جمعہ، 11 مارچ، 2016

باتاں ، شگوفے ، چٹکلے ۔

ماں کی دعا اور باپ کا مال ۔
……………..
پاکستان میں ، بسوں ، ٹرک اور رکشوں کے پیچھے  لکھا ہوتا ہے ۔
ماں کی دعا !!،۔
کاروں اور موٹر سائیکلوں کے پیچھے کوئی نہیں لکھتا!!۔
باپ کا مال !!۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
جاپان کے ٹیلی وژن پر آج جو خبر ٹاپ پر چل رہی ہے
وہ یہ ہے کہ
کانسائی کے علاقے میں ایک 99 سالہ خاتون نے پانی میں کود کر خود کشی کر لی ہے  ۔
خود کشی کی وجہ ؟  میں 100سالہ  بوڑہی نہیں کہلوانا چاہتی !!۔
 مرحومہ 99 سال کی تھیں 100 سالہ ہونے میں جند ہی  ہفتے باقی تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
پس ثابت ہوا کہ خاتوں کہیں کی بھی ہوں  عمر رسیدہ کہلوانہ پسند نہیں  کرتی ہیں  ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
فیس بک پر لائق نالائق کا  میرا اصول۔
…………..
فیس پک پر مجھے جو چیز  جیسی لگتی ہے میں اسے ایسے ہی ری ایکٹ کرتا ہوں  ،۔
اس بات سے قطع نظر کہ 
صاحب  پوسٹ نے کبھی میری کسی پوسٹ  کو لائک (👍) کیا ہو یا کہ نہ کیا ہو  ۔
اور میں امید کرتا ہوں کہ  میرے احباب بھی کوئی تکلف نہ کریں
میں  کسی بھی پوسٹ پر وہی ری ایکٹ کریں جو کہ اپ کے دل میں ہو ،۔
اگر اچھی لگے تو لائک (✌️)، مخولیہ لگے تو قہقہ (😝) ،اگر کوئی اختلاف (😚) یا کہ اتفاق (😜) ہو تو بھی ایسا ہی کومنٹ کریں ۔
تاکہ
سند رہے کہ 
ہم ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں
ناں کہ
ملمع ، ریا کاری ، منافقت سے  !!۔
اپ سب کا مخلص

☼☽=====♔♕♔=====☾☼
گانے نے ماسٹر جی سے پوچھا
رب کی محبت اور انسانوں کی محبت  کیا فرق ہے ؟ میرے خیال میں انسان انسان سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔ رب کی انسان سے محبت کے تقابل میں ؟!۔
ماسٹر جی :   پتّر !  رب کی محبت یہ ہے کہ اس نے ہوا میں پرندے بنا چھوڑے ، انسان کی محبت ہے کہ اس نے پنجرے میں بند کر کے اس کو محبت کا نام دیا ۔
رب نے عورت  بنا کر کائینات میں رنگ بھر دیا ،انسان کی محبت کہ اس کو بیوی بنا کر برتن مانجھنے پر لگا دیا ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

پاکستان میں ڈارئیور لوگ ، جنگ پر نکلے ہوئے لگتے ہیں ،۔
دشمن کو پتہ ہی نہیں چلنے دیتے کہ ان کا اگلا پینترا کیا ہو گا
بلکہ
چاند گاڑی والوں نے تو انڈیکیٹر بتی ہی نہیں لگوائی ہوتی۔
 یعنی ننجا فائیٹ !!،۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
وہ درخت جو آسمان کی وسعتوں  کو پاتے ہیں ، ان کو اپنی جڑیں ،اپنی زمین میں بہت گہری جمانی پڑتی ہیں ۔
وطن سے بے وطن  لوگ  ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح  کہیں کسی پیڑ پر اٹک جاتے ہیں ،اور اسی کو آسمان سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا ضائع ہو جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری زمین کھاری ہو چکی اے  ، میریاں جڑاں وچ  جھوٹ دا کلر رچ چکیا اے
میں اپنی زمین وچ اگن جوگا ای نئیں رہیا،۔
میرے نال میرے اپنیاں (ارباب اقتدار) نے بڑا ظلم کیتا اے ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
پنجابی وچ
اچھو ڈنگر روتے ہوئے ۔ مینوفیکچر ہو  گیا ای !!۔
گاما؛ کی مینوفیکچر کیتا ای ؟
اچھو : پاغلا ، مینوں  فیکچر ہو گیا ای !!،۔
گاما : انہی دیا سیدھی طرحاں کہہ ناں
کہ ہڈی ٹٹ گئی  اے ،۔ کاٹھا انگریز ۔

☼☽=====♔♕♔=====☾☼
پرانا لطیفہ
گامے کو بوتل ملتی ہے ، کھولنے پر جن نکلتا ہے ۔
جن گامے کا شکریہ ادا کرتا ہے
اور کوئی حکم پوچھتا ہے ۔
گاما کہتا ہے کہ کچھ ایسا کرو کہ
میری بیوی میری فرمان بردار بن جائے ۔
جن ، دوبارہ بوتل میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے ہوتے للکارا مارتا ہے ۔
چاچا ڈھکن ذرا ٹائیٹ کر کے لائیں!!!۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

میری قوم علم کہ ان بلندیوں پر ہے کہ ان کو  اب  علم کی ضرورت ہی نہیں ،۔
یہ یہ چیز جانتے ہیں ۔
اگر کوئی علمی سوال کریں بھی تو ؟
جواب پہلے ہی ان کے ذہن میں  ہوتا ہے ۔
بس اغلے کو  لاجواب کرنے کی کوشاں۔
 اس قوم کا ایک لطیفہ
 اچھو ڈنگر گامے سے ؛ وہ کون سی چیز ہے جو  چیز سبز رنگ کی ہوتی ہے اور ٹراں ٹراں کرتی ہے ؟
گاما: پاکستان میں ٹیلی فون اور باہر کے ممالک میں مینڈک بھی ہو سکتا ہے  ۔
اچھو ڈنگر: جواب غلط ہے ، اصلی جواب ہے  “کدّو “ !!۔
گاما : لیکن ” گئیا کدّو” تو ٹراں ٹراں نہیں کرتا؟
اچھو ڈنگر : ٹراں ٹراں تو، تمہیں کنفیوز کرنے کے لئے ڈالا تھا ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر" (امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ).
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی نے مجھے بتایا کہ
جب چاچا مستری فوت ہوا تھا تو اس کے جنازے کو اٹھانے کے لئے لوگوں کی کھڑا کر کر کے بتانا پڑا تھا ۔
جنازہ اٹھانے کے لئے چار بندے اور کوئی دیگر دس لوگ اکھٹے ہو ہی گئے تھے ۔
چاچا مستری ساری زندگی لوگوں کی خدمت کرتا رہا تھا
کسی کی سبزی خریدنے جا رہا ہے تو کسی کو تیل صابن  پہنچا رہا ہے ۔
امیر گھروں کے باہر کے سبھی کام چاچا مستری کے ذمہ تھے ، بغیر تنخواھ کے بس روٹی شوٹی پر ۔
جب بھی کسی کو چاچے مستری کی ضرورت ہوتی تھی  چاچا مسجد میں ہی مل جاتا تھا ۔
دوسرا  “وہ “ تھا
جو زمینوں کے قبضے لینے اور لڑائیوں میں فائرنگ کر کے اپنی دھاک بٹھا چکا تھا ۔
علاقے میں کسی کو بھی کھڑا کر کے اس کی جیب خالی کرا لیتا تھا ۔
اسی دن جس دن چاچا مستری فوت ہوا تھا ،اس کو بھی کہیں کسی نے قتل کر کے پھینک دیا تھا ۔
لوگوں نے اس کی لاش کو لاوارث سمجھ کر دفنا دیا تھا ،۔
چھ دن بعد جب “پچھلوں “ کو علم ہوا تو اس کی لاش لائی گئی ، جو کہ بو مار چکی تھی ۔
ہزاروں کی تعداد میں جنازے کے شرکاء نے ناک پر رومال رکھ کر شرکت کی تھی ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

ہماری روایت رہی ہے کہ
مرنے والے کو بعد از مرگ " چنگا " ہی کہنا چاہئے ۔
اور دوسری روایت یہ کہ
کسی کے مر جانے یا مارے جانے پر خوشی کا اظہار نہیں کرنا ہے
اندر چاہے لڈو پھوٹ رہے ہوں ۔
ممتاز قادری کی پھانسی پر مجھے اس بات کی کوئی خوشی نہیں ہوئی کہ ممتاز نامی کوئی قاتل اپنے انجام کو پہنچا
ہاں اس بات کی خوشی ضرور ہوئی ہے کہ
پاکستان میں قانون نے ایک پر وقار کام کیا ہے ۔
ممتاز قادری کو شہید کہنے والے اور سلیمان تاثیر کو معتوب کرنے والے لوگوں سے صرف اس بات کی امید کروں گا کہ
تھوڑا سا عقل سے کام لے کر
یا کہ اگر عقل اور علم نہیں ہے تو  اردگرد میں سے کسی عقل والے سے کہہ کر
ایک دفعہ وہ بیانات ضرور پڑھ اور سن لیں جن کی بنیاد پر سلیمان تاثیر کو کافر بنا کر قتل کردیا گیا تھا ۔
سلیمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کرنے کا سوچا تھا
اگر کسی بھی قانون پر نظر ثانی کا سوچنے والے یا کہ نظر ثانی کرنے والے  “واجب القتل “ ہو جاتے ہیں تو ؟
یقین کریں کہ
اپ عقل کل ہیں اور اپ کو کوئی نہیں سمجھا سکتا ۔
علم دین نے رسول ﷺ کی "سیکس لائف " پر کتاب لکھنے والے کو قتل کیا تھا ، جو کہ ایک کرنے والا کام تھا ۔
جس پر غازی علم دین قابل ستائیش ہے ۔
لیکن
ممتاز قادری نے ایک قانون ساز کو ایک قانون پر اعتراض کرنے پر قتل کردیا تھا 
یہ بعد کوئی کم عقل ہی کرسکتا تھا ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

دنیا گول ہے ،۔
مسٹر اللہ دتہ  اپنے سیکرٹری کو کہتا ہے ، انے والے ہفتے کے دن میں کراچی جا رہا ہوں ، تم میرے ساتھ چلو گی دو دن کا ٹرپ  ہے ۔
سیکریٹری اپنے خصم کو  بتاتی ہے کہ ہفتہ اتوار میں گھر پر نہیں ہوں ، تم کھانے پینے کا انتظام خود ہی کر لینا ۔
اسکا خصم اپنی ایک دوست کو فون کرتا ہے کہ ہفتے کی رات کو گھر پر آ جانا مل کر کھائیں پکائیں گے ۔
خصم کی وہ دوست کسی بچے کو ٹویشن پڑھاتی تھی  اس نے بچے کو فون کیا کہ اس ویک اینڈ پر میں نہیں آ سکوں گی اس لئے ٹویشن سے  “ چھٹی” !!۔
وہ بچہ خوش ہو کر اپنے دادے اللہ دتے کو فون کرتا ہے ۔
دادو ، اس ویک اینڈ پر میں اپ کے ساتھ آ سکتا ہوں ،
اللہ دتہ خوش ہو کر اپنی سیکرٹری کو فون کرتا ہے ، بزنس ٹور کینسل !۔
سیکرٹری اپنے خصم کو فون کرتی ہے ، بزنس ٹور کینسل ۔
خصم اپنی دوست کو فون کرتا ہے ، ویک اینڈ کا کھانا پینا کینسل ۔
خصم کی دوست بچے کو فون کرتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
یعنی کہ
دنیا گول ہی نہیں گول مگول ہے ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

بچے ہمارے دور کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گامے جونئیر کو گاماجھڑک رہا تھا کہ
نماز کے بعد  مصلے کا کونا دوھرا کیوں نہیں کرتا ؟
گاما جونئیر کا موقف تھا کہ
مولوی لوگ انسانوں کو نماز کی  تکرار کئے رکھتے ہیں
تو میں شیطان کو نماز کا موقع فراہم کر  رہا ہوتا ہوں ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼
طبقاتی فرق موجود ہے
کچھ الفاظ کا طبقاتی فرق

 لفظ بسکٹ کو
غریب ؛ بی  سکوٹ
امیر؛ بیسکیٹ
ایلیٹ؛ کوکیز
ادا کرتا ہے

رومال کو
غریب؛ رومال
امیر؛ ہان کا چی
ایلیٹ؛ کرچیف
کہتے ہیں

ٹماٹر کو
غریب؛  ٹاماٹر
امیر؛ ٹا مائے ٹو
ایلٹ؛ تھوماتھو
کہتے ہیں ۔

کیچپ کو
غریب ؛ کیچیپ
امیر ؛ سوس
ایلیٹ ؛ ڈریسنگ
کہتے ہیں ۔

ڈاک کے لفافے کو
غریب : لفافا
امیر؛ این وے لوپ
ایلیٹ ؛ اون وہ لوپ
کہتے ہیں

ٹراؤزر کو
غریب؛ پینٹ
امیر ؛ جینز
ایلیٹ ؛ ڈینوم
کہتے ہیں ۔

عینک کو
غریب ؛ عینک
امیر؛ گلاسز
ایلٹ ؛سن  گلاسز
کہتے ہیں  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پاکستان ہے
یہاں پاک لوگ رہتے ہیں ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

میں بہت تعجب کا شکار تھا
کہ
اگر ایک انسان  قران  کو اسمانی کتاب کایقین رکھ کر  قران کو سمجھتا ہو تو
وہ کیسے قبروں کا مجاور یا کہ ہولی مین یا کہ ولی اور سینٹ بن سکتا ہے ۔
لیکن اب مجھے سمجھ لگ گئی ہے ،۔
کہ
یہ لوگ کیسے ایسا  کرسکنے  کو کر سکے ۔
لیکن میں نے اپ نہیں بتانا ،۔
کیونکہ ابھی میرا جینے کو جی چاہتا ہے  ۔
☼☽=====♔♕♔=====☾☼

پاکستان میں  چالیس سال  پہلے کی نسبت  ، سیکورٹی اداروں کی مہربانی سے  سیکورٹی کے حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ
سیکوٹی اداروں کا وجود ناگزیر ہے  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جات پات کا نظم مستحکم ہو چکا ہے ۔
سیکورٹی ادارے اور  ان کے پروردہ  لوگ   برہمن ، اسلحے کے زرو پرجائیدار اور رقبوں کے انتظام   کرنے والے  کشھتری، چھوٹے کاروباری لوگ  ویش اور باقی کی ساری قوم شودر بن چکی ہے
لیکن
پھر بھی یہ سرزمین
پاک لوگوں کے بسنے کی سرزمین ہے  ۔
بقول شخصے
جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرئے  ۔

☼☽=====♔♕♔=====☾☼

وی آئی پی کلچر ۔
سکول کے گیٹ سے گاڑی سمیت اندر گھس جانے والے  امیر لوگوں کا یہ علاج بھی بہتر ہے ،۔
کہ سکول کے گیٹ پر روکاوٹ بنا دی ہے ۔
اپ کو یہ طریقہ موزوں لگے یا کہ نہ 
لیکن اب اس کے سوا حل بھی کیا ہے ؟؟


☼☽=====♔♕♔=====☾☼

بی بی سی والوں کا میڈیکل سٹور
ڈپٹی کمہار کے گھر کا موڑ مرڑتے ہی  ، یہ بورڈ نظر آتا ہے ،۔
فوٹو بنا کر چھ قدم آگے بڑھا تو سامنے “ پاء بٹّو” کرسی پر بیٹھا تھا ۔
مجھے دیکھ کر   پاء بٹو کہتا ہے
اوئے میں تے پریشان ہی ہوگیا ساں کہ اے عینک والا جن کون اے ، پر اے تے پرانا جن اے !!،۔
بی بی سی میڈیکل سٹو پتہ نئیں کس کا ہے
لیکن تلونڈی کے لوگ تو  پاء بٹو کو ہی بی بی سی  سمجھتے ہیں ،۔


☼☽=====♔♕♔=====☾☼

1 تبصرہ:

Nasreen Ghori کہا...

میرا خیال تھا کہ مجھے ہی اپنے فیس بک اسٹے ٹس اچھے لگتے ہیں :P

Popular Posts