اتوار، 29 ستمبر، 2013

الفاظ کی ساخت

اگر بات کریں سکول میں گزارے تعلیی سالوں کی تو؟ اس وقت اردو میں بلاگ لکھنے والوں میں سب سے کم سال میں نے سکول میں گزارے هیں ـ
یه نہیں که میں بڑا ذهین تھا اور ایک ایک سال میں پٹوسیاں مارتا دو دو جماعتیں پاس کرتا گیا تھا۔ اس لئے کم سالوں میں زیادہ جماعتیں پاس کر لیں۔

 حقیقت یہ ہے که تکینک کی ترقی نے مجھے بھی اھل قلم میں شامل کر هی دیا ہے
کمپیوٹر کی تکنیک نے انٹر نیٹ کی تکنیک نے!۔
ورنہ میرے لکھے کو کس نے شائع کرنا تھا؟

اھل قلم جو زمانے کو الفاظ دیتے هیں ، الفاط رائج کرتے هیں
منو بھائی نے اپنے ایک ڈرامےسونا چاندی میں ایک لفظ دیا تھا '' بے فضول '' منو بھائی کا مقصد ایک لطیفه تھا
لطیفه نکلا ہے لطیف سے ، لطیف سی هوا
که نظر نهیں آتا اور دل کو چھو کرگزر جاتا ہے
یا کثیف سمجھ والوں کا نهیں لطیف سمجھ والوں کا کام ہے لطیفے کو سمجھنا
بے فضول جو که فضول ناں هو
اردو میں یه لفظ هی نهیں بنتا
لیکن بعد میں کسی انٹرویو میں منو بھائی نے اس تاسف کا اظہار کیا تھا که انہوں نے تو ایک لطیف سا مذاق کیاتھا لیکن معاشرے میں یه لفظ رائج هو گیا ہے
اردو مين بلاگ لکھنے والے یا وکی پیڈیا پر علمی کام کرنے والے لوگ بھی اب اس پوزیشن میں هیں که الفاظ کو رائج کرسکیں
لیکن سب سے پہلے تو ان لکھنے والوں کو احساس هونا چاھیے که یه کر کیا رہے هیں
ایک بلاگ لکھنے والے کا مقصد کومنٹ کا انتظار نهیں هونا چاھیے
بلکه یه سوج هونی چاھیے که انے والے زمانوں کے لوگ اپ کی تحریر پڑھ کر کیا سوچیں گے
جیسے که یه لوگ کیا کھاتے تھے کیا پہنتے تھے
ان کے عمرانی رویے کیا ھے
کن چیزوں پر ھنستےتھے اور کن پر مذمت یا پھر کڑتے تھے
وغیرھ وغیرھ
اگر کومنٹ کا حصول هی هو تو متنازعه موضوعات پر لکھيں
بدنام جو هوں گے تو کیا نام ناں هو گا
بد بن کے نام پیدا کرنا اسانی پسند لوگوںکا کام ہے اور مزے کی بات ہے که ان کو جب اس بات کا احساس هوتا ہے که یه راھ تو کانٹوں بھری ہے تو اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا هوتا ہے
میںاس دفعه جب دوبارھ جاپان ایا هوں تو دیکھا که لوگوں نے اکروں کو سکریپ کرنے کے کارخانے لگا لیے هیں جس کو سب لوگ کھائیتائی کہتے هیں کیونکه جاپانی میں یه لفظ رائج هے
اور یا پھر یارڈ کا لفظ رائج ہے
اور جو لوگ صرف گاڑیوں کی خرید فروخت کرتے هیں وه اپنی جگه کے لیے لفظ استعمال کرتے هیں پارکنگ
جاپان میں پاکستانی لوگ امیر تو هیں لیکن اھل علم نهیں هیں
لیکن زیادھ تر خود کو عقل کل سمجھتے هیں
سمجھیں بھی کیوں ناں جی که ایک بندھ ڈکریاں لے کر سالهاسال سکول جا کر ایم بی اے کرکے بزنس میں آتاهے اور یہان جاپان میں میری طرح کا ایک بندھ انڈر میٹرک گاڑیوں کے کام میں آتا ہے
نوے کی دھائی میں گاڑی مفت مل جاتی تھی جو که افریقه یا لاطینی امریکه جا کر دس هزار ڈالر کی هوتی تھی
هر مہنیے پندرھ بیس گاڑیاں ایکسپوٹ کرنے والا
اور کچھ هی سالوں میں انٹرنیشنل لیول کا بزنس میں بن جاتا هے تو جی
ایسا بندھ هوا ناں جی عقل کل ؟
اب ایسا بندھ ایم بی اے کیے هوئے ڈگری هولڈر کو ملازم رکھ سکتا ہے
تو ایسے عقل کل لوگوں کو ڈیل کرنا بھی بڑا مشکل ہے
خاص طور پر اگر آپ امیر نهیں هیں تو
پچھلے سال میں نے بھی کوئی ادھا ایکڑ زمین کرائے پر لے کر اس میں ورکشاپ سی بنائی اور جس نے بھی پوچھا که کیا کررهے هیں تو میں نے بتایا که ورکشاپ بنا رهاهوں
تو ایک دفعه تو اس نے چونک کر دیکھا اور بہت سے نے دھرایا
ورک شاپ
ان دنوں میں کتنے هی لوگوں سے اپنی اپنی جگه کھائی تائی هو که یارڈ کو ورکشاپ کہنے کا سن رها هوں
بارپی کیو کو هماری بولی میں تکه پارٹی کہا کرتے تھي لیکن میرو جاپان کے پچھلے زمانے میں کیونکه همیں بھی انگریزی کا شوق تھا اس لیے تکه پارٹی کو باربی کیو هی کہا اور یه لفظ کیونکه جاپانی زبان میں بھی رائیج تھا اس لیے سب نے اس کو باربی کیو هی کها
اس دفعه جاپان انے کے بعد بہت سے لوگوں کو تکه پارٹی کرتے دیکھا
اور میں نے تکه پارٹی کا لفظ بولا تو پہلے پہلے تو لوگوں کو اجنبی لگا لیکن اب کچھ دوست باربیکیو کو تکه پارٹی کہنے لگے هیں
جاپان زبان میں بھی کئی الفاط هیں که ان کو پنجابی میں مثال دے کر لوکوں کو اکر بتایا تو وهی ان کی زبان پر چڑھ گیا
میں ان الفاظ کی تفصیل نهیں لکھوں گا کیوں که جاپانی ناں جاننے والوں کے لیے ایسی بات بے مقصد سی هو جائے گي
اس تحریر کا مقصد یه نہیں ہے که میں بہت سیانا هوں بلکه اس کا مقصد یه بتانا ہے که هماری قوم کا اپنی زبانوں کا زخیرھ الفاظ بھی کم هوتا جارها ہے
اکر کوئی شخص خوش قسمتی سے ایسے ماحول میں پلا بڑھا ہے که جہاں پشتو پنجابی ،سندھی سرائیکی یا بلوچی کے الفاظکو سمجھنے کا موقع ملا ہے تو ایسے بندے کو باھر نکل کر احساس هوتا ہے که پاکستان کے لوگوں کا زخیرھ الفاظ گھٹتا جارها هے

ہفتہ، 28 ستمبر، 2013

میرے ہم جنس


کند ہم جنس باہم جنس پرواز ۔ چڑی بہ چڑی باز بہ باز۔
فارسی کے اس مقولہ کا سوا ستیاناس کیا ہے جی
ورنہ دوسرا حصہ ہے
کبوتر بہ کبوتر ، باز بہ باز
جنس " کا لفظ میں نے پہلی بار اپنے بچپن میں ، اپنے دادا جی کے منہ سے سنا تھا۔"
انہوں نے یہ لفظ گندم کی جنس کے متعلق کہا تھا۔
وڈانک نام کی گندم کی زندگی کے اخری سالوں کی بات ہے جب امریکی گندم نئی نئی پاکستان میں آئی تھی۔
وڈانک کے پودے اتنے بڑے ہوتے تھے کہ کھڑا ہوا آدمی ان میں نظر نہیں اتا تھا
وڈانک سے بھوسا زیادہ اور دانے کم نکلتے تھے۔
اور امریکی گندم کا بوٹا چھوٹے قد کا ہوتا ہے
یعنی کہ بھوسا کم اور دانے زیادہ۔
بھوسا کم ہو ا تو جانوروں کا کھانا کم ہوا اور انسانوں کا کھانا زیادہ ہوا۔
اگر کوئی لائی مخلوق یا عمارے جانور بولنے کے قابل ہو تا ہم انسانوں کو انسانوں کا ہم جنس کہیں گے
کہ جیسا ہم ان جانوروں کو ان کی جس کی وجہ سے ہم جنس کہتے ہیں ،۔
کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز
گندم کی جنسوں کا دادا جی سے بچپن میں سنا ہوا ہے کہ
میں جنس کے لفظ کو کسی چیز کی " قسم" کے طور پر ہی لیتا ہوں۔
جسن کا انگریزی ترجمعہ سیکس ، تو لفظوں  کی معونیت ہی بدل دیتا ہے
ایک لطیفہ
کہ
سکول سے واپس آئی چھ سات سالہ بچی نے ماں سے پوچھا کہ
ماما وٹ از دا سیکس؟
ترقی یافتہ قوم کی ماں نے سوچا کہ بچی سکول جاتی ہے اس کو ان باتوں کا علم ہو ہی جانا ہے اس لئے بچی کو حقیت بتا دینی چاہیے اس لئے ماں نے اس کو بتایا کہ
وہ عمل جو میں نے اور تمہارے پاپا نے کیا تھا تو تمہاری ولادت ہوئی تھی!!!۔
بچی کا منہ بن گیا اور روہنسائی سی ہو کر اس نے ایک فارم ماں کو دیکھایا کہ تیچر نے یہ فل کرکے لانے کا کہا تھا
اس میں ایک چھوٹا سا خانہ سیکس کا بھی ہے
اب اتنی لمبی بات میں اس چھوٹے سے خانے میں کیسے لکھوں گی؟
اس لئے
جسن کے لفظ کو اگر جنس کے ہی معنوں میں لیا جائے تو جی ہو چیز کی کوئی جنس ہوتی ہے
انسان انسان کے ہم جنس ہوتے ہیں تو کبوتر کبوتر کے ہم جنس!!۔
میں جو کہ اردو کا ایک بلاگر ہوں !!!۔
میرے ہم عصر دوسرے اردو بلاگر میرے م جنس بھی ہوئے
اور میں ان سب کو پسند بھی کرتا ہوں ۔
لیکن اس کا مطلب وہ والی ہم جنس پرستی نہیں ہو گا۔
جس کو انگریزی سے ترجمعہ کرتے ہیں ۔
قارئین اگر اپ میرے ہم جنسی کی ڈیفینیشنز کو قبول کر لیں تو؟
خاور بھی ایک ہم جنس پسند بندہ ہے جو کہ اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر رہتا  ہے
اردو کی بلاگنک کیا ہے ؟
کیا اپ کو علم ہے کہ اردو کی انٹر نیٹ کی دنیا میں بہت سے لوگ ایک نیا ادب لکھ رہے ہیں ۔
اور بغیر کسی لالچ کے لکھ رہے ہیں ۔
ان کے لکھے کو اپ اخباروں میں لکھنے والے پیشہ وروں میں سے کسی بھی تقابل کر کے دیکھ لیں
کوئی فرق نظر نہیں ائے گا
اگر کوئی فرق نظر بھی ائے گا تو یہ
کہ
ایک بندہ پیسے لے کر لکھتا ہے اور پیسے کی گرمی سے پر اعتماد ہے اور دوسرا بندہ ( بلاگر) بے لاگ لکھ رہا ہے
اس لئے بلاگر کے لکھے میں ہمکار نہیں ہے
 مندجہ ذیل لنک پر کلک کر کے دیکھیں کہ
http://urdu.gmkhawar.net/
اردو میں بلاگ لکھنے والے کیسا لکھ رہے ہیں ؟
میں فرداً فرداً سب کے نام لکھ کر اپ کا وقت برباد نہیں کروں گا لیکن خود سے دیکھیں کہ اردو کی ایک عجب دنیا بسائی ہوئے ہے انہون نے!!۔
کیا اپ اس دنیا سے واقف ہیں ؟
تو پھر اپ میڈیا کے ذہنی غلام بنتے چلے جائیں گے۔
میڈیا کی ذہنی غلامی سے بچنا ہے تو
ان ازاد لکھنے والوں کو بھی پڑھیں
اپ اردو کے سب رنگ کی لسٹ پر نظر روڑاہیں
اور پھر ساتھ میں اجاگر تحاریر کو پڑہیں ۔
اپ کو ایکٹو بلاگر اور سست بلاگر نظر آئیں گے۔
اپ نے خود اس بات کا اندازہ کرنا ہے کہ کس کے علم سے اپ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
اردو کے سب رنگ کوئی ایک سائیٹ نہیں ہے بلکہ ڈیڑھ سو بلاگروں کے ڈیڑہ سو سائیٹوں کا مجموعہ ہے، جہاں سے اپ ان سب کی سائٹوں ایکسس کرتے ہیں ۔
یہاں اپ کو بلاگ بنانے کی مدد کرنے والے بھی مل جائیں گے اور ان بلاگروں کی محفلیں جمانے والے بھی مل جائیں گے
آئیں
اگر اپ اس بلاگ تک پہنچ ہی گئے ہیں تو
اج سے
اردو کے بلاگورں سے تعارف حاصل کریں ۔
کہ انتر نیٹ صرف چند اخباروں کی سائیٹوں کا ہی نام نہیں ہے
بلکہ
سوشل میڈیا تو ہیں ہی یہ بلاگر!!۔
http://khawarking.blogspot.jp/2012/10/blog-post_21.html
یہ ہے سوشل میڈیا۔

جمعہ، 27 ستمبر، 2013

ہم جنس لوگ اور مذاہب

قدیم یونانیوں میں سے کسی نے لکھا تھا کہ
انسانی جسم کی ساحت اس طرح نہیں تھی جیسی کہ اج ہے
بلکہ انسان ایک گول بیضوی شکل کی کوئی چیز تھے ۔
جو کہ اپنی جگہ  مکمل جنس تھے
دیوتاؤں نے ان کو علیحدہ کر دیا ، جو کی وجہ سے یہ دو جسم  ، عورت اور مرد  بن گئے ۔
لیکن کچھ جسم ایسے بھی تھے جو دو ہو کر بھی جنس مخالف نہیں بلکہ  اپنی ہی جنس میں رہے ۔
کہ  مرد سے مرد اور عورت سے عورت۔
انسان کو جو جنس کی اشتہا ہوتی ہے یہ چیز اصل میں اپنے جسم کے دوسرے حصے کی تلاش ہوتی ہے ۔
کہ وصل کے دوران انسان بار بار اپنی اسی ساخت کی تکرار کرتا ہے جس میں دیوتاؤں  کے علیحدہ کرنے سے پہلے تھا ۔
دوسری قسم کے لوگوں میں بہت زیادہ ذہانت اور فن کاری بھی ذکر ملتا ہے ۔
دنیا کی کسی بھی معاشرت میں ہم جنس پرستی موجود ہوتی ہے جو کہ قدیم یونانیون کی اس  ناقابل ہضم فلسفے سے میل کھاتی ہے۔
لیکن دوسری طرف ،دنیا کے سبھی مذاہب ہم جنس پرستی کی مخالفت کرتے ہیں ۔
کیوں؟
کیونکہ مذاہب ، معاشرت میں سدہار اور استوار چاہتے ہیں ،
موجود انتشار کو جائز طریقے سے استوار کی شکل دیتے ہیں ۔
نسل انسانی کی بقا کی ہم سب کی بقا ہے اور اس بقا کا کوڈ اس بات میں ہے کہ انسان اپنے جیسے انسان پیدا کریں ۔
جو کہ جس مخالف کے ملاپ سے ہی ممکن ہے۔
قدیم مذاہب میں ترک دینا کا رواج پایا جاتا ہے
جو کہ جدید مزہب میں بھی سرایت کرتا چلا گیا
لیکن مجموعی طور پر معاشروں نے ایسے لوگوں جس بھی روپ میں عزت دی اس کے پیچھے جذبہ ترحم ضرور رہا ۔
لیکن ہم جنس پرستی کی کسی بھی مذہب نے تائد نہیں کی۔
لیکن کیا مذاہب کی مخالفت سے یا کہ پاکستان کے زیادہ ہی مذہبی معاشرے میں ہم جنس پرستی نہیں پائی جاتی؟
میرے خیال میں پاکستان میں تعلیم کی ضرورت ہے، تعلیم کی ، نہ کہ تعلیم کے نام پر مغالطوں اور مبالغوں کی!!۔
میں اپنی ایک پرانی پوسٹ کا لنک دیتا ہوں کہ
http://khawarking.blogspot.jp/2009/10/blog-post_05.html
یہاں دیکھیں  کہ چار سال پہلے لکھی اس پوسٹ میں میرا لہجہ کچھ زیادہ ہی تلخ اور اجڈ ہے لیکن امید ہے اپ لوگ پرداشت کرئیں گے

اور سات سال پہلے لکھی گئی یہ تحریر
http://khawarking.blogspot.jp/2006/12/blog-post_15.html

پیر، 23 ستمبر، 2013

دانش علم اور عقل

جاپان میں ایک سیاسی جماعت کے عہدے دار ہیں جی اعجاز رفیق صاحب ۔
ایک دن انہوں نے سوال جڑ دیا کہ
خاور صاحب دانش ور ، اور ادیب میں کیا فرق ہے؟
اعجاز رفیق کو تو میں نے اس جواب پر ٹرخا دیا کہ
دانش ور وہ ہوتا ہے  ، جس کے پاس دانش ہو
اور ادیب وہ ہوتا ہے ہے جو ادب لکھے۔
لیکن اج بات کرتے ہیں کچھ
دانش پر ، عقل پر اور علم پر
کہ
عقل مند وہ ہوتا ہے جو
موجود اور رائج کی سمجھ رکھتا ہو اور اس علم سمجھ سے فائدے اٹھاتا ہو ۔
 عقل مند اپنی زندگی کو مطمعن بناتا ہے ، موجود اور رائج  کاروباری معاملات معاشرتی معاملات کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرکے۔

دانش ور وہ ہوتا ہے 
جو موجود اور رائج کی کی سمجھ بھی رکھتا ہو اور اس موجود اور رائج سے مطعمن بھی نہ ہو۔
دانش ور کی سوچ میں ایک اضطراب ہوتا ہے ۔
دانش ور کا یہ اضطراب اس کو مسلسل ، موجود اور رائج چیزوں میں بہتری لانے پر مضطرب رکھتا ہے!۔
حتی کہ دانش مند ایک عقل مند کی عقل کو بھی بدلنا چاہتا ہے۔
عالم علم رکھتا ہے
اس کی مثال اس طرح دیتے ہیں کہ
عالم علم رکھتا ہے کہ
سچ ، معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے ایک ضروری چیز ہے
اور جھوٹ ، معاشرے کے لئے زہر ہے۔
عالم صرف اس چیز کا علم رکھتا ہے
لیکن عقل مند اس چیز کو سمجھتا ہے اور سچ کو اپنا لیتا ہے
اور جھوٹ کو چھوڑ دیتا ہے
لیکن دانش ور
اس بات کا بھی ادراک رکھتا ہے کہ  سچ اور جھوٹ کی سرحدیں کہاں ملتی ہیں ۔
سچ کہاں تک سچ ہے اور اس سچ اس سے بھی زیادہ کیسے خالص کیا جائے کہ سچ کا  امرت معاشرے کی جڑوں تک اتر جائے کہ سچ کا ثمر نسلوں تک جائے
اور جھوٹ کے زہر کو کیا کیا جائے کہ جھوٹ کو کونے میں لگا دیا جائے۔
جھوٹ سے نفرت پیدا کی جائے کہ جھوٹ کے نقصانات سے اگاہی ؟
اسی اضطراب کا نام ہے دانش!!۔
زندگی کی حقیقتوں اور صداقتوں کے ساتھ ساتھ زندگی کی قباحتوں اور کراہتوں کی سمجھ رکھنا ہی عقل مندی  نہیں ، بلکہ ان چیزوں کو اور اپنی ضرورتوں کو سمجھ کر، مفید کو اپنانا اور مضر کو چھوڑنا عقل مندی ہے۔
لیکن دانش ان سے بھی اوپر کی چیز ہے کہ مضر سے اجتناب تو کرتی ہی ہے لیکن مفید سے بھی اضطراب مں مبتلا ہوتی ہے کہ ، مفید کو مفید تر کیسے بنایا جائے ۔
عقل اور آگاہی زندگانی کے بند دروازے کھولتی ہے
اور عقل ؟
مال بنانے اور املاک پر قبضہ کرنے کو تنہائی کا علاج بتاتی ہے یا پھر دوسروں سے تعلق کو !۔
لیکن لوگوں کی صحبت ایک حد کے بعد ناقابل اعتبار ہو جاتی ہے اس لئے لوگ مال اور جائیداتوں کی صحبت میں جا بیٹھتے ہیں ،
یا پھر کتابوں کی دوستی میں غرق ہو جاتے ہیں
اور کچھ ناقص عقل والے میکدے کا رخ کرتے ہیں  ۔
لیکن دانش
زندگانی کے وہ راگ بھی سناتی ہے کہ جو عقل کی پرواز سے بہت وراء ہوتے ہیں ۔
دھوپ کی تپش میں سورج کا دیپک راگ، محسوس کرتے ہیں توپھولوں کی مہک اور رنگوں میں درختوں کو ملہار گاتے دیکھتے ہیں ۔
چٹانوں کے چٹکنے اور بجنے میں تلنک راگ اور جھیل کی لہروں میں کیدار کو سنتے بھی ہیں ، پہاڑوں کا پہاڑی راگ سننے دیکھنے اور محسوس کرنےکو دانش درکار ہوتی ہے
اور دانش ، آتی ہے اضطراب سے!!!۔
کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ ترے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

جمعہ، 13 ستمبر، 2013

فیس بک اور خاور کھوکھر

میں فیس بک پر کیوں ہوں ؟؟
اس لئے کہ فیس بک نے میرا اکاؤنٹ بنا کر مجھے میل کرنا شروع کر دیا تھا!!!۔
جب فیس بک نئی نئی آئی تو ، میں اس کو جوائین کرنے سے ہچکچتا رہا
لیکن پھر میلیں انی شروع ہو گئیں کہ فلاں بندہ اپ کا فیس بک پر انتظار کر رہا ہے
فلاں بندہ یہ کر رہا ہے فلاں وہ کر رہا ہے
حالنکہ میں نے فیس بک کا اکاؤنٹ بنایا ہی نہی تھا
اس لئے میں ایسی میلوں کو "سپام" میلیں سمجھتا رہا ۔
اس لئے میں  نے ان میلوں کو اگنور کرتے ہوئے اپنا اکاؤنٹ بنانا چاہا تو؟
فیس بک نے بتایا کہ اپ کے اس ای میل ایڈریس پر اکاؤنٹ بن چکا ہے ۔
"لوسٹ پاسورڈ" پر جا کر  پاسورڈ منگوایا
تو
علم ہوا کہ ای میل سے ملتا جلتا کسی فی میل کا اکاؤنٹ بن چکا ہے
جس کی انفارمیشن کا  کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے میرا نام " مصطفٰے خاور" بن گیا۔
جس کو بدلنے کی کئی کوششیں کی لیکن میں اپنی سی کوشش کے باوجود بھی اس نام کو خاور کھوکھر نہیں کر سکا۔
قصہ مختصر کہ فیس بک کے اکاؤنٹ بنا بنا کر بانٹنے  کی اس ادا نے فیس بک کو گھر گھر پہنچا دیا ہے
ورنہ فیس بک سے پہلے کی کسی بھی سائٹ پر اکاؤنٹ بنانا  ، ایک پروجیکٹ ہوا کرتا تھا، اسان یا مشکل ، لیکن یہ کام خود ہی کرنا پڑتا تھا ۔
اب جب اکاؤنٹ بن ہی گیا تو میں نے بھی پہلے پہلے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ اور اب کھل کر فیس بک  کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بات یہان تک پہنچ چکی ہے کہ
دھڑا دھڑ پیج بن رہے ہیں ، جس بندے کو تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ ہے وہ ایک نیا پیج بنا دیا ہے
لیکن
اس بات کی سمجھ بوجھ والے لوگ کم ہی ہیں کہ
جس پیج کے ممبر ہیں اس پیج پر دوسروں کے ساتھ مل کر چل سکیں ۔
پاکستانی قوم کی سب سے بڑی خامی جو کہ میری نظر میں ہے
وہ ہے
اجتماعی زندگی کا شعور نہ ہونا۔
ہمیں تعلیم ہی یہ دی گئی ہے ، میں اور تو، میرا اور تیرا، میں اور میرے دشمن، اونچ اور نیچ۔
 عمل کے ردعمل کی تعلیم ہے
اور عمل  ہم نہیں دوسرے کرتے ہیں
ہم صرف ردعمل کرتے ہیں ۔
اور پھر ہم اس پیج کو چھوڑ دیتے ہیں اور اسی وقت دوسرار پیج بنا کر اس کے ایڈمن بن جاتے ہیں ۔
لیکن
جس طرح مجھے اجتماعی زندگی کا شعور نہیں ہے اسی طرح میرے اردگرد کے لوگوں کو بھی اجتماعی زندگی کا شعور نہیں
تو
جب میں کسی کے ساتھ مل کر نہیں چل سکا تو " کوئی " میرے ساتھ کیسے چلے گا؟
یہاں جاپان میں ، راشد صمد خان نے  ایک پیج بنایا ہے جس کا نام ہے ۔
Pakistani in Japan.
راشد نے اس پیج میں مجھے بھی شامل کیا۔
میں جو کہ اپنی ہی وال پر لکھتا ہوں ، کمیونٹی میں اپنی پہچان کے لئے اس پیج کی وال پر بھی اپنی لکھی ہوئی چیزوں کو " شئیر" کرنے لگا۔
اپنے بڑے محترم دوست ہیں شاہد رضا چوہدری صاحب !جو کہ ہمارے پریس کلب کے صدر بھی ہیں ، انہوں نے گروپ کو جوائین کیا
اور بقول شخصے اس کو پوسٹوں کے جلاب لگ گئے ۔
راشد نے اس کو گروپ سے بین کر دیا
چوہدری صاحب نے اسی دن دوسرا گروپ بنا  لیا
اور گروپ کا نام بھی وہی رکھ لیا۔
یہ ایک مثال ہے
اسی طرح کے کام دوسرے بھی کریں گے
اور کچھ لوگوں نے سٹارٹ بھی  لے لیا ہے ۔
جہاں تک میرا تعلق ہے
میں اس گروپ کے ساتھ اس وقت تک چلوں گا
جب تک کہ اس گروپ میرے علاوہ کوئی بھی دیگر افراد شامل ہیں ۔
نہ تو مجھے کوئی اور گروپ بنانے کی ضرورت ہے
اور نہ ہی ایسا کرنا ضروری ہے۔
میں نے کمیونٹی کے لئے مثالیں قائم کرنی ہیں ۔
جیسے کہ روز نامہ اخبار جاپان کا قیام ۔
http://gmkhawar.net/
یہاں میں  بغیر اشتہاروں کے لالچ کے ایک مثال قائم کی ہے کہ
اس وقت جاپان سے متعلق خبروں کی اردو زبان میں اس سائٹ سے بڑی سائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں نہیں ہے ۔
دوسری مثال  پاکستانی ان جاپان میں رواداری اور برد باری ، اور غیر جانبداری کے ساتھ باہمی دلچسپی کی باتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش ۔
اس گروپ میں شامل دوست لوگوں کو میں کہوں گا
کہ
اجتماعی زندگی کا شعور حاصل کریں ، ہم جاپان میں ہیں اور جاپانی قوم میں اجتماعی زندگی کا شعور دنیا کی کی بھی قوم سے زیادہ ہے۔
تو کیوں نہ اس قوم سے یہ چیز بھی حاصل کر لیں ، جہاں ہم نے اس قوم سے دولت اور مال حاصل کیا ہے ۔
یاد رکھیں کہ اگر اپ ایک گرپ کو ، انجمن کو ، محفل کو چھوڑکر چلے جاتے ہیں
تو یہ اپ کی ہار ہے
کہ اب آپ " اِن" کے لئے مر چکے ہیں ۔
باقی  جہاں تک بات ہے خود نمائی کرنے والوں کی!۔
تو سر جی اس کا ایک ہی حل ہے
کیا
نرگیست کے ماروں کو نظر انداز کرنا ان کی سب سے بڑی سزا ہوتی ہے۔
ایک لطیفہ سناؤں آپ کو ؟؟
۔
۔
۔
 وال پر نظر رکھیں !۔
لطیفے بہت ، بلکہ میں تو شعر بھی لکھوں  گا۔

جمعہ، 23 اگست، 2013

مامور فرشتے

وہ جو میرے حفاظت پر مامور ہے
وہ
دہشت  گردوں پر صرف نظر رکھتا ہے ۔
وہ جو میری سرحدوں کا محافظ ہے
وہ
ڈورون حملہ آوروں کا سٹریجک پارٹنر ہے ۔
جی ہاں میں اسی کی بات کر رہا ہوں جو
خود نمائی میں یکتا ہے
اور میرے لوگوں کو غائب کر کے ان کو مار دیتا ہے
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130822_karachi_dead_bodies_rh.shtml
وہ جو میری حفاظت پر مامور ہے ۔
دشمن کے حملے میں تباھ ہوجانے والے کسی شہر  کی کسی  گر نہ سکنے والی چمنی پر بیٹھے
اس چیل کی طرح میری حفاظت کا فریضہ انجام دے رہا ہے
جس کی نظر مردار پر ہے کہ
رقبوں اور پلاٹوں پر ؟
وہ جو میری عزتوں کے تحفظ کے دعوے کرتا ہے
وہ
شہوت کی سپلائی میں مصروف ہے۔
ہاں جی ہاں وہ فرشتہ ہے
میں ہی "کملا " ہوئے جا رہا ہوں ۔
وہ جو میری حفاظت پر مامور ہے
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!۔

بدھ، 21 اگست، 2013

میری یادوں اور خوابوں کا پاکستان


میرے خوابوں کا پاکستان ، میں یہ نہیں لکھوں  گا کہ میں نے پاکستان کو کیسا بننے کا خواب دیکھا
میں کون سا علامہ اقبال ہوں کہ مستقبل کے خواب اور وہ بھی پاکستان کے مستقبل کے دیکھوں ۔
میرے خوابوں کا پاکستان  ہے ، میری یادوں کا پاکستان ۔
پاکستان ہمارے پیدائش سے پہلے بن چکا تھا۔
بڑے سہانے دن تھے جب ہم نے ہوش سنبھالا۔
اکہتر کی جنگ کی یادیں اتنی ہیں کہ ایک جہاز آتا تھا اور تڑ تڑ کرتی گولیاں برساتا نکل جاتا تھا۔
گولیاں کدھر جاتی تھیں اس کی سمجھ نہیں لگتی تھی۔
یا کہ اس جہاز پر مشین گن سے ہونے والی فائرنگ کی ٹر تڑ ہوتی تھی۔
لوگ بھالے تماشا دیکھنے کے لئے چھتوں پر چڑہے ہوتے تھے۔
ساتھ کے گاؤں کو جاتی کچی سڑک میں پانی کھڑا ہوا تھا جہاں کہ پانی والی بوٹی اگ آئی تھی۔
اس خشک ہوتی بوٹی پر پاک فوج کی مشین گن لگی تھی جو کہ میں اپنے یار یوسی ( یوسف لوہار) کے ساتھ دیکھنے گیا تھا۔
ہمیشہ کی طرح کاکا بجلی والا بھی ساتھ ہی تھا شامل باجے کی طرح۔
اس زمانے کی ساتھ کے دیہاتوں کو جاتی کچی سڑکیں  ، سڑکیں کم اور خشک کھال سے ہوا کرتے تھے۔
ہمارے گاؤں کے شمال کی طرف کی سڑک جس کو پنجابی میں "پہے یا پیاہ" کہتے ہیں ۔یہ بھی ایک کھال ہی کی طرح کا ہوتا تھا ، جس میں گاؤں کا بارش کا پانی بہ کر آوے(مٹی نکال کر بنے گڑھے) تک جاتا تھا ۔
جنوب کی طرف کا  پیاہ بھی اسی طرح تھا۔
اور ایک پیاہ ہوتا تھا ملک والے والا، ملک والا تھا تو ایک کنویں والا ڈیرہ  لیکن اس کے نام پر اس  پیاہ کو بلایا جاتا تھا ۔
یہ پیاہ بڑا اہم تھا کہ جب بھی اگست کا سیلاب اتا تھا تو گاؤں کے شمال اور شمال مشرق کی طرف سے پانی کے ریلے اتے تھے ،جو کہ کمہاروں کی حویلیوں کو پانی پانی کر جاتے تھے ۔
اور یہ پانی بہتا ہوا ملک والے پیاہ میں سے گزر کر سائفن تک جاتا تھا اور سائفن کو پار کرکے اپنی اگے کی منزلوں کی طرف رخ کرتا تھا۔
پھر ہم نے دیکھا کہ پیاہ ، سڑکیں بننے لگے سڑک بنانے کے لئے پہلے ان پیاہ کو مٹی ڈال کر اونچا کیا گیا۔
جس سے مکان نیچے ہو گئے
مکانوں کے پانی سے سڑک ٹوٹ گئی۔

ملک کی سیاست اور حکمرانوں نے ہم ہر احسان کر کے سڑک دوبارہ بنا دی
لیکن وہ پلیان جو جو پیاہ اور سڑکوں کے نیچے سے پانی کی گزرگاھ کے طور  پر انگریز نے بنا کر دی تھیں وہ ختم کر دی ۔
یا کہ پلیان بنانے جیسے کمتر کام کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔
اور اب یہ حال ہے کہ بقول شخصے جب انڈیا پانی چھوڑتا ہے 
تو
گاؤں کے گاؤں دیہات پانی میں ڈوبے ہوتے ہیں 
اور لوگ بھالے سڑک کر توڑ کر پانی کا راستہ بنا رہے ہوتے ہیں 
اور 
گاؤں میں سے کسی کسی کو یاد بھی ہوتا ہے کہ یہاں ہی تو وہ پلی تھی جس میں سے پانی گزرتا تھا سیلاب کے دنوں میں ۔
اور عام دنوں میں لڑکے کھیلا کرتے تھے ان پلیوں کے نیچے ۔
میری یادوں کے  پاکستان میں لڑکے پلیوں کے نیچے سے گزرنے کا کھیل یا انکھ مچولی میں چھپنے  کا کھیل کھیلا کرتے تھے۔
لیکن 
اب اگر کہیں کوئی پلی ہے تو
لڑکے اس میں بندوقیں لے کر چھپ کر بیٹھے ہوتے ہیں 
اور رات کو شہر سے واپس انے والے مسافروں کی جیبیں  خالی کرواتے ہیں ۔
بھٹی بھنگو سے نندی پور جانے والی پلی ہو کہ میانوالی بنگلا کی نہر کی راجباہوں پر بنی ہوئی پلیاں ہوں ۔
سیلاب کے پانی کے کام تو کم ہی اتی ہیں 
ہاں بہادر لڑکوں کو کارنامے دیکھانے کے مورچے کے طور تو کام اتی ہی ہیں ۔
ہمارے بچپن کا زمانہ تھا کہ کہیں کہیں کسی چور کا سنتے تھے کہ فلاں بندہ جو ہے وہ چور ہے
اور علاقے کے سبھی لوگ اور تھانے والے بھی اس کو جانتے ہوتے تھے۔
گھروں کے درمیاں چھوٹی چھوٹی سی دیواریں ہوتی تھیں۔ جس نے پڑوسی ناں صرف جھانکتے تھے بلکہ پڑوسیوں کی زندگیوں میں دخیل ہوتے تھے۔
لیکن کوئی اس دخل اندازی کو مداخلت نہیں محسوس کرتا تھا۔
پھر دیواریں اونچی ہوتی گئیں ، پرائویسی بڑہتی گئی اور معاشرے سے برداشت کا مادہ ہی ختم ہوتا چلا گیا۔
گرمیوں کی راتوں میں چھت پر سونا یا پھر گلی میں نکل کر چارپائی بچھا لینا عام سی بات تھی ۔
باہر ، تہمند باندھے چارپائی پر سوئے بندےکے ساتھ ایسی واردات ہو جاتی تھی کہ اس کا تہمند کھول کر پائنتی پر ڈال کر کوئی شرارت کر جاتا تھا
تہجد کی نماز کے لئے گزرنے والا کوئی بابا ، اس کو جگا کر " نگیز" ڈھانپنے کا کہتا تھا۔
بڑی شرمندگی ہوتی تھی اس واردات کے "وکٹم" کو کہ فارغ لوگوں کو کوئی کام بھی تو نہیں ہوتا تھا ناں 
ایسی باتوں کو مذاق بنا کر انجوائے کرنے کے علاوہ ۔
شاہراہ عام پر سوئے کسی بندے کو یہ دھڑکا نہیں ہوتا تھا کہ کوئی سوتے میں قتل کر جائے گا یا کہ جیب خالی کر کے لے جائے گا ۔
پھر وہ مشہور زمانہ واردات ہوئیں 
جن کو ہمارے زمانے کے لوگ ہتھوڑا گروپ کی وارداتوں کے نام سے جانتے ہیں ۔
سوتے میں سر پر ہتوڑا مار کر کئی قتل ہوئے ، 
اور چارپائیاں دیواروں کے اندر چلی گئیں۔
گرمیوں کی راتوں میں کھیلتے کھیلتے ساتھ کے گاؤں تک چلے جانا کوئی خاص بات نہیں تھی۔
کسی کو بھی اس بات کا خطرہ نہیں ہوتا تھا کہ  کہیں ڈاکؤں کا " ناکہ" لگا ہو گا ۔
ہاں ڈر ہوتا تھا تو کیڑے مکوڑے کا کہ سانپ گرمیوں ہی میں نکلتے ہیں ۔ 
لیکن رات کو سانپ کے ڈسے کی موت کا میں نے تو اپنے علاقے میں سنا نہیں ۔ 
ہاں لیکن ایسا گر کہیں ہوا بھی ہو تو عجب نہیں ۔
تربوز اور خربوزے کے کھیتوں میں چوری  کرتے لڑکے اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ اتنا ہی مال توڑا جائے کہ جتنا کھا لیں ۔
ناں کہ اجاڑ ڈالیں ۔
اور باڑے کے رکھوالوں کو بھی علم ہوتاتھا کہ کس کس کے بچے اج تربوز یا خربوزے کھا کر گئے ہیں ۔
باڑے کا رکھوالا ، للکارا مارا تھا
کون او تسی!!۔
اور لڑکے بھاگ  جاتے تھے۔
اگلے دن ان لڑکوں کے والدین اطلاع مل جاتی تھی اور " پنشمنٹ " لڑکے کے ابا جی کر لیا کرتے تھے ۔
باڑےکے رکھوالے کو بندوق کے زور پر باندہ کر خربوزے کھانے کا رواج تو بہت بعد میں ایا تھا جی ۔

ہفتہ، 17 اگست، 2013

فوٹواں اور یاداں



یہ فوٹو مجھے ماضی کی یادوں کے ایک سیلاب میں غرق کر گئی ۔ چالیس سال گزر گئے ۔
چہروں پر عمر رفتہ کے ظالم ناخنوں کی خراشیں ہیں ۔ اور سروں میں خواری کی دھول کی سفیدی نظر اتی ہے
اور جس کے بال سفید نہیں ہیں ،
اس کالک میں بدنامیوں کی کالک لگی کالک جھلکتی ہے۔
قبرستان کے ساتھ چوکھنڈیاں بنی ہیں ۔
کسی پیر فیملی کی یاد میں ہاڑ کے مہینے کی آٹھارہ کو میلا بھی لگتا ہے ۔
لیکن یہیں میرا پرائمری سکول بھی ہے ۔
اب شائد سکول محدود ہو گیا ہے
لیکن میرے بچپن میں یہ سکول جہاں چھاؤں دیکھی ، وہیں جماعت بیٹھا دیتے تھے اساتذہ کرام ۔
انیس سو ستر سے انیس سو پچھتر تک میں اسی سکول میں پڑھتا تھا ۔
ماسٹر اقبال صاحب اور ماسٹر لطیف صاحب باورے والے مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہیں اور کچھ اساتذہ کے دھندلے نقوش۔
IMG_0295قبروں کا مجاور ہوتا تھا ، سائیں غفور جو کہ سانپوں سے کھیلتا تھا۔بدھ کے دن یہ سائیں "پھیری" پر نکلتا تھا۔
ہر گھر کے دروازے پر اس نے ایک مخصوص صدا دینی ہوتی تھی۔
جس صدا میں کوئی التجا نہیں ہوتی تھی کوئی بھیک مانگنے کا تاثر نہیں ہوتا تھا ۔
ہر گھر سے سائیں غفور کو کچھ ناں کچھ مل ہی جاتا تھا۔
یہ "کچھ" نقدی کم اور اناج زیادہ ہوتا تھا۔
میرے دوسری جماعت کے دنوں میں اس سائیں غفور نے شادی بنا لی تھی اور ایک فربہ سے خاتون کو کہیں سے لے ایا تھا۔ جو کہ سائیں کے لئے مخصوص کمرے میں مغربی دیوار کے ساتھ کچھ پردے لگا کر رہنے لگی تھی ۔
لیکن چند ماہ ہی ہوئے کہ یہ خاتون فوت ہو گئی تھی ۔
جس کی قبر ہماری جماعت کے بیٹھنے والے پلاٹ کے بلکل ہی ساتھ بنادی گئی اور سائیں غفور نے اس قبر کو پکا بھی کردیا تھا ۔
مجھے یاد ہے کہ ہم لوگ اس قبر کو بنچ کے طور ہر اور کرسی کے طور پر کہ ایک تھڑے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
پہلے پہل تو سائیں غفور منع کرتا تھا لیکن پھر یہ قبر ہم آزادی سے استعمال کرتے تھے ۔
سائیں ٖغفور کے ساتھ ایک اور کردار کا ذکر ناں کرنا تلونڈی کی تاریخ کے ساتھ بے ایمانی ہو گی۔
وہ کردار تھا منشی گولے یاں والا!!۔
کھوئے والے برف کے گولے بنانے والا منشی ، جو کہ باورے سے ہمارے گاؤں تلونڈی ، برف کے گولے بیچنے آتا تھا۔
منشی اپنا سائیکل کوٹھی کی دیوار کے ساتھ کھڑا کرتا تھا۔
ٹھیک اس جگہ جہاں اب "عبدلہ شاہ غازی " نامی ارشد کھوکھرعرف بلے کا سٹور ہے اس کے دروازے کے سامنے۔
سائیں غفور اور منشی گولیاں والے سگے بھائی تھے۔
سائیں غفور درویش ہو گیا اور دوسرا بھائی اپنا سا کاروبار کرتا تھا ۔
یہاں قبرستان میں جہاں سائیں لوک بھنگ چرس وغیرہ کا شغل کرتے اور ان کے پاس ہی پرائمری سکول کی کلاسیں لگتی تھی ۔
لیکن معاشرے میں ایک توازن پایا جاتا تھا ، بچوں اور بھنگیوں کی حدود متعین تھیں ۔
کیسے؟
میں اج اپنی بچپن کی یادوں کے سہارے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں
اس تحریر میں کچھ بزرگوں کے نام آئیں گے ، یہ وہ لوگ تھے جن کی بنائی ہوئی روایات اور رسوم کی وجہ سے تلونڈی میں نشئی لوگ اور معزز لوگ ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔
جن لوگوں میں اج بزرگ لکھ رہا ہوں ، ہمارے بچپن میں سبھی اپنے زمانے کے جوان تھے۔
لیکن نشے کے خلاف تھے ۔
چوہدری مرید حسین تھانیدار ، چوہدری منظور مرزائی ۔بابا سکندر یہ لوگ اور کئی معزز لوگ تھے جو کہ ان سائیں لوگوں کے پاس ہی بیٹھا کرتے تھے۔
اور یہاں " پاشا" کے کھیل کے میچ ہوا کرتے تھے۔
حقہ کشید کرنے کے شوقین بھی کزرتے ہویئ بیٹھ جایا کرتے تھے ۔
لیکن یہ معزز لوگ کسی بچے کو یہاں ٹھرنے نہیں دیا کرتے تھے
اگر کوئی بچہ کھڑا ہو کر سائیں لوگوں کی ایکٹویٹی کو غور سے دیکھنے لگتا تھا تو
بزرگ لوگ اس بچے کو جھڑک کر دور کردیا کرتے تھے۔
یہ وجوہات تھیں میرے گاؤں کے لوگوں کی نشے سے دور رہنے کی ۔
بہت بعد میں غالبآٓ انیس سو پچانوے میں ، میں اور مظہر سنیارا اور تاری مرزائی یہاں گزر رہے تھے کہ سائیں سلوکی کو آگ دھکاتے دیکھا تو اس کو آگ دیکھانے میں مدد کرنے لگے۔
سائیں سلوکی چائے کا قہوہ بنا رہا تھا۔
جب قہوہ تیار ہو گیا تو اس نے اس قہوے کو المونیم کے ٹیڑھے میڑھے "کول" میں ڈال کر چسکیان لینی شروع کیں
اور دعوت کے انداز میں ہم سے پوچھا کہ " پینی اے"؟؟
تاری مرزائی کا جواب اس کے گھر کی اس کی تربیت کا ایک اعلی ثبوت ہے ۔
تاری نے کہا
کہ اس ڈیرے کا تو سونے کا نوالی بھی ہو تو منہ میں نہیں ڈالنا!!!۔

IMG_0296 IMG_0295 IMG_0301 IMG_0300 IMG_0299 IMG_0298 IMG_0297 IMG_0296 IMG_0295 IMG_0294 IMG_0292

جمعہ، 16 اگست، 2013

چودہ، پندرہ آگست

پندرہ آگست!۔ جاپان میں  شہیدوں کو یاد کرنے کا دن ہے ۔
دوسری جنگ عظیم کے شہیدوں کو فوجی اور غیر فوجی شہیدوں کو یاد  کرتے ہیں ، ۔
جاپان کے شہیدوں کو شہید لکھنے پر  ، اگر کسی " شدید " قسم کے مسلمان کو اعتراض بھی ہو تو ، میں جنگ عظیم دوم میں جان دینے والوں کو شہید ہی لکھوں گا
کہ
جاپانی شہیدوں کی جنگ میں دی  جانے والی جانیں رائگاں نہیں گئیں ۔
یاد رہے کہ جاپان ، دوسری جنگ عظیم میں " جنگ " تو  ہارا تھا "لڑائی " نہیں یارا تھا۔
بہادر جاپانی ہر محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے  ۔
جنگ میں جانیں دینے والوں کو ، یاد کرنے ان کی تربتوں پر اگربتیاں جلانے   جاتے ہیں ، زندہ اقوام اپنے شہیدوں کے مرنے کی وجوہات بھی جانتی ہیں اور شہیدوں کے مقاصد کو بھی یاد رکھتی ہیں ۔
سائبیریا کے جنگی قیدی !۔
وہ جاپانی فوجی جو کہ جنگ ہارنے پر سائبیریا میں روس کے جنگی قیدی  بنے ۔
ان میں سے بہت سے وہ بھی تھے جو زندہ گرفتار ہوئے لیکن کبھی بھی وطن واپس نہیں پہنچ سکے ۔
جو زندہ تھے ان کو وطن واپسی کی لگن تھی ۔
اور جو وطن میں ان کا انتظار کر رہے تھے
وہ
وہ ملک کو اس قابل بنانے میں لگے تھے کہ ملک کے لئے خدمات ادا کرنے کی کوشش میں اذیت میں مبتلا ، جب واپس  آئیں تو ان کو مایوسی ناں ہو ۔
اور جنگ کے خاتمے کے دس سال بعد جاپان ، دنیا کے درجنوں ممالک  کے مقابلے میں ایک پر آسائش اور محفوظ ملک تھا
اور جنگی قیدیوں کے واپس پہنچنے کے بعد کے دس سال میں جاپان ، دنیا میں ایک نام تھا ، معیار کا اعتماد کا نظم  ضبط کا ۔
تقسیم ہند کے دن کو پاکستان میں چودہ آگست اور ہند میں پندرہ آگست کے روز منایا جاتا ہے۔
لیکن اس تقسیم میں شہید ہونے والوں کو کس طرح یاد  کرتے ہیں ؟
ہم لوگ!!!۔
جشن منا کر!!!۔
جن کے لئے پاکستان کا قیام رقبوں پر ، پلاٹوں پر قبضے کرنے کی آزادی کا نام تھا
ان کا جشن منانا بنتا ہے
لیکن
جن کے "لوگ" مارے گئے، جن کی عصمتیں تارتار ہوئیں ، جن کے پیارے بچھڑ گئے؟
ان سے رقبوں اور پلاٹوں والے "سیانوں " نے عقل بھی چھین لی ، علم کے نام پر ان کو مغالطے اور مبالغے پکڑا دئے ۔
ناں نظم ہے اور ناں نظام ناں ہی بجلی ہے اور ناں ہی صاف پانی بنیادی ضروریات زندگی  صرف ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤنوں میں ملتی ہیں ۔
اور جشن مناتے ہیں وھ لوگ جن کے ہاتھوں میں محب وطنی کا " چھنکنا" پکڑا دیا گیا ہے ۔
محب وطنی کے دعوے دار ان لوگوں کے گھروں کی یہ حالت ہے کہ
ان کے گھروں میں  کھانا باہر کے ممالک کی کمائی کا بنتا ہے ، ان کے روٹی کپڑا اور مکان باہر کی کمائی سے ہیں ۔
ان کے جوان باہر کے ویزوں کے لئے ہلکان ہیں ۔
سرحدیں پار کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں ۔
عربوں کے ممالک میں اپنی انا کا اپنی خود داری کا خون کرکے ، خون کے انسو روتے ہیں
اور
دعوے کرتے ہیں محب وطنی کے۔
میرے اپنے لوگ ہیں یہ لوگ جو مغالطے میں مارے جارہے ہیں ۔
اور میں بھی ان میں سے ہوں
لیکن صرف مغالطے میں نہیں ہوں ۔
جاپان میں پناھ گزین "محب وطن پاکستانی "  میں سے کتنے ہیں جو وطن کی محبت میں جاپان کی بے وطنی چھوڑ کر "وطن" میں بسنے چلے جائیں ؟؟
امریکہ میں کتنےپناھ گزین "محب وطن پاکستانی "  میں سے کتنے ہیں جو وطن کی محبت میں امریکہ کی بے وطنی چھوڑ کر "وطن" میں بسنے چلے جائیں ؟؟

دعوے ہیں محب وطنی کے اور مزے کی بات ہے کہ ان کو وطن کی محبت کے معنی بھی نہیں معلوم ہوں گے۔
میرے لئے یہ دن ان شہیدوں کو یاد کرنے کا دن ہے جو ایک سراب کے پیچھے جان دے بیٹھے ،۔
آزادی کے سراب کے پیچھے!!۔
بقول شخصے
منزل ان کو ملی جو شریک سفر ناں تھے ۔
وہ جانیں جو ضائع ہوئیں
وہ قربانیان جو رائگاں گئیں
وہ عصمتیں جو تار ہوئیں ۔
وہ پیارے جو بچھڑ گئے
لاکھوں کے خون رائگاں گئے
وہ سب سراب نکلا ۔
آزادی ، آزادی نہیں غلامی ہی رہی
آقا بدل گئے ۔
امرتا پریتم نے نوحہ لکھا تھا
اج اکھاں وارث شاھ نوں
کتوں قبراں دے وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی نواں ورقا کھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی
توں لخ لخ مارے ویں
اج لکھا دہیاں روندیاں
تینوں وارث شاھ نوں کہن ۔
میرے اندر بھی بھت بڑا دکھ کا ایک پہاڑ ہے
جو اس دن اکیلے میں پانی بن کر انکھون کے راستے
انسو بن کر بہ نکلتا ہے

پھر کہیں کوئی بستی اجڑی
لوگ کیوں جشن منانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

ہفتہ، 10 اگست، 2013

پاک اسلام ، منافق اسلام

پاکستان میں اسلام کی یہ حالت ہو چکی ہے ہے کہ ، اسلام کے ٹھیکیدار "پاکی  عالم" اپنے اپنے ماننے والوں  کو سچ اور صداقت ، امن اور صلح کی تعلیم نہیں دے سکتے ۔
ان لوگوں نے مذہب کے نام پر اپنی اپنی دوکان داریاں بنا رکھی ہیں ۔
عالموں کے علم کے طوفان اتھائے جا رہے ہیں ، مذہبی جذبات پر طغیانیاں ہیں  ۔
لیکن اقوال بزرگاں میں لکھا ہے کہ نماز بے حیائی سے روکتی ہے
تو پاکستان کی نماز لوگوں کو بے حیائی سے نہیں روک سکی ۔
رمضان میں اسلام کی وہ رنگ بازیاں دیکھنے میں آئی ہیں کہ
گلی محلے کے رنگ باز  اسلامی رنگ بازوں سے نظر نہیں ملا سکتے ہیں ۔
گلوکاروں اور اداکاروں کے ٹی وی  پر "رنگ" دیکھنے والے تھے ۔
اسلامی دوکانداریوں میں بھی سب سے زیادہ مضبوط دوکان داری ہے
سید لوگوں کی !!۔ بھیک بھی لیتے ہیں اور احسان بھی کرتے ہیں ۔
اس لئے کاروباری مقابلہ بازی کے اس دور میں  "سید پذیر " لوگ بھی بہت ہیں  ۔
طریقہ کار یا دوکان کیسی بھی ہو  مال بنانا مقصود ہے جی ان  لوگوں کا بل واسطہ یا بلا واسطہ یہ لوگ معیشت کے مارے ہوئے ہیں  ۔
پاکستان بنا کر ہم نے ہندو کے منہ پر تھپڑ مارا
اور اب اس اسلام کے نام نہاد قلعے میں ، پاک اسلام  کی تعلیم کا اثر ہے کہ
عید کے روز بھی کوئٹہ اور کراچی میں یا دیگر ابادیوں میں لاشیوں پر لاشیں گر رہی ہیں  ۔
ہندو جو کہ  مسلمان کو کم عقل سمھتا تھا ، اج پاکستان کی حالت پر قہقہے لگا رہا ہے ۔
کیا پاک لوگ اور پاک فوج  ہندو کو شکست دینے کے لئے ، ہندو کو شرمندہ کرنے کے لئے ، ملک میں امن امان قائم کر کے ملک کی معشیت کو مضبوط کر کے دیکھا سکتے ہیں  ؟؟
انسانوں کی برابری  کے دعوی کرنے والے " منافق اسلام " میں ، سید اور سید پزیر   نسلی اور عظیم  لوگ !!!۔
ایک اللہ ہی کی عبادت کی تبلیغ اور مزاروں سے حاجت روائی ۔
پاکستان کا اسلام منافق ہے !!۔
میں بیزار ہوں ایسے مذہب  سے ۔

Popular Posts