منگل، 28 جنوری، 2014

جاپان اور جتین شاھ صاحب

 جاپان کی اون لائیں اردو اخبار ، روز نامہ اخبار پر یہ خبر دیکھی
کہ یہ کسی تالاب کی صفائی میں سینکڑوں سائکلیں ، تہہ میں غرق کی ہوئی ملی ہیں ۔ تو مجھے یاد آایا کہ یہان جاپان میں سائیکل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر کسی کو حاصل ہے ۔
یہاں جاپان کے دیہاتی علاقے ، اباراکی ، سائیتاما ، توچی گی اور گنماں کی ڈویژنوں کے سنگم پر ،اپ کو کئی سائکلیں ادھر ادھر کھیتوں کے کنارے یا کسی نشیب میں پڑی مل جائیں گی ۔
انیس سو اٹھاسی یں جب میں پہلی بار جاپان ایا تو اس وقت تو عام سی بات تھی کہ اسٹیشن کے سامنے ، کسی سنٹر پر یا کسی گھر کے سامنے پڑی سائیکل کو تالا نہیں لگا ہو گا۔
میری نسل کے زایدہ تر پاکستانی ، اس زمانے میں جاپان میں کمائی کے لئے انر ہوئے تھے ۔
اتھاسی سے پہلے  جو پاکستانی یہان تھے وہ زیادہ تر بھیک مانگا کرتے تھے ، بھیک مانگنے کا طرقہ یہ تھا کہ ، خود کو سٹوڈنٹ ظاہر کرکے کسی ٹرین میں ، کوئی چیز فروخت کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ ، یہ چیز خرید کر ایک غریب طالب عکم کی مدد کریں !۔ لیکن جاپانی لوگ پیسے بھی دے دیتے تھے اور چیز بھی نہیں لیتے تھے ۔
پھر گوجرانوالہ کے کچھ لوگوں نے نئے آنے والوں سے ڈالر لے کر ان کو فکٹریون میں کام پر لگوانے کا کام شروع کردیا  تھا۔
میں خود وحدت کالونی والے منیر کو پانچسوڈالر دے کر کام پر لگا تھا۔
اس قت بھی منیر نے میرے لئے سائکل کا انتظام مفت میں کر کے دیا تھا۔
ایک بڑی دلچسپ بات ان دنوں کی مجھے یاد ہے ، بات کہہ لیں یا کہ ان دنوں کا میرا ایک احساس ۔
کہ جب بھی کوئی جاپانی منیر ایجینٹ سے منلے آتا تھا تو ایک شاھ صاحب کا بہت ذکر ہوتا تھا، “ جتین شاھ” صاحب کا ،۔
کچھ تو ان دنوں کوجرانوالہ کے ایک شاھ صاحب کی ایجینٹی کا بھی بڑا نام تھا اور کچھ ، جاپان میں کچھ شاھ صاحب فیملیاں بھی تھیں ، اور کچھ شاھ صاحبان  کے نام بھی  ہم “پینڈو” لوگوں کے لئے عجیب ہوتے ہیں ، اس لئے میں سوچا کرتا تھا کہ کوئی بہت ہی مشہور شاھ صاحب ہیں جن کا ذکر بہت زہادہ ہو رہا ہے ۔
لیکن بعد میں پتہ چلا کہ “ جتین شاھ” جاپانی میں سائکل کو کہتے ہیں ۔
بلکہ ہر چلنے والی چیز کو شاھ کا لاحقہ لگاتے ہیں ۔
پاکستان میں ہم جو لفظ “ رکشہ” استعمال کرتے ہیں ، کم ہی لوگوں کو علم ہو گا کہ یہ لفظ بھی جاپانی زبان کا ہے۔
جاپانی میں “ریڑھی” جس کو انسان کھینچتے ہیں ، اس کو “جِن ریک شاھ”کہتے ہیں ، جو کہ تین الفاظ جِن رِیک اور شاھ کا مرکب ہے ۔ جن بمعنی انسان ، ریک بمعنی کشش یا طاقت اور شاھ ! تو جی ہر چلنے والی چیز کو کہتے ہیں ۔
جن ریک شاھ ہمارے زبان میں پہنچتے پہنچتے صرف رکشہ رہ گیا ۔

جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں معیار زندگی میں امیر غریب کا فرق نہ ہونے کے برابر ہے۔
میں نے دنیا گھومی ہے ، یورپ جس کی کشش کا ایک زمانہ دیانہ ہے ، وہاں میں  نے امیر غریب کا اتنا فرق دیکھا ہے کہ، کچھ لوگ ساری زندگی اپنے بچوں کے لئے ایک سائکل تک نہیں خرید سکتے اور کچھ لوگوں کے ذاتی ہائی اور بحری جہاز ہیں ۔
لیکن جاپان میں ، امیر غریب کا فرق ، ان کی بنک سٹیٹمنٹ کی کاپی پر موجود ہندسوں تک  ہی محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ ورنہ ہر جاپانی کے گھر میں بنیادی سہولیات زندگی موجود ہیں ۔
ہم پاکستانیوں کی یہ عادت ہے کہ
بقول ایک شاعر کے
تم نے تو عادت ہی بنا لی ہے منیر آپنی
جس شہر میں بھی رہنا ، اکتائے ہوئے رہنا
لیکن دو ممالک میں رہنے والے پاکستانی اپنے پناہ دینے والے ملک کے معترف رہتے ہیں ۔
ایک جاپان اور دوسرا جرمنی!۔
میں بھی اس ملک جاپان میں اپنی غریبی کے ہاتھوں مجبور ایا تھا ۔
اج اللّٰہ کی مہربانی ہے کہ مں نے اس ملک سے پیسا تو جو کمانا تھا کمایا ، یہان سے سچائی کی راہ بھی پائی ہے ،
یہ وہ ملک ہے جہاں آپ بغیر جھوٹ بولے ، بغیر کسی کو دھوکا دئے ، بغیر کسی دھکم پیل کے بڑی ہی آسان زندگی گزار سکتے ہیں ،
بات شروع ہوئی ھی سائکلوں کی بہتات سے اور کہاں کی کہاں پہنچ  گئی ۔
یہں صرف سائکلوں کی ہی نہیں بہت سی چیاوں کی بہتات ہے ، جاپان میں جو پاکستانی لوگ بہت بڑے بڑے بزنس میں بنے ہوئے ہیں ۔
یہ صرف اتنا ہی کر رہے ہیں کہ جاپان کے کوڑے کو ٹھکانے لگا رہے ہیں ۔
ٹرک ، بسیں ، کاریں ، مشنری ، کمپیوٹر یا سرور ، ایک زمانہ تھا کہ جاپانی پیسے دے کر اٹھواتے تھے ۔
اس کوڑے کو ٹھکانے لگا لگا کر زیادہ تر پاکستانیوں کی سفید پوشی بنی ہوئی ہے ۔
لیکن مزے کی بات ہے کہ جاپانی معاشرہ ہمیں عزت دیتا ہے ۔
لیکن یہ عزت ہر کسی کو حاصل نہیں ہے ۔
جاپانی بڑے مردم شناس لوگ ہیں ۔
کھوچل اور چالاک لوگوں کو کونے لگا دیتے ہیں
اور
اصلی والے سچے اور بھلے مانس کو سر انکھوں پر بٹھاتے ہیں ۔
 جو لوگ اس ملک جاپان میں جتنے اچھے ہیں ، جاپان ان کے جنت نما ہے ۔
ہم نے دیکھا ہے کہ برے لوگ اس ملک سے ختم ہوتے چلے گئے اور اچھے لوگ یہان مستقل ہوتے چلے گئے۔
لیکن
مذہب کے نام پر گند ڈالنے والوں کا کوئی علاج ابھی تک یہ معاشرہ نہیں کر سکا ۔
منیر نیازی کے کہا تھا

شیطان کولوں تے میں بچ ویساں
منافقاں کولو مینوں ، رب بچائے۔

جمعرات، 23 جنوری، 2014

پاکستانیوں کے قتل سے باز آؤ

ایک محاورہ ہے
باڑ لگائی کھیت کو ، باڑ کھیت کو کھائے
راجہ ہو کے چوری کرئے، تو نیائے کو اپائے
 ریاست کا کام ، اپنے لوگوں کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے میں “تعاون” کرنے کا نام ہے ۔
ترقی یافتہ مممالک میں دیکھا ہے کہ حکومت کا کردار ایک بڑے  بھائی جیسا ہوتا ہے ، جو کہ چھوٹے بھائیوں کے لہن دین کے اصول مقرر کر کے دیتا ہے۔
لیکن پاکستان میں معاملات کا رنگ ہی دوسرا ہے ۔
یہاں نہ کوئی اصول ہے اور نہ ہی کوئی کام ۔
حکومت اور حکومتی ادارے بد معاشی کا کردار ادا کر کریے ہیں ۔
کوئی بھی ادارہ ، اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کا دس فی صد بھی پورا نہیں کر رہا ۔
پاکستان میں ۔
اگر ، کسی  خود دار بندے کے منہ پر کوئی طاقت ور تھپڑ ! مار دے !!ْ۔
تو؟
پاکستان میں اس خودار کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے۔
اس لئے لوگ ، برادریوں ، مسالک ، اور مذہبی فرقوں میں بٹ کر اپنے اپنے گروہ تیار کر رہے ہیں ۔ تاکہ خود کو محفوظ کر سکیں ۔
اور پاکستان میں سب سے طاقت ور ہے فوج ۔
اگر فوج اپنی کرنے پر آ جائے تو ؟
نہ کوئی وزیر اعظم محفوظ ہے نہ کوئی عام شہری ْ۔
اور ان کا ہاتھ روکنے والا تو کوئی ہے ہی نہیں ، ان کے میڈیا میں بدنام کرنے کے کام کا بھی کوئی جوڑ نہیں ہے ۔
سیاتدانوں کو برا بتا کر ملک پر قبضہ کر لیا ، بنگالیوں کو برا بتا کر ان  کو علیحدہ کر دیا ، بلوچوں کو کونے میں لگاتے چلے جا رہے ہیں ، لکھنے والوں کو غائب کروا کر مار رہے ہیں ،۔
اج کے پاکستان کے حالات میں جب کہ ریاست ہی اپنے لوگوں کو قتل کر رہی ہے۔
امریکہ کی دہشت کی جنگ کے نام پر !! تو؟
اس جنگ میں مارے جانے والے پاکستانی  ، اپنے خون کا حساب کس سے مانگیں ؟
کوئی نہیں ہے ان کی داد فریاد سننے والا ، اس جہاں میں !!۔
اس لئے وہ بدلہ لینے کے لئے جب بارود بھری جیکٹ پہن کر  خود کو اڑا لیتے ہیں ۔
تو ؟ لوگون کو اسلام یاد آ جاتا ہے کہ اسلام میں خود کشی حرام ہے ۔
یہ خود کشی نہیں ہے ۔
یہ حملہ ہوتا ہے ،۔ دشمن پر جان قربان حملہ ۔
اس لئ اب جب کہ فوج نے جہاوزں کے ساتھ  طالبان پر حملہ کردیا ہے ۔
تو جی چاہے طاہبان ہوں یا کہ مکتی باہنی ، میں ہون کہ آپ ۔
جب بھی پاکستان کی عوام  کو قتل کیا جائے گا۔
تو میں کبھی بھی حکومتی  جبر کی حمایت نہیں کروں گا۔
طالبان ، لاکھ برے ہوں ۔ ان کی پدائش کی وجوحات کو ختم ہونا چاہئے ۔
اور پاک فوج کو حیلے بہانوں سے پاکستانیوں کے قتل  سے باز رکھنے کی سبیل نکالی ہو گی ۔
پاکستانیوں کے قتل کے بعد ، اس قتل عام کو پاکستان کے لئے قتل کرنے کے “عذر” سنتے چار دھایاں گرز چلی ہیں ۔
اتنے قتلوں کے بعد ، کیا پاکستان کے حالات بہتر ہوئے ہیں  ، یاکہ خراب؟
ہمیں تو خراب ہی ہوتے  ہوئے ملے ہیں ۔
اس لئے میں کہوں گا کہ
پاک فوج کے ہاتھوں پاکستانیوں کا قتل ، معاملے کا حل نہیں بلکہ بنیادی مسئلہ اور مسائل کی جڑ ہے ۔

جمعرات، 16 جنوری، 2014

ایک اکنامک کہانی


ہوٹل میں ایک ٹوریسٹ داخل ہوتا ہے ۔
کانٹر پر ایک سو ڈالر کا نوٹ رکھتا ہے اور ہوٹل مالک کی اجازت سے کمرہ دیکھنے چلا جاتا ہے ۔
ہوٹل کا مالک جلدی سے اپنے قصائی کا قرضہ چکانے کے لئے اس نوٹ کی رقم ،اپنے قصائی کو ادا کر دیتا ہے ۔
قصائی فوراً یہ رقم اپنے  جانور سپلائی کرنے والے کو دے دیتا ہے ۔
جانور سپلائی والا ، ایک طوائف کا مقروض تھا ،
اس نے جلدی سے یہ نوٹ ، اس طوائف کو ادا کر دیا ۔ طوایف جو کہ ہوٹل کو استعمال کرتی تھی ، اس نے یہی نوٹ ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیا۔
وہ سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر پر پڑا تھا ،
کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑہیاں چڑہ کر گیا ہوا متوقع گاہک ، واپس آ کر ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ
مجھے کمرہ پسند نہیں آیا ۔
اور اپنا سو ڈالر کا نوٹ لے کر چلا جاتا ہے !!!۔
اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ کیا
لیکن
جس قصبے میں ٹورسٹ یہ نوٹ لے کر ایا تھا ، اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرضے سے فارغ ہو گئے ۔
حاصل مطالعہ
پیسے کو گھماؤ !! نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ
کہ اسی میں عوام الناس کی فلاح ہے ۔
ماخوذ

جمعہ، 10 جنوری، 2014

انتہا پسندی اور لطیفے

آج کے پاکستان میں مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی کی “انتہا” ہے ۔
اور
میں ، مذہبی اور سیاسی انتہا پنسدی کے خلاف ہوں ،لیکن اس مخالفت میں ، انتہا پسند نہیں ہوں ، کہ کم علمی اور جہالت کے عذاب میں مبتلا پاکستانی لوگ بھی میرے اپنے لوگ ہیں !۔
کہ میں ان میں سے ہوں اور ان کے ساتھ ہی پہچانا جاتا ہوں ۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ فیس بک ہو یا کہ کوئی اور پلیٹ فارم ، لوگ یا تو مذہب کی بات کرتے ہیں اور یا سیاست کی ۔
لیکن ہر دو لوگ نہ تو مذہب کا ہی علم رکھتے ہیں اور نہ ہی سیاست کی ڈیفینیشنز سے واقف ہیں ۔
اب میں اس بات کا ذمہ دار تو ہوں نہیں کہ ان لوگوں کو  “اصلی دین” کی باتیں سمجھاؤں ، یا کہ سیاسی پارٹیوں کے کارنان کو یہ سمجھاتا پھروں کہ
سر جی!!جس کو تم سیاست کہہ رہے ہو یہ شخصیت  پرستی ہے۔ اور  اپ کو اتنے زیادہ مغالطے لگ چکے ہیں کہ ، دور ہوتے ہوتے بھی ایک زمانہ لگے گا ۔
اس لئے
میں فیس بک پر ۔
اور دوسرے پلیٹ فارموں پر “ادب” کی بات کرتا ہوں ۔
شاعری ، بولیاں ، ٹپّے ،ماہئے ، غزل کی حد تک ہی ادب نہیں ہے ۔
اس ساغر میں  افسانے ، کہانیاں ، داستانیں ، لطیفے اور قہقہے بھی ہیں ،۔
سماعتوں پر بار ، سیاسی بحثیں ، روحوں کو آلودہ کرتی مذہبی محفلیں   جہان ذہنوں کو پراگندہ کر رہی ہیں ، وہیں ، ہم جیسے بھی ہیں جو ، چٹکلے چھوڑ کر محفلیں گرماتے ہیں ، اگر چہ کہ اسی محفل میں نادان وہ بھی ہوتے ہیں جو لطیفہ سن کر افسوس بھرا منہ بناتے ہیں ۔ اور مجھے “نیک” بننے کی تلقین شروع کردیتے ہیں ۔
یہاں تاتے بیاشی اور اردگرد کے کتنے ہی “مذہبی “ لوگوں کی منافقتوں ، غلاضتوں ،  کا میں  خود گواہ ہوں ، لیکن جب میں گانا سنتا ہوں تو وہی لوگ ، ناک میں ہنسی اڑاتے ہیں  ۔
جب میں لطیفہ سناتا ہوں تو ؟ ان کو ہاسا ایسے نکلتا ہے جیسے قبض کے مریض کو پاخانہ نکلتا ہے ۔
ان کو شعر سنائیں تو؟ ان کا رویہ  ہورا ہے
کہ “ مجھے وچلی بات “ تک کی سمجھ لگ گئی ہے
لیکن ان کو الفاظ کے معنی تک معلوم نہیں ہوتے۔
آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی  ٹرپ
صبح دم کوئی بالائے بام آیا تو کیا آیا
اس لفظ بسمل کی سمجھ تو ہے نہیں ۔
اور
ہنسی اڑاتے ہیں ۔
چلو جی کچھ لطئفے ہو جائیں ۔
کہ
شادی کی پہلی رات کی صبح ، صبح سویرے خاوند نے نئی نویلی دلہن کے منہ پر پانی ڈال دیا
اللہ کی بندی ہڑبڑا کر اٹھی ،اور اپنے “خصم “ سے سوال کیا کہ
بہن چودا ! اے کی کیتا ای؟؟
خاوند نے جواب دیا کہ تمہاری ماں نے کہا تھا کہ میری بچی! پھولوں کی طرح ہے ،اس کو مرجانے نہیں دینا !!۔
۔۔۔۔۔
معاشرتی امن کے لئے خطرناک حرف کون سا ہے؟؟
“ ک”
کیوں ، وہ کیسے ؟
ہو گئے ناں شروع۔
 کیوں ؟
کہاں ؟
کون؟
کیا؟
سب لڑائی کے لفظ “ ک” سے شروع ہوتے ہیں
 بلکہ
کسی کتّی کے بچے کی کدورت بھی “ک” سے ہی شروع ہوتی ہے
۔۔۔
میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ “ دھو کے” کھائے ہیں دوستوں !!!۔
، انگور ، سیب ، امرود ، آم ،اور ہاتھ!!۔
آپ بھی دھوکے کھایا کرو دوستو!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بندے  کی بیوی بہت ہی بیمار تھی ۔
مہینوں سے ہسپتال میں داخل تھی
اخر ایک دن ڈاکٹر نے  بندے کو  ہمت  دلاتے ہوئئے کہا
کہ اللہ کی مرضی میں کس کو دخل ہے ، اب تم کو حوصلہ کرنا ہی ہو گا کہ
تمہاری بیوی بس دو ہی دن کی مہمان ہے ۔
بندے نے ڈاکٹر کے الفاظ سے ممنون ہوتے ہوئےکہا
ٹھیک ہے ڈاکٹر ساحب یہ دو دن بھی نکال ہی لیں گے جیسے تیسے کر کے ، جہاں اتنا عرصہ نکالا ہے !!!۔
۔۔۔۔
لڑکی نے اپنئ منگیتر سے کہا
کہ اب تم لڑکیوں کو دیکھنا چھوڑ دو!!۔
تم اب میرے منگیتر ہو۔
ہیں ؟؟
کیا مطلب ۔ کہ جب میرا پیٹ بھرا ہو تا میں مینیو بھی نہیں دیکھ سکتا؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے دور کے بچے !!۔
کنڈرگارٹن میں ایک بچے نے استانی سے پوچھا کہ میں اپ کو کیسا لگتا ہوں ؟
استانی نے مسکراتے ہوئے اس کے گال چھوئے اور کہا
کہ بہت ہی پیارے!!۔
بچے نے ساتھ بیٹھے اپنے ساتھی بچے کو کہنی ماری اور کہا۔
میں کہتا تھا ناں کہ لائین مارتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
باقی فیر سہی !!۔

اتوار، 5 جنوری، 2014

امرمالمعروف اور نہی عن المنکر

مجھے ان بزرگوں کا چہرہ یاد نہیں آ رہا کہ کون تھے
لیکن ان کی طنزیہ ہسنی ، اور ہنگورا مجھے یاد ہے کہ
جرنل ضیاع کے دور میں جب انہوں نے
امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔
پر تبصرہ کیا تھا۔
کہ اچھا ؟؟؟
اب ! امرمالمعروف اور نہی  عن المنکر ہو  گا ؟
مجھے اس وقت کی  اپنی فیلنگ یاد ہیں کہ ایسا لگا تھا کہ یہ بزرگ  ، اس ڈرامے کے مضحکہ انگیز نتائج سے بھی واقف ہیں ۔
اور ایک اسلامی روایت کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔
اج اس بات کے پینتیس سال بعد ، میں اپنی انکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے رواج کے کیا نتائج نکلے ہیں ، اور یہ نتایج کتنے ہی بھیانک ہیں ۔
امر بالمعروف یعنی نیکی کا حکم کرنا، اور نہی عن المنکر یعنی کہ برائی سے منع کرنا ۔
اج میں دیکھ رہا ہوں کہ نیکی کے حکم اور برائی سے منع کرتی ہو پروان چڑہی ، پاکستان کی یہ دوسری نسل ہے ۔
ہر بندہ “ دوسرے “ کو نیکی کا حکم کر رہا ہے
اور
ہر دوسرا بندہ اپنے دوسروں کو برائی سے منع کر رہا ہے۔
لیکن  نیکی اور بدی کی تعریفیں ہی بدل کر رہ گئی ہیں ۔
نیکی کا حکم بھی دوسرے کو ہی کرنا ہے
اور برائی سے روکنا بھی دوسرے کو ہی ہے۔
خود ! نہ نیکی کرنی ہے اور نہ برائی سے باز آنا ہے ۔
اردو کا یاک محاورہ تھا
کہ دوسروں کو نصیحت ، خود میان فضیحت ۔
پنجابی میں کہیں گے
آگا دوڑ تے پیچھا چوڑ۔
اب پاکستان  بننے کے بعد ہندو بھی نہ رہے ، سکھ بھی نہ رہے  ، اس لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام اب مسمانوں پر ہی کرنا باقی تھا
اور اب سبھی مسلمان دوسروں کو مسلمان کرنے میں لگے ہیں ، اور جس کو “ان” کے اسلام  کی سمجھ نہ لگے “وہ “ کافر” ہے ۔
سنی کے لئے پہلے وہابی کافر ہوا کرتا تھا
لیکن
اب سنی کے لئے سبھی کافر ہیں ۔ اور یہی حال وہابی کا ہے کہ سوائے اس کے سبھی کافر ہیں ، اور یہی حال شیعہ کا ہے ۔
کہیں سے بچھوؤں کی بارات گزر رہی تھی  ،
کسی نے پوچھا کہ تم  میں سے کون سب سے زیادہ زہریلہ ہے ؟
اس کو جواب ملا کہ
کسی کی بھی دم پر پاؤں رکھ کر دیکھ لو ، یہاں ایک سے بڑہ کر ایک ہیں ۔
یہی حال اج پاکستان کے مسلمانوں کا ہے
ایک سے بڑھ کر ایک زہریلا مسلمان ہے ۔
علم عقل کا حال یہ ہے کہ
پنجابی کے محاورے کے مطابق
جنہاں دے گھر دانے
اونہاں دے کملے وی سیانے۔
جس کا کاروبار چل نکلے ، وہ بہت ہی سیانا ہے ، عقل اور علم بے شک نہ  بھی ہو۔
یہاں جاپان میں اج کل ایک بہت ہی سیانے بندے کے علم کا یہ حال ہے کہ
وہ بندہ ایک مذہبی تنظیم میں شامل ہو گیا ، بڑی ہی منظم تنظیم کا نیا نیا رکن بنا تھا ، کہ کسی تنظیمی محفل میں مذہبی نالج بڑھانے کے لئے سوالات کیے جا رہے تھے ۔
ایک سوال تھا کہ وصال کے وقت بنی اکرم ، کس زوجہ محترمہ کے ساتھ سے ؟
ان صاحب نے بھی ہاتھ بڑہا بڑہا کر اٹھایا
محفل کے امیر نے سوچا کہ ایک تو سوال اسان ہے دوسرا ان نئے رکن کی حوصلہ افزائی ہو جائے گی
اس لئے اسی سے پوچھ لیتے ہیں ۔
تو جی
ان صاحب کا جواب تھا  “ بی بی فاطمہ” ۔
اس طرح کی کئی مثالیں ہیں کہ ان کو بقول شخصے ، استنجے کا بھی علم نہیں ہوتا اور چل پڑتے ہیں
امر بالمعروف و نہی عن المنکرکو لے کر ۔
اسلام کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے جی ان امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ٹھیکیداروں نے ۔
کسی بھی پاکستانی کے سامنے کہیں کہ  میں سادہ کھانا کھاتا ہوں ۔
وہ اپ کو تعلیم دینے لگے گا کہ
ہان ہمارا دین بھی تو ہی بتاتا ہے ۔
میں رات جلدی ہوجاتا ہوں ۔
ہاں ہمارا دین بھی تو ہی بتاتا ہے ۔
میں  روادری کا قائل ہوں ۔
ہاں ہمارا دین بھی تو ہی بتاتا ہے ۔
تو پھر انہی دیا!!۔
تمہارے دین کا بنایا ہوا کوئی بھی ملک ان روایات کا حامل کیوں نہیں ہے ؟؟
تو جواب ملتا ہے کہ اس میں دین کا کیا قصور ؟ یہ تو ماننے والوں کا قصور ہے !۔
ہاں جی پاکستان والوں کا دین وہ دین ہے جو اپنے ماننے والوں  سے بھی اپنا اپ “منوا” نہیں سکا۔
کیا خدا کا دستور بھی عبوری ہے کہ چودا سو سال میں رائج نہیں ہو سکا ۔

بدھ، 1 جنوری، 2014

لطیفے

استاد گامے سے : چاند پر پہلا قدم کس نے رکھا تھا ؟
گاما: نیل آرم سٹرانگ نے!!۔
استاد : اور دوسرا قدم کس نے رکھا تھا؟
گاما: نیل آرم سٹران کیا “لنگا” تھا ؟ دوسرا قدم بھی اسی نے رکھا ہو گا!!۔




سکول جاتے ہوئے رونے والے بچے کے باپ نے کہا
اوئے شیر بن شیر ، شیر کے بچے روتے نہیں ہیں ۔
بچے نے ترنت جواب دیا ، تو شیر کے بچے  سکول بھی تو نہیں جاتے نہ!!۔



پاکستان وہ ملک ہے جہاں فاصلہ “منٹ پر گھنٹہ” ناپا جاتا ہے ۔
اسلام اباد سے لاہور کے لئے نکلنے والا بندہ ، اپنے دوست کو فون پر کہتا ہے ۔
بس یار پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں !!!۔




ساقے کو مسخریاں سوجھ رہی تھیں کہ اس نے گامے سے پوچھا۔
اوئے گامیا ؟ اگر تم جنگل میں جا رہے ہو اور شیر نکل آئے تو کیا کرو گے؟
گاما: میں درخت پر چڑھ جاؤں گا!۔
ساقا: اور اگر شیر بھی درخت پر چڑھ گیا تو؟
گاما: میں پانی میں کود جاؤں گا!۔
ساقا: اور اگر شیر بھی پانی میں کود گیا تو؟
گامے کے ہونٹوں پر چبھتی ہوئی ہنسی پھیل گئی ،اور اس نے ساقے سے پو چھا ، اوئے ساقیا! تم نے کیا شیر کو بہن دی ہوئی ہے ؟ جو شیر کی ہی سائڈ مار رہے ہو؟؟





یہ صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے
  
کہ
جب شیمپو ، بوتل میں سے ختم ہو جائے تو؟ پانی ڈال کر اس کو ایک دفعہ تو نہا ہی لیا جاتا ہے ۔
توتھ پیسٹ کے ختم ہونے پر ٹیوب کی تشریف پھاڑ کر اس کا اندر صاف کر کے بھی کام چلا لیا جاتا ہے ۔
سبزیاں کتنی بھی خرید لیں ، پیسے کتنے بھی ہوں ، دھنیا مفت کا ہی مانگیں گے۔
ساری قوم سونے کی قیمت پر پریشان رہے گی حالانکہ خریدنا کسی کو بھی نہیں ہوتا ہے ۔
اپنے ریموٹ کنٹرول کو مار مار کر کام چلاتے رہیں گے ، بیٹری نہیں چینج کریں گے۔
شادی کے کھانے کی دعوت والے دن ، صبح کا کھانا گول کر جائیں گے کہ اج شادی پر “لِڑ” مارنی ہے ۔
پرانی قمیض کو کام پر لگا لیں گے ، اور جب کام کے بھی کام کی نہیں رہے گی تو ؟ اس کا “پوچا” بنا لیں گے۔
گھروں میں چینی کے بہترین “ ٹی سیٹ” ہوں گے ، لیکن صرف مہمانوں کی آمد پر ہی نکلیں گے ۔
پراؤڈ آف پاکستانی!!۔





دوستوں یاد رکھنا ، فلمیں صرف تین چیزوں سے چلتی ہیں ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
ریمورٹ ، ٹی وی اور ڈی وی ڈی پلئیر سے!۔

جمعرات، 26 دسمبر، 2013

ہند کی ذاتیں اور پاک قوم

اگرچہ کہ پرانوں میں لکھا ہے
کہ وہ بندہ جو دھرم بھاؤ والا ہو ، جس کے کھانے پینے اور پہننے میں اصول اور ضوابط ہوں ، جو پربو ( خدا) کی عبادت میں مگن رہتا ہو ،
اس کو معاشرے کا معزز ترین بندہ تسلیم کیا جانا چاہئے ۔
اس کو برہمن کا نام دیا گیا ۔
وہ جو اپنے جان کی بازی لگا کر وطن کی ،دھرتی ماں کی حفاظت کرتا ہے ،
اگرچہ کہ اس کے قول  میں کبھی جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور کھانے میں نشے  کی بھی احتیاط نہیں کرتا ، اس کو معاشرے میں دوسرا درجہ دیا جائے گا ۔
اور اس کو کشھتری کہیں گے۔

اسی طرح دوسری  جاتیوں کا  کا انتطام ہے کہ ان کی بھی ڈیفینیشنز بنائی گئیں ۔
تیسری کاسٹ “ویش “ کی ڈیفینیشنز ہیں
کہ وہ لوگ جو سیکھے ہوئے کام کرتے ہیں اور اپنے اولادوں کو بھی سکھاتے ہیں  ۔ یعنی کہ سیکھے اور سکھائے ہوئے کام کرنے والے لوگ ۔
کمہار ، جولاہے ، ترکھان لہار وغیرہ ، ۔
 لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسا کہ مذاہب کے ساتھ ہوتا ہے ان کی تعلیمات  میں بدعدتیں اتی جاتی ہیں  ، اسی طرح یہ ہوا کہ
برہمن کا بیٹا برہمن ہی کی طرح ٹریٹ کیا گیا ، چاہے کہ اس کی عادات نیچوں جیسی ہی کیوں نہ ہوئیں ،۔
پے در پے بیرونی حملوں نے ہند کے کشھتریوں کو اہم سے اہم درجات پر بلند کر دیا ۔
پہاڑوں سے اتر کر انے والے  اجڈ اور وحشیوں کے حملوں سے تحفظ یہی کشھتری کیا کرتے تھے  ۔
پھر بیرونی حملہ آوروں نے “ اسلام “ متعارف کروایا ، جس میں پہلی بار ہند کے لوگوں کو انسانوں کی برابری کا علم ہوا۔
ہند میں برابری کے نام پر اسلام لانے والوں نے چند ہی صدیوں میں ہند کے ذات پات کے اصولوں اور روایات کو مشرف اسلام کرلیا ۔
برہمن کی جگہ ، اسلام نے سید کو متعارف کروایا ۔ ہند کے زیادہ تر علاقوں میں  سود خور مہاجن کو “شاھ جی” کے نام سے پکارا کرتے تھے ، بادشاہ کی طرح کا بندہ جو کہ دولت مند ہوتا تھا ، اس کو شاھ جی کہتے تھے ، جب برہمن کا اسلامی ایڈیشن نکلا تو ہند کے سیانوں نے ان کو بھی شاھ جی کا نام دے دیا ، اس نام کو دینے کے پیچھے کیا رمزیں تھیں ان پر اپ خود سوچ بچار کریں کہ یہ ناقابل تحریر ہیں ،

لیکن جو بھی دھرم ہوا کہ مذہب ،اس نے ہند کے ذات پات اور چھوت چھات کو برقرار رکھا۔ پھر انگریز آ گیا ، جس نے برابری کا نظام متعارف کروایا ، بلکہ  اپنے ملک میں تو اس کو رائج کرکے دے دیا ،
انگریز کو برابری کا یہ  نظام دینے کی وجہ سے قدرت نے جو عروج دیا ہوا ہے اس کی  نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی ۔
لیکن اس انگریز کے گماشتوں نے بھی  ہند میں ہندو کو اسی ذات پات میں مبتلا رکھا اور مسلمان نے پیری مریدی کے نظام میں مبتلا کرکے اسی ذات پات کے نظام کو برقرار رکھا ۔
لیکن انگریز کے سو سالہ نظام کی وجہ سے کچھ تعلیم اور روشنی تھی کہ قدرت کا نظام کہ
تیسری جاتی (ویش) کے لوگوں کو اپنی وقعت کا احساس ہونے لگا۔
کہ ہم بھی انسان ہیں ۔
اور کچھ یہ ہوا کہ ہند کی تقسیم ہو گئی
اور کمیوں ، کسانوں اور کاریگروں کو پاکستان مل گیا ۔
یہاں اب ان لوگوں نے اپنی صدیوں کی بے وقعتی احساس مٹانے کی کوششیں شروع کر دیں ۔
پیشے ، شرمناک چیز بن کے رہ گئے ،ہر کسی کو اپنے دادے کے پیشے پہ شرمندگی ہونے لگی ۔
اکثریت کی سوچ کہ ،پیشے کو چھپانے کی کوشش میں کیا کیا جائے کہ لوگ مجھے نیچ نہ سمجھیں ؟
لیکن اس بات کا احساس نہ ہوا کہ کون نیچ اور کون اٗچار؟
جب میں کمہار ہوں تو پڑوسی جولاہا نہ ہوا تو لوہار ہو گا۔
ہر حال میں خود کو چھپانے کی کوشش کی گئی ۔ جن کے داوں کی آئل ملیں تھیں ان کو تیلی کی بجائے ملک کہلوانے میں پناھ ملی ۔
سرامک انڈسٹری والوں کی اولادیں کمہار کہلوانے کی بجائے “رحمانی” کہلوانے لگیں  ۔
http://khawarking.blogspot.jp/2006/10/blog-post_26.html
لیکن ہر کسی کے اپنے نام کے لاحقے یا سابقے میں اس بات کا خیال رکھا کہ
میں ایک بے پیشہ بندہ ہوں ،۔
ملک صاحب ، شیخ صاحب ، سید صاحب  ، چوہدری صاحب  ، ان کے نام سن کر بندہ کسی پیشے کا اندازہ نہیں لگا سکتا ۔
وہ لوگ جو اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتے تھے ، انہوں نے اپنے نام کے ساتھ اپنی گوت کا اضافہ کرکے ، اپنے پیشے کو چھپانے کی کوشش کی ۔ جیسا کہ کھوکھر ، بھٹی ، رانا وغیرہ ۔
کچھ یہ بھی ہوا کہ زمانے کی ہوائیں بدلنے لگیں ، پیشوں میں بھی ایک تنوع پیدا ہوا ،۔
اب باٹا والوں کو موچی تو کہنے سے رہے ۔ یا کہ فونڈری کے کام والے کو لوہار !!۔
حالانکہ مسواکیں بیچنے والا بھی تو ایک قسم کا ٹمبر مرچنٹ ہی ہوتا ہے ۔
یہ ساری چیزیں دیکھ کر مجھے
جاپان کے شہنشاہ میجی ، ( 1852to  1912) کا ایک تاریخی کام یاد آ گیا
کہ
شہنشاہ نے اپنے دور میں ایک حکم کے ذریعے سب لوگوں کو ایک خاندانی نام چننے کا کہا،۔
اس حکم کے تحت ہر جاپانی کا ایک نام ہو گا  اور ایک اس کا خاندانی نام ہو گا ۔
یعنی ہر بندے کا نام کے دو حصے ہوں گے،
نام ، اور فیملی نام !۔
فیملی نام نسل در نسل چلے گا
اور نام وہ ہو گا جو والدین کسی بھی بچے کا رکھیں گے ۔
اور یہ خاندانی نام چننے کا حق لوگوں کو دے دیا گیا ، یا یہ کہہ لیں کہ ان لوگوں کو جس نام چیز سے یا بات سے ان کے قریبی لگ پہچانتے تھے ، وہ الفاظ ان کا خاندانی نام ہوں گے۔
حکومتی اہلکارا، سارے ملک میں پھیل گئے ۔
اس کام کے لئے کہ مردم شماری اور لوگوں کے نام رجسٹر میں چڑھانے کے لئے۔
لوگوں  کا فیمل نام چننے کا طریقہ کچھ اس طرح تھا کہ
اپنے گاؤں محلے میں جو خاندان پہلے ہی کسی نام سے پہچناے جاتے تھے ، ان کا فیملی نام بھی وہی لکھ دیا گیا ۔
جس کی مثال اگر میں پنجاب کے دیہاتی ماحول سے دوں تو کچھ اس طرخ کی بنتی ہے ۔
ٹاہلی والئے ، بیری والئے ، سارنگی، وغیرہ۔
شہنشاہ کے اہلکار جب کسی دیہات میں پہنچتے تو  ایسا بھی ہوا کہ
ایک گاؤں کے مشرق کے لووں کو “مشرقی” مغرب کی طرف کے لوگوں کو “مغربی” اور اسی طرح شمال اور جنوب والے  کا نام دے دیا ، اور گاؤں کے درمیان والوں کو “ وچکارلے “ کا نام دے دیا۔

بہت سے دیہاتی علاقوں میں اس حکم کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایک وقتی ابال ہے جو کہ جلدی  ہی بیٹھ جائے گا اور معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے جیس کہ اب تک چل رہے تھے ۔
اس لئے جب کچھ دیہات میں حکومتی اہلکار پہنچے تو ، لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے ۔
جب ان سے اپنے نام چننے کا کہا گیا تو ، جس کے ہاتھ میں مولی تھی اس نے کہا کہ چلو میرا نام مولی رکھ دو، ستم  ظریف اہلکاروں نے اسی طرح سے ان کے نام رجسٹر کر دئے ۔
بہت کم ہی سہی لیکن اج بھی ایسے جاپانی مل جائیں گے جن کے نام مولی ، بینگن بھی ہوسکتے ہیں ،
بہت ہی عام ناموں میں کی مصال اگر پنجابی میں دیں تو کچھ اس طرح بنتے ہیں ،۔
چھوٹا کھیت ، بڑا کھیت ، درمیانہ کھیت ، کالی لکڑی ، درخت کے نیچے ، لکڑی کا گاؤں  ، مغربی گاؤں  ، کنکر ، پتھریلا کنواں ، چھوٹا ٹیلا ، بڑا ٹیلا، ۔
تو اب پھر موضوع کی طرف پلٹتے ہیں کہ
پاکستان ، میں بھی لوگون کو اپنے اپنے پیشے سے سے اتنی الرجی ہے کہ کسی اور نے کسی ہنر مند کو نیچ کیا سمجھنا ہے ،
یہ لوگ خود ہی خود کو نیچ جان کر خود کو چھپاتے پھر رہے ہیں ۔
تو کیوں نہ جی پاکستانی قوم کو بھی اس شرمندگی سے بچانے کے لئے ، شہنشاہ میجی کا طریقہ اپنایا جائے
اور لوگوں کو اپنے اپنے پسندیدہ نام چن لئے جانے دئے جائیں ۔
لیکن جو میں دیکھ رہا ہوں تو
اج کے پاکستان میں تعلیم کی کمی اور جھوٹ کی پرورش سے یہ حال ہو چکا ہے کہ “لوغ” انسانوں کی بجائے جانور بننے کو ترجیع دیں گے۔کمہار کہلوانے کی نسبت ایک جانور “شیر” کہلوانا پسند کریں گے ۔ جولاہا کہلوانے کی نسبت “باز” کہلوانا پسند کریں گے ۔
اپ کا کیا خیال ہے ؟ اپ اپنا نام کیا رکھنا پسند کریں گے ؟
یاد رہے کہ یہ نام اپ کی نسلوں کو اپنانا پڑے گا ، صدیوں پر محیط اور نسلوں کی امانت ، کیا اپ ایسا نام رکھنا پسند کریں گے جو کہ اپ کے جذباتی فیصلے کا نتیجہ ہو
اور اپنانا پڑے انے والی نسلوں کو ۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

پاک مودودی ستان



پاکستان کو بنانے والوں نے اپنے علاقے کو علیحدہ کرکے اس کا نام بنگلا دیش رکھا لیا۔
اور بنے بنائے پاکستان کے نام سے محبت کرنے والوں کو منافقوں کی طرح ٹریٹ کرکے ذلیل کرکے رکھ دیا ۔
جس کی سب سے بڑی مثال بنگال کے بہاریوں کی ہے اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کی
کہ جس جماعت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور پھر بنگال دیش کی بھی مخالفت کی تھی۔
اور اپنی ان سب مخالفتوں کانام “اسلام “ رکھ کردیا ہے
تو
جماعت اسلامی کو بھی شہید مبارک ہوں ۔
پاکستان کے معماروں کو اکہتر میں شہیدوں کی لاشیں اتنی وافر ملی تھیں کہ ان کو بھولتی ہی نہیں ہیں ۔
عمرانیات کے ماہر کہتے ہں کہ انسانوں کی ایک نسل پندرہ سال میں تیار ہوتی ہے ۔
سن انیس سو چہتر میں سرمے والی سرکار جرنل ضیاع  کے دور میں جس اسلام کا “نزول” شروع ہوا تھا ۔
وہ مودودی صاحب کی تفہیم القران نامی کتاب سے شروع ہوا تھا۔
لاہور کے شاہی قلعے میں جن “ منکرین “ کو ڈالا جاتا تھا ان کے ہاتھ میں تفہیم القران پکڑا دی جاتی تھی ۔
اور میڈیا پر اسلام اسلام کا پرچار تھا
نہی ان المنکر اور امر بالمعروف کا بتایا گیا
یعنی کہ دوسروں کو نیکی کی تلقین اور دوسروں کو بدی سے منع کرنے کی تعلیم
لیکن خود کو بدی سے باز رہنے یا نیکی کرنے کی بات کو ایسی بری طرح پیچھے ڈالا گیا کہ
پاکستان کی دو نسلیں اس تعلیم سے تیار ہو چکی ہیں
اور ہر بندہ دوسرے کو نیکی کی تلقین کر رہا ہے اور بزور بازو ہر دوسرے کو بدی سے روک رہا ہے
لیکن اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں ہے کہ نیکی کیا ہوتی ہے اور بدی کی کیا تعریف ہے ۔
اج کا پاکستان ، جو کہ انتہائی اسلامی روجحان کا ملک ہے
اس ملک میں جو حالات اج سے تین دہائیاں پہلے تھے
کیا وہ اچھے تھے یا کہ اج کے حالات ؟
یقیناً ہر ذی الشعور تین دہایاں پہلے کے حالات کو  ہی بہتر کہے گا ۔
بنگالی جو کہ سیاسی طور پر برصغیر کی باشعور ترین قوم ہیں
انہوں نے سب سے پہلے اس بات کا اندازہ لگا لیا کہ مودودی صاحب کی تعلیمات  معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتی ہیں ۔
جرنل ضیاع  کے دور میں اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کو پاکستان میں “اپنا اسلام “ پھلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
اگر کوئی تھی تو ؟ کوئی مجھے بھی بتائے؟
اور اس دور میں یعنی چھتیس سال  میں جو حال اسلام کا پاکستان میں ہے ۔ کیا یہ کوئی قابل رشک حال ہے ؟
اس لئے اب اگر پاکستان والے “اسلامی” ماحول سے بچنے کی کوشش میں کوئی مودودی کی کتابوں پر پابندی لگاتا ہے تو؟
میں تو اسے دور اندیش کہوں گا۔
بنگالی لوگ ، مودودی صاحب کی تعلیمات اور  معلم حضرات کے ساتھ جو بھی کر رہے ہیں
میرے خیال میں اپنے ملک اور قوم کے لئے ٹھیک کررہے ہیں ۔
اگر چہ کہ یہ کام جماعت اسلامی کے لئے غلط ہو !!۔
جماعت کا کیا ہے
ان کے نزدیک تو پاکستان کا اسلام بھی غلط تھا
جس کو ٹھیک کرتے کرتے انہوں نے پاکستان کا یہ حال کر دیا ہے کہ
جس کے جواب میں جماعت کا کوئی جماتیا کہہ سکتا ہے کہ
کیا ہوا ہے پاکستان کو ؟
کچھ بھی تو نہیں ہوا
بس
 پاکستان بہت ہی پاک ہو گیا ہے کہ
لوگ یہاں سے بھاگنے کے لئے ویزوں کے لئے دھکے کھا رہے ہیں ۔
مودودی صاحب کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، مجھے اس خبر کی سرخی ابھی تک یاد ہے
اور پھر؟
پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ سزا کینسل ہو گئی تھی۔
اس کے بعد مودودی صاحب کی تعلیمات کے اسلام والا پاکستان ہے
جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ
میرا تو جی پاکستان ہی “گواچ” گیا ۔
کہ میں گم کردہ پاکستان کی تلاش میں ہوں ۔
پاکستان کو بنانے والے اصلی لوگ بنگالی ھے
اکہتر میں اگر بنگالی اس بات کا دعوہ کردیتے کہ
ہمارا ملک پاکستان ہے
اور
تم لوگ اپنے ملک کا کوئی اور نام رکھ لو
تو؟
تو یہ بھی کوئی غلط مطالبہ نہ ہوتا ۔
اج کے پاکستانیوں کو ، پاکستان بنا کر دینے والے بنگالیوں نے مودودی صاحب کی تعلمات کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔
اب دیکھیں بات کہاں تک جاتی ہے
کاش کہ میرے وطن تک آ جائے ۔ کہ جو اسلام پچھلے پینتیس سال سے مودودی صاحب کے ماننے والے ، فوج کے تعاون سے میری قوم کی “بغل “ میں دئے جا رہے ہیں ، ۔
اس کی وحشت سے میرے اپنوں کو نجات ملے ۔

جمعرات، 5 دسمبر، 2013

پانی کی شرمندگی

پانی!۔
پانی جو حیات افرین ہے ، حیات کی نشانی  ہے حیات بخش ہے ۔
جہاں پانی ہو گا وہاں زندگی ہو گی ۔ دنیا کی سبھی قدیم تہذیبیں  پانی کے کناروں پر پروان چڑھیں ۔
سائینس دان لوگوں کا یقین ہے کہ اگر کسی سیارے پر پانی مل جائے تو وہاں زندگی بھی ہو گی ، وہاں زندگی پنپ  سکے گی وہاں زندگی گزاری جاسکے گی ۔
پانی ہے تو حیات ہے ، پانی جہان زندگی کو بقا عطاکرتا ہے وہیں ، حیات کو پاکیزگی بھی عطا کرتا ہے ۔
یہ پانی ہی ہے جو ہر پلیدی کو خود میں سمو کر ، پلید کو پاک کرتا ہے ۔
پلید کو پاک کرکے ، اس کی پلیدی کو لے کر جب پانی چلتا ہے تو ، پانی بھی اس پلیدی سے شرمندہ ہوتا ہے ۔
شرمندہ غیرت مند منہ چھپاتے ہیں ، اندہیرے میں راہ ڈھوبڈتے ہیں ، کہیں نکل جانے کی راہ ، کہیں خود کو پاء لینے کی جاہ کہ  خود کو پاک کر لینے کی جگہ!!۔
پانی جو کہ سب پلیدوں کو پاک کرتا ہے
اگر خود پلید ہو جائے تو اس کو کون پاک کرے گا ؟؟
اس کو دھرتی ماں  ، مٹی پاک کرتی ہے ۔
پانی جب بندے کی  غلاظتیں ، میل ، اور داغ دھو کر “ گندا” ہو جاتا ہے تو؟ منہ چھپا کر نکل جانا چاہتا ہے ، دھرتی ماں کی اغوش میں چھپ جانے کے لئے ، ماں کی کھوکھ سے دوبارہ جنم لینے کے لئے ، اپنی پلیدیوں کو طہارتوں میں بدلنے کے لئے ۔
شرمسار پانی کو گزرنے کے لئے ایک تاریک راہ چاہئے ہوتی ہے ، ایک راستہ چاہیے ہوتا ہے ، جو اس کو پلید کرنے والی ابادیوں سے اس کو باہر لے جائے ، ابادیوں سے باہر جا کر ہی پانی ماں کی اغوش میں گم ہوتا ہے یا پھر دھرتی کی حدّت کی ملامت اس کو بھاپ بنا کر ہواؤں میں بکھیر دیتی ہے۔
 کہ  بارش بن کر ایک بار پھر اپنی ماں دھرتی ماں کی آغوش میں اتر کر جذب ہو جائے  ۔
پانی کا یہی مقدر ہے  ، اور قدرت کا دستور بھی کہ اسی میں پانی کی حیات  ہے ۔
حیات بخشنے والے رب کا فرمان ہے کہ اس نے پانی کی ایک مقرر مقدار زمین پر نازل کی ہے !!۔
اور پھر عقل والوں نے دیکھا کہ اس مقرر مقدار کی حیات کا ایک دائرہ بنا کر دیا ،
 کہ پانی انسانوں اور جانوروں کی حیات کا ضامن ہو گا اور ان کی طہارت کا بھی ذمہ دار ہو گا۔
پانی بھاپ بن کر اڑے کا ، پہاڑوں  اور میدانوں میں سمندروں میں برسے گا ۔ میدانوں کی بارش ، زمین اور زمین کے باسیوں کی فوری زندگی بنے گی ، پہاڑوں  پر پانی برف کی شکل میں قیام کرئے گا ، اور اہستہ آہستہ پگھل کر دریاوں میں بہتا ہوا بہت سی زندگیوں کو سہارا دیتا چلتا رہے گا ۔
لیکن!۔
اور جو قومیں ، جانور اور لوگ پانی کو پلید کر کےے اس کو بے عزت کر دیں گے
پلید کر کے اس شرمندہ پانی کو نکلنے کے راستے دینے کی بجائے  اس کے راستے بند کرئیں گے ۔
جن لوگوں کو اپنی زندگیوں میں شرمندگی کا ہی علم نہ ہو  وہ کسی غیرت مند شرمندہ کی کیفیت کو سمجھنے کی بجائے ، اس کو اور بھی پلید کرکے بے عزت کر کے گھر سے نکال کر دروازہ بند کر لیں
تو؟؟
بجائے اس کے کہ شرمندہ پانی کو ڈھکی ہوئی تاریک نالیاں  کی صورت  “نکل جانے “ کا راستہ دیں ،
اس کو گلیوں میں ٹھوکروں میں رکھ لیں ، اس شرمندہ غیرت مند کو روندھتے  ہوئے چلیں ۔
اور اس کو طعنے بھی دیں ، “گندا پانی” ، غلیظ ، کیچڑ ۔
تو بے چارہ پھر کیا کرئے ؟
پھر پانی وہ کرے گا
جو
 وہ
پاکستان میں کر رہا ہے ۔
پانی غصہ کرئے گا
اور بے غیرت ہو جائے گا
اور غلیظ حیاتوں کی پرورش کرئے گا
یہ غلیظ حیاتیں ، گندگیاں ، پلٹ کر پانی کو پلید کر کے پانی کی بے عزتی کرنے والے  لوگوں کے گھروں میں بیماریاں بن کر داخل ہو کر!۔
ان لوگوں کو بیماریوں میں مبتلا کرکے رکھ دیں گی ۔
زمین کو حیات بخشنے والا پانی  ، ان لوگوں کی حیات کو عذاب بنا کر دکھ دے گا۔
عذاب ، بیماریوں سے ، غربت سے کرب سے !۔
یہ دستور ہے فظرت کا  اور فطرت کے آئین میں ترامیم نہیں ہوا کرتی ۔

بدھ، 20 نومبر، 2013

جبلتیں

ایک محاورہ ہوا کرتا تھا
سفید پوش ، سیاہ کار!۔
اپ نے کبھی سنا ہے ؟
یا کہ ایسے بندے دیکھے ہیں ؟
خوبصورت اور اجلے لباسوں میں ، منافق؟
۔
۔
سوہنے بابے اور بڈہیاں بھی دیکھی ہوں گی؟
حسن صرف جوانی سے ہی نہیں ، بندے کے خوبصورت خیالات سے بھی بنتا ہے ۔
عموماً خوبصورت خیالات ،اپنے رکھنے والے بندے کے چہرے اور بدن کو بھی خوبصورت بنائے رکھتے ہیں ۔
۔
۔
۔ کتے ہو عموماً اور کئی دوسرے جانوروں میں ، ایک جبلت پائی جاتی ہے
کہ
چیزوں کو اکھٹا کرتے جاتے ہیں ، اور کتے کو تو یہ بھی یاد نہیں رکھتا کہ اس نے ، ہڈی دبائی کہاں کہاں ہے زمین میں !!۔
انسان جس میں طرح طرح کی جبلتیں پائی جاتی ہیں ۔ اگر کسی ادمی میں جانوروں کی مال کو اکھٹا کرنے کی جبلت اوج کر آئے تو
عموماً ایسا ادمی خود کو ہی انسان سمجھ لینے اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور مغالطہ بھی ایسا کہ
خالص انسانوں والی جبلت جو کہ کسی بھی جانور میں نہیں پائی جاتی ، اس جبلت کے انسانوں کو تو بہت ہی حقیر جاننے لگتا ہے ۔
یعنی کہ "لکھنے "والوں کو بھی حقیر سمجھتا ہے ۔

Popular Posts