اتوار، 7 فروری، 2016

وقت وقت کی بات

پہلی دفعہ کا ذکر ہے ۔

وہ دونوں لڑکپن کے دوست تھے ۔
جوانی میں دونوں اکھٹے جاپان آئے ، چھ سال بعد گاما پکڑا گیا اور ڈی پورٹ کردیا گیا ۔
اچھو  پکڑا نہیں گیا اور  کوشش کر کے کچھ سال بعد لیگل ہو گیا ،۔
بیس سال بعد کہیں مل بیٹھے تو  ، اچھو کی کلائی پر رولیکس کی گھڑی تھی اور اچھو کی کلائی پر ڈیزل کی کلاک نما  گھڑی تھی ۔
گاما کہتا ہے
یار اچھو !تیری گھڑی دس لاکھ کی ہے اور میری گھڑی تیس ہزار کی
لیکن دونوں وقت ایک ہی بتارہی ہیں !!،۔
اچھو جواب دیتا ہے ۔
گامیا! تیری گھڑی “ تیرا وقت “ بتا رہی ہے اور میری گھڑی  “ میرا وقت ” بتا رہی ہے ۔

اچھو کی بات سن کر گاما ایک  سرد آھ بھر کر گویا ہوتا ہے ۔
ہا ! اچھو  یار تیرا وقت  “ میڈ ان جاپان “ ہے  ناں ! اس لئے !!!۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے
جاپان کی کمائی سے  گاؤں میں اچھو نے کوئی ساٹھ ایکڑ زمین بنائی  ہے اور ایک محل نما مکان ۔
مکان خالی پڑا ہے اور زمین  ،گامے کا “ وڈا منڈا” ٹھیکے پر لے کر کاشت کرتا ہے  ۔
اچھو کو  کینسر ہو چکا ہے اور  ڈاکٹروں نے  بتایا ہے کہ بس تین مہینے کی زندگی ہے ۔
اچھو درد کش دوائیوں کا ڈھیر ساتھ لے کر مرنے کے لئے اپنے ابائی گاؤں والے محل میں پہنچ جاتا ہے ۔
اچھو کے بھائی اور ان کی اولادیں امریکہ اور کناڈا میں  بس چکی ہیں ،۔ ماں باپ گزر چلے ہیں ۔
اپنی اولاد ؟ ان کو اچھو کے ابائی ملک یا کہ گاؤں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے ،۔

گامے کا وڈا منڈا  ، اچھو کی تیمارداری کرتا ہے ،۔
گاما بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا کہ
گامے کا وڈا منڈا کاغذ لے کر کمرے میں داخل ہوتا ہے اور چاچے اچھو سے کہتا ہے ۔
چاچا ان کاغذوں پر دستخط کر دے  ، میں زمین اور مکان اپنے نام کروا لوں !!۔
اچھو ،  جاری انسو اور کانپتے ہاتھوں سے دستخط کرتا جاتا ہے۔
گامے کا وڈا منڈا کہتا ہے ، چاچا میں تیرا دسویں کا ختم اتنا بڑا کراں گا کہ زمانہ یاد رکھے گا۔
تیری رولیکس کی گھڑی کی قیمت سے ہی  اتنا کھانا پک جائے گا کہ علاقے کے لوگ مدتوں  یاد رکھیں گے ۔

اچھو ، خالی انکھوں سے جن میں ویرانی بھری ہوئی   ہے ، گامے کے وڈے منڈے کا منہ تکتا رہ جاتا ہے ۔
گاما  سر جھکائے ،اپنی پگ کے پلو سے اپنے انسو پونچھ کر چھپانے کی کوشش (ناکام) کر رہا ہوتا ،۔

 وقت وقت کی بات ہوتی ہے
آج  رولیکس کی دس لاکھی گھڑی ، گامے کے وڈے منڈے کا وقت بتا رہی تھی ،۔

1 تبصرہ:

Tahir Durrani کہا...

مبارکباد۔ بے لاک بہت اچھی کاوش ہے ۔ کتا ب کی اہمیت کو واضع کیا، نَے لکھنے والوں کوحقیقی معنوں میں ایک اچھا موقع فراہم کیا۔ خاور کھوکھر صاحب اور رمضان رفیق صاحب کی خدمات کو سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔محمد طاہر تبسم درانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔https://www.blogger.com

Popular Posts