سوموار، 7 مارچ، 2016

مختصر مختصر

مائکرو بلاگنگ ، یعنی کہ مختصر تحاریر کی انٹرنیٹ پر اشاعت ،فیس بک اور ٹوئیٹر پر لکھ گئی باتون کو کہتے ہیں ۔
خاور کھوکھر ،فیس بک پر مصطفے خاور کے نام سے ایکٹو ہے ۔
فیس بک پر لکھی گئی باتیں چٹکلے ، لطیفے ، شکوفے ، یا کہ طنز ار مزاح یہاں بلاگ پر بھی لکھ دیا جاتا ہے  ۔
 ☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

آنت دے مورکھ ہیں او لوک
جیہڑے مڑیاں (قبراں) پوجن  جاندے نئیں
تے
جہناں مورکھاں تے لکشمی  راضی ہو جاندی اے ؟
او پتھر  دی پوجا (عقیدت) ایس طرح کردے نے کہ  “ نگ “ نوں مندری وچ مڑھ کے رکھدے  نے ۔
اوئے کملے لوکو!!۔
جے مڑیاں  والے “کجھ “ ہوندے تے ؟ جیون کیوں ہار جاندے ؟؟
تے جے نگ  وج آگیا (برکت) ہوندی تے او ! ہر روز پاخانہ دھون والے ہتھ وچ کیوں آؤندا؟؟
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
صدر ممنون صاحب بڑے خاموش طبع انسان ہیں ۔
ن لیگ کی حکومت میں میں تو یہ سمجھتا تھا کہ ممنون صاحب کا  کام صرف پھانسی کی رحم کی اپیلیں مسترد کر کے بندوں کو پھاہے لگانا ہی ہے  ۔

مجھے ایک کم گو نمازی کی بات یاد آ گئی
کہ
مسجد میں  ہر نماز باجماعت پڑھنے والا بہت ہی خاموش طبع بندہ تھا ،
ایک دفعہ کوئی عالم دین مسجد میں تشریف لائے ، انہوں نے خطاب کیا اور بعد میں سوال جواب کے سیشن میں 
اس کم گو نمازی صاحب کے بھی پوچھنے لگے کہ کوئی سوال ذہن میں ہو تو پوچھ لو ؟
آس پاس کے نمازیوں کی ہلا شہری اور ہمت دلانے پر بندہ سوال کرنے کی جرات کر ہی بیٹھا
اور عالم صاحب سے پوچھتا ہے
مغرب کی نماز کا صحیح وقت کیا ہے ؟
عالم صاحب نے جواب دیا کہ بہت ہی سادہ جواب ہے کہ جب بھی سورج غروب ہو گا ، مغرب کی نماز ادا کی جائے گی !!،۔
کم گو صاحب نے دوسرا سوال جڑ دیا کہ
اگر کسی دن سورج غروب ہی نہ ہو تو؟؟؟؟
ارد گرد کے نمازیوں نے کہا
کہ جی اپ چپ ہی رہا  کرو اس میں اپ کی زیادہ عزت اور بھرم قائم ہے ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

کیجو کپتی  دی کلپنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مت ای ماری گئی اے لوکاں دی ، رب تے بھل ای گیا اینہاں نوں ۔
کمال دا حوصلہ جے ابن آدم دا!۔
دم دا وساء نئیں جے  تے ساگ ہفتے بھر دا پکا لیندے جے  ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

جان بوجھ کر ، دیسی بولی میں !!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں ادھرمی (کافر) ہوں جو ادھرم ( بے اصولی ) کروں ؟؟
پرائی استری (عورت) ماں برابر اور پرایا دھن  ماٹی برابر نہ جانوں تو مجھے سراپ لگے گا
جس کارن  میرا وشواس (ایمان) اور لکشمی (دنیا) اکارت جائے گی!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو لوگ کہ پرایا(بیگانا) دکھ نہیں سمجھتے  اور غیروں کے جی (افراد) مار مار کر ان کا مال کھاتے ہیں ۔
ان کی اس پرتھوئی (زمین) میں عمر کم ہوتی ہے ۔
اور لولے ، لنگڑے ، کانے ، اندھے ،بونے ، کبڑے ایسے انگ ہوتے ہیں جو ان کی پشتوں سے  جنم لیتے ہیں ،۔
 ☀︎======♖♨︎♖=======☀︎


==سوچاں==
اگر میری روح  ہی  “میں “ ہوں تو ؟
یا کہ میری سوچ ہی  “ میں “ ہوں تو ؟
میرا یہ جسم  ایک لاش سے زیادہ کچھ نہیں ، جسے میں اٹھائے پھرتا ہوں  ۔
مجھے یہ لاش میری پدائش  کے عمل کے ساتھ ملی ، جس  میں  بڑے گن چھپے ہوئے تھے ۔
میں نے اس لاش کو بڑی بے اعتنائی سے پایا اور بڑی بے دردی سے برتا !،۔
جب تک مجھے اس کے گنوں کا  علم ہوا ، جب تک مجھے اس کے برتنے کا سلیقہ آیا
اس وقت تک میں اس لاش کو برباد کر چکا تھا ۔
میرے کرتوتوں کے کارن یہ لاش  بیماریوں کی پوٹ بن چکی تھی  ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
اس بات کا تو مجھے علم ہے کہ
اگر کسی پاکستانی کا وطن چھن جائے تو وہ بڑے فخر سے خود کو " فارن نیشنیلٹی ہولڈر " بتاتا ہے ۔
لیکن اک سوال میرے ذہن میں کلبلاتا ہے
کہ اگر کچھو کومے ( کچھوے ) کا خول چھن جائے تو اس کو کیا کہیں گے ؟؟؟
ننگا ؟
یا کہ
ہوم لیس ؟؟؟
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
اسلام کے قلعے (پاکستان) میں  انسان اتنے ہی محفوظ ہیں
جتنی کہ کسی مسجد میں اتاری گئے “جوتے” محفوظ ہو سکتے ہیں
اس لئے
احتیاط کریں ۔
مسجد میں “اچھی جوتی” پہن کر نہ جائیں ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
ہندو  مذہب اہسنا (برداشت)کی تلقین کرتا ہے
بدہ مذہب صلہ رحمی کا پرچار کرتا ہے ۔
یہودی لوگ  تو اللہ کے بار بار حکم کے باوجود  لڑائی سے بھاگنے لوگ ہیں ۔ بائبل کتاب مقدس اور قران میں بھی لکھا ہے
عیسائی ۔ عیسی علیہ سلام کا وہ قول سناتے ہیں
اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم دوسرا اگے کر دو ۔
سکھ مذہب میں لڑائی کرنا اور  خالصے کی فتح کی امید دلائی جاتی ہے  ۔
اور اسلام میں
مال غنیمت کے لئے، کافروں کو مسلمان کرنے کے لئے ، جنت کے حصول کے لئے جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
جہاد کو کچھ لوگ ، اور کافر لوگ وائیلینس بھی کہتے ہیں
حالانکہ جہاد بلکل مختلف چیز ہے ۔
جہاد میں انسانیت کی فلاح ہے ،۔
قتال فی سبیل اللہ کا حکم صرف اسلام میں ہی ہے ، باقی کے سبھی مذہب لڑائی کی کوئی تلقین یا تربیت نہیں دیتے ۔
اسلام کے عروج کے دور میں ۔ جیسا کہ ہم نے پنجاب ٹکیسٹ بک کی کتابوں میں پڑھا
کافروں کے لئے تین آپشن تھے جن میں سے ایک کو قبول کرنا ہوتا تھا
مسلمان ہو جاؤ ، یا جذیہ دو
اخری اپشن مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

قائد اعظم نے فرمایا
کام کام اور صرف کام
ہی
کسی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے ۔ْ
اور
قوم کی سمجھ کا فرق کہ
انہوں نے “وہ “ کام شروع کر دیا
اور “انہے واھ” شروع کر دیا کہ
آبادی کی بہتات سے  وہ ترقی کی کہ جس کو پنجابی میں کہتے ہیں ترقّی ہوئی شے !!!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
میں اپ کو بتا دوں کہ
یہ لوگ
جن لوگوں نے بعد از مرگ والی جنت کے حصول کے لئے
اس دنیا کو جہنم بنایا ہوا ہے ناں ؟؟
ان لوگوں نے ناں
وہاں جنت میں جا کر بھی
دیکھ لینا کہ شرات سے باز نہیں آنا
انہوں نے وہاں بھی دودہ والی نہر کو “ جاگ “ لگا کر دہی بنا دینا ہے ۔
ہاں
میں بتا رہا ہوں آپ کو!!!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
ایک دوست کی وال پر انگریزی کا لطیفہ تھا
جس کا اردو ترجمعہ کچھ اس طرح بنتا ہے
کہ
کہیں کسی  مسجد کے سامنے سڑک کے دوسری طرف  شراب کا ٹھیکہ  کھل گیا ۔
لوگون کی بھیڑ لگی رہتی تھی ،  مسجد میں اس خرابے کی تباہی کے لئے دعائیں  شروع ہو گئیں ۔
کچھ ہی دن گزرے کہ  “ خرابے “ میں آگ بھڑک اٹھی ، سب کچھ جل کر خاک ہوا ۔
خرابے والوں نے  مسجد کے متولیوں پر عدالت میں کیس کر دیا کہ ان  کی بد دعاؤں کے سبب  ہمارا بہت نقصان ہوا ہے ۔
مسجد کو ہرجانے کا حکم جاری کیا جائے ۔
متولی لوگ عدالت میں جا کر  یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خرابے والوں کا موقف احمقانہ ہے ۔ کبھی  بد دعاؤں سے بھی آگ لگی ہے ؟
سرکاری وکیل کہتا ہے ۔
یہان  اس دنیا میں خرابے والے دعاؤں کی قبولیت کا یقین رکھتے ہیں اور  مذہبی لوگ دعاؤں کے اثر  پر یقین کرنے سے انکاری ہیں ۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

 تین لوگوں  !  عالم ، بہادر اور دانش ور کے دن ، گیت اور اپنی اہلیت کے سکھ میں  کٹتے ہیں ۔
لیکن
مورکھ لوگوں کے دن ، کل کل اور نیند میں !!۔
زندگی کی لمبی راھ  ، بہتر ہے کہ اچھی باتوں میں کٹ جائے ۔

 پنجابی بولی کناڈا دی تیجی  وڈی بولی بن گئی اے ،۔
پارلمنٹ وچ انگریزی ، فرانسیسی توں بعد پنجابی اے ۔
پر اجے “ بی سی” کا مطلب بریٹش کولمبیا ای  لکھیا پڑہیا جائے گا۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

ایک جاننے والے کا فون آیا کہ
ان کے پاس کینٹر کا ٹرک ہے جس میں فور ڈی تھرٹی  فائیو کا انجن ہے ۔
چالیس مان (چار لاکھ پاک روپے )میں لے سکتے ہو ؟
ان دنوں یہ ٹرک تنزانیہ جا رہا تھا
اور میرے بائیر یہ ٹرک  ستر مان  سے اسّی مان تک خرید رہے تھے ۔
فون کرنے والے صاحب بڑے نمازی اور پرہیز گار  بلکہ ایک مذہبی تنطیم کے اعلی ترین عہدے دار  اور کئی تنظیموں کے بانی بھی ہیں ۔
میں ان کی بڑی عزت کرتا ہوں
میں نے ان کو جواب دیا ،چالیس مان تو بہت کم ہیں ، کچھ زیادہ کر لیں !۔
نہیں نہیں تم بس چالیس مان دے دو ، کیا یاد کرو گے ، کچھ فائد تم بھی اٹھا لو ۔
میرا دل تشکر سے بھر گیا ، لیکن اندر کا خود دار   برداشت نہیں کر سکا
اس لئے میں نے کہا کہ اپ بے شک چالیس پر راضی ہوں
میں اس کینٹر کے پچاس مان (پانچ لاکھ)دو گا کیونکہ پچاس میں لینے سے بھی مجھے بہت فائدہ وہ رہا ہے  ۔
وہ صاحب ضد پر اتر آئے کہ نہیں چالیس ہی لوں گا ۔
میں نے خیال کیا کہ شائد کوئی ٹیکس وغیرہ بچانے کا چکر ہو گا
اس لئے کہہ رہے ہیں ۔
میں نے تکرار کی کہ  دس مان میں اپ کو بغیر کوئی رسید لئے دے دوں گا ۔
نہیں یار تم بڑے مشکل بندے ہو
جب میں چالیس میں دے رہا ہوں تو کیوں پچاس ہی دینے پر بضد ہو ؟
کیونکہ اس چیز کی مالیت پچاس سے کہیں بڑھ کر ہے اس لئے ۔
قصہ مختصر کہ میں نے یہ سوچ کر کہ کسی اور چیز میں ان کو فائدہ دے کر “واپسی” کر دوں گا، میں نے حامی بھر لی کہ چلو جی جیسا آپ کہتے ہیں ۔
تو فرمانے لگے
تو پھر چالیس مان ابھی بنک میں ٹرانسفر کر دو۔
یہاں میں اٹک گیا ، کیوں کہ مجھے لالچ نہیں تھا ، میں نے کہا کہ مال دیں اور پیسے کیش میں لے لیں ، اگر مال نہہں پہنچا سکتے تو مجھے بتائیں کہ کہان پڑا ہے میں اس کی ٹراسپورٹ کا انتظام کر لیتا ہوں اور اپ کو پیسے پہنچا دیتا ہوں ۔
لو جی اس کے بعد  کئی ماھ گزر گئے نہ وہ ٹرک آیا اور نہ ہی پیسوں کا مطالبہ ۔
حاصل مطالعہ
کہ اگر اغلا بندہ بے اصولی کر بھی رہا ہو تو اپ اپنے اصولوں پر ڈٹ جائیں ۔
کہ نہ کسی کو دھوکا دینا ہے اور نہ کسی کا حق مارنا ہے ، اور نہ ہی بے جا لالچ میں آنا ہے ۔

☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
 پنجابی وچ
انکم ٹیکس دے افسر  گامے دا کھاتا چیک کرن آئے ہوئے سن ۔ باقی تے سب ٹھیک ای سی
پر ایک گل تے آ کے  اک افسر دوجے نوں کہندا اے
آ ویکھو جی “کتے دا راتب  ایک سو پینتیس روپے “ ۔
ٹکیس بچان لئی  اے کمی لوگ  کی کی کمینی حرکاتاں کر جاندے نے ۔
تے فیر اوہو  افسر گامے نوں پچھدا اے
اوؤے توں اے کتے دا راتب لکھیا ہویا اے ؟ کتا کتھے ای ؟؟
گاما “: صاحب جی ہی ہی ہی ہی!!۔
چاء والا منڈا  افسراں لئی چاء تے مٹھائیائی  لے کے آ گیا ۔ افسراں نے چاء پیتی تے مٹھیائی کھادی تے  گامے دی گل نوں نظر انداز کر کے چلے گئے ۔
چاء والا منڈا پیسے منگن لئے آ گیا تے گامے نے اینہوں گلے وچوں پچہتر روئے کڈ کے دے دتے
تے ؟

گامے نے کھاتا کھولیا
تے لکھیا
کتّے دا راتب پچہتر روپے !!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

کبھی کبھی میرا بھی جی چاہتا ہے کہ یاسر خواہ مخواہ کی طرح کام کاج کی فکر سے آزاد ہو کر چھٹی کروں
لیکن
پھر مجھے یاد آ جاتا ہے
کہ
میں غریب پیدا ہوا تھا ،امیر نہیں !!!۔
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

اک خسرے نوں مولوی صاحب کہندے نے ۔
اوے ؟ توں کدی سوچیا اے کہ حشر وچ جدوں حساب ہوا تے، رب نوں کی جواب دیں گا ؟؟
خسرا آکھدا اے
مولوی صاحب تسی رب کولوں پچھ کے دسو ؎
کہ
رب نے مینوں دے کی کلیا سی
جدے کیتے دا میں حساب دیواں ؟؟؟
☀︎======♖♨︎♖=======☀︎
ہم دیسی مسلمانوں کا خلافت سے سخت قسم کا انس اور پیار ہے ،۔
بلکہ جنون ہے ،۔
شاید اس لئے کہ
 خلافت کے ساتھ وہ سچی یا جھوٹی کہانیاں وابستہ ہیں ،
جن کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ تھے تو وہ رات کے وقت گندم کی بوری اپنی کمر پر اٹھاکر بھوکے بچوں کی ایک ماں کو دے کر آئے۔
 ان وقتوں میں مدینہ میں کوئی خیرات لینے والا نہیں ملتا تھا۔
 دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والا کتا بھی حضرت عمر کی ذمہ داری تھا۔
لیکن یہ بات سوچنے سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہے ۔
 کہ
ایک انتہائی غریب ریگستانی علاقے میں ایکدم سے اس قدر خوشحالی کیسے آ گئی؟؟
وہ مال دولت ، وہ لمبی لمبی چاریں جن پر ایک بدو بھی خلیفہ” سے سوال کر سکتا ہے ۔
وہ چادریں آئی کہاں سے ؟؟
میرے لوگوں کو غرض ہے اس تو صرف اس بات سے
 کہ
 بس خلافت آئے جس سے ہمارے زندگی کے تمام مسائل حل ہو جائیں
اور کوئی خلیفہ رات کو  ہمارے گھر پر بھی “بوری “ چھوڑ جایا کرئے ۔
 ☀︎======♖♨︎♖=======☀︎

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts