جمعرات, جنوری 28, 2016

نروان


بارسلونا میں ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھا تھا کہ ایک بریلوی مسلک کے دیہاتی بزرگ سے ملاقات ہوئی
مذہبی باتوں میں وہ بابا مجھ سے چڑ گیا کہ تم ہو کیا ؟
تم تو چکڑالوی ہو !!۔
اس دیہاتی بابے نے مجھے بتایا کہ ان کے گاؤں کا ایک بندہ  جو کہ بریلوی گھرانے کا تھا ، وہ گمراھ ہو کر  وہابی ہو گیا تھا
کچھ مدت بعد وہ وہابیت بھی چھوڑ کر تمہاری طرح چکڑالوی ہو گیا تھا ۔
پھر کچھ وقت ایسا بھی آیا کہ لوگ کہنے لگے تھے کہ وہ عیسائی  ہو گیا تھا ۔
لیکن خاور پتر تمہیں مزے کی بات بتاؤں کہ وہ بندہ  پچاس  کے پیٹے میں پہنچتے پہنچتے دوبارہ بریلوی ہو چکا تھا  ۔
آج جبکہ میں اپنی عمر کی پچاسویں دھائی میں ہوں تو مجھے وہ بابا یاد آ رہا ہے
کہ
میں نے ایک سنی بریلوی گھرانے میں جنم لیا ۔
قران کے مطالعے نے مجھے شرک سے نفرت  کا احساس شدت سے ہوا تو میں نے  بریلوی مسلک کو  مشرک سمجھ کر چھوڑ دیا ۔
توحید کا درس دینے والے اہل حدیث  کی باتیں اچھی لگیں لیکن جب غور کیا تو جھوٹ کا پلندہ  کہ لوگ منکر حدیث کہنے لگے  ۔
میں نے قران کے فلسفے پر بڑا غور کیا ور دیگر مذاہب کی کتابیں پڑہیں
کہ لوگ مجھے بھی غیر مسلم سمجھنے لگے
آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ
میں دوبارہ اپنے خاندان  کے ساتھ ان کی رسوم اور عبادات میں شامل ہونا پسند کروں گا
آپ مجھے  واپس پلٹ آیا ہوا کہہ سکتے ہیں ۔
لیکن
یہ سب کیون ہوا ؟
کیسے ہوا ؟
میں نے کن کن کربوں کی خاک چھانی ، کن مغالطوں کے جنگل گھومے ، مبالغوں کے کن اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا ؟
اگر وہ سبب احوال میں نے لکھ دئے تو؟
لوگ مجھے قتل کر دیں گے ۔
شائد اسی کیفیت کے لئے
میاں محمد بخش صاحب نے لکھا تھا
خاصاں دی گل ، عاماں اگے
تے نئیں مناسب کرنی
دودہ دی کھیر پکا محمد
تے کتیّا اگے رکھنی ۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts