاپ کر لوں ۔
میری کام پر جانے کی روٹین خراب ہو گئی ،۔ ایک دن کام پر جاتا اور دو دن نواز شریف کے ساتھ گھومتا رہتا تھا ۔ استاد یعقوب سے بیٹری چارجر اور آرمیچر ٹیسٹر بنوا لیا ۔
لیکن دوکان کے کرئے کے لئے رقم نہ ہونے کی وجہ سے میں نے گاؤں میں ورکشاپ ڈالنے کا کام شروع کر دیا ۔
میری روٹین کو بگڑے دیکھ کر ایک دن حاجی صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھے پوچھا، ورکشاپ شروع کر رہے ہو ؟
میں نے گول مگول سا جواب دیا کہ کہیں میری ورکشاپ میں بھی کوئی روکاوٹ نہ ڈال دیں ۔
میں نے ورکشاپ شروع کی
لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں ابھی روکشاپ چلانے کے قابل نہیں ہوں ،۔
میں حاجی صاحب کے پاس واپس چلا گیا ۔
کوئی دو تین ہفتے بعد مجھے پوچھتے ہیں ، ورکشاپ کیوں چھوڑ دی ؟
میں نے کہا کہ تجربے کی کمی کی وجہ سے !!۔ تو حاجی صاحب نے مجھے کہا کہ دوبارہ شروع کرو لو میں تمیں اوزار لے کر دیتا ہوں۔
اور اگر کوئی اور بھی مسئلہ بنے تو بتانا ۔
حاجی صاحب نے بیٹریوں میں دھلائی کے لئے کچھ اوزار اور ایک پلاس مجھے دیا ۔
میں نے پوچھا کہ حاجی صاحب آپ نے مجھے ہیلپر کیون نہیں بننے دیا ؟ مجھے نقد کمائی کی ضرورت تھی ؟
تو حاجی صاحب نے کہا کہ ہیلپر بننا ، تماہرے قابل کام نہیں ہے ۔ تم نے بہت ترقی کرنی ہے ۔ اگر ہیلپر بن گئے تو تم ضائع ہو جاؤ گے ۔ْ
آج مجھے اپنے اس دور کے احساسات یاد آتے ہیں تو بڑا عجیب سا لگتا ہے
کہ
مخلص لوگوں کی باتیں اور کام کبھی کبھی سمجھ میں نہیں آتے لیکن ہمارے مستقبل کے لئے کتنے آہم ہوتے ہیں ،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک کہانی ہے مخلص مشورے کی
اور میری کئی کہانیاں ہیں گمراھ کرنے والے مشوروں کی ۔
لیکن لکھنے میں ڈر لگتا ہے کہ خون کے رشتوں سے چپکلش شروع ہو جائے گی ۔

1 تبصرہ:

Aslam Faheem کہا...

مجھے مانگ کے کھانے والوں سے جتنی نفرت ہے اس سے کہیں زیادہ محنت کرنے والے لوگوں سے محبت ہے "لو یو سر آباد رہیں" ماضی سے تعلق جڑا رہے تو بندے میں "میں" نہیں آتی اور آپ مجھے ایسے ہی دِکھتے ہیں

Popular Posts