سوموار، 7 مارچ، 2011

ایک قوم

درویش نے تھوڑا توقف کیا اور پھر کهنے لگا
که میرا ایک ایسی قوم سے گزرا هوا جن کے ہر گھروں میں دو دو نہریں بہتی تھیں ـ
دودھ اور شہد کی ؟؟
محفل سے کسی کی سوال نما اواز ائی!ـ
درویش کی پتں تپ گئیں
ہے ناں کم عقل !!ـ
پانی پورا نهیں هوتا اور خواب دیکھتا ہے دودھ اور شہد کے ،
ٹٹی ملا پانی پی پی کر سارا گوجرانواله ہیپا ٹیٹس سی کا مریض هو گیا هے اور خواب دیکھتےهیں دودھ اور شہد کے !!ـ
هان تو میں کہـ رها تھا که میرا گزر ایک ایسی قوم سے هوا جن کے گھروں میں دو دو نهریں بہتی تھیں
ایک گرم پانی کی اور دوسری ٹھنڈے پانی کی ـ
اور وھ اس کو واٹر سپلائی کہتے تھےـ
پھر میں نے دیکھا که اس قوم کے بہت سے گھروں میں جام جمشید یا جس کو جام جم کهتے هیں وھ رکھا تھا ـ
جس میں یه لوگ دنیا بھر کی باتیں دیکھتے سنتے تھے اور پڑھتے تھےـ
لیکن اس قوم کے لوگ اس چیز کو کمپیوٹر کہتے تھے اور اس پر کر انٹر نٹ کے سحر کے چلنے کا بتاتے تھےـ
وھ قوم که ان کے بڑے بڑے ساحر تھے جو اپنی جادو کی دنیا میں دن رات نئے سے نئے سحر تیار کرنے میں لگے تھےـ
اس ساحروں کو وھ لوگ سائینس دان اور ان کے جادو خانوں کو لباٹریان کهتے تھے
ان لوگوں کے ساحروں نے آگ کو قید کر لیا تھا اور اس کو اپنی مرضی سے جهاں چاہتے تھے کام پر لگا دیتے تھےـ
محفل سے کسی نے سوال کیا
اس قوم کے کھانے کا بھی احوال بتائیں ـ
هاں ان کا کھانا بڑا مزے کا تھا
چیزیں تو وهی استعمال کرتے تھے جو هم لوگ استعمال کرتے هیں لیکن
آٹا صرف آٹا هی هوتا تھا ، مسالے صرف مسالے هی هوتے تھے
مرچوں میں سرخ اینٹوں کا گزر تک نهیں هوتا تھا
بڑے خوش نصیب تھے وھ لوگ
کسی نے تاسف سے کها
هاں !!ـ
درویش نے بات جاری رکھی
ایک دن کی میرے سر میں درد هوا
تو سرائے والے نے مجھے ایک سفید سی ٹکیا دی جس کو وھ اسپرین کهتا تھا
هائے یارو میں حیران رھ گیا که
میرے سر کا درد جاتا رھا
ایسے ایسے سحر دیکھے که حیرتوں کی دنیا تھی
ان لوگوں کے گھروں میں قمقے جلتے تھےکه جب ان جی چاهتا تھا تب هی بجاتے تھے
ان قمقموں کے جلنے میں کسی بجلی نامی سحر کا بتاتے تھے

3 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ایسی دنیا بھی ہے اس کائنات میں۔۔۔۔۔۔ایک ماہ کیلئے پاکستان گیا تھا۔دو ہفتے میں بھاگ آیا۔
صرف ہوا اور پانی ہی خالص تھا۔
بھینس کا گوشت کھایا بڑے شوق سے سب نے منع کیا نہ کھا۔۔۔
لیکن کھا گیا۔۔
فئیر۔۔۔۔۔۔۔لوٹا تھا اور میری دوڑ۔
الٹیاں تھیں اور بالٹی۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اتنا بھی بدنام نہ کيجئے حضور اس ملک کو ۔ يہاں ہر اچھی سے اچھی چيز مل جاتی ہے ۔ صرف کوشش اور پہچان کی ضرورت ہے ۔ اللہ کی کرم نوازی ہے ۔ ہم ابھی تک خالص ديسی گھی ميں کھانا پکاتے ہيں جو ہم مکھن خريد کر خود بناتے ہيں ۔ آٹا چکی پر جا کر گندم ديکھ کر پِسوا کے لاتے ہيں ۔ دودھ خالص لے کے آتے ہيں البتہ لينے کيلئے 4 کلو ميٹر دور جانا پڑھتا ہے ۔ مرچ مصالحے وغيرہ بھی اُس سے لے کر آتے ہيں جو خود سب کے سامنے پيستا ہے ۔ چاولوں کيلئے شکر گڑھ کا ايک دکاندار دوست بنايا ہوا ہے جو جانتا ہے کہ سُپر باسمتی کيا ہوتا ہے ۔ گوشت سبزی پھل کيلئے بھی دکاندار تلاش کر رکھے ہيں

اس کام کيلئے محنت کوشش اور عقل کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے ميرے ہموطن کتراتے ہيں

emraaniqbal کہا...

لاہور تو پھر بھی لاہور ہی ہے نا جی۔۔۔ ہم جیسے بھی ہیں۔۔۔ لیکن دل پاکستانی ہی ہے جی۔۔۔

Popular Posts